ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

‏حالات حاضرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏حالات حاضرہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

5 جولائی، 2016

مکہ کے پہاڑ بنجر کیوں ہیں - سعد الله شاہ

مکہ کے پہاڑ بنجر کیوں ہیں

جب میں عمرہ کرنے گیا تو آصف شیخ مجھے ساتھ لے کر ایک ڈاکٹر علوی صاحب کو مبارکباد دینے گیا کہ انہیں بادشاہ نے شہریت دی تھی۔ وہ ڈاکٹر بھی کیا کمال کے تھے۔ پوچھنے لگے”شاہ صاحب، کہاں جا رہے ہیں آپ؟“ میں نے کہا” جدہ کا قصد کیا ہے“ کہنے لگے آپ میرے ساتھ چلیں گے۔جب یہ پتہ چلا کہ وہ مجھے پڑھتے ہیں اور بھی خوشی ہوئی۔سفرکا آغاز ہوا تو انہوں نے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک عجیب و غریب سوال کردیا ”مکہ کے پہاڑ اتنے بنجر کیوں ہیں؟“ اپنا علم تو وہیں دھرا رہ گیا۔ وہ پھر گویا ہوئے” شاہ صاحب میں نے دنیا کے کئی پہاڑ دیکھے مگر وہ مکہ کے پہاڑوں کی طرح بنجر اور بے آب و گیاہ نہیں ہیں؟ اس کے پیچھے اللہ کی منشا کیا ہے“؟ میںنے تو سر نڈر کر دیا۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے ”قبلہ اللہ پاک چاہتے تھے کہ آنے والے حاجیوں کی توجہ صرف میرے گھر پر رہے اس شہر کو پکنک پوائنٹ نہیں بنایاجائے گا۔ بات دل کو لگی۔

 یہ پرانا واقعہ مجھے اب کیوں یاد آیا؟اس کے پیچھے ہمارے دوست انگریزی ادب کے استاد اسد اعوان ہیں جنہوں نے مجھے ایک ویڈیو بھیجی اور ساتھ تاکید کی کہ یہ جو رمضان شریف میں چینلز پر طوفان بدتمیزی چل رہا ہے اس کے خلاف لکھیں۔ میں نے وہ ویڈیو دیکھی تو چونک اٹھا۔ اس میں ایک عالم دین بڑی صراحت ‘و ضاحت کے ساتھ موجودہ سحر و افطار پر لگنے والے میلوں کی حقیقت پر روشنی ڈال رہے تھے۔ بات سمجھ میں آئی، دل کو لگی۔ سچ کہا انہوں نے کہ یہ باقاعدہ سوچی سمجھی سازش کے ساتھ مختلف میڈیا مالکوں کو کروڑوں روپے دیئے جارہے ہیں کہ رمضان کا تقدس پامال کرو، سحر و افطار کے اوقات کو تفریح بنا دو۔ انہوں نے مکہ کے اس عکاس میلہ کا حوالہ دیا کہ قبل اسلام جب لوگ مکہ میں خانہ کعبہ عبادت کے لئے آتے تو وہاں عکاس کا میلہ لگا ہوتا تھا۔ گویا زمانہ جہالت میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اس کا چھوٹا موٹا عکس درباروں پر لگنے والے عرسوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں سرکسی موت کا کنواں اور کئی اور خرافات ہوتی ہیں۔ مجھے معاً خیال آیا کہ واقعی رمضان کوئی فیسٹیول نہیں ہے۔

 خدا کے لئے آﺅ بیٹھ کے سوچیں واقعی سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو رہا۔ وہ اوقات جو اللہ کی رحمتیں لوٹنے کے ہیں سب ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ گھڑیاں جو دعائیں مانگنے کی ہوتی ہیں ہم کیا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ سراسر لہو و لعب ، کھیل تماشہ اور رنگ بازی، نام اس کا رمضان سپیشل ہوتا ہے۔ اللہ ہم پر رحم کرے ۔ میں نے کراچی کے اس ڈرامہ مولوی کو دیکھا ۔ یقین کیجیئے یہ کلپ کسی نے بھیجا۔ وہ حضرت زبان نکال کر کے اداکاری کر رہے ہیں۔ دو سنگرز کچھ گا رہی ہیں۔ حاضرین تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ کہیں انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور کہیں موبائل بانٹے جارہے ہیں۔ بجا کہا ان عالم دین نے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پیکٹ کرنے والوں نے پروگرام کے لئے ماڈل کو ضروری قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ کچھ دین فروش مولوی بھی ہائر کر لئے جاتے ہیں تاکہ اس پروگرام کو اسلامی کہا جا سکے۔ وہ عالم دین کہنے لگے میں تو دو تین سال پہلے تو بہ تائب ہو گیا اور کسی چینل پر نہیں جاتا۔

 معزز قارئین! میں بھی ان پروگرامز کو نہ صرف جائز سمجھتا تھا بلکہ میں نے ان کے حق میں لکھا بھی کہ کیا حرج ہے کہ اداکار اور اداکارائیں اسی بہانے اللہ اور اس کے رسول کا ذکر کر لیتی ہیں۔ اور یقیناً اچھی باتیں ان پر اثر انداز بھی ہوتی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے میرے دل میں کہیں یہ خواہش بھی چھپی ہو کہ روشن خیالوں اور دنیا داروں سے میں خوب داد پاﺅں گا۔ جہالت کے پا س حق سے زیادہ دلیلیں ہوتی ہیں۔ مگر اخلاص اور سچائی نہیں ہوتی۔ اسد اعوان کی بھیجی ہوئی ویڈیو دیکھ کر میں چونک اٹھا اور حقیقت ذہین نشین ہوئی کہ نہیں بھئی یہ تو ہمیں شوگر کوٹڈ زہر کی گولیاں دی جارہی ہیں۔ واقعی ایسا ہے کہ ہماری عبادات کے تقدس کو برباد کرنے کا پروگرام ہے کہ ہماری مذہبی روایات و اقدار کی روح مار دی جائے۔ یہ شیطان ہی ہے جو اپنے حیلوں اور بہانوں سے ہماری خواہشات پر ڈھلے ہوئے کاموں کو دین بنا دیتا ہے۔ وہ گناہ کے کاموں کونہایت دلفریب اور خوب صورت بنا دیتا ہے مثلاً اچھے اچھے شاعر اپنے تئیں کئی گانوں کو مشرف بہ نعت کرتے رہے کہ گانوں کی دھنوں پر نعتیں کہتے رہے۔ اللہ معاف کرے ،۔ نعت سن کر دھیان فلم کے سین پر چلا جاتا ہے گانے والے کی طرف۔

 کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ٹی وی کی لغویات سنتے ہوئے روزہ اچھی طرح گزر جاتا ہے حالانکہ روزہ انہی شیطانی کاموں سے بچنے کا نام ہے وگرنہ اللہ کو ہمارے بھوکا رکھنے سے کیا مطلب، روزہ اللہ کے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی اللہ کے پاس ہے بلکہ وہ خود اس کا اجر دے گا۔ روزہ سحری سے افطار تک عبادت ہی تو ہے بلکہ اس کا اہتمام بھی عبادت ہے۔ یہ مہینہ اللہ کے لئے سر نڈر کرنے اور خود سپردگی کا نام ہے۔ چاہیے تو یہ کہ سحری سے پہلے تلاوت کی جائے ، افطار کے بعد تراویح کی فکر کی جائے ، یہ مہینہ کھیل تماشہ دیکھنے کا تو نہیں۔ روزہ محسوس کرنے کا نام ہے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا نام۔ مجھے تو اب جاکے احساس ہوا کہ اللہ نے مکہ کے پہاڑ اس قدر بنجر کیوں رکھے ہوئے ہیں۔

 اللہ توجہ چاہتا ہے وگرنہ وہ بہت بے نیاز ہے اتنا بے نیاز ہے کہ بندہ سراسر زنگ ہو جاتا ہے، دل سیاہ ہو جاتا ہے اور عقل کے در بند ہو جاتے ہیں۔ اس کی توجہ ہی تو روشنی ہے۔ سب کچھ انسان پر عیاں کر دیتی ہے۔ شرط وہی ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، طلب پیدا کی جائے اور دامن وا کیا جائے۔ جس طرح کے میلے ٹھیلے ٹی وی پر ہو رہے ہیں اللہ تو انسان کو ویسے ہی بھول جاتا ہے۔ وہاں تو اپنی خواہشات کو جو س پلایا جارہا ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے میڈیا مالکان سوچیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ کس کاسٹ پر کام کررہے ہیں۔ ان علمائے دین کو تو ضرور سوچنا چاہیے جو چند ٹکوں، شہرت یا پھر دل پشوری کے لئے ان پروگراموں میں جا بیٹھتے ہیں جہاں حضور کریم کے دین کو مسخ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ جہاں پرلے درجے کے جاہل اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے دینی مسائل بتا رہے ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات مفتی کے منصب پر آن بیٹھتے ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم پیمرا کا بھی کوئی اس میں عمل دخل ہے کہ نہیں ۔ چلیے اگر اخلاقیات کا ہی وہ کچھ خیال کریں تو کوئی لائحہ عمل وہ بنا سکتے ہیں ۔ سب رنگینیوں میں گم ہیں اس لئے روزہ داروں ہی کو کچھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اس عظیم عمل کی حفاظت کریں۔ رسول پاک نے جبرائیل ؑ کی ایک دعا پر کہ جس کو رمضان شریف ملے وہ اپنی بخشش نہ کروا سکے، اس پر لعنت ہو، آمین کہی تھی۔ برکتوں والے اس مہینے کو قیمتی بنائیں اور اللہ کی ناراضگی کا باعث نہ بنیں۔ سچ کہا ان عالم دین نے سحر اور افطار کے وقت جو غل غپاڑا ہوتا ہے ایسے میں اللہ کی برکتیں اور رحمتیں کہاں اتریں گی۔ ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہو گا ان دو ایک اینکرز کو سلام جنہوں نے اپنے پروگرام میں ایسی فضولیات کو شامل کرنے سے انکار کردیا ۔لئیق احمد بھی انہی میں سے ایک ہیں۔

16 جنوری، 2015

اُنھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں!

 ہمارے ذرایع ابلاغ بھی ۔۔۔ اے عزیزو! ۔۔۔ عین مَین اُسی طرح سے ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہوگئے ہیں، جس طرح نائن الیون کے ڈرامے کے نتیجے میں دُنیا بھر میں (صرف مسلمانوں سے) لڑی جانے والی ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ بھی اب صرف ’ہماری جنگ‘ ہو کر رہ گئی ہے۔ دونوں کے لیے ’مرچ مسالہ‘ ولایت ہی سے آتا ہے۔بس اِسے استعمال کرنے اور استعمال کرنے کے نتیجے میں خود استعمال ہو جانے والے لوگ ’اپنے‘ ہوتے ہیں۔
جس روز فرانس کے ایک رسالے پر حملے کی خبر آئی تھی اُس روز ایک (نہایت وقیع سمجھے جانے والے) انگریزی اخبار کے اُردو چینل پر ایک دیسی محترمہ اپنے سارے دانت نکال نکال کر بڑے ولایتی انداز میں ایک پاکستانی عالمِ دین پر برس رہی تھیں کہ:
’’کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟ ۔۔۔ کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟‘‘
یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ’نائن الیون‘ کی طرح اِس ’وَن سیون‘ (سات جنوری) کا ملبہ بھی محترمہ وطن عزیز پاکستان ہی پر گرانا چاہتی ہیں۔ ’مذہبی دہشت گردی‘ تو یہ فرانسیسی واقعہ یوں کہلایا کہ اس حملے کومذہبی دہشت گردی‘ پورے عالمِ مغرب نے قرار دیا ہے۔ ’مسلمانوں‘ سے منسوب بھی یوں ہوا کہ اسے پورے عالمِ مغرب نے مسلمانوں سے منسوب کیا ہے۔ مغرب کے نشریاتی اور طباعتی اداروں کے کہے پر بے چون و چرا ’ایمان بالغیب‘ لے آنا ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘کے بنیادی عقیدے کا حصہ ہے۔ خواہ سوات میں عورت کے کوڑے کھانے کی وڈیو ہو یا عراق میں ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے‘ ہتھیاروں کی موجودگی۔

جو ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہیں وہ کائنات کی عظیم ترین ہستی کے کارٹون بنانے کو کبھی بھولے سے بھی ’مذہبی دہشت گردی‘ میں شمار نہیں کر سکتے۔ برسوں سے جاری و ساری اس سلسلے کا زور کچھ کم ہو گیا تھا تو اس کو ’دوبارہ جاری‘ کرنے کے لیے ’زور‘پیدا کیا گیا۔پیرس کے جس کارٹونی ہفت روزے کے دفتر پر حملے نتیجے میں کے ہفت روزے کے مدیر اور کارٹونسٹ سمیت بارہ افراد مارے گئے، اُن کو مارنے والے مسلح نقاب پوشوں کے ’مسلمان‘ ہونے کا اعلان بھی مغربی حکام نے کیا۔ کیسے کیا؟ یہ جاننے کے لیے ذرا پلٹ کر ایک بار پھر نائن الیون کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ نائن الیون سے جہاز ٹکرانے والے ’مسلمان‘ پائلٹ نہ صرف خود راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے بلکہ ٹوئن ٹاورزتو کسی کھلونا بلڈنگ کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر یا صابن کے جھاگ کی طرح سے، بیٹھ گئی تھی۔سب کچھ تباہ ہو گیا، مگر اسے معجزہ نہیں تو اور کیا کہیں گے کہ ’مسلمان‘ پائلٹوں کے (مسلمان) پاسپورٹ بالکل صحیح سلامت حالت میں ملبہ سے برآمد ہوگئے تھے، جن سے اُن کی بہ آسانی شناخت ہو گئی۔ اس معجزے کے باعث اس بات پر ’ایمان ‘ پختہ ہوگیا کہ دہشت گرد مسلمان تھے۔اور’دہشت گرد‘ مسلمانوں کے سوا اور ہو بھی کون سکتا ہے؟

پیرس، فرانس کے واقعے میں بھی دہشت گردوں کی شناخت اس وجہ سے ممکن ہوئی کہ وہ حیرت انگیز طور پر اپنے اپنے شناختی کارڈ اپنی (تباہ ہو جانے والی)گاڑی میں چھوڑ گئے تھے تاکہ اُنھیں بھی بہ آسانی شناخت کیا جاسکے۔’نائن الیون‘ کے واقعے سے ایک مماثلت یہ بھی اِس ’مذہبی دہشت گردی‘ کے واقعے میں پائی گئی کہ جس طرح ٹوئن ٹاورز سے جہاز ٹکرانے کی وڈیو بناتے ہوئے کچھ اسرائیلی پکڑے گئے تھے، بالکل اسی طرح اسرائیلی ٹی وی چینل آئی بی اے کے ڈپٹی ایڈیٹر امشائی اسٹین کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ اِس وقوعے کی Live شوٹنگ مسلسل اپنے چینل کو ارسال فرما تے رہے کہ ۔۔۔’ناظرین! ہم سب سے پہلے آپ کو یہ بریکنگ نیوز دے رہے ہیں‘۔۔۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کے رونما ہوتے ہی فرانسیسی یہودی پہلے سے چھپے ہوئے پوسٹرز لے کر احتجاجی مظاہرے کے لیے یکایک سڑکوں پر نکل آئے۔ جن کی متحرک اور مطبوعہ تصاویر آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ دیکھیے مغرب میں سائنس نے کتنی ترقی کر لی ہے۔

’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو (ملالہ پر حملے کی طرح) سانحہ پشاور کا بھی اُس وقت تک علم نہ ہوا تھا، جب تک یہ خبر مغربی ذرایع ابلاغ سے نشر نہ ہوگئی۔ہماری ناک کے نیچے پیش آنے والے واقعے کی ’بریکنگ نیوز‘ دینے میں بھی اہلِ مغرب ہی بازی لے گئے۔ اہلِ مغرب نے جن تین’ مسلمان دہشت گردوں‘ کے نام پیرس حملے کے ذمے داروں کے طور پر مشتہر کیے ہیں وہ شریف کواشی، سعید کواشی اور حمید مراد ہیں۔ کواشی برادران کی پرورش شمالی فرانس کے ایک سرکاری یتیم خانے میں ہوئی ہے۔ حمید مراد کے دوستوں نے ٹوئٹر پر اپنے اپنے ٹویٹ ڈالے ہیں کہ جس وقت حملہ ہوا اُس وقت حمید مراد اُن کے ساتھ کلاس روم میں موجود تھا۔حمید مراد کی بیک وقت دو جگہ موجودگی بھی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟اور اگر وہاں موجود نہ تھا تب بھی ’مسلمان‘ تو تھا۔ اُسے دہشت گرد قرار دینے کے لیے اتناہی کافی ہے۔

حملے کی ایک وڈیو میں یہ بھی دکھایاگیا ہے کہ ایک پولیس آفیسر نے حملہ آوروں کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔دو نقاب پوش حملہ آور گاڑی سے باہر آئے اور پہلے تو دور سے گولی مار کر اُس پولیس آفیسر کو زخمی کیا، پھر قریب آکر اُس کے سر میں گولی ماردی۔ دہشت گرد تو یقیناًتربیت یافتہ تھے، مگر وڈیو بنانے والا ایسا اناڑی تھا کہ اُسے اِس زخمی پولیس آفیسر کے جسم پر یا اُس کے آس پاس کہیں خون نظر نہیں آیا جسے وہ دکھا سکتا۔ حملہ آوروں کو روکنے والے پولیس آفیسر کے متعلق جو خبریں آئی ہیں اُن کے مطابق:1۔ وہ ایک پولیس کار سے نکلا تھا۔ 2۔وہ ایک پولیس اسٹیشن سے باہر نکلا تھا (اور دہشت گردوں کی گاڑی دیکھتے ہی پہچان گیاتھا کہ یہ دہشت گردوں کی گاڑی ہے، اِسے روکنا چاہیے)۔3۔وہ ایک سائیکل پر سوار تھا (اور غالباً دہشت گردوں کی گاڑی کے آگے سائیکل کھڑی کرکے گاڑی روکنے کی کوشش کر رہا تھا)۔
وڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پولیس آفیسر کو مارنے کے بعد دونوں دہشت گرد اپنی گاڑی کے پاس آئے اور اُنھوں نے نعرہ لگایا کہ ہم نے ’پیغمبر محمدؐ‘ (Prophet Muhammad) کا انتقام لے لیاہے۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ دہشت گرد ’مسلمان‘ ہی تھے، کیوں کہ مسلمانوں کو جب اپنے نبی کانام لینا ہوتا ہے تو وہ لفظ ’پیغمبر‘(Prophet) ضرور استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ رہے کہ وہ انھیں نبی(Prophet) نہیں مانتے۔

اِس قسم کی بہت سی دلچسپ باتیں ابھی اور بھی باقی ہیں، مگر کالم میں جگہ باقی نہیں رہی۔ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو چوں کہ سارا مرچ مسالہ مغرب سے ’پیک‘ کیا ہوا مل جاتا ہے، چناں چہ وہ کبھی خود اپنا ’سِل بٹّا‘ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اپنا سِل بٹّا استعمال کرنے کے لیے اپنی ’اوپر کی منزل‘ بھی استعمال کرنی پڑتی ہے، مگر ہمارے یہاں اوپر کی منزل کرائے پر اُٹھادینے کا رواج ہے۔ اگر یہ ذرایع ابلاغ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ نہ ہوتے تو شاید مغرب کا اُگلا ہوا زمین سے اُٹھا کر خود نگل لینے کی بجائے اِس معاملے کا تحقیقی اور تفتیشی نظروں سے اپنے طور پر بھی کچھ جائزہ لینے کی کوشش کرتے اور اہلِ مغرب سے پوچھتے کہ سرورِ کائناتؐکے گستاخانہ کارٹون دوبارہ سرورق پر چھاپ کر رسالے کی تیس لاکھ کاپیاں شایع کرنے کا ’مہذب اقدام‘ کیا ’دہشت گردی کی روک تھام‘ کرنے ہی کا کام ہے؟ مگر ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کی نظر میں تو اُن کا ہر کام اُن کا لبرل ازم،اُن کی روشن خیالی اور اُن کا حقِ آزادی اظہار ہے، جب کہ ہماری طرف سے صرف ایسا سوال کر لینا بھی تنگ نظری ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے مترادف۔
---------------------------
ابو نثر

12 جنوری، 2015

ہوئے تم دوست جس کے - اوریا مقبول جان


 مسلم امہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دینی مدرسے کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے 1781 میں کلکتہ مدرسہ کھول کر پیدا کیا۔ اس سے قبل بغداد کے دارالحکومت سے شروع ہونے والی مدارس کی تحریک جو 1100 سے 1500 تک طلیطلہ کے تراجم کی انتھک کوششوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا بھر کے علوم کی قائد بنی، اس کے زیر اثر قائم ہونے والے تمام مدارس علم میں کوئی تحصیص نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سید الانبیاء ﷺ کی حدیث کے مصداق علم مومن کا گمشدہ مال تھا۔
اس امت کے تمام مدارس میں قرآن و سنت اور فقہ کے علاوہ جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں علم طب، علم الادویہ، علم ریاضی، علم طبیعات، علم فلکیات، فلکیاتی جدول، امراض عین، علم المناظر، علم کیمیا، علم فلسفہ، علم تاریخ، علم موسیقی اور دیگر کئی علوم شامل تھے۔ اس تصور کو برصغیر کے مسلم مدارس نے بھی انگریز کی آمد تک قائم رکھا ۔ مدرسہ رحیمیہ اور مدرسہ فرنگی محل کے نصاب ان ھی علوم پر مبنی تھے۔ یہی تعلیمی ادارے تھے جس سے علم حاصل کر کے لوگ طبیب بنتے تھے اور گاؤں گاؤں جا کر حکمت اور طب کا پیشہ اختیار کرتے تھے۔
آج بھی ان گھرانوں میں علم طب اور علم الادویہ کی کتابوں کے وہ نسخے مل جائیں گے جو ان مدرسوں میں پڑھائے جاتے تھے۔ ان ہی تعلیمی اداروں سے استاد پیدا ہوتے اور ہر گاؤں میں اتالیق مقرر ہوتے تھے۔ ایک ایسا غیر رسمی تعلیمی نظام پورے برصغیر پر رائج تھا جس کے نتیجے میں اس خطے میں شرح خواندگی 95 فیصد سے زیادہ تھی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل G.W.Leitner جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب Indiginous Education in Punjab اس بات کی گواہی ہے کہ مغلیہ دور میں ہر گاؤں کی سطح تک بنیادی تعلیم کا تصور کس قدر مستحکم تھا۔
شرح خواندگی یہ نہیں تھی کہ اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتا ہو بلکہ ہر پڑھے لکھے شخص کو فارسی پڑھنا، لکھنا آتی تھی، حساب کتاب پر دسترس تھی اور اسے قرآن یا وید پڑھنا آتی تھی۔ یہ سب اساتذہ جو گاؤں گاؤں پھیلے ہوئے تھے ان ھی مدارس سے پڑھ کر نکلے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1906ء کے تمام اضلاع کے گزٹیر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ضلعوں میں عمومی شرح خواندگی 90 فیصد کے لگ بھگ نظر آئے گی۔ یہی حال 1911ء کی مردم شماری کی رپورٹ کا ہے۔ یہ تعلیم اور خواندگی کا جال ان ھی مدارس سے فارغ التحصیل افراد نے پھیلایا تھا۔
پورے برصغیر میں جو سول سروس تھی جس میں مالیہ وصول کرنے والے، زمین کی پیمائش کرنے والے جریب کش، کوتوال، عدالتوں کے قاضی، خزانے کے متولی، عمارتیں تعمیر کرنے والے انجینئر جنھوں نے تاج محل اور شالیمار جیسے شاہکار تخلیق کیے، یہ سب کے سب ان ھی مدارس سے علم حاصل کر کے ان عہدوں تک پہنچتے تھے۔ ایک مربوط تعلیمی نظام کے بغیر یہ لوگ آسمان سے نازل نہیں ہوتے تھے۔ اس دور میں برصغیر میں آنے والے ہر سیاح نے صرف اور صرف ایک چیزکی بے حد تعریف کی ہے اور وہ تھی اس خطے میں عام آدمی کی زندگی میں علم اور ادب کے علاوہ فلسفہ اور سیاسی امور کی اہمیت۔ 1643ء میں جو کتاب یورپ میں چھپ کر عام ہوئی وہ سر تھامس رو کا سفرنامہ تھا۔
اس کا ایک نسخہ پنجاب آرکائیوز میں موجود ہے جس کی ورق گردانی آپ کو بتا دے گی کہ پورے ہندوستان میں ان تعلیمی اداروں کا کیسا جال بچھا ہوا تھا۔ صرف ٹھٹھہ جیسے دور دراز علاقے میں چار سو کالج قائم تھے۔ البتہ فرق ایک تھا اور وہ یہ کہ آج کے دور کی طرح امتحانات کے ذریعے پاس کرنے اور ڈگری دینے کا رواج نہ تھا۔ وہاں استاد اپنے شاگردوں کو روز پرکھتا تھا اور پھر ایک دن اعلان فرما دیتا تھا کہ اب میرا یہ شاگرد علم میں طاق ہو گیا ہے۔ چند بڑے بڑے سوالات یاد کر کے امتحان دے کر ڈگری حاصل نہیں کی جاتی تھی۔
1781 میں کلکتہ مدرسہ قائم کرنے سے پہلے انگریز نے اس علاقے میں 1757سے مسلمانوں کے تمام تعلیمی اداروں پر پابندی لگا دی۔ اب وارن ہیسٹنگز نے اس ،،دینی مدرسے،، کی بنیاد رکھی جسے صرف اور صرف دینی تعلیم کے لیے مختص کیا گیا۔ اس مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو اسی طرح کی ذمے داریوں کا درس دیا گیا جیسا یورپ میں تحریک احیائے علوم کے بعد چرچ کے پادریوں کو دیا جاتا ہے یعنی پیدا ہونے پر بپتسمہ دے دو، شادی پر جوڑے کو قانونی حیثیت دے دو، مرنے کے بعد رسومات ادا کر دو اور اتوار کی عبادت کی قیادت کرلو۔
یہ چار ذمے داریاں بالکل اسی نوعیت کے حساب سے برصغیر کے علماء کو سونپ دی گئیں اور مسلمانوں کے قدیم مدارس کی طرز پر عیسائی مشنری اسکول کھولے گئے۔ 1810 میں کلکتہ میں پہلا مشینری اسکول کھلا جس کے نصاب میں بائبل کی اخلاقیات ،،Biblical Ethics،، اور عیسائی تعلیم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا اور تمام سرکاری نوکریوں کے لیے انگریزی لازم قرار دے دی گئی۔ پورے ملک کے تمام تعلیمی اداروں سے قرآن و سنت خارج کر دیا گیا اور اسے اسلامیات کے ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دے دی گئی کہ جو کوئی اس کو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔
تعلیم صرف اسکول اور کالج تک محدود ہو گئی اور اس کے بعد کے نوے سالوں میں وہ زوال آیا کہ 1947 میں انگریز جب برصغیر کو چھوڑ کر گیا تو شرح خواندگی 14 فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ اس دور زوال میں مسلمان مدارس نے وہ ذمے داری بخوشی قبول کر لی جو انگریز نے دی تھی اور ایک ایسی کھیپ تیار کرنا شروع کر دی جو کم از کم قرآن و سنت کے علم کو محفوظ رکھیں اور اسے کونے کونے تک پہنچائیں۔ مغربی تعلیم کی یلغار اور انگریز حکومت کے مقابلے میں اپنے دینی علم کا تحفظ ان مدارس کا بنیادی مقصد بن گیا اور جس لگن اور ایمانداری سے انھوں نے یہ فریضہ نبھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
بلوچستان کے قمر دین کاریزیا بسیمہ جیسے دور افتادہ گاؤں ہوں، سندھ میں مٹھی اور ڈیپلو کے ریگستان ہوں، پنجاب میں بھکر، راجن پور یا میانوالی کا بے سرو سامان قصبہ ہو یا سرحد کی بلند چوٹی پر آباد کوئی بستی۔ پانی، بجلی، سیوریج، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات سے بے نیاز ان مدارس کا پڑھا ہوا ایک شخص صبح منہ اندھیرے مسجد کا دروازہ کھولتا ہے، صفیں درست کرتا ہے، چبوترے پر اذان دیتا ہے اور ان میں پانچ وقت نماز پڑھاتا ہے۔ اکثر جگہ اس کی گزر بسر صرف اور صرف لوگوں کے گھروں سے کھانا یا شادی اور موت کی رسومات پر نذرانے کے سوا کسی اور چیز پر منحصر نہیں ہوتی۔
پورے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ لوگ جو دانستہ یا نادانستہ طور پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام کو زندہ رہنے کی واحد علامت ہیں۔ یہ اگر موجود نہ ہوں تو لوگ اذان دینے اور نماز پڑھانے والے کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ انھوں نے یہ ذمے داری گزشتہ دو سو سال سے اس طرح نبھائی ہے کہ آج تک کسی مسجد کے دروازے پر تالہ نہیں لگا کہ مولوی ہڑتال پر ہے۔ کبھی کوئی نماز لیٹ نہیں ہوئی۔
یہ ہیں وہ لوگ جواس ملک کے کوچے کوچے اور قریے قریے میں موجود ہیں۔ جہاں سرکار کا نام و نشان نہیں وہاں بھی موجود ہیں۔ کسی گاؤں میں چلے جائیں آپ کو سرکار کا اسپتال ویران نظر آئے گا، وہاں کا اسکول بے آباد ہو گا، نہ ڈاکٹر کا کہیں پتہ چلے گا اور نہ ہی استاد کا لیکن وہاں ایک ہی آباد اور روشن مقام ہوگا اور وہ اللہ کا گھر جس کی رکھوالی ایک مفلوک الحال درویش مولوی کر رہا ہوتا ہے۔
اس مولوی سے دشمنی کی اور کوئی وجہ نہیں، بس صرف ایک ہے کہ یہ اللہ کے نام کا دانستہ یا نادانستہ طور پر نمائندہ بن چکا ہے اور اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ لیکن جب بھی میرے ملک کے ،،عظیم،، دانشوروں کو موقع ہاتھ آتا ہے وہ ان مدارس کو سرکاری کنٹرول میں کرنے کا نعرہ بلند کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا ہے اس کے بعد کیا ہو گا۔ وہی جو تمام اداروں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
مولویوں کا تنخواہیں بڑھانے کے لیے اور دیگر مراعات کے لیے احتجاج شروع ہو گا، دھرنے، مساجد پر تالے اور درس و تدریس کا خاتمہ۔ وہی حال جو ہم نے اپنے باقی تمام محکموں کا کیا ہے۔ مجھے اپنے ان عظیم دانشوروں کی یہ منطق اچھی لگتی ہے کہ تمام مدارس کو سائنسی اور جدید علوم پڑھانے چاہئیں تا کہ روحانی اور مادی ترقی ساتھ ساتھ ہو لیکن کیا یہ منطق کالجوں یونیورسٹیوں اور اے لیول وغیرہ پر لاگو نہیں ہوتی کہ انھیں بھی قرآن و حدیث پڑھایا جائے تا کہ معاشرہ میں ایک ہی طرح کا نظام تعلیم اور ایک طرح کے انسان جنم لیں۔
ان اداروں میں تو جو تھوڑا بہت اسلام موجود ہے، یہ لوگ اس کو بھی نکالنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اصل مقصد صرف یہ ہے کہ تعلیم سے اللہ اور اس کے رسول کو دیس نکالا دے دو۔ اسے امن کی شرط کہا جا رہا ہے۔ یورپ نے 1900 تک دین کو تعلیم سے نکال دیا تھا۔ کیا وہاں امن آ گیا؟ اس کے بعد اس نے دو عالمی جنگیں لڑیں اور کروڑوں انسانوں کا خون بہایا۔ شاید تاریخ کسی کو یاد نہیں یا وہ یاد کرنا نہیں چاہتا۔

3 جنوری، 2015

ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا …اوریا مقبول جان

پرچم اتار دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فاتح اقوام کے سب سے بڑے اتحاد اور دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوتوں کا پرچم۔ وہ قوتیں جو آج سے تیرہ سال قبل دھاڑتی، چنگھاڑتی ہوئی اس کمزور، وسائل اور ٹیکنالوجی سے محروم ملک، افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔
دنیا بھر کے لیے ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی کہ اگر تم ہمارے ساتھ اس کمزور ملک سے جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر ہمارے دشمن ہو۔ 2001ء کی سردیاں اس ملک کے لیے عذاب کی صورت بنا دی گئیں۔ دنیا بھر میں سے تین ملک ایسے تھے جو اس ملک پر برسرِ اقتدار طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے۔ جن میں سے ایک پڑوسی پاکستان بھی تھا۔ باقی پڑوسی ایران اور تاجکستان تو ویسے ہی ان کے خلاف شمالی اتحاد کو ہر طرح کی مدد دیتے ہوئے جنگ میں شریک تھے۔
لیکن جس پڑوسی نے انھیں ایک قانونی حکومت تسلیم کیا تھا، اسی پڑوسی کی سرزمین ان پر حملے کے لیے استعمال ہوئی۔ دنیا نے اس ملک کو دہشت گردی کا مبنع قرار دیا اور پھر دو سو کے قریب ممالک میں سے اڑتالیس ممالک نے اپنی فوجیں وہاں اتار دیں۔ دشمن پڑوسیوں میں گھرا ہوا یہ ملک، ایک جانب پاکستان جہاں سے57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے اس سرزمین پر بم برسائے، دوسری جانب تاجکستان جس نے قلاب والا زمینی راستہ دیا تا کہ نیٹو افواج شمالی اتحاد کے جلو میں اندر داخل ہو سکیں اور تیسری جانب ایران جس کے پاسداران شمالی اتحاد اور حزبِ وحدت کے ساتھ اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ تیرہ سال قبل اس دنیا میں ٹیکنالوجی کے بت کی پرستش کرنے والے کیسی کیسی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ پہلے چند ماہ تو ایسے تھے کہ ہر کوئی بلند آواز میں پکار رہا تھا، دیکھو ٹیکنالوجی نے آج اُس قوم کو شکست دے دی ہے۔ جس سے کوئی نہ جیت سکا۔ کوئی ان کے بھاگنے کے قصے سناتا اور کوئی کہتا کہ یہ تو چند ہزار لوگ تھے جنھیں کچھ طاقتوں نے اکٹھا کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں تو دیکھو کیسے بھگوڑے ہو گئے ہیں یہ سب کے سب۔ اب افغانستان میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ یہ اب دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ اس کے بعد کے تیرہ سال آگ اور خون کے ساتھ کھیلتے ہوئے سال ہیں۔ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی جو دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کے ساتھ یہاں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ ایسے ٹینک جو اپنے اندر سے ایک ایسے مقناطیسی ردّ عمل کا دائرہ بنا سکتے تھے جن سے میزائل بھی واپس لوٹ جاتا تھا۔

آسمانوں سے پہرہ دیتے جہاز۔ فضا کی بلندیوں پر موجود ایک ایک لمحے کو ریکارڈ کرتے اور معلومات فراہم کرتے سٹلائٹ۔ ان سب کے باوجود کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب نیٹو افواج یا ان کی بنائی ہوئی افغان فوج نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ ہمارا پورے افغانستان پر کنٹرول ہو گیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ سوائے چند شہروں کے چند میل علاقوں کے پورے افغانستان میں امریکی یا نیٹو افواج کو کسی قسم کی کوئی دسترس تک حاصل نہ تھی۔ آخری سال تو شکست کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا۔ یکم جنوری2014ء سے31 دسمبر تک9167 افراد اس جنگ کا شکار ہوئے۔ جن میں3,188 ایسے تھے جو اس بری طرح زخمی ہوئے کہ ناکارہ ہو کر رہ گئے۔

بوکھلاہٹ میں الزامات حقانی نیٹ ورک پر لگائے گئے جس کے خلاف اس دوران شمالی وزیرستان میں آپریشن جاری تھا۔ کون ٹیکنالوجی کی شکست مانتا ہے اور وہ بھی نہتے افغانوں کے ہاتھوں جن کا سارا تکیہ ہی تائید الٰہی پر تھا۔ کیا کبھی امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے سوچا بھی ہو گا کہ اسقدر عظیم فوجی قوت کے باوجود ان کے تین ہزار چار سو اٹھاسی3488 سپاہی مارے جائیں گے۔ یہ وہ گنتی ہے جو وہ خود مانتے ہیں۔ جب سے سی آئی اے بنی ہے اس کے نوے کے قریب اہم ایجنٹ مختلف ممالک میں مارے گئے ہیں، جن میں سے گیارہ اس افغان جنگ میں قتل ہوئے۔ افغانستان ایک ایسا ڈراونا خواب تھا جس کے اختتام کی تقریب 28 دسمبر کو منعقد ہوئی۔ نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان ایف کیمپبل (Joh F. Campbell) نے کہا ’’ہم اپنا طالبان کے خلاف جنگ کا ایجنڈا ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن ہم بھاگ نہیں رہے‘‘۔ کیا خوبصورت فقرہ ہے (“We are not walking away”) یہ تسلی افغان قوم کو نہیں بلکہ اس افغان حکومت کو دی جا رہی جسے امریکیوں نے خود وہاں پر مسلط کیا ہے۔

جمہوری حکومت اور جمہوریت کے قیام کا کیا خوب تصور ہے کہ ایک ملک پر حملہ کرو، وہاں افواج اتارو، لوگوں کو قتل کرو، خود ایک آئین تحریر کرو، اپنی نگرانی میں الیکشن کراؤ اور بولو کہ ایسے زندگی گزار تے ہو تو ٹھیک ورنہ تمہیں دہشت گرد کہہ کر مار دیں گے۔ اسی لیئے اس ’’ٹوڈی‘‘ حکومت کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ہم بھاگ نہیں رہے۔ لیکن اس اتوار کو امریکی صدر اوباما نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک محتاط طریقے سے اس جنگ کا خاتمہ کیا ہے جب کہ افغانستان آج بھی ایک خطرناک علاقہ ہے‘‘۔ اس ملک میں تین لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کی ٹرنینگ کے لیے12 ہزار نیٹو کے فوجی یہاں پر موجود رہیں گے۔ اس تقریب میں افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اعتماد نے کہا کہ آپ ہمیں ایسے وقت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جس وقت ہم انتہائی مشکلات میں ہیں۔ ہمیں کبھی بھی نیٹو افواج کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جس وقت یہ تقریب ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہی تھی تو اس دوران افغان افواج کے افسران کے انٹرویو بھی نشر کیے جا رہے تھے۔ یہ افسران کہتے تھے کہ تیرہ سالوں سے ہم ایک ایسی جنگ کے عادی ہو چکے ہیں جو نیٹو کی تکنیکی اور فوجی مدد کے بغیر لڑی ہی نہیں جا سکتی۔ ہمیں ہوائی جہازوں کی بمباری اور ٹینکوں کی یلغار میں آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ہم ان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل پاتے جب کہ ہمارے دشمن طالبان اس تمام تر ٹیکنالوجی سے بے نیاز جس طرف سے چاہیں ہم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اب جب کہ یہ سپورٹ (مدد) ختم ہو رہی ہے، ہم بہت مشکل میں ہو ں گے۔

جھنڈا اتار دیا گیا۔ وہ فتح کرنے آئے تھے اور اپنے زخم چاٹتے رخصت ہوئے۔ یہ تیسری دفعہ ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتوں کا غرور خاک میں مل رہا ہے۔ یکم جنوری1842ء برطانوی افواج، وہ برطانیہ جس کی علمداری میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس پر کابل میں حملہ ہوا۔ تقریباً سترہ ہزار فوجی تھے جن میں اکثر انڈین اور ایک رجمنٹ ’’44th‘‘برطانوی سپاہیوں پر مشتمل تھی ان سب کو غلزئی قبائل نے قتل کر دیا تھا اور ایک ڈاکٹر ولیم برائڈن کو زندہ چھوڑا تا کہ وہ جا کر اس عالمی طاقت کے کار پردازوں کو بتائے کہ افغان قوم کیا ہے اور آیندہ کابل کی طرف رخ مت کرنا۔ یہ ڈاکٹر گھوڑے پر سوار ہو کر 13جنوری کو جلال آباد پہنچا اور برطانیہ کے چہرے پر عبرت کا نشان تحریر ہو گیا۔

دوسری دفعہ یہ پرچم عظیم کیمونسٹ ریاست سوویت یونین کا تھا جو1988ء میں ایسے اترا کہ خود اپنی ریاست تک متحد نہ رکھ سکا۔ ٹیکنالوجی کے بت ٹوٹتے ہیں لیکن ان کی پوجا کرنے والے نئے بت تراش لیتے ہیں لیکن وہ جنھیں صرف اللہ کی نصرت اور تائید پر بھروسہ ہوتا ہے وہ بار بار ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا میں اصل طاقت کا سرچشمہ تو صرف اللہ کی ذات ہے اقبال نے کہا تھا۔

اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

29 دسمبر، 2014

دنیا والو!! کیا کریں؟

  ہم نے کہا اسلام چاہیئے، انہوں نے کہا جمہوریت ہے عوام سے ووٹ مانگو، پارلیمنٹ میں آؤ اور نافذ کرلو، مصر والے مان گئے، اخوان کو ووٹ دیئے، ابھی سال ہی ہوا تھا کہ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، صدر کو قید کرلیا اور اب فوج اقتدار پر قابض ہے، اخوان نامی تنظیم پر مکمل پابندی ہے ۔۔۔ اور یہ ثابت کردیا کہ چاہے ہم جتنا بھی "اُن" جیسے ہو جائیں اور اپنے جائز حق یعنی اسلام کو لینے کی کوشش کریں جمہوریت میں ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
  ہم نے پھر کہا کہ مانگنا نہیں سیدھا نافذ ہی کرنا ہے، افغانوں کی سمجھ میں بات آئی، طالبان نامی تنظیم بنائی جس نے دو سالوں میں پورے علاقے کو غیر جمہوری طریقے سے اپنے زیرِ اثر کرلیا، اسلامی احکام نافذ کرنے شروع کئے، دنیا نے نتائج دیکھے، پانچ سال لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور امارت قائم رہی لیکن "اُن" کو بلکل بھی نا بھائے، انہوں نے تابڑتوڑ حملے شروع کردئیے، امارت ختم ہوگئی اور مرتب کردہ نظام بھی ۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ اس طریقے سے بھی اسلام نافذ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
  کچھ عرصہ بعد ایک گروہ اٹھا جس نے تمام طریقوں سے اختلاف کیا اور جبر کی راہ اپنائی، بنام دولتہ السلامیہ اس گروہ نے خلافت کے بھی قیام کا اعلان کردیا، اور صرف تین ماہ لگے عالمِ کفر متحد ہوکر آگیا کہ ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا، فضا سے بموں کی بارش کرکے  یہ بھی ختم کردیا ۔۔۔ یعنی ثابت یہ کہ پرتشدد راہ بھی اختیار نہیں کرنے دی جائے گی۔


  ہم پھر وہیں کھڑے ہیں، اسلام چاہتے ہیں، کیا کریں، دنیا والو ۔۔۔ بتاؤ  کیا کوئی طریقہ تمہیں قبول ہے ؟

23 دسمبر، 2014

قصاص میں زندگی ہے


وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ البقرہ ۱۷۹
ترجمہ: اور اے اہل عقل! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے کہ تم (قتل وخونریزی سے) بچو ۔

یہ نہایت فصیح و بلیغ جملہ ہے۔ جس پر عرب کے فصحاء عش عش کر اٹھے۔ کیونکہ اس مختصر سے جملہ میں دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی قصاص بظاہر تو موت ہے۔ مگر حقیقت میں پوری زندگی کا راز اسی میں ہے۔ عرب میں جو فصیح محاورہ استعمال ہوتا تھا القتل انفی القتل یعنی قتل قتل ہی سے مٹتا ہے۔ مگر فی القصاص حیاۃ میں بدرجہا زیادہ لطافت، فصاحت، بلاغت ہے اور مضمون بھی بہت زیادہ سما گیا ہے۔


دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور عرب بھر کا امن و سکون تباہ ہو چکا تھا۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا عادلانہ قانون دے کر دنیا بھر کے لوگوں کو جینے کا حق عطا فرما دیا۔
 

آج بعض ملکوں میں قتل کی سز ا منسوخ کر دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سزا ظالمانہ اور بہیمانہ ہے۔ متقول تو قتل ہو چکا، اب اس کے عوض ایک دوسرے آدمی کو تختہ دارپر لٹکا دنیا بےرحمی نہیں تو کیا ہے۔
آپ خوفناک حقائق کو دلکش عبارتوں سے حسین بنا سکتے ہیں۔ لیکن نہ آپ ان کی حقیقت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ان کے برے نتائج کو رو پذیر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ جس ملک کے قانون کی آنکھیں ظالم قاتل کے گلے میں پھانسی کا پھندا دیکھ کر پرنم ہو جائیں وہاں مظلوم و بےکس کا خدا ہی حافظ، وہ اپنے آغوش میں ایسے مجرموں کو نازو نعم سے پال رہا ہے جو اس کے چمنستان کے شگفتہ پھولوں کو مسل کر رکھ دیں گے۔ وہ دین جو دین فطرت ہے، جو ہر قیمت پر عدل وانصاف کا ترازو برابر رکھنے کا مدعی ہے اس سے ایسی بےجا بلکہ نازیبا ناز برادری کی توقع عبث ہے۔
 

ہمارے ہاں بھی کچھ لنڈے کے انگریز جو خود کو لبرل کہلواتے ہیں اس سزا کے خلاف ہیں۔ نام نہاد "انسانی حقوق " کی تنظیموں اور بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کئی سال سے رکا ہوا تھا ۔ اور اس وقت پاکستانی جیلوں میں دہشتگری کے الزام میں سزا یافتہ 500 افراد سمیت قریباآٹھ ہزار افراد ایسے ہیں جنھیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
 

حالیہ واقعہ کے بعد جب حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا تو سب ایک بار پھر اپنی اپنی ڈفلی لے کر پہنچ چکے ہیں۔ الطاف حسیں کہتے ہیں کہ سزا صرف دہشتگردوں کو دی جائے اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والے دہشتگرد تو ہرگز نہیں، بوری بند لاشیں پیک کرنے والے بھی دہشت گرد نہیں ۔ الطاف بھائی پر خود بھی کئی قاتل اور اقدام قتل کے مقدمات ہیں، وہ بھی دہشتگرد نہیں اس لیے اسے سزا نہ دی جائے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دوسری نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لنڈے کے انگریز بھی میدان میں آ چکے ہیں اس سزا کے خلاف۔
 

عجیب منطق ہے ان "انسانی حقوق" کی تنظیموں کی بھی، ایک مجرم کو سزا دینے سے تو ان کے مطابق انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں جبکہ بغیر کسی کا جرم ثابت کیے اس پر ڈرون اور میزائل مار کر اسے، اسکے گھر والوں کو ،اس کے بچوں کو، اسکے محلے اور پڑوس والوں سب کو مار دینے سے "انسانی حقوق "بالکل محفوظ رہتے ہیں۔کبھی آپ نے کسی "انسانی حقوق" کی لبرل تنظیم کو ڈرون حملوں کے خلاف بولتے نہیں دیکھا ہو گا۔
 

یہ تنظیمیں کسی طاقتور ملک کو بغیر کسی کا جرم ثابت کیے کسی ایک شخص کی "تلاش" میں کسی غریب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے، اس پر قالینی بمباری کرنے اور لاکھوں افراد کو قتل کرنے ، بچوں عورتوں اور بزرگوں کو وحشیانہ بمباری کر کے ان کے چیتھڑے اڑانے کی تو اجازت دیتی ہے لیکن کسی قاتل کو عدالتی کاروائی کے بعد جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی اجازت نہیں دیتی۔
 

قرآن کہہ رہا ہے کہ "تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ۔"
 

اے اہل عقل اگر امن چاہتے ہو تو بلا تفریق تمام مجرموں کو سزا دو۔ چاہے وہ دہشتگردی کے جرم میں ہو، ٹارگٹ کلنگ میں یا ذاتی دشمنی کی بنا پر ۔ چاہے وہ ایم کیو ایم کے ہوں چاہے اے این پی کے یا چاہے فوجی۔چاہے الطاف بھائی ہو یا مشرف ۔ تمام مجرموں کو جب تک بلا تفریق سزا نہیں دی جاتی، امن محال ہے کیونکہ قصاص میں زندگی ہے۔

قصاص میں زندگی ہے۔

8 دسمبر، 2014

بول


"بول"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
"بول" سے تو اچھا تھا
"بولی" نام رکھتے تُم
بولیاں لگاتے ہو
میڈیا کی منڈی میں
کھنکھناتے سِکوں پر
جھوٹ رقص کرتا ہے
کھوٹ کی تجارت ہے
زر زمیں کے بُھوکے سب
دو ٹکوں کی لالچ میں
نظریے بدلتے ہیں
اِس لیے گزارش ہے
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

28 اکتوبر، 2014

افسوس!! یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے

جنگل کے بادشاہ اور رعایا کی ایک کہانی
 

tags
 یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے
شیر اور گدھوں کی کہانی 
story of lion and donkeys, pakistan, urdu,

24 ستمبر، 2014

لمحہ فکریہ


 پہلے قرآن سامنے ٹیبل پر رکھا ہوتا تھا، کوئی نہ کوئی پڑھ لیتا تھا ۔
پھر ایسا ہوا کہ ٹیبل کے پاس ٹی وی رکھ دیا ۔۔۔۔
سب ڈرامے فلمیں دیکھنے لگے تو قران پاک کی بے حرمتی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایسا کیا کہ قران پاک کو بہت اونچا سٹینڈ لگا کر وہاں رکھ دیا ۔۔۔۔
اور سرکار !! پتا ہے اب قران بہت اونچی جگہ پر ہے، کسی کا ہاتھ بھی نہیں جاتا وہاں تک ۔۔۔۔۔
خیر سے ہم نے بےحرمتی سے بچا لیا




1 اگست، 2014

علمائے امت اور غزہ کے مسلمان

 کسی بھی تجزیہ نگار‘ دانشور‘ سیاست دان یہاں تک کہ اس امت کے علماء تک کی گفتگو‘ تحریر یا تقریر ملاحظہ کریں جو ان دنوں فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیلی ظلم و تشدد اور بربریت کے جواب میں کی یا لکھی گئی ہو تو اس میں آپ کو ایک نکتہ مشترک ملے گا۔ ’’ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں‘‘۔ چوراہوں‘ سڑکوں‘ پریس کلبوں اور عالمی دفاتر کے سامنے پلے کارڈ اٹھائے‘ نعرے لگاتے اور موم بتیاں جلاتے لوگ نظر آئیں گے۔ یہ سب اس بات پر کسقدر مطمئن ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ ہم نے اپنا حصہ ڈال دیا۔

اب ہم دن بھر شاپنگ کریں‘ عیش و عشرت میں گم رہیں اور پھر رات کو مزے کی نیند سو جائیں‘ ہم مطمئن ہیں۔ یہ عالمی ضمیر ہے کیا چیز۔ کیا گزشتہ پندرہ سالوں میں ہر بڑے چھوٹے‘ بوڑھے جوان نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا؟ گیارہ ستمبر کے بعد اسی عالمی ضمیر نے نیویارک میں اکٹھے ہو کر چالیس سے زیادہ ممالک کو یہ اختیار دیا تھا کہ ایک ایسے ملک پر ٹوٹ پڑیں جو وسائل کے اعتبار سے دنیا بھر میں سب سے کمزور ہے۔ اس کے پاس نہ رسد و رسائل کے ذرایع تھے اور نہ ٹیکنالوجی۔ لیکن اس کے باوجود بھی پہاڑوں‘ جنگلوں اور بیابانوںمیں آباد ان چرواہوں اور کسانوں کو انسانیت کا سب سے خطرناک دشمن قرار دیا گیا۔


دنیا کے یہ اڑتالیس غنڈے اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ اس عالمی ضمیر کا نمایندہ پاکستانی وفد جب ملا محمد عمر کے پاس گیا تو اس نے اور بہت سی باتوں کے علاوہ ایک بات ایسی کی جو اب سچ ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے کہا تھا ’’دیکھو یہ باری کی بات ہے‘ ہماری باری پہلے آ گئی ہے‘ کل تمہاری بھی آ جائے گی۔ ہمیں خاک ہونے کا ڈر نہیں کہ ہم مٹی کے گھر میں رہتے ہیں‘ مٹی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ ہم نے مٹی میں چلے جانا ہے۔ ان لوگوں کا کیا ہو گا جنہوں نے آسمان سے چھوتی عمارتیں تعمیر کر لی ہیں۔ آسائش کی زندگی اور تعیش کا سامان جمع کر لیا ہے۔ اللہ کا واسطہ باریاں مت لگاؤ‘‘۔ لیکن ہم سب نے اسی عالمی ضمیر کا ساتھ دیا۔
 

وہ سب جو آج غزہ کے ظلم پر چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ کوئی پڑوسی ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔ انھوں نے اس عالمی ضمیر کا ساتھ دینے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے دی۔ میرے ملک سے امریکی طیارے ستاون ہزار دفعہ اڑے اور انھوں نے اسی طرح افغان مسلمانوں کے جسموں کے پرخچے اڑائے جس طرح آج غزہ میں اسرائیل کر رہا ہے۔ ایران نے نہ صرف بدترین خاموشی دکھائی بلکہ اس کے پاسداران کے سربراہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر امریکی حملے کے دوران ہمارے جوان شمالی اتحاد کے ساتھ شانہ بشانہ نہ لڑ رہے ہوتے تو یہ فتح ممکن نہ تھی۔
 

تاجکستان نے کابل کی طرف پیش قدمی کا راستہ دیا۔ عالمی ضمیر مطمئن ہوگیا۔ دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ افغانستان فتح کر لیا گیا۔ کیا اس کے بعد کسی اور کی باری نہیں آئی۔ شاید ہم بھول گئے۔ اس کے بعد عراق تھا۔ اس کے لیے تو کسی نے نیویارک میں موجود عالمی ضمیر کی علامت اقوام متحدہ سے اجازت لینے کی ضرورت تک محسوس نہ کی۔ امریکا اور اس کے اتحادی اپنی فوجی قوت اور میڈیا کے پراپیگنڈے کے زور پر عراق میں داخل ہوئے۔ کونسا پڑوسی تھا جس نے اس ظلم پر احتجاج کیا۔ سب نے اس عالمی ضمیر کے سامنے سر جھکائے بلکہ سجدہ ہائے تعظیمی کیے۔
 

شام‘ اردن‘ کویت‘ قطر‘ سعودی عرب اور ایران سب کے سب کئی سال عراق کے نہتے اور مظلوم انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتے رہے۔ معاملہ یہاں تک رہتا تو بات سمجھ میں آتی تھی کہ ان کا ضمیر اس عالمی ضمیر نے خرید لیا ہے لیکن پھر ان دونوں ملکوں میں جب ان عالمی غنڈوں نے اپنی مرضی کے آئین تحریر کیے، اپنی نگرانی میں الیکشن کروائے اور اپنی کاسہ لیس حکومتیں قائم کیں تو ان تمام ممالک نے ان دونوں حکومتوں کو نہ صرف جائز تسلیم کیا بلکہ ان کے ہر ظلم پر بدترین خاموشی اختیار کی۔
 

یہ حکومتیں شہروں کے شہر اجاڑتی رہیں، لوگوں کو دہشت گرد، القاعدہ اور باغی کہہ کر قتل کرتی رہیں اور ان کے حکمرانوں کا تمام پڑوسی ملک اپنے ایوانوں میں استقبال کرتے رہے۔ وہ جن کے ہاتھ معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگین تھے، وہ ریاض، تہران، اسلام آباد اور دمشق جیسے شہروں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے۔ اس سب کو میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کامیابی قرار دیا۔ جان پلیجر Jon Plijer کی وہ مشہور ڈاکومنٹری ”war you have not seen” (جنگ جو آپ نے دیکھی نہیں) ایسے تمام چہروں کو بے نقاب کرتی ہے جو اس عالمی ضمیر اور عالمی پراپیگنڈے کے سامنے سربسجود تھے۔
 

مسلمانوں نے اپنے گزشتہ دس سالوں میں اس عالمی ضمیر کو ایک نکتہ سمجھا دیا کہ ہم بے حس ہیں، بے ضمیر ہیں اور تم جس کو بھی دہشت گرد اور انسانیت کے لیے خطرہ تصور کر کے ان کے گھر بار، خاندان اور آبادی سب کو تباہ کر دو، ہم خاموش رہیں گے۔ یہی وہ الفاظ ہیں جو آج اسرائیل اور اس کے حواری بول رہے ہیں۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ریلیاں نکالتے ہیں، پلے کارڈ اٹھاتے ہیں، یوم القدس مناتے ہیں، دنیا بھر کے ہر فرقے کے علماء اس عالمی ضمیر سے فیصلہ کروانے سڑکوں پر نکلتے تھے۔
 

کیا انھوں نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی ’’اے پیغمبر! کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کلام پر بھی ایمان لائے جو تم پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا، لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ اپنا معاملہ فیصلے کے لیے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس کا کھل کر انکار کریں‘‘ (النسا 60)۔ تجزیہ نگار، دانشور، سیاست دان یہاں تک وہ علمائے کرام جنہوں نے اس آیت کو بار بار پڑھا ہوگا، اللہ کے اس حکم کو لوگوں کو سنایا ہو گا وہ بھی اپنا معاملہ اور اپنا فیصلہ طاغوت سے کروانا چاہتے ہیں اور کس قدر بھولے ہیں کہ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا۔
 

کیا یہ سب نہیں جانتے کہ یہ دور فتن ہے۔ کیا ان سب نے احادیث کی کتب میں فتن کے ابواب اور ان میں درج احادیث نہیں دیکھیں۔ لیکن کسقدر بدقسمتی ہے کہ اس امت کے حکمران اور ان کے مسلکی علماء عراق اور شام میں ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے تلواریں نکالتے ہیں، جیش تیار کرتے ہیں، کوئی ایک حکومت کو بچانے کے لیے فتویٰ دیتا ہے تو دوسرا اس کو گرانے کے لیے۔ کسی کو اینٹوں اور سنگ مر مر کے مزارات کے تحفظ کے لیے جان دینی عزیز ہے تو دوسرے کو ان مزارات کو گرا کر اپنے جہاد کا جھنڈا بلند کرنا ہے۔ لیکن کیا ان ستاون اسلامی ممالک میں کسی ایک کے علماء میں یکسوئی نہیں کہ وہ اعلان کریں کہ نہتے فلسطینیوں کے ساتھ مل کر لڑنا فرض عین ہے۔
 

اس امت کی پچاس لاکھ سے زیادہ افواج ہیں، جو کیل کانٹے اور ایٹم بم سے لیس ہیں، کیا یہ ساری طاقت جو انھیں اللہ نے عطا کی ہے وہ قیامت کے دن ان سے حساب نہیں لے گا کہ تم نے اس امت کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات کے لیے صرف کی یا نہیں کی۔ جو جتنے بڑے منصب پر ہو گا اس کی اتنی ہی بڑی جواب دہی ہو گی۔ لیکن سب جانب خاموشی ہے، سکوت ہے، پلے کارڈ ہیں، بینرز ہیں، تبصرے ہیں، شاید یہی وہ زمانہ تھا جس کے بارے میں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ ’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب ان میں پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا دور نہیں ہے۔ لہٰذا ایسا دور جن کو ملے وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہو گا۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کوئی مسلمان ایسا کہہ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! جن پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی (السنن الواردۃ فی الفتن)
 

کیا ستاون اسلامی ممالک میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا ہے کہ جو اسلامی ممالک کو دعوت دے کہ آؤ اپنے فیصلے طاغوت سے نہیں خود کریں، خود اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔ کیا ہمارے تمام مسالک کے علمائے امت سب کو اس ایک نکتے پر جمع کر سکتے ہیں اس کا علاج ریلیاں نہیں جہاد ہے لیکن اس ایک لفظ جہاد کو منہ سے نکالنے پر ہمیں جس قدر شرمندگی ہوتی ہے، شاید اس سے کئی گناہ زیادہ ہمیں روز قیامت شرمندگی ہو گی۔ 

 tags:
oria maqbool jan, ullama e ummat our ghaza kay musalman,
urdu article, israil, america, pakistan, muslim ummah, 
اوریا مقبول جان  
 

30 جولائی، 2014

کس منہ سے کہیں تم سے، تمہیں عید مبارک


 کئی عیدوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ تقریباًہر عید الفطر پر ہمارے اہلِ وطن اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ آج ہم عید منائیں یا اپنے پختون بھائیوں کو منائیں؟خیر یہ قصہ اور یہ قضیہ تو شاید ہمیشہ ہی چلتارہے گا۔ ابھی ابھی کسی نے (ہمارے کان پر) یہ نعرہ بھی مارا ہے کہ ۔۔۔جب تک صوبہ ’خیبر پختون خوا‘ رہے گا تب تک دو،دو چاند رہیں گے۔۔۔ (اور دو،دو عیدیں)۔۔۔ اگر مختلف ’قومیتوں‘ کے مطالبات پرملک میں کچھ زیادہ صوبے بن گئے تو کیا عجب کہ وطن عزیز پاکستان میں۔۔۔ہر روز، روزِ عید ہو، ہر شب، شبِ برات۔
سنتے آئے ہیں کہ عید کی سچی خوشی اُنھی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنھوں نے رمضان بھر روزے رکھے، تراویح کی تمام نمازیں ادا کیں اورنمازِ عید سے پہلے پہلے اپنے اوپر واجب الادا صدقۂ فطر ادا کردیا۔ جو یہ سب کچھ نہ کرے کیا خاک اُس کی عید ہے؟ مسلمانوں کی زندگی کے غم ہوں یا خوشیاں سب کے سب کسی نہ کسی انداز میں’ عبادت‘ سے عبارت ہیں۔سو، رمضان کی عبادات کی کامیابی سے تکمیل کی خوشی منانے کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ فرزندانِ توحید مارے خوشی کے عیدکے دن دو رکعت نماز زیادہ پڑھ آئے، ساتھ زائد چھہ تکبیروں کے۔
 

یہ تو ہوئیں عید کی حقیقی خوشیاں منانے والوں کی باتیں۔ مگر ہمارے یہاں عید کی مصنوعی خوشیاں منانے والے بھی بہت ہیں۔ عید کے دن ایسی بہت سی ’مصنوعات‘ کی آپ کو ہمارے ٹی وی چینلوں پر بھرمار نظر آئے گی۔عیدکے نام پر از سحر تابہ سحر مسلسل نشر ہونے والے اِن مصنوعی پروگراموں میں نہ رمضان کا ذکر آئے گا نہ روزے کا۔ سحری کی بات ہوگی نہ افطاری کی۔ تراویح کا تذکرہ ملے گا نہ جشنِ نزولِ قرآن کا۔ روزے کی مشق سے پیدا ہونے والے صبر اور ضبطِ نفس کی صفات کا جائزہ لیا جائے گا نہ خیراور خیرات میں سبقت لے جانے کا۔ ان سے کون پوچھے کہ تمھاری عید ہے کس بات کی عید؟ رمضان گزر جانے کی عید؟ کہ جس پر’جشن عید‘ مناتے ہوئے ٹھمکے پرٹھمکا لگا لگا کر اِس عزم کا اظہاراوراعلان کیا جائے گا کہ:
ایسی چال میں چلوں کلیجا ہِل جائے گا
کسی کی جان جائے گی، کسی کا دِل جائے گا
 

عید کی سب سے زیادہ خوشیاں مناتے ہوئے اور ناچتے گاتے ہوئے آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے ، جنھیں کچھ رمضان سے سروکار تھا نہ روزے سے۔مگر ناچنے دیجیے اُنھیں۔ کیوں کہ اگر آپ انھیں عید کی خوشی میں ناچنے نہیں دیں گے تو یہ مارے غصے کے اور ناچنے لگیں گے کہ اِس ملک میں ہمیں ناچنے بھی نہیں دیا جاتا وھاٹ اے کنٹری؟ کسی کو ناچنے نہ دینا اُس کی ’ آزادئ اظہار‘ سلب کرلینے کے مترادف ہے۔
’کنٹری‘ کا ذکر آیاتواِس پر ہمیں یاد آیاکہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔’عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے‘۔۔۔مگر ہم نے دوست بھی امریکا جیسے’بے دید‘ پالے ہوئے ہیں۔کہ جس کی دوستی کے طفیل ہمارا ’کنٹری‘ نہ صرف مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں رہتا ہے بلکہ ہماری قوم اور ہماری قوم کے سجیلے جوانوں کو بھی دہشت گردوں کے حملوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن سپوتوں کو اس قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اس لیے پالاتھا کہ وہ اﷲ، اُس کے رسولؐ اور ملکِ خداداد کے دشمنوں پر اﷲ کا قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے، اگر اُن میں جہاد کی جگہ جمود اور سکتہ و سکوت پیدا ہوجائے، وہ اﷲ اور اُس کے رسولؐ کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان بھائیوں پر اﷲکے دشمن یہودیو ں کو ظلم ڈھاتے ہوئے دیکھیں اور نہ صرف ٹکر ٹکر دیکھیں بلکہ اُن کے ’صفِ اول کے اتحادی‘ بھی بن جائیں تو اﷲ اُن کی ہوا اِسی طرح اُکھاڑ دیتا ہے کہ اُن کو اپنی، اپنے دفتروں کی اور اپنی چھاؤنیوں کی بھی حفاظت کی فکرپڑ جائے۔ وہ دوسروں کی جان تو کیا بچائیں گے؟ اپنی جان بچانے کے لیے دیواریں بنائیں گے۔ رُکاوٹیں کھڑی اور سڑکیں بند کریں گے۔سن 2012ء کی وہ عید الفطر یہ قوم کیسے بھول سکتی ہے جب باقی پاکستان کی عید سے فقط دو دِن قبل شمالی وزیرستان میں عید منائی جارہی تھی تو امریکا نے ڈرون حملے کرکے بروزِ عید 12پاکستانی سپاہی شہید کردیے تھے۔یہ تھا ہمارے اتحادی اور ہمارے دوست امریکا کا’تحفۂ عید‘۔امریکی صدر اوباما صاحب ایک طرف تو امریکی عوام کی طرف سے ہمیں اور ہمارے وزیر اعظم کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں، دوسری طرف عید کے دن کے لیے، پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان کے مسلمان شہریوں اور ہمارے نوجوان سپاہیوں کی کم عمر بیواؤں اوراُن کے ننھے منے بچوں کو آہوں، آنسوؤں اور دِل پاش پاش کردینے والے غموں کے تحفے بھی مسلسل مل رہے ہیں۔ہر عید پر ہماری سوگوار قوم اور اِن سانحات سے سوگوار ہوجانے والے خاندانوں پر اقبالؔ کا یہ شعرصادق آتاہے کہ:
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
 

ہماری عیدیں تواب ’شکوہِ ملک و دیں‘ بننے کی بجائے صرف ’ہجومِ مومنیں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ایسے میں ہم قوم کو عید کی مبارک باد کیسے دیں؟
  عید کے دِن نمازِ عید کے جو پُر ہجوم اجتماعات ہوں گے، اُن کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔خطیب حضرات یومِ عید کے فضائل و مناقب گِنوا گِنوا کر اسلام کی شان بیان کریں گے اور بڑے جوش وخروش سے بیان کریں گے۔ اُنھیں اِس ملک میں بس ’بیان‘ کرنے ہی کی اجازت ہے،اسلام کی شان بیان کرنے کی۔اسلام کی شان دکھانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ پھر بھی:
ملا کو جو ہے ’عید کے‘ سجدے کی اجازت
’لیڈر‘ یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزاد
 

اسلام تو اسلام، ہمیں تویہ آزادی بھی نصیب نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اپنی زبان میں تعلیم دے سکیں۔اپنی قومی زبان کواپنے ملک کی سرکاری زبان بنا سکیں یا کم ازکم اس کی عملی کوشش ہی کرسکیں۔یاصدیوں سے اپنے دین کی تعلیم و تعلم میں مصروف دینی مدارس کو امریکا کے قرار دینے پر ’دہشت گردی‘ کے مراکز مان کر اُن پرنفرین بھیجنے کی بجائے دُنیا سے اُن کا تقدس اور اُن کی اہمیت تسلیم کرواسکیں ۔ یہ مثالی تعلیمی ادارے ملک کے مفلوک الحال بچوں میں نہ صرف خیر کثیر عطا کرنے والے علم کی دولت مفت تقسیم کرتے ہیں، بلکہ اُنھیں مفت رہائش اور مفت خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران ایسا کریں تو کیسے کریں؟یہ حکام نہیں ’محکوم‘ ہیں، اور محکوم بھی طاغوت کے۔ اُنھیں اِن کاموں کی آزادی نصیب نہیں۔غنیمت ہے کہ اِس قدر محکوم قوم کو ابھی تک پُر ہجوم نمازِ عید ادا کرنے کی آزادی میسر ہے۔ مگر اقبالؔ ؒ نے کچھ غلط تو نہیں کہاتھا کہ:
عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
 

عید کے موقع پر۔۔۔ہرسال آپ پڑھتے ہی ہیں کہ۔۔۔ ہماری قوم کے (محکوم) حکمران بھی (اپنے ہی) دانت نکال نکال کر امریکی صدر کی طرح خود بھی قوم کو عیدکی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور خود بھی عید کی مبارک باد کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پرقوم کو کمرتوڑ مہنگائی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ بے پناہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور اِس کے نتیجہ میں ٹھپ ہوجانے والے صنعتی اداروں کے مزدوروں کو بے روزگاری کا ’تحفۂ عید‘ پیش کرتے ہیں۔ پھر ان تحفوں پر مستزاد بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا ’تحفۂ عیدبھی پیش کردیا جاتاہے۔ جب کہ اِن’ تحفوں‘ پر بندھے ہوئے ربن کے طورپر منہ زبانی ’عیدمبارک‘ کا ’تحفۂ عید‘ قوم کوپہلے ہی موصول ہو چکا ہوتا ہے۔اے صاحبو! کس منہ سے کہیں تم سے، تمھیں عید مبارک! 

ابو نثر