ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

Orya maqbool jan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Orya maqbool jan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

30 جولائی، 2014

باؤلا

 ’’زیورخ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہیے تھا مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے‘‘ یہ الفاظ ایک معروف کالم نگار کے ہیں جو اپنی زیورخ یاترا کے بعد علم کی ایک نئی دنیا سے آگاہ ہو کر آئے ہیں۔ اگر لفظ ’’سودی ‘‘استعمال نہ ہوتا تو پھر بھی میرے لیے گنجائش تھی کہ میں حسن ظن سے کام لیتا کہ شاید موصوف کو بینکاری کے خون چوسنے والے نظام سے عشق ہے۔ لیکن سود کا دفاع اور اس قدر واضح اور کھل کر… اس امت کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ایسی موجود ہو۔

موصوف کی یہ سطور پڑھ رہا تھا تو مجھے سود کی حمایت کرنے والوں کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ نے جو کیفیات بتائی ہیں‘ یاد آ رہی تھیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں‘ ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر بائولا (پاگل) کر دیا ہو‘ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’تجارت بھی تو آخر سود جیسی چیز ہے‘‘۔ کس قدر سچا ہے میرا رب جو ایسے دانشوروں کی ذہنی کیفیت اور دلوں میں چھپے اسلام کے نظام کے ساتھ بغض و عناد کو جانتا ہے۔ کتنی صادق آتی ہے یہ آیت ان سطور پر جو موصوف نے اپنے کالم میں تحریر کی ہیں۔


چلیں چھوڑیں اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کو کہ ان میں حکمت وہ لوگ تلاش کرتے ہیں جن کی آنکھیں مغرب کی روشنی سے چندھیا نہ گئی ہوں۔ ان کے آئیڈیل اور قابل تعریف سوئزر لینڈ اور زیورچ کے سودی بینکاری نظام کی اصل بنیاد کیا ہے۔ وہ کونسی لوٹ مار ہے جس پر اس کی عمارت تعمیر ہے اور آج بھی اس نے دنیا بھر کے مظلوم‘ مقہور اور مجبور انسانوں کی دولت کو لوٹنے والوںکو اپنا محسن قرار دیا ہے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک شہر آباد کیا ہے۔ ایک ایسا شہر جو دنیا بھر کے ظالموں‘ چوروں‘ اچکوں‘ اٹھائی گیروں اور کرپٹ انسانوں کی دولت پر پلتا ہے۔


اس شہر کے لوگ ان بینکوں میں ان لٹیروں کی دولت کا حساب رکھتے ہیں‘ تحفظ کرتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں‘ عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ زیورچ اور سوئس بینکوں کی یہ روایت تین سو سال پرانی ہے۔ فرانس کے بادشاہوں کو اپنے عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کی ضرورت تھی اس لیے 1713ء میں The Great Council of Geneva نے رازداری کا قانون ’’Code of Seerecy‘‘ متعارف کرایا جس کے تحت بینکار کھاتے کی رقم صرف کھاتے دار کو بتاتا ہے کسی دوسرے کو اس کی اطلاع نہیں دیتا۔
اس کے بعد انقلاب فرانس آیا تو وہ سب سیاستدان‘ وڈیرے‘ نواب جنھوں نے عوام کا سرمایہ لوٹا تھا بھاگ کر یہاں آ گئے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے ان بینکوں کے کاروبار کا آغاز ہوا۔ یہ لوگ اسقدر ظالم ہیں کہ جس وقت 1930ء کا عالمی معاشی بحران آیا‘ دنیا کی حکومتیں اپنے لوٹے ہوئے پیسے کے بارے میں معلومات چاہتی تھیں تا کہ جوپیسہ عوام سے لوٹا گیا ہے ان کو واپس لوٹایا جا سکے تو سوئزر لینڈ نے 1934 Banking Actمنظور کیا اور دنیا کے غریبوں کو ان چوروں‘ لٹیروں‘ اور ڈاکوئوں کے نام اور ان کا سرمایہ بتانے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جب جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوا تو اس وقت تک سوئزر لینڈ ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک ’’محفوظ جنت‘‘ سمجھی جانے لگی تھی جو اپنے ملکوں کا سرمایہ لوٹ کر وہاں لے جائیں۔ اسے اس زمانے میں ’’Repository of capital for unstable countries‘‘(غیر مستحکم ملکوں کے سرمایے کی جنت )کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں یہودیوں پر ظلم و ستم کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہولوکاسٹ تھا‘ ان کا قتل عام ہو رہا تھا۔ یہودیوں نے اپنی حکومتوں کے خوف سے اپنا سرمایہ اور سونا ان سوئس بینکوں میں جمع کروانا شروع کیا۔
سونا ان رقوم میں صرف چار ارب ڈالر کا تھا۔ان ظالم بینکاروں نے مرنے والے یا قید ہونے والے یہودیوں کے کاغذات کو آہستہ آہستہ جلانا شروع کر دیا۔ دوسری جانب سوئزر لینڈ وہ واحد ملک تھا جس نے نازی ظلم سے بھاگنے والے یہودیوں پر اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ جرمن یہودیوں کے پاسپورٹوں پر ’’J‘‘ کا لفظ لکھتے تھے اور اس پاسپورٹ کو دیکھ کر سوئزر لینڈ کی سرحد سے انھیں واپس دھکیل دیا جاتا تھاتاکہ یہ دولت واپس نہ مانگ لیں۔
جرمن آرکائیوز کے مطابق 1944 میں جرمن وزیر داخلہ ہیزرچ ہملرHeinrich Himler نے سونے اور زیورات سے لدی ہوئی ایک ٹرین سوئزر لینڈ کے بینکوں کو بھجوائی تاکہ ناگہانی کیفیت میں جنگ میں اسلحہ کی خریداری کے لیے کام آ سکے۔ جنگ ختم ہوئی اور 1946 میں پیرس معاہدہ Paris Agreement وجود میں آیا جس کی وجہ سے اس سونے پر ان بینکوں اور عالمی اتحادی طاقتوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ ان بینکوں کو ملا۔ یہودی اپنی طاقت اور بالادستی کے باوجود ان سود خور بینکوں سے اپنی دولت نہ لے سکے۔ بددیانتی کے اس کاروبار نے سوئزر لینڈ اور موصوف کالم نگار کی جنت زیورچ کو سرمایہ فراہم کیا۔
آج بھی سوئزر لینڈ کے بینکوں میں 80 فیصد رقوم تین ذرایع سے آتی ہیں۔ -1 دوسرے ملک سے ٹیکس چوری کا پیسہ جن میں یورپ اور امریکا جیسے ممالک بھی شامل ہیں‘-2 غیر ترقی یافتہ ممالک کے آمروں اور حکمرانوں کا کرپشن اور لوٹ مار کا سرمایہ اور -3دنیا کے بڑے بڑے مافیاز کے جرائم سے حاصل کردہ سرمایہ۔ یہ ہیں وہ تین بنیادی ذرایع جو اس ’’جنت نظیر‘‘ علاقے کی آمدن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ یہ ہے سوئزر لینڈ کا بزنس ماڈل۔ چند سال پہلے تک ٹیکس چوری سوئزر لینڈ میں جرم نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب جرمن محکمہ Deutsche post کے سربراہ Klaus Zumwinkle کے بارے میں جرمن حکام نے کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کیا تو سوئزر لینڈ نے کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا۔ان بینکوں کا سوئزر لینڈ کی سیاست پر اسقدر اثر ہے کہ اس ملک کے سیاست دان بینکاری کے غلیظ دھندے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں ۔اسی لیے وہ یورپی یونین کا حصہ بننے سے انکار کرتے رہے۔ دنیا کا ہر چور‘ بددیانت‘ قاتل‘ ڈاکو‘ ظالم حکمران اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے ان بینکوں کو پناہ گاہ سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ فرانس کے سوشلسٹ وزیر خزانہ Jerome cahuzac کا بھی یہاں ایک خفیہ اکائونٹ ہے۔
فلپائن کا مارکوس‘ چلی کا آلندے‘ ایران کا رضا شاہ‘ پاکستان کا زرداری اور افریقہ کے آمروں کی لوٹی ہوئی رقوم ان بینکوں کے کاروبار کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس سارے سرمائے کا بدترین اور انسانیت دشمن استعمال یہ ہے کہ یہ سب کے سب بینک اس وقت دنیا بھر میں خوراک کی تجارت اور ذخیرہ اندوزی پر سرمایہ لگاتے ہیں۔ ملکوں سے خوراک خریدتے ہیں اور پھر ان کا ذخیرہ کر کے مہنگے داموں پر لوگوں کو بیچتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں اس وقت دنیا میں ایک ارب مرد‘ عورتیں اور بچے قحط اور بھوک کا شکار ہیں۔
یہ قاتل اور انسانیت دشمن بینک اپنے سرمائے سے کھاتے داروں کو سود ادا کرتے ہیں اور سوئزر لینڈ کے عوام کو شاندار سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ ڈاکوئوں‘ چوروں‘ آمروں‘ ڈکٹیٹروں اور انسانیت دشمن افراد کا ملازم ہے۔ ان کی فی کس آمدنی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کیوں نہ ہو ڈاکوئوں‘ چوروں اور پیشہ ور قاتلوں کے کارندے سرمائے میں نہاتے ہیں۔
یہ ہے وہ جنت جس کی تعریف مذکورہ کالم نگار نے کی ہے۔ لیکن میرے اللہ نے ایسے افراد کی کیفیت کے بارے میں کیا خوب ارشاد فرمایا تھا جو ان شہروں میں چند دن گزار کر متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’دنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوشحالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہر گز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین جائے قرار ہے (آل عمران 197)۔ کون ہے جو شہروں کی چہل پہل سے متاثر ہو کر بدترین جائے قرار کو منتخب کرلے۔ 


oria maqbool jjan article on sood
swiss bank ,money

14 جولائی، 2014

جرم ضعیفی کی میٹھی گولیاں


 مسلم امہ کے کسی سیاسی رہنما‘ دانشور یا مغربی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی چوکھٹ پر سجدہ ریز شخص کو اگر دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد اور معصوم عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتائو تو وہ اقبال کے شعر کا ایک مصرعہ دہرانے لگتا ہے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘۔ کس قدر بے حس ہیں یہ لوگ۔ ان کے اپنے گھر پر اگر بم گرے‘ ان کے بچے تڑپتے ہوئے جان دیں‘ ان کی عورتوں کو سپاہی اٹھا کر لے جائیں تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ کوئی کتنا بھی کمزور ہو‘ انتقام کی آگ میں کھولنے لگتا ہے۔

ممکن ہو تو حفاظت خود اختیاری کا سہارا لے کر جو بھی اسلحہ گھر میں موجود ہو لے کر بدلہ لینے نکل پڑتا ہے۔ نہتا ہو تو گھر کا سامان بیچ کر انتقام کے لیے اسلحہ خریدتا ہے‘ کرائے کے قاتلوں سے رابطہ کرتا ہے‘ بدلہ لینے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو شور ضرور مچاتا ہے‘ واویلا ضرور کرتا ہے‘ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ یہ سب نہ بھی کر سکے تو اتنا ضرور کرتا ہے کہ جو لوگ یہ ظلم اور بربریت کرتے ہیں‘ ان کو اور ان کے پشت پناہوں کو دشمن سمجھتا ہے‘ ان سے شدید نفرت کرتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اسے اقبال کا جرم ضعیفی والا شعر سنا کر چپ رہنے کو کہے تو اس کا گریبان تھام کر کہنا ہے‘ تم پر بیتی نہیں اس لیے تم یہ باتیں کر رہے ہو۔ تمہارا گھر ایسے اجڑتا تو میں تم سے پوچھتا۔

لیکن وہ امت جس کی سید الانبیاء ﷺ نے یہ علامت بتائی تھی کہ یہ ایک جسد واحد ہے۔ ایک جسم جس کے کسی بھی حصے کو تکلیف پہنچے‘ باقی تمام عضو مضطرب ہو جاتے ہیں۔ اس امت میں کبھی بوسنیا‘ چیچنیا‘ افغانستان‘ عراق اور اب فلسطین میں معصوم اور نہتے لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور ہم یا تو قاتلوں کے دوست اور اتحادی ہیں یا پھر قاتلوں کے پشت پناہوں سے بھیک اور امداد مانگ کر گزارا کرنے والے ہیں۔ غیرت و ناموس بیچ کھائی ہو تو جرم ضعیفی جیسے الفاظ کس قدر تسلی بخش ہوتے ہیں۔
کاش کوئی ویت نام میں لڑنے والے نہتوں کو بھی یہ الفاظ سکھاتا۔ ہمارے ایک دانشور ہیں جنھیں مغرب کے ہر ظلم میں حسن نظر آتا ہے‘ وہ کہتے ہیں ہم اسپرین تک بنا نہیں سکتے اور امریکا سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کاش وہ یہ بتا دیں کہ ویت نام میں کس نے اسپرین ایجاد کی تھی جو انھوں نے امریکا کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ افغانستان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جس کے غیور لوگوں نے ایک سو سال میں تین عالمی طاقتوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔

یہ سب اس امت کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ اسے یہ درس بھلا دیا گیا ہے کہ نصرت اور فتح ٹیکنالوجی سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ جس رسولﷺ کے عشق کے یہ دعوے کرتے ہیں‘ اس کی سنت پر عمل کرنے کا درس دیتے ہیں‘ انھوں نے اس ہادی برحق کو بدر کے میدان میں نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ تین سو تیرہ جانثار‘ دو گھوڑے‘ چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں… یہ تھی کل کائنات اور مقابلے میں تین گنا بڑا لشکر اور تمام سامان حرب۔ کوئی ایک غزوہ بھی ایسا ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کیا شام‘ مصر‘ ترکی اور ایران فتح کرنے والے اپنے مقابل لشکروں سے تعداد‘ اسلحہ اور سامان حرب میں زیادہ تھے۔ ہر گز نہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے دور کی عالمی طاقتوں سے ٹکڑا گئے تھے۔ اس لیے کہ وہ جرم ضعیفی کی لوریوں میں نہیں پلے تھے بلکہ اللہ کی طاقت کے بھروسے پر زندگی گزارنے والے تھے۔

اللہ پر بھروسے کی طاقت کو اس امت سے چھیننے اور اسے ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز کروانے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ اس میں جنگ عظیم اول کے بعد خلافت کی مرکزیت کا خاتمہ اور موجودہ سیکولر قومی ریاستوں کے مغرب کی دہلیز پر سجدہ ریز حکمرانوں کا بھی حصہ ہے اور اس امت کے ان دانشوروں کا بھی جو روز اس امت کو کم مائیگی‘ کمزوری اور بے حوصلگی کا درس دیتے ہیں۔ یہ ہیں وہ اہل مدرسہ جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ’’گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا‘‘۔ اسی نوجوان کے بارے میں اقبال نے کہا تھا
کون کہتا ہے کہ مکتب کا جواں زندہ ہے
مردہ ہے مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس

لیکن اس تن مردہ میں جاں پیدا کرنے کی آوازیں اور تحریکیں بھی ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ جرم ضعیفی پر خاموش رہنے اور غیرت و حمیت بیچ کھانے والوں کے مقابل میں نعرہ مستانہ لگانے والوں کی بھی کمی نہیں رہی۔ تاریخ کا یہ بدترین باب ہے کہ وہ جنھوں نے مسلمانوں کو جرم ضعیفی کی سزا تجویز کی اور انھیں ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر بہتر مستقبل کی نوید دی وہ سب کے سب ان قومی سیکولر ریاستوں کے حکمران ہی تھے۔ گزشتہ سو سالہ تاریخ میں سوڈان سے لے کر ملائشیا تک ہر کسی نے مسلمانوں کو ان ریاستوں کے خول میں جکڑ کر بے حس اور مردہ دل بنایا اور آج یہ عالم ہے کہ کسی شہر کے ایک حصے میں اگر آفت اور مصیبت آئے تو دوسرے حصے کے لوگ اپنی روز مرہ زندگی جاری رکھتے ہیں۔

نہ کوئی ان کی مدد کو بے چین ہوتا ہے اور نہ ان کی مصیبت میں غمگین۔ یہی بے حسی آج غزہ میں مرنے والے معصوم بچوں کے لیے نظر آئی ہے۔یہ بے حسی کیسے پیدا ہوئی۔ ہم نے ایسے ہی مناظر افغانستان اور عراق میں کس قدر خاموشی سے دیکھے۔ ہمیں کہا گیا یہ دہشت گرد ہیں‘ ان سے دنیا کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ ہم سب امن کے خواہاں بن کر ایسا ہی تماشا دیکھتے رہے۔ پھر ہم نے مسلمان ریاستوں کو بھی ظلم کرنے کا ویسا ہی اختیار دے دیا اور بے حسی سے تماشا دیکھتے رہے۔ ہم نے بشار الاسد کو ایسے ہی معصوم بچوں اور عورتوں کو دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر قتل کا لائسنس دیا۔ ہم نے نوری المالکی کو عراق میں خاندانوں کے خاندان قتل کرنے کی اجازت دی تا کہ دنیا سے شدت پسندوں کو پاک کیا جائے۔ ہم تماش بین تھے اور ہمارے سامنے موت کا تماشہ تھا۔

کیا کسی کی آنکھ سے آنسو بہے جب اس سے چند میل کے فاصلے پر ڈرون حملوں سے معصوم بچوں کے جسموں کے پرخچے اڑے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لال مسجد کا سانحہ اور معصوم بچوں کی موت کو کس قدر سکون کے ساتھ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر دیکھا اور چین کی نیند سوئے اور سوچا کہ اب ہم نے امن کی طرف قدم اٹھا لیا۔ دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے تمام جملے اسرائیل کے میڈیا نے چرا لیے ہیں۔ ان کے حکمران بھی وہی زبان بول رہے ہیں جو ہم دہشت گردی کے خلاف بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں فلسطین کے لوگ امن کے دشمن ہیں‘ یہ دہشت گردی کی پناہ گاہ ہیں‘ ان کی وجہ سے پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ اور پھر ان کی اس منطق کو امریکا اور مغربی دنیا اپنے میڈیا پراور سیاسی سطح پر حمایت فراہم کرتا ہے۔

کہا جاتا ہے اسرائیل ان کے علاقے پر قابض ہے۔ آزادی ان کا پیدائشی حق ہے تو کیا امریکا اور اس کے حواریوں نے افغانستان اور عراق پٹے پر خریدا ہوا تھا‘ ان کی ملکیت میں شامل تھا۔ کیا پاکستان کے قبائلی علاقے امریکا کی باون نمبر کی ریاست تھی جس کے معصوم لوگوں کو وہ دہشت گرد کہہ کر ڈرون حملوں سے ہلاک کرتا تھا۔ دنیا میں دو منطقیں نہیں چلا کرتیں۔ جس ظلم نے حماس کو جنم دیا ہے اسی ظلم نے دنیا کے تمام ممالک میں جہادی سوچ کو پیدا کیا ہے۔ ریاستوں کا چہرہ ایک جیسا ہے‘ ظالم اور سفاک۔ یہی غزہ کا علاقہ پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد 24 جنوری 1949ء میں اسرائیل مصر معاہدے کے تحت ایک نیم خود مختار متنازعہ علاقہ کہلایا۔

کسی نے اسے حق آزادی نہ دیا۔ لیکن جب 26 جولائی 1956ء کو جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا اعلان کیا تو جنگ چھڑی اور اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت فلسطینی ایک علیحدہ عرب قوم تصور ہوتی تھی لیکن 1958ء میں مصر‘ شام اور فلسطین کو ایک اتحاد جمہوریہ عربیہ متحدہ کے تحت منظم کیا اور 1959ء سے 1967ء تک غزہ پر مصر کا کنٹرول ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی دفعہ غزہ کی ناکہ بندی کی گئی اور اس ظلم کا موجد جمال عبدالناصر تھا اور اس کی بھی وہی دلیل تھی کہ اگر غزہ کے رہنے والوں کو کھلا چھوڑا گیا تو امن تباہ و برباد ہو جائے گا۔

غزہ کی داستان پوری امت مسلمہ کی داستان ہے۔ یہ بے حسی اور بے ضمیری کا نوحہ ہے۔ یہ خاموشی ہم نے بڑی محنتوں سے اس قوم اور ملت کو سکھائی ہے۔ ہم نے ان کے ضمیر مردہ کیے ہیں جن قوموں کو سالوں یہ کہا گیا ہو کہ یہ جو لوگ ہم قتل کر رہے ہیں یہ تمہارے کچھ نہیں لگتے۔ یہ انسان نہیں کسی دوسرے ملک‘ علاقے‘ شہر یا محلے کے شہری ہیں۔ ان کے قتل پر چپ رہو‘ یہ امن کے دشمن ہیں‘ شدت پسند‘ دہشت گردہیں تو پھر اس بات پر حیران کیوں ہوتے ہو کہ غزہ پر موت کے سائے چھائے تو ایک آنسو بھی نکلا‘ ایک احتجاج تک نہ ہوا۔ 


اوریا مقبول جان  

28 جون، 2014

پارٹ سیکولرازم / پارٹ ٹائم اسلام

 کس قدر سادہ لوح ہیں وہ لوگ جو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اس مملکتِ خدا داد پاکستان کے حکمران، دانشور، اہلٍ سیاست، مذہبی رہنما اور میڈیا عالمی طاقتوں کے اس کھیل سے آزاد ہے جو مسلم امہ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی مجبوریاں ان کے اقتدار کی طوالت سے وابستہ ہیں، دانشوروں کا علم ان کی سوچ متعین کرتا ہے اور یہ علم مغربی تجزیہ نگاروں کی رپورٹوں، مقالوں اور کتابوں سے روشنی حاصل کرتا ہے۔
 

اہلِ سیاست نے یہ تصور کرلیا ہے کہ انھیں اقتدار کی مسند پر بٹھانے اور ان کے مخالفین کی حکومتیں الٹنے والی طاقتیں اگر ان سے خوش ہیں تو وہ کامیاب، مذہبی رہنمائوں کے قطبِ نما کی سوئیوں کا رخ اپنے اپنے مسالک کے ملکوں کی سیاست میں الجھا ہوا ہے اور میڈیا تو چلتا ہی اس سرمائے سے ہے جو کارپوریٹ انڈسٹری مہیا کرتی ہے تا کہ پوری دنیا میں ایک جیسا طرزِ زندگی یا لائف اسٹائل متعارف ہو، جس کے نتیجے میں ان کا مال بِک سکے۔ یہ سب کے سب اس عالمی ایجنڈے کے مہرے ہیں اور انھیں کب ، کیسے اور کہاں استعمال کرنا ہے وہ طاقتیں خوب جانتی ہیں۔
 

اس کھیل میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مہروں کی واضح اکثریت کو اس کا علم تک نہیں ہوتا کہ وہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ تو انتہائی اخلاص کے ساتھ ایک سمت رواں دواں رہتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی جنگ جیتنا چاہتا ہے۔ کوئی ریاست بچانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے تو کوئی اپنے مسلک کی برتری چاہتا ہے، کسی کو انقلاب کی جلدی ہے تو کوئی ترقی کے خوابوں کو تعبیر دینا چاہتا ہے۔ کوئی سیکولر، لبرل اور جمہوری اقدار کا تسلط چاہتا ہے تو کسی کو اسلام کے عادلانہ نظام کی بالادستی کے لیے ہتھیار اٹھانا اچھا لگتا ہے۔ یہ سب کے سب کیوں اس قدر مختلف ہیں اور کیا یہ ایسے ہی ایک دوسرے سے دست وِ گریبان رہیں گے۔ شاید ابھی کچھ دیر اور لیکن زیادہ دیر نہیں۔
 

ہم جس دور میں زندہ ہیں اس کے بارے میں سیدالانبیاء ﷺکی ایک حدیث صادق آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اسلام کی ابتدا اجنبیت سے ہوئی تھی اور یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا‘‘۔ یہ اجنبیت کیا ہے۔ آج اسلام بالکل ویسے ہی اجنبی ہے جیسے مکہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی دعوت کے آغاز میں تھا۔ ثقافت، طرز ِمعاشرت، معاشی نظام اور سیاسی زندگی کے مقابلے میں اسلام کی پیش کردہ دعوت اجنبی اور انوکھی لگتی تھی۔ آج بھی بالکل وہی کیفیت ہے جو چودہ سو سال پہلے تھی۔ اسلام موجودہ عالمی معاشی نظام، عالمی لائف اسٹائل، عالمی طرزِ سیاست اور عالمی طرزِ معاشرت میں بالکل انوکھا اور اجنبی ہو چکا ہے۔
 

پوری دنیا اس وقت لائف اسٹائل کی جنگ کا شکار ہے۔ ایک مدت ایک عالمی معاشی، سیاسی ، معاشرتی اور خاندانی نظام کو نصابِ تعلیم، میڈیا اور زیرِ اثر حکومتوں کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ جہاں ذرا شک ہوا کہ یہ لوگ اس عالمی لائف اسٹائل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہاں بدترین آمریتوں کے ذریعے اس سیکولر عالمی لائف اسٹائل کا نفاذ کیا گیا۔ تیونس سے لے کر پاکستان اور بنگلہ دیش سے ملائشیاء تک ہر کسی کو کبھی ڈکٹیٹروں اور کبھی من پسند جمہوری حکمرانوں کے ذریعے ایسے عالمی لائف اسٹائل کا طابع کیا گیا، جس میں سودی بینکاری سے لے کر حقوقِ نسواں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر فحاشی و عریانی تک سب زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔
 

اس لائف اسٹائل اور طرزِ زندگی کے مخالف جو بھی آواز اٹھی اسے سب سے پہلے میڈیا میں ایک مہم کے ذریعے بدنام کیا گیا اور اگر ممکن ہو سکا تو ایسے ملک جہاں اسلام کا یہ اجنبی اور انوکھا لائف اسٹائل جڑیں پکڑ رہا تھا وہاں فوجیں تک اتار دی گئیں۔ افغانستان اس کی بدترین مثال ہے اور مصر میں اسی حکومت کی برطرفی اس کا دوسرا طریقۂ اظہار۔ ایک بات کا فیصلہ کر لیا گیا کہ اس دنیا کے نقشے پر کوئی ایسی حکومت قائم نہیں ہونے دیں گے، جو اس عالمی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی لائف اسٹائل سے مختلف ہو۔ لیکن ہر کسی کو ’’ پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کی اجازت ہے، اذان کے وقت دوپٹہ سر پر لینا اور مہندی کے ڈانس کے وقت اتار دینا۔ سود کے پیسوں سے مسجدیں اور مدرسے بھی بنانا اور اس کے خلاف تحقیقی کام بھی کرنا۔
 

نماز، روزہ، حج، زکواۃ سب پر ایمان رکھنا لیکن جہاد سے نفرت کرنا۔ ایک ایسا اسلام تو موجود عالمی لائف اسٹائل میں اجنبی نہ لگے۔ ریاستیں تو اس ’’ پارٹ ٹائم اسلام‘‘ کی قائل ہو گئیں کہ ان کے حکمرانوں کے مفادات تھے مگر افراد نے دنیا بھر میں اس سے بغاوت کر دی۔ یہ لوگ امریکا کے ساحلوں سے آسٹریلیا کے پہاڑوں تک ہر جگہ موجود تھے۔ گیارہ ستمبر نے اس لائف اسٹائل کی جنگ کو واضح کیا تو آج 12 سال کے بعد خوف کے سائے اسلامی دنیا سے مغربی دنیا تک جا پہنچے۔ برطانیہ کا شہر برمنگھم جہاں ہر پانچواں شخص مسلمان ہے، وہاں پچھلے دنوں پارک ویو اسکول میں حکومت کے تین انسپکٹر داخل ہوئے، یہ دیکھنے کے لیے کہ کتنی لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں اور کتنے مردوں نے داڑھیاں رکھی ہیں۔
یہ مسلمانوں کے علاقے کا اسکول ہے جو اپنے دس طلبہ میں سے آٹھ طلبہ کو یونیورسٹیوں میں بھیجتا ہے۔ یہ کامیابی بہت کم اسکولوں کو میسر ہے۔ لیکن یہ سب کے سب اس لائف اسٹائل سے مختلف ہوتے ہیں جو عالمی طرزِ زندگی ہے، اسی لیے انسپکٹروں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں سے پوچھا کہ تم کو حجاب پہننے پر کوئی زبردستی تو نہیں کرتا، اتنے زیادہ کپڑوں میں تمہیں گرمی تو نہیں لگتی۔ تمہیں ماہواری کے بارے میں کسی نے کبھی بتایا ہے۔ اس کے بعد برطانیہ کے اخباروں میں خبریں لگیں کہ مسلمانوں نے اپنے علاقے کے اسکولوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں ایسا طرزِ زندگی اور طریقۂ تعلیم رائج ہے جس سے بچے برطانیہ کی زندگی کے لیے ’’ اجنبی‘‘ اور ’’انوکھے‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔
 

ایک رپورٹ مرتب کی گئی کہ اگر ایسا ہوا تو شدت پسندی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کے بعد ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کو کچھ خوبصورت الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں یہ الفاظ گونجے ’’Reconcile Islam and Britishism‘‘ (اسلام اور برطانویت میں مفاہمت) لیکن پورا ماحول غصے اور خوف میں ہے چند دن پہلے لندن کے علاقے کول چسٹر کے ایک پارک میں ایک مسلمان عورت کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے مکمل حجاب پہنا تھا۔ ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام میں ایسا لباس صرف نماز پڑھتے ہوئے پہننا چاہیے۔ اس پارٹ ٹائم اسلام یعنی مغرب اور اسلام کی مفاہمت کی بہترین علامت چند دن پہلے ایمسٹرڈیم میں نظر آئی ۔ ایمسٹر ڈیم کو یورپ کو جنسی ہیڈ کوارٹر Sex Capital کہا جاتا ہے۔
 

وہاں کے ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں دنیا بھر سے عورتیں لا کر بٹھائی گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں وہاں ایک اشتہار بانٹا جا رہا تھا کہ ہمارے پاس’’ حلال طوائفیں‘‘ میسر ہیں۔ یعنی جو شراب نہیں پیتیں، سؤر نہیں کھاتیں، اور دیگر معاملات میں بھی پارٹ ٹائم اسلام کی قائل ہیں۔ ایک ایسا اسلام جو عالمی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور خاندانی نظام کے اندر ضم ہو جائے۔ اسی طرح کے اسلام کو نافذ کرنے کے لیے ملکوں میں فوجیں اتاری جاتی ہیں، آئین تحریر کیے جاتے ہیں، اپنی مرضی سے الیکشن کروا کر کرزئی اور مالکی کو جمہوری طور پر منتخب کروایا جاتا ہے، مشرف سے لے کر سیسی تک لوگوں کو اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے۔
 

لیکن خوف کی خلیج واضح ہوتی جا رہی ہے۔ پارٹ ٹائم اسلام اور اس اسلام جس کے بارے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا، ان دونوں میں جنگ تیز ہو گئی ہے۔ امریکا سے لے کر آسٹریلیا اور یورپ کے 23 ممالک سے وہ لوگ جو اس عالمی لائف اسٹائل کے مخالف تھے، ہتھیار بند ہو کر شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں، افغانستان اور یمن میں موجود ہیں۔ دوسری جانب تمام مسلم ریاستوں کا یہ عالم ہے کہ وہاں کی حکومتیں اس عالمی لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے متحد ہیں دوسری جانب اسلام کے اصل روپ کے پروانے بڑھتے جا رہے ہیں۔
 

صرف پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں حجاب اور داڑھی میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے اس نے کاروباری کمپنیوں کو حجاب کا شیمپو تک مارکیٹ میں لانے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن دوسری جانب خوف بہت زیادہ ہے پورا عالمی لائف اسٹائل بینکوں کے جعلی سرمائے اور سود سے چلتا ہے، یہیں سے میڈیا ہائوسز پروان چڑھتے ہیں اور پارٹی فنڈ سے جمہوریت کی گاڑی۔ یہ تو سب دھڑام سے گر جائے گا اگر اس لائف اسٹائل کے مخالف طاقت میں آ گئے۔
ایک جنگ ہے اس میں ایک جانب ریاستیں ہیں جو اس عالمی طرز زندگی کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اور دوسری جانب وہ لوگ’’ پارٹ ٹائم ‘‘ قابل قبول اسلام نہیں بلکہ اس لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں جو آج اجنبی ہو چکا ہے۔ ریاستوں کی کوئی سرحد باقی ہے اور نہ ان لوگوں کی۔ سیّدالانبیاء نے فرمایا دّجال کی آمد سے پہلے دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو جائے گی، ایک طرف مکمل کفر ہو گا اور دوسری طرف مکمل ایمان۔ اب نہ پارٹ ٹائم سیکولرزم رہے گا اور نہ ہی پارٹ ٹائم اسلام۔ 





 oria maqbool jaan
urdu article, parr time islam,, secularism,
اوریا مقبول جان

19 دسمبر، 2013

جنرل صاحب نے یہ کیا کہہ دیا؟ اوریا مقبول جان




میڈیا کےکیمرے اس سیمینار میں نہیں تھے۔ اسلام آباد کے سرد موسم میں دسمبر کی ایک صبح مشہور زمانہ لال مسجد اور مرحوم جامعہ حفصہ کے قریب ایک ہوٹل کے زیر زمین حال میں شہر کے لوگوں کا جم غفیر تھا۔ تنظیم اسلامی نے دہشت گردی کے سدباب کے عنوان سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا تھا۔ دو مقررین کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقے سے تھا اور وہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کے اہم ستون یعنی بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین عہدوں پرفائز رہ چکے تھے۔

تیسرے مقرر پرویز مشرف کے دست راز ریٹائرڈ لفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز تھے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے وقت وہ چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر متمکن تھے، ایک ایسا عہدہ کہ جب اس ملک سے افغانوں پر حملے کرنے کے لیے مکمل مدد فراہم کی جا رہی تھی، اس عہدے کی آنکھیں ان تمام واقعات کی گواہ بنتی رہیں۔ دسمبر 2003 سے اکتوبر 2005 تک وہ لاہور کے کور کمانڈر رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد نیب کے چیرمین بنے۔ یوں تو اس دور میں بہت سے لفٹیننٹ جنرل رہے لیکن اپنے ضمیر کی خلش سے بیقرار ہو کر اور خاموشی توڑ کر کتاب صرف جنرل شاہد عزیز نے لکھی۔ اس کتاب میں لکھا جانے والا سچ اس قدر کڑوا تھا کہ اس نے بھونچال کھڑا کر دیا۔ ان کی کتاب "یہ خاموشی کب تک" پر بہت عرصہ اخباروں اور ٹی وی کے ٹاک شوز میں تبصرہ ہوتا رہا ۔ پرویز مشرف نے غصے میں لال بھبھوکا ہوتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ شاہد عزیز کا دماغ چل گیا ہے۔ اس سیمینار میں قبائلی امور کے باقی دونوں ماہرین اور خود قبائلی پس منظر رکھنے والے اعلیٰ بیوروکریٹس نے بہت سی ایسی باتیں کیں جنھیں اس ملک کا میڈیا بیان نہیں کرتا اور شاید مدتوں نہیں کرے گا۔ سیمینار میں جنرل شاہد عزیز نے ایک حیران کن انکشاف کیا اور یہ ایسی حقیقت ہے جسے سوات کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن نہ یہ میڈیا پر نشر ہوتی ہے اور نا ہی اسے کوئی سیاستدان، دانشور یا تبصرہ نگار بیان کرنے کی جرات کرتا ہے۔ جنرل شاہد عزیز نے، جو اپنی لکھی ہوئی تحریر پڑھ رہے تھے اور جس کی ریکارڈنگ تنظیم اسلامی کے پاس موجود ہے اور ہو سکتا ہے چند دنوں میں وہ ان کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہو، کہا :

"سوات میں امن معائدہ حکومت اور فوج نے امریکہ کے دباؤ پر توڑا اور اس کا الزام طالبان پر لگا دیا"۔

یہ فقرہ ایسا تھا جس سے پورے کا پورا ہال سناٹے میں آ گیا۔ اس فقرے کی گونج میں اگر ہم میڈیا پر گزشتہ پانچ سال کی گرجتی برستی آوازوں اور دانشوروں کے قلم سے نکلے ہوئے زھرخند جملوں کو یاد کریں تو یوں لگتا ہے کہ کئی سال پوری کی پوری قوم ایک جھوٹ کے الاؤ میں جلتی رہی۔ پاکستان کی پوری سیاسی قیادت، جو سوات آپریشن کے وقت برسراقتدار تھی، میں سے کسی بیان یا ٹی وی پر تبصرہ نکال کر دیکھ لیں، ایسے لگے گا جیسے یہ لوگ امن کی فاختائیں اڑا رہے تھے اور طالبان کی طرف سے انھیں ذبح کر دیا جاتا تھا۔ یہ اس قدر صابر تھے کہ انہوں نے امن کی ہر کوشش کی لیکن اسے طالبان نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ اس سوال کا جواب تو شاہد عزیز ہی دے سکتے ہیں کہ فوج کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ وہ امن جو مزاکرات کی میز پر وقوع پذیر ہو گیا تھا اسے ایک فوجی آپریشن میں کیوں بدل دیا گیا جس کے آج تک ہم زخم چاٹ رہے ہیں۔ آج بھی دبی دبی آوازیں سوات کے بازاروں میں سنائی دیتی ہیں اور صرف ایک وقت کا انتظار ہے کہ جب قصبوں، محلوں اور دیہاتوں میں سنائی جانے والی کہانیاں میرے ملک کے طول و عرض میں بیان ہونے لگیں گی؛ پھر کوئی معافی، غلطی کا کوئی اعتراف ان زخموں کو مندمل نہ کر سکے گا۔ اس سارے کھیل تماشے میں جو تھیٹر میڈیا پر سجا اور آج بھی سجا ہوا ہے اس نے قوم کو نفسیاتی مریض بنایا ہوا ہے۔ آج بھی دلیل یہ دی جاتی ہےاور کتنے زوروشور سے دی جاتی ہے کہ طالبان پر بھروسہ کیسے کریں، وہ تو سوات میں معائدہ توڑ دیتے ہیں۔ طالبان کو جس طرح میڈیا میں گالی بنایا گیا وہ صرف سوات کے امن معائدے کے ایک واقعے سےنہیں بلکہ اس میڈیا نے ہر اس قتل کو طالبان کے کھاتے میں ڈال کر دوکان سجائی جو کہیں کسی اور جگہ بھی ہوتا رہا۔ سوات ہی کی مشہور گلوکارہ غزالہ جاوید جب اپنے باپ کے ہمراہ قتل ہوئی تو کتنے دن میڈیا یہ ماتم کرتا رہا کہ شدت پسندی اور طالبان کی سوچ نے اس خوبصورت گلوکارہ کی جان لے لی۔

[گلوکارہ غزالہ جاوید کا قاتل اس کا سابق شوہر تھا، جسے ابھی دو دن قبل ہی عدالت نے دو بار سزائے موت اور 7 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے: خبر ]

ابھی سوات میں لڑکی کے کوڑوں والی ویڈیو ٹی وی کی سکرینوں پر نہیں آئی تھی کہ اس سے تقریبا دو ہفتے قبل ایک پروگرام میں انسانی حقوق کی ترجمان ثمر من الله نے کہا کہ دیکھنا کچھ عرصے بعد ایک ویڈیو سامنے آنے والی ہے جو طالبان کی حقیقت آشکار کر دے گی۔ اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر طالبان سے اس قدر دشمنی کیوں ہے؟ اس ملک میں اور بھی تو شدت پسند گروہ بستے ہیں۔ شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرنے والے تو بلوچستان میں بھی ہیں۔ قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والے تو کراچی میں بھی کسی کو چین سے بسنے نہیں دیتے ۔ ایسی ایسی بوری بند لاشیں برآمد ہوتی ہیں کہ جن کی ہڈیوں میں ڈرل سے سوراخ کیا گیا ہوتا ہے، ناخن کھینچے گئے ہوتے ہیں۔ ان کے لواحقین پر کیا گزرتی ہو گی جب وہ یہ لاشیں دیکھ کر سوچتے ہوں گے کہ ان کے پیاروں نے زندگی کے آخری لمحے کس اذیت سے گزارے ہوں گے۔پھر بھی میڈیا پر صرف ایک ہی شدت پسند گروہ کے "ترانے" کیوں گئے جاتے ہیں۔ یہ مرض بہت پرانا ہے، یہ حربہ اور ہتھکنڈا بہت پراثر ہے اس لیے کہ اس کا ہدف طالبان نہیں اسلام ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی عرب ریاستوں میں سے اکثریت پر سیکولر ڈکٹیٹر برسر اقتدار تھے، ان کا اسلام یا اس کے اصول زندگی سے دور دور کا بھی واسطہ نہ تھا لیکن دنیا بھر کے اخبارات یا ٹی وی پروگرام اٹھالیں، انھیں سیکولر ڈکٹیٹر نہیں مسلمان ڈکٹیٹر کہا جاتا تھا۔ کسی نے جرمنی کے ہٹلر، سپین کے فرانکو یا فلپائن کے مارکوس کو آج تک عیسائی ڈکٹیٹر نہیں کہا اور نا ہی لکھا ۔

اسلام کو اور مسلمانوں کو ہدف بنا کر جس قدر تسکین دنیا بھر کے میڈیا اور میرے ملک کے "عظیم" دانشوروں کو ہوتی ہے اس کا اندازہ آپ صرف کسی نیوز روم میں بیٹھ کر لگا سکتے ہیں، وہ نیوز روم جہاں کسی دھماکے، قتل یا ایسے کسی جرم کی خبر آ چکی ہو اور ٹی وی پر چل بھی رہی ہو متلاشی نظریں اور کان بےچینی سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں، تجسس میں ایک دوسرے سے سوال کیے جاتے ہیں:

"طالبان نے ذمہ داری قبول نہیں کی ابھی تک؟ پتا تو کرو، عالمی میڈیا کو دیکھو، کسی ویب سائٹ پر ڈھونڈو" اور اگر ذرا بھی تاثر مل جائے تو پھر دیکھیں اگلے چوبیس، اڑتالیس یا بہتّر گھنٹے کی نشریات کے لیے موضوع مل جاتا ہے۔ خبر چلاؤ اور رگڑ دو شرعی قوانین کو، اسلام کی شرعی حیثیت کو اور خود اسلام کو۔

اوریا مقبول جان
ربط: روزنامہ دنیا


tags:
oria maqbool jaan, Lieutenant-General Shahid Aziz, Tanzeem e islami,
sawat, aarmy operation, video, sawat peace deal, who broke,
ghazala javaid, taliban, secular, media, islam, pakistan,

13 نومبر، 2013

ریٹنگ کے لیے کچھ بھی کرے گا-- اوریا مقبول جان





tags:
khabardar oria maqbool jaan, shaheed, media,
ریٹنگ کے لیے کچھ بھی کرے گا
Khabardar خبردار
rating k leay kuch b karay ga

28 اکتوبر، 2013

America Ki Rukhsati aur Secular, Liberal Hazraat Ka Aalmiya – Orya Maqbool Jan





امریکہ کی رخصتی اور لبرل سیکولر حضرات کا المیہ، اوریا مقبول جان 
اصل معاملہ یہ ہے کہ اس ملک کے سیکولر اور لبرل طبقے کے سر سے پہلے پرویز مشرف کا سایہ اٹھا اور اب امریکہ بھی اپنا بوریا بستر لپیٹ کر جا رہا ہے. ان کی حالت سعادت حسن منٹو کے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پاگل خانے کے دو کرداروں جیسی ہو گئی ہے. یہ کردار یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے. ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا. وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہو گی. یوروپین وارڈ رہے گا یا اڑا دیا جائے گا بریک فاسٹ ملا کرے گا یا نہیں. کیا انھیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاتی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی.

12 اکتوبر، 2013

امن کا نوبل انعام


ملالہ اور عبیرقاسم حمزہ الجنابی


جب تک ملالہ نوبل انعام کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی، اس ملک کے میڈیا میں ایک شور برپا تھاہمارا سر فخر سے بلند ہے، ایک بچی جس کی جدوجہد علم کیلئے تھی، جو خواتین کے حقوق کی پاسداری کیلئے نکلی تھی اور آج پوری دنیا میں ہمارے ملک کا نام روشن کررہی ہے۔ پوری دنیا اس کی جرات کو سلام کررہی ہے، اس کے مشن کو جاری رکھنے اور تعلیم کو عام کرنے کیلئے سرمایہ دے رہی ہے۔ اس ملک کےعظیم اورباشعور دانشوروں کے یہ نعرے میرے کانوں میں گونجتے تھے اور میں سوچتا تھا کہ وہ امن کا نوبل انعام، جسے یہ قوم عزت کا تاج سمجھ رہی ہے، کیسے کیسے ظالموں، قاتلوں اور انسانیت کے دشمنوں کے سر سجتا رہا ہے۔

ملالہ کا سب سے بڑا وکیل گورڈن برائون وہی ہے جس نے عراق پر حملہ کرنے کیلئے نہ صرف برطانوی پارلیمنٹ میں ووٹ دیا بلکہ دھواں دار تقریر بھی کی تھی ۔ عراق پر وہ جنگ مسلط کی گئی جس نے لاکھوں لوگوں سے صرف تعلیم کا نہیں بلکہ زندگی کا حق بھی چھین لیا۔عورتوں کے حقوق کے یہ عالمی چمپین وہ ہیں جن کے ہاتھ مظلوم عورتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور سروں میں عورتوں کی عزت سے کھیلنے کی ہوس رچی ہوئی ہے۔

12 مارچ 2006 کو ملالہ کی ہم عمر عمر چودہ سالہ عبیر قاسم حمزہ جو عراق کے چھوٹے سے قصبے المحمدیہ میں رہتی تھی، اس پر کیا بیتی؟ دل تھام کر پڑھیے: عبیر کا والد قاسم حمزہ رحیم اور ماں فخریہ طہٰ محسن اپنی اس بیٹی عبیر،6 سالہ بیٹی حدیل،9 سالہ احمد اور 11 سالہ محمد کے ساتھ اپنے گھر میں خوش و خرم رہ رہے تھے۔ عبیر کو اس کے والدین بہت کم گھر سے باہر جانے دیتے کہ سامنے گورڈن براؤن کے جمہوری ووٹ سے شروع ہونے والی عراق جنگ کے سپاہیوں کی چیک پوسٹ تھی جس پر چھ سپاہی پاول کورٹر، جیمز بارکر، جیسی سپل مین، برائن ہاورڈ، سٹیون گرین اور انتھونی پرایب موجود تھے۔ جب کبھی یہ بچی باہر نکلتی تو وہ اسے چھیڑتے اور وہ گھبرا کر اندر بھاگ جاتی۔ ایک دن یہ ان کے گھر گھسے، تلاشی لی اور عبیر کے گال پر سٹیون گرین نے انگلی پھیری جس نے سارے گھر کو خوفزدہ کر دیا۔ جب کبھی وہ اپنے والدین کے ساتھ باہر نکلتی، وہ اس کی طرف دیکھ کر غلیظ اشارہ کرتے ہوئے ویری گڈ کہتے۔ 12 مارچ 2006 کی صبح وہ شراب پینے میں مشغول تھے کہ عبیر کے دونوں بھائی سکول کے لیے روانہ ہوئے۔ عبیر کو اس لیے سکول سے اٹھا لیا گیا تھا کہ والدین ان سپاہیوں سے خوفزدہ تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ مکان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ماں باپ اور چھوٹی بہن کو ایک کمرے میں بند کیا اور عبیر کو دوسرے کمرے میں۔ سٹیون گرین نے اس کے ماں باپ اور چھوٹی بہن کو ایک کمرے میں لے جا کر قتل کر دیا اور دوسرے کمرے میں باقی دو سپاہی اس چودہ سالہ بچی سے زیادتی کرتے رہے۔ اس کے بعد گرین کی آواز آئی، میں نے انہیں قتل کر دیا اور پھر وہ بھی عبیر پر پل پڑا۔ اس کے بعد ان سپاہیوں نے اس کے سر پر گولی مار کار قتل کر دیا۔ جاتے ہوئے ایک سپاہی نے اس کے زیر جامے کو لائٹر سے آگ دکھائی اور کمرے میں پھینک دیا۔ گھر سے دھواں نکلا تو پڑوسی دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے جس حالت میں اس مظلوم چودہ سالہ بچی کو دیکھا وہ ناقابل بیان ہے۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا اور چودہ سالہ عبیر قاسم حمزہ الجنابی کی تصویر دیکھی تو کئی راتیں بے چینی اور اضطراب سے سو نہ سکا تھا۔

نوبل پرائز دینے والوں اور ملالہ یوسف زئی  کی وکالت کرنے والوں کے ہاتھ عبیر جیسی بے شمار معصوم لڑکیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جو ان کے خوف سے گھروں سے نہیں نکلتی تھیں۔ جنہوں نے ان کی بدمعاش اور غلیظ نظروں کے خوف سے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ عبیر تو ان کے خلاف کوئی ڈائری بھی تحریر نہیں کر رہی تھی جو دنیا کا کوئی بڑا چینل نشر کرتا۔ اس نے تو انھیں ظالم، تعلیم کے دشمن اور انسانیت کے قاتل بھی نہیں کہا تھا۔ اس کا والد کسی این جی او کا سربراہ یا کارپرداز نہیں تھا کہ اپنی بیٹی تو ان سپاہیوں کے خلاف اکساتا، اس کی ایک فرضی نام سے ڈائری لکھنے میں مدد کرتا اور پھر دنیا بھر میں داد سمیٹتا۔ عبیر کو اس ظلم کی وجہ سے سہم سی گئی تھی۔ اس کے زندہ بچ جانے والے بھائیوں نے بتایا کہ جس دن سٹیون گرین نے اس کے گال پر انگلی پھیری، ہمارے والد نے اسی دن اسے اسکول سے اٹھا لیا تھا۔ وہ اس دن بہت روئی۔ اسے گھر کے باہر لگی ہوئی سبزیوں کو پانی دینے، دیکھ بھال کرنے کا بہت شوق تھا، لیکن اس دن کے بعد سے وہ بس کھڑکی سے انھیں دیکھتی رہتی۔

اس عالمی یا مقامی میڈیا میں کوئی ایسا شخص ہے جس کے سینے میں دل ہو، جس کے دل میں بیٹی کی محبت جاگتی ہو، جس کی آنکھ سے ظلم پر آنسو نکل آتے ہوں؟ وہ اٹھے اور کہے، آؤ ہم مل کر ایک اور امن انعام کا آغاز کرتے ہیں، ان بچوں کے لیے جوصابرہ و شطیلہ میں مارے گئے، ان مظلوموں کے لیے جو ٹینکوں تلے کچل دیے گئے، ان قیدیوں کے لیے جن پر کتے چھوڑے گئے، ان بہنوں کے لیے جو ان درندوں کے ہاتھوں اس وقت تک درندگی کا شکار ہوتی رہیں جب تک ان کا سانس باقی تھا، عبیر کے لیے جس سے اس کا اسکول چھوٹ گیا، جس کے لیے گھر سے نکلنا عذاب ہو گیا۔

لیکن ہم بے حس ہیں۔ نوبل انعام کی چکا چوند نے ہماری غیرت کے بچے کچے گھروندے کو بھی ملیامیٹ کر دیا ہے۔ اٹھارہ کروڑ کی قوم نے ایک مغربی چینل کے پروگرام میں اپنی اس ہونہار بیتی کا یہ فقرہ کیسے سن لیا کہ ہم عورتیں وہاں قیدیوں کی طرح ہیں، ہم مارکیٹ نہیں جا سکتیں۔ کراچی سے پشاور اور گوادر سے گلگت تک کیا پاکستان یہ ہے جس کی تصویر ملالہ نے اس پروگرام میں پیش کی؟ اس نے کہا، ایسے لگتا تھا ہم جیل میں ہیں۔ میں نے بلوچستان کے دور دراز گائوں سے لے کر لاہور، کراچی، پشاور اور چھوٹے چھوٹے قصبوں تک عورتوں کو ہر موڑ اور ہر مقام پر دیکھا ہے۔ کھیتوں اور کھلیانوں میں، دفتروں اور فیکٹریوں میں، بازاروں اور ہوٹلوں میں۔ کیا یہ ہے ملالہ کا قیدخانہ؟ کیا یہ کالک ہے جو وہ اس قوم کے منہ پر مل کر نوبل انعام کی سیڑھی پر چڑھنا چاہتی ہے؟ اس قوم کا ہردانشور،مفکر اور اینکر پرسن عوام کو خوشخبری سناتا ہے، اسے پاکستان کا وقار بلند ہونے کی نوید قرار دیتا ہے۔ ملالہ نوبل امن انعام حاصل کرنے والوں کی صف میں ہی ٹھیک تھی جس میں اسرائیل کے تین قاتل وزرائے اعظم بیگن، اسحق رابین اور شمعون پیرس بھی کھڑے ہیں۔ نوبل انعام لیتے ہوئے ان کے ہاتھ ہزاروں معصوم فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ اس فہرست میں ڈرون حملوں سے معصوموں کی جانیں لینے والا بارک اوباما اور مسلم امہ کا سب سے بڑا دشمن ہنری کسنجر بھی کھڑا ہے۔ یہ غیرت کے سودے ہوتے ہیں جو غیرتمند قوموں کے غیرت مند افراد کیا کرتے ہیں کہ ایسے امن انعامات پر لعنت بھیج دیتے ہیں۔ ویتنام کا لیڈر لوڈو تھو (LU DUE THO) امریکہ سے امن مزاکرات کر رہا تھا۔ جب اسے ہنری کسنجر کے ساتھ امن کا انعام دیا تھا تو اس نے انکار کر دیا۔ ژاں پال سارتر کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا تو اس نے بھی یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے اپنے نام کے ساتھ نوبل انعام یافتہ لکھ کر اپنے ساتھ گھٹیا مذاق نہیں کرنا۔

پاکستان کی ایک مسلمان بیٹی کو مغرب کے قاتل حکمران ہمارے منہ پر کالک ملنے کیلئے استعمال کرتے رہے، اس کے سر پر ایسے ہاتھ امن کا تاج پہنانا چاہتے ہیں جن کے ہاتھ عبیر قاسم جیسی کئی مسلمان بچیوں سے رنگے ہوئے ہیں، یہ بچیاں جنہیں ان ظالموں کے خوف سے گھروں میں قید ہونا پڑا، ان کا اسکول چھوٹ گیا، وہ گھروں میں قید ہوگئیں لیکن پھر بھی وہ ان کی ہوس سے اپنی عفت بچا سکیں نہ زندگی۔

اوریا مقبول جان






7 اکتوبر، 2013

جھوٹ، فراڈ اور دھوکے کا کاروبار




نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ گجرات سے جنم لینے والا انڈسٹریل کوآپریٹیو بینک اپنی پوری آب و تاب سے چل رہا تھا۔ اچانک شہر میں افواہ پھیلی کہ بینک بند ہو رہا ہے۔ صبح سویرے اس بینک کی برانچوں کے باہر لوگوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں جو اپنی رقوم نکالنا  چاہتے تھے۔ چند ایک تو کیش ہوئے پھر بہانے شروع ہو گئے..... کیش منگوایا ہے، ابھی آتا ہی ہو گا، ہیڈ کوارٹر سے وین چل پڑی ہے۔ گیارہ بجے تک ملازمین بینک کو تالا لگا کر بھاگ گئے۔ یہ صرف ایک شہر میں پھیلی ہوئی چھوٹی سی افواہ کا نتیجہ تھا۔ لوگ صرف بینک سے اپنے کاغذ کے نوٹ مانگ رہے تھے لیکن دھوکے باز، جھوٹی اور فراڈ پر مبنی سودی بینکاری کی اوقات یہ تھی کہ صرف دو گھنٹے میں یہ عمارت زمین بوس ہو گئی۔ ابھی تو نوبت کاغذ کے نوٹوں تک پہنچی تھی جس پر یہ عبارت تحریر ہوتی ہے:


"بینک دولت پاکستان ایک سو روپیہ، حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا۔ حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا"۔ 
   
اس عبارت کے نیچے گورنر سٹیٹ بینک کے دستخت ثبت ہوتے ہیں۔ یعنی یہ ایک رسید ہے، ایک وعدہ ہے، ایک حلف نامہ ہے کہ اس کے بدلے میں جب اور جس وقت رسید کا حامل سونا، چاندی، اجناس یا جو چیز طلب کرے حکومت پاکستان اس کو ادا کرے گی۔  اس وقت ملک میں ایک ہزار سات سو ستتر ارب کے نوٹ گردش میں ہیں۔ اگر ایک صبح اٹھارہ کروڑ عوام کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیں کہ ہم ان ردی کے ٹکڑوں کو نہیں جانتے، تم نے اس پر جو تحریر لکھی ہے، جو وعدہ کیا ہے، جو اسٹامپ پیپر ہمیں دیا ہے، اس کے مطابق ہمیں ان کاغذوں کے بدلے سونا، چاندی یا کوئی بھی جنس جو تم بہتر تصور کرتے ہو، دے دو، تو صرف پانچ منٹ میں یہ سود اور کاغذ کے نوٹوں پر کھڑی عمارت دھڑام سے گر جائے گی اور اس کے ملبے کے نیچے جمہوری حکومت ہو یا آمریت سب دفن ہو جائیں گے۔ اس مکار، چالاک، فریبی اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے اصولوں پر مبنی بینکاری کے اس معاشی نظام پر ہم بیش بہا کتابیں لکھتے ہیں۔ اس کے مستحکم اور غیر مستحکم ہونے کے اصول وضع کرتے ہیں۔ معاشیات یعنی اکنامکس کا مضمون یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ پندرہ بیس سالوں کی تعلیمی محنت میں انہوں نے یہ سمجھنے کی مہارت حاصل کی ہوتی ہے کہ یہ کاغذ کے اسٹامپ پیپرز جنھیں کرنسی نوٹ کہا جاتا ہے اور یہ بینکاری نظام کیا ہے؟ کیسے ناپا جائے کہ اس کاغذ کی قیمت اوپر ہو گئی ہے یا نیچے؟ افراط زر کی چڑیا کس گراف کے فراٹے بھرتی ہے؟ کرنسی کے نوٹ جو سٹیٹ بینک چھاپتا ہے ان سے دولت(Money) کیسے جنم لیتی ہے؟ بینک کیسے انہی نوٹوں کو اپنے کھاتوں میں دو گنا اور تین گنا کر لیتا ہے جسے M1 اور M2 کا نام دیا جاتا ہے؟ بینک دیوالیہ ہو جائیں تو اس سودی نظام کو بچانے کے لیے کیسے حکومت عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ انہیں دیتی ہے؟ کس طرح بینکوں کو بچانے کے لیے انہیں انشورنس کمپنیوں کے ذریعے آکسیجن فراہم کی جاتی ہے؟ عام آدمی کے پیسے سے ایک پورا متبادل نظام وضع کیا جاتا ہے کہ بینکوں کا سارا خسارہ ان انشورنس پالیسیوں سے پورا کیا جائے جو بینکوں نے خریدی ہوتی ہیں۔ لیکن اس نظام کے پیچھے ایک کاغذ ہے جس پر ایک چھوٹی اور بےسروپا عبارت تحریر ہے کہ "حامل ھذا کو مطالبے پر ادا کرے گا"۔

دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ ہو یا برطانیہ، فرانس ہو یا جرمنی، بھارت ہو یا چین اپنا یہ لکھا ہوا وعدہ پورا نہیں کر سکتے۔ اس لیے کے اس وعدے کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔ چند ماہ پہلے جب یونان میں معاشی بحران آیا تو لوگ بینکوں کے دروازوں پر نوٹ حاصل کرنے جمع ہو گئے۔ اس ملک کے تین شہر تو ایسے تھے کہ دکانداروں نے گاہکوں سے نوٹ لینے بند کر دیے اور کہا کہ گھر سے کوئی چیز بھی اٹھا لاؤ، ہم اس کے عوض سودا دے دیں گے لیکن اس بیکار، ردی کے ٹکڑے پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ جس پر ایک چھوٹی سی عبارت تحریر ہے۔

یہ ایک خون چوسنے والا اور ظالم نظام ہے۔ اس کے رکھوالوں نے پچاس برس سے یہ طرز عمل اختیار کیا ہے کہ عام آدمی کی بجائے حکومتوں کو قرض دو۔ عام آدمی مر بھی سکتا ہے، دیوالیہ بھی ہو سکتا ہے، وہ کاروبار میں نقصان اٹھانے لگے تو اسے رعایت بھی دینی پڑتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ پتا بھی چلتا رہتا ہے کہ اس نے پانچ لاکھ قرضہ لیا تھا اور اب تک پندرہ لاکھ ادا کر چکا ہے لیکن پھر بھی اس پر قرض باقی ہے۔ لیکن حکومت کو قرض دینا کتنے فائدے کا سودا ہے۔ حکومت ایک تو اربوں میں قرض لیتی ہے اور شرح سود بھی اچھی ملتی ہے۔ عوام نے جو پیسہ یا بچت، بینکوں میں جمع کروائی ہوتی ہے یہ سودی بینکار حکومت کو اگر پندرہ فیصد شرح سود پر دیتے ہیں تو اس میں سے پانچ یا چھ فیصد اپنے پاس رکھ کر آٹھ یا نو فیصد سود لوگوں کو دے دیتے ہیں۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ حکومت یہ سود اور قرض کیسے واپس کرتی ہے؟ کوئی اے جی این قاضی، شعیب، شوکت عزیز، حفیظ پاشا یا اسحٰق ڈار انہی عوام پر ٹیکس لگاتا ہے۔ بجلی، پیٹرول، گیس سب پر ٹیکس لگا کر پیسہ وصول کرتا ہے اور پھر انہی بینکوں کو لوٹا دیتا ہے جو اس سود کے کاروبار سے اس قوم کا خون چوس رہے ہوتے ہیں۔

جھوٹ اور فراڈ کا عالم یہ ہے کہ اس وقت 313 ارب روپے کے سونے کے ذخائر موجود ہیں اور اگر اس میں4.6  ارب روپے کے سونے کے وہ ذخائر بھی شامل کر لیے جائیں جو انگلستان میں بینک آف انڈیا کے پاس پڑے ہیں جو 1947سے آج تک واپس ہی نہیں کیے گئے تو یہ کل 318 ارب روپے کا سونا بنتا ہے۔ اس محدود سونے پر حکومت پاکستان نے جو رسیدیں یعنی کرنسی نوٹ جاری کیے ہیں اور جن پرلکھا ہے کہ "مطالبے پر ادا کرے گا" وہ ایک ہزار سات سو ارب کی مالیت کی ہیں۔ یہ تو سٹیٹ بینک کے نوٹوں کی کہانی ہے، اس کے بعد سود خور بنکوں کا مرحلہ آتا ہے۔ بنکوں کو ایک خاص شرح "ریزرو" نوٹ رکھ کر مصنوعی دولت تخلیق کرنے کا اختیار ہے۔ اکتوبر 2007سے تمام بینک 7فیصد نوٹ اپنے پاس رکھ کر کر باقی سرمایا اپنی خط و کتابت یعنیtransactions سے دولت بنا سکتے تھے۔ لیکن نومبر 2012 میں یہ شرح کم کر کے 3 فیصد کر دی گئی اور یہ آج تک قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنک اصل نوٹوں کے مقابلے میں چالیس گنا زیادہ سرمایہ تخلیق کر سکتے ہیں جسے معیشت کی زبان میںM2 کہتے ہیں۔ اس وقت اس سرمائے کی کل مقدار نو ہزار آٹھ سو اٹھائیس ارب روپے ہے۔ کیا خوبصورت طریقہ ہے بنک کا! یہ کاغذ شوگر مل، کھاد والے، دوائیوں والے، مشینری والے، ملبوسات والے اور غرض مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا گزرتا ہے اور ان میں نا اصل نوٹ گھوم رہے ہوتے ہیں اور نا ہی اس کا کوئی متبادل۔ لوگ اپنی مصنوعات خرید و فروخت کرتے ہیں لیکن بنک کو امیر سے امیر تر بناتے جاتے ہیں؛ یعنی اگر اس وقت اس ملک کے تمام کھاتے دار اپنے چیک لے کر بنکوں کے دروازوں پر کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ ہماری رقم واپس کرو تو چند منٹوں میں یہ پورا نظام زمیں بوس ہو جائے گا۔
  
کوئی اس جھوٹ اور فراڈ کے خلاف ایسی تحریک نہیں چلاتا، کوئی سیاسی پارٹی یہ نہیں کہتی کہ حکومت جو جھوٹ بول کر نوٹ چھاپ رہی ہے، اس رسید کو لینے سے انکار کر دو اور اس کے بدلے میں کوئی جنس طلب کرو جس کا انہوں نے وعدہ کیا ہے۔ اس لیے کہ اس پورے سودی نظام کو تحفظ دینے کے لیے جمہوریت، پارلیمنٹ اور اس طرح کے ادارے قائم کیے گئے جن کا کام ہی اس جھوٹ اور فراڈ کی معیشت کو سہارا دینا ہوتا ہے۔ یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے ہر ملک میں ہے۔ پوری دنیا کے اربوں انسانوں کو اسی دھوکے، فراڈ اور جھوٹی رسیدوں کے ذریعے پاگل بنایا گیا ہے۔ کس قدر بودا کمزور اور بے بنیاد ہے یہ پورا سودی نظام جسے صرف ایک گھنٹے کے اندر زمین بوس کیا جا سکتا ہے۔

 اوریا مقبول جان 


٧ اکتوبر ٢٠١٣


Tags
Jhoot Froud and Dhokay Ka Karoobar Orya Maqbool Jan
urdu article, economic system, paper money, sood, riba, bank banking system,