ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

‏اردو زبان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اردو زبان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

16 ستمبر، 2015

اردو کے مخالفین کا المیہ----از--اوریا مقبول جان

 سپریم کورٹ کے اردو کے نفاذ کے فیصلے کے بعد اس مملکتِ خداداد پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام پر صرف اور صرف انگریزی زبان کی وجہ سے حکمرانی کرنے والے چند ہزار افراد کی منطقیں اور لن ترانیاں دیکھنے والی ہیں۔ ان میں سب سے سرخیل وہ گروہ ہے جسے بیوروکریسی کہا جاتا ہے اور جس گروہ کے درمیان میں نے تیس سال سے بھی زیادہ عرصہ گزارا ہے۔
 دوسرا گروہ ان چند ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا ہے جنھیں اردو سے اس لیے بغض ہے کہ یہ واحد کڑی ہے جو پاکستان کے عوام کو گوادر سے لے کر گلگت تک ایک لڑی میں پروتی ہے۔ میری زندگی کے گزشتہ چالیس سال ان کے درمیان بھی گزرے ہیں۔
تیسرا گروہ ہے جسے ہمارے شہروں میں کاروباری تعلیمی اداروں نے جنم دیا ہے۔ گزشتہ تیس سالوں سے انگلش میڈیم کا ایک خمار اس ملک کے کاروباری طبقہ کے دماغ میں پیدا ہوا اور انھوں نے گلی گلی اسکول کھول کر سرمایہ کمانے کی مشینیں لگا دیں۔ ان سے ایک ایسی نسل نے جنم لیا جسے نہ تو ڈھنگ کی انگریزی آئی اور نہ ہی وہ اردو سے شناسا ہو سکے۔ سارا دن گھروں، بازاروں، محلوں اور علاقوں میں اردو بولتے اور چند گھنٹے سب مضامین انگریزی میں پڑھتے۔ میں نے پڑھنے کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ پاکستان میں تمام ایسے ادارے جن کا انگریزی ذریعہ تعلیم بتایا جاتا ہے، وہاں بات سمجھانے، کسی مضمون کی اصل کو تفصیل سے بتانے کے لیے اردو بلکہ بعض دفعہ علاقائی زبان استعمال کی جاتی ہے۔
 یہ تمام طلبہ اساتذہ سے مضمون اردو میں پڑھتے ہیں لیکن امتحان انگریزی میں دینے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ فریب خوردہ شاہین ہیں جنھیں زبردستی اس راستے پر ڈالا گیا اور آج وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر کہیں اردو اس ملک میں رائج ہو گئی تو وہ کہیں کے نہیں رہیں گے۔ ایسے طلبہ کی تعداد چند لاکھ سے بھی کم ہے۔

 لارڈ کارنیوالس کی 1773ء میں جنم لینے والی بیوروکریسی کا المیہ یہ ہے کہ وہ اور ان کے “اسلاف” نے اس زبان کو اس لیے اختیار کیا تھا کہ یہ ان کے حاکموں کی زبان تھی اور اس کے ذریعے وہ حکمرانوں کے منظورِ نظر بھی بنتے تھے اور ساتھ ساتھ عوام سے الگ تھلگ بھی نظر آتے تھے۔ ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان پر کون مسلط ہے۔ جو مسلط ہے وہی ان کا آقا ہے، اسی کی زبان یہ بولتے ہیں، اسی کا ملبوس زیب تن کرتے ہیں اور اسی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ انگریز سے پہلے فارسی دربار کی زبان تھی تو یہ طبقہ فارسی بولتا، اسی تہذیب کو اوڑھنا بچھونا بنانا اپنا فخر سمجھتا تھا۔ کون تھا جس نے اپنی زبان میں فرامین جاری کیے ہوں۔ ان شاہ پرست اور غلام صفت لوگوں کو راہِ راست پر لانا کوئی مسئلہ نہیں۔ ضیاء الحق کے لیے نماز کی پابندی کرنے، اور مشرف کے لیے عیش و عشرت کی محفلیں سجانے والے یہ بیوروکریٹ صرف ایک حکم نامے کے محتاج ہیں۔ آپ نے حکم جاری کیا تو ان میزوں پر آج کل جو انگریزی ڈکشنریاں اور تھیزیرس رکھے ہوتے ہیں، حکم نامے کے ساتھ ہی ان کی جگہ اردو لغت آ جائےگی۔

 اپنے کمال تجربے کے باوجود یہ انگریزی بھی بدترین حد تک بری لکھتے ہیں جس کا ہر انگریزی جاننے والا مذاق اڑاتا ہے اور اردو بھی کوئی اتنی اچھی نہیں لکھیں گے لیکن کم از کم اردو میں لکھنے سے ان کے حکم نامے اس زبان میں ضرور آ جائیں گے جسے عام آدمی پڑھ کر سمجھ سکے۔ ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ انھوں نے ایک منافقانہ طرز کا دفتری نظام چلایا ہے۔ وزیر ِاعظم سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر تک تمام گفتگو، میٹنگ، بریفنگ وغیرہ اردو میں ہوتی ہے۔ سائل سے اردو یا اس کی علاقائی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ لیکن منافقت دیکھیں کہ میٹنگ کے “منٹس” یعنی کارروائی انگریزی ہی میں لکھتے ہیں۔ اور سائل کو فیصلہ انگریزی میں تھماتے ہیں۔

 اسی بیوروکریسی کے ہم پلہ ہمارا عدالتی نظام ہے۔ تمام کارروائی سپریم کورٹ سے لے کر سول جج تک اردو یا علاقائی زبان میں ہو رہی ہوتی ہے۔ لیکن مسل پر بیان تک انگریزی میں ترجمہ کر کے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ فیصلے انگریزی میں تحریر ہوتے ہیں، PLD انگریزی میں مرتب ہوتا ہے۔ وکیل بحث اردو ہی میں کرتا ہے اور حوالہ انگریزی میں پیش کرتا ہے کیونکہ منافقانہ طرزِعمل یہ ہے کہ ہم اس زبان میں فیصلے تحریر نہیں کرتے جو عدالت میں بولی جا رہی ہوتی ہے۔

 شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی لن ترانیاں عجیب ہیں۔ یہ اردو کہاں سے آ گئی، یہ تو صرف چند لوگوں یعنی 9 فیصد لوگوں کی مادری زبان ہے۔ علاقائی زبانوں اور مادری زبانوں میں تعلیم ہونی چاہیے۔ لیکن آپ ان لوگوں کا اپنا طرزِ عمل دیکھیں۔ پیدا ملتان میں ہوتے ہیں، مادری زبان سرائیکی، کالم اردو میں لکھتے ہیں، بلکہ پروگرام بھی اردو میں کرتے ہیں۔ پیدا پشاور میں ہوئے ہیں مادری زبان پشتو، لیکن اردو کے لازوال شاعر، پیدا تربت میں ہوئے، مادری زبان بلوچی، اردو کے قابلِ فخر شاعر۔ پنجاب کے تو ہر قصبے اور قریے میں یہ ہی معمول ہے کہ کوئی مادری زبان میں لکھنا پسند ہی نہیں کرتا۔ فیض احمد فیضؔ سے مجید امجد اور سعادت حسن منٹو سے راجندر سنگھ بیدی تک، سندھ سے تلوک چند محروم، بلوچستان سے گوپی چند نارنگ، عطا شاد، سرحد سے احمد فراز۔ ان سے کہو پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی میں کیوں نہیں لکھتے، تو بڑے وثوق سے کہیں گے کہ علاقائی زبان کے سننے اور پڑھنے والے کم ہیں۔ بڑے بڑے شعرا اور ادیبوں کی اکثریت سے میں ملا ہوں، جن میں فیض احمد فیض سے احمد فراز تک اور منیر نیازی سے عطا شاد تک شامل ہیں، سب یہی کہتے ہیں کہ لکھنے بیٹھتے ہیں تو طبیعت اردو میں ہی رواں ہوتی ہے۔

 دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ انگریزی کی وکالت میں قلم توڑ دیتے ہیں لیکن اس انگریزی کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ دو انگریزی چینل چلانے کی جسارت کی گئی مگر عدم مقبولیت کی وجہ سے بند کرنا پڑے۔ ان سارے علاقائی زبانوں کے حامیوں اور اس کا نعرہ بلند کرنے والوں سے کہو کہ تم نے آج تک اپنی زبان میں کیا لکھا، کتنے پروگرام کیے، کتنی کتابیں لکھیں تو ان کا منہ لٹک جاتا ہے۔ لیکن ہر کسی نے اردو میں کتاب، کالم، مضمون لکھا بھی ہوتا ہے اور بار بار تقریر بھی کی ہوتی ہے اور ٹاک شو میں علم کے جوہر بھی دکھائے ہوتے ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ کسی ایسی زبان کو پاکستان میں رائج ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے جس سے اس ملک میں یک جہتی کی فضا نظر آئے، جو پاکستان کو بحثیت قوم زندہ کر سکے۔ رہا نظامِ تعلیم کا مسئلہ تو یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور تاریخ نے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے کہ دنیا میں ایک قوم بھی ایسی نہیں جس نے کسی دوسرے کی زبان میں علم حاصل کیا ہو اور ترقی کی ہو۔ ناروے، سویڈن، ڈنمارک، فن لینڈ اور آئس لینڈ جیسے ملک جن کی آبادیاں چند لاکھ لوگوں پر مشتمل ہیں وہ بھی انگریزی نہیں بلکہ قومی زبان میں تعلیم دلواتے ہیں بلکہ پی ایچ ڈی تک اسی زبان میں کرواتے ہیں۔ چین، جرمنی، جاپان کی تو مثال ہی اور ہے کہ ان کی آبادی بہت بڑی ہے۔

 یہ انگریزی میڈیم ہمارے ہاں چند دہائیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی اس مقصد کے لیے نافذ کیا گیا کہ ایک ایسی نسل پیدا کی جائے جو بچپن ہی سے ایسے خواب دیکھے جیسے یورپ کا بچہ دیکھتا ہے۔ اس کے ذہن میں ہیر، سسی اور سوہنی کی جگہ سنڈریلا آباد ہو، تا کہ وہ اگر ایک دن یہاں سے پڑھ لکھ جائے تو خدمت کرنے کے لیے یورپ کا انتخاب کرے اور وہ مغرب کے کسی بھی ملک میں جائے تو وہ اسے اجنبی محسوس نہ ہو۔ یہ کسی بھی ملک کی معیشت کے ساتھ بڑا ظلم ہوتا ہے۔ ایسے طلبہ کی تعداد چند لاکھ سے بھی کم ہے۔

 سپریم کورٹ پاکستان کے فیصلے کے ساتھ ایک تازہ فیصلہ الہٰ آباد ہائی کورٹ بھارت کا بھی پڑھ لینا چاہیے۔ الہٰ باد ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ تمام سرکاری ملازم اور سیاسی رہنما اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں پڑھائیں۔ جس دن وزیر اعظم، وزیرِ اعلیٰ، چیف سیکریٹری، آئی جی، کور کمانڈر اور سیکریٹری تعلیم کے بچے، پوتے، پوتیاں، نواسے نواسیاں، سرکاری اسکولوں میں داخل ہو گئے ان اسکولوں کا معیار پاکستان کے کسی بھی انگلش میڈیم سے بلند ہو جائے گا۔ رہا بیوروکریسی کا معاملہ تو آج سول سروس کا امتحان اردو میں لینے کا فیصلہ ہو جائے، دس دن کے اندر اس کی تمام کتابیں اردو زبان میں مارکیٹ میں آ جائیں گی۔ ہر بڑے خاندان کا بچہ کسی ایسے اسکول میں داخل ہونے کے لیے تڑپے گا جہاں اردو ذریعہ تعلیم ہو کیونکہ اس نے اردو میں امتحان دے کر آفیسر بننا ہو گا۔ رہا شاعروں، دانشوروں، ادیبوں اور تجزیہ نگاروں کا مسئلہ تو وہ پنجابی، سرائیکی، سندھی، بلوچی، پشتو کے حق میں اردو میں گفتگو کرتے رہیں گے، اردو میں کالم بھی لکھیں گے، شاعری، افسانہ نگاری بھی کریں گے، ٹی وی میں اینکری بھی اردو میں کریں گے اور اپنی مادری زبان کے لیے آنسو بھی بہاتے رہیں گے۔


27 مارچ، 2015

آل پاکستان نفاذِ اُردو کانفرنس

  مسلمانوں کے برصغیر میں آنے سے قبل پورا خطہ صدیوں سے چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں کا ایک مجموعہ تھا جس پر مختلف راجے حکومت کیا کرتے تھے۔ پٹنہ کے قریب پاٹلی پتر میں موریہ خاندان کی حکومت کی مختصر تاریخ ہے جس میں اِردگرد کی ریاستوں کو فتح کر کے ایک مرکزیت قائم کرنے کا پتہ ملتا ہے۔
پورے جزیرہ نماء ہند پر اسی موریہ خاندان کے اشوک نے کسی حد تک ایک مرکزی حکومت قائم کی۔ یہ مرکزیت بھی کلنگہ کی جنگ کے بعد وجود میں آئی جس میں اس نے دس لاکھ لوگوں کو قتل کیا اور تخت پر قابض ہونے کے لیے اپنے نوے کے قریب بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس تمام ظلم کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، مہینوں چین سے نہ سویا، ہندو مت ترک کیا ، بدھ ہو گیا اور مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی ایک منصف معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔
اپنی تمام افواج کو ختم کر دیا۔ شہروں میں مہا میر مقرر کیے، جو انسان ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ زیادتی پر بھی سزائیں دیتے۔ دیکھتے دیکھتے پورا ہندوستان بغیر کسی جنگ لڑے اس کا مطیع ہو گیا۔لیکن وہ کئی لاکھ فوجی جنھیں اس نے بے روزگار کر دیا تھا، ایک دن اس کی قائم کردہ موریہ سلطنت کے خاتمے کا باعث بن گئے۔
اس کے بعد ہندوستان پھر ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد متھرا میں گپتا خاندان کی شمالی ہندوستان میں تھوڑی سی مرکزیت نظر آتی ہے۔پورا ہندوستان نہ اپنی زبان کی وجہ سے ایک تھا اور نہ ہی رسم و رواج کے ناتے۔ البتہ ایک چیز تھی، ہندومت جس نے ان تمام ریاستوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھا۔ امرناتھ یاترا کشمیر میں ہے تو گنگا کا مقدس مقام بنارس میں۔ شیو کے آنسو کٹاس اور پوشکر میں گرتے ہیں تو مہا شیو راتری انھی جگہوں پر منائی جاتی ہے۔
اجنتا اورایلورا کے غار جنوب میں ہیں تو برہما کا سب سے بڑا مندر سومنات کے نزدیک ہے۔ غرض ہندومت کی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کا ایک جال پورے ہندوستان میں بچھا ہوا ہے،جس کی وجہ سے صدیوں ہندوستان ایک اکائی رہا۔ سنسکرت مقدس مذہبی زبان تھی اور اس میں علم کا ایک خزانہ بھی موجود تھا۔ مسلمانوں نے جب دنیا بھر کے علوم کے تراجم شروع کیے تو سب سے پہلے ہند سے کتابیں لا کر ترجمہ کی گئیں۔
لیکن بنگال، دکن، بہار، اڑیسہ،پنجاب، کشمیر اور دیگر علاقوں کے لوگ جب آپس میں ملتے، خواہ وہ تجارت کی غرض سے یا پھر ہردوار اور کنبھ کے مقدس میلوں پر تو آہستہ آہستہ ان کے درمیان ایک زبان نے جنم لینا شروع کر دیا۔ بڑے بڑے پنڈتوں اور علم کی دنیا پر قابض برہمنوں نے اسے سنسکرت کی بگڑی ہوئی شکل کہنا شروع کیا۔لیکن عام آدمی کیا کرتا۔ اس نے تو تجارت کرنا تھی، میل ملاپ رکھنا تھا۔ اس نے شاستر تھوڑا پڑھنے تھے کہ خالص سنسکرت جانتا۔
اس نے خود ہی ایک زبان ایجاد کر لی جو شروع شروع میں پراکرت کہلاتی رہی۔ مسلمان فاتحین آئے تو برصغیر کے ایک وسیع حصے میں مرکزیت آگئی۔ دہلی سلطنت کا صدر مقام بن گیا اور بادشاہوں کی وجہ سے فارسی دفتر اور عدالت کی زبان ہوگئی۔ التمش نے جب آج سے آٹھ سو سال قبل قاضی عدالتیں قائم کیں تو قوانین کی عربی کتاب کا ترجمہ فارسی میں کیا۔
غوری،خلجی، لودھی خاندانوں سے شیر شاہ سوری اور پھر مغلیہ خاندان کے چکا چوند کر دینے والے دورِ حکومت تک دفاتر اور عدالتوں کی زبان فارسی رہی، یہاں تک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پچاس سالہ دور میں بھی دفتری اور عدالتیِ زبان فارسی ہی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمان حکمرانوں نے برصغیر کے ہر گاؤں میں اتالیق مقرر کر رکھے تھے، جو ہر بچے کو فارسی اور حساب پڑھاتے اور مسلمان کو قرآن اور ہندو کو وید کی تعلیم دیتے۔
یوں برصغیر میں انگریز کی آمد تک شرحِ خواندگی نوے فیصد تک تھا۔ مگر اس فارسی کے پہلو بہ پہلو وہ زبان جو کئی سو سال پہلے پراکرتوں کی صورت میں رابطہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی پوری قوت سے پروان چڑھتی گئی۔مسلمانوں کی حکومت کی وجہ سے اس زبان میں عربی، فارسی اور ترکی کے بیش بہا الفاظ شامل ہوگئے۔
وہ تمام اصناف جو ہندوستان کے لیے اجنبی تھیں، یہاں لکھی جانے لگیں، جیسے غزل، نظم، رباعی، مثنوی، مرثیہ، داستان، ناول اور افسانہ۔ غرض ایک ہزار سال پہلے امیر خسرو نے جس زبان میں گیت لکھے تھے اس لیے کہ وہی دراصل اس پورے خطے میں بولی اور سمجھی جاتی ، یہ اُردو اب ایک ایسی زبان بن کر ابھر چکی تھی جس کا دامن میر تقی میر سے لے کر غالب تک جیسے شعراء میر امن اور رجب علی بیگ سرور جیسے نثرنگار، انیس، دبیر جیسے مرثیہ نویس اور دیگر اصناف میں لکھنے والوں سے مالا مال تھا۔ فارسی دفتری زبان تھی۔ لیکن محبت کرنے ، گیت گانے اور کہانی سنانے کی زبان اُردو ہو گئی۔
یہی وجہ ہے کہ جب انگریز برصغیر پر حکمران ہوا تو اس نے دفتری زبان تو انگریزی کر دی لیکن ہر دفتر میں ورنیکلر کے نام پر ایک شعبہ کھولا جس میں اُردو میں دفتری کام کیا جاتا تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کہ جنہوں نے توبۃ النصوح، مراۃ العروس اور بنات النعش جیسے ناول تحریر کیے تھے، انھیں بلایا گیا اور ان سے تمام انگریزی قوانین کا ترجمہ کروایا گیا۔
یوں ضابطہ فوجداری، ضابطۂ دیوانی اور تعزیرات ہند عام آدمی کی سہولت کے لیے وجود میں آگئے۔ عرضی نویسوں، وثیقہ نویسوں اور اہلمدوں کی ایک کھیپ تھی جو اُردو میں عدالتی کام سرانجام دیتی تاکہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ لیکن سرکاری ملازمتیں انگریزی بولنے والوں تک محدود کر دی گئیں۔ انگریز نے مسلمانوں کا اتالیق کا سسٹم ختم کر دیا۔ چند سرکاری اسکول کھولے گئے۔ یوں برصغیر میں شرح خواندگی نوے فیصد سے گر کر پندرہ فیصد تک آگئی۔
تعلیم کے اس دوغلے نظام نے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو انگریزی میں تعلیم یافتہ تھا۔ اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھتا تھا اور وہی اسی کی تہذیبی اساس تھی۔ سول سروس، فوجی اور نواب، خان وڈیرے جنھیں انگریز اپنی سرپرستی میں قائم کالجوں میں تعلیم دلواتا، اس طبقے میں شامل تھے۔ یہ مٹھی بھر لوگ اس برصغیر کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے اور انھوں نے یہ تصور مضبوط کر دیا کہ ترقی صرف اور صرف انگریزی زبان میں علم حاصل کرنے سے ہو سکتی ہے۔
یہ انسانی تاریخ کے پانچ ہزار سالہ تجربے کے برعکس تصور تھا۔ انسان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جس نے کسی دوسرے کی زبان میں علم حاصل کرکے ترقی کی ہو۔ انگریزی دونوں ملکوں کے آزاد ہونے کے بعد بھی دفتری اور قانونی زبان کے ساتھ ساتھ ذریعہ تعلیم بھی بنا دی گئی۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے اقتدار پر وہ لوگ قابض ہوگئے تھے جنھیں انگریز اقتدار اور انگریز تہذیب کی لوریاں دے کر پالا گیا تھا۔
دونوں ملکوں میں انگریزی کو تہذیب وترقی کی علامت بتایا گیا اور اُردو سرکاری اور نجی سرپرستی، دونوں سے محروم ہوگئی۔لیکن اس زبان نے جو لوگوں کے درمیان واحد رابطے اور تعلق کا ذریعہ تھا وہ کمال دکھایا کہ دونوں کا تمام میڈیا اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا۔ پاکستان میں تو دو انگریزی چینل چلے لیکن بری طرح ناکام ہوگئے۔فلم، ریڈیو، اخبار سب جگہ جہاں گفتگو ذریعہ اظہار تھی اُردو پروان چڑھتی رہی۔ چاہے امیتابھ بچن اس میں لاکھ سنسکرت کے الفاظ ڈال کر ہندی بنائے کوئی دوسرا ایسی ہندی بولنے کو تیار نہیں ہوتا۔
لیکن اقتدار پر قابض انگریز صفت مرعوب کالوں نے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے سے دونوں ملکوں کو جہالت کے اندھیروں میں غرق کر دیا۔بھارت میں ہر سال22کروڑ بچے پاٹھ شالا یعنی اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں اور صرف چالیس لاکھ گریجویٹ بنتے ہیں۔ آج ساٹھ سال بعد بھارت کے تعلیمی نظام کے سربراہ سوچ رہے ہیں، کہ اگر انگریزی ان پر تھوپی نہ جاتی تو پورا بھارت خواندہ ہوتا۔
عدالتی نظام میں انگریزی کی وجہ سے ایک کروڑ مقدمات زیر التوا ہیں اس لیے کہ عام آدمی وکیل کے بغیر عدالت تک رسائی ہی نہیں رکھ پاتا ہمارا حال بھارت سے بھی بدتر ہے۔دنیا میں پاکستان کے علاوہ تین اور ملک ایسے ہیں جو انگریزی کے جال میں پھنسے اور آج پچھتاتے ہوئے واپس قومی زبانوں کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ اس لیے کہ انھیں احساس ہو گیا ہے کہ ان کی پوری قوم بحیثیت مجموعی تخلیقی صلاحیت سے محروم ہو کر نقالچی بن گئی ہے۔
ایک سنگاپور، دوسرا بھارت اور تیسرا سری لنکا۔ ہم وہ چوتھا ملک ہیں جو اس جہالت کے راستے پر رواں دواں ہے۔ ہم وہ بدنصیب ہیں جن کا آئین ہمیں قومی زبان میں تعلیم دینے کا پابند کرتا ہے، لیکن ہم پر مسلط سول سروس اور اشرافیہ کا انگریزی دان طبقہ یہ ہونے نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں 28مارچ صبح دس بجے آرٹس کونسل راولپنڈی میں آل پاکستان نفاذ اُردو کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اللہ ہمیں جہالت کے اندھیروں سے بچنے اور اس قوم کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔



اوریا مقبول جان

30 جولائی، 2014

کس منہ سے کہیں تم سے، تمہیں عید مبارک


 کئی عیدوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ تقریباًہر عید الفطر پر ہمارے اہلِ وطن اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ آج ہم عید منائیں یا اپنے پختون بھائیوں کو منائیں؟خیر یہ قصہ اور یہ قضیہ تو شاید ہمیشہ ہی چلتارہے گا۔ ابھی ابھی کسی نے (ہمارے کان پر) یہ نعرہ بھی مارا ہے کہ ۔۔۔جب تک صوبہ ’خیبر پختون خوا‘ رہے گا تب تک دو،دو چاند رہیں گے۔۔۔ (اور دو،دو عیدیں)۔۔۔ اگر مختلف ’قومیتوں‘ کے مطالبات پرملک میں کچھ زیادہ صوبے بن گئے تو کیا عجب کہ وطن عزیز پاکستان میں۔۔۔ہر روز، روزِ عید ہو، ہر شب، شبِ برات۔
سنتے آئے ہیں کہ عید کی سچی خوشی اُنھی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنھوں نے رمضان بھر روزے رکھے، تراویح کی تمام نمازیں ادا کیں اورنمازِ عید سے پہلے پہلے اپنے اوپر واجب الادا صدقۂ فطر ادا کردیا۔ جو یہ سب کچھ نہ کرے کیا خاک اُس کی عید ہے؟ مسلمانوں کی زندگی کے غم ہوں یا خوشیاں سب کے سب کسی نہ کسی انداز میں’ عبادت‘ سے عبارت ہیں۔سو، رمضان کی عبادات کی کامیابی سے تکمیل کی خوشی منانے کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ فرزندانِ توحید مارے خوشی کے عیدکے دن دو رکعت نماز زیادہ پڑھ آئے، ساتھ زائد چھہ تکبیروں کے۔
 

یہ تو ہوئیں عید کی حقیقی خوشیاں منانے والوں کی باتیں۔ مگر ہمارے یہاں عید کی مصنوعی خوشیاں منانے والے بھی بہت ہیں۔ عید کے دن ایسی بہت سی ’مصنوعات‘ کی آپ کو ہمارے ٹی وی چینلوں پر بھرمار نظر آئے گی۔عیدکے نام پر از سحر تابہ سحر مسلسل نشر ہونے والے اِن مصنوعی پروگراموں میں نہ رمضان کا ذکر آئے گا نہ روزے کا۔ سحری کی بات ہوگی نہ افطاری کی۔ تراویح کا تذکرہ ملے گا نہ جشنِ نزولِ قرآن کا۔ روزے کی مشق سے پیدا ہونے والے صبر اور ضبطِ نفس کی صفات کا جائزہ لیا جائے گا نہ خیراور خیرات میں سبقت لے جانے کا۔ ان سے کون پوچھے کہ تمھاری عید ہے کس بات کی عید؟ رمضان گزر جانے کی عید؟ کہ جس پر’جشن عید‘ مناتے ہوئے ٹھمکے پرٹھمکا لگا لگا کر اِس عزم کا اظہاراوراعلان کیا جائے گا کہ:
ایسی چال میں چلوں کلیجا ہِل جائے گا
کسی کی جان جائے گی، کسی کا دِل جائے گا
 

عید کی سب سے زیادہ خوشیاں مناتے ہوئے اور ناچتے گاتے ہوئے آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے ، جنھیں کچھ رمضان سے سروکار تھا نہ روزے سے۔مگر ناچنے دیجیے اُنھیں۔ کیوں کہ اگر آپ انھیں عید کی خوشی میں ناچنے نہیں دیں گے تو یہ مارے غصے کے اور ناچنے لگیں گے کہ اِس ملک میں ہمیں ناچنے بھی نہیں دیا جاتا وھاٹ اے کنٹری؟ کسی کو ناچنے نہ دینا اُس کی ’ آزادئ اظہار‘ سلب کرلینے کے مترادف ہے۔
’کنٹری‘ کا ذکر آیاتواِس پر ہمیں یاد آیاکہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔’عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے‘۔۔۔مگر ہم نے دوست بھی امریکا جیسے’بے دید‘ پالے ہوئے ہیں۔کہ جس کی دوستی کے طفیل ہمارا ’کنٹری‘ نہ صرف مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں رہتا ہے بلکہ ہماری قوم اور ہماری قوم کے سجیلے جوانوں کو بھی دہشت گردوں کے حملوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن سپوتوں کو اس قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اس لیے پالاتھا کہ وہ اﷲ، اُس کے رسولؐ اور ملکِ خداداد کے دشمنوں پر اﷲ کا قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے، اگر اُن میں جہاد کی جگہ جمود اور سکتہ و سکوت پیدا ہوجائے، وہ اﷲ اور اُس کے رسولؐ کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان بھائیوں پر اﷲکے دشمن یہودیو ں کو ظلم ڈھاتے ہوئے دیکھیں اور نہ صرف ٹکر ٹکر دیکھیں بلکہ اُن کے ’صفِ اول کے اتحادی‘ بھی بن جائیں تو اﷲ اُن کی ہوا اِسی طرح اُکھاڑ دیتا ہے کہ اُن کو اپنی، اپنے دفتروں کی اور اپنی چھاؤنیوں کی بھی حفاظت کی فکرپڑ جائے۔ وہ دوسروں کی جان تو کیا بچائیں گے؟ اپنی جان بچانے کے لیے دیواریں بنائیں گے۔ رُکاوٹیں کھڑی اور سڑکیں بند کریں گے۔سن 2012ء کی وہ عید الفطر یہ قوم کیسے بھول سکتی ہے جب باقی پاکستان کی عید سے فقط دو دِن قبل شمالی وزیرستان میں عید منائی جارہی تھی تو امریکا نے ڈرون حملے کرکے بروزِ عید 12پاکستانی سپاہی شہید کردیے تھے۔یہ تھا ہمارے اتحادی اور ہمارے دوست امریکا کا’تحفۂ عید‘۔امریکی صدر اوباما صاحب ایک طرف تو امریکی عوام کی طرف سے ہمیں اور ہمارے وزیر اعظم کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں، دوسری طرف عید کے دن کے لیے، پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان کے مسلمان شہریوں اور ہمارے نوجوان سپاہیوں کی کم عمر بیواؤں اوراُن کے ننھے منے بچوں کو آہوں، آنسوؤں اور دِل پاش پاش کردینے والے غموں کے تحفے بھی مسلسل مل رہے ہیں۔ہر عید پر ہماری سوگوار قوم اور اِن سانحات سے سوگوار ہوجانے والے خاندانوں پر اقبالؔ کا یہ شعرصادق آتاہے کہ:
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
 

ہماری عیدیں تواب ’شکوہِ ملک و دیں‘ بننے کی بجائے صرف ’ہجومِ مومنیں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ایسے میں ہم قوم کو عید کی مبارک باد کیسے دیں؟
  عید کے دِن نمازِ عید کے جو پُر ہجوم اجتماعات ہوں گے، اُن کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔خطیب حضرات یومِ عید کے فضائل و مناقب گِنوا گِنوا کر اسلام کی شان بیان کریں گے اور بڑے جوش وخروش سے بیان کریں گے۔ اُنھیں اِس ملک میں بس ’بیان‘ کرنے ہی کی اجازت ہے،اسلام کی شان بیان کرنے کی۔اسلام کی شان دکھانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ پھر بھی:
ملا کو جو ہے ’عید کے‘ سجدے کی اجازت
’لیڈر‘ یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزاد
 

اسلام تو اسلام، ہمیں تویہ آزادی بھی نصیب نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اپنی زبان میں تعلیم دے سکیں۔اپنی قومی زبان کواپنے ملک کی سرکاری زبان بنا سکیں یا کم ازکم اس کی عملی کوشش ہی کرسکیں۔یاصدیوں سے اپنے دین کی تعلیم و تعلم میں مصروف دینی مدارس کو امریکا کے قرار دینے پر ’دہشت گردی‘ کے مراکز مان کر اُن پرنفرین بھیجنے کی بجائے دُنیا سے اُن کا تقدس اور اُن کی اہمیت تسلیم کرواسکیں ۔ یہ مثالی تعلیمی ادارے ملک کے مفلوک الحال بچوں میں نہ صرف خیر کثیر عطا کرنے والے علم کی دولت مفت تقسیم کرتے ہیں، بلکہ اُنھیں مفت رہائش اور مفت خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران ایسا کریں تو کیسے کریں؟یہ حکام نہیں ’محکوم‘ ہیں، اور محکوم بھی طاغوت کے۔ اُنھیں اِن کاموں کی آزادی نصیب نہیں۔غنیمت ہے کہ اِس قدر محکوم قوم کو ابھی تک پُر ہجوم نمازِ عید ادا کرنے کی آزادی میسر ہے۔ مگر اقبالؔ ؒ نے کچھ غلط تو نہیں کہاتھا کہ:
عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
 

عید کے موقع پر۔۔۔ہرسال آپ پڑھتے ہی ہیں کہ۔۔۔ ہماری قوم کے (محکوم) حکمران بھی (اپنے ہی) دانت نکال نکال کر امریکی صدر کی طرح خود بھی قوم کو عیدکی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور خود بھی عید کی مبارک باد کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پرقوم کو کمرتوڑ مہنگائی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ بے پناہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور اِس کے نتیجہ میں ٹھپ ہوجانے والے صنعتی اداروں کے مزدوروں کو بے روزگاری کا ’تحفۂ عید‘ پیش کرتے ہیں۔ پھر ان تحفوں پر مستزاد بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا ’تحفۂ عیدبھی پیش کردیا جاتاہے۔ جب کہ اِن’ تحفوں‘ پر بندھے ہوئے ربن کے طورپر منہ زبانی ’عیدمبارک‘ کا ’تحفۂ عید‘ قوم کوپہلے ہی موصول ہو چکا ہوتا ہے۔اے صاحبو! کس منہ سے کہیں تم سے، تمھیں عید مبارک! 

ابو نثر  

3 مارچ، 2014

’بے زبانی ہے زباں میری‘

قومی اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کی گئی ہے کہ قومی زبان اُردو کانفاذ آئندہ 15سال کے لیے مزید مؤخرکر دیا جائے۔ یہ قرارداد      ماروی میمن نے پیش کی ہے اور اس پر متعدد اراکین قومی اسمبلی کے دستخط ہیں۔23؍مارچ2014ء کو ہمارے موجودہ آئین کے نفاذ کو36 برس ہو جائیں گے۔مزید 15برس بعد اس آئین کی عمر51برس ہو جائے گی۔دستور 1973ء کی دفعہ251 کی شِق (1) میں کہا گیا ہے کہ: ’’پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اور یومِ آغاز کے پندرہ برس کے اندر اندر (یعنی 14؍ اگست 1988ء تک) اِس کو سرکاری اور دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کر لیے جائیں گے‘‘۔ دفعہ 251 کی شق (2) میں کہا گیا ہے کہ:’’شق (1) کے مطابق انگریزی زبان اُس وقت تک سرکاری اغراض ومقاصد کے لیے استعمال کی جاسکے گی جب تک کہ اس کے اُردو سے تبدیل کرنے کے لیے انتظامات نہ ہوجائیں‘‘۔

مگر تمام حکومتوں نے اب تک قومی زبان کے نفاذ کے دستوری تقاضوں کی تکمیل کے فرض سے مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ آئین کی دفعہ251کی رُو سے اس ملک کی سرکاری زبان اُردو ہوگی۔ مگر کب ہوگی؟ کیا آئین کی تشکیل کے نصف صدی بعد ہو جائے گی؟ ارے صاحب! ہمارے آئین پر عمل درامد کے ذمہ داران اِسے ہونے دیں گے تو ہوگی نا۔ طالبان تو خیر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے۔ اسی وجہ سے ہمارے ’آئین کو ماننے والے‘ لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن سے ہرگز ہرگز مذاکرات نہ کیے جائیں۔ ’آئین کو ماننے‘ کی کیا علامات ہوتی ہیں؟ یہ کوئی نہیں بتاتا۔ ہمارا آئین ملک کے مسلمان شہریوں کو شراب پینے کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر یہ خبر تقریباً ہر اخبار نے شایع کی ہے کہ ’پارلیمنٹ لاجز میں جمشید دستی کے کمرے کے باہر کوئی شراب کی بوتل چھوڑ گیا‘۔ جب کہ وزیر داخلہ سمیت بہت سے ارکانِ قومی اسمبلی کا اصرار ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں شراب کی بوتل جا ہی نہیں سکتی، ۳۲کیمرے لگے ہوئے ہیں، سخت پہرہ ہوتا ہے، ہر ایک کی چیکنگ کی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔چلیے جمشید دستی کا تو بقول متعدد ارکانِ اسمبلی ’ذہنی توازن خراب ہے‘۔ مگر اُن کے کمرے کے باہر کس ’ذہین‘ شخص نے بوتل دھر دی؟

ہمارے پورے ملک کا نظام ’سودی کاروبار‘ پر استوار ہے۔ ’آئین کو تسلیم کرنے والے‘ دانشوروں میں سے کوئی ایک بھی ہمیں اپنا ہاتھ کھڑا کرکے یہ بتادے کہ ہمارے آئین کی کس دفعہ کے تحت سودی کاروبار آئینی ہے؟ اگر ایسی کوئی دفعہ موجود ہے جو سودی کاروبار کو ’حلال‘ ٹھہراتی ہو تو پھر ایک سوال اُن بزرگوں سے بھی کرنا پڑے گا جو کہتے ہیں کہ ’ہمارا آئین اسلامی ہے‘۔ اور بھی ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات کے نتیجہ میں یہ سوال اُٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے کہ ’آئین کو تسلیم کرنے کی کیا علامات ہوتی ہیں؟‘

آنے والے یومِ آزادی پر ہماری آزادی کو67برس ہوجائیں گے۔مگراب تک ہماری سرکاری زبان بھی ہمارے سابق استعماری آقاؤں کی زبان یعنی انگریزی زبان ہے اور ہمارے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم کی زبان بھی انگریزی زبان ہے۔نتیجہ یہ کہ ہمارے کالم کی زبان بہت سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ہمارے اکثر و بیشتر طالب علموں کو اُردو پڑھائی ہی نہیں جاتی۔یہ الگ بات کہ ہمارے ’تعلیم یافتگان‘ میں انگریزی زبان کی استعداد بھی بڑھتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ لطیفے ہی سنائی دیتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں تک کی انگریزی پر اغیار سے پہلے اپنے ہی ہنس پڑتے ہیں۔ ہمارے نشریاتی اداروں پر جو زبان بولی جاتی ہے، کبھی یہ زبان مزاحیہ خاکوں، ڈراموں اوراُن میں پائے جانے والے مسخرے کرداروں کی زبان ہوتی تھی۔ ہم اپنے بچپن میں اِسکول سے چھٹی لینے کے لیے ایک مضحکہ خیز درخواست اس مسخری زبان میں پڑھ پڑھ کر خوب قہقہے لگایا کرتے تھے کہ:
رَین واز فالنگ چھمّا چھم
لیگ ہمارا پھسلا گر پڑے ہم
ہیڈ اینڈ بیک پہ چوٹ آئی دھم
اِس لیے فدوی کین ناٹ کم
اب اِسی زبان میں قومی مسائل پر ’ٹاک شو‘ ہوتا ہے۔
اب سے پندرہ برس بعد جب ہمارے ملک کی عمر تقریباً82 برس ہوجائے گی تو کیا اُس وقت اچانک ہمارے سرکاری اہل کار اور ہمارے طالب علم فرفر فرفر اُردو بولنے اور روانی کے ساتھ اُردو لکھنے کے قابل ہوجائیں گے؟ابتدائی جماعتوں ہی سے نہیں، ابتدائے بچپن کی عمر سے ہی انگریزی زبان میں تعلیم دینے کے جتنے فوائد بیان کیے جاتے ہیں، اُن میں سے کتنے فوائد ایسے ہیں جو پچھلے چھیاسٹھ، سڑسٹھ برسوں میں من حیث القوم ہم نے حاصل کیے؟ ترقی یافتہ ہی نہیں، ترقی پذیر اقوامِ عالم میں ہم کس زینہ ترقی پر جا کھڑے ہوئے؟ اِس وقت ہمارا شمارکس قسم کی اقوام میں ہوتا ہے؟ کوئی ایک فائدہ پہنچا ہو تو بتا ئیے۔ نیز اُن اقوام کو پہنچنے والے نقصانات کی فہرست بھی گِنوا دیجیے جنھوں نے اپنی زبان نہیں چھوڑی، انگریزی سے نابلد کے نابلد رہے، مثلاً جاپان، مثلاً کوریا، مثلاً چین اور مثلاً اسرائیل وغیرہ وغیرہ۔

ہمارا سب سے پہلا نقصان، جسے شاید آج کی ’بنیا ذہنیت‘ کوئی نقصان سمجھتی ہی نہ ہو، یہ ہوا کہ ہم اپنی ڈیڑھ ہزار برس کی دینی، تہذیبی، اخلاقی، ثقافتی اور تمدنی روایات نیز تاریخی سرمائے سے یکسر کٹ کر رہ گئے۔ہماری اخلاقی حالت وہ ہوگئی جس کی ایک جھلک جمشید دستی نے دستا دست دکھا دی ہے۔دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے بچے سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لی گئی۔ رٹنے کی صلاحیت میں وہ ’ماسٹر‘ ہوگیا۔ تیسرا نقصان یہ ہوا کہ اب ایک پوری نسل ہے، جسے اپنی کوئی چیز اچھی لگتی ہی نہیں۔حتیٰ کہ اپنا وطن بھی اچھا نہیں لگتا۔ ہر بچہ یہ سوچتا ہے کہ ۔۔۔ ’ہو جائیں گے جاکر کہیں پردیس میں نوکر‘۔۔۔ وہ ساری تعلیم ہی غیروں کی خدمت کے لیے حاصل کرتاہے، خواہ اپنے ملک میں حاصل کرے یا غیر ممالک میں۔ ہماری قوم غالباً دنیا کی واحد قوم ہوگی جس کے جوانوں کی اکثریت کسی اور ملک کی شہریت حاصل کرنے کی خواستگار رہتی ہے۔غیر ملکی سفارت خانوں اور ویزا آفسز کے باہر لگی ہوئی طویل قطاریں دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ آخر ملک کیوں خالی کرایا جارہا ہے؟غیر ملکی زبان میں دی جانے والی تعلیم ہماری نسلوں میں خدا کا خوف پیدا کر سکی، نہ قانون کا احترام نہ آخرت کی جواب دہی کا احساس۔اپنی کسی چیز سے اپنائیت بھی پیدا نہ ہوسکی۔قوم کے خزانوں کی لوٹ کھسوٹ ہو یا قومی املاک کی توڑ پھوڑ، پتھراؤ، آگ لگا دینا ،تباہ کردینا، یہ سب کچھ ہماری سڑکوں پر آئے دن ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ۔۔۔
’کسی کو رنجِ دلِ خانماں خراب نہیں
کسی کو خوف و غمِ پُرسش وحساب نہیں‘ 


 یعنی کسی کو ان چیزوں سے اپنائیت کا ذراسا بھی احساس نہیں ہوتا۔تعلیم اپنی ہوتی تو سب کچھ اپنا ہوتا۔ مشکل یہ ہے کہ ایک اُردو محاورے کے مطابق ۔۔۔ ’خدا گنجے کو ناخن نہیں دیتا‘۔۔۔ ناخن تدبیر!۔۔۔جب کہ ۔۔۔’جیسی روح ویسے فرشتے‘ ۔۔۔ کے مصداق خدا ہمیشہ ہمیں گنجے ہی دیتاہے۔ ’گنجے فرشتے‘۔اس قوم کی فلاح اور خوشحالی کے لیے جو تدابیر فطری ہیں وہ کوئی نہیں کرتا۔ کرنے کی سوچتا بھی نہیں۔لوگ تدابیر اور تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں اور شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ اربابِ اختیار اور اربابِ اقتدار کے کانوں پر تو کیا؟ سر پر بھی جوئیں نہیں رینگتیں۔ شاید ان شاکی لوگوں نے حکمرانوں کے سر نہیں دیکھے۔ جوؤں نے البتہ دیکھے ہیں اور وہ یہی عذر کرتی ہیں کہ ۔۔۔ ’لیگ ہمارا پھسلا، گرپڑے ہم‘ ۔۔۔حضور فیض گنجور! کبھی آپ نے سوچا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب غالبؔ کا یہ شعر رو، رو کر پڑھا جائے گا کہ:
 

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟

ابو نثر