ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

جون 25, 2010

شہاب نامہ قدرت اللہ شہاب




شہاب نامہ   
Shahab Nama 
by 
Qudrat-Ullah-Shahab
قدرت اللہ شہاب

DOWNLOAD

LINK-2

 

شہاب نامہ قدرت اللہ شہاب کی خود نوشت کہانی ہے۔ شہاب نامہ مسلمانان برصغیر کی تحریک آزادی کے پس منظر ، مطالبہ پاکستان، قیام پاکستان اور تاریخ پاکستان کی چشم دید داستان ہے۔ جو حقیقی کرداروں کی زبان سے بیان ہوئی ہے۔ شہاب نامہ دیکھنے میں ضخیم اور پڑھنے میں مختصر کتاب ہے۔ شہاب نامہ امکانی حد تک سچی کتاب ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے کتاب کے ابتدائیہ میں لکھا ہے کہ،
میں نے حقائق کو انتہائی احتیاط سے ممکنہ حد تک اسی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس رنگ میں وہ مجھے نظرآئے۔
جو لوگ قدرت اللہ شہاب کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ یہ ایک سادہ اور سچے انسان کے الفاظ ہیں ۔ قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب میں وہی واقعات لکھے ہیں جو براہ راست ان کے علم اور مشاہدے میں آئے اس لئے واقعاتی طور پر ان کی تاریخی صداقت مسلم ہے۔ اور بغیر تاریخی شواہد یا دستاویزی ثبوت کے ان کی صداقت میں شک کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ البتہ حقائق کی تشریح و تفسیر یا ان کے بارے میں زاویہ نظر سے اختلاف ہو سکتا ہے۔عمومی طور پر شہاب نامہ کے چار حصے ہیں:
  1. قدرت اللہ کا بچپن اور تعلیم
  2. آئی سی ایس میں داخلہ اور دور ملازمت
  3. پاکستان کے بارے میں تاثرات
  4. دینی و روحانی تجربات و مشاہدات
ان چاروں حصوں کی اہمیت جداگانہ ہے لیکن ان میں ایک عنصر مشترک ہے اور وہ ہے مصنف کی مسیحائی۔ وہ جس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں وہ لفظوں کے سیاہ خانوں سے نکل کر قاری کے سامنے وقوع پذیر ہونا شروع کر دیتا ہے۔ وہ جس کردار کا نقشہ کھینچتے ہیں وہ ماضی کے سرد خانے سے نکل کر قاری کے ساتھ ہنسنے بولنے لگتا ہے۔
اس کتاب میں ادب نگاری کی شعوری کوشش نظر نہیں آتی ۔ بے ہنری کی یہ سادگی خلوص کی مظہر ہے اور فنکاری کی معراج ، یہ تحریر ایمائیت کا اختصار اور رمزیت کی جامعیت لئے ہوئے ہے۔ کتاب کا کےنوس اتنا وسیع ہے کہ اس کی لامحدود تفصیلات اور ان گنت کرداروں کی طرف اجمالی اشارے ہی کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ اشارے بھر پور ہیں۔

Shahab Nama (Urdu: شہاب نامہ) is the autobiography of Qudrat Ullah Shahab[1]. It was finished in 1986 just before his death. It was published the same year and soon he became a household name in Pakistan.
Shahab Nama has sixty chapters and 893 pages (Sang-e-Meel Publications, Lahore, 2005). The first chapter entitled "Iqbal-e-Jurm" (confession) is about the author's motivation for writing an autobiography. The next seven "Jammu main plague" (Plague in Jammu), "Nanda Bus Service", "Chamkor Sahib", "Raj keroo ga khalisa baqi rahey na ko" (No one else but the Khalsa shall reign), "Maharaja Hari Singh kay sath chahay" (Tea with Maharaja Hari Singh), "Chandravati", and "ICS main dakhla" (Entry to ICS)chronicle his early life up to entry into Indian Civil Service. Chapter nine to fifteen describe author's experiences during his initial postings to different parts of India and creation of Pakistan in 1947. Four chapters are devoted to Mr. Shahab's writings and critics' comments on them. (Chapter 16 to 19). Chapter 20 is on the new state of Kashmir ("Azad Kashmir") and 21 on assassination of the first Prime Minister of Pakistan, Liaquat Ali Khan ("Sila-e-Shaheed"). Chapter 22 to 34 are devoted to author's experiences as Deputy Commissioner of Jhang District in Punjab. After a year in Jhang, Mr. Shahab left for the Netherlands on a scholarship to attend a six-month course at the Institute of Social Studies in The Hague. Two chapters, 35 and 36 are on his impressions of the Netherlands and his decision to proceed to Hajj. Chapter 37 and 38 are a pilgrim's tale. "Jhoot, fraud aur hirs ki daldal" (The quagmire of lies, fraud and greed), chapter 39, details author's time at the Ministry of Industries as Director. For the next 200 pages, chapter 40 through 50, Mr. Shahab delves into politics of his time as observed by him as the Principal Secretary to Governor General Malik Ghulam Muhammad, President Iskander Mirza and General Ayub Khan. The last ten chapters of Shahab Nama deal with a variety of topics such as death of his mother ("Maa ji ki wafaat"), life of an Ambassador ("Rozgar-e-safeer"), the future of Pakistan ("Pakistan ka mustaqbil)" and so on. There is a chapter titled "Iffat" dedicated to his late wife. The last chapter is about his mystical experiences.

forex trading

2 comments:

  1. یہ کتاب جھوٹ کا پلندہ ھے۔۔۔۔واقعات کا پس منظر گھڑنے مین شہاب کا کوئی ثآنی نہیں۔۔۔۔اشفاق احمد۔۔ممتاز مفتی اور شہاب کے بزرگوں کے جھوٹے قصے ۔۔اس جاھل مُلک کے عوام کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. سر آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ انھوں نے سب جھوٹ لکھا ہے

      حذف کریں