ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

‏معاشرتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏معاشرتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

5 جولائی، 2016

مکہ کے پہاڑ بنجر کیوں ہیں - سعد الله شاہ

مکہ کے پہاڑ بنجر کیوں ہیں

جب میں عمرہ کرنے گیا تو آصف شیخ مجھے ساتھ لے کر ایک ڈاکٹر علوی صاحب کو مبارکباد دینے گیا کہ انہیں بادشاہ نے شہریت دی تھی۔ وہ ڈاکٹر بھی کیا کمال کے تھے۔ پوچھنے لگے”شاہ صاحب، کہاں جا رہے ہیں آپ؟“ میں نے کہا” جدہ کا قصد کیا ہے“ کہنے لگے آپ میرے ساتھ چلیں گے۔جب یہ پتہ چلا کہ وہ مجھے پڑھتے ہیں اور بھی خوشی ہوئی۔سفرکا آغاز ہوا تو انہوں نے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک عجیب و غریب سوال کردیا ”مکہ کے پہاڑ اتنے بنجر کیوں ہیں؟“ اپنا علم تو وہیں دھرا رہ گیا۔ وہ پھر گویا ہوئے” شاہ صاحب میں نے دنیا کے کئی پہاڑ دیکھے مگر وہ مکہ کے پہاڑوں کی طرح بنجر اور بے آب و گیاہ نہیں ہیں؟ اس کے پیچھے اللہ کی منشا کیا ہے“؟ میںنے تو سر نڈر کر دیا۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے ”قبلہ اللہ پاک چاہتے تھے کہ آنے والے حاجیوں کی توجہ صرف میرے گھر پر رہے اس شہر کو پکنک پوائنٹ نہیں بنایاجائے گا۔ بات دل کو لگی۔

 یہ پرانا واقعہ مجھے اب کیوں یاد آیا؟اس کے پیچھے ہمارے دوست انگریزی ادب کے استاد اسد اعوان ہیں جنہوں نے مجھے ایک ویڈیو بھیجی اور ساتھ تاکید کی کہ یہ جو رمضان شریف میں چینلز پر طوفان بدتمیزی چل رہا ہے اس کے خلاف لکھیں۔ میں نے وہ ویڈیو دیکھی تو چونک اٹھا۔ اس میں ایک عالم دین بڑی صراحت ‘و ضاحت کے ساتھ موجودہ سحر و افطار پر لگنے والے میلوں کی حقیقت پر روشنی ڈال رہے تھے۔ بات سمجھ میں آئی، دل کو لگی۔ سچ کہا انہوں نے کہ یہ باقاعدہ سوچی سمجھی سازش کے ساتھ مختلف میڈیا مالکوں کو کروڑوں روپے دیئے جارہے ہیں کہ رمضان کا تقدس پامال کرو، سحر و افطار کے اوقات کو تفریح بنا دو۔ انہوں نے مکہ کے اس عکاس میلہ کا حوالہ دیا کہ قبل اسلام جب لوگ مکہ میں خانہ کعبہ عبادت کے لئے آتے تو وہاں عکاس کا میلہ لگا ہوتا تھا۔ گویا زمانہ جہالت میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اس کا چھوٹا موٹا عکس درباروں پر لگنے والے عرسوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں سرکسی موت کا کنواں اور کئی اور خرافات ہوتی ہیں۔ مجھے معاً خیال آیا کہ واقعی رمضان کوئی فیسٹیول نہیں ہے۔

 خدا کے لئے آﺅ بیٹھ کے سوچیں واقعی سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو رہا۔ وہ اوقات جو اللہ کی رحمتیں لوٹنے کے ہیں سب ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ گھڑیاں جو دعائیں مانگنے کی ہوتی ہیں ہم کیا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ سراسر لہو و لعب ، کھیل تماشہ اور رنگ بازی، نام اس کا رمضان سپیشل ہوتا ہے۔ اللہ ہم پر رحم کرے ۔ میں نے کراچی کے اس ڈرامہ مولوی کو دیکھا ۔ یقین کیجیئے یہ کلپ کسی نے بھیجا۔ وہ حضرت زبان نکال کر کے اداکاری کر رہے ہیں۔ دو سنگرز کچھ گا رہی ہیں۔ حاضرین تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ کہیں انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور کہیں موبائل بانٹے جارہے ہیں۔ بجا کہا ان عالم دین نے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پیکٹ کرنے والوں نے پروگرام کے لئے ماڈل کو ضروری قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ کچھ دین فروش مولوی بھی ہائر کر لئے جاتے ہیں تاکہ اس پروگرام کو اسلامی کہا جا سکے۔ وہ عالم دین کہنے لگے میں تو دو تین سال پہلے تو بہ تائب ہو گیا اور کسی چینل پر نہیں جاتا۔

 معزز قارئین! میں بھی ان پروگرامز کو نہ صرف جائز سمجھتا تھا بلکہ میں نے ان کے حق میں لکھا بھی کہ کیا حرج ہے کہ اداکار اور اداکارائیں اسی بہانے اللہ اور اس کے رسول کا ذکر کر لیتی ہیں۔ اور یقیناً اچھی باتیں ان پر اثر انداز بھی ہوتی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے میرے دل میں کہیں یہ خواہش بھی چھپی ہو کہ روشن خیالوں اور دنیا داروں سے میں خوب داد پاﺅں گا۔ جہالت کے پا س حق سے زیادہ دلیلیں ہوتی ہیں۔ مگر اخلاص اور سچائی نہیں ہوتی۔ اسد اعوان کی بھیجی ہوئی ویڈیو دیکھ کر میں چونک اٹھا اور حقیقت ذہین نشین ہوئی کہ نہیں بھئی یہ تو ہمیں شوگر کوٹڈ زہر کی گولیاں دی جارہی ہیں۔ واقعی ایسا ہے کہ ہماری عبادات کے تقدس کو برباد کرنے کا پروگرام ہے کہ ہماری مذہبی روایات و اقدار کی روح مار دی جائے۔ یہ شیطان ہی ہے جو اپنے حیلوں اور بہانوں سے ہماری خواہشات پر ڈھلے ہوئے کاموں کو دین بنا دیتا ہے۔ وہ گناہ کے کاموں کونہایت دلفریب اور خوب صورت بنا دیتا ہے مثلاً اچھے اچھے شاعر اپنے تئیں کئی گانوں کو مشرف بہ نعت کرتے رہے کہ گانوں کی دھنوں پر نعتیں کہتے رہے۔ اللہ معاف کرے ،۔ نعت سن کر دھیان فلم کے سین پر چلا جاتا ہے گانے والے کی طرف۔

 کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ٹی وی کی لغویات سنتے ہوئے روزہ اچھی طرح گزر جاتا ہے حالانکہ روزہ انہی شیطانی کاموں سے بچنے کا نام ہے وگرنہ اللہ کو ہمارے بھوکا رکھنے سے کیا مطلب، روزہ اللہ کے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی اللہ کے پاس ہے بلکہ وہ خود اس کا اجر دے گا۔ روزہ سحری سے افطار تک عبادت ہی تو ہے بلکہ اس کا اہتمام بھی عبادت ہے۔ یہ مہینہ اللہ کے لئے سر نڈر کرنے اور خود سپردگی کا نام ہے۔ چاہیے تو یہ کہ سحری سے پہلے تلاوت کی جائے ، افطار کے بعد تراویح کی فکر کی جائے ، یہ مہینہ کھیل تماشہ دیکھنے کا تو نہیں۔ روزہ محسوس کرنے کا نام ہے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا نام۔ مجھے تو اب جاکے احساس ہوا کہ اللہ نے مکہ کے پہاڑ اس قدر بنجر کیوں رکھے ہوئے ہیں۔

 اللہ توجہ چاہتا ہے وگرنہ وہ بہت بے نیاز ہے اتنا بے نیاز ہے کہ بندہ سراسر زنگ ہو جاتا ہے، دل سیاہ ہو جاتا ہے اور عقل کے در بند ہو جاتے ہیں۔ اس کی توجہ ہی تو روشنی ہے۔ سب کچھ انسان پر عیاں کر دیتی ہے۔ شرط وہی ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، طلب پیدا کی جائے اور دامن وا کیا جائے۔ جس طرح کے میلے ٹھیلے ٹی وی پر ہو رہے ہیں اللہ تو انسان کو ویسے ہی بھول جاتا ہے۔ وہاں تو اپنی خواہشات کو جو س پلایا جارہا ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے میڈیا مالکان سوچیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ کس کاسٹ پر کام کررہے ہیں۔ ان علمائے دین کو تو ضرور سوچنا چاہیے جو چند ٹکوں، شہرت یا پھر دل پشوری کے لئے ان پروگراموں میں جا بیٹھتے ہیں جہاں حضور کریم کے دین کو مسخ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ جہاں پرلے درجے کے جاہل اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے دینی مسائل بتا رہے ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات مفتی کے منصب پر آن بیٹھتے ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم پیمرا کا بھی کوئی اس میں عمل دخل ہے کہ نہیں ۔ چلیے اگر اخلاقیات کا ہی وہ کچھ خیال کریں تو کوئی لائحہ عمل وہ بنا سکتے ہیں ۔ سب رنگینیوں میں گم ہیں اس لئے روزہ داروں ہی کو کچھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اس عظیم عمل کی حفاظت کریں۔ رسول پاک نے جبرائیل ؑ کی ایک دعا پر کہ جس کو رمضان شریف ملے وہ اپنی بخشش نہ کروا سکے، اس پر لعنت ہو، آمین کہی تھی۔ برکتوں والے اس مہینے کو قیمتی بنائیں اور اللہ کی ناراضگی کا باعث نہ بنیں۔ سچ کہا ان عالم دین نے سحر اور افطار کے وقت جو غل غپاڑا ہوتا ہے ایسے میں اللہ کی برکتیں اور رحمتیں کہاں اتریں گی۔ ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہو گا ان دو ایک اینکرز کو سلام جنہوں نے اپنے پروگرام میں ایسی فضولیات کو شامل کرنے سے انکار کردیا ۔لئیق احمد بھی انہی میں سے ایک ہیں۔

31 دسمبر، 2014

ان بیان ایبل از گل نوخیز اختر


 ہماری ایک معروف افسانہ نگارکی شادی کی عمر گذرتی جارہی تھی، موصوفہ تقریباًکسی سے بھی شادی کرنے پر راضی تھیں لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی قانونی اقرارکرنے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔ انہوں نے شادی میں کسی کو انوائٹ نہیں کیا، ایک دن ایک تقریب میں مل گئیں تو میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے چپکے سے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔ خوشی سے شرمندہ ہوکر بولیں ’’اصل میں سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کئی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلاسکی‘‘۔ میں نے پوچھا’’ماشاء اللہ دولہا بھائی کرتے کیا ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی اٹھلا کر بولیں’’ان کی روٹیوں کی فیکٹری ہے‘‘ میری آنکھیں پھیل گئیں، بعد میں پتا چلا کہ دولہا بھائی کا ذاتی تنور ہے۔
ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے’’بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے رامیٹریل فراہم کرتے ہیں‘‘۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے ’’میٹریل‘‘ کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔
کچھ لوگ بڑے آرام سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ جب تک تفصیل کا نہ پتا چلے یہ جھوٹ بالکل سچ معلوم ہوتاہے۔ مثلاً میری ایک ’’سگی کلاس فیلو‘‘ کی منگنی ہوئی تو اس کی سادہ اور معصوم سی والدہ نے بتایا کہ لڑکا پہلے سٹیٹ بینک میں لگا تھا ، اب پان سگریٹ کا کھوکھا لگاتاہے۔میں نے اپنے کان کھجائے’’سٹیٹ بینک اور پان سگریٹ کے کھوکھے‘‘ کا تقابلی جائزہ لیااور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کلاس فیلو سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر لڑکے والوں سے پوچھا گیاکہ لڑکا کب سٹیٹ بینک میں لگا تھا۔ جواب ملا’’پچیس اگست 1998ء کو رات پونے ایک بجے‘‘۔ یہ سنتے ہی لڑکی والے بوکھلا گئے کہ رات پونے ایک بجے سٹیٹ بینک میں کون سی جوائننگ ہوتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، لڑکا اصل میں پہلے رکشہ چلا تا تھا، پچیس اگست کو اس کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ سیدھا ’’سٹیٹ بینک میں جالگا‘‘۔

اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتاہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔اپنی مثال اس لیے نہیں دوں گا کیونکہ مجھے کافی بہت پسند ہے بلکہ اب تو مجھے Cappuccino کے سپیلنگ بھی یاد ہوگئے ہیں ، میں جب بھی کافی منگواتا ہوں سب سے پہلے ختم کرتا ہوں، میرے دوستوں کو یقین ہے کہ میں کافی کا دیوانہ ہوں، یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چائے اور کافی میں وہی فرق ہے جو تاش اور شطرنج میں ہے۔ لیکن میراکافی پینے کا اپنا ہی سٹائل ہے۔۔۔میں صرف ایسی جگہ پر کافی پینا پسند کرتا ہوں جہاں واش بیسن قریب ہو۔
 ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔۔۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو السی اور چاول کی پنیاں کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا ’’دابڑا‘‘ کب چکھا تھا؟ بھینس کی ’’بوہلی‘‘ کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ ’’بوہلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔
 پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتاہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتاہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتاہے، البتہ ایک’’وٹنری ڈاکٹر‘‘ ایسا نام ہے جسے بیرونی دنیا میں تو بہت عزت حاصل ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی تک اس کے لیے ’’وہی ‘‘ لفظ استعمال کیا جاتاہے۔۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے ’ ’ان بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
 مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنے کا جنون ہوگیا ہے اور یہی جنون ہم سے اصل زندگی چھینتا چلا جارہا ہے۔کیامونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے ’’پران‘‘ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا کوئی پیزا آلو کے پراٹھوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ کیا چلی ساس، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟گڑ کی ڈلی سے بہتر کس کینڈی کا ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کس فائیو سٹار ہوٹل کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟سرسوں کے تیل سے زیادہ دماغ کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ کیا چاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟؟؟ مکی کی روٹی اور ساگ کے برابر میں جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی فرق معلوم ہوجائے گا۔ لیکن ہمیں یہ چیزیں اس لیے پسند نہیں کیونکہ جن لوگوں میں ہم رہتے ہیں اُنہیں یہ پسند نہیں۔ دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کی دوڑ میں ہمیں ہر وہ چیز بھولتی جارہی ہے جس کے ہم کبھی دیوانے ہوا کرتے تھے۔

اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑرہا ہے۔ہم نے کتنی محنت سے اپنے ذائقے تبدیل کر لیے، اپنے حلئے تبدیل کر لیے، اپنے رویے تبدیل کرلیے ۔۔۔اب ہم معمولی سی بات کو تھوڑا سا گھما کر بیان کرتے ہیں ، نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔۔۔لیکن معاشرے میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔اب بے شک ہماری قمیض کی بغلیں پھٹی ہوئی ہوں، پیروں میں قینچی چپل ہو، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہم ’’رائل فیملی‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے اور امیر رشتے دار ایسے ضرور سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہے تاکہ انہیں اپنے اِن رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جائے۔خود وہ کیاہیں۔۔۔ یہ اُنہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔۔۔!!! 

 

27 دسمبر، 2014

بھینس کا علاج


 کہتے ہیں کہ کسی شخص کی بھینس بیمار ہوگئی۔ وہ اپنے دوست کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ جب تمھاری بھینس بیمار ہوئی تھی تو تم نے کیا کیا تھا؟ دوست نے کہا کہ میں نے اسے مٹی کا تیل پلایا تھا۔ یہ سُن کر وہ شخص فوراً پلٹا اور اپنے گھر پہنچ کر بھینس کو مٹی کا تیل پلا دیا۔ کچھ ہی دیر میں بھینس مرگئی۔ یہ دیکھ کر وہ بہت طیش میں آیا اور پھر دوست کے گھر جا پہنچا، اسے بتایا کہ میں نے بھینس کو مٹی کا تیل پلایا تو وہ مرگئی۔ دوست نے کہا میری بھینس بھی مر گئی تھی۔ یہ سن کر اس شخص نے کہا’’تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں‘‘ دوست نے جواب دیا’’تم نے پوچھا کب تھا؟‘‘

ہمارے حالات بھی اسی نادان شخص کے مانند ہیں کہ کسی کا عمل دیکھ کر نتیجے کی پروا کیے بغیر ویسا ہی عمل شروع کر ڈالتے ہیں اور کچھ عرصے بعد پچھتا رہے ہوتے ہیں۔ یورپ، امریکا کے عوامل کی اندھا دھند تقلید کے نتیجے میں ہمارے بھینسوں کے باڑے کی بہت سی بھینسیں ہلاک ہوچکی ہیں لیکن حرام ہے جو ہم نے سبق سیکھا ہو۔ ہم باقی ماندہ بھینسوں کو بھی تقلید کا تیل پلا پلا کر ان کے دم نکلنے کے منتظر ہیں۔ پھر ایک روز ہم مغربی دنیا سے گلہ کریں گے، تو ہمیں جواب ملے گا کہ بھائی تم نے ہم سے پوچھا ہی کب تھا؟
اندھا دھند تقلید کا آغاز زمانہ جدید کی چکا چوند سے ہوا جب ہم نے یورپی مصنوعات کا استعمال شروع کیا۔ برصغیر پر قبضے کے بعد یورپی اقوام نے پہلے پہل یورپی اسلحے کا دیسیوں پر استعمال شروع کیا جس کے رعب میں آکر دیسی بھی اپنے ہم نسلوں پر یورپی اسلحے کا استعمال کرنا سیکھ گئے۔ دیسی لباس کی جگہ یورپی لباس اور دیسی زبان کی جگہ یورپی زبان قابل فخر عمل ٹھہری۔
انگریزوں نے بڑے پیمانے پر سب سے پہلے ہمیں چائے کا عادی بنایا جس کی تشہیری مہم میں بر صغیر میں پہلی بار نوجوان خواتین کو استعمال کیا گیا،جو ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو مفت میں

چائے پلا کر چائے کی فروخت میں اضافے کا باعث بنتی تھیں۔ چائے کی فروخت زیادہ ہوئی تو لسی اور دودھ کا استعمال کم ہوتا چلا گیا۔ موٹر سائیکل اور موٹر کار کی برصغیر میں آمد ذریعہ سفر میں ایک نئے دور کا آغاز تھا جس کے ساتھ ہی ریل اور ہوائی جہاز کی آمد نے سفر کو نیا رُخ عطا کیا۔ اب طرز تعمیر اور انداز بودو باش کی باری تھی۔ ہمیں یورپ سے آیا ہوا ہر تعمیری نقشہ قابل اعتبار معلوم ہوا اور ہم اپنی عمارات کی تعمیر بھی یورپی انداز میں کرنے لگے۔ اس تقلید میں ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ تمام انداز سرد ممالک کی ضرورت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں جبکہ ہم شدید گرم علاقے کے باسی ہیں۔ بُرا ہو اندھی تقلید کا، ہم صحن کی نعمت اور کھلی ہوا میں سانس لینے سے بھی محروم ہوگئے۔
جدت اور ترقی ہر زمانے کا لازمی حصہ ہے۔ جدیدیت کوئی حرام شے نہیں جس سے ہر حال میں بچنا ہو۔ تقلید بُری نہیں بلکہ اندھی تقلید ہلاکت خیز ہے۔ کاش طبعی اشیا کی تقلید میں ہم نے اپنے زمان و مکاں کو مد نظر رکھ کر اپنی ضرورت کے مطابق جدت پیدا کرکے اشیا کو استعمال کیا ہوتا تو ہم بھی طبعی اشیا سے بہتر انداز میں فوائد حاصل کر پاتے۔ محض تقلید نے ہمارا مٹی کا مادھو ہونا آشکار کر دیا۔
طبعی اشیا اور ان کا استعمال اس قدر ضرر رساں نہیں۔ اصل ہلاکت خیزی تو اس وقت شروع ہوئی جب ہم نے معاشرتی میدان میں اندھی تقلید کی راہ اختیار کی۔ یورپی معاشرت کو برصغیر کے لوگوں نے حاکموں کی صورت میں تو دیکھ رکھا تھا یا کبھی کبھی انگریزی فلموں میں اس معاشرت سے واقفیت حاصل ہوتی تھی لیکن صورت حال اس وقت تبدیل ہوئی جب برصغیر میں ٹیلی ویژن کی آمد ہوئی۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن اسٹیشن کا قیام پاکستان کو دیے جانے والے پہلے بڑے امریکی پیکج کی لازمی شرط تھی۔ پہلے یورپی معاشرت کا مشاہدہ گھر سے باہر جاکر ہوتا تھا۔ اب یورپی معاشرت ہمارے گھر میں مشہود ہوئی اور ہم شاہد ٹھہرے۔
اس کو مہمیز اس وقت ملی جب ہمارے ہاں ڈش انٹینا اور کیبل نیٹ ورک کی آمد ہوئی۔ رہی سہی کسر انٹر نیٹ اور کمپیوٹرز کی فراہمی نے پوری کردی جو ہمارے بڑوں کے ذریعے بچوں کے ہاتھوں میں آگیا۔ اب ہم ایک نئے دور میں داخل ہوئے جِسے’’میڈیا کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ میڈیا کے حسن و قبح پر بحث اور اس کے حرام و حلال کے فیصلے کا حق بھی میڈیا ہی کے پاس ٹھہرا۔ میڈیا نے خود ہی رنگ برنگ موضوعات پر مباحث کا اہتمام کیا اور خود ہی اپنے حق میں فیصلے دے کر اپنے ہر قدم کے جواز کو سند عطا کی۔
میڈیا (یہ اصطلاح اب صرف الیکٹرانک میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہی ہے) کے مشاہدے کا آغاز صبح کی نشریات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جسے عرف عام میں ’’مارننگ شو‘‘ کہا جاتا ہے۔ مارننگ شو میں پہلے پہل خواتین کے لیے کھانے پکانے اور سینے پرونے کے پروگرام پیش کیے گئے جس کے بعد اب ہر پروگرام کا لازمی حصہ رقص و موسیقی بن گیا۔ بہت سی خواتین و حضرات جنھیں ہم بہت عرصے سے دیکھتے چلے آرہے تھے اور وہ دیگر پروگراموں میں ہمیں خاصے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے نظر آتے تھے۔ مارننگ شوز میں آکر چھچھورے رقاص ثابت

ہوئے۔ ان پروگراموں میں اس چھچھور پن کا آغاز شادی بیاہ کی نام نہاد رسموں سے ہوا جو بڑھ کر اب محض’’مجرے‘‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ ہم نے جوان العمر سے لے کر اچھی خاصی عمر رسیدہ خواتین کو یہ مجرے کرتے دیکھا۔ یقین مانیے کہ سر شرم سے جھک گئے کہ نانی دادی کہلانے والی یہ خواتین کس ثقافت کی نمایندگی کررہی ہیں۔ رقص و موسیقی کے ہماری زندگی میں اس قدر دخیل ہونے کا کمال اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ ق کی ایک انتخابی محفل میں چودھری شجاعت کے سامنے اسی قسم کا مظاہرہ کیا گیا جسے حاضرین نے خوب ڈھٹائی سے برداشت کیا اور داد بھی دی۔
میڈیا (یعنی الیکٹرانک میڈیا) میں ایک بد رسم کا آغاز ہوا ہے جسے بولڈ موضوعات پر گفتگو کا نام دیا گیا ہے۔ بولڈ ہونے کی آڑ میں زیادہ تر ان موضوعات کا انتخاب کیا جارہا ہے جن کا تعلق عائلی و ازدواجی زندگی اور جنسی معاملات سے ہے۔ وہ باتیں جو عقلاً بالغ اور مخصوص افراد کے درمیان ہونی چاہئیں اب کھلے عام کی جارہی ہیں اور کچے ذہنوں کو آلودہ کیا جارہا ہے۔ سکرین کے ایک کونے میں ’’PG‘‘ لکھ دینا یا’’بچے نہ دیکھیں‘‘ لکھ دینا اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ یہ پروگرام کون دیکھ رہا ہے۔ پیمرا نامی ادارہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے کہ میڈیا اس قدر منہ زور، منہ پھٹ اور طاقتور ہوگیا کہ ’’مافیا‘‘ کے انداز میں ایک دوسرے کو سہارا دے رہا ہے… زیارت ریذیڈنسی کے حوالے سے قائم ہونے والا مقدمہ اس کی مثال ہے جب اس ’’مافیا‘‘ نے زور ڈال کر حکومت سے مقدمہ واپس کروا دیا۔
کچھ عرصہ قبل اسی میڈیا پر ایک ایسی بحث پیش کی گئی جس میں فحش ویب سائٹس کے حوالے سے گفتگو پیش کئی گئی۔ حاصل کلام یہ تھا کہ آپ ان کو اب روک نہیں سکتے اور ساری دنیا میں یہ ویب سائٹس عام ہیں اگر ہمارے ہاں بھی ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اپنی تربیت اتنی بہتر کریں کہ نوجوان اس جانب متوجہ نہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ مغربی تقلید کے حامل شرکا مغرب سے بڑھ کر جواز پیش کررہے تھے۔ چند روز قبل برطانوی وزیر اعظم کا بیان نظر سے گزرا جس میں تجربے اور تجزیے کی بنیاد پر اس نے فحش مواد کے خلاف فیصلے لینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مواد ہمارے بچوں کا بچپن تباہ کررہا ہے۔ جب مغرب اس مواد پر پابندی لگائے گا تو پھر ہمارے نام نہاد مفکرین کیا جواز پیش کریں گے۔
پڑھے لکھے پنجاب کے زمانے میں مغرب سے امداد کے بدلے ہمیں ’’مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ ملا۔ یہ نعرہ ہم نے ہر اسکول کے باہر اور اندر بورڈ پر لکھ کر لگایا۔ اس کے نیچے محکمہ تعلیم کے افسران کے ٹیلی فون نمبر دیے گئے تھے جن کو فون کر کے مار پیٹ کرنے والے ٹیچرز کے خلاف فوراً کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس عمل سے فوائد تو نجانے کیا حاصل ہوئے لیکن ٹیچرز خوف زدہ اور طلبا خود سر ہوگئے۔ تعلیمی نظم و ضبط کمزور پڑگیا اور تعلیمی استعداد تنزلی کا شکار ہوگئی۔
1950ء کی دہائی تک برطانیہ و امریکا کے اسکولوں میں جسمانی سزا برائے اصلاح موجود تھی۔ ایک مشہور مقولہSpare the rod & spoil the child مغرب ہی کی پیش کش ہے۔ اُس زمانے میں بھی تعلیمی معیار تھا، ایجادات بھی ہورہی تھیں اور مغربی ممالک ترقی بھی کررہے تھے۔ ہم ابھی ترقی کی منازل سے فاصلے پر ہیں۔ معیشت بدحال ہے، تعلیم و تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے لیکن معاشرت میں مغرب کی برابری کی کوششیں ہورہی ہیں۔ یاد رکھیے کہ ہر چیز جو صدیوں سے آپ کی ثقافت کا جز ہے، ضروری نہیں کہ غلط ہو۔ معاشرت تبدیل کرنے سے پہلے سو بار

سوچیے کہ زیادہ تر صورتوں میں معاشرت کی تبدیلی ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ بچوں کی اصلاحی سزا کے حوالے سے جان لیجیے کہ برطانیہ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اصلاحی سزا کی اجازت دی جائے تاکہ ہماری اگلی نسل کو درست سمت میں تربیت دی جاسکے۔ تشدد کی تائید کوئی ذی عقل نہیں کرتا لیکن یاد رہے کہ سزا و جزا تربیتی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اور ہاں امریکا کی بھی سن لیجیے جہاں مار نہیں پیار کے نتیجے میں اسکولوں میں طلبہ کے بدمعاش گروہ پرورش پارہے ہیں۔ جن کی سرکوبی کے لیے مسلح محافظ تعینات کیے جاتے ہیں۔ امریکا

کے اسکولوں میں طلبا کے ایک دوسرے پر تشدد اور طلبہ کے ہاتھوں اساتذہ کے پٹنے کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ سنجیدہ امریکی طبقہ اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرا رہا ہے تاکہ صورت حال کو قابو میں کیا جاسکے۔ جب کہ ہم اس جانب جا رہے ہیں جہاں سے دوسروں کی واپسی ہورہی ہے۔ ہم اپنی ایک نہیں،کئی بھینسوں کو تیل پلا چکے ہیں۔
ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، اپنی غلطیوں کی اصلاح کیجیے۔ اپنی سمت کو درست کیجیے، اندھی تقلید سے بچیے اور بھینس کا صحیح علاج کیجیے۔اور ہاں! پڑوسی کی تقلید سے پہلے نتیجہ ضرور پوچھ لیجیے۔ 


پروفیسر محمدنعیم خان 

30 جولائی، 2014

باؤلا

 ’’زیورخ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہیے تھا مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے‘‘ یہ الفاظ ایک معروف کالم نگار کے ہیں جو اپنی زیورخ یاترا کے بعد علم کی ایک نئی دنیا سے آگاہ ہو کر آئے ہیں۔ اگر لفظ ’’سودی ‘‘استعمال نہ ہوتا تو پھر بھی میرے لیے گنجائش تھی کہ میں حسن ظن سے کام لیتا کہ شاید موصوف کو بینکاری کے خون چوسنے والے نظام سے عشق ہے۔ لیکن سود کا دفاع اور اس قدر واضح اور کھل کر… اس امت کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ایسی موجود ہو۔

موصوف کی یہ سطور پڑھ رہا تھا تو مجھے سود کی حمایت کرنے والوں کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ نے جو کیفیات بتائی ہیں‘ یاد آ رہی تھیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں‘ ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر بائولا (پاگل) کر دیا ہو‘ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’تجارت بھی تو آخر سود جیسی چیز ہے‘‘۔ کس قدر سچا ہے میرا رب جو ایسے دانشوروں کی ذہنی کیفیت اور دلوں میں چھپے اسلام کے نظام کے ساتھ بغض و عناد کو جانتا ہے۔ کتنی صادق آتی ہے یہ آیت ان سطور پر جو موصوف نے اپنے کالم میں تحریر کی ہیں۔


چلیں چھوڑیں اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کو کہ ان میں حکمت وہ لوگ تلاش کرتے ہیں جن کی آنکھیں مغرب کی روشنی سے چندھیا نہ گئی ہوں۔ ان کے آئیڈیل اور قابل تعریف سوئزر لینڈ اور زیورچ کے سودی بینکاری نظام کی اصل بنیاد کیا ہے۔ وہ کونسی لوٹ مار ہے جس پر اس کی عمارت تعمیر ہے اور آج بھی اس نے دنیا بھر کے مظلوم‘ مقہور اور مجبور انسانوں کی دولت کو لوٹنے والوںکو اپنا محسن قرار دیا ہے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک شہر آباد کیا ہے۔ ایک ایسا شہر جو دنیا بھر کے ظالموں‘ چوروں‘ اچکوں‘ اٹھائی گیروں اور کرپٹ انسانوں کی دولت پر پلتا ہے۔


اس شہر کے لوگ ان بینکوں میں ان لٹیروں کی دولت کا حساب رکھتے ہیں‘ تحفظ کرتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں‘ عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ زیورچ اور سوئس بینکوں کی یہ روایت تین سو سال پرانی ہے۔ فرانس کے بادشاہوں کو اپنے عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کی ضرورت تھی اس لیے 1713ء میں The Great Council of Geneva نے رازداری کا قانون ’’Code of Seerecy‘‘ متعارف کرایا جس کے تحت بینکار کھاتے کی رقم صرف کھاتے دار کو بتاتا ہے کسی دوسرے کو اس کی اطلاع نہیں دیتا۔
اس کے بعد انقلاب فرانس آیا تو وہ سب سیاستدان‘ وڈیرے‘ نواب جنھوں نے عوام کا سرمایہ لوٹا تھا بھاگ کر یہاں آ گئے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے ان بینکوں کے کاروبار کا آغاز ہوا۔ یہ لوگ اسقدر ظالم ہیں کہ جس وقت 1930ء کا عالمی معاشی بحران آیا‘ دنیا کی حکومتیں اپنے لوٹے ہوئے پیسے کے بارے میں معلومات چاہتی تھیں تا کہ جوپیسہ عوام سے لوٹا گیا ہے ان کو واپس لوٹایا جا سکے تو سوئزر لینڈ نے 1934 Banking Actمنظور کیا اور دنیا کے غریبوں کو ان چوروں‘ لٹیروں‘ اور ڈاکوئوں کے نام اور ان کا سرمایہ بتانے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جب جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوا تو اس وقت تک سوئزر لینڈ ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک ’’محفوظ جنت‘‘ سمجھی جانے لگی تھی جو اپنے ملکوں کا سرمایہ لوٹ کر وہاں لے جائیں۔ اسے اس زمانے میں ’’Repository of capital for unstable countries‘‘(غیر مستحکم ملکوں کے سرمایے کی جنت )کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں یہودیوں پر ظلم و ستم کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہولوکاسٹ تھا‘ ان کا قتل عام ہو رہا تھا۔ یہودیوں نے اپنی حکومتوں کے خوف سے اپنا سرمایہ اور سونا ان سوئس بینکوں میں جمع کروانا شروع کیا۔
سونا ان رقوم میں صرف چار ارب ڈالر کا تھا۔ان ظالم بینکاروں نے مرنے والے یا قید ہونے والے یہودیوں کے کاغذات کو آہستہ آہستہ جلانا شروع کر دیا۔ دوسری جانب سوئزر لینڈ وہ واحد ملک تھا جس نے نازی ظلم سے بھاگنے والے یہودیوں پر اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ جرمن یہودیوں کے پاسپورٹوں پر ’’J‘‘ کا لفظ لکھتے تھے اور اس پاسپورٹ کو دیکھ کر سوئزر لینڈ کی سرحد سے انھیں واپس دھکیل دیا جاتا تھاتاکہ یہ دولت واپس نہ مانگ لیں۔
جرمن آرکائیوز کے مطابق 1944 میں جرمن وزیر داخلہ ہیزرچ ہملرHeinrich Himler نے سونے اور زیورات سے لدی ہوئی ایک ٹرین سوئزر لینڈ کے بینکوں کو بھجوائی تاکہ ناگہانی کیفیت میں جنگ میں اسلحہ کی خریداری کے لیے کام آ سکے۔ جنگ ختم ہوئی اور 1946 میں پیرس معاہدہ Paris Agreement وجود میں آیا جس کی وجہ سے اس سونے پر ان بینکوں اور عالمی اتحادی طاقتوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ ان بینکوں کو ملا۔ یہودی اپنی طاقت اور بالادستی کے باوجود ان سود خور بینکوں سے اپنی دولت نہ لے سکے۔ بددیانتی کے اس کاروبار نے سوئزر لینڈ اور موصوف کالم نگار کی جنت زیورچ کو سرمایہ فراہم کیا۔
آج بھی سوئزر لینڈ کے بینکوں میں 80 فیصد رقوم تین ذرایع سے آتی ہیں۔ -1 دوسرے ملک سے ٹیکس چوری کا پیسہ جن میں یورپ اور امریکا جیسے ممالک بھی شامل ہیں‘-2 غیر ترقی یافتہ ممالک کے آمروں اور حکمرانوں کا کرپشن اور لوٹ مار کا سرمایہ اور -3دنیا کے بڑے بڑے مافیاز کے جرائم سے حاصل کردہ سرمایہ۔ یہ ہیں وہ تین بنیادی ذرایع جو اس ’’جنت نظیر‘‘ علاقے کی آمدن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ یہ ہے سوئزر لینڈ کا بزنس ماڈل۔ چند سال پہلے تک ٹیکس چوری سوئزر لینڈ میں جرم نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب جرمن محکمہ Deutsche post کے سربراہ Klaus Zumwinkle کے بارے میں جرمن حکام نے کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کیا تو سوئزر لینڈ نے کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا۔ان بینکوں کا سوئزر لینڈ کی سیاست پر اسقدر اثر ہے کہ اس ملک کے سیاست دان بینکاری کے غلیظ دھندے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں ۔اسی لیے وہ یورپی یونین کا حصہ بننے سے انکار کرتے رہے۔ دنیا کا ہر چور‘ بددیانت‘ قاتل‘ ڈاکو‘ ظالم حکمران اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے ان بینکوں کو پناہ گاہ سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ فرانس کے سوشلسٹ وزیر خزانہ Jerome cahuzac کا بھی یہاں ایک خفیہ اکائونٹ ہے۔
فلپائن کا مارکوس‘ چلی کا آلندے‘ ایران کا رضا شاہ‘ پاکستان کا زرداری اور افریقہ کے آمروں کی لوٹی ہوئی رقوم ان بینکوں کے کاروبار کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس سارے سرمائے کا بدترین اور انسانیت دشمن استعمال یہ ہے کہ یہ سب کے سب بینک اس وقت دنیا بھر میں خوراک کی تجارت اور ذخیرہ اندوزی پر سرمایہ لگاتے ہیں۔ ملکوں سے خوراک خریدتے ہیں اور پھر ان کا ذخیرہ کر کے مہنگے داموں پر لوگوں کو بیچتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں اس وقت دنیا میں ایک ارب مرد‘ عورتیں اور بچے قحط اور بھوک کا شکار ہیں۔
یہ قاتل اور انسانیت دشمن بینک اپنے سرمائے سے کھاتے داروں کو سود ادا کرتے ہیں اور سوئزر لینڈ کے عوام کو شاندار سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ ڈاکوئوں‘ چوروں‘ آمروں‘ ڈکٹیٹروں اور انسانیت دشمن افراد کا ملازم ہے۔ ان کی فی کس آمدنی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کیوں نہ ہو ڈاکوئوں‘ چوروں اور پیشہ ور قاتلوں کے کارندے سرمائے میں نہاتے ہیں۔
یہ ہے وہ جنت جس کی تعریف مذکورہ کالم نگار نے کی ہے۔ لیکن میرے اللہ نے ایسے افراد کی کیفیت کے بارے میں کیا خوب ارشاد فرمایا تھا جو ان شہروں میں چند دن گزار کر متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’دنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوشحالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہر گز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین جائے قرار ہے (آل عمران 197)۔ کون ہے جو شہروں کی چہل پہل سے متاثر ہو کر بدترین جائے قرار کو منتخب کرلے۔ 


oria maqbool jjan article on sood
swiss bank ,money

14 جولائی، 2014

جرم ضعیفی کی میٹھی گولیاں


 مسلم امہ کے کسی سیاسی رہنما‘ دانشور یا مغربی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی چوکھٹ پر سجدہ ریز شخص کو اگر دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد اور معصوم عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتائو تو وہ اقبال کے شعر کا ایک مصرعہ دہرانے لگتا ہے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘۔ کس قدر بے حس ہیں یہ لوگ۔ ان کے اپنے گھر پر اگر بم گرے‘ ان کے بچے تڑپتے ہوئے جان دیں‘ ان کی عورتوں کو سپاہی اٹھا کر لے جائیں تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ کوئی کتنا بھی کمزور ہو‘ انتقام کی آگ میں کھولنے لگتا ہے۔

ممکن ہو تو حفاظت خود اختیاری کا سہارا لے کر جو بھی اسلحہ گھر میں موجود ہو لے کر بدلہ لینے نکل پڑتا ہے۔ نہتا ہو تو گھر کا سامان بیچ کر انتقام کے لیے اسلحہ خریدتا ہے‘ کرائے کے قاتلوں سے رابطہ کرتا ہے‘ بدلہ لینے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو شور ضرور مچاتا ہے‘ واویلا ضرور کرتا ہے‘ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ یہ سب نہ بھی کر سکے تو اتنا ضرور کرتا ہے کہ جو لوگ یہ ظلم اور بربریت کرتے ہیں‘ ان کو اور ان کے پشت پناہوں کو دشمن سمجھتا ہے‘ ان سے شدید نفرت کرتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اسے اقبال کا جرم ضعیفی والا شعر سنا کر چپ رہنے کو کہے تو اس کا گریبان تھام کر کہنا ہے‘ تم پر بیتی نہیں اس لیے تم یہ باتیں کر رہے ہو۔ تمہارا گھر ایسے اجڑتا تو میں تم سے پوچھتا۔

لیکن وہ امت جس کی سید الانبیاء ﷺ نے یہ علامت بتائی تھی کہ یہ ایک جسد واحد ہے۔ ایک جسم جس کے کسی بھی حصے کو تکلیف پہنچے‘ باقی تمام عضو مضطرب ہو جاتے ہیں۔ اس امت میں کبھی بوسنیا‘ چیچنیا‘ افغانستان‘ عراق اور اب فلسطین میں معصوم اور نہتے لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور ہم یا تو قاتلوں کے دوست اور اتحادی ہیں یا پھر قاتلوں کے پشت پناہوں سے بھیک اور امداد مانگ کر گزارا کرنے والے ہیں۔ غیرت و ناموس بیچ کھائی ہو تو جرم ضعیفی جیسے الفاظ کس قدر تسلی بخش ہوتے ہیں۔
کاش کوئی ویت نام میں لڑنے والے نہتوں کو بھی یہ الفاظ سکھاتا۔ ہمارے ایک دانشور ہیں جنھیں مغرب کے ہر ظلم میں حسن نظر آتا ہے‘ وہ کہتے ہیں ہم اسپرین تک بنا نہیں سکتے اور امریکا سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کاش وہ یہ بتا دیں کہ ویت نام میں کس نے اسپرین ایجاد کی تھی جو انھوں نے امریکا کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ افغانستان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جس کے غیور لوگوں نے ایک سو سال میں تین عالمی طاقتوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔

یہ سب اس امت کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ اسے یہ درس بھلا دیا گیا ہے کہ نصرت اور فتح ٹیکنالوجی سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ جس رسولﷺ کے عشق کے یہ دعوے کرتے ہیں‘ اس کی سنت پر عمل کرنے کا درس دیتے ہیں‘ انھوں نے اس ہادی برحق کو بدر کے میدان میں نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ تین سو تیرہ جانثار‘ دو گھوڑے‘ چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں… یہ تھی کل کائنات اور مقابلے میں تین گنا بڑا لشکر اور تمام سامان حرب۔ کوئی ایک غزوہ بھی ایسا ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کیا شام‘ مصر‘ ترکی اور ایران فتح کرنے والے اپنے مقابل لشکروں سے تعداد‘ اسلحہ اور سامان حرب میں زیادہ تھے۔ ہر گز نہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے دور کی عالمی طاقتوں سے ٹکڑا گئے تھے۔ اس لیے کہ وہ جرم ضعیفی کی لوریوں میں نہیں پلے تھے بلکہ اللہ کی طاقت کے بھروسے پر زندگی گزارنے والے تھے۔

اللہ پر بھروسے کی طاقت کو اس امت سے چھیننے اور اسے ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز کروانے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ اس میں جنگ عظیم اول کے بعد خلافت کی مرکزیت کا خاتمہ اور موجودہ سیکولر قومی ریاستوں کے مغرب کی دہلیز پر سجدہ ریز حکمرانوں کا بھی حصہ ہے اور اس امت کے ان دانشوروں کا بھی جو روز اس امت کو کم مائیگی‘ کمزوری اور بے حوصلگی کا درس دیتے ہیں۔ یہ ہیں وہ اہل مدرسہ جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ’’گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا‘‘۔ اسی نوجوان کے بارے میں اقبال نے کہا تھا
کون کہتا ہے کہ مکتب کا جواں زندہ ہے
مردہ ہے مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس

لیکن اس تن مردہ میں جاں پیدا کرنے کی آوازیں اور تحریکیں بھی ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ جرم ضعیفی پر خاموش رہنے اور غیرت و حمیت بیچ کھانے والوں کے مقابل میں نعرہ مستانہ لگانے والوں کی بھی کمی نہیں رہی۔ تاریخ کا یہ بدترین باب ہے کہ وہ جنھوں نے مسلمانوں کو جرم ضعیفی کی سزا تجویز کی اور انھیں ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر بہتر مستقبل کی نوید دی وہ سب کے سب ان قومی سیکولر ریاستوں کے حکمران ہی تھے۔ گزشتہ سو سالہ تاریخ میں سوڈان سے لے کر ملائشیا تک ہر کسی نے مسلمانوں کو ان ریاستوں کے خول میں جکڑ کر بے حس اور مردہ دل بنایا اور آج یہ عالم ہے کہ کسی شہر کے ایک حصے میں اگر آفت اور مصیبت آئے تو دوسرے حصے کے لوگ اپنی روز مرہ زندگی جاری رکھتے ہیں۔

نہ کوئی ان کی مدد کو بے چین ہوتا ہے اور نہ ان کی مصیبت میں غمگین۔ یہی بے حسی آج غزہ میں مرنے والے معصوم بچوں کے لیے نظر آئی ہے۔یہ بے حسی کیسے پیدا ہوئی۔ ہم نے ایسے ہی مناظر افغانستان اور عراق میں کس قدر خاموشی سے دیکھے۔ ہمیں کہا گیا یہ دہشت گرد ہیں‘ ان سے دنیا کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ ہم سب امن کے خواہاں بن کر ایسا ہی تماشا دیکھتے رہے۔ پھر ہم نے مسلمان ریاستوں کو بھی ظلم کرنے کا ویسا ہی اختیار دے دیا اور بے حسی سے تماشا دیکھتے رہے۔ ہم نے بشار الاسد کو ایسے ہی معصوم بچوں اور عورتوں کو دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر قتل کا لائسنس دیا۔ ہم نے نوری المالکی کو عراق میں خاندانوں کے خاندان قتل کرنے کی اجازت دی تا کہ دنیا سے شدت پسندوں کو پاک کیا جائے۔ ہم تماش بین تھے اور ہمارے سامنے موت کا تماشہ تھا۔

کیا کسی کی آنکھ سے آنسو بہے جب اس سے چند میل کے فاصلے پر ڈرون حملوں سے معصوم بچوں کے جسموں کے پرخچے اڑے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لال مسجد کا سانحہ اور معصوم بچوں کی موت کو کس قدر سکون کے ساتھ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر دیکھا اور چین کی نیند سوئے اور سوچا کہ اب ہم نے امن کی طرف قدم اٹھا لیا۔ دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے تمام جملے اسرائیل کے میڈیا نے چرا لیے ہیں۔ ان کے حکمران بھی وہی زبان بول رہے ہیں جو ہم دہشت گردی کے خلاف بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں فلسطین کے لوگ امن کے دشمن ہیں‘ یہ دہشت گردی کی پناہ گاہ ہیں‘ ان کی وجہ سے پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ اور پھر ان کی اس منطق کو امریکا اور مغربی دنیا اپنے میڈیا پراور سیاسی سطح پر حمایت فراہم کرتا ہے۔

کہا جاتا ہے اسرائیل ان کے علاقے پر قابض ہے۔ آزادی ان کا پیدائشی حق ہے تو کیا امریکا اور اس کے حواریوں نے افغانستان اور عراق پٹے پر خریدا ہوا تھا‘ ان کی ملکیت میں شامل تھا۔ کیا پاکستان کے قبائلی علاقے امریکا کی باون نمبر کی ریاست تھی جس کے معصوم لوگوں کو وہ دہشت گرد کہہ کر ڈرون حملوں سے ہلاک کرتا تھا۔ دنیا میں دو منطقیں نہیں چلا کرتیں۔ جس ظلم نے حماس کو جنم دیا ہے اسی ظلم نے دنیا کے تمام ممالک میں جہادی سوچ کو پیدا کیا ہے۔ ریاستوں کا چہرہ ایک جیسا ہے‘ ظالم اور سفاک۔ یہی غزہ کا علاقہ پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد 24 جنوری 1949ء میں اسرائیل مصر معاہدے کے تحت ایک نیم خود مختار متنازعہ علاقہ کہلایا۔

کسی نے اسے حق آزادی نہ دیا۔ لیکن جب 26 جولائی 1956ء کو جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا اعلان کیا تو جنگ چھڑی اور اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت فلسطینی ایک علیحدہ عرب قوم تصور ہوتی تھی لیکن 1958ء میں مصر‘ شام اور فلسطین کو ایک اتحاد جمہوریہ عربیہ متحدہ کے تحت منظم کیا اور 1959ء سے 1967ء تک غزہ پر مصر کا کنٹرول ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی دفعہ غزہ کی ناکہ بندی کی گئی اور اس ظلم کا موجد جمال عبدالناصر تھا اور اس کی بھی وہی دلیل تھی کہ اگر غزہ کے رہنے والوں کو کھلا چھوڑا گیا تو امن تباہ و برباد ہو جائے گا۔

غزہ کی داستان پوری امت مسلمہ کی داستان ہے۔ یہ بے حسی اور بے ضمیری کا نوحہ ہے۔ یہ خاموشی ہم نے بڑی محنتوں سے اس قوم اور ملت کو سکھائی ہے۔ ہم نے ان کے ضمیر مردہ کیے ہیں جن قوموں کو سالوں یہ کہا گیا ہو کہ یہ جو لوگ ہم قتل کر رہے ہیں یہ تمہارے کچھ نہیں لگتے۔ یہ انسان نہیں کسی دوسرے ملک‘ علاقے‘ شہر یا محلے کے شہری ہیں۔ ان کے قتل پر چپ رہو‘ یہ امن کے دشمن ہیں‘ شدت پسند‘ دہشت گردہیں تو پھر اس بات پر حیران کیوں ہوتے ہو کہ غزہ پر موت کے سائے چھائے تو ایک آنسو بھی نکلا‘ ایک احتجاج تک نہ ہوا۔ 


اوریا مقبول جان  

28 جون، 2014

پارٹ سیکولرازم / پارٹ ٹائم اسلام

 کس قدر سادہ لوح ہیں وہ لوگ جو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اس مملکتِ خدا داد پاکستان کے حکمران، دانشور، اہلٍ سیاست، مذہبی رہنما اور میڈیا عالمی طاقتوں کے اس کھیل سے آزاد ہے جو مسلم امہ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی مجبوریاں ان کے اقتدار کی طوالت سے وابستہ ہیں، دانشوروں کا علم ان کی سوچ متعین کرتا ہے اور یہ علم مغربی تجزیہ نگاروں کی رپورٹوں، مقالوں اور کتابوں سے روشنی حاصل کرتا ہے۔
 

اہلِ سیاست نے یہ تصور کرلیا ہے کہ انھیں اقتدار کی مسند پر بٹھانے اور ان کے مخالفین کی حکومتیں الٹنے والی طاقتیں اگر ان سے خوش ہیں تو وہ کامیاب، مذہبی رہنمائوں کے قطبِ نما کی سوئیوں کا رخ اپنے اپنے مسالک کے ملکوں کی سیاست میں الجھا ہوا ہے اور میڈیا تو چلتا ہی اس سرمائے سے ہے جو کارپوریٹ انڈسٹری مہیا کرتی ہے تا کہ پوری دنیا میں ایک جیسا طرزِ زندگی یا لائف اسٹائل متعارف ہو، جس کے نتیجے میں ان کا مال بِک سکے۔ یہ سب کے سب اس عالمی ایجنڈے کے مہرے ہیں اور انھیں کب ، کیسے اور کہاں استعمال کرنا ہے وہ طاقتیں خوب جانتی ہیں۔
 

اس کھیل میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مہروں کی واضح اکثریت کو اس کا علم تک نہیں ہوتا کہ وہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ تو انتہائی اخلاص کے ساتھ ایک سمت رواں دواں رہتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی جنگ جیتنا چاہتا ہے۔ کوئی ریاست بچانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے تو کوئی اپنے مسلک کی برتری چاہتا ہے، کسی کو انقلاب کی جلدی ہے تو کوئی ترقی کے خوابوں کو تعبیر دینا چاہتا ہے۔ کوئی سیکولر، لبرل اور جمہوری اقدار کا تسلط چاہتا ہے تو کسی کو اسلام کے عادلانہ نظام کی بالادستی کے لیے ہتھیار اٹھانا اچھا لگتا ہے۔ یہ سب کے سب کیوں اس قدر مختلف ہیں اور کیا یہ ایسے ہی ایک دوسرے سے دست وِ گریبان رہیں گے۔ شاید ابھی کچھ دیر اور لیکن زیادہ دیر نہیں۔
 

ہم جس دور میں زندہ ہیں اس کے بارے میں سیدالانبیاء ﷺکی ایک حدیث صادق آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اسلام کی ابتدا اجنبیت سے ہوئی تھی اور یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا‘‘۔ یہ اجنبیت کیا ہے۔ آج اسلام بالکل ویسے ہی اجنبی ہے جیسے مکہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی دعوت کے آغاز میں تھا۔ ثقافت، طرز ِمعاشرت، معاشی نظام اور سیاسی زندگی کے مقابلے میں اسلام کی پیش کردہ دعوت اجنبی اور انوکھی لگتی تھی۔ آج بھی بالکل وہی کیفیت ہے جو چودہ سو سال پہلے تھی۔ اسلام موجودہ عالمی معاشی نظام، عالمی لائف اسٹائل، عالمی طرزِ سیاست اور عالمی طرزِ معاشرت میں بالکل انوکھا اور اجنبی ہو چکا ہے۔
 

پوری دنیا اس وقت لائف اسٹائل کی جنگ کا شکار ہے۔ ایک مدت ایک عالمی معاشی، سیاسی ، معاشرتی اور خاندانی نظام کو نصابِ تعلیم، میڈیا اور زیرِ اثر حکومتوں کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ جہاں ذرا شک ہوا کہ یہ لوگ اس عالمی لائف اسٹائل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہاں بدترین آمریتوں کے ذریعے اس سیکولر عالمی لائف اسٹائل کا نفاذ کیا گیا۔ تیونس سے لے کر پاکستان اور بنگلہ دیش سے ملائشیاء تک ہر کسی کو کبھی ڈکٹیٹروں اور کبھی من پسند جمہوری حکمرانوں کے ذریعے ایسے عالمی لائف اسٹائل کا طابع کیا گیا، جس میں سودی بینکاری سے لے کر حقوقِ نسواں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر فحاشی و عریانی تک سب زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔
 

اس لائف اسٹائل اور طرزِ زندگی کے مخالف جو بھی آواز اٹھی اسے سب سے پہلے میڈیا میں ایک مہم کے ذریعے بدنام کیا گیا اور اگر ممکن ہو سکا تو ایسے ملک جہاں اسلام کا یہ اجنبی اور انوکھا لائف اسٹائل جڑیں پکڑ رہا تھا وہاں فوجیں تک اتار دی گئیں۔ افغانستان اس کی بدترین مثال ہے اور مصر میں اسی حکومت کی برطرفی اس کا دوسرا طریقۂ اظہار۔ ایک بات کا فیصلہ کر لیا گیا کہ اس دنیا کے نقشے پر کوئی ایسی حکومت قائم نہیں ہونے دیں گے، جو اس عالمی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی لائف اسٹائل سے مختلف ہو۔ لیکن ہر کسی کو ’’ پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کی اجازت ہے، اذان کے وقت دوپٹہ سر پر لینا اور مہندی کے ڈانس کے وقت اتار دینا۔ سود کے پیسوں سے مسجدیں اور مدرسے بھی بنانا اور اس کے خلاف تحقیقی کام بھی کرنا۔
 

نماز، روزہ، حج، زکواۃ سب پر ایمان رکھنا لیکن جہاد سے نفرت کرنا۔ ایک ایسا اسلام تو موجود عالمی لائف اسٹائل میں اجنبی نہ لگے۔ ریاستیں تو اس ’’ پارٹ ٹائم اسلام‘‘ کی قائل ہو گئیں کہ ان کے حکمرانوں کے مفادات تھے مگر افراد نے دنیا بھر میں اس سے بغاوت کر دی۔ یہ لوگ امریکا کے ساحلوں سے آسٹریلیا کے پہاڑوں تک ہر جگہ موجود تھے۔ گیارہ ستمبر نے اس لائف اسٹائل کی جنگ کو واضح کیا تو آج 12 سال کے بعد خوف کے سائے اسلامی دنیا سے مغربی دنیا تک جا پہنچے۔ برطانیہ کا شہر برمنگھم جہاں ہر پانچواں شخص مسلمان ہے، وہاں پچھلے دنوں پارک ویو اسکول میں حکومت کے تین انسپکٹر داخل ہوئے، یہ دیکھنے کے لیے کہ کتنی لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں اور کتنے مردوں نے داڑھیاں رکھی ہیں۔
یہ مسلمانوں کے علاقے کا اسکول ہے جو اپنے دس طلبہ میں سے آٹھ طلبہ کو یونیورسٹیوں میں بھیجتا ہے۔ یہ کامیابی بہت کم اسکولوں کو میسر ہے۔ لیکن یہ سب کے سب اس لائف اسٹائل سے مختلف ہوتے ہیں جو عالمی طرزِ زندگی ہے، اسی لیے انسپکٹروں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں سے پوچھا کہ تم کو حجاب پہننے پر کوئی زبردستی تو نہیں کرتا، اتنے زیادہ کپڑوں میں تمہیں گرمی تو نہیں لگتی۔ تمہیں ماہواری کے بارے میں کسی نے کبھی بتایا ہے۔ اس کے بعد برطانیہ کے اخباروں میں خبریں لگیں کہ مسلمانوں نے اپنے علاقے کے اسکولوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں ایسا طرزِ زندگی اور طریقۂ تعلیم رائج ہے جس سے بچے برطانیہ کی زندگی کے لیے ’’ اجنبی‘‘ اور ’’انوکھے‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔
 

ایک رپورٹ مرتب کی گئی کہ اگر ایسا ہوا تو شدت پسندی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کے بعد ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کو کچھ خوبصورت الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں یہ الفاظ گونجے ’’Reconcile Islam and Britishism‘‘ (اسلام اور برطانویت میں مفاہمت) لیکن پورا ماحول غصے اور خوف میں ہے چند دن پہلے لندن کے علاقے کول چسٹر کے ایک پارک میں ایک مسلمان عورت کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے مکمل حجاب پہنا تھا۔ ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام میں ایسا لباس صرف نماز پڑھتے ہوئے پہننا چاہیے۔ اس پارٹ ٹائم اسلام یعنی مغرب اور اسلام کی مفاہمت کی بہترین علامت چند دن پہلے ایمسٹرڈیم میں نظر آئی ۔ ایمسٹر ڈیم کو یورپ کو جنسی ہیڈ کوارٹر Sex Capital کہا جاتا ہے۔
 

وہاں کے ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں دنیا بھر سے عورتیں لا کر بٹھائی گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں وہاں ایک اشتہار بانٹا جا رہا تھا کہ ہمارے پاس’’ حلال طوائفیں‘‘ میسر ہیں۔ یعنی جو شراب نہیں پیتیں، سؤر نہیں کھاتیں، اور دیگر معاملات میں بھی پارٹ ٹائم اسلام کی قائل ہیں۔ ایک ایسا اسلام جو عالمی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور خاندانی نظام کے اندر ضم ہو جائے۔ اسی طرح کے اسلام کو نافذ کرنے کے لیے ملکوں میں فوجیں اتاری جاتی ہیں، آئین تحریر کیے جاتے ہیں، اپنی مرضی سے الیکشن کروا کر کرزئی اور مالکی کو جمہوری طور پر منتخب کروایا جاتا ہے، مشرف سے لے کر سیسی تک لوگوں کو اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے۔
 

لیکن خوف کی خلیج واضح ہوتی جا رہی ہے۔ پارٹ ٹائم اسلام اور اس اسلام جس کے بارے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا، ان دونوں میں جنگ تیز ہو گئی ہے۔ امریکا سے لے کر آسٹریلیا اور یورپ کے 23 ممالک سے وہ لوگ جو اس عالمی لائف اسٹائل کے مخالف تھے، ہتھیار بند ہو کر شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں، افغانستان اور یمن میں موجود ہیں۔ دوسری جانب تمام مسلم ریاستوں کا یہ عالم ہے کہ وہاں کی حکومتیں اس عالمی لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے متحد ہیں دوسری جانب اسلام کے اصل روپ کے پروانے بڑھتے جا رہے ہیں۔
 

صرف پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں حجاب اور داڑھی میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے اس نے کاروباری کمپنیوں کو حجاب کا شیمپو تک مارکیٹ میں لانے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن دوسری جانب خوف بہت زیادہ ہے پورا عالمی لائف اسٹائل بینکوں کے جعلی سرمائے اور سود سے چلتا ہے، یہیں سے میڈیا ہائوسز پروان چڑھتے ہیں اور پارٹی فنڈ سے جمہوریت کی گاڑی۔ یہ تو سب دھڑام سے گر جائے گا اگر اس لائف اسٹائل کے مخالف طاقت میں آ گئے۔
ایک جنگ ہے اس میں ایک جانب ریاستیں ہیں جو اس عالمی طرز زندگی کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اور دوسری جانب وہ لوگ’’ پارٹ ٹائم ‘‘ قابل قبول اسلام نہیں بلکہ اس لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں جو آج اجنبی ہو چکا ہے۔ ریاستوں کی کوئی سرحد باقی ہے اور نہ ان لوگوں کی۔ سیّدالانبیاء نے فرمایا دّجال کی آمد سے پہلے دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو جائے گی، ایک طرف مکمل کفر ہو گا اور دوسری طرف مکمل ایمان۔ اب نہ پارٹ ٹائم سیکولرزم رہے گا اور نہ ہی پارٹ ٹائم اسلام۔ 





 oria maqbool jaan
urdu article, parr time islam,, secularism,
اوریا مقبول جان

2 جون، 2014

ٹیوشن کے پیسے


میرابڑا بیٹاچونکہ پڑھائی کے معاملے میں بہت اچھا جارہا ہے اس لیے طے پایا کہ اسے مزید ’’ارسطو‘‘ بنایا جائے اور ٹیوشن رکھی جائے۔میں نے دبا دبا سا احتجاج کیا کہ بچے کو کھیلنے کے لیے بھی کچھ ٹائم ملنا چاہیے‘ لیکن بیگم نے غصے سے دیکھا اور کڑک کر بولی ’’آپ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ بچہ کچھ نہ پڑھے اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر سارا سارا دن ’’ٹام اینڈجیری ‘‘اور ’’ڈورے مان ‘‘دیکھتا رہے‘‘۔ میں نے کھسیانی آواز میں کہا’’یاروہ کارٹون تو میں صرف بچے کی دلچسپی کے لیے دیکھتا ہوں ورنہ اللہ جانتا ہے مجھے تو صرف نیشنل جیوگرافک چینل اچھا لگتاہے‘‘ ۔ حالانکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ٹام اینڈ جیری اور ڈورے مان سے عشق ہے‘ یہ کارٹون لگے ہوں تو میں اکثر کھانا کھانا بھی بھول جاتاہوں۔بہرحال فیصلہ ہوگیا کہ ثمریز کے لیے ہوم ٹیوٹر کا بندوبست کیا جائے۔ایک دوست سے ذکر کیا تو انہوں نے اگلے ہی دن ایک پڑھے لکھے نوجوان کو میری طرف بھیج دیا۔ میں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا‘ چائے پلائی اور بچے کو پڑھانے کا ’’جرمانہ ‘‘ پوچھا۔ اس نے انتہائی لاپروائی سے ٹانگ پر ٹانگ رکھی اورسپاٹ لہجے میں بولا’’پانچ ہزار۔۔۔وہ بھی ایڈوانس‘‘۔
آئیے 1988 ء میں چلتے ہیں‘ ملتان کے محلے طارق آباد میں یہ چھوٹا سا تین مرلے کاگھر ہمارا ہے‘ میں میٹرک میں پڑھ رہا ہوں‘ چھ ماہ بعد سالانہ امتحان ہونے والے ہیں اور گھر والوں کوخدشہ ہے کہ کہیں میں فیل نہ ہوجاؤں۔میں خود بھی گھر والوں کے خدشات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش میں ہوں لہذا پڑھتا تو ہر وقت ہوں لیکن صرف عمران سیریز کے ناول۔گھر میں بات چلی کہ مجھے ٹیوشن پڑھانی چاہیے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ذرائع آمدن محدود تھے اور ابا جی اپنی آمدنی میں سے میری ٹیوشن کے لیے ماہانہ ’’ڈیڑھ سو‘‘ روپیہ نکالنے سے قاصر تھے۔میں نے انہیں بڑا یقین دلایا کہ میں دل لگا کر پڑھ رہا ہوں لیکن پتا نہیں کیوں انہیں ہمیشہ میری پڑھائی پر شک ہی رہا۔انہی دنوں پتا چلا کہ ہمارے محلے میں چھ گلیاں دور ایک خدا ترس‘ ماسٹر شفیع صاحب رہتے ہیں جو بچوں کو مفت ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ہمارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور طے پایا کہ اب سے میں ماسٹر شفیع کے پاس ٹیوشن پڑھنے جایا کروں گا۔
اُن دنوں ٹیوشن تو ہوتی تھی لیکن پیسے ایڈوانس نہیں لیے جاتے تھے لہذا میں نے ماسٹر شفیع کے پاس جانا شروع کر دیا۔ ان کے گھر کی بیٹھک میں لگ بھگ بیس طالبعلم ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔ماسٹر شفیع اتنی محبت اور انہماک سے ہمیں پڑھاتے کہ ٹیوشن کا ٹائم ختم ہونے کے بعد بھی دل کرتا کہ ان کے پاس بیٹھے رہیں۔ان کی بیٹھک کا اندرونی دروازہ ایک اور چھوٹے سے کمرے میں کھلتا تھا ‘ یہ کمرہ ماسٹر صاحب کا تھا ‘ گو کہ میں ابھی تک اس کمرے میں نہیں گیا تھا لیکن جس جگہ میں بیٹھتا تھا وہاں سے اِس کمرے میں پڑی جائے نماز‘ تسبیح اور کتابوں کا ڈھیر ضرور نظر آتا تھا۔مجھے ماسٹر صاحب کے پاس ٹیوشن پڑھتے ہوئے ایک ماہ پوراہوا تو ایک دن ماسٹر صاحب نے ایک ایسا جملہ کہا کہ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ انہوں نے اندر والے کمرے کی طرف اشارہ کر کے کہا’’باری باری جاؤ اور اپنی فیس کے پیسے پلنگ کے پاس پڑے ہوئے ڈبے میں ڈال آؤ‘‘۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں‘ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ ماسٹر صاحب مفت پڑھاتے ہیں لیکن وہ تو پیسے مانگ رہے تھے۔میں نے پاس بیٹھے اپنے دوست علی عباس کو کہنی ماری ’’ماسٹر صاحب کی فیس کتنی ہے؟‘‘ اُس نے سرگوشی میں جواب دیا’’ڈیڑھ سو روپے‘‘۔۔۔اور میرے ہاتھ پاؤں سن ہوگئے۔مجھے صاف پتا چل رہا تھا کہ آج سب کے سامنے ذلیل ہونا پڑے گا۔ بیٹھک میں بیٹھا ایک ایک لڑکا باری بار ی اٹھ کر اندر کمرے میں جاتا اور فیس کے پیسے ڈبے میں ڈال کر واپس آجاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں علی عباس کی باری آگئی‘ وہ اطمینان سے اُٹھا اور اندر چلا گیا۔ بے عزتی اور شرمندگی کے احساس سے میری ہتھیلیاں نم ہونے لگیں‘میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ علی عباس واپس آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ماسٹر صاحب کی نظریں میری طرف اٹھ گئیں۔میں بوکھلا کر کھڑا ہوگیا اور بظاہر اپنا آپ معتبر بناتے ہوئے کمرے کی طرف چل دیا۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے بائیں طرف دیکھا جہاں ایک پرانا سا پلنگ پڑا ہوا تھا‘ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی لکڑی کی میز تھی جس پر گتے کا ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا‘ ڈبے کے چاروں طرف کالے رنگ کی ٹیپ لپیٹی ہوئی تھی اوراوپر والی طرف چھوٹا ساسوراخ تھا‘ یہ بالکل ایسا ہی ڈبہ تھا جیسے چندے کے ڈبے ہوتے ہیں۔میں کچھ دیر سوچتا رہا‘ پھر اچانک دماغ میں ایک ترکیب آئی۔اگر میں ایسے ہی واپس چلا جاؤں تو؟؟؟۔۔۔ماسٹر صاحب کو بھلا کیسے پتا چلے گا کہ کس طالبعلم نے فیس کے پیسے نہیں دیے‘ یہ خیال ذہن میں آتے ہی میرے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔میں چند ساعتوں کے لیے وہیں رُکا اور پھر بڑے اطمینان سے بیٹھک میں آکر واپس بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہمیں چھٹی ہوگئی۔
اگلے دن میرا دل دھک دھک کر رہا تھا کہ کہیں ماسٹر صاحب کو میرے فراڈ کا پتا نہ چل گیا ہو‘  لیکن شاید میری چال کام کر گئی تھی‘ ماسٹر صاحب کو کچھ پتا نہ چل سکا اور میں اطمینان سے ٹیوشن پڑھتا رہا۔دوسرا مہینہ ختم ہوا تو میں نے پھر یہی طریقہ اختیار کیا اور صاف بچ نکلا۔اب مجھے بھی اطمینان ہوگیا تھا کہ کچھ نہیں ہونے والا لہٰذا ہر دفعہ جیسے ہی فیس دینے کی باری آتی‘ میں کمرے کے اندر جاتا اور گردن اکڑائے باہر آجاتا۔اب مجھے ماسٹر صاحب سے ٹیوشن پڑھنے میں زیادہ مزہ آنے لگا تھا کیونکہ اب مجھ میں کافی اعتماد آگیا تھا کہ بہرحال اب میں ’’فیس‘‘ ادا کرکے ٹیوشن پڑھ رہا ہوں۔چھ ماہ تک میں نے ماسٹر صاحب کو یونہی بیوقوف بنائے رکھا اورمفت ٹیوشن کے مزے لوٹے۔ اس کے بعد سالانہ امتحان ہوگئے اور ٹیوشن بھی ختم ہوگئی۔میٹرک کے نتائج کے اعلان سے پہلے دو ماہ کی چھٹیاں تھیں لہذا میں نے خوب ناول پڑھے اور دوستوں کے ساتھ ہاکی اور ٹیبل ٹینس کھیلا۔ہم دوست جب بھی گراؤنڈ کی طرف جارہے ہوتے تو اکثر راستے میں ہمیں ماسٹر صاحب مل جاتے‘ ہم سب انہیں سلام کرتے‘ میں دل ہی دل میں قہقہے لگاتا کہ میں نے چھ ماہ تک ماسٹر صاحب کو پوری فیس ادا کرکے مفت ٹیوشن پڑھی ہے۔
1992 ء میں ماسٹر شفیع انتقال کرگئے‘ میں ان کے جنازے میں بھی شریک ہوا تھا اور دل ہی دل میں اُن سے اپنی حرکت کی معافی بھی مانگی تھی۔آج ماسٹر شفیع مجھے اس لیے بھی یاد آگئے کہ لگ بھگ 22 سال بعد میری ملاقات علی عباس سے ہوئی ‘ وہ ایک معروف الیکٹرانکس کمپنی میں مارکیٹنگ ہیڈ ہے‘ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے‘ ملتان کی یادیں اور بچپن کی شرارتیں یاد کیں۔میں نے ہنستے ہوئے علی عباس کو اپنی ٹیوشن فیس والی حرکت بھی بتائی۔۔۔میری بات سن کر وہ یکدم سکتے میں آگیا‘ پھر بے اختیار اس کی پلکوں کے گوشے نم ہوگئے۔میں گھبرا گیا کہ کہیں میری حرکت کا خمیازہ علی عباس تو نہیں بھگتتا رہا؟؟؟ لیکن علی عباس نے ایک ایسی بات کہی کہ میرا پورا وجود برف ہوگیا۔کہنے لگا’’ ماسٹر شفیع سے ٹیوشن پڑھنے والا ہر طالبعلم یہی کیا کرتا تھا‘‘۔۔۔



گل نوخیز اختر 

17 مئی، 2014

دین باختہ چینلوں اور اینکروں کا ’معافی‘ مانگنا!


کیا واقعتاً معاملہ اتنا ہی سادہ ہے کہ کسی دین دشمن پر خدا خدا کرکے جب کبھی ’گرفت‘ کی نوبت آئی تو اس نے یکدم پینترا بدلا اور کہا کہ اس نے استغفار کرلیا ہے لہذا اس کے منصب اور حیثیت پر ہرگز کوئی ہاتھ نہ ڈالا جائے!!!؟
ان ظالموں کی حیاباختگی پر تو اہل دین روز کوئلوں پر لوٹتے ہیں اور ان کا گھناؤنا کردار تو پوری قوم پر واضح ہے، آئیے آپ کو ایک ایسا واقعہ سنائیں جہاں ایک صالح آدمی سے محض نادانستگی میں ایک ایسا فعل سرزد ہوجاتا ہے جو قبلہ کے شایانِ شان نہ تھا۔۔۔ دیکھئے اس پر کس طرح ایکشن لیا جاتا ہے (مسئلہ خدا کی حرمتوں کی دھاک بٹھانا ہے)

یہ حدیث سنن ابی داوٗد ، صحیح ابن حبان اور دیگر کتب میں وارد ہوئی ہے، اور محدث البانی نے اس کی تحسین کی ہے

’’سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو ایک قوم کی امامت کروا رہا تھا۔ اس آدمی نے قبلے کی طرف تھوکا جبکہ رسول اللہﷺ اُسے دیکھ رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہولیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اب یہ تم لوگوں کو نماز نہ پڑھائے۔ پھر جب اُس نے ان کو نماز پڑھانا چاہی تو انہوں نے اُسے روک دیا اور رسول اللہﷺ کا حکم سنایا۔ تب اُس آدمی نے رسول اللہﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اور غالباً یہ بھی فرمایا: ’’تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے‘‘

یعنی اس نیک آدمی کا مسلمانوں کی امامت پر فائز رہنا پھر بھی بحال نہیں ہوا۔

آخر کیوں؟

غزوہ تبوک میں رسول اللہﷺ کے حکم عام کی نافرمانی کر بیٹھنے والے تین برگزیدہ اصحاب سے رسول اللهﷺ کے حکم پر مسلسل پچاس روز تک اہل مدینہ کا بائیکاٹ رہا، باوجود اس کے کہ وہ نیک ارواح توبہ کر چکی تھیں، محض اس وجہ سے کہ آئین خداوندی کی ایک دھاک بیٹھ جائے، ورنہ اُن برگزیدہ ہستیوں سے محبت تو سبھی کر رہے تھے اور ان کی جگمگاتی سیرت اور سابقہ کردار ہر کسی سے تحسین پاتا رہا تھا۔

جب ایسا ہے تو پھر جن ظالموں کی پوری سیرت فحاشی اور بےحیائی کی ترویج سے پُر ہے، ان کے دعوائے معافی پر ہم ایک سیکنڈ میں سب کچھ بھول جائیں؟

’معافی‘ مانگنا بندے اور خدا کا معاملہ ہے۔ مگر معاشرے پر اسلامی حرمتوں کی دھاک بٹھا کر رکھنا ایک سماجی معاملہ ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں کہ آپ نے خدا کی حرمتوں کی سرعام پامالی کرکے ایک ’س۔و۔ر۔ی‘ بولا اور ہم نے آپ کو پھر سر آنکھوں پر بٹھا لیا اور آپ کے حق میں مولویوں کے فتووں کا تانتا بندھ گیا!!؟

بھائی تم نے معافی مانگ لی ہے تو بہت اچھا کیا۔۔۔ مگر ایسے کرو کہ اپنی اس پوزیشن سے ہٹ جاؤ۔ مسلمانوں کو ’آگہی‘ اور ’راہنمائی‘ دینے کے اس منصب سے سبکدوش ہوجاؤ۔ یہ بھی ایک طرح سے معاشرے کی امامت ہی ہے، اور تم کبھی بھی اس کے اہل نہیں رہے۔ اب اگر مسلمانوں کی گرفت میں تم تھوڑا بہت آئے ہو، تو تمہاری معافی تمہارے اور خدا کے مابین ہوگی، مسلمان تمہیں اس پوزیشن پر بہرحال نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ تمہارا چینل بند کردیا جانا پھر بھی ان شاء اللہ ایک نہایت راست اور موافق شریعت اقدام ہوگا۔

مسلمان ہمت کرکے ان بدزبانوں کو لگام ڈال لیں تو ان شاء اللہ اہل الحاد کے حوصلے پست اور اہل شریعت کے حوصلے بلند ہوجائیں گے اور دیگر بدزبانوں کی جانب بڑھنا بھی کچھ نہ کچھ آسان ہوجائے گا۔

بنابریں۔۔۔ ’معافی‘ کی بات ہرگز مسلمانوں کو اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹانے کا باعث نہیں ہونا چاہئے
۔
آئندہ بھی کوئی موذی اہل بیت اور صحابہ کا گستاخ اپنی ’لائیو معافی‘ کا ڈھول پیٹے تو اسے یہی کہا جائے کہ برخوردار معافی مانگنا بہت اچھی بات ہے لیکن تمہیں اپنی پوزیشن سے بہرحال اترنا ہوگا
۔

14 مئی، 2014

کلام اقبال پر تھرکتے ٹھمکتے کولہے ہلاتے نوجوان اور "انقلابی بجلی چور"

سیلانی کے قلم سے 
 
میوزکل اسلامی انقلاب
کل مزار قائد پر طاہر القادری صاحب کا میوزیکل اسلامی انقلاب دیکھا اور دیر تک دیکھتا ہی رہا خوش شکل خوش لباس خوش اطوار اور باخلاق خواتین اور جینز میں ملبوس لڑکیوں کو دلوں کی دھڑکن تیز کر دینے والے میوزک کے ساتھ بنائے گئے کلام اقبال پر جھوم جھوم کر ، لہرا لہرا کر مصطفوی انقلاب کے نعرے لگاتے دیکھنا اچھا لگا مگر کلام اقبال کو ہیجان انگیز میوزک کے ساتھ سننا ایسا ہی لگا جیسے روح افزا کو وہسکی میں ملا کر گھونٹ بھرا جائے۔۔۔۔۔نوجوانوں کو کلام اقبال پر پہلی بار کولہے مٹکاتے دیکھا اگر اقبال رحمہ اللہ حیات ہوتے تو اس نظارے کے بعد یقینا مرثیہ لکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔




11 مئی، 2014

لنڈے کے انگریز


 تمام کچے پکے اصلی نقلی کالے پیلے سیکولرز لبرلز اور ملحد حضرات سے گزارش ہے میری پوسٹ پڑھنے سے پہلے منہ میں ہاجمولہ رکھ لیں ورنہ اپنی ذمہ داری پر پڑھیں۔ کیوں کہ میری اطلاعات کے مطابق ہر جگہ مرچیں موسم کے حساب سے لگتیں ہیں لیکن لبرلز کے ہاں جب سچ بولو تب ہی لگ جاتی ہیں۔ آخر ''فریڈم آف سپیچ'' کا زمانہ ہے بئی۔
جانے کب کون کس کو بلاک دے ایکسٹریمسٹ کہہ کر
فیس بک کی فیس بک لبرل ہوئی پھرتی ہے۔

یوں تو دنیا میں ''سانپوں'' اور ''لبرلز'' کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں مگر تمام ''سانپ'' زہریلے نہیں ہوتے۔ یہاں ہمارا موضوع ''سانپ'' نہیں بلکہ ''لبرلز'' ہیں۔ ''مسلم دنیا'' کے تناظر میں ''لبرلز'' کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک باہر کا بنا ہوا ''اصلی'' یا ''اوریجنل'' دوسرا یہاں کا بنا ہوا ''نقلی'' یا ''دو نمبر''۔ ''نقلی لبرلز'' ''دیسی ساختہ'' ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر انہیں ''دیسی لبرلز'' بھی کہا جاتا ہے لیکن چونکہ اس میں لفظ ''دیسی'' استعمال ہوتا ہے اور ''دیسی لبرلز'' کو ہر اس نام، چیز اور جگہ سے نفرت ہوتی ہے جس میں لفظ ''دیسی'' استعمال ہو اس لیئے یہ خود کو ''دیسی لبرلز'' کہلوانا پسند نہیں کرتے. جبکہ ایک تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ''دیسی لبرلز'' خود کو ''امریکی سنڈی'' ''فارمی لبرلز'' اور ''بے غیرت برگیڈ'' کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ مگر ''دیسی لبرلز'' کے لیئے آج تک کا سب سے مناسب نام جو دریافت ہوا ہے وہ ''لنڈے کے انگریز'' ہے۔ تو آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ ''لنڈے کے انگریز'' کون کیوں کب اور کیسے ہوتے ہیں۔ چونکہ بات ہونے کی چل رہی ہے اس لیئے ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں۔
پیدا ہوا لبرل تو شیطان نے یہ کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے۔

ماہرین کے نزدیک ''لنڈے کا انگریز'' ہونا ایک ''مینٹل ڈس آڈر'' ہے۔ وہ لڑکا جسے بچپن سے اس کے ماما پاپا یہ کہتے ہوں ''بےبی! ڈانٹ گو آؤٹ سائیڈ، پلیز کم ان سائیڈ، پلے ود یور سسٹر'' اور وہ بچہ جو کلاس میں سب سے مار کھاتا ہو، جس کا پسندیدہ رنگ گلابی پسندیدہ کھیل گڈے گڑیا کی شادی، پہل دوج، آپا بوا ہو، جس کا سرمایہ حیات اس کی باربی ڈولز کی کلیکشن ہو، تو سمجھ جایئے وہ لڑکا بڑا ہو کر ''لنڈے کا انگریز'' بنے گا۔

یوں تو ''لنڈے کے انگریز'' گاہے بہ گاہے اپنی عالمانہ ٹائیپ جاہلانہ گفتگو سے عوام کو محظوظ کرتے ہی رہتے ہیں مگر پھر بھی ان کے شب روز اسی انتطار میں گزرتے ہیں کہ اسلام یا پاکستان سے متعلق کوئی بری خبر ملے کوئی پاکستانی چوری کرتا پکڑا جائے کوئی دھماکہ ہو کسی ملک کا جہاز گم ہوجائے بس پھر یہ ہوتے ہیں اور چوبیس گھنٹے نہ رکنے والی دانش وڑانہ گفتگو۔ دلیل وہی دی جاتی ہے جو سعادت حسن منٹو نے دی تھی کہ اگر معاشرے میں گندگی غلاظت ہے تو میں تو دکھاوں گا۔ ان ''لنڈے کے انگریزوں'' کی مثال اس مکھی کی طرح ہے جو اگر پھولوں کے اوپر بھی اڑ رہی ہو تو غلاظت ڈھونڈ نکالتی ہے اور بیٹھتی غلاظت پر ہی ہے۔ خیر پسند اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا۔
''ویسٹرن لبرل'' گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور یہ ''لنڈے کے انگریز'' ''گدھے'' کی طرح ڈھیچو ڈھیچو کرتے ہوئے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ اسلام کے خلاف کینہ بغض اور زہر ان میں ایسے بھرا ہوا ہوتا ہے جیسے ''کوکومو'' میں چاکلیٹ۔ امید ہے آپ کو ''لنڈے کے انگریزوں'' کے بارے میں خوب پہچان ہوگئی ہوگی۔

آخر میں ''لنڈے کے انگریزوں'' کی نذر اکبر الہ آبادی کا یہ شعر۔

ﺍﺭﺗﻘﺎﺀ ﭘﺮ ﺑﻬﻰ ﺁﺩﻣﻰ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ،
ﻳﺎ ﺍﻟﮩﻰ   ﻳﮧ  ﻛﻴﺴﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﮨﻴﮟ 



بشکریہ: انگوٹھا چھاپ
 

21 فروری، 2014

زہین بم



سیلانی کو یقین نہیں آ رہا تھا، لیکن سیل فون پر ایس ایم ایس کی قطار بندھی ہوئی تھی، سب کا مضمون، مدعا اور پیغام ایک سا تھا، صرف الفاظ کی ترتیب مختلف تھی۔ سیلانی نے تیزی سے تکیے کے نیچے ہاتھ مار کر ٹیلی ویژن کا ریموٹ کنٹرول لیا اور جھٹ سے ٹی وی آن کر دیا۔ سامنے ایک نیوز چینل کے مارننگ شو کی اینکر خرمستیوں میں مصروف تھی۔ ان مارننگ شوز کی منطق اسے آج تک سمجھ نہیں آئی، کوئی کس حال میں ہو، بم دھماکے ہو رہے ہوں، زلزلہ آئے یا دریا چڑھ آئے، ان کا ڈھول ڈھمکا جاری رہتا ہے، ان کے شو میں شادیاں ہو رہی ہوتی ہیں یا یہ آسیب زدہ بنگلوں میں کیمرے لے کر جنات کا انٹرویو کرنے پہنچی ہوتی ہیں۔ سیلانی نے لاحول پڑھ کر ایک اور نیوز چینل لگا دیا۔ اسکرین پر دل دہلا دینے والی پٹیاں اس کے سیل میں آنے والے پیغامات کی تصدیق کر رہی تھی کہ شمالی وزیرستان میں پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بمباری کی تھی۔
نیوز چینل کی اینکر وزیرستان میں موجود اپنے نمائندے سے اس بمباری کے بارے میں تفصیلات جاننا چاہ رہی تھی اور ساتھ ساتھ ناظرین کو آگاہ بھی رہی تھی کہ شمالی وزیرستان میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے طالبان کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ نیوز اینکر نے بیتابی سے اپنے چینل کے نمائندے سے پوچھا: یہ علاقہ کیسا ہے، کس قسم کی آبادی ہے، کتنا جانی مالی نقصان ہوا ہے؟

مگر نیوز چینل کا نمائندہ صرف بمباری کی تصدیق کر رہا تھا، اس کا کہنا تھا کہ ان علاقوں تک اس کی رسائی نہیں۔ ٹیلی فون وغیرہ کا نظام نہیں ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنا نقصان ہوا ہے۔ مگر سیلانی جانتا تھا کہ جیٹ لڑاکا طیارے کے پیٹ اور پروں کے نیچے مرغابیاں گرانے والی ائیر گنیں نصب نہیں ہوتیں۔ ان بموں، میزائلوں کا وزن سینکڑوں کلو میں ہوتا ہے، جب یہ سینکڑوں کلو بارود کسی علاقے علاقے پر گرایا جاتا ہے تو زمین تھرا اٹھتی ہے، پہاڑ لرز جاتے ہیں، وہ سوچنے لگا کہ کیا یہ انتہائی خطرناک حربہ استعمال کرنے کا وقت آ گیا تھا؟
 


 سیلانی مسہری پر نیم دراز سامنے ٹیلی ویژن اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھا، وہ ایک کے بعد ایک چینل بدلتا جا رہا تھا کہ شاید کہیں سے مزید کوئی اطلاعات مل سکیں، مگر ہر چینل کا نمائندہ بمباری کے نتیجے میں ہونے والے نقصان سے بے خبر تھا یا ابھی اسے اور اس کے نیوز چینل کو اوپر سے اجازت نہیں دی گی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اشارہ ہو گیا اور نیوز چینلز پر بریکننگ نیوز کے دھماکے ہونے لگے۔ اطلاع یہ تھی کہ کامیاب فضائی حملے میں چالیس طالبان مارے گئے تھے، ان میں ازبک اور تاجک سمیت دیگر غیر ملکی بھی شامل تھے۔ ان کے مرکز مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔ سیلانی خاموشی سے چائے کا کپ ہاتھ میں لیے یہ بریکننگ نیوز دیکھ رہا تھا کہ اس کا سیل فون بجنے لگا۔ سیلانی کا کسی سے بات کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا، اس نے کال کاٹ دی، مگر پھر وہی نمبر سیل فون کی اسکرین پر دوبارہ نمودار ہو گیا۔ سیلانی نے پھر لائن کاٹ دی، لیکن فون کرنے والا اس سے بات کرنے پر مُصر تھا، وہ دوبارہ کال کرنے لگا۔ سیلانی نے یہ سوچ کر کہ پتا نہیں کون کس مجبوری میں بات کرنا چاہ رہا ہے، کال وصول کر لی۔

"سیلانی بھائی! آپ کدھر ہیں، میں میں..... میں عبداللہ جان ہوں، آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔" فون پر کسی نوجوان کی آواز آئی۔ وہ بدحواس اور بوکھلایا ہوا لگ رہا تھا،
اس نے بے ربط انداز میں اپنی بات مکمل کی۔
"مگر میں تو آج نہیں مل سکتا، بہت معزرت، ہاں کوئی کام ہو تو بتاؤ۔"
"نہیں، نہیں فون پر نہیں، پلیز آپ دس منٹ دے دیں، بڑی مہربانی ہو گی، میں نے بہت امید سے آپ کو فون کیا ہے۔" نوجوان بہت پریشان لگ رہا تھا۔
سیلانی کی جمعرات کے دن چھٹی ہوتی ہے، وہ گھر پر تھا اور اس کا گھر کراچی کے ایک کونے میں ہے اور پھر سچی بات ہے، آج کل کے حالات میں کسی اجنبی سے ملنے گھر پر ملنا مناسب بھی نہیں، لیکن وہ نوجوان اتنا پریشان تھا کہ سیلانی انکار نہ کر سکا اور اسے گھر کا ایڈریس سمجھانے لگا، قریبا ڈیڑھ گھنٹے بعد اس کا سیل پھر بجا۔ عبداللہ جان ہی کی کال تھی۔ "سیلانی بھائی! ہم آپ کے گلی میں کھڑے ہیں۔"

سیلانی گھر سے باہر نکلا، گلی کی نکڑ پر ایک ٹیکسی کھڑی تھی، جس میں غالبا عبداللہ جان ہی تھا۔ سیلانی نے ہاتھ ہلایا تو ٹیکسی میں حرکت ہوئی اور وہ قریب آ کر رک گئی۔ ٹیکسی سے ستائیس اٹھائیس سالہ سرخ و سپید بھوری آنکھوں والا نوجوان باہر نکلا۔ غالبا وہی عبداللہ جان تھا، اس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر شخص بھی تھا۔

"سیلانی بھائی؟" نوجوان نے تصدیق چاہی۔
"اندر آ جائیں" سیلانی   انھیں لے کر مہمان خانے میں آ گیا اور انھیں بٹھا کر مہمان داری کے لیے اٹھنے لگا تو عبداللہ جان نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا اور بولا "واللہ کوئی تکلف نہیں، ہم بہت جلدی میں ہے، بس ایک بات پوچھنا ہے۔"
"ارے ایسی بھی کیا جلدی، ذرا دم تو لو، اچھا پانی تو پیو۔" سیلانی مہمانوں کے لیے پانی لے آیا۔
"اب بتاؤ کیا بات ہے؟"
"سیلانی بھائی! میں یہاں کراچی میں جاب کرتا ہوں، مگر ہم شمالی وزیرستان میر علی کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والے ہوں، جہاں رات کو بمباری ہوئی ہے۔"
"اوہ۔"
"ہمیں صرف معلومات چاہئیں، ہمارے ادھر تین ماموں اور نانا لوگ رہتا ہے، ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔" عبداللہ جان نے پریشانی کے عالم میں کہا۔

"الله انھیں اپنی حفاظت میں رکھے، میں آپ کی کیا مدد کروں اور کیسے کروں؟"
"آپ کے ذرائع تو ہوں گے ناں، کسی سے معلومات کر دیں، وہ طالبان نہیں ہیں، سادہ سے لوگ ہیں، ان کا طالبوں سے کوئی واسطہ نہیں، ماموں کا ڈرائی فروٹ کا کام ہے، نانا کا ڈاٹسن گاڑی ہے۔" عبداللہ نے امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"میری جان پہچان کراچی میں ہے، کوئی شہر ہوتا تو کسی نہ کسی کو فون کر کے معلوم کیا جا سکتا تھا، مگر وہاں کس سے بات کی جائے، میری تو کوئی واقفیت نہیں، نہ ہی کسی کا نمبر ہے، وہاں تو سنا ہے کہ ٹیلی فون بھی نہیں ہیں۔" سیلانی نے عبداللہ جان کو سمجھایا۔
"اچھا، کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا؟" عبداللہ جان نے پوچھا۔
"یار میر علی کا تو نام بھی آج ہی سنا ہے، میری وہاں کوئی واقفیت نہیں، میں معزرت چاہتا ہوں۔" سیلانی نے اپنی بیچارگی ظاہر کی اور ساتھ ہی نوجوان کو حوصلہ دینے لگا کہ گھبراؤ مت، حوصلہ رکھو، وہاں سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا"۔
 


سیلانی کی بات پر عبداللہ جان نے طنزیہ انداز میں کہا: "سیلانی بھائی! بم بارود کسی کو فرق نہیں کرتا، آپ کیا سمجھتا ہے کہ بم نے پھٹنے سے پہلے اعلان کیا ہو گا کہ غیر طالب ایک طرف ہو جاؤ، بم پھٹنے لگا ہے.... میں قسم اٹھاتا ہوں کہ میں اور میرے گھر والوں میں سے کوئی طالب نہیں، لیکن بمباری میں تو یہ پتا نہیں  چلتا ناں، ہم کو بتاؤ کہ ہمارا کیا قصور تھا؟ ہم نے تو کسی کا گلا نہیں کاٹا، ہم نے تو جیل نہیں توڑا، ہم کو کیوں سزا دیا گیا ہے؟" عبداللہ جان اٹھ کھڑا ہوا، وہ نہایت عجلت میں تھا، اس کا کہنا تھا کہ اب اسے سہراب گوٹھ سے بس پکڑ کر بنوں جانا ہو گا سیلانی نے بہتیرا کہا کہ کم از کم ایک چائے تو پی لو، لیکن عبداللہ جان نے معزرت چاہی۔ سیلانی اسے رخصت کرنے کے لیے باہر آیا اور بولا: "اتنی سی بات کے لیے آپ نے اتنی تکلیف کی، آپ فون پر ہی پوچھ لیتے؟"
"سیلانی بھائی! فون پر بات کرنا اور وہ بھی وزیرستان کا، ٹھیک نہیں تھا ناں، اس لیے آپ کو تکلیف دیا۔"
عبداللہ نے الوداعی مصافحہ کیا اور ٹیکسی میں بیٹھتے بیٹھتے بولا: "سیلانی بھائی! نقصان بہت ہوا ہو گا، حکومت کو ابھی بمباری نہیں کرنا چاہئیے تھا، جب ہم پر ڈارون حملہ ہوتا تھا، اس وقت ہمارا جیٹ جہاز کدھر تھا؟ وہ ان امریکی ڈارون کو گرانے نہیں آتا تھا، ہم تو دونوں طرف سے مارا گیا، ادھر سے امریکا نے مارا، ادھر سے اپنوں نے مارا........"

عبداللہ جان کے شکوے کا جواب یقینی طور پر پرویز رشید یا خواجہ آصف کے پاس ہو گا، وہ یقینا جلد ہی بتائیں گے کہ حکومت کی توجہ اور محنت سے تیار کے گئے "زہین بم" شمالی وزیرستان میں گرائے گئے، ان بموں نے پھٹنے سے پہلے غیر طالبان آبادی کے دروازوں پر دستک دی انہیں بھاگنے کے لیے کہا اور جب رات ساڑھے بارہ بجے سولین آبادی کا انخلا ہوگیا، صرف طالبان اپنے ٹھکانوں پر رہ گئے تو یہ بم ایک ایک کر کے پھٹتے چلے گئے..... یقینا ایسے ہی بم لیاری، منگو پیر اور کراچی کے نو گو ایریاز کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بھی استعمال کیے جائیں گے۔ وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ اسلام آباد بھی اب خطرناک ترین شہر بن چکا ہے، وہاں دہشت گردوں کے گروہ ہیں، حکومت سادہ سی بات نہیں جانتی کہ ڈرون حملوں کے ردعمل میں طالبان سامنے آئے، اب اس بمباری سے کون سامنے آئے گا؟؟
دہشتگردی ختم ہو گی یا بڑھے گی؟ اس طرح دہشت گردی ختم کرنی ہے تو شناختی کارڈ چیک کر کے سب وزیرستان والوں کو ایک جگہ جمع کر کے بم نہ گرا دیا جائے، ان بیچاروں کے لیے تو کوئی دھرنا دے گا، نہ یوم سوگ کا اعلان ہو گا، نہ رہے کا بانس نہ بجے گی بانسری۔ متفکر سیلانی جاتی ہوئی ٹیکسی کو گلی کے نکڑ سے مڑتے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

سیلانی کے قلم سے


13 فروری، 2014

مرد بھی بِکتے ہیں ۔۔۔ جہیز کے لیے

مرد بھی بکتے  ہیں ۔۔۔ جہیز کے لیے
Dowry ... A form of Male prostitution

آج کل نفسہ نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوبرو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں
۔
دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے سرمایہ داروں کے اس دور میں‌ لڑکیوں کو بھی سرمایہ سمجھا جاتا ہے اور اس سرمایہ کاری کے بدلے انکے گھر والے خصوصا مائیں بہنیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کےلئے سرگرداں رہتی ہیں۔

وہ لڑکی کا رشتہ لینے جاتی ہیں یا یوں کہیں اپنے بیٹے ،بھائی کا کاروبار کرنے نکلتی ہیں لڑکی سے زیادہ اس کی امارات دیکھتی ہیں، لڑکی والوں کے ہاں جا کر انکا زہنی کیلکولیٹر بڑی تیزی سے حساب کتاب مکمل کر لیتا ہے اور وہاں‌ سے کچھ ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں وہ پوری طرح سے آگاہ ہوجاتی ہیں گاڑی، کوٹھی اور دیگر قیمتی سازوسامان تو ان کی فہرست میں‌ لازمی مضامین کی طرح شامل ہوتے ہیں ان کے بعد کہیں جا کر لڑکی کی باقی خوبیوں (جن میں اسکا خوش شکل ہونا بھی شامل ہے) کو پرکھا جاتا ہے چنانچہ جس خوش قسمت لڑکی کے پاس دینے کو قیمتی اور‌ڈھیر سارا جہیز ہو نیز خوبصورت بھی ہو وہ تو بیاہی جاتی ہے اور جن بدقسمت لڑکیوں کے پاس یہ سب کچھ موجود نہیں ہوتا وہ سوائے اپنی تقدیر سے گلہ کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی۔

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو دیکھنے میں انتہائی با اخلاق و مذہبی ہیں اور اٹھتے بیٹھتے آیات قرآنی اور ‌احادیث نبوی بیان کرتے نہیں تھکتے لیکن معاملہ اپنے بیٹے کی شادی کا ہو تو ساری آیتیں ،حدیثیں بھلا کر اس کے دام وصول کرنے لگتے ہیں ۔

●●● کوئی تو ملے جو کہے ہاں میں خود دار نہیں ●●●

آج تک بے شمار لوگوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ کوئی ایسا نہ ملا جس نے یہ کہا ہو کہ

”ہاں ہم نے جہیز کا مطالبہ یا فرمائش کی تھی“ ۔

جتنے ملے سب شرفاء ملے ۔ ہر ایک نے یہی کہا بلکہ فرمایا کہ

”الحمدلله ہم نے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ، ہمارے ہاں اس چیز کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے “ ۔

جب دور دور تک کوئی ایسا شخص نہیں جس نے جہیز مانگا ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرہ کا ہر باپ اور ہر بھائی اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کے لیے پریشان ہے ؟؟؟؟

جب وہ اور اُن کا سارا گھرانہ ان تمام ہندوانہ رسموں کو نا پسند کرتا ہے تو پھر یہ سب کیونکر ہوا ؟ پوچھیے  تو انتہائی شرافت اور فخر سے فرماتے ہیں :

”ہم نے تو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمیں سوائے لڑکی کے اور کچھ نہیں چاہئے ۔ جو بھی دینا ہے وہ اپنی بیٹی کو دے دیجئے ۔۔۔ وہ بھی خوشی سے“۔
دراصل یہی وہ اصل کھیل ہے جسے لوگ شرافت و خوداری کا لبادہ اوڑھ کر تہذیب ، رواج یا سسٹم کے نام پر کھیلتے ہیں ۔
●●●●●●●●●●●●●●●●

11 فروری، 2014

مگر کیا کریں کہ شریعت کا ڈر ہے

ہمارے چچا چودھری چراغ دین چکڑالوی کا بھی آج کل وہی حال ہوگیا ہے، جس سے بے حال ہو کر ایک زمانے میں مرحوم ضمیرؔ جعفری ہر آئے گئے  سے پوچھتے پھرتے تھے کہ:
یہ دو دِن میں دُنیا کو ’کی‘ ہو گیا ہے
کہ ہر آدمی مولوی ہو گیا ہے
جسے دیکھیے اپنی آنکھیں میچے اور بھاڑ سامنہ کھولے ’شریعت‘ پر خطبہ دیے جارہا ہے۔ کوئی سنے یا نہ سنے۔ اکثریت اُن لوگوں کی ہے جو ’شریعت‘ کو خوب سمجھا سمجھا کر اُسے ’درسِ جمہوریت‘ دے رہے ہیں۔اُس جمہوریت کا درس جس میں مقتدر اعلیٰ خدا نہ ہو اور جس کے مقنن اعلیٰ مصطفی ؐ نہ ہوں۔ مگر دیکھیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہور عوام نے ’اتفاقِ رائے‘ سے جو 1973ء کادستور منظور کیاتھا، اُس میں بھی ’قرآن و سنت‘ کی بالادستی کا قانون موجود ہے۔طالبان اور مولانا عبدالعزیز نے ہی نہیں، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں بھی 500 علمائے کرام نے ’ملک میں فی الفور شریعت نافذ‘ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔سید منورحسن کہتے ہیں کہ ’شریعت ڈرنے یا ڈرانے کی چیز نہیں ہے، شریعت تو رحمت ہے‘۔ لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ’بندوق سے شریعت نافذ نہیں ہوسکتی‘۔ یعنی شریعت آئینی طریقے سے نافذ ہوگی۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ’آئین میں پہلے ہی قرآن و سنت کا نظام موجود ہے‘۔ گویا شریعت اورآئین میں کوئی تصادم نہیں، جو ہمارے بہت سے دانشور ظاہر کر رہے ہیں۔ متعدد آئینی ماہرین بھی کہہ چکے ہیں کہ ’نفاذِ شریعت کا مطالبہ آئینی مطالبہ ہے‘۔مگر اس کے باوجود جو لوگ ’شریعت‘ کی مخالفت کر رہے ہیں اُنھیں ڈر صرف اس بات کا ہے کہ ’شریعت‘ نافذ ہوگئی تو شراب و زنا اور سود اورسٹہ بند ہو جائے گا۔پھر ’تیرا کیا بنے گا کالیا؟‘کچھ دنوں کے بعد شریعت سے ڈرنے اور ڈرانے والے یہ لوگ آئین پاکستان کی بھی مخالفت شروع کر دیں گے۔یہ کہہ کر کہ: ہم آئین پاکستان کو مانتے تو ہیں ۔۔۔ ’مگر کیا کریں کہ شریعت کا ڈر ہے‘۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ طالبان ہمارا طرزِ زندگی بدل دینا چاہتے ہیں، وہ دراصل یہ کہتے ہوئے ڈرتے ہیں ’شریعت‘ ہمارا طرزِ زندگی بدل دے گی۔دراصل انھیں وہ طرز زندگی نہیں چاہیے جس میں ’خدا‘ موجود ہو۔ جس میں رسولؐ کی اطاعت لازم ہو۔وہ ایک بے خدا اور بے لگام قسم کا نظام چاہتے ہیں۔ ایسا نظام کہ جس میں ’حیا‘ نہ ہو اور وہ جو چاہیں کرتے پھریں۔آئیے ذرا ہم پلٹ کر پیچھے دیکھیں۔ جیسا کہ ہم نے اپنے ایک پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ پچھلی صدی (بلکہ پچھلے ہزاریے) میں ایک تہائی دُنیا پر ’سوشل اِزم‘ کی حکمرانی تھی۔ مگر ’سوشل اِزم‘ کے کفرہونے میں ہمارے علماء کو کبھی تذبذب ہوا نہ عوام کو۔ اِ س ضمن میں تین سو تیرہ علماء کا یہ فتویٰ بہت مشہور ومقبول ہواکہ:’’سوشل اِزم کفرہے‘‘۔ شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ اِس نظریہ کی بنیاد ہی کفرو اِنکار پر تھی۔تمام خداؤں کااِنکار کرنے کی دھن میں اِس نظریہ کے بانیان ’خدائے ذوالجلال و الاکرام‘ کا بھی اِنکار کربیٹھے۔ اُنھوں نے ہر مذہب کو ’افیون‘ قرار دیا، حتیٰ کہ ’دین حق‘ کا مطالعہ کیے بغیر اور اس کے نظام کو سمجھے بغیر ’حق‘ سے بھی بغاوت کا اعلان کردیا پھرزمین کے کچھ خطوں پر اقتدار حاصل ہوجانے کے نشہ سے سرشار ہوکر’ خدا‘ کو دیس نکالا دینے کا اعلان بھی کردیا۔ اب تو وہ دیس ہی نہیں رہا جس سے خدا کونکالا گیا تھا۔کیوں کہ خداہی نے اُس دیس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ٹکڑے کے ذکر پر مصوری کا ایک ٹکڑا یعنی ایک فن پارہ یاد آگیا۔ایک بار ایک مصور نے نطشے کے ایک مشہور قول کا بہت دیدہ زیب اور خوبصورت کتبہ بنایا:


(God is dead” \(Nietzsche‘‘
’’خدامرچکاہے‘‘۔(نطشے)۔

اگلا شہ پارہ اُس نے نطشے کے مقبرے کابنایا۔ قبر پر ایک خوبصورت کتبہ نصب کیا ۔ اُس کتبے پر نہایت پُر کشش کیلی گرافی کرتے ہوئے لکھا:
Nietzsche is dead”/ (God
‘‘
’’نطشے مرچکاہے‘‘۔(خدا)۔


سوشل اِزم کے برعکس’مغربی جمہوریت‘ کو کفر قرار دینے میں ہمارے عوام ہی کو نہیں ہمارے علماء کو بھی تذبذب رہا ہے۔اگرچہ بعض علمائے دین نے یہ بھی کہا:’’لااِلٰہ اِلّا اﷲ کے مقابلہ میں جمہوریت کا کلمۂ امتیاز ’لااِلٰہ اِلّا الانَام ‘ہے۔ یعنی ’عوام کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں۔جوکلمۂ کفرہے‘‘۔ ممکن ہے کہ نقلِ کفر‘ کفر نہ ہو۔مگر شاید اِس کوکفرسمجھنے میں تذبذب کی فقہی وجہ یہ ہوئی ہوکہ نظریۂ جمہوریت کے بانی کم ازکم اپنی اور اپنے زرِ کاغذی (ڈالر) کی زبانی یہ نعرہ تو لگا تے ہیں:\”In God we trust\”(ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں)۔

 چناں چہ’جمہوریت‘ کوبھی ’باخدا‘ بنانے اور پوری طرح سے مشرف بہ اِسلام کرنے کی مخلصانہ اور داعیانہ تبلیغی کوششیں شروع کر دی گئیں۔اِس نومُسلم کے لیے ’اِسلامی جمہوریت‘ کا نام بھی تجویز کردیا گیا۔پھر یہاں تک کہا گیا کہ ’جمہوریت ہی عین اِسلام ہے‘۔ خیرایسی کوششیں تو ’سوشل اِزم‘ کے غیر اِسلامی نظریات کو مشرف بہ اِسلام کرنے کے لیے بھی کی گئی تھیں۔مگر بارآور نہ ہوسکیں۔ وہاں بھی ’اِسلامی سوشل اِزم‘ کی اصطلاح گھڑی گئی تھی۔ حتیٰ کہ’عین اِسلام‘ قراردینے کے لیے اِسے بھی ’مساواتِ محمدیؐ‘ کا نام دے ڈالا گیا۔مگر مسلمانوں نے اِس کا جواب دیا:
’’ اِسلام کو غیر اِسلامی بیساکھیوں کی محتاجی نہیں ہے۔اِسلام کا اپنا معاشی نظام ہے اوراِ س کی اپنی فقہی اصطلاحات موجود ہیں‘‘۔

جواب دُرست تھا۔لیکن اگر’اِسلامی سوشل اِزم‘ کے لیے ہمارے فقہاء کے یہاں’ اِسلام کا عدلِ اجتماعی‘ کی اِصطلاح ملتی ہے تو ’اِسلامی جمہوریت‘ کے لیے بھی اِسلام میں قرآنِ کریم سے ماخوذ ’شورائیت‘ یا ’مشاورت‘ کی اپنی اصطلاح موجود ہے۔ قرآنِ مجید کی بیالیسویں سورہ کاتونام ہی ’سورۂ شُوریٰ‘ ہے۔ جومسلمانوں کی بابت بتاتی ہے کہ: ’’وَاَمْرُھُمْ شُوریٰ بَیْنَھُمْ‘‘۔(الشوریٰ۔38) یعنی مسلمان: ’’اپنے معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں‘‘۔ (یہاں شخصی، فوجی یاگروہی آمریت کی کوئی گنجایش نہیں)۔

’سوشل اِزم‘ کوپھیلانے والوں نے اگر تاریخ کے صفحات پر ’سمر قندو بخارا کی خونیں سرگزشت‘ چھوڑی۔ تو دُنیابھر میں بالجبر ’جمہوریت پھیلانے والوں‘ کی طرف سے بھی عراق اورافغانستان کی لرزہ خیز داستان چھوڑی جائے گی۔ اِس میں ابوغرائب جیل کا بھی ذکرآئے گا۔بگرام جیل کابھی اورخلیجِ گوانتاناموکابھی۔ پاکستان میں کی جانے والی خوں ریزیاں اِن قصوں پرمستزاد ہوں گی۔
القصہ مختصر ۔ سید ابولاعلیٰ مودودیؒ کی ایک پیش گوئی پوری ہوئی۔آج سوشل اِزم کو سَر اور منہ وغیرہ چھپانے کے لیے ماسکو میں محدود ہوجانا بھی مشکل نظرآ رہاہے۔ قوموں کی روِش سے ہمیں ہوتا ہے یہ معلوم ۔۔۔ کہ بہت جلد سرمایہ داری اور اس کے پھیلاؤ کے اوزار ’جمہوریت‘ سے خود واشنگٹن کے لوگ بھی بیزار ہوجائیں گے۔ پیش گوئی کا دوسرا حصہ پورا ہوجائے گا۔ تب اقبالؔ کی صدا ’اے نوجواں مُسلم‘کہہ کراپنے جوانوں ایک بارپھر پُکارے گی:
اُٹھ ! کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

تب یہ آئین پاکستان ہوگا جس کے ذریعے سے ہمارا نوجوان (یعنی ہم سے اگلی نسل) دُنیا کے سامنے رحمت و رافت کے ایک مبسوط نظام کا عملی خاکہ پیش کرسکے گا۔اُس وقت ان پر فخر کرنے کو ۔۔۔ ’ہم نہ ہوں گے، کوئی ہم سا ہوگا‘۔ 


ابو نثر



18 دسمبر، 2013

ناچ میرے بندرڈالر ملے گا ۔۔۔



’ناچ میرے بندرڈالر ملے گا ۔۔۔ ‘

 ابو نثر

نیویارک سے خوشی کی ایک خبر ملی ہے، جس کی سرخی ہے:
’’امریکا میں جینیاتی طورپر تبدیل کیے گئے پہلے بندر کی پیدائش‘‘
ہماری طرف سے امریکا کو اِس نومولود کی ولادت بہت بہت مبارک ہو۔ہمیں خوشی ہے کہ اب امریکا میں بھی جینیاتی طور پر تبدیل شُدہ بندر پیدا ہونے لگے ہیں۔سو، اگرپیدائش کا یہ دعویٰ درست ہے توامریکا کو معلوم ہو کہ یہ بندرِ عزیزفقط امریکاہی کا پہلا بندر ہوگا۔ ورنہ ہمارے یہاں تو اِس قسم کے(جینیاتی طورپر تبدیل کیے گئے) بندر بہت پہلے پیدا ہوچکے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں پیداہوچکے ہیں۔سب کے سب ماشاء اﷲ خوب اچھی طرح جینیاتی طورپر تبدیل شدہ ہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی چینل کی گُھنڈی گھمائیے۔ مکے لہرا لہرا کر۔۔۔ اورپونچھ پٹک پٹک کر ۔۔۔اُچھلتے ،کودتے، ناچتے:
گرتے ،سنبھلتے، جھومتے
مائک کے منہ کو چومتے
آپ کو یہ جینیاتی دانشوربندر نظرآجائیں گے۔(مگریہ ’’جینیاتی‘‘ ہونے سے پہلے تو ایسے نہ تھے)۔
قارئین کو معلوم ہوگا کہ ہمارے اصلی بندر بالکل فطری بندر ہیں۔جب کہ جینیاتی طورپر تبدیل کیے گئے بندروں کی ہرچیز بدلی بدلی ۔۔۔ مرے سرکار!۔۔۔ نظر آتی ہے۔نظریں تک بدل جاتی ہیں۔ اُن کا لباس، اُن کا رہن سہن، اُن کا اُٹھنا بیٹھنا، اُن کا حال چال، اُن کی بول چال، اُن کی چال ڈھال، اُن کا چھلانگیں مارنااور اُچھل اُچھل کر ایک پارٹی سے دوسری کی طرف پھلانگنا اوراسی طرح کی مستقل ’’آنیاں جانیاں‘‘ فرماناپھراِس پر اُن کا آپس میں اورباہم خوخیانا۔۔۔ سبھی کچھ اصلی اور نسلی بندروں سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ جینیاتی طورپر تبدیل کیے گئے بندروں کا چہر ہ بھی ہمارے سیدھے سادے معصوم دیسی بندروں کے چہروں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ’’بندرانہ‘‘ ہوتا ہے۔ ’’قِردۃً خاسئین‘‘ جیسا۔ مگر واضح رہے کہ یہ اپنے آپ کو ’بندر‘ کبھی نہیں کہتے۔ ’’منکی‘‘ ۔۔۔ بلکہ ’’مونکی‘‘ کہتے ہیں۔ اور اِس بات پر(غلط سلط) انگریزی میں فخربھی کرتے ہیں کہ:
’’مِرا مزاج لڑکپن سے منکیانہ تھا‘‘
ہر اصلی چیز کی طرح اب ہمارے یہاں کے اصلی بندر بھی رفتہ رفتہ آثارِ رفتگاں کی طرح معدوم ہوتے جارہے ہیں۔اب یہاں جو بھی بندر ہیں وہ ہماری دھرتی کے بندر نہیں بلکہ ’’جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بندر‘‘ ہیں۔جینز بدل جائیں تو سب کچھ بدل جاتاہے۔خیالات بدل جاتے ہیں، نظریات بدل جاتے ہیں، لب و لہجہ بدل جاتا ہے، یہاں تک کہ کھانا پینا بھی بدل جاتاہے۔ہمارے بندر کو تو اگر کہیں سے ہلدی کی گانٹھ بھی مل جاتی تھی تو وہ اُسی پر صبر شکر کرکے پنساری بن جاتا تھا۔ مگریہ’’ جینیاتی طورپرتبدیل کیے گئے بندر‘‘ تو ہلدی کی گرہ کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے، اورمحض پنساری بننے پربھی اکتفا نہیں کرتے، سرکاری قرضہ لے کر ہلدی کا پورا کارخانہ لگالیتے ہیں۔
حاضرین، ناظرین، سامعین، اور قارئین کو معلوم ہو کہ اب یہ بندر صاحبان ’کیلا‘نہیں کھاتے۔ ’’بنانا‘‘ کھاتے ہیں۔اور ملک کو بھی ’’بنانا ری پبلک‘‘ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔جب کہ اپنے بچوں کے لیے اٹلی سے پیزا(Pizza) منگواتے ہیں۔ اورجب وہ پنجیری کی جگہ پیزا کھانے کے اچھی طرح عادی ہوجاتے ہیں تو اُنھیں امریکا ۔۔۔( نہیں بلکہ ’’اسٹیٹس‘‘)۔۔۔ چھوڑ آتے ہیں۔ اب خوبی قسمت سے اُن کے ہاتھ ناریل نہیں لگتا۔ اگر ہاتھ لگتا ہے توکوالالمپور سے ’’کوکونٹ‘‘اِمپورٹ کرنے کا لائسنس لگ جاتا ہے۔وہ زمانہ بھی لد گیا جب کہا جاتا تھا کہ :
’’بندر کیا جانے ادرک کاسواد؟‘‘
اب تو جس بندر کو دیکھیے وہ آنکھیں میچ کر کہتا ہوا ملے گاکہ:
’’سواد آگیا بادشاہو!‘‘
ہمارے اصلی ونسلی بندرتو مداری کی تربیت اور اُس کی سخت محنت کے بعد ڈگڈگی کی آواز پر ناچا کرتے تھے۔ خود محنت، مشقت کرنے کے بعد اپنا پیٹ پِیٹ پِیٹ کر حقِ محنت مانگا کرتے تھے۔ مگر جینیاتی طورپر تبدیل کیے گئے بندروں کے لیے دیر تک ڈگڈگی بجانے کی قطعاً ضرورت نہیں پڑتی۔اُن کے جین میں (بلکہ جنین میں) کچھ ایسے خلیات داخل کردیے گئے ہیں کہ یہ ٹیلی فون کال کی محض پہلی گھنٹی پر ہی ناچنے لگتے ہیں۔ ڈالروں کی توصرف جھلک دیکھ کر ہی ناچ اُٹھتے ہیں۔ اس پر یہ گانا مستزاد۔۔۔ جو اِن پر ’حال‘ طاری کردتیا ہے:
’’ناچ میرے بندر ڈالر ملے گا ۔۔۔‘‘
اوراگرڈالر ملنا بند ہوجائیں تو بھنّا بھنّا کرمزید ناچنے لگتے ہیں کہ آخر ہمیں ڈالر کیوں نہیں مل رہے ہیں؟
ہمارے کچھ بندر جینیاتی طورپر کیا تبدیل ہوئے، ہرچیزتبدیل ہو گئی۔سب سے پہلے ۔۔۔ بلکہ بندر سے بھی تیز تیز۔۔۔ بندریا بدل گئی۔ بندریا بدلی تو ظاہر ہے کہ مسٹر اور مسز بندر کے بچے بھی بدل گئے۔بندروں کاسارا معاشرہ یعنی پوری کی پوری ’’بندرگاہ‘‘ہی تبدیل ہو گئی۔حتیٰ کہ ہمارے شہر کراچی کی ’’بندرروڈ‘‘ تک وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔اُس وقت تو ہم لہک لہک کر یہ گایا کرتے تھے کہ:
’’بندر روڈ سے کیماڑی
میری چلی رے گھوڑا گاڑی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر!‘‘
مگر جب اُسی فٹ پاتھ پر کھڑے کھڑے ہم نے یہ تماشا دیکھا کہ اُلٹی گنگا بہ رہی ہے۔ یعنی ’’کیماڑی سے بندر روڈ کی طرف‘‘۔ اور بندرگاہ کی طرف سے ایک قطار بنائے ہوئے اونٹ گاڑیاں چلی آرہی ہیں جو پشت پرامریکی گندم لادکر لا رہی ہیں۔نیز ہر اونٹ کی گردن میں \”Thank You America\” کاقلادہ بھی لٹک رہا ہے۔۔۔ تو ہم بالکل ہی فٹ پاتھ پر ہوگئے۔ امریکی گندم ہماری رگ و پے میں اُتر گیا اور تب سے اب تک ہم فٹ پاتھ پر ہی کھڑے ہیں۔آگے نہیں بڑھ سکے۔
قصہ مختصر یہ کہ سب کے سب بدل گئے اور پل کے پل میں سب ’’جینیاتی‘‘ ہوگئے۔تعلیم ’’جینیاتی‘‘ہوگئی ۔۔۔ تہذیب ’’جینیاتی‘‘ ہوگئی ۔۔۔ معیشت ’’جینیاتی‘‘ہوگئی۔۔۔ سیاست ’’جینیاتی‘‘ہوگئی۔ حتیٰ کہ حکومت بھی ’’جینیاتی‘‘ہوگئی ۔باہر سے جین لا لاکے ہماری خاطر ’’جینیاتی وزیراعظم‘‘ بھی بنائے گئے۔ کھلائے گئے۔ پلائے گئے اورپھرسرپٹ بھگائے گئے۔اوراِن تمام ’’جینیاتیوں‘‘ کے ہاتھوں ہم سب بندروں کی طرح نچائے گئے۔
کہاجاتا ہے کہ: ’’جس کابندر وہی نچائے‘‘۔ سو وہ ان بندروں کو نچاتاتو وہی رہا ، جس نے ان کو بندر بنایاتھا۔ مگر باقیوں کو خود بندروں نے نچایا۔ نچایا اور خوب خوب نچایا۔بلکہ سچ پوچھیے تومحض ایسا نہیں ہوا کہ لوگ ایک ہی دفعہ ناچ کر رہ گئے ہوں۔نچانے والوں نے تو ایسا نچایا ۔۔۔کر تھیاتھیا۔۔۔ کہ ناچ ختم ہوگیا مگر ہم اب تک ناچے ہی جارہے ہیں۔یہ گیس کا ناچ ہے، وہ بجلی کاناچ ہے۔ یہ روٹی کا ناچ ہے، اُدھر دال ناچ رہی ہے۔ اِدھر ساری کی ساری سبزیاں الگ الگ ناچ رہی ہیں۔ مچھلی، گوشت، مرغی اور تازہ پھلوں کے توکیاکہنے۔۔۔ کیاکہنے۔۔۔ انھیں دیکھیے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا۔۔۔ آسمان پر پریاں ناچ رہی ہیں!