ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

‏لبرل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏لبرل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

16 جنوری، 2015

اُنھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں!

 ہمارے ذرایع ابلاغ بھی ۔۔۔ اے عزیزو! ۔۔۔ عین مَین اُسی طرح سے ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہوگئے ہیں، جس طرح نائن الیون کے ڈرامے کے نتیجے میں دُنیا بھر میں (صرف مسلمانوں سے) لڑی جانے والی ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ بھی اب صرف ’ہماری جنگ‘ ہو کر رہ گئی ہے۔ دونوں کے لیے ’مرچ مسالہ‘ ولایت ہی سے آتا ہے۔بس اِسے استعمال کرنے اور استعمال کرنے کے نتیجے میں خود استعمال ہو جانے والے لوگ ’اپنے‘ ہوتے ہیں۔
جس روز فرانس کے ایک رسالے پر حملے کی خبر آئی تھی اُس روز ایک (نہایت وقیع سمجھے جانے والے) انگریزی اخبار کے اُردو چینل پر ایک دیسی محترمہ اپنے سارے دانت نکال نکال کر بڑے ولایتی انداز میں ایک پاکستانی عالمِ دین پر برس رہی تھیں کہ:
’’کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟ ۔۔۔ کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟‘‘
یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ’نائن الیون‘ کی طرح اِس ’وَن سیون‘ (سات جنوری) کا ملبہ بھی محترمہ وطن عزیز پاکستان ہی پر گرانا چاہتی ہیں۔ ’مذہبی دہشت گردی‘ تو یہ فرانسیسی واقعہ یوں کہلایا کہ اس حملے کومذہبی دہشت گردی‘ پورے عالمِ مغرب نے قرار دیا ہے۔ ’مسلمانوں‘ سے منسوب بھی یوں ہوا کہ اسے پورے عالمِ مغرب نے مسلمانوں سے منسوب کیا ہے۔ مغرب کے نشریاتی اور طباعتی اداروں کے کہے پر بے چون و چرا ’ایمان بالغیب‘ لے آنا ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘کے بنیادی عقیدے کا حصہ ہے۔ خواہ سوات میں عورت کے کوڑے کھانے کی وڈیو ہو یا عراق میں ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے‘ ہتھیاروں کی موجودگی۔

جو ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہیں وہ کائنات کی عظیم ترین ہستی کے کارٹون بنانے کو کبھی بھولے سے بھی ’مذہبی دہشت گردی‘ میں شمار نہیں کر سکتے۔ برسوں سے جاری و ساری اس سلسلے کا زور کچھ کم ہو گیا تھا تو اس کو ’دوبارہ جاری‘ کرنے کے لیے ’زور‘پیدا کیا گیا۔پیرس کے جس کارٹونی ہفت روزے کے دفتر پر حملے نتیجے میں کے ہفت روزے کے مدیر اور کارٹونسٹ سمیت بارہ افراد مارے گئے، اُن کو مارنے والے مسلح نقاب پوشوں کے ’مسلمان‘ ہونے کا اعلان بھی مغربی حکام نے کیا۔ کیسے کیا؟ یہ جاننے کے لیے ذرا پلٹ کر ایک بار پھر نائن الیون کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ نائن الیون سے جہاز ٹکرانے والے ’مسلمان‘ پائلٹ نہ صرف خود راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے بلکہ ٹوئن ٹاورزتو کسی کھلونا بلڈنگ کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر یا صابن کے جھاگ کی طرح سے، بیٹھ گئی تھی۔سب کچھ تباہ ہو گیا، مگر اسے معجزہ نہیں تو اور کیا کہیں گے کہ ’مسلمان‘ پائلٹوں کے (مسلمان) پاسپورٹ بالکل صحیح سلامت حالت میں ملبہ سے برآمد ہوگئے تھے، جن سے اُن کی بہ آسانی شناخت ہو گئی۔ اس معجزے کے باعث اس بات پر ’ایمان ‘ پختہ ہوگیا کہ دہشت گرد مسلمان تھے۔اور’دہشت گرد‘ مسلمانوں کے سوا اور ہو بھی کون سکتا ہے؟

پیرس، فرانس کے واقعے میں بھی دہشت گردوں کی شناخت اس وجہ سے ممکن ہوئی کہ وہ حیرت انگیز طور پر اپنے اپنے شناختی کارڈ اپنی (تباہ ہو جانے والی)گاڑی میں چھوڑ گئے تھے تاکہ اُنھیں بھی بہ آسانی شناخت کیا جاسکے۔’نائن الیون‘ کے واقعے سے ایک مماثلت یہ بھی اِس ’مذہبی دہشت گردی‘ کے واقعے میں پائی گئی کہ جس طرح ٹوئن ٹاورز سے جہاز ٹکرانے کی وڈیو بناتے ہوئے کچھ اسرائیلی پکڑے گئے تھے، بالکل اسی طرح اسرائیلی ٹی وی چینل آئی بی اے کے ڈپٹی ایڈیٹر امشائی اسٹین کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ اِس وقوعے کی Live شوٹنگ مسلسل اپنے چینل کو ارسال فرما تے رہے کہ ۔۔۔’ناظرین! ہم سب سے پہلے آپ کو یہ بریکنگ نیوز دے رہے ہیں‘۔۔۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کے رونما ہوتے ہی فرانسیسی یہودی پہلے سے چھپے ہوئے پوسٹرز لے کر احتجاجی مظاہرے کے لیے یکایک سڑکوں پر نکل آئے۔ جن کی متحرک اور مطبوعہ تصاویر آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ دیکھیے مغرب میں سائنس نے کتنی ترقی کر لی ہے۔

’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو (ملالہ پر حملے کی طرح) سانحہ پشاور کا بھی اُس وقت تک علم نہ ہوا تھا، جب تک یہ خبر مغربی ذرایع ابلاغ سے نشر نہ ہوگئی۔ہماری ناک کے نیچے پیش آنے والے واقعے کی ’بریکنگ نیوز‘ دینے میں بھی اہلِ مغرب ہی بازی لے گئے۔ اہلِ مغرب نے جن تین’ مسلمان دہشت گردوں‘ کے نام پیرس حملے کے ذمے داروں کے طور پر مشتہر کیے ہیں وہ شریف کواشی، سعید کواشی اور حمید مراد ہیں۔ کواشی برادران کی پرورش شمالی فرانس کے ایک سرکاری یتیم خانے میں ہوئی ہے۔ حمید مراد کے دوستوں نے ٹوئٹر پر اپنے اپنے ٹویٹ ڈالے ہیں کہ جس وقت حملہ ہوا اُس وقت حمید مراد اُن کے ساتھ کلاس روم میں موجود تھا۔حمید مراد کی بیک وقت دو جگہ موجودگی بھی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟اور اگر وہاں موجود نہ تھا تب بھی ’مسلمان‘ تو تھا۔ اُسے دہشت گرد قرار دینے کے لیے اتناہی کافی ہے۔

حملے کی ایک وڈیو میں یہ بھی دکھایاگیا ہے کہ ایک پولیس آفیسر نے حملہ آوروں کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔دو نقاب پوش حملہ آور گاڑی سے باہر آئے اور پہلے تو دور سے گولی مار کر اُس پولیس آفیسر کو زخمی کیا، پھر قریب آکر اُس کے سر میں گولی ماردی۔ دہشت گرد تو یقیناًتربیت یافتہ تھے، مگر وڈیو بنانے والا ایسا اناڑی تھا کہ اُسے اِس زخمی پولیس آفیسر کے جسم پر یا اُس کے آس پاس کہیں خون نظر نہیں آیا جسے وہ دکھا سکتا۔ حملہ آوروں کو روکنے والے پولیس آفیسر کے متعلق جو خبریں آئی ہیں اُن کے مطابق:1۔ وہ ایک پولیس کار سے نکلا تھا۔ 2۔وہ ایک پولیس اسٹیشن سے باہر نکلا تھا (اور دہشت گردوں کی گاڑی دیکھتے ہی پہچان گیاتھا کہ یہ دہشت گردوں کی گاڑی ہے، اِسے روکنا چاہیے)۔3۔وہ ایک سائیکل پر سوار تھا (اور غالباً دہشت گردوں کی گاڑی کے آگے سائیکل کھڑی کرکے گاڑی روکنے کی کوشش کر رہا تھا)۔
وڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پولیس آفیسر کو مارنے کے بعد دونوں دہشت گرد اپنی گاڑی کے پاس آئے اور اُنھوں نے نعرہ لگایا کہ ہم نے ’پیغمبر محمدؐ‘ (Prophet Muhammad) کا انتقام لے لیاہے۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ دہشت گرد ’مسلمان‘ ہی تھے، کیوں کہ مسلمانوں کو جب اپنے نبی کانام لینا ہوتا ہے تو وہ لفظ ’پیغمبر‘(Prophet) ضرور استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ رہے کہ وہ انھیں نبی(Prophet) نہیں مانتے۔

اِس قسم کی بہت سی دلچسپ باتیں ابھی اور بھی باقی ہیں، مگر کالم میں جگہ باقی نہیں رہی۔ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو چوں کہ سارا مرچ مسالہ مغرب سے ’پیک‘ کیا ہوا مل جاتا ہے، چناں چہ وہ کبھی خود اپنا ’سِل بٹّا‘ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اپنا سِل بٹّا استعمال کرنے کے لیے اپنی ’اوپر کی منزل‘ بھی استعمال کرنی پڑتی ہے، مگر ہمارے یہاں اوپر کی منزل کرائے پر اُٹھادینے کا رواج ہے۔ اگر یہ ذرایع ابلاغ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ نہ ہوتے تو شاید مغرب کا اُگلا ہوا زمین سے اُٹھا کر خود نگل لینے کی بجائے اِس معاملے کا تحقیقی اور تفتیشی نظروں سے اپنے طور پر بھی کچھ جائزہ لینے کی کوشش کرتے اور اہلِ مغرب سے پوچھتے کہ سرورِ کائناتؐکے گستاخانہ کارٹون دوبارہ سرورق پر چھاپ کر رسالے کی تیس لاکھ کاپیاں شایع کرنے کا ’مہذب اقدام‘ کیا ’دہشت گردی کی روک تھام‘ کرنے ہی کا کام ہے؟ مگر ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کی نظر میں تو اُن کا ہر کام اُن کا لبرل ازم،اُن کی روشن خیالی اور اُن کا حقِ آزادی اظہار ہے، جب کہ ہماری طرف سے صرف ایسا سوال کر لینا بھی تنگ نظری ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے مترادف۔
---------------------------
ابو نثر

29 دسمبر، 2014

دنیا والو!! کیا کریں؟

  ہم نے کہا اسلام چاہیئے، انہوں نے کہا جمہوریت ہے عوام سے ووٹ مانگو، پارلیمنٹ میں آؤ اور نافذ کرلو، مصر والے مان گئے، اخوان کو ووٹ دیئے، ابھی سال ہی ہوا تھا کہ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، صدر کو قید کرلیا اور اب فوج اقتدار پر قابض ہے، اخوان نامی تنظیم پر مکمل پابندی ہے ۔۔۔ اور یہ ثابت کردیا کہ چاہے ہم جتنا بھی "اُن" جیسے ہو جائیں اور اپنے جائز حق یعنی اسلام کو لینے کی کوشش کریں جمہوریت میں ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
  ہم نے پھر کہا کہ مانگنا نہیں سیدھا نافذ ہی کرنا ہے، افغانوں کی سمجھ میں بات آئی، طالبان نامی تنظیم بنائی جس نے دو سالوں میں پورے علاقے کو غیر جمہوری طریقے سے اپنے زیرِ اثر کرلیا، اسلامی احکام نافذ کرنے شروع کئے، دنیا نے نتائج دیکھے، پانچ سال لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور امارت قائم رہی لیکن "اُن" کو بلکل بھی نا بھائے، انہوں نے تابڑتوڑ حملے شروع کردئیے، امارت ختم ہوگئی اور مرتب کردہ نظام بھی ۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ اس طریقے سے بھی اسلام نافذ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
  کچھ عرصہ بعد ایک گروہ اٹھا جس نے تمام طریقوں سے اختلاف کیا اور جبر کی راہ اپنائی، بنام دولتہ السلامیہ اس گروہ نے خلافت کے بھی قیام کا اعلان کردیا، اور صرف تین ماہ لگے عالمِ کفر متحد ہوکر آگیا کہ ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا، فضا سے بموں کی بارش کرکے  یہ بھی ختم کردیا ۔۔۔ یعنی ثابت یہ کہ پرتشدد راہ بھی اختیار نہیں کرنے دی جائے گی۔


  ہم پھر وہیں کھڑے ہیں، اسلام چاہتے ہیں، کیا کریں، دنیا والو ۔۔۔ بتاؤ  کیا کوئی طریقہ تمہیں قبول ہے ؟

28 جون، 2014

پارٹ سیکولرازم / پارٹ ٹائم اسلام

 کس قدر سادہ لوح ہیں وہ لوگ جو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اس مملکتِ خدا داد پاکستان کے حکمران، دانشور، اہلٍ سیاست، مذہبی رہنما اور میڈیا عالمی طاقتوں کے اس کھیل سے آزاد ہے جو مسلم امہ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی مجبوریاں ان کے اقتدار کی طوالت سے وابستہ ہیں، دانشوروں کا علم ان کی سوچ متعین کرتا ہے اور یہ علم مغربی تجزیہ نگاروں کی رپورٹوں، مقالوں اور کتابوں سے روشنی حاصل کرتا ہے۔
 

اہلِ سیاست نے یہ تصور کرلیا ہے کہ انھیں اقتدار کی مسند پر بٹھانے اور ان کے مخالفین کی حکومتیں الٹنے والی طاقتیں اگر ان سے خوش ہیں تو وہ کامیاب، مذہبی رہنمائوں کے قطبِ نما کی سوئیوں کا رخ اپنے اپنے مسالک کے ملکوں کی سیاست میں الجھا ہوا ہے اور میڈیا تو چلتا ہی اس سرمائے سے ہے جو کارپوریٹ انڈسٹری مہیا کرتی ہے تا کہ پوری دنیا میں ایک جیسا طرزِ زندگی یا لائف اسٹائل متعارف ہو، جس کے نتیجے میں ان کا مال بِک سکے۔ یہ سب کے سب اس عالمی ایجنڈے کے مہرے ہیں اور انھیں کب ، کیسے اور کہاں استعمال کرنا ہے وہ طاقتیں خوب جانتی ہیں۔
 

اس کھیل میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مہروں کی واضح اکثریت کو اس کا علم تک نہیں ہوتا کہ وہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ تو انتہائی اخلاص کے ساتھ ایک سمت رواں دواں رہتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی جنگ جیتنا چاہتا ہے۔ کوئی ریاست بچانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے تو کوئی اپنے مسلک کی برتری چاہتا ہے، کسی کو انقلاب کی جلدی ہے تو کوئی ترقی کے خوابوں کو تعبیر دینا چاہتا ہے۔ کوئی سیکولر، لبرل اور جمہوری اقدار کا تسلط چاہتا ہے تو کسی کو اسلام کے عادلانہ نظام کی بالادستی کے لیے ہتھیار اٹھانا اچھا لگتا ہے۔ یہ سب کے سب کیوں اس قدر مختلف ہیں اور کیا یہ ایسے ہی ایک دوسرے سے دست وِ گریبان رہیں گے۔ شاید ابھی کچھ دیر اور لیکن زیادہ دیر نہیں۔
 

ہم جس دور میں زندہ ہیں اس کے بارے میں سیدالانبیاء ﷺکی ایک حدیث صادق آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اسلام کی ابتدا اجنبیت سے ہوئی تھی اور یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا‘‘۔ یہ اجنبیت کیا ہے۔ آج اسلام بالکل ویسے ہی اجنبی ہے جیسے مکہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی دعوت کے آغاز میں تھا۔ ثقافت، طرز ِمعاشرت، معاشی نظام اور سیاسی زندگی کے مقابلے میں اسلام کی پیش کردہ دعوت اجنبی اور انوکھی لگتی تھی۔ آج بھی بالکل وہی کیفیت ہے جو چودہ سو سال پہلے تھی۔ اسلام موجودہ عالمی معاشی نظام، عالمی لائف اسٹائل، عالمی طرزِ سیاست اور عالمی طرزِ معاشرت میں بالکل انوکھا اور اجنبی ہو چکا ہے۔
 

پوری دنیا اس وقت لائف اسٹائل کی جنگ کا شکار ہے۔ ایک مدت ایک عالمی معاشی، سیاسی ، معاشرتی اور خاندانی نظام کو نصابِ تعلیم، میڈیا اور زیرِ اثر حکومتوں کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ جہاں ذرا شک ہوا کہ یہ لوگ اس عالمی لائف اسٹائل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہاں بدترین آمریتوں کے ذریعے اس سیکولر عالمی لائف اسٹائل کا نفاذ کیا گیا۔ تیونس سے لے کر پاکستان اور بنگلہ دیش سے ملائشیاء تک ہر کسی کو کبھی ڈکٹیٹروں اور کبھی من پسند جمہوری حکمرانوں کے ذریعے ایسے عالمی لائف اسٹائل کا طابع کیا گیا، جس میں سودی بینکاری سے لے کر حقوقِ نسواں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر فحاشی و عریانی تک سب زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔
 

اس لائف اسٹائل اور طرزِ زندگی کے مخالف جو بھی آواز اٹھی اسے سب سے پہلے میڈیا میں ایک مہم کے ذریعے بدنام کیا گیا اور اگر ممکن ہو سکا تو ایسے ملک جہاں اسلام کا یہ اجنبی اور انوکھا لائف اسٹائل جڑیں پکڑ رہا تھا وہاں فوجیں تک اتار دی گئیں۔ افغانستان اس کی بدترین مثال ہے اور مصر میں اسی حکومت کی برطرفی اس کا دوسرا طریقۂ اظہار۔ ایک بات کا فیصلہ کر لیا گیا کہ اس دنیا کے نقشے پر کوئی ایسی حکومت قائم نہیں ہونے دیں گے، جو اس عالمی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی لائف اسٹائل سے مختلف ہو۔ لیکن ہر کسی کو ’’ پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کی اجازت ہے، اذان کے وقت دوپٹہ سر پر لینا اور مہندی کے ڈانس کے وقت اتار دینا۔ سود کے پیسوں سے مسجدیں اور مدرسے بھی بنانا اور اس کے خلاف تحقیقی کام بھی کرنا۔
 

نماز، روزہ، حج، زکواۃ سب پر ایمان رکھنا لیکن جہاد سے نفرت کرنا۔ ایک ایسا اسلام تو موجود عالمی لائف اسٹائل میں اجنبی نہ لگے۔ ریاستیں تو اس ’’ پارٹ ٹائم اسلام‘‘ کی قائل ہو گئیں کہ ان کے حکمرانوں کے مفادات تھے مگر افراد نے دنیا بھر میں اس سے بغاوت کر دی۔ یہ لوگ امریکا کے ساحلوں سے آسٹریلیا کے پہاڑوں تک ہر جگہ موجود تھے۔ گیارہ ستمبر نے اس لائف اسٹائل کی جنگ کو واضح کیا تو آج 12 سال کے بعد خوف کے سائے اسلامی دنیا سے مغربی دنیا تک جا پہنچے۔ برطانیہ کا شہر برمنگھم جہاں ہر پانچواں شخص مسلمان ہے، وہاں پچھلے دنوں پارک ویو اسکول میں حکومت کے تین انسپکٹر داخل ہوئے، یہ دیکھنے کے لیے کہ کتنی لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں اور کتنے مردوں نے داڑھیاں رکھی ہیں۔
یہ مسلمانوں کے علاقے کا اسکول ہے جو اپنے دس طلبہ میں سے آٹھ طلبہ کو یونیورسٹیوں میں بھیجتا ہے۔ یہ کامیابی بہت کم اسکولوں کو میسر ہے۔ لیکن یہ سب کے سب اس لائف اسٹائل سے مختلف ہوتے ہیں جو عالمی طرزِ زندگی ہے، اسی لیے انسپکٹروں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں سے پوچھا کہ تم کو حجاب پہننے پر کوئی زبردستی تو نہیں کرتا، اتنے زیادہ کپڑوں میں تمہیں گرمی تو نہیں لگتی۔ تمہیں ماہواری کے بارے میں کسی نے کبھی بتایا ہے۔ اس کے بعد برطانیہ کے اخباروں میں خبریں لگیں کہ مسلمانوں نے اپنے علاقے کے اسکولوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں ایسا طرزِ زندگی اور طریقۂ تعلیم رائج ہے جس سے بچے برطانیہ کی زندگی کے لیے ’’ اجنبی‘‘ اور ’’انوکھے‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔
 

ایک رپورٹ مرتب کی گئی کہ اگر ایسا ہوا تو شدت پسندی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کے بعد ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کو کچھ خوبصورت الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں یہ الفاظ گونجے ’’Reconcile Islam and Britishism‘‘ (اسلام اور برطانویت میں مفاہمت) لیکن پورا ماحول غصے اور خوف میں ہے چند دن پہلے لندن کے علاقے کول چسٹر کے ایک پارک میں ایک مسلمان عورت کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے مکمل حجاب پہنا تھا۔ ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام میں ایسا لباس صرف نماز پڑھتے ہوئے پہننا چاہیے۔ اس پارٹ ٹائم اسلام یعنی مغرب اور اسلام کی مفاہمت کی بہترین علامت چند دن پہلے ایمسٹرڈیم میں نظر آئی ۔ ایمسٹر ڈیم کو یورپ کو جنسی ہیڈ کوارٹر Sex Capital کہا جاتا ہے۔
 

وہاں کے ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں دنیا بھر سے عورتیں لا کر بٹھائی گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں وہاں ایک اشتہار بانٹا جا رہا تھا کہ ہمارے پاس’’ حلال طوائفیں‘‘ میسر ہیں۔ یعنی جو شراب نہیں پیتیں، سؤر نہیں کھاتیں، اور دیگر معاملات میں بھی پارٹ ٹائم اسلام کی قائل ہیں۔ ایک ایسا اسلام جو عالمی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور خاندانی نظام کے اندر ضم ہو جائے۔ اسی طرح کے اسلام کو نافذ کرنے کے لیے ملکوں میں فوجیں اتاری جاتی ہیں، آئین تحریر کیے جاتے ہیں، اپنی مرضی سے الیکشن کروا کر کرزئی اور مالکی کو جمہوری طور پر منتخب کروایا جاتا ہے، مشرف سے لے کر سیسی تک لوگوں کو اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے۔
 

لیکن خوف کی خلیج واضح ہوتی جا رہی ہے۔ پارٹ ٹائم اسلام اور اس اسلام جس کے بارے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا، ان دونوں میں جنگ تیز ہو گئی ہے۔ امریکا سے لے کر آسٹریلیا اور یورپ کے 23 ممالک سے وہ لوگ جو اس عالمی لائف اسٹائل کے مخالف تھے، ہتھیار بند ہو کر شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں، افغانستان اور یمن میں موجود ہیں۔ دوسری جانب تمام مسلم ریاستوں کا یہ عالم ہے کہ وہاں کی حکومتیں اس عالمی لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے متحد ہیں دوسری جانب اسلام کے اصل روپ کے پروانے بڑھتے جا رہے ہیں۔
 

صرف پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں حجاب اور داڑھی میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے اس نے کاروباری کمپنیوں کو حجاب کا شیمپو تک مارکیٹ میں لانے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن دوسری جانب خوف بہت زیادہ ہے پورا عالمی لائف اسٹائل بینکوں کے جعلی سرمائے اور سود سے چلتا ہے، یہیں سے میڈیا ہائوسز پروان چڑھتے ہیں اور پارٹی فنڈ سے جمہوریت کی گاڑی۔ یہ تو سب دھڑام سے گر جائے گا اگر اس لائف اسٹائل کے مخالف طاقت میں آ گئے۔
ایک جنگ ہے اس میں ایک جانب ریاستیں ہیں جو اس عالمی طرز زندگی کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اور دوسری جانب وہ لوگ’’ پارٹ ٹائم ‘‘ قابل قبول اسلام نہیں بلکہ اس لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں جو آج اجنبی ہو چکا ہے۔ ریاستوں کی کوئی سرحد باقی ہے اور نہ ان لوگوں کی۔ سیّدالانبیاء نے فرمایا دّجال کی آمد سے پہلے دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو جائے گی، ایک طرف مکمل کفر ہو گا اور دوسری طرف مکمل ایمان۔ اب نہ پارٹ ٹائم سیکولرزم رہے گا اور نہ ہی پارٹ ٹائم اسلام۔ 





 oria maqbool jaan
urdu article, parr time islam,, secularism,
اوریا مقبول جان

29 مئی، 2014

لٹل فرعون

 قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی
 آج کوئی کتنا بڑا ہی روشن خیالی کا دعویدار کیوں نہ ہو۔۔۔ اپنے آپ کو لبرل اور سیکولر کیوں نہ سمجھتا ہو مگر وہ اپنا اور اپنی اولاد میں سے کسی کا نام بھی’’فرعون‘‘ رکھنا گوارہ نہیں کرتاتو کیوں؟ کیونکہ فرعون تاریخ انسانی کا وہ گمراہ اور بدترین کردار ہے۔۔۔ کہ جو نہ صرف یہ کہ اللہ کا باغی بلکہ مخلوق خدا پر بھی ظلم و ستم ڈھانے میں بڑا مشہور تھا۔۔۔ ’’فرعون‘‘ کہ جس کی مذمت میں شعراء اور ادباء نے کئی کئی سو صفحات لکھ ڈالے۔۔۔’’فرعون‘‘ وہ کہ خود خالق کائنات نے قرآن مقدس میں جس کی مذمت بیان فرمائی۔۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہونے والی معرکہ آرائیوں کا تذکرہ بھی قرآن پاک میں موجود ہے۔۔۔ تو اس لئے تاکہ قیامت تک آنے والے انسان اس سے سبق حاصل کر سکیں، یہاں معاملہ صرف حکمرانوں تک ہی محدود نہیں۔۔۔ بلکہ طاقت، اقتدار اور دولت کے نشے میں بدمست ہو کر جو شخص بھی آمرانہ اور متکبرانہ انداز و اطوار اختیار کر کے بے گناہوں پر ظلم ڈھائے گا۔۔۔ اسلامی احکامات سے بغاوت کرے گا۔۔۔ اسلام کے مقابلے میں مغربی روشن خیالی کو لانے کی کوشش کرے گا۔۔۔ اہل حق پر صرف حق گوئی کی وجہ سے۔۔۔ تشدد کے پہاڑ توڑے گا۔۔۔ اُسے ’’فرعون‘‘ کا ہی جانشین سمجھا جائے گا۔۔۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے لاڈلے پیغمبر تھے۔۔ فرعون انہیں تکلیفیں دیتا تھا۔۔۔ اُن کے پیغام حق کو جھٹلاتا تھا۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا روشن خیال سمجھتا تھا۔۔۔ بلکہ اس کی فرعونیت کا عالم تو یہ تھا کہ وہ دربار میں آنے والوں کو اپنے سامنے سجدہ ریزی پر بھی مجبور کر دیتا تھا۔۔۔ اتنے کروفر والا فرعون، پروٹوکول میں رہنے والا فرعون۔۔۔ خدائی کا دعویدار فرعون۔۔۔ گر روئے زمین پر آج نہ کوئی اس کی سالگرہ مناتا ہے۔۔۔ اور نہ ہی برسی۔۔۔ ہے کوئی سیکولر، لبرل ، اینکر، اینکرنی یا ڈالر خور این جی او کاخرکار کہ جو’’فرعون‘‘ کی سالگرہ یا برسی منانے کی ہمت کر سکے۔۔۔ اس کے حق میں ٹی وی ٹاک شو کرے یا کالم لکھ سکے؟ہرگز نہیں۔۔۔ ممکن ہی نہیں۔۔۔ ہاں البتہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر سلام بھیجنے والے، ان سے عقیدت اور ان پر ایمان لانے والے آپ کو دنیا میں اربوں انسان مل جائیں گے۔۔۔
بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ فرعون نے ایک بار خواب دیکھا کہ ایک آگ روشن ہوتی ہے، وہ آگ پھیلتے پھیلتے مصر تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ پھر وہ بنی اسرائیل کے گھروں کو نقصان پہنچائے بغیر فرعون کے محلات تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔’’نجومیوں‘‘ نے فرعون کو اس کی تعبیر یہ بتائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعون اور اس کی حکومت تباہ ہو جائے گی۔۔۔ فرعون نے اس خطرے سے نبٹنے کے لئے اپنے مشیروں سے مشورہ شروع کر دیا۔۔۔تب نہ اقوام متحدہ نام کا کوئی ادارہ تھا ۔۔۔ نہ ابھی امریکہ معرض وجود میں آیا تھا۔۔۔ نہ وائٹ ہاؤس تھا۔۔۔ نہ جارج ڈبلیو بش اور نہ ہی اس کا ’’دوست‘‘ پرویز مشرف ابھی پیدا ہوا تھا۔۔۔ اس وقت میڈیا بھی ابھی اتنا آزاد نہیں تھا۔۔۔ الیکڑانک چینلز اور اخباری کالموں کے ذریعے۔۔۔ فرعون کی طاقت کا رعب بٹھانے کے لئے منشی نما کالم نگار اور ڈالر خور اینکر بھی نہ تھے۔۔۔ نہ اس وقت وہاں حسن نثار تھا، نہ ایاز امیر تھا اور نہ ہی نجم سیٹھی، اس لئے فرعون کو جاسوس عورتوں کا سہارا لینا پڑا۔۔۔ اور حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے علاقوں میں گشت جاری رکھو۔۔۔ ہر حاملہ عورت کا نام لسٹ میں لکھ لیا جاتا۔۔۔ وضع حمل کے دوران جاسوس عورتیں وہاںموجود رہتیں۔۔۔ اگر لڑکی پیدا ہوتی تو واپس چلی جاتیں۔۔۔ اور اگر لڑکا پیدا ہوتا تو جلادوں کو خبر کر دیتیں، جلاد فوراً تیز چھرے لے کر اس گھر میں پہنچ جاتے۔۔۔۔ اور ماں باپ کے سامنے ان جگر گوشے کو ٹکڑوں میں تبدیل کر کے واپس چلے جاتے۔۔۔۔ ظلم و وحشت کی داستان اتنی سنگین ہے کہ جس کو لکھتے ہوئے قلم بھی تھرا جاتا ہے۔۔۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو روکنے کیلئے۔۔۔ فرعون نے معصوم بچوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیئے۔۔۔
اُس ’’خبیث‘‘ کے حکم پر نجانے کتنے حسین پھول کچل ڈالے گئے؟ نجانے کتنے نومولود بچوں کے جسموں کو ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا گیا۔۔۔اور نجانے کتنی معصوم جانیں تھیں کہ جو فرعون کی سفاکیت کی بھینٹ چڑھا دی گئیں۔۔۔
ہزاروں سال پہلے والا فرعون ہو۔۔۔ یانائن الیون کے بعد والا جارج ڈبلیو بش ہو۔۔۔یا اس کے غلام حکمران۔۔۔’’ فرعون‘‘ کے مٹے ہوئے نقش پا کو انہوں نے دوبارہ سے زندہ کرتے ہوئے۔۔۔۔ عراق، افغانستان اور پاکستان کے بے گناہ مسلمانوں کا جس قدر قتل عام کیا ہے اسے دیکھ کر فرعون کی روح بھی شرمندہ ہو گئی ہو گی۔۔۔ ہزاروں سال قبل فرعون نے تو صرف بچوں کا قتل عام کروایا تھا۔۔۔ مگر لڑکیوں کو زندہ رکھ لیتا تھا مگر نائن الیون کے بعد۔۔۔ پرویزی سفاکیت ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ موصوف نے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اس کے معصوم بچوں سمیت امریکہ کے ہاتھوں فروخت کرنے میں بھی دریغ نہ کیا۔۔۔طاقت اور اقتدار کو اگر مسلمان اپنے پاس اللہ کی امانت سمجھ کر انسانوں کی خدمت کرے تو پھر ایسا کرنے والے مخلوق کے ماتھے کا جھومر بن جایا کرتے ہیں۔۔۔
اگر بے گناہ انسانوں کے قتل سے ہی عزت مل سکتی۔۔۔ تو آج ’’فرعون‘‘ دنیا کا سب سے عزت مند انسان ہوتا۔۔۔ مگر کرہ ارض پر تمہیں فرعون کی عزت کرنے والا ایک شخص بھی چراغ لے کر ڈھوندنے سے بھی نہ مل پائے گا۔۔۔مگر جناب موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں سے محبت کرنے والے قیامت تک موجود رہیں گے۔۔۔ کیا کبھی فرعون نے اس بات کا تصور بھی کیا ہوگا کہ اس کی طاقت و حشمت۔۔۔ خدائی کے دعوے اور ستر ہزار کے لگ بھگ معصوم بچوں کے قتل عام کے باوجود موسیٰ علیہ السلام نہ صرف پیدا ہو جائیں گے۔۔۔ بلکہ اس کے تخت کا بھی دھڑن تختہ کر ڈالیں گے؟
پھر وہی ہوا۔۔۔ فرعون کی ایک بھی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی۔۔۔ ہوا وہی جو منظور ِخدا تھا۔۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون ہی کے محلات میں پرورش پا کر جوان ہوئے، مقام نبوت پر سرفراز ہوئے۔۔۔ اور آتش کدہ اور بت کدہ مصر میں توحید کا نہ صرف یہ کہ پرچم سر بلند کرتے ہیں۔۔۔ بلکہ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نبوت کا اعلان بھی کرتے ہیں،کیا آج کا کوئی بھی آکسفورڈ اور ایچی سن کا جدید تعلیم یافتہ اور روشن خیال سیکولر پاکستانی قوم کو بتا سکتا ہے کہ آخر فرعون کی طاقت، دولت ، فوج اور جادو گروں کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تن تنہا کیسے کامیاب ہوئے؟
افغانستان کے مجاہدین روس کے بعد امریکہ کو عبرتناک شکست دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔۔۔ مگر ڈالر خور سیکولر خرکار، اسے خفیہ ایجنسیوں کا کمال قرار دیتے ہیں جبکہ افغان مجاہدین۔۔۔ یکے بعد دیگرے دو سپرپاورز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا’’نصرتِ خداوندی‘‘ ہی بتاتے ہیں۔۔۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے والا فرعون تو مر کھپ گیا۔۔۔ اس کی لاش قیامت تک پیدا ہونے والے چھوٹے چھوٹے فرعونوں کو دعوت نظارہ دینے کے لئے مصر کے عجائب گھر میں آج بھی موجود ہے۔۔۔مگر ہے کوئی فرعونی عادتوں، فرعونی رعونت اور فرعونی انداز و اطوار سے نجات حاصل کر کے۔۔۔ پیغمبر احمد مرسل ﷺ کے دامن عافیت میں پناہ ڈھونڈنے والا؟
’’فرعون‘‘ کے مطالبہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی نبوت کی دو عظیم نشانیاں’’عصائے کلیمی اور ید بیضائ‘‘ دکھاتے ہیں ۔۔۔ لیکن اس بدبخت کی قسمت میں ایمان کہاں؟ الٹا مقابلے پر اتر آتا ہے۔۔۔ اور جادو گروں کی فوج ظفر موج جمع کرتا ہے تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو شکست دی جا سکے۔۔۔ لیکن جادو گر موسیٰ علیہ السلام کے معجزے دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ آپ نبی برحق ہیں، اور پھر وہ سارے کے سارے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آتے ہیں اور فرعون اپنی فرعونیت پر اتر آتا ہے۔۔۔
اور جادو گروں کو ایمان لانے کی پاداش میں درد ناک سزائیں دے کر شہید کر دیا۔۔۔ جب فرعون کا ظلم تمام حدیں کراس کر گیا۔۔۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے راتوں رات قوم بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر مصر سے روانہ ہو جاتے ہیں۔۔۔ فرعون کو اطلاع ملتی ہے تو لشکر ِجرار لے کر تعاقب میں نکلتا ہے۔۔۔ سمندر کے کنارے پر موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو پالیتا ہے۔۔۔ بنی اسرائیل شدید پریشان ہیں سامنے ’’دریا کی موجیں۔۔۔ اور پیچھے فرعون کی فوجیں‘‘ آخر جائیں تو جائیں کہاں؟
اللہ کی نصرت کاپھر نزول شروع ہوتا ہے۔۔۔اور موسیٰ علیہ السلام حکم الہٰی سے ’’عصائ‘‘ کو سمندر میں مارتے ہیں تو سمندر کے پانی سے کشادہ راستے بن جاتے ہیں۔۔۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھیوںسمیت نکل جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔ فرعون بھی تعاقب میں انہی سمندری راستوں پر اپنا لشکر ڈال دیتا ہے تو اس بدترین ظالم کی دراز رسی فوراً اللہ تعالیٰ کھینچ لیتے ہیں۔۔۔ ظلم کی سیاہ رات اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے اور خدائی کا دعویدار فرعون ذلت و رسوائی کی تصویر بنا غرقِ آب ہو تاہے۔۔۔ اور اس کی لاش قیامت تک کے لئے محفوظ کر لی جاتی ہے۔۔۔ جو زبان حال سے ہر ظالم و جابر سے کہہ رہی ہے۔۔۔
دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
اِرشاد خداوندی ہے کہ’’پس آج ہم صرف تیرے بدن (لاش) کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لئے (قدرت و عبرت کی) ایک نشانی بن جائے (اگرچہ) لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتی ہے۔
‘‘ سورة يونس-92
آج ہم میں سے ہر ایک کو، پہلے اپنے آپ کو اور پھر اپنے گردو نواح کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم میں سے کسی کے اندر تو فرعونی صفات نہیں پائی جارہیں؟
لبرل اور سیکولر لادینیت پہ۔۔۔ فرعونیت کی گہری چھاپ ہے۔۔۔ ہر پاکستانی مسلمان کو سیکولر لادینیت سے اپنا دامن بچا کر فرعونیت کی چھاپ سے بچنا لازمی ہے۔۔۔ ’’فرعون‘‘ سے لے کر صدر بش، ممنوہن سنگھ، پرویز مشرف اور آصف علی زرداری تک۔۔۔ اپنی اپنی ڈگڈی بجا کر۔۔۔ اور نوٹ کما کر اقتدار سے نکل گئے۔۔۔ بارک اوبامہ ابھی تک امت مسلمہ کے خلاف فرعون کی جانشینی کا حق ادا کر رہا ہے۔۔۔
جبکہ بھارت میں فرعون کا نیا جانشین۔۔۔ نریندر مودی کی شکل میں وزیراعظم بننے جارہا ہے۔۔۔ لیکن ان سارے لٹل فرعونوں کو کوئی بتائے کہ مصر کے عجائب گھر میں رکھے ہوئے اپنے بابا یعنی اصل فرعون کی لاش ایک دفعہ ضرور دیکھ لیں کہ جس کے بارے میں محمد احمد عدوی کتاب ’’دعوۃ الرسل الی اللہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ فرعون کی نعش کی ناک کے سامنے کا حصہ ندارد ہے ۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی حیوان کا کھایا ہوا ہے۔۔۔ غالباً دریائی مگر مچھ نے خراب کیا ہوگا
۔ 
  کوئی کہہ دے ذرا وقت کے فرعونوں سے
خاک ہو جاتے ہیں سورج کو بجھانے والے

11 مئی، 2014

لنڈے کے انگریز


 تمام کچے پکے اصلی نقلی کالے پیلے سیکولرز لبرلز اور ملحد حضرات سے گزارش ہے میری پوسٹ پڑھنے سے پہلے منہ میں ہاجمولہ رکھ لیں ورنہ اپنی ذمہ داری پر پڑھیں۔ کیوں کہ میری اطلاعات کے مطابق ہر جگہ مرچیں موسم کے حساب سے لگتیں ہیں لیکن لبرلز کے ہاں جب سچ بولو تب ہی لگ جاتی ہیں۔ آخر ''فریڈم آف سپیچ'' کا زمانہ ہے بئی۔
جانے کب کون کس کو بلاک دے ایکسٹریمسٹ کہہ کر
فیس بک کی فیس بک لبرل ہوئی پھرتی ہے۔

یوں تو دنیا میں ''سانپوں'' اور ''لبرلز'' کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں مگر تمام ''سانپ'' زہریلے نہیں ہوتے۔ یہاں ہمارا موضوع ''سانپ'' نہیں بلکہ ''لبرلز'' ہیں۔ ''مسلم دنیا'' کے تناظر میں ''لبرلز'' کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک باہر کا بنا ہوا ''اصلی'' یا ''اوریجنل'' دوسرا یہاں کا بنا ہوا ''نقلی'' یا ''دو نمبر''۔ ''نقلی لبرلز'' ''دیسی ساختہ'' ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر انہیں ''دیسی لبرلز'' بھی کہا جاتا ہے لیکن چونکہ اس میں لفظ ''دیسی'' استعمال ہوتا ہے اور ''دیسی لبرلز'' کو ہر اس نام، چیز اور جگہ سے نفرت ہوتی ہے جس میں لفظ ''دیسی'' استعمال ہو اس لیئے یہ خود کو ''دیسی لبرلز'' کہلوانا پسند نہیں کرتے. جبکہ ایک تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ''دیسی لبرلز'' خود کو ''امریکی سنڈی'' ''فارمی لبرلز'' اور ''بے غیرت برگیڈ'' کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ مگر ''دیسی لبرلز'' کے لیئے آج تک کا سب سے مناسب نام جو دریافت ہوا ہے وہ ''لنڈے کے انگریز'' ہے۔ تو آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ ''لنڈے کے انگریز'' کون کیوں کب اور کیسے ہوتے ہیں۔ چونکہ بات ہونے کی چل رہی ہے اس لیئے ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں۔
پیدا ہوا لبرل تو شیطان نے یہ کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے۔

ماہرین کے نزدیک ''لنڈے کا انگریز'' ہونا ایک ''مینٹل ڈس آڈر'' ہے۔ وہ لڑکا جسے بچپن سے اس کے ماما پاپا یہ کہتے ہوں ''بےبی! ڈانٹ گو آؤٹ سائیڈ، پلیز کم ان سائیڈ، پلے ود یور سسٹر'' اور وہ بچہ جو کلاس میں سب سے مار کھاتا ہو، جس کا پسندیدہ رنگ گلابی پسندیدہ کھیل گڈے گڑیا کی شادی، پہل دوج، آپا بوا ہو، جس کا سرمایہ حیات اس کی باربی ڈولز کی کلیکشن ہو، تو سمجھ جایئے وہ لڑکا بڑا ہو کر ''لنڈے کا انگریز'' بنے گا۔

یوں تو ''لنڈے کے انگریز'' گاہے بہ گاہے اپنی عالمانہ ٹائیپ جاہلانہ گفتگو سے عوام کو محظوظ کرتے ہی رہتے ہیں مگر پھر بھی ان کے شب روز اسی انتطار میں گزرتے ہیں کہ اسلام یا پاکستان سے متعلق کوئی بری خبر ملے کوئی پاکستانی چوری کرتا پکڑا جائے کوئی دھماکہ ہو کسی ملک کا جہاز گم ہوجائے بس پھر یہ ہوتے ہیں اور چوبیس گھنٹے نہ رکنے والی دانش وڑانہ گفتگو۔ دلیل وہی دی جاتی ہے جو سعادت حسن منٹو نے دی تھی کہ اگر معاشرے میں گندگی غلاظت ہے تو میں تو دکھاوں گا۔ ان ''لنڈے کے انگریزوں'' کی مثال اس مکھی کی طرح ہے جو اگر پھولوں کے اوپر بھی اڑ رہی ہو تو غلاظت ڈھونڈ نکالتی ہے اور بیٹھتی غلاظت پر ہی ہے۔ خیر پسند اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا۔
''ویسٹرن لبرل'' گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور یہ ''لنڈے کے انگریز'' ''گدھے'' کی طرح ڈھیچو ڈھیچو کرتے ہوئے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ اسلام کے خلاف کینہ بغض اور زہر ان میں ایسے بھرا ہوا ہوتا ہے جیسے ''کوکومو'' میں چاکلیٹ۔ امید ہے آپ کو ''لنڈے کے انگریزوں'' کے بارے میں خوب پہچان ہوگئی ہوگی۔

آخر میں ''لنڈے کے انگریزوں'' کی نذر اکبر الہ آبادی کا یہ شعر۔

ﺍﺭﺗﻘﺎﺀ ﭘﺮ ﺑﻬﻰ ﺁﺩﻣﻰ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ،
ﻳﺎ ﺍﻟﮩﻰ   ﻳﮧ  ﻛﻴﺴﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﮨﻴﮟ 



بشکریہ: انگوٹھا چھاپ