ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

‏سنہرے اوراق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏سنہرے اوراق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

7 جولائی، 2014

ایسی نازک آزمائش کہ انسانی قوت ادراک میں بھی نہ آسکے



 غزوہ بدر میں حضرت ابو عبیدہ ؓبے وخوف خطر دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ آپ کے اس جرأت مندانہ اقدام سے دشمنوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ آپ میدان جنگ میں اس طرح بپھرے ہوئے چکر لگا رہے تھے جیسے موت کا کوئی ڈر ہی نہ ہو۔ آپ کا یہ انداز دیکھ کر قریش کے شہسوار گھبرا گئے۔ جونہی آپ رضی اللہ تعالیٰ ان کے سامنے آتے تو وہ خوفزدہ ہو جاتے۔ لیکن ان میں صرف ایک شخص ایسا تھا، جو آپ کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوتا تھا، لیکن آپؓ اس سے پہلو تہی اختیارکرتے اوراس کے ساتھ مقابلہ کرنے سے اجتناب کرتے۔ وہ شخص بھی آپؓ سے مقابلہ کرنے کے لیے بار بار آتا رہا لیکن آپؓ نے بھی اس سے پہلو تہی اختیارکرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔
بالآخر اس شخص نے جناب ابوعبیدہ ؓکے لیے تمام راستے بندکردئیے حتی کہ وہ آپؓ کے اور دشمنان اسلام کے مابین حائل ہوگیا لیکن آپؓ نے دیکھا کہ اب اس سے مقابلے سے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا تو اس کے سر پر تلوار کا ایسا زور دار وار کیا جس سے اس کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے ہوگئے اور وہ آپؓ کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا۔

بلاشبہ میدان میں حضرت ابوعبیدہؓ کو پیش آنے والی یہ آزمائش حساب دانوں کے حساب بھی ماوراء تھی اور ایسی نازک کہ انسانی قوت ادراک میں بھی نہ آسکے ۔جب آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ یہ لاش تو جناب ابوعبیدہ ؓ کے والدعبداللہ بن جراح کی تھی تو آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے ۔

دراصل حضرت ابوعبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل نہیں کیا، بلکہ انہوں نے میدان بدرمیں اپنے باپ کے ہیولے کی شکل میں شرک کو نیست و نابود کر دیا۔ آپؓ کا یہ اقدام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ آپکی شان میں درج ذیل آیات نازل کردیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ:
جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کر دیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے ۔
(المجادلہ:22)

(طبقات ابن سعد)




islami tareekh k sunehray waqiaat
islamic history, urdu, annokha muqabla, khuda ka lashkar, ghawa badar,
hazrat Abu Ubaida Bin jarah (RA),

23 مئی، 2014

ثمامہ کی قسمت بدل گئی

  ثمامہ بن اثال، یمامہ کے علاقے کا حکمران تھا، ثمامہ اسلام دشمنی میں پیش پیش تھا ۔اس نے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ الله قتل کرنے کا چیلنج دے رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی الله سے اس پر قابو پانے کی دعا فرمائی تھی۔ ایک مرتبہ ثمامہ عمرہ کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کی خوش قسمتی کہ وہ راستہ بھول کر مدینہ طیبہ کے قریب آ نکلا اور مسلمان سواروں کی گرفت میں آ گیا۔ چونکہ یہ شخص اپنے کفر میں معروف تھا اور اسلام دشمنی میں اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہ تھے، اس لیے اسے گرفتار کر کے مسجد نبوی کے ستوں سے باندھ دیا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے ثمامہ کیا خبر ہے؟
اس نے عرض کیا اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) خیر ہے اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو قتل کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو شکر گزار آدمی پر احسان کریں گے اور اگر مال چاہتے ہیں تو جتنا دل چاہے مانگ لیجئے ۔آپ کو آپ کی چاہت کے مطابق عطا کیا جائے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ویسے ہی چھوڑ کر تشریف لے گئے یہاں تک کہ اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے۔
اس نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان کریں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو ہی قتل کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو مانگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی طرح چھوڑ دیا یہاں تک کہ اگلے روز آئے تو فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے۔ اس نے کہا میری وہی بات ہے جو عرض کر چکا ہوں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک طاقتور آدمی کو ہی قتل کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال کا ارادہ کرتے ہیں تو مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا جائے گا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو۔ (اسے بغیر کسی شرط کے رہا کر دیا گیا)
ثمامہ پر اس رحم و کرم کا یہ اثر ہوا کہ رہائی پانے کے بعد اسلام کا اسیر ہوگیا۔ وہ مسجد کے قریب ہی ایک باغ کی طرف چلا غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم زمین پر کوئی ایسا چہرہ نہ تھا جو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے زیادہ مبغوض ہو پس اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس مجھے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے، اور اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی نہ تھا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ پسندیدہ ہو گیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ رکھتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مشورہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بشارت دی اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے۔
جب وہ مکہ آیا تو اسے کسی کہنے والے نے کہا کیا تم صحابی یعنی بے دین ہو گئے اس نے کہا نہیں بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اللہ کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا یہاں تک کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت مرحمت نہ فرما دیں۔


صحیح مسلم:جلد سوم:باب الجہاد:حدیث نمبر 71
صحیح بخاری:جلد دوم:باب غزوات کا بیان:حدیث نمبر 383
سنن ابوداؤد: جلد دوم: باب الجہاد: حدیث نمبر201

اپنے وطن پہنچ کے حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بات پر عمل کیا اور مکہ مکرمہ کو اناج کی سپلائی بند کر دی ۔ مکہ میں قحط کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ اہل مکہ نے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا ، جس میں اپنی قرابت داری کا واسطہ دیا اور درخواست کی کہ ثمامہ کے نام گندم کی ترسیل کے لیے حکم جاری فرمائیں۔
قارئین کرام! یہاں تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے اور غور کیجیے کہ الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر عالی ظرف اوراعلیٰ اخلاق والے تھے کہ باوجود اہل مکہ کے زبردست مظالم کے آپ نے حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا کہ اہل مکہ کے لیے گندم کی سپلائی بحال کر دیں ۔ کیا ایسے نادر اور اعلیٰ اخلاق کی دنیا میں کوئی اور مثال نظر آتی ہے؟


12 مئی، 2014

آخر تم کس بنیاد پر گواہی دے رہے ہو


نبئ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ایک اعرابی(بدو) سے گھوڑا خریدا، اور اس سے جلدی چلنے کو کہا تا کہ گھر پہنچ کر اس کی قیمت ادا کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم جلدی جلدی آگے بڑھ گئے جبکہ بدّو پیچھے رہ گیا۔ راستے میں لوگ بدّو کے پاس آتے اور اس کے گھوڑے کی قیمت لگاتے، انھیں معلوم نہیں تھا کہ پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے یہ گھوڑا خرید لیا ہے۔ ایک آدمی نے گھوڑے کی قیمت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی لگائی ہوئی قیمت سے زیادہ لگائی، چنانچہ بدو نے زور سے چلا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو آواز دی اور کہا:
"اگر آپ کو یہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لیں، ورنہ میں اسے دوسرے کے ہاتھ بیچ دوں گا۔"

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:

"کیا میں نے تجھ سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا ہے؟؟؟؟"

اعرابی نے کہا: نہیں نہیں ابھی خرید و فروخت مکمل نہیں ہوئی۔

پھر اعرابی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے درمیان بحث ہونے لگی۔ یہ دیکھ کر لوگ ان کے پاس اکٹھے ہو گئے۔ اعرابی کہنے لگا:

"آپ اس بات پر کوئی گواہ پیش کریں کہ واقعی میں نے آپ کے ہاتھ اپنا گھوڑا بیچ دیا ہے۔"

جو مسلمان بھی ان کی گفتگو سن کر وہاں آتا وہ بدو سے کہتا: تیرا ناس ہو! کیوں ضد کرتا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا ہے، کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم حق کے خلاف بھی کوئی بات کریں گے؟

اسی دوران حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ وہاں آن پہنچے، جہاں وہ بدّو بار بارایک ہی بات کی رٹ لگاۓ بیٹھا تھا، کہ اگر کوئی گواہ ہے تو پیش کرو، ورنہ مجھے گھوڑا نہیں بیچنا۔ جب حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور اعرابی کے درمیان بحث اور بدو کا یہ قول سنا کہ "آپ اس بات پر کوئی گواہی پیش کریں کہ واقعی میں نے آپ کے ہاتھ اپنا گھوڑا بیچ دیا ہے؟" تو وہ کہنے لگے

"میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا تو نے اپنا گھوڑا پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ہاتھوں پر فروخت کر دیا ہے!"

یہ سننا تھا، کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا:

"آخر تم کس بنیاد پر گواہی دے رہے ہو (جبکہ گھوڑے کی خرید و فروخت کے وقت تم ہمارے پاس موجود نہ تھے)؟"

حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! جب آپ ہمیں آسمان کی خبریں(وحی) سناتے ہیں تو میں ان کی تصدیق کرتا ہوں، (کہ سچ کہا ہے آپ نے) تو پھر کیا میں آپ کے اس قول کی تصدیق نہیں کروں گا؟

ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عرش پر مستوی بلند و بالا ہستی جب فرش پر مقیم سرور کائنات کے پاس اپنے خصوصی نمائندہ حضرت جبرئیل کے ذریعے سے کوئی وحی بھیجتی ہے جس میں ماضی کی تاریخ اور مستقبل کی پیشن گوئیاں ہوتی ہیں، تو ہم (صحابہ کرام) بلا چون و چرا قبول کر لیتے ہیں اور آپ کی تصدیق کر کے پوری بات من و عن تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس خرید و فروخت میں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے قول کی تصدیق نہ کروں؟!

چنانچہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے پیارے صحابی رضی اللہ عنہ کا یہ جواب سنتے ہی فرمایا،"اے خزیمہ تیری گواہی آج سے دو گواہوں کے برابر ہے"۔ اور انھیں ذوالشہادتین کا لقب دیا۔

ابو داؤد شریف، کتاب الآقضیہ، حدیث 3607
مسند احمد: جلد 5: حدیث 215

(حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا۔ وہ بدر اور دیگر غزوات میں شریک رہے۔ فتح مکہ کے وقت اوسی قبیلہ حطمہ کا جھنڈا حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔)

9 مئی، 2014

شیخ بو علی سینا

علم طب میں مسلمانوں کی مہارت قرون اولیٰ سے مانی جاتی ہے،  طب نبوی کی روشنی میں مسلمان حکماء نے بہت سی بیماریوں کے علاج دریافت کیے، جن میں سے ایک معروف نام شیخ بو علی سینا کا بھی ہے، انہوں نے طب اور طبیعات کے شعبوں میں مفید چیزوں کا اضافہ کیا . انہوں نے سب سے پہلے پانی کے ذریعے بیماری کے پھیلنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے شہرہ آفاق تصنیف القانون میں انکشاف کیا کہ پانی کے اندر چھوٹے چھوٹے باریک کیڑے ہوتے ہیں جو انسان کو بیمار کر دیتے ہیں
۔
انہوں نے مریضوں کو بیہوش کرنے کی طرہ ڈالی
۔ انہوں نے ہی پھیپڑے کی جھلی کا ورم معلوم کیا، وہ ادویات کے بغیر مریضوں کا نفسیاتی علاج بھی کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ زیابیطس کے مریضوں کی تشخیص پیشاب سے کی جا سکتی ہے
۔
اس عظیم مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے الکحل کے جراثیم کش ہونے کا ذکر کیا
۔
شیخ بو علی سینا نے ہرنیہ کے آپریشن کا طریقہ بیان کیا
۔
انہوں نے دماغی گلٹی یعنی برین ٹیومر اور معدہ کے ناسور (stomach ulcer) کا ذکر کیا
۔
  شیخ بو علی سینا نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا کہ نظام ہضم لہاب دہن سے شروع ہوتا ہے .
طب کے علاوہ دیگرعلوم میں بھی ابن سینا مہارت رکھتے تھے
۔ 
  علم طبیعات میں ابن سیناسب سے پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے کہا کہ روشنی کی رفتار لا معدود نہیں بلکہ اس کی ایک معین رفتار ۔ 
 تاجکستان کا  20 سومونی کا بینک نوٹ جس پر ابن سینا کی تصویر ہے
  انہوں نے سب سے پہلے آنکھ کی فزیالوجی اور اناٹومی بیان کی . شیخ بو علی سینا نے آنکھ کے اندر موجود تمام رگوں اور پٹھوں کو تفصیل سے بیان کیا ۔
یورپ میں انکی بہت سی کتابوں کے ترجمے ہوئے، ابن سینا کی سب سے مشہور طبی تصنیف “کتاب القانون” ہے جو نہ صرف کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہے بلکہ انیسویں صدی عیسوی کے آخر تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی۔

ابتدائی حالات
صفر 370 ہجری 980ء عیسوی کو فارس کے ایک چھوٹے سے گاؤں “افنشہ” میں پیدا ہوئے، ان کی والدہ اسی گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں جبکہ ان کے والد “بلخ” )موجودہ افغانستان سے آئے تھے، بچپن میں ہی ان کے والدین بخارا (موجودہ ازبکستان) منتقل ہوگئے جہاں ان کے والد کو سلطان نوح بن منصور السامانی کے کچھ مالیاتی امور کی ادارت سونپی گئی، بخارہ میں دس سال کی عمر میں قرآن ختم کیا، اور فقہ، ادب، فلسفہ اور طبی علوم کے حصول میں سرگرداں ہوگئے اور ان میں کمال حاصل کیا،
 

حالات زندگی
سلطان بخارا نوح ابن منصور بیمار ہو گئے۔ کسی حکیم کی دوائی کارگر ثابت نہ ہو رہی تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے سلطان نوح بن منصور کے ایک ایسے مرض کا علاج کیا تھا جس سے تمام تر اطباء عاجز آچکے تھے، ابن سینا جیسے کم عمر اور غیر معروف طبیب کی دوائی سے سلطان صحت یاب ہوگئے۔ چنانچہ سلطان نے خوش ہوکر انعام کے طور پر انہیں ایک لائبریری کھول کر دی تھی، بیس سال کی عمر تک وہ بخارا میں رہے، اور پھر خوارزم چلے گئے جہاں وہ کوئی دس سال تک رہے (392-402 ہجری) خوارزم سے جرجان پھر الری اور پھر ہمدان منتقل ہوگئے جہاں نو سال رہنے کے بعد اصفہان میں علاء الدولہ کے دربار سے منسلک ہوگئے، اس طرح گویا انہوں نے اپنی ساری زندگی سفر کرتے گزاری ۔

علمی خدمات و کارہائے نمایاں
بو علی کا حافظہ بہت تیز تھا۔ جلد ہی سلطان نوح بن منصور کا کتب خانہ چھان مارا اور ہمہ گیر معلومات اکٹھی کر لیں۔ اکیس سال کی عمر میں پہلی کتاب لکھی۔ ایک روایت کے مطابق بو علی سینا نے اکیس بڑی اور چوبیس چھوٹی کتابیں لکھی تھیں۔ بعض کے خیال میں اس نے ننانوے کتابیں تصنیف میں لائیں۔
علمی خدمات
ابن سینا نے علم ومعرفت کے بہت سارے زمروں میں بہت ساری تصانیف چھوڑیں ہیں جن میں اہم یہ ہیں:

ادبی علوم
اس میں منطق، لغت اور شعری تصانیف شامل ہیں

نظری علوم
اس میں طبیعیات، ریاضی، علومِ الہی وکلی شامل ہیں

عملی علوم
اس میں کتبِ اخلاق، گھر کی تدبیر، شہر کی تدبیر اور تشریع کی تصانیف شامل ہیں
۔
ان اصل علوم کے ذیلی علوم پر بھی ان کی تصانیف ہیں

ریاضی کی کتابیں
ابن سینا کی کچھ ریاضیاتی کتابیں یہ ہیں:
رسالہ الزاویہ،
مختصر اقلیدس،
مختصر الارتماطیقی،
مختصر علم الہیئہ،
مختصر المجسطی،
اور “رسالہ فی بیان علہ قیام الارض فی وسط السماء” (مقالہ بعنوان زمین کی آسان کے بیچ قیام کی علت کا بیان) یہ مقالہ قاہرہ میں 1917 میں شائع ہوچکا ہے
۔

طبیعیات اور اس کے ذیلی علوم
رسالہ فی ابطال احکام النجوم (ستاروں کے احکام کی نفی پر مقالہ)

 رسالہ فی الاجرام العلویہ (اوپری اجرام پر مقالہ)
 اسباب البرق والرعد (برق ورعد کے اسباب)
رسالہ فی الفضاء (خلا پر مقالہ)
رسالہ فی النبات والحیوان (پودوں اور جانوروں پر مقالہ)


طبی کتب
ابن سینا کی سب سے مشہور طبی تصنیف “کتاب القانون” ہے جو نہ صرف کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہے بلکہ انیسویں صدی عیسوی کے آخر تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی، ان کی دیگر طبی تصانیف یہ ہیں:
کتاب الادویہ القلبیہ،
کتاب دفع المضار الکلیہ عن الابدان الانسانیہ،
کتاب القولنج،
رسالہ فی سیاسہ البدن وفضائل الشراب،
رسالہ فی تشریح الاعضاء،
رسالہ فی الفصد،
رسالہ فی الاغذیہ والادویہ،
ارجوزہ فی التشریح،
ارجوزہ المجربات فی الطب،
اور کئی زبانوں میں ترجم ہوکر شائع ہونے والی
“الالفیہ الطبیہ”.

موسیقی
ابن سینا نے موسیقی پر بھی لکھا، ان کی موسیقی پر تصانیف یہ ہیں:
مقالہ جوامع علم الموسیقی،
مقالہ الموسیقی،
مقالہ فی الموسیقی.

اہم تصانیف
کتاب الشفاء
القانون فی الطب
إشارات

تاثرات
یورپ میں انکی بہت سی کتابوں کے ترجمے ہوئے اور وہاں ان کی بہت عزت کی جاتی ہے۔





3 مئی، 2014

داستان ایک متکبر کی

اس کا نام جبلہ بن الایہم تھا ۔ وہ غسان کا بادشاہ تھا...... اس کے دل میں ایمان کی شمع جگمگا اٹھی۔ اس نے اسلام کے بارے میں سنا، اس پر غور و فکر کیا، پھر اسلام قبول کر لیا۔
یہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی بات ہے۔ مسلمانوں کو اس کے اسلام لانے کی خبر ملی تو بہت خوش ہوئے۔ جبلہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ وہ مدینہ طیبہ آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ اسے اجازت دے دی گئی کہ تم مدینہ طیبہ آ سکتے ہو،  
"تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو ہمارے لیے ہے اور تم پر وہی کچھ واجب ہے جو ہم پر واجب ہے۔"
 

جبلہ غسان سے روانہ ہوا، اس کے جلو میں پانچ سو گھڑسوار تھے۔ وہ مدینہ کے قریب پہنچا تو اس نے شاہی لباس پہنا جس کے دامن پر سونے کی دھاریاں تھیں، پھر اس نے ہیروں اور جواہرات سے مرصع تاج سر پر رکھا۔ اس کے گھڑسواروں نے بھی بہترین لباس پہنے۔ جب وہ مدینہ میں داخل ہوا تو اہل مدینہ یہ منظر دیکھنے کے لیے باہر نکل آئے۔
جب وہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے اس کی عزت افزائی کی، اس کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنے پاس ٹھہرایا۔
اسی دوران حج کے دن آ گئے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ حج کے لیے روانہ ہوئے، جبلہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ جبلہ نے بیت الله شریف کا طواف شروع کیا۔ بنو فزارہ کا ایک مسکین شخص طواف کر رہا تھا کہ اتفاق سے اس کا پائوں جبلہ کی چادر پر آ گیا۔ جبلہ کو بڑا غصہ آیا۔ اس نے اسے ایسا زوردار تھپڑ مارا کہ اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

فزاری کو بھی سخت غصہ آیا مگر وہ جوابی کاروائی نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے فورا اپنا مقدمہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کر دیا۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جبلہ کو بلوایا اور جواب طلبی  کی کہ تم نے دوران طواف اپنے مسلمان بھائی کو تھپڑ کیوں مارا؟ تم نے تو تھپڑ رسید کر کے اس کی ناک ہی توڑ ڈالی۔ آخر تم نے ایسا کیوں کیا؟
جبلہ نے بڑے غرور سے کہا کہ اس نے میری چادر کو اپنے پیروں سے مسل دیا، اسکی یہ مجال! اگر مجھے مقدس گھر کی حرمت اور عزت کی پرواہ نہ ہوتی تو میں اسکی گردن اڑا دیتا۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جبلہ! تم نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے کہ واقعی تم نے اسے تھپڑ مارا ہے، اب تمہاری نجات کے لیے ایک ہی حل ہے کہ کسی طریقے سے اسے راضی کرو ورنہ.......
جبلہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ اس سے بھی بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ اس نے فورا پوچھا: ورنہ کیا ہوگا؟
ارشاد ہوا کہ اس فزاری سے کہا جائے گا کہ وہ آگے بڑھے اور تمھارے منہ پر ویسا ہی تھپڑ مار کر اپنا بدلہ لے لے!
جبلہ کہنے لگا: اچھا! تو کیا وہ مجھ سے بدلہ لے گا؟ .... میں ایک بادشاہ ہوں اور وہ ایک ادنٰی سا بے حیثیت آدمی!
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اسلام نے سب کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ تم اور فزاری دونوں برابر ہو۔ اسلام کی نظر میں صرف وہی شخص افضل و اعلیٰ ہے جو تقویٰ کے لحاظ سے بہتر ہے۔[سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف]

جبلہ کو اس قسم کے مساوی سلوک کا وہم و گمان بھی نہ تھا ۔ اس نے کہا کہ میں اس صورت میں دوبارہ عیسائی بن جاتا ہوں۔
ارشاد ہوا: جو شخص اپنے دین، یعنی اسلام سے پھر جائے، اسلام کی رو سے اسکی سزا موت ہے۔
جبلہ کہنے لگا : امیر المومنین اس صورت حال پر غور کرنے کے لیے مجھے کل تک کی مہلت عطا فرمائیں۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مہلت دے دی۔
رات کا کچھ حصہ گزرا تو جبلہ اپنے ہمرائیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکل بھاگا۔۔ وہ قسطنطنیہ پہنچا جہاں اس نے دوبارہ عیسائیت قبول کر لی۔
زمانہ بیت گیا..... اسکی جوانی کا رنگ اڑ گیا... نقوش ماند پڑ گئے، شان و شوکت دھندلا گئی۔ اسے اسلام کے ایام یاد آ گئے۔ نماز اور روزے کی لذت بیدار ہونے لگی... اسے اسلام چھوڑنے پر ندامت ہوئی .... زیادہ ندامت اس بات پر ہوئی کہ میں اسلام میں داخل ہونے کے بعد دوبارہ مشرک ہو گیا۔ اس إحساس کے باوجود وہ آخری عمر تک عیسائیت پر قائم رہا۔ اس نے آخری عمر میں کچھ اشعار کہے جن کا مفہوم یہ ہے:
"شریف خاندان کے ایک چشم و چراغ نے ایک تھپڑ کے بدلے تھپڑ کھانے میں سبکی محسوس کی جس کی وجہ سے اسلام سے برگشتہ ہو کر عیسائی بن گیا، حالانکہ تھوڑا سا صبر کر لینے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ کاش! میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا، کاش! میں عمر رضی اللہ عنہ کی بات مان لیتا۔ کاش! شام میں میری معیشت کا ادنٰی سا سامان بھی ہوتا تو میں اپنی قوم کے افراد کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا۔ اب تو میری سماعت بھی ختم ہو رہی ہے اور بصارت بھی۔
مگر اس احساس کے باوجود اس نے توبہ کر کے دوبارہ اسلام قبول نہیں کیا۔ اسے شرک اور کفر ہی کی حالت میں موت آئی۔
 

الاستقصا    لاخبار دول المغرب الاقصى / احمد بن خالد الناصري 83/1
سنہرے نقوش: 332

فیصلہ کس کے حق میں ہو گا

 
ایک دن قاضی شریح سے ان کے بیٹے نے کہا؛
"اے اباجان! میرے اور فلاں قوم کے درمیان جھگڑا ہوا ہے، اگر فیصلہ میرے حق میں ہو تو انہیں گھسیٹ کر عدالت میں لے آؤں اگر فیصلہ ان کے حق میں ہو تو صلح کرلوں"۔
اور پھر جھگڑے کی تفصیل بیان کر دی۔
آپ نےکہا:"جاؤ انہیں عدالت میں لے آؤ"۔
وہ خوشی خوشی ان کے پاس گیا اور انہیں عدالت میں چلنے کے لیے کہا، وہ عدالت میں پیشی کے لیے تیار ہوگئے، جب قاضی شریح کی عدالت میں پہنچے تو انہوں نے مقدمہ کی سماعت کے بعد اپنے بیٹے کے خلاف سنادیا۔ وہ لوگ خوش و خرم واپس لوٹے اور بیٹا شرمندہ منہ لٹکائے ہوئے عدالت سے باہر آیا۔

باپ کا فیصلہ بیٹے کے خلاف،،،،؟؟؟ اﷲاکبر

جب قاضی شریح اور ان کا بیٹا گھر پہنچے تو بیٹے نے کہا:
'اباجان آپ نے مجھے رسوا کردیا، اگر میں نے آپ سے مشورہ نہ کیا ہوتا تو کوئی بات نہ تھی۔ افسوس یہ ہے کہ میں نے آپ سے مشورہ لے کر عدالت کا رخ کیا اور آپ نے میرے ہی خلاف فیصلہ سنا دیا۔ لوگ میرے متعلق کیا سوچتے ہوں گے'۔

قاضی نے کہا:"بیٹا دنیا بھر کے لوگوں سے تو مجھے عزیز ہے، لیکن یاد رکھوا ﷲ کی محبت میرے دل میں تیرے پیار پر غالب ہے۔ مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر میں تجھے مشورے کے وقت بتا دیتا کہ فیصلہ ان کے حق میں ہے تو تم ان سے صلح کر لیتے اور وہ لوگ اپنے حق سے محروم رہ جاتے۔
اس لیے میں نے کہا انہیں عدالت میں لے آؤ تاکہ عدل و انصاف سے ان کا حق انہیں مل جائے"۔ 


 

22 اپریل، 2014

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا


یعقوب بن جعفر بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ عموریہ کی جنگ میں وہ معتصم کے ساتھ تھے۔ عموریہ کی جنگ کا پس منظر بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ ایک پردہ دار مسلمان خاتوں عموریہ کے بازار میں خریداری کے لیے گئی۔ ایک عیسائی دوکاندار نے اسے بےپردہ کرنے کی کوشش کی اور خاتوں کو ایک تھپڑ رسید کیا۔۔ لونڈی نے بے بسی کے عالم میں پکارا۔۔۔
”وا معتصما !!!! “
ہائے معتصم ! میری مدد کے لیے پہنچو۔ سب دوکاندار ہنسنے لگے، اسکا مزاق اڑانے لگے کہ سینکڑوں میل دور سے معتصم تمہاری آواز کیسے سنے گا؟۔۔۔ ایک مسلمان یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا: میں اس کی آواز کو معتصم تک پہنچاؤں گا، وہ بغیر رکے دن رات سفر کرتا ہوا معتصم تک پہنچ گیا اور اسے یہ ماجرا سنایا۔ یہ سننا تھا کہ معتصم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا ۔ وہ بے چینی سے چکر چلانے لگا اور اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر اونچی آواز میں چلانے لگا: میری بہن میں حاضر ہوں۔ میری بہن میں حاضر ہوں۔

اس نے فورا لشکر تیار کرنے کا حکم دے دیا۔۔ مسلمانوں کی آمد سے خوفزدہ ہو کر رومی قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔ ایک بدبخت رومی ہر روز فصیل پر نمودار ہوتا اور رسول اکرم صلّی الله علیه و آله و سلّم کی شان میں گستاخی کرتا۔ مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ وہ اتنے فاصلے پر تھا کہ مسلمانوں کے تیر وہاں تک نہ پہنچ پاتے۔ مجبورا اسے اس کے انجام سے دوچار کرنے کے لیے قلعہ فتح ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔ جبکہ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اسے ایک لمحے سے پہلے جہنم رسید کر دیا جائے۔

یعقوب بن جعفر کہنے لگے: ان شا اللہ میں اسے واصل جہنم کروں گا ۔ انہوں نے تاک کر ایسا تیر مارا جو سیدھا اس کی شاہ رگ میں گھس گیا۔ وہ تڑپا، گرا اور وصل جہنم ہو گیا۔ مسلمانوں نے بلند آواز سے الله اکبر کہا اور ان میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ معتصم بھی بہت خوش ہوا۔اس نے کہا: تیر مارنے والے کو میرے پاس لایا جائے۔ یعقوب بن جعفر معتصم کے پاس پہنچے تو اس نے کہا:
گستاخ رسول کو جہنم رسید کرنے کے عمل کا ثواب مجھے فروخت کر دیں۔
میں نے کہا: امیرالمومنین ! ثواب بیچا نہیں جاتا۔
وہ کہنے لگا: اگر آپ آمادہ ہوں تو میں ایک لاکھ درہم دینے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے کہا میں ثواب نہیں بیچوں گا۔
وہ مالیت بڑھاتا رہا۔۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے پانچ لاکھ درہم کی پیشکش کر دی۔
میں نے کہا اگر آپ ساری دنیا بھی دے دیں تب بھی میں ثواب فروخت نہیں کروں گا البتہ میں آپ کو اس نصف ثواب تحفے میں دیتا ہوں اور اس بات کی گواہ اللہ پاک کی ذات ہے۔ معتصم کہنے لگا: الله آپ کو اس کا اعلیٰ بدلہ عطا فرمائے میں راضی ہوں۔

ماخوز
دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے اوراق :  عبدالمالک مجاہد  ص 267



25 مارچ، 2014

شہزادوں کی عید


عید الفطر کی چاندنی رات تھی، ہر سو خوشیاں بکھر رہی تھیں ، گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں ، ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا،  روزہ دار خدا کا شکر ادا کررہے تھے، کہ انہیں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی ، بچے صبح عید کا انتظا رکر رہے تھے، ان کے چہرے خوشی وشادمانی سے دمک رہے تھے، ابھی سے صبح عید کے لیے نئے نئے کپڑوں کو ترتیب دیا جارہا تھا، محلہ میں خوشی ومسرت کا ایک شور تھا، شہر دمشق روشنیوں سے جگ مگا رہا تھا، ہر دکان ومکان مسرت وشادمانی کا گہوارہ بنا ہوا تھا، کہ ایسے میں امیر المومنین اور مسلمانوں کے بادشاہ کا معصوم وخوب صورت بچہ دوڑتا ہوا حرم سرا میں آیا اور اپنی ماں سے لپٹ کر، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

ماں اس خوشی کے موقع پر اپنے لخت جگر کو اس طرح روتا دیکھ کر تڑپ اٹھی ، گھبرائے ہوئے اپنے آنچل سے بیٹے کے آنسو پونچھے اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے گویا ہوئیں”میرے پیارے بیٹے، میری آنکھوں کے نور! کیوں روتے جارہے ہو ؟“

لیکن بچہ مسلسل روتا جاتا ہے ، ماں پوچھتی ہے ” کیا کوئی تکلیف ہے؟“

شہزادہ روتے ہوئے کہتا ہے ”نہیں“ ۔

کسی نے مارا ہے؟

”نہیں“

”تو پھر کیوں روتے ہو؟“ ماں پیار سے بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اور تسلی دیتے ہوئے کہتی ہے ” دیکھو! آج تو خوشی کا دن ہے کل عید المبارک ہے، تم اپنے ابا امیر المومنین کے ساتھ عید گاہ جاؤ گے ، اپنے ہم عمر دوستوں سے ملو گے۔“

ماں کا یہ جملہ سن کر بچہ او رپھوٹ پھوٹ کر روتا ہے، لیکن اس بار روتے ہوئے وہ کہتا ہے” امی جان! میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ کل عید کا دن ہے ، سب بچے اچھے اچھے اور نئے نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، لیکن آپ نے کہا ہے کہ ہمیں عید کے لیے یہی پرانے کپڑے دھلوا دیں گی۔ کیا ہم یہی پرانے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے ، نہیں امی جان! ہمیں بڑی شرم آئے گی ، ہم ابا کے ساتھ عید پڑھنے نہیں جائیں گے۔ “ اپنا دکھڑا بیان کرکے شہزادہ اور بلک بلک کر رونے لگا۔

اپنے نورِ نظر اور لخت جگر کویوں بلکتا دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں موتی چھلک آئے ، بیٹے کو اپنے گلے سے چمٹا لیا او ربڑے ضبط کے ساتھ کہا ”میرے لال یہ کون سی رونے کی بات ہے ؟ تم اپنے کو اس طرح ہلکان مت کرو، امیر المومنین کو گھر آنے دو، میں ان سے کہہ کر تمہارے لیے آج رات ہی نئے او راچھے کپڑے بنوا دوں گی ، تم انہیں پہن کراپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے کھیلنا ، اماں کی تسلی بھری خوش خبری سن کر شہزادے کی آنکھیں خوشی سے دمکنے لگیں اور وہ کھلکھلا کر ہنستے ہوئے میری اچھی وپیاری امی کہہ کر اپنی ماں یعنی ملکہ عالیہ سے لپٹ گیا۔

تھوڑی دیر بعد امیر المومنین جب اُمور سلطنت سے فارغ ہو کر گھر تشریف لائے تو رفقیہ حیات اور ملکہ سلطنت بیٹے کی آرزو اور رونے کا ماجرا سناتے ہوئے بیٹے کی ترجمانی کے انداز میں گویا ہوئیں ” سب بچے کل عید کے دن نئے کپڑے پہنیں گے ۔ لیکن خلیفہ وقت کے فرزند پرانے کپڑے پہنیں گے ، کیا انہیں شرم نہیں آئے گی ان کی خوشی اداسی میں تبدیل نہیں ہو گی؟“

شہزادہ کی آواز اور ملکہ کی گفتگو سن کر امیر المومنین نے جواب دیا، فاطمہ! تمہیں تو معلوم ہے کہ میں دو درہم روزانہ کا مزدور ہوں ، اس قلیل رقم میں کھانے پینے کا گزارہ کرنا ہی مشکل ود شوار ہے ، چہ جائیکہ دیگر اخراجات“!

فاطمہ بولیں” لیکن بچے تو نہیں مانتے، وہ تو ضد کرتے ہیں کہ نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، ورنہ نہیں ۔“

امیر المومنین نے کہا کہ ” اچھا ایسا کرو، اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہو تو اسے فروخت کرکے بچوں کی ضد اور آرزو پوری کردو“ امیر المومنین کا جواب سن کر ملکہ وقت کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، بولیں ”یا امیر المومنین جس دن آپ تخت خلافت پر بیٹھے تھے، میرا تو ایک ایک زیور علیحدہ کرکے آپ نے بیت المال میں جمع کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ زیور غریب اور مسکین لوگوں کا حق ہے،
بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا ، بھلا اس کے بعد میرے پاس کیا جمع ہے اور آپ تو خود جانتے ہیں  کہ اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“


بادشاہ وقت اپنی بیوی کی باتیں سن کر خاموش ہو گئے اور سر جھکا کر سوچتے رہے، پھر سر اٹھایا، چہرے پر ہلکی سی شادابی آئی ، خادم کے ذریعہ بیت المال کے نگران، یعنی وزیر خزانہ کو ایک حکم نام بھجوایا کہ ” ہمارا ایک ماہ کا حق خلافت ( تنخواہ) پیشگی بھیج دو“۔

تھوڑی دیر بعد خادم واپس آیا مگر اس کے ہاتھ میں رقم کے بجائے وزیر خزانہ کا جوابی خط تھا، خط کیا تھا؟ امیر المومنین کی نظریں تحریر میں گڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں، لکھا تھا ”امیر المومنین! آپ کا غلام آپ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے حاضر ہے، لیکن امیر المومنین آپ کو یہ کیوں کر یقین ہوا کہ آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں اور جب یہ یقین نہیں کیا جاسکتا تو پھر غریبوں کے مال کا حق کیوں پیشگی اپنی گردن پر رکھتے ہیں؟!“

خط پڑھ کر امیر المومنین پر لرزہ طاری ہو گیا، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کپکپاتی ہوئی آواز میں گویا ہوئے ” فاطمہ ! والله بیت المال کے وزیر خزانہ نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔“

دوسرے دن دمشق کے بازار رنگ ونور میں ڈوبے ہوئے عید کا حسین منظر پیش کر رہے تھے ، بوڑھے جوان اور بچے سب عمدہ لباس زیب تن کیے دو گانہ عید ادا کرنے عید گاہ کی طرف رواں دواں تھے، امیر المؤمنین، خلیفة المسلمین، حاکم وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ پیادہ ہی عید گاہ تشریف لے جارہے تھے، گو کہ آپ کے بچوں نے نئے کپڑے نہیں پہنے ہوئے تھے، تاہم وہ خوش تھے ، ان کے چہرے روحانی مسرت اور صبر وشکر کی روشنی سے منور تھے، ان کی پیشانی ایمانی نور سے دمک رہی تھی۔

اس لیے کہ رات کو باپ نے انہیں سمجھایا تھا کہ جو بچے دنیا میں صبر وشکر کے ساتھ پرانے کپڑے پہن لیتے ہیں تو الله تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں نئے واعلیٰ کپڑے پہنائے گا، جو کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور وہ خوشی عطا کرے گا جو دائمی ہو گی، جسے نہ تو کوئی چھین سکے گا اور نہ ہی وہ غم میں تبدیل ہو گی ۔

  حالانکہ یہی عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر متمکن ہونے سے قبل انتہائی تنعم وراحت کی زندگی بسر کرتے تھے ، جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کا موقع نہیں ملتا تھا، وہ جس راستے سے گزرتے خوشبوؤں سے معطر ہو جاتا، لیکن خلافت کابارِ گراں اٹھانے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو ابوہریرہ کے قالب میں ڈھال کر آنے والے تمام مسلم حکمرانوں کے لیے ایک زندہ وجاوید مثال قائم کر دی ، جب حکمران اتنا سادہ وخدا ترس ہو تو اس کی اولاد اور ماتحت کیوں نہ متقی وپرہیز گار بنے گی؟ یہ اصول ہے کہ ہر بلند چیز کا سایہ اس کے نیچے پڑتا ہے ، اگر حکمران مخلص، ایمان دار ، خدا ترس ، قانون کے پابند اور حقیقی خدا کے نائب بن جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے ماتحت بھی ایمانی وقرآنی صفات سے بھرپور نہ ہوں۔

مگر آج عالم یہ ہے ، خصوصاً اسلامی مملکت پاکستان کی صورت حال تو ہم سب پر آشکارا ہے کہ آج طویل مدت گذرنے کے بعدبھی اسلام کے نام پر حاصل کرنے والے ملک میں اسلام کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا جاتارہا ہے ،انتہا تو یہ کہ ہر آنے والے حکمران نے اپنے اقتدار کے طول او رکرسی کی حفاظت کے لیے اسلام ہی کو بازیچہ اطفال بنایا، اپنی ہر من مانی کو اسلام کا نام دے کر مسلمانوں اور یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی اسلام سے خوف زدہ کیا گیا ہے۔

یہ اسلام پر چلنے ہی کی برکت تھی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ کے دو رمیں شیر وبکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگے تھے، مگر آج ایک ہی پلیٹ میں دو مسلمان ایک ساتھ کھانا کھانا گوارا نہیں کرتے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ اور ان جیسے دیگر مسلم حکمرانوں نے شاید ہی اپنی پوری زندگی اور دورِ حکومت میں اپنے اور اپنے خاندان پر اتنا خرچ کیا ہو گا، جتنا آج مسلم حکمران خصوصاً پاکستانی حکمران صرف اپنی ذات پر، عیش وعشرت کے کام پرایک دن  میں دولت خرچ کرتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ پہلے بیت المال کو عوام الناس کا حق سمجھا جاتا تھا، آج حکمران اسے اپنا ذاتی خزانہ سمجھتے ہیں۔


ایک تھکا دینے والا امتحان

 
 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔

ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بُڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟
بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟

بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔

حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، تو نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔


روضۃ المُحبین و نزھۃ المشتاقین-ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ
 

13 مارچ، 2014

روز محشر بھی میرا بوجھ اٹھاؤ گے


رات کی تاریکی میں چاروں طرف سناٹا چھا چکا تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں چلتا چلتا تین میل دور نکل آیا تھا۔ اچانک اسے ایک طرف آگ جلتی نظر آئی تو وہ اسی طرف ہو لیا۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک عورت چولہے پر ہنڈیا رکھے کچھ پکا رہی ہے اور قریب دو تین بچے رو رہے ہیں۔ عورت سے صورت حال دریافت کرنے پر اسے علم ہوا کہ یہ اس عورت کے بچے ہیں جو اشیا خوردو نوش کی عدم دستیابی کے باعث کئی پہر سے بھوکے ہیں اور وہ محض ان کو بہلا کر سلانے کے لیے ہنڈیا میں صرف پانی ڈال کر ہی ابالے جا رہی ہے۔ یہ سنتے ہی اس طویل قامت شخص کے بارعب چہرے پر تفکرات کے آثار امڈ آئے۔ وہ یک دم واپس مڑا اور پیدل ہی چلتا ہوا اپنے ٹھکانہ پر پہنچا۔ کچھ سامان خورد و نوش نکال کر اپنے خادم سے کہا سامان کی گٹھڑی میری پیٹھ پر لاد دو خادم نے جوابا کہا کہ میں اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتا ہوں مگر طویل قامت اور بارعب شخصیت نے کہا روز محشر بھی میرا بوجھ اٹھاو گے، مجھے اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہے۔ المختصر یہ کہ اس نے اپنی پشت پر سامان لادا اور پیدل ہی تین میل کا فاصلہ طے کر کے اس ضرورت مند عورت اور اس کے بھوک سے بے تاب بچوں کو وہ سامان دیا۔ جب تک بچوں نے کھانا کھا نہیں لیا تب تک وہیں بیٹھا رہا۔ پھر بچوں کو کھاتا دیکھ کر رات کی تاریکی ہی میں خوشی سے واپس آ گیا۔ طویل قامت اور بارعب شخصیت کو امت مسلمہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے جو عموما رات کو رعایا کے احوال سے آگاہی کے لیے گشت کیا کرتے تھے۔

آپ کا اسم گرامی عمر، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب مبارک نویں پشت پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔ آپ کی ولادت عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی اور آپ ستائیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ چوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے لیے بہت دعا فرمایا کرتے تھے اس لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اپنی جگہ سے چند قدم آگے چل کر آپ کو گلے لگایا اور آپ کے سینہ مبارک پر دست نبوت پھیر کر دعا دی کہ اللہ ان کے سینہ سے کینہ و عداوت کو نکال کر ایمان سے بھر دے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام پر مبارک باد دینے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے اسلام کی شوکت و سطوت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور مسلمانوں نے بیت اللہ شریف میں اعلانیہ نماز ادا کرنا شروع کر دی۔ آپ وہ واحد صحابی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اعلانیہ اسلام قبول کیا اور اعلانیہ ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے موقع پر طواف کعبہ کیا اور کفار مکہ کو للکار کر کہا کہ میں ہجرت کرنے لگا ہوں یہ مت سوچنا کہ عمر چھپ کر بھاگ گیا ہے، جسے اپنے بچے یتیم اور بیوی بیوہ کرانی ہو وہ آکر مجھے روک لے۔ مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کے آپ کے مقابل آتا۔

ہجرت کے بعد سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رہے۔ غزو بدر میں اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ غزو احد میں انتشار کے باوجود اپنا مورچہ نہیں چھوڑا۔ غزو خندق میں خندق کے ایک طرف کی حفاظت آپ کے سپرد تھی بعد ازاں بطور یادگار یہاں آپ کے نام پر ایک مسجد تعمیر کی گئی۔ غزو بنی مصطلق میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک کافر جاسوس کو گرفتار کر کے دشمن کے تمام حالات دریافت کر کے اسے قتل کر دیا تھا اس وجہ سے کفار پر دہشت طاری ہوگئی۔ غزو حدیبیہ میں آپ مغلوبانہ صلح پر راضی نہ ہوتے تھے مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے سرِ تسلیم خم کیا۔ اور جب سور فتح نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ سورت سنائی کیوں کہ اس میں بڑی خوش خبری اور فضیلت آپ رضی اللہ عنہ ہی کے لیے تھی۔ غزوہ خیبر میں رات پہرے کے دوران ایک یہودی کو گرفتار کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ اس سے حاصل شدہ معلومات فتح خیبر کا ایک اہم سبب ثابت ہوئیں۔ غزو حنین میں مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم کی سرداری حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مرحمت کی گئی۔ فتح مکہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کعبہ میں عمرہ یا طواف کی اجازت طلب کی تو نبی علیہ السلام نے اجازت کے ساتھ فرمایا اے میرے بھائی!اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک جملہ کے عوض اگر مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو میں خوش نہ ہوں گا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کفر و نفاق کے مقابلہ میں بہت جلال والے تھے اور کفار و منافقین سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی و منافق کے مابین حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا مگر منافق نہ مانا اور آپ رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کے لیے کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو جب علم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بعد یہ آپ سے فیصلہ کروانے آیا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر کے فرمایا جو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں مانتا میرے لیے اس کا یہی فیصلہ ہے۔ کئی مواقع پر جو رائے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ظاہر فرمائی قرآن کریم کی آیات مبارکہ اس کی تائید میں نازل ہوئیں۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے پردہ، قیدیانِ بدر، مقامِ ابراہیم پر نماز، حرمتِ شراب، کسی کے گھر میں داخلہ سے پہلے اجازت، تطہیرِ سیدہ عائشہ رضی اللہ جیسے اہم معاملات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے، مشورہ اور سوچ کے موافق قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں۔ علما و فقہا کے مطابق تقریبا 25 آیات قرآنیہ ایسی ہیں جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تائید میں نازل ہوئیں۔

جب آپ تخت خلافت اسلامیہ پر متمکن ہوئے تو اعلان فرما دیا کہ میری جو بات قابل اعتراض ہو مجھے اس پر برسرِعام ٹوک دیا جائے۔ امیرالمومنین کا لفظ سب سے پہلے آپ ہی کے لیے استعمال ہوا۔ اپنی خلافت میں رات کو رعایا کے حالات سے آگاہی کے لیے گشت کیا کرتے تھے۔ اپنے دورِ خلافت میں اپنے بیٹے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کا وظیفہ 3 ہزار مقرر کیا جب کہ حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا 5،5 ہزار اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا 4 ہزار وظیفہ مقرر کیا۔ آپ نے 17 ہجری میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور 40 ہزار درہم مہر ادا فرمایا۔

آپ نے اپنے حکام کو باریک کپڑا پہننے، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھانے اور دروازے پر دربان رکھنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔ مختلف اوقات میں اپنے مقرر کردہ حکام کی جانچ پڑتال بھی کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ملک شام تشریف لے گئے اس وقت حاکم شام سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے عمدہ لباس پہنا ہوا تھا اور دروازہ پر دربان بھی مقرر کیا ہوا تھا۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ چونکہ یہ سرحدی علاقہ ہے اور یہاں دشمن کے جاسوس بہت ہوتے ہیں اس لیے میں نے ایسا کیا ہوا ہے تا کہ دشمنوں پر رعب و دبدبہ رہے۔ یہ معقول جواب سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مطمئن ہو گئے۔

اپنے دور خلافت میں مصر، ایران، روم اور شام جیسے بڑے ملک فتح کیے۔ 1 ہزار 36 شہر مع ان کے مضافات فتح کیے۔ مفتوحہ جگہ پر فورا مسجد تعمیر کی جاتی۔ آپ کے زمانہ میں 4 ہزار مساجد عام نمازوں اور 9 سو مساجد نماز جمعہ کے لیے بنیں۔ قبل اول بیت المقدس بھی دور فاروقی میں بغیر لڑائی کے فتح ہوا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فاروقی حکم سے جب بیت المقدس پہنچے تو وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا کہ ہماری کتابوں کے مطابق فاتح بیت المقدس کا حلیہ آپ جیسا نہیں لہذا آپ اسے فتح نہیں کر سکتے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط میں صورت حال لکھ بھیجی اور پھر جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیت المقدس آمد پر چابیاں آپ کے حوالہ کی گئیں کیوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ کا حلیہ مبارک اپنی کتابوں کے مطابق پا لیا تھا۔ انہی سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فتح مصر کے بعد ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بذریعہ خط اطلاع دی کہ دریائے نیل ہر سال خشک ہو جاتا ہے اور لوگ ہر سال ایک خوب رو دوشیزہ کی بھینٹ چڑھاتے ہیں تو دریا میں پانی اتر آتا ہے۔ تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جوابا ایک خط تحریر فرماکر روانہ کیا کہ یہ خط دریا کی ریت میں دبا دیا جائے۔ جیسے ہی خط دبایا گیا تو دریائے نیل میں پانی چڑھ آیا بلکہ پہلے سے چھ گنا زیادہ پانی ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خط کا مضمون یہ تھا کہ اے دریا! اگر تو اپنی مرضی سے بہتا ہے تو ہمیں تیری کوئی حاجت نہیں اور اگر تو اللہ کی مرضی سے بہتا ہے تو بہتا رہ۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا "اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔" جامع ترمذی، ج 2 ، ص 563
ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔"صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880
مزید ایک موقع پر فرمایا " اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کر دیا ہے۔

کئی قرآنی وعدے اور نبوی خوش خبریاں آپ رضی اللہ عنہ ہی کے دور خلافت میں پوری ہوئیں۔ فاروقی دورخلافت میں اسلامی سلطنت 22 لاکھ مربع میل کے وسیع رقبہ پر محیط تھی۔ پولیس کا محکمہ بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی نے قائم فرمایا تھا۔ کئی علاقوں میں قرآن اور دینی مسائل کی تعلیمات کے لیے حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابی ابن کعب، حضرت ابوالدردا، حضرت سعد اور حضرت ابو موسی اشعری وغیرہ جیسے اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مقرر فرمایا۔ آپ کا دور خلافت بہت مبارک اور اشاعت و اظہار اسلام کا باعث تھا۔ 27 ذی الحجہ بروز بدھ ایرانی مجوسی ابو لل فیروز نے نماز فجر کی ادائیگی کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خنجر مار کر شدید زخمی کر دیا۔ اور یکم محرم الحرام بروز اتوار اسلام کا یہ بطلِ جلیل، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاوں کا ثمر، اسلامی خلافت کا تاج دار 63 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ روضہ نبوی میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیف بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبروں کے ساتھ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک بنائی گئی۔

6 مارچ، 2014

امیر المومنین کی چوکیداری کے دوران پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے خلافت کے زمانہ میں بسا اوقات رات کو چوکیدار کے طور پر شہر کی حفاظت بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی حالت میں ایک میدان میں گذر ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ ایک خیمہ لگا ہوا ہے جو پہلے وہاں نہیں دیکھا تھا۔ اس کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک صاحب وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور خیمہ سے کچھ کراہنے کی آواز آرہی ہے۔ آپ سلام کر کے ان صاحب کے پاس بیٹھ گئے اور دریافت کیا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا ایک مسافر ہوں جنگل کا رہنے والا ہوں۔ امیر المومنین کے سامنے کچھ اپنی ضرروت پیش کر کے مدد چاہنے کے واسطے آیا ہوں۔

آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ خیمہ میں سے آواز کیسی آرہی ہے۔ ان صاحب نے کہا میاں جائو اپنا کام کرو۔ آپ نے اصرار فرمایا کہ نہیں بتادو کچھ تکلیف کی آواز ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ میری بیوی ہے اور بچے کی ولادت کا وقت قریب ہے، آپ نے دریافت فرمایا کہ کوئی دوسری عورت بھی پاس ہے۔ اس نے کہا کوئی نہیں۔ آپ وہاں سے اٹھے، اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی بیوی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ایک بڑے ثواب کی چیز مقدر سے تمہارے لئے آئی ہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا ہے آپ نے سارا واقعہ بتایا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا ہاں ہاں تمہاری صلاح ہو تو میں تیار ہوں۔

حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ ولادت کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہو لے لو اور ایک ہانڈی اور کچھ گھی اور دانے وغیرہ بھی ساتھ لے لو، وہ لے کر چلیں۔ حضرت عمر رضی الله عنہ خود پیچھے پیچھے ہو لیے وہاں پہنچ کر حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا تو خیمہ میں چلی گئیں اور آپ نے آگ جلا کر اس ہانڈی میں دانے ابالے، گھی ڈالا اتنے میں ولادت سے فراغت ہوگئی۔ اندر سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے آواز دے کر عرض کیا۔ امیر المومنین! اپنے دوست کو لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دیجئے۔

امیر المومنین کا لفظ جب ان صاحب کے کان میں پڑا تو وہ بڑے گھبرائے۔ آپ رضی الله عنہ نے فرمایا گھبرانے کی بات نہیں۔ وہ ہانڈی خیمہ کے پاس رکھ دی اور اپنی بیوی سے کہا کہ اس عورت کو بھی کچھ کھلا دیں۔ انہوں نے تھوڑی دیر بعد بانڈی باہر دے دی۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے اس بدو سے کہا کہ لو تم بھی کھائو۔ رات بھر تمہاری جاگنے میں گذر گئی۔ اس کے بعد اہلیہ کو ساتھ لے کر گھر تشریف لے آئے اور ان صاحب سے فرما دیا کہ کل تمہارے لئے انتظام کر دیا جائے گا۔

(حیات الصحابہ)




5 مارچ، 2014

کبھی نہ بھولنے والی کامیابی

رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ہر طرف اپنے سائے پھیلائے ہوئے تھے۔ ایسے میں ایک شخص قلعے کی دیوار سے رسا لٹکائے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جس قدر اپنی منزل کے قریب آرہا تھا، اسی قدر طرح طرح کے اندیشے اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔
"کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعے والے مجھے دیکھ لیں اور تیر مار کر راستے ہی میں میرا قصہ تمام کر دیں۔۔۔۔ کہیں نیچے اترتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میرے خون سے رنگین نہ ہو جائیں۔"

یہ تھے وہ خدشات جو اس کے دل و دماغ میں شدت سے گونج رہے تھے۔ پھر جوں ہی اس نے زمین پر قدم رکھا مجاہدین نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کا یہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا کہ مسلمان مجاہد رات کے اندھیرے میں قلعے سے بے خبر ہوں گے۔ اترنے والے نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اسے لشکر کے سپہ سالار کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وہ سپہ سالار کون تھے؟ وہ اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مجاہدین کی مٹھی بھر فوج کے ساتھ ملک شام کے دارالسلطنت دمشق کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ دن پر دن گزرتے جا رہے تھے مگر قلعہ تھا کہ کسی طور فتح ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ مجاہدین کو ایک دو دن کے آرام کا وقفہ دے کر وہ یا تو قلعے کے دروازے توڑنے کی کوشش کریں گے یا اس کی مضبوط دیواروں میں سرنگ لگانے کی ترکیب آزمائیں گے۔ انھیں یہ بھی یقین تھا کہ اللہ کی غیبی مدد ضرور آئے گی۔

اب یہ غیبی مدد آ پہنچی تھی! دمشق کے قلعے سے نیچے اترنے والے نوجوان نے مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی یہ خواہش فوراً پوری کر دی گئی۔ اس نے دعوی کیا کہ وہ مجاہدین کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہے۔ اس کے مطابق کل رات رومیوں پر حملے کا بہترین موقع ہے۔ ان کے مذہبی رہنما "بطریق" کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور پورا دمشق جشن منا رہا ہے۔ اس جشن میں فوج سمیت سب شراب پئیں گے اور یہی ان پر فیصلہ کن وار کرنے کا موقع ہو گا۔ اگلی رات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے۔ انھوں نے نہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور دوسرے ماتحت سالاروں کو اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا تھا اور نہ ہی وہ کوئی زیادہ فوج اپنے ہمراہ لے جا رہے تھے۔ وہ یہ کام انتہائی رازداری سے کرنا چاہتے تھے۔ صرف ایک سو مجاہد جنگجوؤں کو قلعے پر شب خون مارنے کے لیے منتخب کیا گیا۔

سب سے پہلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، پھرمسلمان ہونے والا عیسائی نوجوان یونس بن مرقس، پھر قعقاع اور آخر میں سو مجاہد کمندوں کے ذریعے سے مشرقی دروازے کی طرف سے قلعے کے اندر داخل ہوگئے۔ انتہائی خطرے کا مرحلہ قریب آ چکا تھا۔ جوں ہی وہ دیوار سے اترے انھیں رومی فوجیوں کی باتیں سنائی دیں۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے کہنے پر یونس بن مرقس نے رومی زبان میں بارعب لہجے کے ساتھ ان رومی فوجیوں کو کہا:
"آگے چلو!" رومی پہرے دار سمجھے کہ یہ حکم ان کے کسی افسر نے دیا ہے۔ وہ دروازے پر اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھتے گئے۔ اتنے میں مجاہد تیار ہو چکے تھے۔ انھوں نے پہرے داروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور آناً فاناً ان کا قصہ تمام کر دیا۔ راہ میں آنے والے ہر رومی پہرے دار سے یہی سلوک کیا گیا اور آخر کار بہت سی زنجیروں اور بھاری بھرکم تالوں سے بند دروازہ کھول دیا گیا۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا اپنا دستہ اس کے لیے پہلے سے تیار کھڑا تھا۔ وہ قلعے میں داخل ہوگیا اور رومی فوج کے دستوں کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بہادری کے بے مثال جوہر دکھاتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ رومی دستے بھی اسلامی سپاہیوں کے آگے ڈٹ گئے مگر خالد رضی اللہ عنہ کا دستہ ان پر آہستہ آہستہ غالب آتا جا رہا تھا۔ غروب آفتاب تک مسلمان اس جنگ کو تقریباً جیت چکے تھے۔ مسلمان سپاہی اب آگے بڑھے تو حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ اب ان کے سامنے کوئی رومی سپاہی نہیں آ رہا تھا۔ انھوں نے اسے دشمن کی چال سمجھا اور پھونک پھونک کر قدم بڑھانے لگے۔ جب وہ مرکزی گرجے کے پاس پہنچے تو وہاں سے اس کہانی کے ایک نئے موڑ کا آغاز ہوا۔

خالد رضی اللہ عنہ اپنے دستے کے ساتھ گرجے کی طرف آ نکلے تو سامنے ایک حیرت انگیز منظر تھا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نہایت پر امن انداز میں سامنے سے آرہے تھے۔ ان سب کی تلواریں نیام میں تھیں اور رومی سپہ سالار "توما" اور اس کے خاص آدمی ان کے ساتھ تھے۔

"اے پروردگار! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟" خالد رضی اللہ عنہ کے خیالات اس وقت یقینا" یہی ہوں گے۔ دونوں نامور سپہ سالار خاصی دیر تک ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھتے رہے۔ آخر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سکوت توڑا اور بولے:

"ابوسلیمان! (خالد رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا تم اللہ کا شکر ادا نہیں کرو گے کہ اس کی ذات نے یہ شہر ہمیں بغیر لڑے عنایت کر دیا ہے؟"

خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: "کس صلح کی بات کرتے ہیں، ابو عبیدہ؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ میں نے لڑ کر یہ شہر حاصل کیا ہے۔ اللہ کی قسم! میں خود شہر میں داخل ہوا ہوں۔ میں نے تلوار چلائی ہے اور میرے ساتھیوں پر تلوار چلی ہے، وہ شہید ہوئے ہیں۔ میں رومیوں کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ وہ خیر و عافیت سے شہر سے چلے جائیں۔ ان کا خزانہ اور مال ہمارا مال غنیمت ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ صلح کس نے اور کیوں کی ہے؟"

ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "ابو سلیمان! میں اور میرے دستے پرامن طریقے سے قلعے میں داخل ہوئے ہیں۔ اگر آپ میرے فیصلے کو رد کرنا چاہیں تو کر دیں لیکن میں دشمن سے معافی کا وعدہ کر چکا ہوں۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو رومی کہیں گے کہ مسلمان اپنے وعدوں کی پاس داری نہیں کرتے۔ اس کی زد اسلام ہی پر پڑے گی۔"

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ننگی تلوار سے ابھی بھی خون ٹپک رہا تھا۔ ان کے ساتھیوں کا بھی یہی حال تھا۔ ان میں کئی زخمی بھی تھے۔ انھوں نے پورا دن لڑ کر فتح حاصل کی تھی۔ مگر یہ صلح کیوں اور کیسے؟ اس بات کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔

پھر خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ساری سازش سمجھ گئے۔ وہ یہ کہ خالد رضی اللہ عنہ کے حملے کی خبر رومیوں کو بر وقت ہوگئی اور وہ یہ جان گئے کہ ان کی مدہوش اور شراب کے نشے میں دھت فوج مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اسی لیے انھوں نے فوراً لشکر کے دوسرے سالار ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ چونکہ خالد رضی اللہ عنہ کے شب خون سے ناواقف تھے اور قلعے کے طویل محاصرے سے پریشان بھی تھے، اس لیے انھوں نے صلح کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور رومیوں کو امان دے دی۔

یہ احساس ہوتے ہی چند مجاہد توما اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے لپکے۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہوتے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ لپک کر ان کے بیچ میں آ گئے اور فرمایا:
"خبردار! میں ان کی جان بخشی کا عہد کر چکا ہوں۔"
خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے جاں باز ساتھی غصے سے بپھر رہے تھے۔ وہ کسی طور رومیوں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے اس قلعے کو نہایت خطرناک مراحل سے گزر کر حاصل کیا تھا۔ اب وہ اپنی کامیابی کو یوں سازش کی نظر ہوتا دیکھ کر صبر نہیں کر پا رہے تھے۔

اب ایک طرف عہد کی پاس داری کا معاملہ تھا اور دوسری طرف مجاہدوں کی قربانیاں! ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اگرچہ لشکر کے سالار اعلی نہیں تھے، ان کے عہد کی پابندی خالد رضی اللہ عنہ کے لیے ضروری نہیں تھی مگر وہ مسلمان تو تھے اور وہ بھی نہایت ممتاز!
آخر جوش ہارگیا، غصے کو ناکامی ہوئی، عہد کی پاس داری ہوئی اور شیطان کو شکست!
خالد رضی اللہ عنہ نے بطور سالار اعلی تاریخی فیصلہ کیا۔۔۔۔ یہ فیصلہ تھا عہد کی پاس داری کا! وہ نہیں چاہتے تھے کہ اسلامی تاریخ پر عہد شکنی کا داغ لگے۔

پھر جب رومی اپنا مال و دولت، اپنی جانیں، سب کچھ بچا کے لے جا رہے تھے، تو خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی دل پر پتھر رکھ کر انھیں جاتا دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہی رومی اسی اسلحے اور اسی مال کے ساتھ کسی دوسری جگہ ان کے ساتھ جنگ لڑیں گے۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انھوں نے اسلام کے سچے اور بااصول مجاہدین ہونے کا انمٹ ثبوت دے دیا ہے، عہد کی پاس داری کی اسلامی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اور یہ ان کی نہایت عظیم کامیابی تھی۔۔۔۔ کبھی نہ بھولنے والی کامیابی!


26 فروری، 2014

اصلی مساوات


سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں ایک دفعہ مدینہ اور اس کے ارد گرد قحط سالی ہو گئی۔ ہوا چلتی تو ہر طرف خاک اڑتی نظر آتی ۔ چنانچہ اس سال کو ”عام الرمادة “ یعنی خاک اڑنے کا سال کہا گیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے قسم کھائی کہ گھی، دودھ اور گوشت اس وقت تک استعمال نہیں کریں گے جب تک لوگ پہلے جیسی زندگی پر نہ لوٹ آئیں۔ایک دفعہ بازار میں گھی کا ایک ڈبہ اور دودھ کا کٹورا بکنے کے لیے آیا۔کسی خادم نے سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے لیے یہ چیزیں چالیس درہم میں خرید لیں اور عرض کیا: امیر المومنین! الله نے آپ کی قسم پوری فرما دی ہے ۔ الله تعالیٰ آپ کو زیادہ اجر سے نوازے! ہم نے آپ کے لیے یہ اشیائے خوردنی خریدی ہیں قبول فرمائیے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا! تم نے میرے لیے اتنے مہنگے داموں یہ چیزیں کیوں خریدیں؟ جاؤ! انہیں صدقہ کر دو۔ میں کھانے میں اسراف ہرگز پسند نہیں کرتا، پھر فرمایا: مجھے عوام کے دکھ کا اس وقت تک صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا جب تک خود میں بھی انہی حالات سے نہ گزروں جن حالات سے عوام گزر رہے ہیں۔

پھر ایک موقع ایسا آیا کہ مہنگائی ہو گئی۔خاص طور پر گھی مہنگا ہو گیا۔لوگوں کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا، عام لوگوں کے ساتھ سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بھی گرانی کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے گھی کھاناموقوف کر دیا۔ عام خوردنی تیل پر گزارا کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں ان کا پیٹ خراب ہو گیا۔ ایک دفعہ پیٹ سے گڑ گڑ کی آواز آئی تو پیٹ کو مخاطب کر کے فرمایا:
"تم گڑگڑ کرو یا خاموش رہو، تم گھی مانگتے ہوگے۔ الله کی قسم! جب تک سب میری رعایا کے لوگ گھی نہ کھا سکیں گے تجھے بھی میسر نہیں ہو گا۔"
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اﷲ عنہ آپ کی بات سن کر وہاں سے نکل آئے۔ آپ روتے جاتے اور کہتے جاتے:
”اے عمر ! تمہارے بعد لوگ برباد ہو جائیں گے، تمہارے بعد لوگ برباد ہو جائیں گے(یعنی آپ جیسی متوازن اور مثالی شخصیت کہاں سے لائیں گے۔) “
(مناقب امير المؤمنين لابن الجوزي: ص 101)
(الطبقات الکبریٰ: 218/3)


16 فروری، 2014

صاحب نقب


مسلمہ بن عبدالملک نے ایک قلعے کا محاصرہ کیا ۔ مسلمانوں کو قلعے کی دیوار میں ایک جگہ اتنا بڑا سوراخ نظر آیا جس سے بمشکل ایک شخص داخل ہو سکتا تھا ۔ لوگوں نے اس سوراخ کی طرف دیکھا اور ایک دوسرے کو توجہ دلائی۔ انھیں اندر کے حالات کی کوئی خبر نہیں تھی کہ اس سوراخ کے پاس کتنے لوگ موجود ہیں۔ آیا اس شخص کو سوراخ سے نکلنے اور لڑنے کا موقع بھی مل پائے گا یا نہیں۔ یہ سیدھی سیدھی موت کو گلے لگانے والی بات تھی۔

لوگ ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ سب سے پہلے کون اس کے ذریعے اندر جائے۔ اسلامی لشکر میں سے ایک غیر معروف شخص سامنے آیا اور کہا: میں جاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اس سوراخ کے ذریعے اندر چلا گیا اور صورت حال کو سنبھال لیا اور اس کے بعد اور بھی بہت سے لوگ اس کے ذریعے اندر داخل ہوئے اور مسلمانوں نے قلعہ فتح کر لیا۔ فتح کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے اعلان کیا کہ "صاحب نقب" یعنی سوراخ کے ذریعے سب سے پہلے اندر داخل ہونے والا شخص میرے پاس آئے۔ لیکن کوئی نہ آیا۔ اس نے دوبارہ، سہ بارہ یہ اعلان کروایا۔
 

پھر اعلان کرنے والے کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: سپہ سالار سے میرے ؛لیے ملاقات کی اجازت حاصل کرو ۔ اعلان کرنے والے نے پوچھا کیا آپ "صاحب نقب" ہیں۔ اس نے جواب دیا: میں اس کے بارے میں جانتا ہوں۔ اعلان کرنے والے نے مسلمہ کو بتایا۔ مسلمہ نے فورا اجازت دے دی۔ اس شخص نے مسلمہ سے کہا : "صاحب نقب" کی اپنے بارے میں بتانے کے لیے تین شرطیں ہیں۔ مسلمہ نے کہا: اس نے ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ ہم اس کی ہر شرط ماننے کے لیے تیار ہیں۔ اس نے کہا: پہلی شرط یہ ہے کہ خلیفہ کو اس کا نام لکھ کر نہ بھیجا جائے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اسے کسی انعام کی پیشکش نہ کی جائے۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے اس کا نام نہ پوچھا جائے اور نہ یہ پوچھا جائے کہ اس کا تعلق کس قبیلے سے ہے۔ مسلمہ نے کہا: مجھے منظور ہے۔ اس شخص نے جواب دیا: میں ہی وہ شخص ہوں۔ مسلمہ اس واقعہ کے بعد جب بھی نماز پڑھتا تو یہ دعا ضرور کرتا:
اے الله! مجھے آخرت میں "صاحب نقب" کا ساتھ نصیب فرما۔


7 فروری، 2014

اسلام کے ننھے شاہین


حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا میں اپنے دائیں اور بائیں کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دو نوجوان لڑکے کھڑے ہیں میں نے گمان کیا کہ کاش کہ میں طاقتور آدمیوں کے درمیان کھڑا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا اسی دوران ان میں سے ایک لڑکے نے میری طرف اشارہ کر کے کہا اے چچا جان! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہیں میں نے کہا ہاں اور اے بھتیجے تجھے اس سے کیا کام اس نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہؐ کو گالیاں دیتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں میرا جسم اس کے جسم سے علیحدہ نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ مر جائے۔

حضرت عبدالرحمنؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی بات سے تعجب ہوا پھر دوسرے نے بھی اپنے ساتھی سے چھپا کر وہی بات پوچھی اب تو مجھ کو ان سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔

حضرت عبدالرحمنؓ نے کہا کہ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ میری نظر ابوجہل کی طرف پڑی وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا میں نے ان لڑکوں سے کہا کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ وہی ابوجہل ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے وہ فورا اس کی طرف جھپٹے اور تلواریں مار مار کر اسے قتل کر ڈالا پھر وہ دونوں لڑکے رسول اللہؐ کی طرف لوٹے اور آپ ؐ کو اس کی خبر دی تو آپ ؐنے فرمایا کیا تم دونوں نے اپنی اپنی تلوار سے اس کا خون صاف کر دیا ہے انہوں نے کہا نہیں آپؐ نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو آپؐ نے فرمایا تم دونوں نے ابوجہل کو قتل کیا۔ یہ دونوں جوان عفراء کے بیٹے معاذ اور معوذ تھے۔

صحیح مسلم:جلد سوم: جہاد کا بیان ،حدیث نمبر 51
صحیح بخاری: باب غزوات کا بیان ، حدیث نمبر 39

6 فروری، 2014

بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے


ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکرنے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زیدانی لے جایاکرتا تھا اور اسی کرایہ پر میری گذر بسر تھی ۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر مجھ سے کرایہ پرلیا۔ میں نے اسے سوار کیا اور چلا ایک جگہ جہاں دو راستے تھے جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا اس راہ پر چلو ۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ سیدھی راہ یہی ہے۔ اس نے کہا نہیں میں پوری طرح واقف ہوں، یہ بہت نزدیک راستہ ہے۔ میں اس کے کہنے پر اسی راہ پر چلا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم پہنچ گئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ نہایت خطرناک جنگل ہے ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں ۔ میں سہم گیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے میں نے لگام تھام لی وہ اترا اور اپنا تہبند اونچا کرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا۔ میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑلیا

میں اسے قسمیں دینے لگا لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔ میں نے کہا اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے اس نے کہا یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں تجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا میں نے اسے اللہ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا۔ اب میں مایوس ہوگیا اور مرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ اور اس سے منت سماجت کی کہ تم مجھے دو رکعت نماز ادا کرلینے دو ۔ اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لے ۔ میں نے نماز شروع کی لیکن اللہ کی قسم میری زبان سے قرآن کا ایک حرف نہیں نکلتا تھا ۔ یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا تھا اور جلدی مچا رہا تھا اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آگئی آیت

اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ
النمل27:62


ترجمہ: بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو


یعنی اللہ ہی ہے جو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور بےبسی بےکسی کو سختی اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھا جو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہاہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھونپ دیا جو اس کے جگر کے آر پار ہوگیا اور وہ اسی وقت بےجان ہو کر گر پڑا۔ سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور کہنے لگا اللہ کے لئے یہ بتاؤ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں بےکسوں اور بےبسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت اور آفت کو ٹال دیتا ہے میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنا سامان اور خچر لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔

تفسیر ابن کثیر: سورة النمل، آیت 62



30 جنوری، 2014

آخری دعا بھی قبول ہو گئی!!


بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایاہے:

وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَکُمْ
’’تمہارے رب نے حکم دیا ہے: مجھے پکارو میں تمہاری دعائوں کو قبول کرنے والا ہوں‘‘۔

میں دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات نامی ایک کتاب پڑھ کر رہا تھا، اس میں ایک خوبصورت واقعہ نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس واقعے نے ایمان تازہ کر دیا۔
 
اس کا نام ڈاکٹر احمد تھا اور وہ سعودی عرب کا معروف طبیب تھا۔ لوگ اس سے مشورہ لینے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرتے۔ اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔دارالحکومت میں ایک انٹر نیشنل میڈیکل کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسے بھی دعوت دی گئی۔ اس کی خدمات کے پیش نظر فیصلہ ہوا کہ وہ اس کانفرنس میں نہ صرف کلیدی مقالہ پڑھے گا بلکہ اس موقع پر اسے اعزازی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے۔ڈاکٹر احمداپنے گھر سے ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔

وہ بڑا خوش اور پُرسکون تھا۔ آج شام اس کی تکریم اور عزت کی جانے والی تھی۔ اس کا سوچ کر وہ اور بھی زیادہ آسودہ ہوگیا۔ ائیر پورٹ پر وہ معمول کی چیکنگ کے بعد فوراً ہی ہوائی جہاز میں سوار ہوگیا۔ اس کی فلائٹ وقت کے مطابق پرواز کر گئی۔ کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد ائیر ہوسٹس نے اعلان کیا ہم معذرت خواہ ہیں کہ طیارے میں فنی خرابی کے باعث ہم قریبی ائیر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

فلائٹ بغیر کسی رکاوٹ اور حادثے کے قریبی ائیر پورٹ پر اتر گئی۔ مسافر جہاز سے اتر کر لاؤنج میں چلے گئے۔ ڈاکٹر احمد بھی دیگر مسافروں کے ساتھ طیارے کی فنی خرابی کے درست ہونے کا انتظار کرنے لگے۔تھوڑی دیر کے بعد ائیر پورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا:خواتین وحضرات! انجینئر نے بتایا ہے کہ فنی خرابی کے درست ہونے کا فوری طور پر کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا مسافروں کے لیے متبادل طیارہ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ کب آئے گا ؟کسی کو علم نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد نیا اعلان ہوا کہ متبادل طیارہ کل ہی آسکتا ہے۔ ہم اس زحمت کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ اب آپ کو ہوٹل پہنچا دیا جائے گا۔

ڈاکٹر احمدکے لیے یہ اعلان نہایت تکلیف دہ اور پریشان کر دینے والا تھا۔ آج رات تو اس کی زندگی کی نہایت اہم رات تھی۔ وہ کتنے ہفتوں سے اس رات کا منتظر تھا کہ جب اس کی تکریم ہونی تھی۔ وہ کرسی سے اٹھا اور ائیر پورٹ کے اعلی افسر کے پاس جا پہنچا، اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میں انٹر نیشنل لیول کا ڈاکٹر ہوں۔ میرا ایک ایک منٹ قیمتی ہے ۔ مجھے آج رات دارالحکومت میں مقالہ پڑھنا ہے۔ پوری دنیا سے مندوبین اس سیمینار میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگ ہمیں یہ خبر سنا رہے ہیں کہ متبادل طیارہ ۱۶  گھنٹے بعد آئے گا۔متعلقہ افسر نے اسے جواب دیا: محترم ڈاکٹر صاحب ہم آپ کی عزت اور قدر کرتے ہیں ۔ ہمیں آپ کی اور دیگر مسافروں کی مشکلات کا اندازہ ہے۔ لیکن یہ ہمارے بس کی بات نہیں اور نیا طیارہ فوری طور پر فراہم کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔البتہ وہ شہر جہاں آپ کو کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا ہے، یہاں سے بذریعہ کار سے صرف تین چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اگر آپ کو بہت جلدی ہے تو ائیر پورٹ سے کرایہ پر گاڑی حاصل کریں اور خود ڈرائیو کرتے ہوئے متعلقہ شہر پہنچ جائیں۔ ‘‘

ڈاکٹر احمدلمبی ڈرائیونگ کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ مگر اب یہ مجبوری تھی اس کے پاس کوئی متبادل راستہ تھا ہی نہیں۔اس نے متعلقہ آفیسرکے مشورے کوپسند کیا اور ایئر پورٹ سے کار کرایہ پر لے کر متعلقہ شہر کی جانب روانہ ہو گیا۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیاتھا کہ اچانک موسم خراب ہو نا شروع ہو گیا۔آسمان پر گہرے بادل نمو دار ہوئے۔تیز آندھی اس پر مستزادتھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زور دار بارش شروع ہوگئی اور ہر طرف اندھیر ا چھا گیا۔ موسم کی خرابی کی و جہ سے اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔ دو گھنٹے تک وہ مسلسل چلتا گیا،بالآخر اسے یقین ہو گیاکہ وہ راستے سے بھٹک چکا ہے۔


اب اسے بھوک اور تھکاوٹ کااحساس بھی بڑی شدت سے ہونے لگا۔اس نے سوچا تھا : تین چار گھنٹے ہی کا سفر تو ہے ، ا س لیے اس نے اپنے ساتھ کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہ لی تھی۔اب اسے کسی ایسے ٹھکانے کی تلاش تھی جہاں سے اسے کھانے پینے کی کوئی چیز مل سکے۔وقت تیزی سے گزرتا رہا تھا۔ چاروں طرف رات کا اندھیرا بھی چھا چکا تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے غیر شعوری طور پراپنی گاڑی ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے روک دی۔

اس کا ہاتھ گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا جب اندر سے ایک بوڑھی عورت کی نحیف و ناتواں آوازاس کے کانوں میں پڑی جو کہہ رہی تھی:جو بھی ہو اندر آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ ڈاکٹراحمدگھر میں داخل ہو اتو دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت متحرک کرسی پر بیٹھی ہے۔ اس نے خاتون سے کہا: اماں! میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو چکی ہے، کیا میں اپنا موبائل چارج کر سکتا ہوں؟

بوڑھی عورت مسکرا کر کہنے لگی: میرے بیٹے کون سے فون کی بات کررہے ہو؟ تمھیں معلوم نہیں اس وقت تم کہاں ہو؟ ہما رے ہاں نہ تو بجلی ہے نہ ٹیلی فون،یہ تو ایک چھوٹا سا گائوں ہے، جہاں شہری سہولتوں کاکوئی تصور نہیں ہے پھر اس نے مزید کہا! میرے بیٹے وہ سامنے میز پر چائے اور کھانا رکھاہے۔لگتا ہے کہ تم بھوکے اور پیاسے ہو۔راستہ بھٹک گئے ہو۔تم پہلے کھانا لو پھر بات کریںگے۔ لگتا ہے تم خاصا طویل فاصلہ طے کر کے آئے ہو۔ ڈاکٹر احمدنے اس بوڑھی خاتون کا شکریہ ادا کیا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا ۔سفر کی تھکاوٹ سے اسے شدید بھوک لگ رہی تھی ۔اچانک خاتون کی کرسی کے ساتھ والی چارپائی پر حرکت ہوئی اور ایک معصوم نے رونا شروع کر دیا۔خا تون نے اس بچے کوتھپک کر سلایا اور اسے دعائیں دینا شروع کیں۔وہ اس بچے کی صحت اور سلامتی کے لیے لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔

ڈاکٹراحمدنے کھانا کھایا اور بوڑھی اماں سے کہنے لگا: اماں جان! آپ نے اپنے اخلاق ‘کرم اور میز بانی سے میرا دل جیت لیا ہے۔آ پ لمبی لمبی دعائیں مانگ رہی ہیں ۔ امید ہے کہ اللہ تعالی آپ کی دعائیں ضرور قبول کرے گا۔ ’’میرے بیٹے! وہ بوڑھی گویا ہوئی۔‘‘ میرے اللہ نے میری تمام دعائیں سنی اور قبول کی ہیں۔ ہاں بس ایک دعا باقی ہے جو میرے ضعفِ ایمان کی وجہ سے پور ی نہیں ہوئی ۔تم تو مسافرہو، دعا کرو کہ وہ بھی قبول ہو جائے۔

ڈاکٹر احمدکہنے لگا: اماں جان وہ کونسی دعا ہے جو قبول نہیں ہوئی۔آپ مجھے اپنا کام بتائیں میں آ پ کے بیٹے کی طرح ہوں ۔اللہ نے چاہا تو میں اسے ضرورکروں گا۔آپ کی جو مدد میرے بس میں ہو گی ضرور کروں گا۔ خاتون کہنے لگی: میرے عزیز بیٹے !وہ دعا اور خواہش میرے اپنے لیے نہیںبلکہ اس یتیم بچے کے لیے ہے جو میرا پوتا ہے۔اس کے ما ں باپ کچھ عرصہ پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ اسے ہڈیوں کی ایک بیما ری ہے جس کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذو ر ہے۔میں نے قریبی حکیموں، مہمانوں سے اس کے بڑے علاج کرائے ہیں مگر تمام اطباء اس کے علاج سے عاجز آ گئے ہیں ۔

لوگو ں نے مشورہ دیا ہے کہ اس ملک میں ایک ہی ڈا کٹر ہے جو اس ہڈیوں کے علاج کا ما ہر ہے، اس کی شہرت دور دور تک ہے ۔ وہ بڑا مانا ہوا سرجن ہے۔ وہی اس کا علاج کر سکتاہے، مگر وہ تو یہاں سے بہت دو ر رہتا ہے پھر سنا ہے بہت مہنگا بھی ہے۔ اس تک پہنچنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔ تم میری حالت تو دیکھ ہی رہے ہو،میں بوڑھی جان ہوں۔کسی وقت بھی بلاوا آ سکتا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد اس بچے کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ کوئی سبب پیدا کر دے کہ اس بچے کا اس ڈاکٹر سے علاج ہو سکے۔ عین ممکن ہے کہ اس یتیم بچے کو شفاء اسی ڈاکٹر کے ہاتھوں مل جائے۔

ڈاکٹر احمداپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: اماں جان! میرا طیارہ خراب ہوا، راستے میں اُترنا پڑا کار کرائے پر لی، خوب طوفان آیا‘ آندھی او ر بارش آئی، راستہ بھول گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے گھر زبر دستی بھجوا دیا۔اما ں آپ کی آخری دعا بھی قبول ہو چکی ہے۔اللہ رب العزت نے ایسے اسباب مہیا کر دیے ہیں کہ وہ ہڈیوں کا بڑا ڈاکٹر خود چل کر آپ کے گھر آگیا ہے۔ اب میں آپ کے پوتے کا علاج کروں گا۔‘‘

جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کی سنتا ہے تو پھر اس کوپورا کرنے کے لیے اسباب بھی خود ہی مہیا فرما دیتا ہے۔کائنات کی ساری مخلوق چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان، اللہ کے حکم اور اس کی مشیّت کی پابند ہے۔ اس واقعے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالی نے زمین وآسمان کی مختلف قوتوں کو کام میں لا کر بوڑھی اماں کی دعا کو پورا

کرنے میں لگا دیا۔ارشاد باری تعالی ہے:

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْٓئَ وَ یَجْعَلُکُمْ خُلَفَآئَ الْاَرْضِئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْن

’’ بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے،کون قبول کرکے سختی کو دور کردیتا ہے، اورتمہیں زمین میں جانشین بناتا ہے۔ کیااللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے۔ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو‘‘۔ (النمل: ۶۲)

------------------------------------
دعائوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات- عبدالمالک مجاہد ، صفحہ  ٢٣