ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

‏عید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏عید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

19 جولائی، 2015

پوری امت کے مطلع کا ایک ہی چاند ہے


کیا کبھی کسی نے یہ تصور کیا ہے کہ جو امت صرف چندسکینڈ کے وقفے سے بلکہ بعض اوقات تو براہِ راست عرفات میںدیے جانے والا خطبہ سنے، لندن، سڈنی یا دبئی میں ہونے والا میچ دیکھ لے ، کسی بھی ملک کے کسی شہر میں ہونے والے پولیس مقابلے کو دیکھے اور اس پر یقین بھی کرے، گیارہ ستمبرکو گھنٹوں ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کا منظر ایسے دیکھے جیسے وہ ان کے سامنے برپا ہے، لیکن اگرآپ اس امت کے اربابِ اختیارسے لے کر علمائے کرام سے پوچھیں کہ یہ پوری امت دنیا بھر میں ایک ساتھ چاند کیوں نہیں دیکھ سکتی تو آپ کو بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دینے لگیں گی۔
سب سے پہلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ زمینی حقائق میں قومی ریاست سب سے بڑی حقیقت ہے اور اس قومی ریاست کی حکومت ہی مسلمانوں کا ایک نظمِ اجتماعی ہے اور اس نظم اجتماعی کے تحت ہر ملک کی ایک رویتِ ہلال کمیٹی ہے۔ یعنی 1920 کے آس پاس عالمی طاقتوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جس کمال مہارت کے ساتھ سرحدوں میں تقسیم کیا ہے وہ زمینی حقیقت آسمانی حقیقتوں، الہامی کلام اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات سے بڑی حقیقت ہیں۔ طورخم، تفتان اور خنجراب کی لکیروں کے ایک جانب کھڑے پاکستانی اور دوسری جانب کھڑے افغان، ایرانی اور چینی، جن کے سروں پر ایک ہی وسیع آسمان ہے۔
جس پر چاند اپنا سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اس آسمانی حقیقت کے باوجود، لکیر کے اسطرف موجود لوگ روزے سے ہوتے ہیں اور دوسری طرف والے عید منا رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ افغانستان میں ہرات، ایران میں اردبیل اور چین میں شنگھائی میں کسی نے چاند دیکھ لیا ہو، اور وہ ممالک اپنی حدود تک عید منا رہے ہوں اور ان کی عید یا چاند کی رویت پاکستان کی سرحد پر طورخم، تفتان اور خنجراب پر آکر ختم ہو جائے، اس لیے کہ آسمان پر چمکنے والے چاند پر بھی قومی ریاستوں کے عالمی قانون کا اطلاق لازم ہے اس لیے کہ چاندکے پاس اس ملک کا ویزہ نہیں ہے اور یہ ویزہ ہر ملک کی رویتِ ہلال کمیٹی لگاتی ہے۔
دنیا کے تقریباً ہر مسلمان ملک میں رویتِ ہلال کمیٹیاں موجود ہیں اور وہ علمائے کرام پر مشتمل ہیں جو اپنے خطبوں میں یقینا سید الانبیاء ﷺ کی یہ حدیث ضرور سناتے ہوں گے کہ یہ امت ایک جسدِ واحد کی طرح ہے۔ اس بات کا بھی اعلان زور و شور سے کرتے ہوں گے کہ سرورِ دو عالم ﷺ کو ساری انسانیت کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ علمائے امت جب اپنے مسالک کی عالمی کانفرس منعقد کرتے ہیں تو پوری دنیا سے اپنے مسلک کے علماء کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر لیتے ہیں۔ شیعہ، سنی، دیو بندی، بریلوی، اہلِ حدیث، آپ سب کے عالمی اجتماعات علیحدہ علیحدہ جا کر دیکھ لیں ،امریکا سے لے کر آسٹریلیا تک جہاں بھی ایک مسلک کے چندعلماء آپس میں اکھٹا ہوں گے، آپ کو ان میں ذرا برابربھی اختلاف نظر نہیں آئے گا۔
عالمی اسلامی انقلابی تحریکوں کو ایک ساتھ جمع کرنے والی سیاسی پارٹیاں جن میں پاکستان میں جماعتِ اسلامی او ر مصر میں اخوان المسلمون شامل ہیں، یہ بھی اپنے عالمی اجتماعات زور و شور سے منعقد کرتی ہیں، دھواں دار تقریرں ہوتی ہیں، مسلم امت کے دکھٹرے روئے جاتے ہیں، اتحاد بین المسلمین کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔
یہ تمام علمائے امت اور مذہبی سیاسی رہنما آج تک ایک دن کے لیے بھی اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ اس دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کا ایک ہی چاند ہے جو ایک ہی آسمان پر طلوع ہوتا ہے اور ایک ماہ میں تقریباً 29دن، 12 گھنٹے، 44 منٹ اور 28 سیکنڈ کی گردش مکمل کرتا ہے۔ اس ایک چاند کو اگر ہوائی کے ساحلوں سے لے کر فیجی کے جزیرے تک کہیں بھی دیکھ لیا جائے تو مسلمان بیک وقت روزہ رکھ سکتے اور عید منا سکتے ہیں۔
کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ دنیا میں کہیں بھی دو ملکوں کے درمیان 24 گھنٹوں سے زیادہ کا وقفہ نہیں ۔ فیجی زمین کے مشرقی کونے میں واقع ہے اور وہاںاگر یکم جنوری کو طلوعِ آفتاب 5:33 اور غروبِ آفتاب 6:46 بجے ہے۔ آپ مغرب کی طرف بڑھیں چھ گھنٹے بعد جکارتا، چار گھنٹے بعدمکہّ، ایک گھنٹے بعدقاہرہ، دو گھنٹے بعد لندن اور پانچ گھنٹے بعد نیویارک میں آپ اسی یکم جنوری کی نماز فجر اور نماز مغرب ادا کریں گے۔
لیکن اسی یکم جنوری کے آس پاس اگر چاند دیکھ کر عید کرنے کی بات آجائے تو یہ عید تین جنوری تک چلتی رہے گی جب کہ اس دوران چاند اپنا تین دن کا سفر مکمل کر چکا ہو گا۔ اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ چاند دیکھ کر عید منانا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بنائی ہوئی حدود و قیود کے مطابق نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کھینچی ہوئی حدود و قیود کے مطابق ہے۔ 1971 سے پہلے اگر چٹاگانگ یا ڈھاکا میں چاند نظر آجاتا تھا تو گوادر اور پشاور والے ایک ساتھ عید کرتے تھے لیکن آج اگر رویتِ ہلال کمیٹی کے اراکین سے سوال کریں تو وہ کہیں گے کہ بنگلہ دیش کا مطلع الگ ہے اور ہمارا مطلع الگ۔ روس زمین کے شمال میں واقع ایک وسیع ملک ہے جس میں گیارہ ٹائم زون آتے ہیں۔
روس میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے، بلکہ ایک اندازے کے مطابق روسی فوج میں چالیس فیصد مسلمان ہیں۔ اس روس میں گیارہ ٹائم زون میں رہنے والے مسلمان ایک دن عید کرتے ہیں چونکہ روس ایک عالمی سرحدہے جب کہ 57 اسلامی ممالک بھی گیارہ ٹائم زون میں تقسیم ہیں جو مراکش سے برونائی تک واقع ہیں۔ لیکن یہاں تو اردن اور شام کی سرحدوں پر اور ایران و عراق کی سرحدوں پربھی علیحدہ علیحدہ عیدیں منائی جاتی ہیں اس لیے کہ ان کی 57 عالمی سرحدیں ہیں۔
ہمارے علمائے امت کا کمال یہ ہے کہ یہ اپنے مسلکی اختلاف کو زمینی حقائق کا نام دیتے ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ اس پوری امت میں یہ اختلافات شاید پاکستان میں ہی ہے۔ لیکن 2007 کا رمضان ایران میں گزارنے کا موقع ملا۔ رات گئے تک پوری ایرانی قوم انتظار کر رہی تھی کہ ابھی رویتِ ہلال کمیٹی اعلان کر دے گی۔ فقہ جعفریہ کے مطابق لوگوں نے” یومِ شک ” کا روزہ رکھ لیا جسے چاند کی اطلاع نہ ملنے پر 12 بجے سے پہلے توڑا جا سکتا ہے۔ گیارہ بجے کے قریب میں کا ر میں سفر کر رہا تھا، ریڈیو لگا ہوا تھا، اس پر رویتِ ہلال کمیٹی کاقم سے اعلان ہوا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے۔
میرے ڈرائیور نے ایرانی مزاح کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ” ہمراہ آفتاب آمد” یعنی آج چاند اور سورج ساتھ ساتھ آئے ہیں۔ ہمارے علماء سعودی عرب یا ایران یا پھر کسی اور ملک کی رویت اس لیے نہیں مانتے کہ ان کا ملک علیحدہ ہے۔ بلکہ ملک علیحدہ ہونا تو ایک بہانہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ ان کا مسلک علیحدہ ہے۔ یہ وہ اختلاف ہے جس نے قومی ریاستوں اور ان کی حدود کو اللہ کے احکامات اور رسول اللہ کی سنت سے بھی زیادہ محترم اور مقدس بنا دیا ہے۔
گزشتہ چودہ سو سال کی تاریخ اس بات پر شاھد ہے کہ اس امت کے تمام مسالک نے چاند کی رویت میں مطلع کا کبھی اختلاف نہیں کیا۔ فقہہ حنفی کی کتابوں الہدایہ او ر الدر المختار میں کہا گیا، اہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رویت دلیل ہے۔ مالکی فقہہ کی کتاب “ھدایتہ المجتہد” اور ” مواہب الجلیل” بلکہ قاضی ابو اسحاق نے ” ابن الماحبثون” میں یہاں تک کہہ دیا اگر ایک ملک کے لوگوں کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ انھوں نے چاند دیکھاہے تو روزے کی قضا واجب ہے۔ یہی مسلک حنبلیوں کے ہاں ” الاحناف” اور شافیعوں کے ہاںالمغنی میں درج ہے اور کیوں نہ ہو ان تمام آئمہ کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی سنت موجود تھی جو ان احادیث سے واضح ہے۔
ـ” ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا میں نے چاند دیکھا، آپ نے پوچھا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں ۔ اس نے کہا ، ہاں، آپ نے فرمایا، بلال اعلان کر دو کل روزہ رکھیں (ترمذی، سنن ابنِ داؤد)” اس سے زیادہ واضح بات اس حدیث میں ہے۔ ” لوگ عید کے چاند میں اختلاف کرنے لگے کہ دو اعرابی آئے، انھوں نے اللہ کے رسول کے روبرو اللہ کو گواہ بنا کر کہا کہ کل رات انھوں نے چاند دیکھا ہے تونبی اکرمﷺ نے حکم دیا کہ روزہ توڑ دیں (ابو داؤد)”. ان دونوں احادیث میں نہ کہیں فاصلے کا ذکر ہے اور نہ ہی حدود و قیود کا۔ آج اگر مراکش کے ساحل پہ جہاں چاند پہلے طلوع ہوتا ہے۔
چند لوگ جو پارسا اور پرہیزگار بھی ہوں، وہ اگر چاند دیکھ لیں اور صرف چند گھنٹے کی فلائٹ لے کر مفتی منیب الرحمان صاحب کی رویتِ ہلال کمیٹی کے سامنے جو کراچی میں چھت پر کھڑی دوربین لگا کر چاند دیکھ رہی ہوتی ہے، اسے گواہی دے دیں تو کیا یہ رویتِ ہلال کمیٹی والے اعلان کر دیں گے کہ کل روزہ رکھو، یا اگر وہ عید کے روز لیٹ ہو جائیں تو اعلان کریں گے کہ روزہ توڑ دو ۔ شاید نہ کریں اس لیے کہ ہمارے ہاں زمینی حقائق اور قومی ریاستوں کی حدود اللہ کے رسول کی سنت سے زیادہ محترم اور مقدس ہو چکی ہیں۔ ایک چھوٹا سا ٹی وی چینل آسٹریلیا سے امریکا تک ہر چیز براہِ راست دکھانے کا اہتمام کر سکتا ہے۔ اس امت کے 57 اسلامی ممالک صرف چندمقامات پر چاند دیکھنے کے مراکز قائم کر کے پوری امت کو ایک رمضان اور ایک عید کا تحفہ نہیں دے سکتے۔

اوریا مقبول جان


30 جولائی، 2014

کس منہ سے کہیں تم سے، تمہیں عید مبارک


 کئی عیدوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ تقریباًہر عید الفطر پر ہمارے اہلِ وطن اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ آج ہم عید منائیں یا اپنے پختون بھائیوں کو منائیں؟خیر یہ قصہ اور یہ قضیہ تو شاید ہمیشہ ہی چلتارہے گا۔ ابھی ابھی کسی نے (ہمارے کان پر) یہ نعرہ بھی مارا ہے کہ ۔۔۔جب تک صوبہ ’خیبر پختون خوا‘ رہے گا تب تک دو،دو چاند رہیں گے۔۔۔ (اور دو،دو عیدیں)۔۔۔ اگر مختلف ’قومیتوں‘ کے مطالبات پرملک میں کچھ زیادہ صوبے بن گئے تو کیا عجب کہ وطن عزیز پاکستان میں۔۔۔ہر روز، روزِ عید ہو، ہر شب، شبِ برات۔
سنتے آئے ہیں کہ عید کی سچی خوشی اُنھی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنھوں نے رمضان بھر روزے رکھے، تراویح کی تمام نمازیں ادا کیں اورنمازِ عید سے پہلے پہلے اپنے اوپر واجب الادا صدقۂ فطر ادا کردیا۔ جو یہ سب کچھ نہ کرے کیا خاک اُس کی عید ہے؟ مسلمانوں کی زندگی کے غم ہوں یا خوشیاں سب کے سب کسی نہ کسی انداز میں’ عبادت‘ سے عبارت ہیں۔سو، رمضان کی عبادات کی کامیابی سے تکمیل کی خوشی منانے کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ فرزندانِ توحید مارے خوشی کے عیدکے دن دو رکعت نماز زیادہ پڑھ آئے، ساتھ زائد چھہ تکبیروں کے۔
 

یہ تو ہوئیں عید کی حقیقی خوشیاں منانے والوں کی باتیں۔ مگر ہمارے یہاں عید کی مصنوعی خوشیاں منانے والے بھی بہت ہیں۔ عید کے دن ایسی بہت سی ’مصنوعات‘ کی آپ کو ہمارے ٹی وی چینلوں پر بھرمار نظر آئے گی۔عیدکے نام پر از سحر تابہ سحر مسلسل نشر ہونے والے اِن مصنوعی پروگراموں میں نہ رمضان کا ذکر آئے گا نہ روزے کا۔ سحری کی بات ہوگی نہ افطاری کی۔ تراویح کا تذکرہ ملے گا نہ جشنِ نزولِ قرآن کا۔ روزے کی مشق سے پیدا ہونے والے صبر اور ضبطِ نفس کی صفات کا جائزہ لیا جائے گا نہ خیراور خیرات میں سبقت لے جانے کا۔ ان سے کون پوچھے کہ تمھاری عید ہے کس بات کی عید؟ رمضان گزر جانے کی عید؟ کہ جس پر’جشن عید‘ مناتے ہوئے ٹھمکے پرٹھمکا لگا لگا کر اِس عزم کا اظہاراوراعلان کیا جائے گا کہ:
ایسی چال میں چلوں کلیجا ہِل جائے گا
کسی کی جان جائے گی، کسی کا دِل جائے گا
 

عید کی سب سے زیادہ خوشیاں مناتے ہوئے اور ناچتے گاتے ہوئے آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے ، جنھیں کچھ رمضان سے سروکار تھا نہ روزے سے۔مگر ناچنے دیجیے اُنھیں۔ کیوں کہ اگر آپ انھیں عید کی خوشی میں ناچنے نہیں دیں گے تو یہ مارے غصے کے اور ناچنے لگیں گے کہ اِس ملک میں ہمیں ناچنے بھی نہیں دیا جاتا وھاٹ اے کنٹری؟ کسی کو ناچنے نہ دینا اُس کی ’ آزادئ اظہار‘ سلب کرلینے کے مترادف ہے۔
’کنٹری‘ کا ذکر آیاتواِس پر ہمیں یاد آیاکہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔’عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے‘۔۔۔مگر ہم نے دوست بھی امریکا جیسے’بے دید‘ پالے ہوئے ہیں۔کہ جس کی دوستی کے طفیل ہمارا ’کنٹری‘ نہ صرف مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں رہتا ہے بلکہ ہماری قوم اور ہماری قوم کے سجیلے جوانوں کو بھی دہشت گردوں کے حملوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن سپوتوں کو اس قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اس لیے پالاتھا کہ وہ اﷲ، اُس کے رسولؐ اور ملکِ خداداد کے دشمنوں پر اﷲ کا قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے، اگر اُن میں جہاد کی جگہ جمود اور سکتہ و سکوت پیدا ہوجائے، وہ اﷲ اور اُس کے رسولؐ کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان بھائیوں پر اﷲکے دشمن یہودیو ں کو ظلم ڈھاتے ہوئے دیکھیں اور نہ صرف ٹکر ٹکر دیکھیں بلکہ اُن کے ’صفِ اول کے اتحادی‘ بھی بن جائیں تو اﷲ اُن کی ہوا اِسی طرح اُکھاڑ دیتا ہے کہ اُن کو اپنی، اپنے دفتروں کی اور اپنی چھاؤنیوں کی بھی حفاظت کی فکرپڑ جائے۔ وہ دوسروں کی جان تو کیا بچائیں گے؟ اپنی جان بچانے کے لیے دیواریں بنائیں گے۔ رُکاوٹیں کھڑی اور سڑکیں بند کریں گے۔سن 2012ء کی وہ عید الفطر یہ قوم کیسے بھول سکتی ہے جب باقی پاکستان کی عید سے فقط دو دِن قبل شمالی وزیرستان میں عید منائی جارہی تھی تو امریکا نے ڈرون حملے کرکے بروزِ عید 12پاکستانی سپاہی شہید کردیے تھے۔یہ تھا ہمارے اتحادی اور ہمارے دوست امریکا کا’تحفۂ عید‘۔امریکی صدر اوباما صاحب ایک طرف تو امریکی عوام کی طرف سے ہمیں اور ہمارے وزیر اعظم کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں، دوسری طرف عید کے دن کے لیے، پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان کے مسلمان شہریوں اور ہمارے نوجوان سپاہیوں کی کم عمر بیواؤں اوراُن کے ننھے منے بچوں کو آہوں، آنسوؤں اور دِل پاش پاش کردینے والے غموں کے تحفے بھی مسلسل مل رہے ہیں۔ہر عید پر ہماری سوگوار قوم اور اِن سانحات سے سوگوار ہوجانے والے خاندانوں پر اقبالؔ کا یہ شعرصادق آتاہے کہ:
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
 

ہماری عیدیں تواب ’شکوہِ ملک و دیں‘ بننے کی بجائے صرف ’ہجومِ مومنیں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ایسے میں ہم قوم کو عید کی مبارک باد کیسے دیں؟
  عید کے دِن نمازِ عید کے جو پُر ہجوم اجتماعات ہوں گے، اُن کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔خطیب حضرات یومِ عید کے فضائل و مناقب گِنوا گِنوا کر اسلام کی شان بیان کریں گے اور بڑے جوش وخروش سے بیان کریں گے۔ اُنھیں اِس ملک میں بس ’بیان‘ کرنے ہی کی اجازت ہے،اسلام کی شان بیان کرنے کی۔اسلام کی شان دکھانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ پھر بھی:
ملا کو جو ہے ’عید کے‘ سجدے کی اجازت
’لیڈر‘ یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزاد
 

اسلام تو اسلام، ہمیں تویہ آزادی بھی نصیب نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اپنی زبان میں تعلیم دے سکیں۔اپنی قومی زبان کواپنے ملک کی سرکاری زبان بنا سکیں یا کم ازکم اس کی عملی کوشش ہی کرسکیں۔یاصدیوں سے اپنے دین کی تعلیم و تعلم میں مصروف دینی مدارس کو امریکا کے قرار دینے پر ’دہشت گردی‘ کے مراکز مان کر اُن پرنفرین بھیجنے کی بجائے دُنیا سے اُن کا تقدس اور اُن کی اہمیت تسلیم کرواسکیں ۔ یہ مثالی تعلیمی ادارے ملک کے مفلوک الحال بچوں میں نہ صرف خیر کثیر عطا کرنے والے علم کی دولت مفت تقسیم کرتے ہیں، بلکہ اُنھیں مفت رہائش اور مفت خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران ایسا کریں تو کیسے کریں؟یہ حکام نہیں ’محکوم‘ ہیں، اور محکوم بھی طاغوت کے۔ اُنھیں اِن کاموں کی آزادی نصیب نہیں۔غنیمت ہے کہ اِس قدر محکوم قوم کو ابھی تک پُر ہجوم نمازِ عید ادا کرنے کی آزادی میسر ہے۔ مگر اقبالؔ ؒ نے کچھ غلط تو نہیں کہاتھا کہ:
عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
 

عید کے موقع پر۔۔۔ہرسال آپ پڑھتے ہی ہیں کہ۔۔۔ ہماری قوم کے (محکوم) حکمران بھی (اپنے ہی) دانت نکال نکال کر امریکی صدر کی طرح خود بھی قوم کو عیدکی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور خود بھی عید کی مبارک باد کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پرقوم کو کمرتوڑ مہنگائی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ بے پناہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور اِس کے نتیجہ میں ٹھپ ہوجانے والے صنعتی اداروں کے مزدوروں کو بے روزگاری کا ’تحفۂ عید‘ پیش کرتے ہیں۔ پھر ان تحفوں پر مستزاد بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا ’تحفۂ عیدبھی پیش کردیا جاتاہے۔ جب کہ اِن’ تحفوں‘ پر بندھے ہوئے ربن کے طورپر منہ زبانی ’عیدمبارک‘ کا ’تحفۂ عید‘ قوم کوپہلے ہی موصول ہو چکا ہوتا ہے۔اے صاحبو! کس منہ سے کہیں تم سے، تمھیں عید مبارک! 

ابو نثر  

ایک پردیسی کی عید

ایک پردیسی کی چاند رات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی روزوں کے بیچ سیتی تھیں
کس محبت سے عید کے کپڑے
دل دھڑکتا تھا آخری روزے
جب بچھڑتی تھی ہم سے افطاری
چھت پہ مسجد کی بعد از مغرب
بادلوں کی اندھیر نگری میں
چاند مل کے تلاش کرتے تھے
شب گزرتی تھی جاگتے سوتے
صبح ہوتی تھی کس قدر روشن
چہرے کھلتے گلاب ہوں جیسے
گلیاں رنگوں کی کہکشاں جیسی
جذبے ایسے کہ شہد سے خالص
ملنا اپنے پرائے لوگوں سے
سر پہ ماں کا شفیق سایہ بھی
ماں کے ہاتھوں کو چوم کر عابی
اُس کے ہاتھوں کا وہ بنا میٹھا
جس سے ممتا کا رس ٹپکتا تھا
کس محبت سے ہم وہ کھاتے تھے
قد میں ابو سے گو میں اونچا تھا
پھر بھی عیدی مجھے وہ دیتے تھے
اپنی عیدی کے ٹکڑے کرکے میں
بہنوں بھائیوں میں بانٹ دیتا تھا
یار لوگوں کی ٹولیاں اپنی
جن سے سجتا تھا عید کا میلہ
ُتو کھلائے تو میں کھلاؤں گا
ایسے کھاتے تھے ہم بھی سوغاتیں
وقت پنچھی بلا کا ظالم ہے
پر لگا کے اُڑا وہ لمحوں میں
دانہ اپنے نصیب کا عابی
ایسا رب نے بکھیر کر پھینکا
جس کو چنتے پرائے دیسوں میں
برف اُتری ہے آج بالوں میں
دور گاؤں میں چاند اُترا ہے
لوگ کہتے ہیں عید آئی ہے
باسی کھانا میں کھا کے لیٹا ہوں
میلے تکیے پہ سر ٹکائے ہوں
نیند آنکھوں سے دور بیٹھی ہے
کل کے برتن بھی میں نے دھونے ہیں
ایک جوڑا خرید لایا تھا
پہن لوں گا سویرے گر جاگا
ماں کے میٹھے کی آج بھی خوشبو
میرے کمرے میں چار سو پھیلی
مجھ سے کہتی ہے لوٹ آ پگلے
چھوڑ دے یہ نصیب کے جھگڑے
دانہ بندے کا پیچھا کرتا ہے
تیری گلیاں تجھے بلاتی ہیں
تیری عیدی سنبھال رکھی ہے
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
......................
عابی مکھنوی 


tags: aik pardesi ki eid ,chand raat, ,urdu shairi, poetry, aabi makhavi , eidi, 

25 مارچ، 2014

شہزادوں کی عید


عید الفطر کی چاندنی رات تھی، ہر سو خوشیاں بکھر رہی تھیں ، گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں ، ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا،  روزہ دار خدا کا شکر ادا کررہے تھے، کہ انہیں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی ، بچے صبح عید کا انتظا رکر رہے تھے، ان کے چہرے خوشی وشادمانی سے دمک رہے تھے، ابھی سے صبح عید کے لیے نئے نئے کپڑوں کو ترتیب دیا جارہا تھا، محلہ میں خوشی ومسرت کا ایک شور تھا، شہر دمشق روشنیوں سے جگ مگا رہا تھا، ہر دکان ومکان مسرت وشادمانی کا گہوارہ بنا ہوا تھا، کہ ایسے میں امیر المومنین اور مسلمانوں کے بادشاہ کا معصوم وخوب صورت بچہ دوڑتا ہوا حرم سرا میں آیا اور اپنی ماں سے لپٹ کر، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

ماں اس خوشی کے موقع پر اپنے لخت جگر کو اس طرح روتا دیکھ کر تڑپ اٹھی ، گھبرائے ہوئے اپنے آنچل سے بیٹے کے آنسو پونچھے اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے گویا ہوئیں”میرے پیارے بیٹے، میری آنکھوں کے نور! کیوں روتے جارہے ہو ؟“

لیکن بچہ مسلسل روتا جاتا ہے ، ماں پوچھتی ہے ” کیا کوئی تکلیف ہے؟“

شہزادہ روتے ہوئے کہتا ہے ”نہیں“ ۔

کسی نے مارا ہے؟

”نہیں“

”تو پھر کیوں روتے ہو؟“ ماں پیار سے بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اور تسلی دیتے ہوئے کہتی ہے ” دیکھو! آج تو خوشی کا دن ہے کل عید المبارک ہے، تم اپنے ابا امیر المومنین کے ساتھ عید گاہ جاؤ گے ، اپنے ہم عمر دوستوں سے ملو گے۔“

ماں کا یہ جملہ سن کر بچہ او رپھوٹ پھوٹ کر روتا ہے، لیکن اس بار روتے ہوئے وہ کہتا ہے” امی جان! میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ کل عید کا دن ہے ، سب بچے اچھے اچھے اور نئے نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، لیکن آپ نے کہا ہے کہ ہمیں عید کے لیے یہی پرانے کپڑے دھلوا دیں گی۔ کیا ہم یہی پرانے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے ، نہیں امی جان! ہمیں بڑی شرم آئے گی ، ہم ابا کے ساتھ عید پڑھنے نہیں جائیں گے۔ “ اپنا دکھڑا بیان کرکے شہزادہ اور بلک بلک کر رونے لگا۔

اپنے نورِ نظر اور لخت جگر کویوں بلکتا دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں موتی چھلک آئے ، بیٹے کو اپنے گلے سے چمٹا لیا او ربڑے ضبط کے ساتھ کہا ”میرے لال یہ کون سی رونے کی بات ہے ؟ تم اپنے کو اس طرح ہلکان مت کرو، امیر المومنین کو گھر آنے دو، میں ان سے کہہ کر تمہارے لیے آج رات ہی نئے او راچھے کپڑے بنوا دوں گی ، تم انہیں پہن کراپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے کھیلنا ، اماں کی تسلی بھری خوش خبری سن کر شہزادے کی آنکھیں خوشی سے دمکنے لگیں اور وہ کھلکھلا کر ہنستے ہوئے میری اچھی وپیاری امی کہہ کر اپنی ماں یعنی ملکہ عالیہ سے لپٹ گیا۔

تھوڑی دیر بعد امیر المومنین جب اُمور سلطنت سے فارغ ہو کر گھر تشریف لائے تو رفقیہ حیات اور ملکہ سلطنت بیٹے کی آرزو اور رونے کا ماجرا سناتے ہوئے بیٹے کی ترجمانی کے انداز میں گویا ہوئیں ” سب بچے کل عید کے دن نئے کپڑے پہنیں گے ۔ لیکن خلیفہ وقت کے فرزند پرانے کپڑے پہنیں گے ، کیا انہیں شرم نہیں آئے گی ان کی خوشی اداسی میں تبدیل نہیں ہو گی؟“

شہزادہ کی آواز اور ملکہ کی گفتگو سن کر امیر المومنین نے جواب دیا، فاطمہ! تمہیں تو معلوم ہے کہ میں دو درہم روزانہ کا مزدور ہوں ، اس قلیل رقم میں کھانے پینے کا گزارہ کرنا ہی مشکل ود شوار ہے ، چہ جائیکہ دیگر اخراجات“!

فاطمہ بولیں” لیکن بچے تو نہیں مانتے، وہ تو ضد کرتے ہیں کہ نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، ورنہ نہیں ۔“

امیر المومنین نے کہا کہ ” اچھا ایسا کرو، اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہو تو اسے فروخت کرکے بچوں کی ضد اور آرزو پوری کردو“ امیر المومنین کا جواب سن کر ملکہ وقت کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، بولیں ”یا امیر المومنین جس دن آپ تخت خلافت پر بیٹھے تھے، میرا تو ایک ایک زیور علیحدہ کرکے آپ نے بیت المال میں جمع کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ زیور غریب اور مسکین لوگوں کا حق ہے،
بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا ، بھلا اس کے بعد میرے پاس کیا جمع ہے اور آپ تو خود جانتے ہیں  کہ اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“


بادشاہ وقت اپنی بیوی کی باتیں سن کر خاموش ہو گئے اور سر جھکا کر سوچتے رہے، پھر سر اٹھایا، چہرے پر ہلکی سی شادابی آئی ، خادم کے ذریعہ بیت المال کے نگران، یعنی وزیر خزانہ کو ایک حکم نام بھجوایا کہ ” ہمارا ایک ماہ کا حق خلافت ( تنخواہ) پیشگی بھیج دو“۔

تھوڑی دیر بعد خادم واپس آیا مگر اس کے ہاتھ میں رقم کے بجائے وزیر خزانہ کا جوابی خط تھا، خط کیا تھا؟ امیر المومنین کی نظریں تحریر میں گڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں، لکھا تھا ”امیر المومنین! آپ کا غلام آپ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے حاضر ہے، لیکن امیر المومنین آپ کو یہ کیوں کر یقین ہوا کہ آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں اور جب یہ یقین نہیں کیا جاسکتا تو پھر غریبوں کے مال کا حق کیوں پیشگی اپنی گردن پر رکھتے ہیں؟!“

خط پڑھ کر امیر المومنین پر لرزہ طاری ہو گیا، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کپکپاتی ہوئی آواز میں گویا ہوئے ” فاطمہ ! والله بیت المال کے وزیر خزانہ نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔“

دوسرے دن دمشق کے بازار رنگ ونور میں ڈوبے ہوئے عید کا حسین منظر پیش کر رہے تھے ، بوڑھے جوان اور بچے سب عمدہ لباس زیب تن کیے دو گانہ عید ادا کرنے عید گاہ کی طرف رواں دواں تھے، امیر المؤمنین، خلیفة المسلمین، حاکم وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ پیادہ ہی عید گاہ تشریف لے جارہے تھے، گو کہ آپ کے بچوں نے نئے کپڑے نہیں پہنے ہوئے تھے، تاہم وہ خوش تھے ، ان کے چہرے روحانی مسرت اور صبر وشکر کی روشنی سے منور تھے، ان کی پیشانی ایمانی نور سے دمک رہی تھی۔

اس لیے کہ رات کو باپ نے انہیں سمجھایا تھا کہ جو بچے دنیا میں صبر وشکر کے ساتھ پرانے کپڑے پہن لیتے ہیں تو الله تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں نئے واعلیٰ کپڑے پہنائے گا، جو کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور وہ خوشی عطا کرے گا جو دائمی ہو گی، جسے نہ تو کوئی چھین سکے گا اور نہ ہی وہ غم میں تبدیل ہو گی ۔

  حالانکہ یہی عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر متمکن ہونے سے قبل انتہائی تنعم وراحت کی زندگی بسر کرتے تھے ، جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کا موقع نہیں ملتا تھا، وہ جس راستے سے گزرتے خوشبوؤں سے معطر ہو جاتا، لیکن خلافت کابارِ گراں اٹھانے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو ابوہریرہ کے قالب میں ڈھال کر آنے والے تمام مسلم حکمرانوں کے لیے ایک زندہ وجاوید مثال قائم کر دی ، جب حکمران اتنا سادہ وخدا ترس ہو تو اس کی اولاد اور ماتحت کیوں نہ متقی وپرہیز گار بنے گی؟ یہ اصول ہے کہ ہر بلند چیز کا سایہ اس کے نیچے پڑتا ہے ، اگر حکمران مخلص، ایمان دار ، خدا ترس ، قانون کے پابند اور حقیقی خدا کے نائب بن جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے ماتحت بھی ایمانی وقرآنی صفات سے بھرپور نہ ہوں۔

مگر آج عالم یہ ہے ، خصوصاً اسلامی مملکت پاکستان کی صورت حال تو ہم سب پر آشکارا ہے کہ آج طویل مدت گذرنے کے بعدبھی اسلام کے نام پر حاصل کرنے والے ملک میں اسلام کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا جاتارہا ہے ،انتہا تو یہ کہ ہر آنے والے حکمران نے اپنے اقتدار کے طول او رکرسی کی حفاظت کے لیے اسلام ہی کو بازیچہ اطفال بنایا، اپنی ہر من مانی کو اسلام کا نام دے کر مسلمانوں اور یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی اسلام سے خوف زدہ کیا گیا ہے۔

یہ اسلام پر چلنے ہی کی برکت تھی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ کے دو رمیں شیر وبکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگے تھے، مگر آج ایک ہی پلیٹ میں دو مسلمان ایک ساتھ کھانا کھانا گوارا نہیں کرتے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ اور ان جیسے دیگر مسلم حکمرانوں نے شاید ہی اپنی پوری زندگی اور دورِ حکومت میں اپنے اور اپنے خاندان پر اتنا خرچ کیا ہو گا، جتنا آج مسلم حکمران خصوصاً پاکستانی حکمران صرف اپنی ذات پر، عیش وعشرت کے کام پرایک دن  میں دولت خرچ کرتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ پہلے بیت المال کو عوام الناس کا حق سمجھا جاتا تھا، آج حکمران اسے اپنا ذاتی خزانہ سمجھتے ہیں۔


15 اکتوبر، 2013

قربانی: سوچنے کی کچھ باتیں

قربانی :  سوچنے کی کچھ باتیں 

ابویحییٰ

8 اگست، 2013

خوشیاں بھاری ہوتی ہیں


 ۔ ۔ خوشیاں بھاری ہوتی ہیں۔ ۔ 

چار جوڑے کپڑوں کے
چار جوڑے جوتوں کے
تھوڑی چینی تھیلی میں
ایک پیکٹ کھیر کا
ایک ڈبہ دودھ کا
دس یا بیس والی ہو
ایک گڈی نوٹوں کی
کل وزن بتاؤ تو
کتنا ان کا بنتا ہے
ہلکے پھلکے تھیلے میں
ڈال دو تو آئے گا
جس قدر یہ ساماں ہے
اگلے پچھلے خرچوں کو
آگے پیچھے کر کے بھی
تھیلا چار چیزوں کا
مجھ سے بھر نہیں پاتا
عید جیسے ہوتی ہے
ویسے کر نہیں پاتا
روز جو اٹھاتا ہوں
بوجھ وہ ٹنوں میں ہے
تھیلا چار چیزوں کا
میں اٹھا نہیں پاتا
پہلی بار دیکھا ہے
غم تو ہلکے ہوتے ہیں
خوشیاں بھاری ہوتی ہیں
خوشیاں بھاری ہوتی ہیں

عابی مکھنوی

عید کی پیشگی مبارک باد....!





عید کی پیشگی مبارک باد....!

ان تڑقتے نحیف کاندھوں پر
اپنے کنبے کا بوجھ ڈھوتا ہوں
اور جب دل کا بوجھ بڑھتا ہے
بیوی بچوں سے چھپ کے روتا ہوں
ضبط_غم کی نہیں کوئ میعاد
عید کی پیشگی مبارک باد

بجھتی آنکھیں،ستا ہوا چہرہ
یہی انجام_سخت کوشی ہے
جوڑتا ہوں رقم کفن کے لیے
یہی اصل_سفید پوشی ہے
ہر تگ و دو کی ہے یہی بنیاد
عید کی پیشگی مبارک باد

سیٹیاں بج رہی ہیں کانوں میں
سسکیوں اور ٹھنڈی آہوں سے
عید کا چاند کیا نظر آۓ
ڈبڈباتی ہوئ نگاہوں سے
عرض بے نطق،بے صدا ارشاد
عید کی پیشگی مبارک باد

کہہ رہی ہے زبان_حال مری
میں نے کی ہے ترقئ معکوس
روز چھپتا ہوں قرض خواہوں سے
کیسے بنواؤں خوش نما ملبوس
ہر ضرورت ہے بانجھ،بے ایجاد
عید کی پیشگی مبارک باد

تھک گیا ہے مرا رفوگر بھی
یوں ادھڑتا ہے چاک سل سل کر
کہتے ہیں عید ہنس کے ملتے ہیں
میں اگر رو پڑا گلے مل کر؟
مجھ کو اس رسم سے رکھو آزاد
عید کی پیشگی مبارک باد

ایک پتھر ہے میرے سینے میں
یا دل_ناصبور رکھتا ہوں
عید پر خوش لباس بچوں سے
اپنے بچوں کو دور رکھتا ہوں
آپ ہی صید آپ ہی صیاد
عید کی پیشگی مبارک باد

عید کے دن کہیں نکلتے نہیں
میں، مری اہلیہ، مری اولاد
اس لیے دوستوں کی خدمت میں
عید کی پیشگی مبارک باد

خوش رہیں سب بقدر _استعداد
عید کی پیشگی مبارک باد...!!




عظیم راہی


11 جولائی، 2013

ایک امت، ایک آسمان، ایک چاند


میں اکثر سوچتا ہوں کہ عین رمضان کے مہینے اور شوال کی عید کے دنوں میں ان لوگوں کی روحیں کس قدر خوش ہوتی ہوں گی، اپنی کامرانی پر ناز کرتی ہوں گی، جنہوں نے امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیں۔ ڈیورنڈ لائن کے ایک جانب عید اور دوسری جانب روزہ، پاکستان کے شہر تفتان میں روزہ اور چند قدم دور ایران کے میر جادہ میں عید، اردن میں عید اور شام میں روزہ، سعودی عرب میں عید اور عراق میں روزہ۔ میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ یہ عید اور رمضان پر چاند کا اختلاف صرف پاکستان کا ہی خاصہ ہے لیکن 2005 میں برطانیہ اور 2007 میں ایران میں رمضان گزار کر مجھے اس امت مسلمہ کی بےبسی، کسمپرسی اور بیچارگی پر بہت ترس آیا۔ سب سے زیادہ حیرت تو مجھے برطانیہ کے مسلمانوں پر ہوئی جہاں ملک بھی ایک، مطلع بھی ایک، دیکھنے والے بھی ایک، لیکن کوئی دلیل لاتا ہے کہ چاند سعودی عرب نکل آیا ہے عید کرو، کوئی کہتا ہے کہ چاند ایران میں نکل آیا عید کرو، کوئی اردن اور کوئی انڈونیشیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ جو علماءکرام وہاں عید کی نماز پڑھاتے ہیں وہ ہزاروں میل دور چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ بھی رکھواتے ہیں اور عید بھی پڑھاتے ہیں لیکن جب یہ سب اپنے ملک میں ہوتے ہیں تو ہر ایک کو اپنا ملک، اپنا مطلع، اپنی گواہی اور اپنی رویت یاد آ جاتی ہے۔

ملت اسلامیہ کو ملکوں میں تو کفار نے ایک سازش کے تحت تقسیم کیا اور ان کی لکیریں کھینچیں لیکن ہم نے ان حدود میں قید ہو کر جس طرح امت مسلمہ کو تقسیم کیا اس سے تمسخر ہمارے علماء کا اڑا، مذاق اور تضحیک کا نشانہ بھی وہی بنے۔ ایران میں ہماری طرح ایک رویت ہلال کونسل ہے۔ رمضان آیا تو 29 شعبان کے بعد لوگوں کو یوم شک کا روزہ رکھنے کے لیے کہا گیا جس کے بارے میں اعلان یہ تھا اگر دوپہر بارہ بجے تک چاند نظر آنے کا اعلان نا ہوا تو روزہ توڑ دیا جائے۔ اگلے دن ساڑھے گیارہ بجے اعلان کیا گیا کہ چاند نکلنے کی شرعی شہادتیں موصول ہوئی ہیں اس لیے آج پہلا روزہ ہے۔ میں گاڑی میں تہران شہر میں گھوم رہا تھا، ریڈیو پر اعلان ہوا، میرا ڈرائیور مسکرایا اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگا "ہمراہ آفتاب آمد" یعنی آج چاند سورج کے ساتھ ساتھ تشریف لایا ہے۔ یہ ایرانی حس مزاح کا ایک خاص پیرایہ تھا لیکن اس اعلان، اس طرح روزہ اور اس صورت پر میں جس جگہ بیٹھا، جس جگہ گیا، صرف زیر لب تبصرے تھے، مذاق تھا اور تمسخر تھا... اور نشانہ علماء۔۔ میں نے ان دونوں ملکوں میں لوگوں سے طرح طرح کے سوال کیے، سائنسدانوں سے ملا، مطلع کی بحث اور فقہ کی کتابیں کھنگالیں، لمبی لمبی طویل اور خشک بحثیں پڑھیں اور میں سوچنے لگا کہ یہ چاند کے اختلاف اور رویت اور علاقوں کی تقسیم پر امت میں اختلاف کا مسئلہ کب سے شروع ہوا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب تک خلافت عثمانیہ کی مرکزیت قائم تھی یا مسلمان اسے مرکز کی حیثیت سے تسلیم کرتے تھے، پوری امت میں ایک دن عید اور ایک دن روزہ ہوتا تھا۔

اس زمانے میں لکھے گئے مولانا محمود الحسن اور مولانا حسین احمد مدنی کے سفرناموں سے پتہ چلتا ہے کہ عرب اور ہندوستان میں چاند کی ایک تاریخ چلتی تھی۔ مولانا سید محمد میاں نے اسیران مالٹا کے نام جو سفرنامے ترتیب دیے ہیں ان میں بھی حجاز اور ہندوستان میں ایک ہی تاریخ کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یورپی طاقتوں نے جب مسلمانوں کو نسل، رنگ اور زبان کی بنیاد پر اس طرح تقسیم کیا جسے میز پر رکھ کر کیک کاٹا جاتا ہے اور ہر ایک کی اپنی اپنی سلطنت وجود میں آئی اور ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ مطلع، علیحدہ علیحدہ چاند اور علیحدہ علیحدہ عید، سب کا علیحدہ علیحدہ حج، علیحدہ علیحدہ یوم عرفات جس میں الله تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے، اور علیحدہ علیحدہ لیلتہ القدر، اگر میرے الله کو یہی مقصود اور مطلوب ہوتا تو وہ قران پاک میں لیلتہ القدر یعنی قدر والی رات کی جگہ لیلات القدر یعنی قدر والی راتوں کا ہی تذکرہ کر دیتا کہ مسلمانوں کو ان راتوں کی برکتوں سے بہرہ مند ہونے کا موقع مل سکے۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس مسئلے پر اختلاف کا عالم تو ہماری فقہ میں نظر نہیں آتا۔

رسول الله صلى الله عليه وسلم کی احادیث کا مطالعہ کریں تو وہ مشہور حدیث جسے بخاری اور مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عمرو دونوں سے روایت ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑ دو اور اگر بادل چھائے ہوں تو شعبان کی گنتی پوری کرو یعنی چاند دیکھنا ضروری ہے جسے رویت کہتے ہیں۔ اسی رویت کی بنیاد پر امت کا اختلاف غیروں کی ہنسی کا باعث ہے۔ یہ چاند اندھے، ضعیف العمر، قیدی، بچے، مسافر اور بہت سے لوگ نہیں دیکھ پاتے تو کیا ان پر روزہ فرض نہں ہوتا۔ فرض ہوتا ہے لیکن دوسروں کی شہادت کی بنیاد پر جنہوں نے چاند دیکھ لیا۔ اب اس ایک شہادت یا دو شہادتوں یا کئی شہادتوں کو ایک ملک کی حدود تک کس نے محدود کر دیا۔ حدود بھی وہ جو یورپی مشرک قوتوں نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے بنائی تھیں۔ اس شہادت کا اطلاق ڈیورینڈ لائن پر آ کر کیسے رک جاتا ہے؟۔ ایران میں شہادت کا اطلاق زاہدان پہنچ کر کیوں ختم ہو جاتا ہے۔ کیا امت مسلمہ کی حد اور الله تعالیٰ کے چاند کی حدیں بھی اسی طرح بانٹی ہوئی ہیں۔ ترمزی اور سنن ابو دائود میں جو مشہور حدیث درج ہے کہ ایک اعرابی رسول الله صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلى الله عليه وسلم الله کے رسول ہیں۔ اس نے کہا ہاں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا بلال! اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔ اس حدیث میں رسول خدا صلى الله عليه وسلم نے اعرابی سے نہ اس کا علاقہ دریافت کیا اور نا فاصلہ پوچھا بلکہ صرف مسلمان ہونے کی گواہی لی اور اس گواہی کی بنیاد پر سب کو روزہ رکھنے کو کہہ دیا۔ نہ اختلاف مطلع کی بات ہوئی اور نا دوری اور نزدیکی کی۔

فقہ کی تمام کتب کو دیکھنے کے بعد میں حیرت میں گم ہو جاتا ہوں کہ یہ سب تو ایک امت اور ایک خیال کی طرف رہنمائی کر رہی ہیں۔ احناف میں الہدایہ اور الدرالمختار میں تو یہاں تک کہہ دیا کہ اہل مشرق پر اہل مغرب کی رویت دلیل ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ اگر اہل مغرب چاند دیکھ لیں تو اہل مشرق پر روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ مالکیوں کی کتابوں ھدایة ال مجتہد، مواہب الجلیل اور قاضی ابو اسحاق نے ابن الماج ثون میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر لوگوں کے بتانے سے یہ معلوم ہو جائے کہ دوسرے ملک والوں نے چاند دیکھ لیا ہے تو روزے کی قضا واجب ہو جائے گی۔ یہی کچھ شافیوں کے ہاں المغنی اور حنابلہ کے ہاں الاحناف میں درج ہے۔ ان سب کا مفہوم یہ ہے کہ اگر امت میں کسی ایک جگہ چاند نظر آ جائے، گواہ عادل ہوں تو پوری امت پر روزہ فرض ہو جاتا ہے۔ یہ وہ قول ہے جو عین سائنس کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ہر چاند 29 دن 12 گھنٹے 28 سیکنڈ کے بعد اس دنیا کے مطلع پر طلوع ہوتا ہے۔ جس جگہ بھی وہ طلوع ہوا اگر وہاں کوئی مسلمان اسے دیکھے اور آج کے ذرائع ابلاغ کے دور امن پوری دنیا پر نشر ہو تو سب کو اطلاح ہو سکتی ہے۔ پوری دنیا کا آپس میں اوقات کا فرق 12 گھنٹے نفی اور 12 گھنٹے جمع ہوتا ہے اور مسلم امہ کی اکثریت مراکش سے انڈونیشیا تک صرف چھ سات کے ٹائم زون میں رہتی ہے۔ اب جب چاند ایک مقام پر ایک دفع طلوع ہو گیا تو وہی اول یا پہلی کا چاند ہے جو اپنا سفر جاری رکھتا ہے لیکن ہمیں نظر نہیں آتا۔ 29 دن اور 12 گھنٹے میں سے اس کا ایک دن کم ہو جاتا ہے۔ اگلے دن جس مطلع پر بھی نظر آئے وہ اپنی عمر سے ایک دن کم کر چکا ہو گا۔ مگر کمال ہے ہمارا کہ ہم اس کے تین بلکہ بعض دفعہ چار دن گزرنے کے بعد بھی اسے پہلی کا چاند، ہلال عید ہی کہتے ہیں اور پوری دنیا ہمارا تمسخر اڑاتی ہے۔

ہم قبلے کا رخ مقناطیسی سوئی سے کرتے ہیں اور سب اس پر متفق ہوتے ہیں۔ نمازوں کے اوقات کا تعین سورج کے سائنسی اعداد و شمار پر کرتے ہیں لیکن پوری امت مل کر ایک ایسا طریقہ کار وضع نہیں کرتی کہ مشرق و مغرب میں جس جگہ بھی پہلے چاند دیکھا جائے اس کا اطلاق پوری امت پر کر دیا جائے۔ اس لیے کہ الله اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک امت کی حدود نا تو تورخم پر ختم ہوتی ہیں اور نہ تفتان سے شروع ہوتی ہیں۔ کیا اسلامی ملکوں کی تنظیم جسے ایک خاموش اور مردہ تنظیم کی حیثیت حاصل ہے اپنے وسائل سے مراکش سے لے کر برونائی تک چاند کی رویت کا اہتمام نہیں کر سکتی تا کہ مسلمانوں کی بیک وقت عید ہو، رمضان شروع ہو، ایک لیلتہ القدر ہو، ایک یوم عرفات اور یوم حج ہو، یہ وہ واحد نقطہ ہے کہ اگر صرف ایک نقطے پر عمل کر لیا گیا تو دیکھنا کیسے اس امت میں افتراق ڈالنے والا مغرب بے چین ہو گا، اس کی راتوں کی نیند حرام ہو گی لیکن کیا کریں ہماری تو دکانیں اختلاف سے سجتی ہیں۔ ہم برطانیہ میں ایک مطلع اور ایک ملک ہونے کے باوجود تین تین عیدیں پڑھاتے ہیں۔ ہمیں اپنے اپنے ملک کی رویت ہلال کمیٹیاں عزیز ہیں۔ ہم کسی دوسرے ملک کے چاند کو اس لیے امت مسلمہ کا چاند نہیں مانتے کہ وہاں کا مسلک ہمارے مخالف ہے حالانکہ چاند تو میرے رب کا ایک ہے، ساری کائنات کے لیے، سارے مسلمانوں کے لیے، ہم کتنے ظالم ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم کی بعثت کو پوری دنیا کے انسانوں کے لیے مانتے ہیں لیکن چاند اپنے مطلع پر طلوع کرتے ہیں۔ اس لیے کہ تمام مطلع مغربی استعمار نے ہمارے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں۔

اوریہ مقبول جان

Tags: aik ummat, aik chand, royet halal committee, moon, orya maqbool jan, eid,
ramazan, shawal, 

20 اگست، 2012

ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے



 فلسطین: نماز عید کی امامت منتخب فلسطینی صدر اسماعیل ھنیہ نے کی ۔ عید سے چند روز قبل اسرائیل نے عثمانی دور کی تاریخی مسجد میں شراب میلہ منانے کا اعلان کیا تھا۔ دنیا بھر میں اس پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کشمیر : حریت پسند رہنما علی گیلانی اور یاسین ملک عید سے ایک روز قبل گرفتار کر لیے گئے ۔۸۲ سالہ علی گیلانی کو عید کے روز نظر بند کر کے سو پور میں نماز عید کی امامت سے روک دیا گیا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
شام: شام میں عید کے روز بشار الاسد نامی خونی درندے کی پالتو سکیورٹی فورسزکی کارروائی میں سو سے زائد افرادہلاک ہوگئے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
برما : ہزاروں برمی بے گھر مسلمانوں نے پناہ گزین کیمپوں میں روز عید گزارا۔ برمی حکومت نے یواین او، صحافیوں، این جی اوز، اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت بیرونی عناصر کی علاقے میں جانے پر سخت پابندی لگا رکھی ہے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
پاکستان : شمالی وزیرستان میں روزعید امریکی ڈرون حملوں میں سات معصوم پاکستانی بے خطا مارے گئے۔ اگلے دن مزید دو حملوں میں گیارہ افراد ہلاک۔ ان پر نہ تو کوئی مقدمہ چلا، نہ ان کے جرم کے کوئی ثبوت کسی کو دکھائے گئے۔ یہ کسی بااثر ہستی کے مقرب نہیں تھے ۔ عام انسان تھے۔ اس لیے ان کا قتل درجنوں میں ہوتا ہے اور عید کے روز ہوتا ہے۔ ان کےنام کیا تھے؟یہ کون تھے؟ کیا کرتے تھے؟ کوئی نہیں جانتا ، امریکا بیان جاری کرتا ہے کہ یہ فلاں گروپ سے تھے اور ہم دنیا کی اس جھوٹی ترین، بے شرم ترین قوم کی بات مان لیتے ہیں جس نے عراق میںWMDs کا سفیدجھوٹ بولا تھا ؟؟؟ پاکستانی میڈیا پر کوئی ان کے لیے نہیں روتا۔ جن کے لیے اپنے نہ روئیں ان کے لیےکون روتا ہے؟
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
جرمنی : عید کے روز جرمن مسلم مساجد کے باہر اسلام مخالف جرمن انتہا پسند تنظیم نے عدالت کی اجازت سے پولیس کی حفاظت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گستاخانہ خاکوں والے پلے کارڈ اٹھا کر مظاہرہ کیا۔ ’’ جرمنی میں اسلام کی کوئی جگہ نہیں‘‘ نعرے لگائے۔ جرمن عدالت نے آخری عشرے میں مسلمانوں کی درخواست کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے’’فن کی آزادی ‘‘کے نام پر ان خاکوں کی اشاعت کی اجازت دی تھی جو ۲۰۰۵ میں ڈنمارک کے ملعون کارٹونسٹ نے بنائے تھے۔


پیام عيش و عشرت ہمیں سناتا ہے
ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے


یہ پونے دو ارب آبادی کی حامل امت مسلمہ کی حالت زار کی ایک ہلکی سی جھلک ہے ۔ کیا اس امت کے بیٹے بیٹیوں کو یہ زیبا ہے کہ ان کی عید لغو کھیل تماشوں میں گزرے ؟
••••••••••••••••••••••••••••••••••••• 

 

18 اگست، 2012

عید مبارک



امید کرتا ہوں کہ آپ سب ٹھیک ٹھاک ، ایمان کی بہترین حالت میں‌ اس پیغام کو پڑھ رہے ہونگے۔ میری طرف سے آپ سب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں اور اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ آپ ہمیشہ خوشیوں سے بھرپور عیدیں منائیں ۔آمین

میری سب قارئیں سے التماس ہے کہ خوشی کے اس موقع پر اپنے مصیبت زدہ بہنوں اور بھائیوں کو مت بھولیں ۔ جو غربت کی سطح سے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں اور ان کے لئے گھر میں‌ایک وقت کی ہانڈی روٹی کرنا بھی محال ہے۔ اور وہ لوگ بھی جب شام کو گھروں کو لوٹتے ہیں تو ان کے بچے ان کی طرف حسرت بھری اور پُر امید نظروں سے دیکھتے ہیں کہ شاید ان کا باپ یا بھائی ان کے لیے کوئی عید گفٹ لایا ہو لیکن وہاں کچھ نہ پاکر ان کے معصوم چہروں پہ مایوسی پھیل جاتی ہے ان کے معصوم ذہنوں پہ اس وقت کیا گزرتی ہے اس کیفیت کے بارے میں‌ یا تو اللہ پاک بہتر جانتا ہے یا وہ لوگ جو اس کیفیت سے گزرتے ہیں۔ میری اللہ پاک سے التجا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے۔ ہم سب کو چاہئیے کہ ہم ان لوگوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں کیونکہ ہماری طرح ان کا بھی ان خوشیوں کو منانے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہمارا ہے۔ بھلے ابھی ان کےلئے حالات سازگار نہیں ہیں لیکن ان شا اللہ یہ وقت بھی بدل جائے گا۔ لیکن آج کی آپ کی ان کے ساتھ کی گئی نیکی، مسکراہٹ کے ساتھ بڑھایا گیا ہاتھ یہ وہ لمحے ہیں جن کو وہ کبھی بھی بھلا نہیں‌ پائیں گے۔ اور ان کے دلوں سے آپ کے لئے سچی دعائیں نکلیں گی۔

عید کے موقع پر اپنے ان مسلمان بھائی بہنوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جنھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

اللہ ہم سب کو نیکی کرنے کی توفیق دے۔ آمین

ایک بار پھر آپ سب کو میری طرف سے بہت بہت عید مبارک ہو۔

تَقَبَّلَ اللَّہ ُ مِنَّا و مِنکُم