ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

‏مزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

30 اپریل، 2015

ربڑ ------- از --------گل نوخیز اختر

یہ1978 ء کی گرمیوں کی بات ہے جب پہلی بار مجھے ایک بیش قیمت خواب آیا۔ میں ملتان کے ایم سی پرائمری سکول میں دوسری کلاس میں پڑھتا تھا جسے اُس دور میں ’’پکی جماعت‘‘ کہا جاتاتھا۔یہ وہ دور تھا جب صبح صبح گلیوں میں ’’ماشکی‘‘ بڑی سی مشک اُٹھائے چھڑکاؤ کیا کرتے تھے۔میرا سکول میرے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔میری ماں جی نے لنڈے سے ایک ڈبیوں والی پرانی پینٹ خرید کر مجھے اس کا بستا بنا کر دیا ہوا تھا‘ اِس بستے کی خوبی یہ تھی کہ اس میں دو جیبیں تھی اورجیبوں والا یہ بستہ مجھے بہت پسند تھا۔اُس دور میں وہی ’’سیٹھ کا بچہ‘‘ شمار ہوتا تھا جس کے بستے کی جیبیں زیادہ ہوتی تھیں۔ ہر بچے کو حکم تھا کہ وہ اپنے بیٹھنے کے لیے ’’چٹائی‘‘ گھر سے لے کر آئے‘ ابا جی چٹائی تو افورڈنہیں کر سکتے تھے تاہم انہوں نے مجھے کہیں سے جگہ جگہ پیوند لگی ایک چادر لا دی تھی جو سکول میں میرے بیٹھنے کے کام بھی آتی تھی اور میں اِس سے سلیٹ بھی صاف کرلیا کرتا تھا۔صبح کے چار بجے تھے جب مجھے محسوس ہوا کہ میرے اردگرد ’’ربڑہی ربڑ‘‘بکھرے پڑے ہیں‘ میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا‘ اِدھر اُدھر ہاتھ مارا لیکن ہاتھ خالی تھے‘ میں نے جلدی سے پھر آنکھیں بند کرلیں اور اِسی حسین خواب میں پھر کھو جانا چاہا لیکن ’’ربڑ‘‘ اپنی ایک جھلک دکھلا کر غائب ہوچکے تھے۔میری نیند اُڑ گئی اور دل میں اپنی اوقات سے بڑھ کر ایک خیال اُبھرا کہ کاش میرے پاس بھی ایک ربڑ ہو اور میں بھی کچی پنسل سے کچھ غلط لکھ کر اُسے ربڑ سے مٹاؤں۔

سکول جانے کا وقت ہوا تو ماں جی نے بڑے سے پیالے میں چائے ڈال کر اُس میں پراٹھے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر میرے سامنے رکھ دیے۔یہ میرا پسندیدہ ناشتہ تھا لیکن میرا دماغ تو کسی اور طرف ہی الجھا ہوا تھا۔ابا جی پاس ہی کچی زمین پر بیٹھے اپنی ہوائی چپل کو ایک مزید ٹانکا لگا رہے تھے‘ اس ہوائی چپل پر اتنے ٹانکے لگ چکے تھے کہ اب نیا ٹانکالگانے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں بچی تھی لیکن ابا جی کو شائد اِسی سے عشق تھا لہذا ہر دوسرے روز اس کی ’’بخیہ گری‘‘ میں لگ جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے ان کے پاس ایک خاکی رنگ کے پرانے سے بغیر تسموں کے بوٹ بھی تھے لیکن وہ بہت کم پہنتے تھے‘ لیکن مجھے وہ ہوائی چپل کی نسبت بوٹوں میں زیادہ اچھے لگتے تھے‘ لہذا کئی دفعہ فرمائش کرکے اُن کو زبردستی بوٹ پہنا دیا کرتا تھا‘ وہ کچھ دیر تک میری خواہش کے احترام میں بوٹ پہنے رکھتے‘ پھر یہ کہتے ہوئے اُتار دیتے کہ ’’یار۔۔۔ایہہ مینوں بہت چُبھدے نیں‘‘۔

میں نے کچھ دیراپنے خواب کے بارے میں سوچا ‘ پھر آہستہ سے کہا’’ابا جی! میں نے ربڑ لینا ہے‘‘۔ابا جی نے چونک کر میری طرف دیکھا ‘ پھر مسکراتے ہوئے میرے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور بولے’’تم تو ابھی تختی لکھتے ہو‘ ربڑ تو چوتھی جماعت کے بچے لیتے ہیں۔‘‘ میں نے پیالہ ایک طرف رکھا اور جھٹ سے ابا جی کی گود میں چڑھ گیا’’مجھے نہیں پتا۔۔۔میں نے ربڑ لینا ہے‘‘۔ ابا جی نے کن اکھیوں سے ماں جی کی طرف دیکھا جو رات کے بچی ہوئی روٹی پر تھوڑا سا گھی لگا کر اُسے دوبارہ زندہ کر رہی تھیں‘ ماں جی شائد ابا جی سے نظریں ملانے کی متحمل نہیں ہورہی تھیں اس لیے جلدی سے دھیان چولہے کی طرف لگا لیا۔میں پھر مچلا’’ابا جی میں نے ربڑ لینا ہے۔‘‘ میرا جملہ سن کر وہ زور سے ہنسے ‘ پھر میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولے’’لے دوں گا‘ لیکن پہلے اچھی طرح ناشتہ کر‘‘۔یہ سنتے ہی میرے اندر پھلجڑیاں سی پھوٹ پڑیں‘ مجھے لگا جیسے میری لاٹری نکل آئی ہے‘ میں نے حکم کی تعمیل میں جلدی سے پیالہ ختم کیا اور داد طلب نظروں سے ابا جی کی طرف دیکھا۔ابا جی نے فخریہ انداز سے میرے کندھے تھپتھپائے اور بولے’’شاباش میراببر شیر پُتر‘‘۔یہ خطاب میرے لیے نیا نہیں تھا‘ ابا جی جب بھی مجھ سے خوش ہوتے تھے ایسے ہی کہتے تھے‘ لیکن اُس دن مجھے اِس خطاب کی نہیں‘ ایک ربڑ کی ضرورت تھی لہذا جلدی سے کہا’’ابا جی!اب ربڑ لینے چلیں؟‘‘ میرا جملہ سنتے ہی ابا جی کے چہرے پر ایک رنگ سا آکر گذر گیا لیکن انہوں نے فوری طور پر مسکراہٹ کا ازلی نقاب اوڑھ لیا اورحسبِ معمول میرے گال تھپتھپا کر بولے’’لے دوں گا یار‘ پہلے چوتھی جماعت میں تو آجاؤ ‘‘۔۔۔میری اُمیدوں پر پانی پھر گیا‘ وہ تو کہتے تھے کہ صبح کے وقت آنے والے خواب سچے ہوتے ہیں‘ پھر میرا خواب کیوں سچا ثابت نہیں ہورہا تھا؟ کیا میری صبح سچے خواب والی صبح نہیں تھی؟میں نے بے دلی سے بستہ اُٹھایا‘ تختی اور چادر سنبھالی اورڈھیلے قدموں کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔

سکول پہنچا تو ’’جیرے‘‘ نے بتایا کہ وہ ربڑ لایا ہے‘ مجھے یقین نہ آیا اور میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو‘ اُس نے یہ سنتے ہی جھٹ سے اپنا بستہ کھولا اور ایک استعمال شدہ ربڑ میری آنکھوں کے آگے لہرا دیا۔‘ میں جل بھن گیا‘ جیرا بھی تو پکی جماعت میں تھا‘ پھر اُس کے ابا جی نے کیسے اُسے ربڑ لے دیا؟
میں نے اُس کے ہاتھو ں سے ربڑ لے کر الٹ پلٹ کر دیکھا‘ وہ واقعی ایک ربڑ تھا‘ اصلی ربڑ۔میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے جیرے نے جھٹ سے ایک کاغذ اور کچی پنسل نکالی‘ کاغذ پر کچھ آڑھی ترچھی لکیریں ڈالیں اور بڑے فخر سے ربڑ پکڑ کر اِنہیں مٹانے لگ گیا۔میں حیرت سے گنگ بیٹھاربڑ کو لکیروں پر پھرتے دیکھ رہا تھا‘ جہاں جہاں ربڑ پہنچ رہا تھا‘ لکیریں اپنا وجود کھوتی جارہی تھیں‘ کلاس کے اور لڑکے بھی ہمارے سروں پر جمع ہوچکے تھے اور حسرت بھری نظروں سے جیرے کے ربڑ کو دیکھ رہے تھے‘ جیرا بڑے اطمینان سے سیٹی بجاتے ہوئے ربڑکو لکیروں پر پھیر رہا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارا کاغذ ایسے صاف ہوگیا جیسے کبھی اُس پر کچھ لکھا ہی نہ گیا ہو۔میری آنکھوں میں خون اُتر آیا‘ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ جھٹ سے جیرے کا ربڑ چھینا اور دانتوں تلے دبا کر ریزہ ریزہ کر دیا۔جیرے کی ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی اور کلاس میں جیسے طوفان سا آگیا‘ ربڑکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے فرش پر بکھرے پڑے تھے اور جیرا دھاڑیں مار مار کر ربڑ کی لاش پر ماتم کر رہا تھا۔

میرے دل میں ٹھنڈ سی اُترتی چلی گئی‘ کلاس کی چیخ وپکار سن کر ’’وڈی اُستانی‘‘ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی۔مجھے پتا تھاکہ اب میرے ساتھ کیا ہونا ہے لہذا جلدی سے بستہ ‘ چادر اورتختی اُٹھائی اور پوری قوت سے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔وڈی اُستانی نے چلا کر دوسری اُستانیوں کو خبردار کیا‘ ساری اُستانیاں میرے پیچھے دوڑیں لیکن میں نے چھلانگیں لگائیں اور سکول کے عقب میں واقع سلیکون کے کارخانے میں گھس گیا۔یہ کارخانہ ایک بھول بھلیاں تھا لہذا مجھے اطمینان تھا کہ یہاں مجھے کسی کا باپ بھی نہیں ڈھونڈ سکتا۔سارا دن میں گلیوں میں اِدھر اُدھر گھومتا رہا اور چھٹی کے وقت گھر پہنچ گیا‘ وہاں میری ’’کاروائی‘‘ کی خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی‘لیکن ماں جی نے اپنے مزاج کے عین مطابق ہلکے پھلکے انداز میں ڈانٹ پلائی اور بات آئی گئی ہوگئی۔شام کو میں حسبِ معمول گلی میں ’’لُکن میٹی‘‘ کھیلنے نکلا تو مجھے احساس ہوا جیسے ہاتھوں پیروں سے جان نکلتی جارہی ہے‘ عجیب سی تھکن تھی جو مسلسل مجھے نقاہت میں مبتلا کر رہی تھی‘ میں واپس آگیا‘ چونکہ یہ خلاف توقع تھا اس لیے ابا جی کا ماتھا ٹھنکا‘ انہوں نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور کانپ گئے‘ میں نے سنا‘ وہ ماں جی کو کہہ رہے تھے کہ اِسے توسخت بخار ہے۔ رات تک سرکاری ہسپتال کا ڈاکٹر اعلان کر چکا تھا کہ مجھے خطرناک قسم کا ٹائفائیڈ ہوچکا ہے ۔میں بستر سے لگ گیا اورماں جی دیوانہ وار خدا سے دعائیں کرنے لگیں‘ ابا جی ہر نماز کے بعد مسجد کے نمازیوں سے پھونک مروا کے میرے لیے دم کیا ہوا پانی لاتے اور چند قطرے میرے منہ میں ٹپکا دیتے۔میرے اعصاب مسلسل شل ہوتے جارہے تھے‘ نیم غنودگی کے عالم میں مجھے ہر چیز اپنے قد سے بہت بڑی اور سلوموشن میں چلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔میرے روٹی کھانے پر پابندی تھی‘ دل نمکین چیز کو ترس گیا تھا‘ ایسے میں ایک دن میں نے ماں جی سے کہا کہ میں نے ’’کڑی ‘‘ کھانی ہے۔ماں جی نے بے بسی سے اِدھر اُدھر دیکھا‘پھر میری پیشانی چومی اور بولیں’’تم ٹھیک ہوجاؤ‘ پھر بنا دوں گی‘‘۔میں سمجھ گیا کہ ’’ہنوزکڑی دور است‘‘۔

یہ اُس روز کا ذکر ہے جب میرے ٹائیفائیڈ کو چھ روز ہوچکے تھے‘ میں بے جان سا ہوکر ابا جی کی گود میں بیٹھا ہوا تھا‘ ابا جی میرے بالوں میں انگلیاں پھیر تے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’’میرے ببر شیر۔۔۔دوائی تو کھا لو‘‘۔میں نے بیزاری سے نفی میں سر ہلادیا۔ابا جی نے پیار سے پوچھا’’چلو پھر بتاؤ کس چیز کو دل کر رہا ہے؟‘‘ میں نے چونک کر بے یقینی سے گردن گھمائی‘ ابا جی کی آنکھوں میں دیکھا اوردھیرے سے کہا ’’مجھے ربڑ لادیں‘‘۔ابا جی پہلے تو بے اختیارہنس پڑے ‘ پھر کسی سوچ میں گم ہوگئے‘ تھوڑی دیر بعد انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور بولے’’ربڑ لادوں تو ٹھیک ہوجاؤ گے؟‘‘ میں یکدم سیدھا ہوگیا’’ہاں ابا جی! اللہ میاں کی قسم‘ میں بالکل ٹھیک ہوجاؤں گا‘‘ میں نے خوشی اوربھرپور اعتماد سے جواب دیا۔‘‘ ابا جی مسکرائے’’تو پھرپکا وعدہ‘ تم ٹھیک ہوکر دکھاؤ‘ میں ربڑ لادوں گا‘‘۔ مجھے اپنی سماعت پر یقین نہ آیا‘ میرا خواب سچ ہونے جارہا تھا‘ ایک لمحے میں میری ساری تھکن اُتر گئی‘ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ ٹائیفائیڈ میرے ربڑ کا دشمن ہے لہذا اِس دشمن کو اب ہرحال میں شکست دینی ہے۔

آٹھویں روز جب میں ہشاش بشا ش ہوکر سکول جارہا تھا تو میرے بستے میں ایک نہیں دو ربڑ تھے ‘ کچھ عجیب سے تھے لیکن میں شرط لگا کر کہہ سکتا تھا کہ اتنے بڑے اور رنگیلے ربڑ اور کسی بچے کے پاس ہوہی نہیں سکتے تھے‘ مجھے ابا جی پر بہت پیار آیا‘ وہ صرف میری خاطر نجانے کہاں سے اتنے مہنگے ربڑ خرید لائے تھے‘ وہ بھی ایک نہیں‘ پورے دو۔۔۔!!!سکول میں جب میں نے ’’جیرے ‘‘ اور دیگر دوستوں کو اپنے ربڑ دکھائے تو حیرت سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں‘ جیرے نے میرا ربڑ دیکھنے کے لیے ہاتھ بڑھائے لیکن میں نے جلدی سے ربڑ پیچھے کر لیا‘ مجھے یقین تھا کہ وہ اپنے ربڑ کا بدلہ ضرور لے گا۔میرے ربڑ بہت اچھے تھے ‘ عام ربڑ کی نسبت سائز میں دوگنے تھے لیکن پتا نہیں کیوں‘ جب میں اِن سے کاغذ پر ڈالی ہوئی کوئی لکیر مٹانے کی کوشش کرتا تو یہ ربڑ لکیر مٹانے کے ساتھ ساتھ کاغذ بھی پھاڑ دیتے۔

برسوں بعد ‘ جب میں خود باپ بن چکا تھا‘ ایک روز بچپن کی بات یاد آئی تو میں نے ابا جی سے پوچھ ہی لیا کہ آخر وہ ربڑ آپ کہاں سے لائے تھے‘ ابا جی نے بات گول کرنے کی کوشش کی‘ لیکن اب ایک باپ کا مقابلہ ایک دوسرے باپ سے تھا جو تعلیم‘ تجربے اور پیسوں کے معاملے میں پہلے باپ سے بہت آگے تھا لہذا بات گول کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا‘ میں نے دوبارہ پوچھا تو ابا جی کی پلکوں کے کنارے بھیگ گئے‘ انہوں نے جلدی سے اپنی قمیض کی آستین سے آنکھیں صاف کیں اور دھیرے سے مسکرا کر بولے’’یار! وہ ہوائی چپل واقعی بہت پرانی ہوگئی تھی‘‘۔۔۔میں اچھل کر کھڑا ہوگیا۔۔۔کسی ربڑ کی طرح۔۔۔!!!

---------------------------------

6 اپریل، 2015

دھت تیرے کی۔۔۔!!!

  یہ ایک خالصتاً مردانہ محفل تھی، ہم پانچ دوست مختلف ایشوز پر بحث کر رہے تھے ، اچانک ایک زنانہ آواز آئی ’’آئی لو یو جان‘‘۔سب بے اختیار اچھل پڑے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر اُدھر دیکھا لیکن ٹی وی بھی بند تھا اوردور دور تک کوئی خاتون بھی نہیں نظر نہیں آئی۔ اتنے میں یہی آواز پھر ابھری اور عقدہ کھلاکہ یہ ایک دوست کے موبائل فون سے آرہی ہے۔دوست نے موبائل نکالا، کچھ دیر بات کی اور مسکراتے ہوئے فون بند کردیا۔ پتا چلا کہ موصوف نے اپنی بیگم کی آواز کو رِنگ ٹون بنا رکھا ہے۔ان کی بیگم کا جب بھی فون آتا ہے یہی پیار بھری ٹون بجنے لگتی ہے تاہم وہ جب بھی فون اٹینڈ کرتے ہیں دوسری طرف سے دانت پیسنے کی آوازیں چار گز دور بیٹھے بندے کو بھی سنائی دے جاتی ہیں۔پتا نہیں ایسے لوگوں کو کیا بیماری ہے، ایسی ایسی رِنگ ٹون لگاتے ہیں کہ سارا ماحول بدل کے رکھ دیتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک جنازے میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آگئی، کندھا بدلتے ہوئے ایک صاحب نے کلمہ شہادت کا نعرہ لگایا اور ساتھ ہی ان کے موبائل سے آوا زآئی’’چٹیاں کلائیاں وے‘‘۔
اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مخصوص رِنگ ٹون اس لیے لگاتے ہیں تاکہ پتا چل جائے کہ کس کا فون آرہا ہے، میرے ایک محلے دار کے فون پر اکثر گدھے، بلی، اونٹ اور بھیڑیے کی آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔ایک دفعہ راز پوچھا تو دانت نکال کر بولے ہر سسرالی رشتہ دار کے لیے مختلف رِنگ ٹون سیٹ کی ہوئی ہے۔ ایک دفعہ ان کے موبائل سے خطرے کے سائرن کی آواز آئی، میں نے پوچھا یہ کس کا نمبر ہے؟ اطمینان سے بولے ’’دوکاندار کا۔‘‘
کئی لوگوں کے ایک نام والے کافی سارے لوگ ہوں تو وہ یاد دہانی کے لیے ان کا نمبر محفوظ کرتے وقت اکثر ان کا کریکٹر بھی ساتھ لکھ دیتے ہیں مثلاًاگر شہزاد نام کے ایک سے زیادہ لوگ ہوں تو ان کے نام کچھ یوں درج ہوں گے’’شہزاد ڈنگر، شہزاد چول، شہزاد بونگا، شہزاد منحوس، شہزاد بھوکا ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح جن لوگوں کو ہر نام کے ساتھ رنگ ٹونز لگانے کا شوق ہوتاہے وہ بھی کچھ ایسا ہی کرتے ہیں ، میرے آفس بوائے نے بھی ہر نام کے لیے ڈھونڈڈھونڈ کر گانوں والی رنگ ٹونز لگائی ہوئی ہیں۔ اس کی والدہ کا فون آئے تو گانا بجتا ہے ’’مائے نی میں کنوں آکھاں‘‘۔۔۔والد صاحب کا فون آئے تو آواز آتی ہے’’پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا‘‘۔ بھائی کا فون آئے تو ’’دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے‘‘ چل پڑتاہے۔ایک دفعہ وہ چائے بنا رہا تھا، میں نے اپنا سٹیٹس چیک کرنے کے لیے اسے بیل ماری تو آگے سے گانا چل پڑا’’گھوڑے جیسی چال ہاتھی جیسی دُم‘‘۔۔۔!!!
آپ نے یقیناًوہ لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو رِنگ ٹونز کے شیدائی ہوتے ہیں،ان کااولین شوق موبائل میں نئی نئی رنگ ٹونز بھروانا ہوتاہے ،یہ ہر دو گھنٹے بعد اپنی رِنگ ٹون بدل دیتے ہیں۔فارغ وقت میں ان کا بہترین مشغلہ اپنے ہی موبائل کی مختلف رِنگ ٹونز سننا ہوتاہے۔یہ کہیں بیٹھے ہوں تو اِن کے موبائل کی رنگ ٹون کی آواز ساتویں محلے تک سنائی دیتی ہے تاہم یہ فوراً ہی کال رسیو نہیں کرتے بلکہ تیس چالیس سیکنڈ تک خود بھی ٹون سننے کا مزا لیتے ہیں اور اردگرد بیٹھے ہوؤں کو بھی ذہنی کوفت میں مبتلا کرتے ہیں۔کئی نیک لوگ مذہبی کلمات کو رنگ ٹون بنانا پسند کرتے ہیں ، میرے ایک دوست نے ’’بسم اللہ‘‘ کو اپنی رنگ ٹون بنا رکھا ہے، کئی دفعہ جب اس کی بیگم لڑائی کے دوران اس کے اوپر گرم گرم چائے پھینکنے لگتی ہے تو اتفاق سے کسی نہ کسی کا فون آجاتا ہے اور چائے گرنے سے پہلے آواز آتی ہے’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘۔اسی طرح ایک اور دوست ہیں جنہیں ہر وقت موت یاد رہتی ہے لہذا انہوں نے اپنی رنگ ٹون بھی اسی کے مطابق سیٹ کی ہوئی ہے۔موصوف نے پچھلے دنوں دوسری شادی کرلی، نکاح ہوگیا تو اچانک ان کے موبائل سے آواز آئی’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘۔
اکثر لوگ میسج کی ٹون بھی مختلف رکھنا پسند کرتے ہیں تاہم بعض اوقات یہ اتنی مختلف ہوجاتی ہے کہ ساتھ والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہوا کیا ہے۔ میں ایک دفعہ آفس آنے کے لیے لفٹ میں سوار تھا کہ اچانک کتے کے بھونکنے کی زوردار آواز آئی، لفٹ میں سوار ہر بندے کی ہاف چیخ نکل گئی۔پتا چلا کہ کونے والے صاحب کے موبائل پر میسج آیا ہے۔ اسی طرح آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بھری محفل میں اچانک دروازے پر دستک کی آواز آتی ہے، یہ بھی میسج کی ٹون ہوتی ہے۔میرے دفتر کے ہمسائے میں ایک صاحب نے میسج کی ٹون پر ایک خاتون کی کربناک چیخ لگا رکھی ہے ، سو کئی دفعہ ہوا کہ گاڑی چلاتے ہوئے انہوں نے شیشے کھولے،کوئی میسج آیا اورکسی قریبی راہگیرنے ان کی گاڑی کا نمبر نوٹ کرکے ون فائیو پر فون کر دیا۔تاہم پچھلے کچھ دنوں سے مجھے چیخوں کی آواز نہیں آئی تو پتا چلا کہ انہوں نے یہ رِنگ ٹون بدل دی ہے، میں نے وجہ پوچھی توکھسیانے ہوکر بات بدلنے کی کوشش کی، میں نے زور دیا تو شرمندہ ہوکربولے’’یار بس جمعہ پڑھنے گیاتھااور جلدی میں موبائل کو میوٹ پرکرنا بھول گیا۔۔۔!!!‘‘
موبائل کی ایک ٹون تو وہ ہوتی ہے جو آپ کی کال آنے پر آپ کے موبائل میں بجتی ہے، دوسری وہ ہوتی ہے جسے ’’کالر ٹون‘‘ کہتے ہیں، میں نے ایک دفعہ شوق شوق میں یہ ٹون لگا لی اور اس کے بعد عذاب میں پھنس گیا، دودھ والے کا بھی فون آتا تھا تو اسے میری طرف سے سنائی دیتا تھا’’بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم‘‘۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ اس ٹون سے چھٹکارا حاصل کر سکوں لیکن ناکام رہا، موبائل کمپنی سے رابطہ کیا تو انہوں نے ایک کوڈ بتایا کہ اِسے فلاں نمبر پر ایس ایم ایس کردیں آپ کی کالر ٹون ختم ہوجائے گی۔میں نے فوری طور پر ایسا ہی کیا اور چیک کرنے کے لیے پی ٹی سی ایل سے اپنے نمبر پر فون کیا تو آواز آئی’’گندی بات، گندی گندی گندی بات‘‘ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے، جلدی سے موبائل کمپنی کی ہیلپ لائن پر دوبارہ کال کی، پینتیس منٹ تک تو کمپنی والے مجھے اپنی ریکارڈڈ آفرز سناتے رہے، بالآخر ان کے نمائندے سے بات ہوئی تو میں نے اپنی مصیبت بیان کی۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا کہ آپ کو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے، آپ یہ والا کوڈ ملائیں تو سکھی ہوجائیں گے۔ میں نے تہہ دل سے اس کا شکریہ ادا کیا اور ایک بار پھر نیا کوڈ ایس ایم ایس کرکے دھڑکتے دل سے دوبارہ اپنا نمبر ملایا۔ بہت خوشی ہوئی کہ کوئی گانا نہیں چلا البتہ کمپنی کا جوابی میسج آگیا کہ’’ آپ کی خواہش کے احترام میں آپ کی تمام کالر ٹونز ختم کردی گئی ہیں اور اس کے عوض آپ کے اکاؤنٹ سے مبلغ 30 روپے جھاڑ لیے گئے ہیں اگر آپ دوبارہ یہ عذاب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس میسج کے جواب میں کچھ بھی لکھ کر بھیج دیں، انشاء اللہ ہم آپ کی زندگی اجیرن بنانے میں کوئی دیر نہیں لگائیں گے۔‘‘میں نے فوری طور پر میسج کیا’’پلیز میں ایسا کچھ نہیں چاہتا ،میں پہلے ہی بہت تنگ ہوں آپ کی مہربانی مجھے معاف رکھیں‘ ‘۔ فوراً ہی جواب آیا’’آپ کا بہت شکریہ، آپ کی فرمائش پر آپ کی تمام سابقہ ٹونز بحال کردی گئی ہیں۔۔۔‘‘
--------------
گل نوخیز اختر

31 دسمبر، 2014

ان بیان ایبل از گل نوخیز اختر


 ہماری ایک معروف افسانہ نگارکی شادی کی عمر گذرتی جارہی تھی، موصوفہ تقریباًکسی سے بھی شادی کرنے پر راضی تھیں لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی قانونی اقرارکرنے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔ انہوں نے شادی میں کسی کو انوائٹ نہیں کیا، ایک دن ایک تقریب میں مل گئیں تو میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے چپکے سے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔ خوشی سے شرمندہ ہوکر بولیں ’’اصل میں سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کئی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلاسکی‘‘۔ میں نے پوچھا’’ماشاء اللہ دولہا بھائی کرتے کیا ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی اٹھلا کر بولیں’’ان کی روٹیوں کی فیکٹری ہے‘‘ میری آنکھیں پھیل گئیں، بعد میں پتا چلا کہ دولہا بھائی کا ذاتی تنور ہے۔
ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے’’بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے رامیٹریل فراہم کرتے ہیں‘‘۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے ’’میٹریل‘‘ کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔
کچھ لوگ بڑے آرام سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ جب تک تفصیل کا نہ پتا چلے یہ جھوٹ بالکل سچ معلوم ہوتاہے۔ مثلاً میری ایک ’’سگی کلاس فیلو‘‘ کی منگنی ہوئی تو اس کی سادہ اور معصوم سی والدہ نے بتایا کہ لڑکا پہلے سٹیٹ بینک میں لگا تھا ، اب پان سگریٹ کا کھوکھا لگاتاہے۔میں نے اپنے کان کھجائے’’سٹیٹ بینک اور پان سگریٹ کے کھوکھے‘‘ کا تقابلی جائزہ لیااور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کلاس فیلو سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر لڑکے والوں سے پوچھا گیاکہ لڑکا کب سٹیٹ بینک میں لگا تھا۔ جواب ملا’’پچیس اگست 1998ء کو رات پونے ایک بجے‘‘۔ یہ سنتے ہی لڑکی والے بوکھلا گئے کہ رات پونے ایک بجے سٹیٹ بینک میں کون سی جوائننگ ہوتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، لڑکا اصل میں پہلے رکشہ چلا تا تھا، پچیس اگست کو اس کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ سیدھا ’’سٹیٹ بینک میں جالگا‘‘۔

اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتاہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔اپنی مثال اس لیے نہیں دوں گا کیونکہ مجھے کافی بہت پسند ہے بلکہ اب تو مجھے Cappuccino کے سپیلنگ بھی یاد ہوگئے ہیں ، میں جب بھی کافی منگواتا ہوں سب سے پہلے ختم کرتا ہوں، میرے دوستوں کو یقین ہے کہ میں کافی کا دیوانہ ہوں، یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چائے اور کافی میں وہی فرق ہے جو تاش اور شطرنج میں ہے۔ لیکن میراکافی پینے کا اپنا ہی سٹائل ہے۔۔۔میں صرف ایسی جگہ پر کافی پینا پسند کرتا ہوں جہاں واش بیسن قریب ہو۔
 ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔۔۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو السی اور چاول کی پنیاں کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا ’’دابڑا‘‘ کب چکھا تھا؟ بھینس کی ’’بوہلی‘‘ کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ ’’بوہلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔
 پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتاہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتاہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتاہے، البتہ ایک’’وٹنری ڈاکٹر‘‘ ایسا نام ہے جسے بیرونی دنیا میں تو بہت عزت حاصل ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی تک اس کے لیے ’’وہی ‘‘ لفظ استعمال کیا جاتاہے۔۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے ’ ’ان بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
 مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنے کا جنون ہوگیا ہے اور یہی جنون ہم سے اصل زندگی چھینتا چلا جارہا ہے۔کیامونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے ’’پران‘‘ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا کوئی پیزا آلو کے پراٹھوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ کیا چلی ساس، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟گڑ کی ڈلی سے بہتر کس کینڈی کا ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کس فائیو سٹار ہوٹل کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟سرسوں کے تیل سے زیادہ دماغ کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ کیا چاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟؟؟ مکی کی روٹی اور ساگ کے برابر میں جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی فرق معلوم ہوجائے گا۔ لیکن ہمیں یہ چیزیں اس لیے پسند نہیں کیونکہ جن لوگوں میں ہم رہتے ہیں اُنہیں یہ پسند نہیں۔ دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کی دوڑ میں ہمیں ہر وہ چیز بھولتی جارہی ہے جس کے ہم کبھی دیوانے ہوا کرتے تھے۔

اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑرہا ہے۔ہم نے کتنی محنت سے اپنے ذائقے تبدیل کر لیے، اپنے حلئے تبدیل کر لیے، اپنے رویے تبدیل کرلیے ۔۔۔اب ہم معمولی سی بات کو تھوڑا سا گھما کر بیان کرتے ہیں ، نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔۔۔لیکن معاشرے میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔اب بے شک ہماری قمیض کی بغلیں پھٹی ہوئی ہوں، پیروں میں قینچی چپل ہو، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہم ’’رائل فیملی‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے اور امیر رشتے دار ایسے ضرور سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہے تاکہ انہیں اپنے اِن رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جائے۔خود وہ کیاہیں۔۔۔ یہ اُنہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔۔۔!!! 

 

28 اکتوبر، 2014

افسوس!! یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے

جنگل کے بادشاہ اور رعایا کی ایک کہانی
 

tags
 یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے
شیر اور گدھوں کی کہانی 
story of lion and donkeys, pakistan, urdu,

1 اکتوبر، 2014

مولوی کی سیلفی کرکٹ

 مولوی کے استاد ہونے میں کیا شبہ۔ پیر کی شام دھرنے سے باہرآیا اور کرکٹ کھیلی۔ یہ سولو کرکٹ تھی۔ جیسے ادب میں مونو لاگ ہوتا ہے‘ ویسے ہی مولوی نے سولو کرکٹ متعارف کرا دی ہے‘ اسے سیلفی کرکٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ خود ہی باؤلنگ کی‘ خود ہی بیٹنگ کی اورچھوٹتے ہی چھکے لگائے۔ پہلی بال میں آؤٹ ہوگیا لیکن امپائر بھی خود ہی تھا اس لئے انگلی کھڑی نہیں کی بلکہ خود کو ناٹ آؤٹ قرار دے کر پھر سے باؤلنگ اور بیٹنگ شروع کر دی ۔ پتہ نہیں‘ ’’سیلفی‘‘ میں مزہ نہیں آیا ورنہ سنچری کرنا کیا مشکل تھا۔ ہو سکتا ہے‘ کنٹینر سے باہر کی ’’خوشبو دار فضا‘‘ نے مولوی کی ناک کھٹی کر دی ہو (محاورہ دانت کا ہے لیکن ناک حسب حال بلکہ حسب موقع ہے )اور مزید چھکّے لگانے کا دم نہ رہا ہو۔

سیلفی کرکٹ اچھا شغل ہے‘ بعض لوگ توقع کر رہے ہیں کہ دھرنوں کی شاندار ناکامی کے بعد مولوی کا یہی شغل ہمہ وقتی ہو جائے گا ۔یہ مولوی بھی خدا نے کیا شے بنائی ہے‘ سبحان اس کی قدرت ۔ کتابیں اس کے شاگرد لکھتے ہیں‘ انہیں پیسے دے کر اپنے نام سے چھپوا لیتا ہے لیکن کرکٹ میں دوسروں پر انحصار نہیں کرتا۔بطور باؤلر کسی دوسرے کو بیٹسمین اور بطور بیٹسمین کسی دوسرے کو باؤلر نہیں مانتا۔ دونوں کی ڈیوٹی اکیلا دیتا ہے۔ پتہ نہیں‘ دھرنوں کے نتیجے کے لئے کسی اور امپائر پر انحصار کیوں تھا۔ اس امپائر کے انتظار میں ڈیڑھ مہینہ گنوا دیا اور سبق یہ سیکھا کہ باؤلر بھی خود‘ بیٹسمین بھی خود‘ امپائر بھی خود ہونا چاہئے۔ یہ سبق پہلے ہی سیکھ لیا ہوتا تو شاید دھرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔


امپائر کا انتظار رنگیلے نیازی کو بھی تھا۔ انتظار کیا‘ دونوں کو یقین تھا کہ امپائرپاس ہی کہیں دھرنوں کی اوٹ میں کھڑا ہے اسی لئے تو رنگیلا نیازی ہر رات یہ اعلان کرتا تھا کہ انگلی کل کھڑی ہوگی اور مولوی ہر دوسرے دن انقلاب کی نئی حتمی تاریخ دیتا تھا۔ ایک بار تو ’’رانگ سگنل‘‘ ملنے کے بعد پارلیمنٹ پر ہلّہ بول دیا اور فیصلہ سنا دیا کہ اب کوئی اس کے اندر جا سکتا ہے نہ باہر آسکتا ہے۔ پھر صحیح سگنل ملنے پر حکم بدل دیااور ارکان پارلیمنٹ کو آنے جانے کی اجازت دیدی۔ جو لوگ کہتے ہیں پارلیمنٹ طاقتور ہے‘ انہیں ماننا چاہئے کہ پارلیمنٹ کی طاقت مولوی کی محتاج ہے۔ خود انصاف کیجئے‘ مولوی پارلیمنٹ میں آنے جانے کی اجازت نہ دیتا تو پارلیمنٹ اب تک سیلفی کرکٹ کا گراؤنڈ نہ بن چکی ہوتی۔ 


عبداللہ طارق سہیل  

4 اگست، 2014

غزہ کی صورت حال پر طاہر القادری سے ایک صحافی کی گفتگو


صحافی: مولوی صاحب، اسرائیل نے سیکٹروں بچوں سمیت دو ہزارکے قریب لوگ شہیدکر دیئے ہیں سب لوگوں نے اس کی مذمت کی ہے لیکن آپ کی طرف سے ایک لفظ تک نہیں کہا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟
مولوی صاحب: اسرائیل خود مختار ملک ہے، اس کے اندرونی مسئلے پر مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔
صحافی:لیکن وہاں مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔
مولوی صاحب: اچھا؟ مجھے تو کسی نے بتایا تھا وہ کوئی فلسطینی وغیرہ ہیں۔
صحافی: فلسطینی مسلمان ہیں، آپ سب جانتے ہیں۔
مولوی صاحب: یہ بات ٹھیک ہے، میں ہی تو ہوں جوسب جانتا ہوں اور سب سے زیادہ جانتا ہوں۔
صحافی:پھر آپ نے بیان کیوں نہیں دیا۔
مولوی صاحب:آپ اخبار ٹی وی نہیں دیکھتے، میں تو دن میں چھ بار بیان دیتا ہوں کہ یہ حکومت نہیں رہے گی۔
صحافی: یاہو کی حکومت؟
مولوی صاحب:نہیں نواز شریف حکومت، اب اسے جانا ہوگا، پھر انقلاب آئے گا اور یا ہو نہیں میں گوگل استعمال کرتا ہوں۔
صحافی: لیکن فلسطین۔۔۔
مولوی صاحب:میں نے اپنا مؤقف دے تو دیا۔
صحافی: لیکن مذمت تو نہیں کی۔
مولوی صاحب:میں ہر روز چھ بار مذمت کرتا ہوں۔
صحافی: اسرائیل کی ؟
مولوی صاحب:نہیں نواز شریف کی۔
صحافی: لیکن آپ اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں کرتے۔
مولوی صاحب:دہشت گردوں کے بارے میں میرا موقف میرے فتوے میں آچکا ہے۔ جو میں نے کینیڈا کی بابرکت، الہامی اور روحانی فضاؤں میں لکھا تھا، آپ وہ پڑھ لیں۔ منہاج کے دفتر سے خرید لیں یا امریکی سفارتخانے جا کر مفت پڑھ لیں۔
صحافی: لیکن مذمّت ؟
مولوی صاحب:میں نواز شریف کی شدید مذمت کرتا ہوں، میں شہباز شریف کی شدید مذمت کرتا ہوں، سن لیا، اب جاؤ۔ میرا موبائل بج رہا ہے، ’’تازہ الہام‘‘ آرہا ہے۔ آپ فوراً جاؤ،’’الہام‘‘ صرف خلوت میں سنا جاتا ہے۔

عبداللہ طارق سہیل

24 جولائی، 2014

’ایویں رولا پاندا اے‘

 ’ایویں رولا پاندا اے‘ 
ابو نثر

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ:
’’کوئی طاقت انقلاب کو نہیں روک سکتی‘‘۔
علامہ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ ایسی ناطاقتی صرف زمینی طاقتوں کے حصے میں آئے گی یا جوشِ انقلاب میں اُنھوں نے تمام آسمانی طاقتوں کو بھی کھلا چیلنج دے مارا ہے۔ویسے انقلاب کے آنے کی نوید تو ہم جنوری 2013ء سے سن رہے ہیں جب علامہ صاحب اسلام آباد کے ’ڈی چوک‘ پر سخت سردی کے موسم میں گرما گرم کنٹینر کے اندر کافی پی پی کر انقلاب لانے پر تلے ہوئے تھے۔مگر اب تک جو انقلاب نہ آسکا تو آخر اِس کی کیا وجہ ہے؟کیا اس کی وجہ انقلاب کی اپنی ناطاقتی ہے؟ یا واقعی کوئی طاقت انقلاب کو آنے سے روکے کھڑی ہے؟ ابھی پچھلے ماہ یعنی جون 2014ء میں بھی علامہ صاحب ’انقلاب بذریعہ ہوائی جہاز‘ لے کر آرہے تھے۔ مگریہ بھی اﷲ ہی جانے کہ اُس انقلاب کی آمد کی راہ میں کون سی طاقت آڑے آگئی؟ سو،انقلاب کو آنا تھا نہ آیا۔ بلکہ انقلاب کی جگہ ماہِ صیام آگیا اور ’اﷲ کا مہینہ‘ یعنی ’رمضانِ کریم‘ انقلاب کا رستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ ابھی تک کھڑا ہے۔ اب علامہ صاحب بھی کھڑے انتظار کر رہے ہیں کہ ماہِ صیام کسی طرح رُخصت ہو تو اُن کا انقلاب بھی کسی طرح آئے۔ (ارے بھئی رمضان میں قید کر دیا جانے والا، اُن کا ’محرکِ انقلاب‘ ، اُن کا گڈو بٹ، رہائی پائے گا تو انقلا ب آئے گا نا!)
صاحبو! علامہ صاحب کا انقلاب، انقلاب نہ ہوا، ایک پرانی کہانی کے چرواہے کا شیر ہوگیا، جس کے متعلق چرواہا ہر روز صدا لگاتا تھا کہ۔۔۔’شیر آیا، شیر آیا دوڑنا‘۔۔۔صدا سن کر گاؤں کے لوگ کلھاڑے لے لے کر دوڑے چلے آیا کرتے۔ مگر اُنھیں کہیں شیر نظر آتا نہ شیر کی دُم۔ بالآخر ایک روزشیر آہی گیا۔ اُس روز بھی چرواہے نے بڑی آوازیں لگائیں۔ مگر گاؤں والوں نے کہا: ’’ایویں رولا پاندا اے‘‘۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ شیر چرواہے کو چیر پھاڑ کر کھا گیا۔ ہم بھی سوچتے ہیں کہ علامہ کے صدا لگاتے لگاتے اگر کسی روز سچ مچ انقلاب آگیا تو ہم کنیڈا والوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟
علامہ صاحب نے یہ بھی فرمایاہے کہ:’’کرپٹ پولیس اہلکار انقلاب کے رستے میں نہ آئیں‘‘۔
اس سے ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ شاید کرپٹ پولیس اہلکار ہی انقلاب کے رستے میںآکر کھڑے ہوگئے تھے۔انقلاب پولیس سے ڈر گیا اور مارے ڈر کے نہ آسکا۔ اب علامہ صاحب نے جو پولیس کو للکارا ہے تو اس پر ہمیں آغاحشر کاشمیری کی للکار یاد آگئی کہ:
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو، ہٹ جاؤ! دے دو راہ جانے کے لیے
اس سے ہمیں پتا چلا کہ کرپٹ پولیس اہلکاروں کی طرح، فلک پر گشت یا مٹر گشت کرتے ہوئے بادل بھی آغا صاحب کی ’آہ‘ کا رستہ روکے کھڑے تھے۔ وہ تو آغا صاحب مرحوم نے اُنھیں للکار، للکار کر ہٹایا تو ’آہ‘ کو فلک پر جانے کا رستہ ملا۔ تاہم، آغا صاحب کی ’آہ‘ فلک سے رحم لانے میں کامیاب ہوئی یا نہیں؟ اس باب میں اُردو زبان کے شیکسپیئر کے ڈراموں کی تاریخ خاموش ہے۔ مگر علامہ صاحب خاموش نہیں ہیں۔ اب تک نہ آنے والے انقلاب کے رستے کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کرپٹ پولیس والوں کو للکارے چلے جارہے ہیں کہ:
انقلاب آتا ہے تم پر قہر ڈھانے کے لیے
پُلسیو، ہٹ جاؤ! دے دو راہ آنے کے لیے
اُردو محاورے کی ’رادھا‘ اپنے ناچنے کے لیے ’نومن تیل‘ فراہم کرنے کی شرط عائد کیا کرتی تھی، اس اطمینان کے ساتھ کہ۔۔۔ ’نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی‘ ۔۔۔ مگر علامہ کو اپنے انقلاب کے لیے ’دس لاکھ تعلیم یافتہ افراد‘ کا لشکر اقتدار بنانے کی حاجت ہے۔ آپ نے فرمایا :
’’ان کی فہرست ابھی سے تیار کرنا شروع کردی جائے گی‘‘۔
دس لاکھ افراد کی فہرست بنانے میں کم از کم، کم ازکم بھی سو، دوسو، دن تو لگ ہی جائیں گے۔پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ڈھائی کروڑ تعلیم یافتہ افراد تو بیروزگار پھر ہی رہے ہوں گے۔علامہ نے تعلیم یافتہ افراد سے درخواستیں طلب فرما لی ہیں۔ درخواستیں جمع کروانے اور پھر ان کی اسکروٹنی کرکے اُن میں سے دس لاکھ افراد کی فہرست بنانے کا کام ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے کام سے بھی زیادہ دقت طلب کام ہے۔اب دیکھیے اس میں کتنا وقت لگتا ہے اور ہمارے اِس ٹیڑھے آنگن میں ناچنے کے لیے انقلاب کو دس لاکھ تعلیم یافتہ افرادکی فہرست کب تک میسر آتی ہے۔
رانا ثناء اﷲ صاحب کا کام اور اُن کا مقام آج کل رانا مشہود صاحب نے سنبھال رکھا ہے۔ سو اُنھوں نے بھی اُسی ۔۔۔ ’طرزِ بیدلؔ میں ریختہ کہنا‘ ۔۔۔ شروع کردیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’کنٹینر والے بابا کنیڈا برانڈ انقلاب لے کر جلد اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔مولانا مسلسل بیان بازی کرکے عوام کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔وہ رمضان المبارک میں اسلامی تعلیمات کی بجائے خود نُمائی کی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اُن کی شعبدہ بازی اور مسلسل جھوٹ سے عوام زچ ہو چکے ہیں۔وہ لاشوں کی سیاست کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔
ہمیں رانا مشہود صاحب کے اِن خیالات سے قطعاً اتفاق نہیں ہے۔یہ غلط ہے کہ مولانا عوام کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔وقت وہ صرف اپنا ضائع کر رہے ہیں۔عوام کو تو اُن کے بیانات سے لطف اندوز ہو ہو کر اپنا وقت مزے سے گزارنے کا موقع مل رہا ہے۔ عوام کا سارا وقت علامہ صاحب کے بیانات سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر اپنا ’روزہ بہلانے‘ میں صرف ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ داروں کی اس سے بڑھ کر دینی خدمت بھلا ہمارے علامہ صاحب اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ یہ بھی درست نہیں ہے کہ اُن کی شعبدہ بازی وغیرہ سے عوام زچ ہو چکے ہیں۔عوام زچ نہیں ہوئے۔وہ آج بھی علامہ کے بیانات سے اتنے ہی لطف اندوز ہو رہے ہیں جتنا پہلے ہوتے تھے۔رہی یہ بات کہ وہ لاشوں کی سیاست کرنے میں کبھی کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ تو رانا مشہود صاحب ’خدا کے خوف سے ڈریں‘۔ لاشوں کی سیاست کی یہ کامیابی کم ہے کہ اب رانا ثناء اﷲ صاحب کی جگہ رانا مشہود صاحب آگئے ہیں۔ہمیں یقین ہے رانا مشہود صاحب بیان بازی میں رانا ثناء اﷲصاحب کے مقام تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، ہاں اُن کے انجام تک ضرور پہنچائے جاسکتے ہیں۔
اب آخر میں ایک بار پھر وہی بات۔ یعنی علامہ کی کہی ہوئی جس بات سے ہم نے آج کے کالم کا آغاز کیا ہے کہ ’’کوئی طاقت انقلاب کو نہیں روک سکتی‘‘۔ تو یااولی لابصار! یہ تو بڑے تکبر کی بات ہے۔ جس ذات نے علامہ کو طلاقتِ لسانی کی طاقت بخشی ہے،اُس ذات کی عزت و جلال کی قَسم، وہ انھیں ضرور دکھا کر رہے گی کہ کوئی طاقت اُن کے تکبر بھرے انقلاب کو روک سکتی ہے یا نہیں؟

1 جولائی، 2014

خواتین کی ڈرائیونگ

 ایک عورت نے اپنے شوہر کو آفس فون کیا اور پوچھا کہ آپ مصروف تو نہیں‘ شوہر نے دانت پیس کر کہا ’’میں اس وقت میٹنگ میں ہوں کیوں فون کیا ہے؟ ‘‘جواب آیا’’آپ کو ایک اچھی اور ایک بُری خبر سنانی تھی‘‘۔شوہر گرجا’’خبردار جو کوئی بری خبر سنائی‘ بتاؤ اچھی خبر کیا ہے؟؟؟‘‘ بیوی چہک کر بولی’’وہ جو ہم نے نئی گاڑی لی تھی ناں‘ اُس کے ائیر بیگز بالکل ٹھیک کام کر رہے ہیں‘‘۔
اگر آپ کسی تنگ پارکنگ میں کھڑے ہوں اور اچانک کوئی گاڑی نمودار ہو کر چھوٹی سی جگہ میں بھی کسی گاڑی کو نقصان پہنچائے بغیر بہترین طریقے سے پارک ہوجائے تو فوراً یقین کرلیجئے گا کہ اِسے کوئی مرد چلا رہا ہے۔لیکن اگر گاڑی دو تین دفعہ آگے پیچھے ہوکر پارکنگ میں جگہ بنائے تو پھر بھی یقیناًاسے کوئی مرد ہی چلا رہا ہوگا۔۔۔تاہم اگرآنے والی گاڑی آپ کی گاڑی کے پیچھے پارک ہوجائے توالحمدللہ پھر بھی اسے کوئی مرد ہی چلا رہا ہوگا۔خاتون کا شائبہ تو اُس وقت ہونا چاہیے جب پارکنگ کی ڈھیر ساری جگہ ہو لیکن آنے والی گاڑی سیدھی آپ کی گاڑی میں جاگھسے۔خواتین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ گاڑی چلا رہی ہوں تو ساری ٹریفک وفات پا جائے‘ یہ ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط رخ پر بھی گاڑی چلا رہی ہوں تو سامنے سے آنے والوں کو کوسنے دیے جاتی ہیں کہ کم بخت سب کے سب غلط آرہے ہیں۔مردکو جب تک گاڑی ریورس نہ کرنی آجائے وہ سمجھتا ہے کہ اسے ابھی گاڑی نہیں چلانی آتی‘ لیکن خواتین صرف دروازہ کھولنا ہی سیکھ جائیں تو انہیں کامل یقین ہوجاتاہے کہ اب وہ ڈرائیونگ سیکھ گئی ہیں۔


جن خواتین کو ڈرائیونگ نہیں آتی وہ بھی چلتی گاڑی میں حتی المقدوراپنا احساس دلاتی رہتی ہیں۔بعض اوقات تو شوہر گاڑی ریورس کر رہا ہو تو ساتھ بیٹھی بیگم اچانک بیک مرر کا رخ اپنی طرف کر کے لپ اسٹک ٹھیک کرنے لگ جاتی ہے اور چیخ تب مارتی ہے جب آدھی گاڑی گندے نالے میں جاگرتی ہے۔کئی خواتین تو گھر سے گاڑی لے کے نکلیں تو گھر والے باقی شہر کی سلامتی کی دعا کرنے لگتے ہیں۔شادی شدہ خواتین کی ڈرائیونگ سب سے خطرناک ہوتی ہے ‘ یہ ٹریفک کے اشارے پر رک بھی جائیں توہینڈ بریک لگانے کی بجائے بیک گیئر لگا کے اطمینان سے ببل گم چباتی رہتی ہیں‘ نتیجتاً اشارہ کھلتے ہی فل ریس دیتی ہیں اور پیچھے کھڑا بیچارہ سکوٹر والا رگڑا جاتاہے‘سارا قصور اِن کا اپنا ہوتاہے لیکن اپنے پروں پہ پانی نہیں پڑنے دیتیں‘ الٹا غریب سکوٹر والے پر چڑھ دوڑتی ہیں’’بدتمیز‘ کمینے‘ شرم نہیں آتی خاتون کی گاڑی کے پیچھے سکوٹرلگاتے ہوئے‘‘۔ہماری ایک کولیگ بھی ایسے ہی گاڑی ڈرائیور کرتی تھیں اور ان کے گھر والے بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ ہماری بیٹی کئی دفعہ گاڑی صحیح سلامت بھی واپس لاچکی ہے‘ اس کے گھر والوں نے اس کے لیے خصوصی طور پر ایک ڈرائیور رکھا ہوا ہے جسے گاڑی تو نہیں چلانی آتی تاہم وہ بی بی جی کے ساتھ ضرور بیٹھتاہے تاکہ ہر وقوعے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرسکے۔

میں کئی ایسی خواتین کو جانتا ہوں جو ڈیڑھ سو میٹر کا سفر ہینڈ بریک کھینچے ہی طے کرجاتی ہیں اور واپسی پر اپنے مکینک کو فون کر کے پوچھ رہی ہوتی ہیں کہ ’’ابھی تو کل ٹیوننگ کروائی تھی پھر گاڑی اتنی بھاری کیوں ہوگئی ہے؟‘‘۔ایسی خواتین کو ہینڈ بریک نیچے کرنا اُس وقت یاد آتاہے جب ہینڈ بریک کھینچنے کی ضرورت پڑتی ہے۔مرد اگر گاڑی کا انجن آئل چینج کرائے تو تاریخ لکھ کر پاس رکھ لیتا ہے اور ہر وقت میٹر پر نظریں جمائے رکھتا ہے کہ دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ نہ ہونے پائے ۔اس کے برعکس گاڑی اگر خاتون کے زیر استعمال ہو تو انجن آئل ختم ہونے کا پتا اُس وقت چلتا ہے جب خاتون بڑے جوش و خروش سے اپنے شوہر کو بتاتی ہے کہ ’’نعیم! وہ جو گاڑی کے میٹر پر ایک لائٹ کبھی نہیں جلتی تھی ناں اب وہ بھی دو تین ماہ سے بالکل ٹھیک جل رہی ہے۔‘‘ 
آپ نے بہت کم کسی خاتون کو اپنی گاڑی کاانجن آئل چینج کراتے دیکھا ہوگا‘ وجہ صرف یہ ہے کہ ایسا جب جب ہوا‘ گاڑی کرین کی مدد سے نکالنی پڑی۔خواتین کی گاڑی پنکچر ہوجائے تو یہ بھی قابل دید منظر ہوتاہے‘ یہ سانحہ اگر سڑک کے عین بیچ میں پیش آجائے تویہ اطمینان سے گاڑی وہیں کھڑی کرکے گھر فون کر دیتی ہیں کہ ’’شہباز گاڑی پنکچر ہوگئی ہے ذرا فارغ ہوکے آجاؤ‘‘۔اس دوران خواہ بدترین ٹریفک جام ہوجائے یہ اطمینان سے گاڑی کے اندر بیٹھی مختلف بٹنوں کو چھیڑتی رہتی ہیں کہ شائد کوئی بٹن دبانے سے خودبخودپنکچر لگ جائے۔گاڑی کا ٹائر بدلنا بھی خواتین پر ختم ہے‘ اول تو یہ خود ٹائر بدلنے کی بجائے راہ چلتے کسی بندے سے فرمائش کرتی ہیں لیکن اگر اپنے زوربازو پر ’’جیک اور پانا‘‘ نکال بھی لیں تو پہلے ٹائر کے نٹ ڈھیلے کرنے کی بجائے جیک لگا کر گاڑی کو اوپر اٹھاتی ہیں اور پھر ٹائر کھولنے کی کوشش کرتی ہیں‘ نتیجتاً اکثر ٹائر کھولنے کے دوران خود بھی گھوم جاتی ہیں۔ یہ منظر بھی اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ خواتین ٹائر پنکچر ہونے پر ڈگی کی بجائے بونٹ کھول کر بیٹھی ہوتی ہیں۔ لڑکیاں عموماً آٹو گیئرگاڑی چلانا پسند کرتی ہیں اور پوری کوشش کرتی ہیں کہ سائڈ اور بیک مرر میں دیکھنے سے حتی الامکان پرہیز کریں۔کوئی لڑکی اگر گاڑی چلاتے ہوئے دائیں طرف کا انڈیکیٹر دے تو سمجھ جائیں کہ وہ بائیں طرف مڑنا چاہ رہی ہے۔انہیں دن کے وقت اوورٹیک کرتے ہوئے ’’ڈمر‘‘ دینا پڑ جائے توگاڑی کی پوری ہیڈ لائٹ آن کرلیتی ہیں‘ راستے میں اگرکوئی گاڑی کی ہیڈ لائٹس بندکرنے کا اشارہ کرے تو اُسے بیہودہ انسان تصور کرتے ہوئے گھور کر بڑبڑانے لگتی ہیں۔

میں نے ایک دفعہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنی تھی جس کی مالکہ ایک خاتون تھی اور اس نے اشتہار میں لکھا تھا کہ اس کی گاڑی میں ’’پاور سٹیرنگ‘‘ ہے۔میں نے ٹرائی لینے کے لیے گاڑی سٹارٹ کی تو سٹیئرنگ کو دائیں طرف گھمانے کی کوشش میں میرا کندھا اتر گیا‘ میں نے بے بسی سے پوچھا کہ ’’محترمہ آپ نے تو کہا تھا کہ پاورسٹیئرنگ ہے‘‘۔۔۔اٹھلا کر بولیں’’ہاں تو کیا سٹیرنگ گھماتے ہوئے پاور نہیں لگ رہی؟؟؟‘‘

مرد کی گاڑی کے نیچے اگر کوئی آجائے تو وہ فوراً بریک لگا لیتا ہے جبکہ خواتین یہ سوچ کر پوری گاڑی اوپر سے گذاردیتی ہیں کہ کم بخت نیچے تو آہی گیا ہے اب بریک لگانے کا کیا فائدہ؟؟ایسی خواتین کی گاڑی کی ٹینکی پٹرول سے آدھی بھری بھی ہوئی ہو تو یہ اپنی دو انگلیوں سے میٹر پراس کا درمیانی فاصلہ ماپ کر پٹرول پمپ والے سے لڑنے لگتی ہیں کہ تین ہزار کا اتنا سا پٹرول کیوں ڈالا ہے؟ ان میں سے اکثر کے پاس لائسنس نہیں ہوتا‘ اور جن کے پاس ہوتا ہے ان کے پاس بھی نہیں ہوتا بلکہ گھر پڑا ہوتاہے۔خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اگر گھر چلاسکتی ہیں تو گاڑی کیوں نہیں؟صحیح کہتی ہیں‘ اگرانہیں گھر میں بندے کا بیڑا غرق کرنے کا حق حاصل ہے تو سڑکوں پر کیوں نہیں۔خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پوری توجہ سے گاڑی چلائیں اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے اِدھر اُدھر مت دیکھیں‘ اسی لیے ہر موڑ پر گاڑی پوری ذمہ داری سے کہیں نہ کہیں ٹھوک دیتی ہیں۔ اس کے باوجودخواتین کی ڈرائیونگ کے دو پہلو قابل تعریف ہیں۔ ایک یہ کہ مرد حضرات گرمی میں بغیر اے سی کی گاڑی چلا رہے ہوں تو ان کے ہاتھ مسلسل کچھ نہ کچھ کھجانے میں مصروف رہتے ہیں تاہم خواتین پورے تحمل سے روبوٹ بنی بیٹھی رہتی ہیں۔دوسرے یہ کہ خواتین کبھی تیز رفتاری کا مظاہرہ نہیں کرتیں‘ خود ہی سوچئے پہلے گیئر میں گاڑی زیادہ سے زیادہ کتنی تیز چل سکتی ہے؟؟؟ 

 

26 جون، 2014

میرے مرشد پاک

 

میرے مرشد پاک

گل نوخیز اختر

میرے مرشد پاک’’ شیخ الاسلام آباد‘‘ کے بارے میں جو لوگ نازیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے ان کا تمسخر اڑانے کی کوشش کر رہے ہیں میں ان سب کو تنبیہہ کرنا چاہتا ہوں کہ باز آجائیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ کسی دن سو کر اٹھیں تو شکلیں ہی بدلی ہوئی ہوں۔گذشتہ دنوں میرے مرشد پاک ایمریٹس کی پرواز سے پاکستان تشریف لائے تو حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے‘ مرشد کو چونکہ بشارت ہوچکی تھی لہذا انہوں نے پانچ گھنٹے طیارے میں ہی قیام کا فیصلہ کیا اور انقلابِ عظیم کی خاطر عصر اور مغرب کی نمازیں بھی موخر کردیں۔مرشد چاہتے تو انہیں طیارے میں آنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی‘ وہ چند کلمات پڑھ کر طیارے سے بھی زیادہ تیز سپیڈ سے پرواز کرتے ہوئے پاکستان میں آسکتے تھے لیکن انہوں نے قانونی راستہ اختیار کیا ۔کئی بدخواہ اور گنہگار یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ میرے مرشد ‘اعلیٰ اداروں کو فون ملاتے رہے لیکن ’’اُدھر‘‘ سے Not responding کی آواز آتی رہی ‘ یہ بھی جھوٹ ہے‘ اصل میں مرشد کینڈا سے پرواز کرنے سے قبل اپنے موبائل میں ایزی لوڈ کرانا بھول گئے تھے لہذا بیلنس کی کمی آڑے آگئی۔اتنی سی بات تھی۔۔۔!!!
میں اپنے مرشد کی کیا کیا خوبیاں بیان کروں‘ انہوں نے تو میری زندگی ہی بدل دی‘مجھے یاد ہے آج سے دس سال پہلے میں ایک بہت برا انسان تھا‘ پینٹ شرٹ پہنتا تھا‘ گانے سنتا تھا‘ بالوں میں جیل لگاتا تھا‘ گاڑی چلاتے ہوئے گنگنایا کرتا تھا۔۔۔اور تو اور کئی دفعہ انڈیا کی کوئی فلم بھی دیکھ لیا کرتا تھا۔ لیکن پھر میری مرشد پاک سے ملاقات ہوئی اور مجھ میں انقلاب آگیا۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے کسی کا مرید ہونا بہت ضروری ہے‘ میں نے ان کی بات پر فوراً عمل کیا اور ’’رن مرید‘‘ ہوگیا۔ اِس پر مرشد پاک نے انتہائی ملائم لہجے میں مجھے سمجھایا کہ ’’ڈنگر انسان! رن مرید ی کے آگے جہاں اور بھی ہیں۔۔۔‘‘ تب میں نے پہلی مریدی سے استعفیٰ دے کر مرشد پاک کی مریدی اختیار کی اوران کی نگاہِ روشن سے وہ اعلیٰ و ارفع مقام پایا کہ آج میں جدھر سے بھی گزرتاہوں انگلیاں سرو اٹھاتے ہیں کہ وہ آتے ہیں۔
میرے مرشد پاک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ خواب میں مجھے نبی پاکﷺ کا دیدار ہوا اور انہوں نے مجھے میزبانی کا شرف بخشتے ہوئے فرمایا کہ ’’طاہر میں اس شرط پر پاکستان رکوں گا کہ میرے کھانے پینے اور ٹکٹ کے اخراجات تم افورڈ کرو‘‘۔سبحان اللہ! ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ میں نے 15سال ایک مقدس ہستی سے خواب میں تعلیم حاصل کی‘ اسی خواب کا ذکر ایک اور محفل میں کرتے ہوئے مرشد پاک نے 6 سال کم کردیے اور ربِ کعبہ کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ ’’میں نے 9 سال تک اُس مقدس ہستی سے خواب میں تعلیم حاصل کی ہے۔‘‘ حریفوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی خواب کا بیان کرتے ہوئے 6 سالوں کا یہ فرق کیوں؟؟؟ کوئی اِن جاہلوں کو بتائے کہ مرشد پاک اِس تعلیمی سلسلے کے دوران ہفتہ اتوار کی چھٹی بھی تو کرتے رہے ہیں‘ چھوٹی بڑی عید‘ شب برات‘ 23 مارچ ‘ 14 اگست اور 25 دسمبر سمیت گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں اس کے علاوہ تھیں‘ وہ سب نکال کے باقی 9 سال ہی تو بچتے ہیں۔اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ عام طور پر ہم یہی کہتے ہیں کہ ایک طالبعلم نے دس سال سکول میں تعلیم حاصل کرکے میٹرک کیا‘ لیکن جب تفصیل میں جائیں گے تو دس سال کی چھٹیاں منہا کر دی جائیں گی۔یہی کچھ میرے مرشد نے بھی کہا۔۔۔کچھ غلط کہا؟؟؟
بحکمِ خدا۔۔۔میرے مرشد پاک انقلاب لانے کے لیے تشریف لاچکے ہیں‘ دو سال پہلے بھی وہ اسی سلسلے میں تشریف لائے تھے لیکن انقلابی زیادہ تھے اور ہیٹر ایک۔۔۔لہذا مرشد نے طے کیا کہ ہزاروں ہیٹر لگانے کی بجائے کیوں نہ انقلاب کا سیزن ہی بدل دیا جائے لہذا اب کی بار وہ گرمیوں میں تشریف لائے ہیں۔ سرکار نے ان کی آمد سے خوفزدہ ہوکر جہاز کا رخ اسلام آباد کی بجائے لاہور کی طرف موڑ دیا لیکن مرشد بھی دھن کے پکے تھے‘جہازہی میں نیت باندھ لی کہ وہ کسی حکومتی بندے کے ساتھ جہاز سے نہیں اتریں گے بلکہ صرف کسی فوجی جوان کے ساتھ ہی باہر تشریف لائیں گے لیکن سندھ کے گورنر نے جب انہیں فون پر یہ بتایا کہ غیر ملکی ائیر لائن والے ان پر تاحیات پابندی کا سوچ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پندرہ منٹ بعد وہ جہاز کا انجن آف کرکے اے سی وغیرہ بند کردیں گے تو مرشد پاک کو یہ سنتے ہی حالت مراقبہ میں چلے گئے اور ’’کرامت‘‘ یہ ہوئی کہ مرشد کے دوست گورنر پنجاب (جو یقیناًحکومت کا حصہ نہیں)نے فون کر دیا ورنہ مرشد آنے والی گرمی کے تصور سے ہی حواس باختہ ہورہے تھے‘ ۔اصل میں میرے مرشد کی پرابلم ہے کہ گرمی میں ان کا ذہنی توازن پونے تین سینٹی گریڈ نیچے آجاتاہے‘ ایک دفعہ سخت گرمی کے عالم میں مرشد کو نماز جنازہ پڑھانا پڑ گئی تھی‘ نماز ختم ہوئی تو مرشد لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کر بھول گئے کہ وہ کہاں ہیں لہذا پوری قوت سے چلائے۔۔۔’’مبارک ہو۔۔۔مبارک ہو۔۔۔مبارک ہو‘‘
الحمدللہ !آج میرے مرشد واپس آچکے ہیں اور انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ اگلا الیکشن وہ خود کرائیں گے۔یقیناًاگلا الیکشن کرانے کا اختیار اب کسی حکومت‘ عدالت یا الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ میرے مرشد کا ہوگا اوروہ جسے چاہیں گے مسندِ اقتدار پر بٹھائیں گے کیونکہ اٹھارہ کروڑ عوام نہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ ہے‘ نہ کسی مذہبی جماعت کے ساتھ بلکہ سو فیصد میرے مرشد کے ساتھ ہے۔ اس کے باوجود مرشد پاک ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے کو حرام سمجھتے ہیں۔انہیں یقین ہے کہ کم ازکم ان کا اقتدار ووٹ کا محتاج نہیں۔۔میں چونکہ اپنے مرشد کا چہیتا ہوں لہذا مجھے امید ہے میرے مرشد پاک مجھے چیئرمین واپڈا یا وفاقی وزیر ضرور بنائیں گے۔مرشد پاک چاہتے ہیں کہ اس ملک میں سب کو یکساں حقوق ملیں‘ کوئی گرم کنٹینر میں بیٹھ کر سرد عوام سے خطاب نہ کرے‘ ہر ایک کے پاس اپنی اپنی بلٹ پروف گاڑی ہو‘ ہر بندہ چارٹر طیارے کے پیسے افورڈ کر سکے‘ ہر پاکستانی شہری کو کینیڈا کی نیشنیلٹی دلائی جائے۔ میرے مرشد تو برابری کے اس حد تک قائل ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے ہر مرید کو سکول کالج جانے کی بجائے خواب میں مقدس ہستیوں سے تعلیم دلائی جائے‘ اس مقصد کے لیے مرشد ’’کے سی ٹی‘‘(خواب کالج آف ٹیکنالوجی) کے منصوبے پر بھی غور فرما رہے ہیں ‘ انہوں نے اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں میرا نام بھی شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔میں اپنے مرشد کا نہایت شکر گذار ہوں کہ ان کی نظر کرم سے میری بگڑی مسلسل سنورتی جارہی ہے‘ جب سے میں نے مرشد کے نام کا ورد شروع کیا ہے میری گاڑی کا پٹرول چھ کلومیٹر زیادہ ایوریج دینے لگا ہے‘ اے سی ٹرپ ہونا بند ہوگیا ہے‘ گھر کے یو پی ایس کی بیٹری بھی اچانک سے ڈیڑھ گھنٹہ نکالنے لگ گئی ہے‘ شاور کے جن سوراخوں میں سے پانی آنا بند ہوگیا تھا وہ بھی’’ موسلادھار‘‘پرفارمنس دینے لگے ہیں۔۔۔اور تو اور میں کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں کہ میں جتنے مرضی سگریٹ پیتا جاؤں‘ میری ڈبی ختم نہیں ہوتی۔آئیے سب مل کر مرشد پاک کے انقلاب کی دعا کریں تاکہ ملک سے منحوس جمہوریت کا تصور تو ختم ہو۔

11 مئی، 2014

لنڈے کے انگریز


 تمام کچے پکے اصلی نقلی کالے پیلے سیکولرز لبرلز اور ملحد حضرات سے گزارش ہے میری پوسٹ پڑھنے سے پہلے منہ میں ہاجمولہ رکھ لیں ورنہ اپنی ذمہ داری پر پڑھیں۔ کیوں کہ میری اطلاعات کے مطابق ہر جگہ مرچیں موسم کے حساب سے لگتیں ہیں لیکن لبرلز کے ہاں جب سچ بولو تب ہی لگ جاتی ہیں۔ آخر ''فریڈم آف سپیچ'' کا زمانہ ہے بئی۔
جانے کب کون کس کو بلاک دے ایکسٹریمسٹ کہہ کر
فیس بک کی فیس بک لبرل ہوئی پھرتی ہے۔

یوں تو دنیا میں ''سانپوں'' اور ''لبرلز'' کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں مگر تمام ''سانپ'' زہریلے نہیں ہوتے۔ یہاں ہمارا موضوع ''سانپ'' نہیں بلکہ ''لبرلز'' ہیں۔ ''مسلم دنیا'' کے تناظر میں ''لبرلز'' کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک باہر کا بنا ہوا ''اصلی'' یا ''اوریجنل'' دوسرا یہاں کا بنا ہوا ''نقلی'' یا ''دو نمبر''۔ ''نقلی لبرلز'' ''دیسی ساختہ'' ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر انہیں ''دیسی لبرلز'' بھی کہا جاتا ہے لیکن چونکہ اس میں لفظ ''دیسی'' استعمال ہوتا ہے اور ''دیسی لبرلز'' کو ہر اس نام، چیز اور جگہ سے نفرت ہوتی ہے جس میں لفظ ''دیسی'' استعمال ہو اس لیئے یہ خود کو ''دیسی لبرلز'' کہلوانا پسند نہیں کرتے. جبکہ ایک تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ''دیسی لبرلز'' خود کو ''امریکی سنڈی'' ''فارمی لبرلز'' اور ''بے غیرت برگیڈ'' کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ مگر ''دیسی لبرلز'' کے لیئے آج تک کا سب سے مناسب نام جو دریافت ہوا ہے وہ ''لنڈے کے انگریز'' ہے۔ تو آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ ''لنڈے کے انگریز'' کون کیوں کب اور کیسے ہوتے ہیں۔ چونکہ بات ہونے کی چل رہی ہے اس لیئے ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں۔
پیدا ہوا لبرل تو شیطان نے یہ کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے۔

ماہرین کے نزدیک ''لنڈے کا انگریز'' ہونا ایک ''مینٹل ڈس آڈر'' ہے۔ وہ لڑکا جسے بچپن سے اس کے ماما پاپا یہ کہتے ہوں ''بےبی! ڈانٹ گو آؤٹ سائیڈ، پلیز کم ان سائیڈ، پلے ود یور سسٹر'' اور وہ بچہ جو کلاس میں سب سے مار کھاتا ہو، جس کا پسندیدہ رنگ گلابی پسندیدہ کھیل گڈے گڑیا کی شادی، پہل دوج، آپا بوا ہو، جس کا سرمایہ حیات اس کی باربی ڈولز کی کلیکشن ہو، تو سمجھ جایئے وہ لڑکا بڑا ہو کر ''لنڈے کا انگریز'' بنے گا۔

یوں تو ''لنڈے کے انگریز'' گاہے بہ گاہے اپنی عالمانہ ٹائیپ جاہلانہ گفتگو سے عوام کو محظوظ کرتے ہی رہتے ہیں مگر پھر بھی ان کے شب روز اسی انتطار میں گزرتے ہیں کہ اسلام یا پاکستان سے متعلق کوئی بری خبر ملے کوئی پاکستانی چوری کرتا پکڑا جائے کوئی دھماکہ ہو کسی ملک کا جہاز گم ہوجائے بس پھر یہ ہوتے ہیں اور چوبیس گھنٹے نہ رکنے والی دانش وڑانہ گفتگو۔ دلیل وہی دی جاتی ہے جو سعادت حسن منٹو نے دی تھی کہ اگر معاشرے میں گندگی غلاظت ہے تو میں تو دکھاوں گا۔ ان ''لنڈے کے انگریزوں'' کی مثال اس مکھی کی طرح ہے جو اگر پھولوں کے اوپر بھی اڑ رہی ہو تو غلاظت ڈھونڈ نکالتی ہے اور بیٹھتی غلاظت پر ہی ہے۔ خیر پسند اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا۔
''ویسٹرن لبرل'' گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور یہ ''لنڈے کے انگریز'' ''گدھے'' کی طرح ڈھیچو ڈھیچو کرتے ہوئے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ اسلام کے خلاف کینہ بغض اور زہر ان میں ایسے بھرا ہوا ہوتا ہے جیسے ''کوکومو'' میں چاکلیٹ۔ امید ہے آپ کو ''لنڈے کے انگریزوں'' کے بارے میں خوب پہچان ہوگئی ہوگی۔

آخر میں ''لنڈے کے انگریزوں'' کی نذر اکبر الہ آبادی کا یہ شعر۔

ﺍﺭﺗﻘﺎﺀ ﭘﺮ ﺑﻬﻰ ﺁﺩﻣﻰ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ،
ﻳﺎ ﺍﻟﮩﻰ   ﻳﮧ  ﻛﻴﺴﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﮨﻴﮟ 



بشکریہ: انگوٹھا چھاپ
 

10 مئی، 2014

ہر مسئلے کاحل جاندار۔۔۔ٹیلی شاپنگ سنٹر کی ’’غدار‘‘


’’خارجی ‘‘ کے بعداب پیش ہے ٹیلی شاپنگ سنٹر کی نئی اپ گریڈ پراڈکٹ ’’غدار‘‘۔۔۔ آپ کی منگنی ٹوٹ جائے، واپڈا والوں سے جھگڑا ہوجائے، ویگن والا کرایہ زیادہ مانگ لے، مالک مکان گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دے،ٹریفک پولیس والا چالان کردے،دھوبی کپڑے ٹھیک سے نہ دھوئے،کیبل صاف نہ آرہی ہو،وغیرہ وغیرہ۔۔۔ توہماری پراڈکٹ’’غدار‘‘ استعمال کریں ، پہلی خوراک اثر نہ کرے تو پیسے واپس۔
دشمن کو دھول چٹانے کا نایاب فارمولا، پورے پاکستان سے ٹول فری نمبر پر ابھی کال کریں اور گھر بیٹھے منگوائیں، یاد رہے کہ ہماری پراڈکٹ ’’غدار‘‘ کی بدولت بے شمار لوگوں کی زندگی میں جادوئی تبدیلی آچکی ہے، آئیے اس بارے میں کچھ لوگوں سے بات کرتے ہیں۔ جی فائزہ آپ بتائیے آپ کے ساتھ کیا ہوا اور آپ نے کیا طریقہ اختیار کیا؟؟؟
 ’’میں اپنی ساس کی وجہ سے بہت پریشان رہتی تھی، وہ ہر وقت مجھے جہیز کم لانے کے طعنے دیا کرتی تھیں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، میرا گھر اجڑنے کے قریب پہنچ چکا تھا، پھر ایک دن میری ایک سہیلی نے مجھے ’’غدار‘‘کے بارے میں بتایا، میں نے فوراً ایک پیکٹ منگوایا اور ہدایات کے مطابق اپنی ساس کو محلے بھر میں ’’غدار‘‘ مشہور کر دیا ، میں حیران ہوں کہ ہر کسی نے فوراً میری بات پر یقین کیا اور میری ساس کا سوشل بائیکاٹ کر دیا، میری ساس کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا، آخر کار اُس نے میرے پیروں میں گر کر معافی مانگی اور یوں میری زندگی میں خوشیاں واپس لوٹ آئیں‘‘۔ 

دیکھا ناظرین۔۔۔فائزہ اب ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہی ہیں، آپ بھی سکرین پر دیے گئے ہمارے ٹول فری نمبر پر ابھی کال کریں اور ’’غدار‘‘ منگوا کردوسروں کی زندگی عذاب اور اپنی زندگی حسین بنائیں، آئیے! بات کرتے ہیں ہماری پراڈکٹ استعمال کرنے والے ایک اور صاحب اشتیاق سے جوکہ ایک فیکٹری میں ملازم ہیں۔ جی اشتیاق صاحب ! ہمارے ناظرین کو بتائیے کہ آپ نے ہماری پراڈکٹ کیوں منگوائی؟ 

’’میں ایک میڈیسن کی فیکٹری میں پیکنگ کا کام کرتاہوں، میرے پاس کافی عرصے سے پرانا موبائل تھا جس کی وجہ سے فیکٹری کی کوئی لڑکی مجھے لفٹ نہیں کراتی تھی، میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ نیا موبائل لے سکوں لہٰذا میں نے اپنے مینجر کو درخواست دی کہ مجھے چھ ہزار روپیہ ایڈوانس درکار ہے، مینجر نے مجھے ایڈوانس دینے کی بجائے کہا کہ جب تک تمہارا پچھلا ایڈوانس کلیئر نہیں ہوجاتا اگلا ایڈوانس نہیں مل سکتا، یہ سنتے ہی میری امیدوں پر پانی پھر گیا اور میں اداس رہنے لگا، انہی دنوں فیکٹری کی کینٹین والے نے مجھے ’’غدار‘‘ کے بارے میں بتایا ، پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا، لیکن پھر میں نے گھر کا پرانا ٹی وی بیچ کر ’’غدار‘‘ کا ایک پیکٹ منگوایا جس کے اندر اس کا سارا طریقہ استعمال بھی لکھا ہوا تھا، میں نے اگلے ہی دن فیکٹری میں مشہور کر دیا کہ ہمارا مینجر وطن کا غدار ہے، شام تک پوری فیکٹری کے مزدور سڑک پر نکل آئے اور مینجر کو غدار غدار کہنا شروع کر دیا، سب نے چندہ کرکے چار بینر بھی بنوا لیے اور سڑک پر آویزاں کر دیے، مینجر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، وہ بھاگا بھاگا میرے پاس آیا اور چھ ہزار کی بجائے دس ہزار نکال کر میری جیب میں ڈال کر بولا کہ خدا کے لیے اپنا الزام واپس لے لو۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ’’غدار‘‘ کی بدولت مجھے اتنا فائدہ ہوگا، تھینک یو ’’غدار‘‘ ۔

 ناظرین، ہماری پراڈکٹ’’غدار‘‘ خاص طور پر پاکستانیوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے،ایک دفعہ استعمال کرکے دیکھیں آپ خود مان جائیں گے۔فون اٹھائیے اور آرڈر کیجئے، پہلے تین سو کالرز کو ’’غدار‘‘ کے ساتھ ہماری سابقہ کامیاب ترین پراڈکٹ ’’خارجی ‘‘ کے تین پیکٹ فری دیے جائیں گے، تو دیر مت کیجئے، کہیں موقع ہاتھ سے نکل نہ جائے، پہلے آئیے پہلے پائیے، ایک حیرت انگیز ایجاد’’غدار‘‘ جو آپ کی بات نہ ماننے والوں کا جینا محال کردے گی۔آئیے بات کرتے ہیں ’’غدار‘‘ استعمال کرنے والے ایک اور صاحب سے،جی سرفراز صاحب ! سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ آپ کام کیا کرتے ہیں؟ 

’’جی میں بڑی محنت سے جوئے کا اڈہ چلاتا ہوں‘‘ ’’ویری گڈ۔۔۔اب ذرا بتائیے کہ آپ کو ہماری پراڈکٹ’’غدار‘‘ استعمال کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ 
’’وہ جی میں ہمیشہ باقاعدگی سے علاقے کے تھانیدار کو اس کا حصہ پہنچایا کرتا تھا، لیکن دو ماہ پہلے ایک نیا تھانیدار آیا جس نے رشوت لینے سے انکار کر دیا اور میرا جوئے کا اڈہ بند کروا دیا،میں نے بڑی منتیں کیں، ڈیڑھ گنا زیادہ رقم کی آفر کی لیکن اُس کے سر پر ایمانداری کا بھوت سوار تھا، میں پریشانی کے باعث بیمار ہوگیا ، ایک دن گھر میں لیٹا ہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ اچانک ’’غدار‘‘ کے اشتہار پر نظر پڑی، میں نے سوچا آزمانے میں کیا حرج ہے لہٰذا ایک پیکٹ منگوا لیا۔شام کو میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ محلے کی مسجد کے باہر کتبے اٹھا کر کھڑا ہوگیا جس پر لکھا تھا کہ ’’تھانیدار اس دھرتی کا غدار ہے، اسے برطرف کیا جائے‘‘۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب پل بھر میں وہاں لوگوں کا مجمع لگ گیا اور پریس والے بھی پہنچ گئے، اگلے دن اخباروں میں خبریں لگ گئیں اور بات ڈی سی او صاحب تک پہنچ گئی، انہوں نے فسادِ خلق کے ڈر سے تھانیدار کو جبری رخصت پر بھیج دیااور میرا جوئے کا اڈہ پھر سے آباد ہوگیا۔ اب میں اپنے ہم پیشہ ہر بندے کو ’’غدار‘‘ استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں ،یہ لاجواب ہے‘‘۔

 ناظرین۔۔۔ملک کے کونے کونے میں کروڑوں لوگ ہماری پراڈکٹ’’غدار‘‘ خرید رہے ہیں، یہی ہے وہ چیز جو آپ کو ہر قسم کی ’’ آفات‘‘ سے محفوظ رکھ سکتی ہے، ہمارا دعویٰ ہے کہ ’’غدار‘‘ کے استعمال کے بعد آپ دوسری کمپنیوں کی بنائی ہوئی پراڈکٹ مثلاًصہیونی ایجنٹ، امریکی پٹھو اور ملک دشمن وغیرہ استعمال کرنا چھوڑ دیں گے۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ’’غدار‘‘ کے بے دریغ استعمال پر بھی کوئی آپ کی بات کی تحقیق نہیں کرے گا بلکہ وہ لوگ جنہیں غدار کے ہجے اورمطلب بھی نہیں آتا وہ بھی آپ کی حمایت میں نعرے لگاتے نظر آئیں گے۔ہر قسم کے سائیڈ افکٹس سے پاک، سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کردینے والی پہلی ریسرچ بیسڈ پراڈکٹ’’غدار‘‘۔۔۔

اگر آپ کے پاس بھی دلائل ختم ہوچکے ہیں، ثبوت ناکافی ہیں،ٹینشن بڑھ رہی ہے،عزت داؤ پر لگی ہے، شکست فاش کا خطرہ ہے اور کوئی اور حل نہیں سوجھ رہا تو یقیناًآپ کو ’’غدار‘‘ کی ضرورت ہے، ایک فون کال پر ہمارانمائندہ آپ کے پاس حاضر ہوگا۔۔۔تو انتظار کس بات کا، آج ہی منگوائیں اور دشمنوں کے سینے پر مونگ دل دیں، یاد رہے کہ ٹیلی شاپنگ سنٹر کی پراڈکٹ’’غدار‘‘ مارکیٹ میں بالکل بھی دستیاب نہیں لہٰذا ملتے جلتے ناموں سے دھوکا مت کھائیں، ہمیشہ اصلی اور کھری ’’غدار‘‘ منگوائیں اورجس کو چاہیں نیست و نابود کر دیں۔ جلدی کریں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا دشمن آپ سے پہلے یہ پراڈکٹ استعمال کردے۔ہمارے فون نمبرز چوبیس گھنٹے کھلے ہیں۔ہر مسئلے کاحل جاندار۔۔۔ٹیلی شاپنگ سنٹر کی ’’غدار‘‘۔ 

25 جنوری، 2013

چاچا چَوَ ل

 

’چاچا چَوَ ل‘

 میرے محلے میں ایک صاحب رہتے ہیں جن کا نام کثرتِ رائے سے ’’چاچا چَوَ ل‘‘ منظور ہوچکا ہے۔چاچے کا طریقہ واردات بڑا نرالا ہے، عموماً لوگ قرض مانگنے والوں سے کنی کتراتے ہیں ،لیکن چاچا ،قرض مانگنے والوں کی تلاش میں رہتاہے۔اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر شخص اس سے قر ض مانگے۔ابھی تک محلے کے تین سو سے زائداس سے قرض لے چکے ہیں۔چاچے کی ایک ’’مکروہ‘‘ خصوصیت یہ بھی ہے کہ چاچا عام حالات میں قرض واپس نہیں لیتا۔ اگر کوئی اسے قرض واپس کرنے کی کوشش بھی کرے تو چاچے کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے۔لیکن چاچا بڑی شے ہے، جس کو قرض دیتا ہے، پھر ساری زندگی اس سے کام نکلواتا رہتاہے اور قرض کا تقاضا ہمیشہ اُس وقت کرتا ہے جب اسے پورا یقین ہوجائے کہ اب مقروض بالکل بھی قرض چکانے کی پوزیشن میں نہیں۔ایسے حالات میں چاچے کا رویہ خودبخود سخت ہوجاتاہے، وہ مقروض کو انتہائی خوفناک طریقے سے گھورتاہے، باربار اس کے گھر کی بیل بجا کر پیغام بھجواتا ہے کہ ’’مجھ سے فوراً ملو۔‘‘ اس کے موبائل پر Missed کالیں مارتاہے اور کئی دفعہ تو اس کے دروازے پر کاغذ بھی چپکا آتا ہے جس پر لکھا ہوتاہے کہ ’’آج شام 5 بجے تک ہر حال میں مجھے پیسے مل جانے چاہئیں۔‘‘مقروض بیچارہ اس خطرناک صورتحال سے گھبرا کرچاچے کی منت سماجت کرتاہے، تاہم تھوڑی سی بحث و تمہید کے بعد چاچا اسے خطرناک نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے مزید مہلت دینے پر آمادہ ہوجاتاہے۔

چاچے کا قرض پانچ ہزار سے زیادہ کا نہیں ہوتا، وہ عموماً ریڑھی والوں، چھوٹی دوکانوں والوں اور قلفیاں بیچنے والوں کو قرض دیتاہے اور پھر ان سے مفت چیزیں کھاتاہے۔وہ بیچارے اصل رقم سے زیادہ کی چیزیں کھِلا کر بھی چاچے کے مقروض ہی رہتے ہیں لیکن زبان کھولنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ چاچا اُسی وقت رقم کا تقاضا کر سکتاہے۔چاچے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر اُس بندے کو قرض دے جس سے وہ اچھے خاصے کام نکلوا سکتاہے، ایسے میں کوئی بندہ قرض نہ بھی مانگے تو چاچا زبردستی اسے قرض دے کر اپنا مقروض بنا لیتاہے، میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔میں لارنس گارڈن میں ایک دوست کے انتظار میں اکیلا ہی واک کر رہا تھا کہ اچانک چاچے نے مجھے گھیر لیا۔
’’ننگے پیر چل رہے ہو۔۔۔جوتی کیوں نہیں خرید لیتے؟‘‘
میں نے منہ بنایا۔۔۔’’چاچا میرے پاس جوتی موجود ہے، میں ویسے ہی گھاس پر ننگے پیر چلنا پسند کرتاہوں‘‘۔
’’اچھا بہانہ ہے۔۔۔‘‘چاچے نے گہرا سانس لیا۔۔۔’’سفید پوش لوگ مرجاتے ہیں اپنی ضرورت نہیں بتاتے۔ بھئی کوئی پیسے ویسے چاہئے ہوں تو بلاجھجک بتانا‘‘۔
’’بڑی مہربانی چاچا۔۔۔فی الحال تو اللہ کا شکر ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’لیکن مجھے لگتا ہے تم کچھ چھپا رہے ہو‘‘۔۔۔چاچے نے مشفقانہ انداز میں کہا۔میں چاچے کی بات پر کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ چاچے نے میری بات کاٹی اور دوبارہ بولا’’بیٹا! انسان کی ضرورت کا کچھ پتا نہیں ہوتا، چلو ضرورت بے شک نہ بتاؤ، پیسے تو لے لو۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے چاچے نے اپنا دائیاں ہاتھ واسکٹ کی جیب میں ڈال دیا۔
میں نے جلدی سے کہا۔۔۔’’چاچا میں سچ کہہ رہا ہوں کہ مجھے۔۔۔‘‘ لیکن میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی چاچے نے پانچ ہزار کاکڑکڑاتا نوٹ میری مٹھی میں دبا دیا اوراپنی نم آلود آنکھوں کو رومال سے صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔’’خدا برا وقت کسی پر نہ لائے، انسان خود تو بھوکا سو سکتاہے لیکن بیوی بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جاتی۔بس اب انکار مت کرنا ، مجھے پتا ہے تمہاری غیرت گوارہ نہیں کر رہی ہوگی لیکن بیٹا! مجھ سے کیسی شرم؟‘‘ یہ کہہ کر چاچے نے اطمینان سے اپنی واسکٹ درست کی اور یہ جا وہ جا! آج اس بات کو ایک سال ہوچکا ہے۔چاچا روزانہ میرے موبائل سے چھ سات کالیں کرتاہے، مہمان آجائیں تو ان کے قیام و طعام کا بندوبست بھی میرے گھر پر ہوتاہے، چھ سات مرتبہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے کپڑے مانگ کے لے جاچکا ہے، اس کے بچوں کو سکول سے آنے میں دیر ہوجائے تو ان کو لانے کا فریضہ بھی مجھے ہی سرانجام دینا پڑتاہے، شام کا کھانا اور چائے اکثر چاچا میرے ساتھ ہی پیتا ہے، کبھی کبھی چھوٹی موٹی ضرورتوں کے لیے سو دو سو ادھار بھی لے جاتاہے جو کبھی واپس نہیں ہوتے،کیبل والے کو بتائے بغیر اس نے اپنے گھر کی کیبل کٹوا کرنے میری کیبل میں جوائنٹ لگوا لیا ہے جس کی وجہ سے اس کے گھر کی کیبل بالکل صاف آتی ہے اور میرے ہاں صرف لہریں رقص کرتی ہیں، بیوی بچوں کو سیر کرانے کے لیے وہ میری گاڑی ہر دوسرے دن لے جاتاہے۔۔۔اور تو اور اس نے یہ ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال دی ہے کہ اس کے میٹرک فیل بیٹے کو اچھی سی نوکری بھی میں دلواؤں۔
خدا کی قسم !!!۔۔۔میں ہر طرح سے چاچے کا قرض لوٹانے کی پوزیشن میں ہوں، کئی بارکوشش کرکے زبردستی چاچے کی جیب میں پانچ ہزار کا نوٹ ڈال چکا ہوں لیکن چاچا شور مچا دیتاہے، چیختا ہے، چلاتاہے ، واسطے دیتاہے اور مجھے مجبوراً نوٹ واپس جیب میں رکھنا پڑ جاتاہے۔پورے محلے کو پتا چل چکا ہے کہ میں چاچے کا ’’قرضئی‘‘ ہوں۔میرے ساتھ والا ہمسایہ’’حامد‘‘ بھی چاچے کا قرضئی ہے اور اسی بناء پر پورے محلے میں’’حامد قرضئی‘‘ مشہور ہے۔ ہم دونوں چاچے کو سخت بات کہنے سے گھبراتے ہیں، میں نے کئی بار سوچا کہ میں چاچے کے ساتھ ذرا غصے سے پیش آؤں لیکن پھر سوچتا ہوں محلے والا کیا سوچیں گے کہ جس سے قرض لیا،اُسی کو آنکھیں دکھاتاہے۔اب تو حد ہوچکی ہے، چاچے نے اپنے بیٹے کو کمپیوٹر سیکھنے کے لیے میرے پاس بھیجنا شروع کر دیا ہے۔میں نے بارہا چاچے کو سمجھانے کی کوشش کی کہ کمپیوٹر میرے ذاتی استعمال کے لیے ہے، لیکن چاچا ہر دفعہ مسکرا کر کہتاہے۔۔۔’’بیٹا! میں نے بھی پانچ ہزار ذاتی استعمال کے لیے رکھے تھے ،لیکن میرا ایمان ہے کہ محلے داروں کے بارے میں ذاتیات سے بلند ہوکر سوچنا چاہیے‘‘۔ یہ جواب سن کر میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ چاچے کے بیٹے کو کمپیوٹر سکھانا شروع کر دوں حالانکہ اُس نے کمپیوٹر خاک سیکھنا ہے، وہ آدھے سے زیادہ وقت تاش والی گیمیں کھیلنے میں لگا رہتاہے۔میں کچھ کہنے کے باوجود بھی اس کو سخت الفاظ نہیں کہہ سکتا ، آخرمیں اس کے باپ کا قرضئی ہوں۔چاچا میرے حواس پر حاوی ہوتا جارہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ عنقریب میں ہر کام اس کی مرضی سے کیا کروں گا۔چاچا نہ ہوا ’’آئی ایم ایف‘‘ ہوگیا۔
 
اپنی زبان اردو سے کاپی کیا گیا  
 

24 اگست، 2012

نوجوانوں کی گرتی پینٹ!!


نوجوانو آپ کی پینٹ ڈھیلی کیوں پڑتی جا رہی ہے؟

اس کو تھام کر رکھیں اور اپنی بیلٹیں ٹائٹ کریں۔
 (اگر بیلٹ نہیں خرید سکتے تو اپنی گرتی ہوئی پینٹ کو سہارا دینے کے لیے ازار بند کا استعمال کریں) 
شکریہ  
نوٹ: یقین کیجیے آپ کی بیک دیکھنے کا کسی کو بھی شوق نہیں۔


4 مئی، 2012

کاش کرکٹ رولز پڑھائی میں بھی لاگو ہو جائیں








کاش کرکٹ رولز پڑھائی میں بھی لاگو ہو جائیں



کرکٹ ٹی ٹوینٹی اور آئی پی ایل کی وجہ سے بہت بہتر ہوئی ہے ہمیں‌ بھی اپنے ایگزیمینیشن سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے یہی اقدام لینے چاہییں

١۔ ہر پیپر ڈیڑھ گھنٹے اور ٥٠ نمبرز کا ہونا چاہیے

٢۔ ہر تیس منٹ کے بعد مشورے کے لیے بریک ہونی چاہیے

٣۔ ہمیں‌ایک فری ہٹ دیں‌ جس میں‌سٹوڈنٹ اپنی مرضی کے ایک سوال کا اپنی مرضی کا جواب دیں۔

٤۔ پہلے بیس منٹ کا پاور پلے جس میں‌ ایگزامینر ہال سے باہر رہے۔

٥۔ اگر کسی سوال کا جواب غلط ہو تو ریویو کی آپشن ہونی چاہیے تاکہ سٹوڈنٹ بُک سے کنفرم کر لیں۔

پلیز چینج دی سسٹم

آج نہیں‌ بولو گے تو کل بُھگتو گے