ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

10 ستمبر، 2012

حیادار بیٹیوں کو رسواکرنیوالے بے شرم...

حیادار بیٹیوں کو رسواکرنیوالے بے شرم... 


حکومت کو کہا گیا کہ فحاشی و عریانی کی تعریف کریں مگر حکومتی ذمہ دار مذاق بلکہ تضحیک کرنے پر اتر آئے۔ 27 اگست کو اسلام آباد میں پیمرا کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں چند ایک شرکا نے مطالبہ کیا تھا کہ فحاشی کے مسئلہ پر غوروخوض کے لیے خواتین کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے۔ بلاشبہ پاکستانی خواتین کی نمائندگی ضروری تھی مگر ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ حکومتی ذمہ دار کیا کر رہے ہیں۔ 13 ستمبر کو کراچی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کے نام دینے سے متعلقہ حکام ہچکچاہٹ کا شکار ہیں مگر وزارت اطلاعات کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق کراچی کے اجلاس کے لیے ایک شرارت کی جا رہی ہے۔ میرے استفسار پر کہ شرارت کیا ہے تو بتایا گیا کہ فحاشی کی حدوں کا تعین کرنے کے لیے(اگر تمام نہیں تو اکثر) ایسی خواتین کا انتخاب کیا گیا ہے جوسیکولر اور لبرل طبقہ کی نمائندہ توہو سکتی ہیں لیکن اپنے خیالات، سوچ اور فلسفہ کی بنیاد پر پاکستان کی 51فیصد عورتوں کی نمائندگی کرنے کی اہل نہیں۔ میرے استفسار پر مجھ سے کہا گیا کہ کیا ہو اگرپاکستان کی عورتوں کی نمائندگی کرنے کے لئے ماروی سرمد، نائلہ جوزف ڈیال، شیما کرمانی، فرزانہ باری، ثمینہ پیر زادہ، زیبا حسین، عتیقہ اوڈھو اور کشور ناہید کو کراچی کے اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا۔ میں نے جوابا کہامذاق مت کریں جس پر مجھے بتایا گیا کہ تین اور خواتین جن میں عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی اور فوزیہ سعید شامل ہیں کو بھی مدعو کیا گیا تھا مگر اپنی مصروفیت کی بنا پر انہوں نے اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہر کی۔ اسے شرارت کہیں یا سازش (جس کا شاید مدعو کی گئی خواتین کو بھی علم نہ ہو) لیکن سچ پوچھیں تو جیسے ہی میں نے یہ نام سنے مجھے حکومتی ذمہ داروں کا سارا کھیل سمجھ میں آ گیا اور یہ بھی کہ نام کیوں چھپائے جا رہے تھے۔ بات صاف ہے کہ حکومتی ذمہ دار فحاشی اور انڈین کلچر کو پھیلانے کے کھیل میں شامل ہیں اور وہ اس مسئلہ کو حل نہیں ہونے دینا چاہتے بلکہ گند پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

چونکہ میں بھی کراچی کے اجلاس کے لیے مدعو تھا مگر میر ے لیے اس مذاق کو برداشت کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے ایک بڑے ذمہ دار کو لکھ بھیجا کہ میں احتجاجا اب اس کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتا۔ ایک ایسی کارروائی جو سنجیدہ نہ ہو۔ مجھے مدعو کی گئی خواتین سے نہ کوئی ذاتی عناد ہے نہ دشمنی، مگر یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ خواتین پاکستان کی عورتوں کی نمائندہ کیسے ہو گئیں۔ میں سب کے بارے میں نہیں کہتا مگر اکثر کا اس سوچ سے تعلق ہے جو مغرب زدہ، سیکولر اور روشن خیال تو کہی جا سکتی ہیں مگر اسلامی نہیں ہو سکتیں۔ ایک صاحبہ تو ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہیں، تو دوسری پاکستان کی نامور رقاصہ اور رقص کی تربیت بھی دیتی ہیں جبکہ ایک اور صاحبہ نے میرے ساتھ ایک ٹی وی ٹاک شو کے دوران یہ بات کہی کہ رقص پاکستان میں رہنے والوں کے کلچر کا حصہ ہے۔ ان میں سے ایک خاتون شراب لے جاتے ائیرپورٹ پر پکڑی گئیں۔

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ان تمام خواتین کو کسی بھی دوسرے شخص کی طرح اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے مگر یہاں مذاق یہ ہو رہا ہے کہ ان کو پاکستان کی عورتوں کی نمائندہ ہونے کے ناطے اجلاس میں بلایا جا رہا ہے تا کہ وہ فحاشی کے مسئلہ پر بات کر سکیں۔ اگر پاکستان کی عورتوں کی نمائندہ خواتین کو بلانا ہی تھا اور وہ بھی فحاشی جیسے مسئلہ پر گفتگو کے لیے تو پھر ایک مخصوص سیکولر سوچ کی بجائے فریال ٹالپر، مہرین انور راجہ، یاسمین رحمان، مریم نواز، نصرت پرویز اشرف، فوزیہ قصوری، جسٹس ناصرہ اقبال، غزالہ سعد رفیق، شاہینہ وقار، ڈاکٹر فرحت ہاشمی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، عامرہ احسان، طیبہ خانم بخاری، ثمینہ خاور حیات، سیمل کامران، عائشہ انس، فاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین اور بانو قدسیہ جیسی مختلف طبقہ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین حکومتی ذمہ داروں کو کیوں نظر نہیں آئیں۔ جن کو بلایا گیا ان کی اکثریت کیا آئین پاکستان کی اسلامی شقوں اور نظریہ پاکستان سے متفق ہے؟ کیا وہ قادیانیوں کو غیر مسلم تسلیم کرتی ہیں؟ قانون ناموس رسالت پر ان کی کیا رائے ہے؟ اورآیا میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی و عریانیت ان کے لیے بھی اسی طرح تکلیف دہ مسئلہ ہے جس طرح یہ کسی عام پاکستانی مسلمان خاندان کا ہے؟ حکومتی ذمہ داروں کی غیر سنجیدگی اپنی جگہ مگر میں اس مذاق کو برداشت نہیں کر سکتا۔ سپریم کورٹ میں جا کر فرماتے ہیں کہ فحاشی ہے کیا اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فحاشی کی تعریف کر کے لائیں تو یہ تماشا شروع کر دیا جاتا ہے۔ میں نے تو 27 اگست کے اجلاس میں کہہ دیا تھا کہ مجھے حکومتی ذمہ داروں سے کوئی امید نہیں کہ وہ آئین و قانون کا نفاذ کرتے ہوئے اس برائی کے سدباب کے لیے کام کریں گے۔ میں نے تو قاضی حسین احمد کی اس تجویز کی مکمل حمایت کی تھی کہ فحاشی کی تعریف کے لیے پارلیمنٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کو ذمہ داری سونپی جائے جو نہ صرف آئینی ادارے ہیں بلکہ عوام کے نمائندہ بھی، اور پھر اس اہم معاشرتی مسئلہ پر مذاق کرنے والوں کوتو قانون یہ اختیار بھی نہیں دیتا کہ وہ فحاشی جس کو پھیلانے میں ان کا اپنا بنیادی کردار ہے اس کی تعریف کریں۔ یہ کام تو پارلیمنٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کواسلام کی مقرر کی گئی حدوں کو توڑنے اور ان کا مذاق اڑانے سے بچائے۔ آمین۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ 27 اگست کے اجلاس میں پیمرا کے ذمہ داروں کو میں نے کہا تھا کہ قرآن اورحدیث کے علاوہ انہوں نے فحاشی کے متعلق دنیا بھر کی تعریفیں اجلاس کے سامنے پیش کر دیں۔ اجلاس کے بعد مجھے بتایا گیا کہ presentation میں قرآن پاک کے حوالے تھے مگر اجلاس سے قبل ان کو نکلوا دیا گیا تھا۔


5 ستمبر، 2012

سیکولر مسلمان



اگر کوئی شخص لادین ہو یا کسی ایسے مذہب پر یقین رکھتا ہو جس میں اجتماعی احکام نہ پائے جاتے ہوں تو وہ باآسانی خود کو سیکولر قرار دے سکتا ہے لیکن ایک شخص کا خود کو بیک وقت مسلمان اور سیکولر قرار دینا ایک عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔

اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں ایک سیکولر مسلمان ہوں تو گویا وہ اللہ تعالی سے یہ کہہ رہا ہوتا ہے: "یا اللہ! میں تیرا بندہ ہوں۔ میں انفرادی زندگی میں تیرے ہر حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں البتہ اجتماعی زندگی میں میں تیرے کسی حکم کی پابندی نہیں کروں گا۔ اگر میری حکومت کوئی ایسا قانون بنائے گی جو تیرے حکم کے خلاف ہو گا تو میں تیرا حکم ہرگز نہیں مانوں گا۔"

یہ سیکولر مسلمان کی زندگی میں پیدا ہو جانے والا ایک ایسا تضاد ہے جس کا کوئی حل ممکن نہیں ہے۔ اگر خود کو سیکولر مسلمان کہنے والے کوئی صاحب اس تضاد کا حل پیش کر سکیں تو مجھے خوشی ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ بیک وقت ایک اچھا سیکولر اور مسلمان بننا ممکن نہیں ہے۔

اسلام کا تصور سیکولر ازم سے مختلف ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دین میں پورے کے پورے داخل ہوں، اس کے تمام احکام کو مانیں اور ان پر عمل کریں۔ دین پر جزوی عمل کی گنجائش اسلام میں نہیں ہے۔ کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ذاتی زندگی میں تو دین کے احکام پر عمل کروں گا مگر اجتماعی زندگی میں، دین سے کوئی واسطہ نہ رکھوں گا۔


تحریر: محمد مبشر نذیر
Tags:
secular Islam
Can a muslim be secular?
secularism.

2 ستمبر، 2012

عمر مختار سے ملا عمر تک

عمر مختار سے ملا عمر تک 

تحریر عنایت اللہ صاحب



29 اگست، 2012

یہ دیوانگی عام دیوانگی نہیں



جی ہاں ! یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ فتح اورکامرانی ہمیشہ حق وصداقت کے حصے میں آتی ہے اورشکست وریخت باطل کی قسمت میں لکھی ہے

چاہے وہ کتنا ہی بڑا اور طاقتورکیوں نہ ہو یہی اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب قرآن کریم کا فیصلہ بھی ہے کہ ” ان الباطل کان زہوقا“ ہم تسلیم کرتے ہیں اورتاریخ بھی بتاتی ہے کہ دنیا میں باطل قوتیں اکثروبیشتر بڑے کرّوفر کے ساتھ میدان میں آئیں، کئی چھوٹی اوربے بس قوموں کو محکوم بنایا، بستیوں کی بستیاں اجاڑ کررکھ دیں، بسے بسائے شہروں کو کنڈرات میں تبدیل کردیا، ہنستے بستے، مسکراتے گھرانوں کو تباہ وبرباد کیا، حکومتوں کو زیرنگیں کیا، بڑے بڑے قیمتی خزانوں کو لوٹا، اوراپنے لاؤ لشکر، مالی وسائل اورمال ودولت پر غرور کے انتہا تک پہنچے یہاں تک کہ خدائی کا دعویٰ کربیٹھے، اوراپنے جیسے انسانوں کو اپنی عبادت اورغلامی پر مجبور کیا، لیکن ان ساری باتوں کے باوجود باطل کے ہاتھ کبھی بھی آخری فتح وکامرانی سے ظفریاب نہیں ہوئے بلکہ یہ باطل قوتوں کی پرانی روش رہی ہے کہ وقت آنے پر انہوں نے حق و صداقت کے مقابلے میں اپنی کمزوری اور ناتوانی کا اعتراف کھلے دل سے کیا ہے۔

تاریخ کے صفحات ان کے شکستوں اوربعد ازاں ان کی کمزوری اورناتوانی کے اعترافات کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں اوراس کی زندہ مثال ہمارے پیارے وطن افغانستان میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے، جہاں مالی ، مادی اور جدید وسائل سے محروم نہتے مجاہدین کے مقابلے میں باطل قوتیں تین مرتبہ عبرتناک شکست سے دوچار ہو چکی ہیں

پہلی بار، جب برطانوی استعمار نے افغانستان کے غیورعوام پر ہلہ بول دیا تھا، ان پر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش تھی اس پاک سرزمین پر اپنے ناپاک جھنڈے گاڑنے کے خواب دیکھے تھے لیکن انہیں ان خوابوں کی ایسی بھیانک تعبیر ملی کہ وہ اس قسم کے خواب ہی دیکھنا بھول گئے اورہمیشہ کی طرح اس بار بھی شکست ان کا مقدر بن کر رہ گئی۔

دوسری بار جب اپنی طاقت کے نشے میں چور سرخ ریچھ آنکھیں بند کرکے افغان عوام کو پامال کرنے آدھمکا، لاکھوں بچوں کویتیم اورخواتین کے سرتاج چھین لئے، لاکھوں ماؤں کے امید اورسہاروں کو لیکن بالآخر اس کے قدم بھی اکھڑ گئے اور وہ اپنی تمام تر آرزوئیں تمنائیں دل ہی دل میں لئے دم دبا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا اوراب تک اپنے زخموں کا چاٹ رہا ہے۔

تیسری بار سفید ہاتھی امریکہ کی قیادت میں غاصب مغربی اتحاد جو افغان سرزمین کو چند گھنٹوں میں فتح کرنے کا ارادہ لے کر آئے تھے لیکن ان کے یہ چند گھنٹے گیارہ سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پورے نہ ہوئے اور اور وہ افغان سرزمین کو دلدل کہہ کر راہ فرار تلاش کرنے کی فکر میں ہے۔

آخرالذکر گروہ جب افغانستان پر حملہ کرنے کی تیاری کررہا تھا پھر جب اس نے نہتے اورغیرمسلح افغان عوام ڈیزی کٹر بموں کی بارش کردی اور پھر جب وہ اپنی مکاری اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے گمان میں افغانستان پر قابض ہوا۔ ان تینوں حالتوں میں کامل ایمان اورمضبوط عقیدہ کے حامل لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکہ کا یہ غلبہ وقتی ہے اورامریکی اوراس کے اتحادیوں کا انجام روس سے بھی بدتر اوربھیانک ہوگا۔ انجام کار کامیابی وکامرانی مسلمان مجاہدین کا مقدر ہو گی۔

اس کے مقابلے میں مادی وسائل پر یقین رکھنے والے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اورطاقت سے ناواقف تھے احساس کمتری کا شکارہونے کی وجہ سے امریکہ کو خدائی کا درجہ دے بیٹھے تھے، جو امریکہ اوراس کی جدید ٹیکنالوجی کو ناقابل شکست خیال کرتے تھے اور اپنی شاندارماضی سے بے خبر امریکہ کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ وہ لوگ نہتے، غیرمسلح، منافقت بھری سیاست سے ناآشنا جدید ٹیکنالوجی سے محروم گنتی کے چند سرپھرے نوجوانوں کا امریکہ جیسی ”عالمی“ طاقت کو شکست سے دوچارکرنا حماقت اورپاگل پن خیال کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ امریکہ کی ہر بات ہر جائز ناجائز مطالبہ بلا چوں وچرا مان کر اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان پاگل ہیں جو امریکہ کا مقابلہ کرنے نکلے ہیں امریکہ کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا گویا کہ چیونٹی کا ہاتھی کو میدان میں آنے کی چیلنج دینا ہے ۔ یہ امریکا کی ”عظیم طاقت“ سے نا آشنا ہیں جس کا اندازہ انہیں تب ہی ہو گا جب وہ امریکہ کی طاقت کو دیکھ لیں گے۔

جی ہاں ! یہ بات بالکل بجا ہے کہ طالبان دیوانے تھے لیکن یہ دیوانگی عام دیوانگی نہیں بلکہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی عظمت اوردھاک دنیا پر بٹھانے کی دیوانگی تھی یہ وہ دیوانگی تھی جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ یہ بات بھی مسلم ہے کہ طالبان جو جدید ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھے لیکن وہ مضبوط ایمانی قوت یقین اور اپنے رب ذوالجلال کی مدد اورتائید سے مکمل طور پر آراستہ و پیراستہ تھے۔ ایک ایسی قوت جس کے سامنے دنیا بھر کی قوتیں ہیچ ثابت ہوتی ہیں، ایسی تائید جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کرسکتی ۔ دنیا طالبان کو نادان سمجھ رہی تھی لیکن حقیقت میں وہ بڑے صاحب فراست وبصیرت تھے، وہ بڑے دوراندیش اور حالات کی دھار کو سمجھنے کی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک تھے یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ اوراس کے پٹھوؤں کے ساتھ وہی کچھ ہوا جس کی پیشین گوئی طالبان نے امریکہ کی آمد پر کی تھی۔


دنیا نے دیکھا اوردیکھ رہی ہے کہ وہ عالمی قوتیں جو چند ہی دنوں میں طالبان کا نام صفحہ ہستی سے مٹانے کے ناپاک عزائم لے کر دوڑے دوڑے چلے آئے تھے وہ گیارہ برس گزرنے کے باوجود ناصرف یہ کہ طالبان کو شکست دینے میں ناکام رہے بلکہ خود ہی شکست خوردہ ہو کر اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ آج چیخ چیخ کر شکست کا اعتراف کر رہے ہیں اور خطیرمالی نقصانات کے ساتھ ساتھ اتنے جانی نقصانات سے دوچار ہو گئے ہیں کہ لاکھ کوششوں کے باوجود ان کا پوشیدہ رکھنا ان کے لئے تقریبا ناممکن رہا اور انہیں اعتراف شکست کے علاوہ کوئی راہ دکھائی نہیں دی تو لاچار ہو کر نیٹو افواج نے اعتراف کیا کہ اس جنگ میں ہمارے ایک لاکھ ترپن ہزار فوجی زخمی ہو کر معذور، مفلوج اورہمیشہ کے لئے بے کار ہو چکے ہیں۔ اب جب کہ زخمی ہوکر مفلوج ہونے والوں کی تعداد ان کے بقول اتنی ہے۔ البتہ موت کے بعد امریکہ لے جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے کیونکہ امریکی افواج میں شامل حرام کی پیداوار فوجی مرنے کے بعد سمندر برد کیے جاتے ہیں۔ امریکہ صرف انہی فوجیوں کی لاشیں جاتی ہیں جن کا باپ یا ماں موجود ہو۔ بہرحال مرنے والوں اورزخمی ہوکر بے کارہوجانے والوں کی اصل تعداد تب معلوم ہوگی جب یہ عالمی خونخواربھیڑیے شکست کھا کر بھاگ جائیں گے اورنیٹومیں خدمات سرانجام دینے والے جرنیل ریٹائرڈ ہو کر اپنی سرگزشت لکھیں گے تووہ افغانستان میں کام آنے والے نیٹوفوجیوں کی صحیح اور درست تعداد بھی لکھیں گے۔

دلدل میں پھنس کر دن بدن ہلاکتوں میں اضافوں اورمالی نقصانات کی زیادتی کے پیش نظر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو چاہئے کہ اس دورازکار جنگ کو بند کردے افغانستان کی خودمختاری اور افغان عوام کی آزاد طبعی کو تسلیم کرے اپنی عوام اور رعایا پر رحم کرے اور اپنی فوج کومزید مفلوج اورمعذور بنانے سے بچائے۔

الجھا ہے پاؤں یار کازلف دراز میں
لو ! آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا




24 اگست، 2012

نوجوانوں کی گرتی پینٹ!!


نوجوانو آپ کی پینٹ ڈھیلی کیوں پڑتی جا رہی ہے؟

اس کو تھام کر رکھیں اور اپنی بیلٹیں ٹائٹ کریں۔
 (اگر بیلٹ نہیں خرید سکتے تو اپنی گرتی ہوئی پینٹ کو سہارا دینے کے لیے ازار بند کا استعمال کریں) 
شکریہ  
نوٹ: یقین کیجیے آپ کی بیک دیکھنے کا کسی کو بھی شوق نہیں۔


فحاشی اس کو کہتے ہیں




Tags:

fahashi is ko kehtay hain.
tayaba zia cheema, newyork, maktob amrica
فحاشی اس کو کہتے ہیں
مکتوب امریکہ
طیبہ ضیاء چیمہ نیویارک

22 اگست، 2012

مجھے اپنے اللہ پر بہت پیار آ رہا تھا



کچھ دیر پہلے کی بات ہے میں بچوں کے ساتھ ایک مارکیٹ میں بچوں کو آئس کریم کھلانے کیلئے لیکر گیا حسب معمول لائٹ بند تھی جنریٹر کے ذریعے روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہمارے قریب کی ٹیبل پر ایک باریش نوجوان لڑکا بیٹھا ہوا تھا اس کے ساتھ تین لڑکیاں اور ایک بزرگ خاتون بیٹھی ہوئی تھیں۔ باتوں سے معلوم ہورہا تھا وہ لڑکا اور بچیاں ان خاتون کے بچے تھے اور وہ بھی ہماری طرح آئس کریم سے لطف اندوز ہونے آئے تھے اچانک بجلی آ گئی۔

قریب ہی ایک سگریٹ پان والے کا کھوکھا تھا بجلی آتے ہی اس نے پڑے پڑے لاؤڈ سپیکر والا کیسٹ پلیئر چلا دیا اور جو گانا اس پر چل رہا تھا وہ پاکستان کی ملکہ ترنم نصیبو لال کا انتہائی لچر اور فحش تھا۔ ہمارے قریب بیٹھی ہوئی خاتون اور ان کے بچوں پر اس قدر کرب انگیز تاثرات تھے کہ بیان کرنا مشکل ہے وہ آپس میں ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے جب کہ ہر کوئی بے نیازی سے اپنی اپنی جگہ خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے خود ان بچیوں سے شرم سی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک بار جی میں آئی کہ اس پان والے سے بات کروں لیکن پھر رک گیا۔ میرا دل بہت تکلیف میں تھا ایک ایسا ہی کرب اس فیملی کے چہرے سے صاف نظر آ رہا تھا۔ اچانک دوبارہ بجلی چلی گئی۔ بجلی کے جاتے ہی وہ شور شرابہ بھی تھم گیا۔ یقین کیجئے میرے دل سے پہلی بار اس حکومت کیلئے دعا نکلی وہ لوگ بھی مطمئن نظر آ رہے تھے۔

میں اپنے رب کی حکمت کا پہلے سے بھی قائل تھا لیکن اس وقت مجھے اپنے اللہ پر بہت پیار آ رہا تھا جس نے ہم جیسوں کے بندوبست کیلئے انتہائی مناسب حکمرانوں کا بندوبست کر رکھا ہے۔




20 اگست، 2012

ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے



 فلسطین: نماز عید کی امامت منتخب فلسطینی صدر اسماعیل ھنیہ نے کی ۔ عید سے چند روز قبل اسرائیل نے عثمانی دور کی تاریخی مسجد میں شراب میلہ منانے کا اعلان کیا تھا۔ دنیا بھر میں اس پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کشمیر : حریت پسند رہنما علی گیلانی اور یاسین ملک عید سے ایک روز قبل گرفتار کر لیے گئے ۔۸۲ سالہ علی گیلانی کو عید کے روز نظر بند کر کے سو پور میں نماز عید کی امامت سے روک دیا گیا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
شام: شام میں عید کے روز بشار الاسد نامی خونی درندے کی پالتو سکیورٹی فورسزکی کارروائی میں سو سے زائد افرادہلاک ہوگئے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
برما : ہزاروں برمی بے گھر مسلمانوں نے پناہ گزین کیمپوں میں روز عید گزارا۔ برمی حکومت نے یواین او، صحافیوں، این جی اوز، اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت بیرونی عناصر کی علاقے میں جانے پر سخت پابندی لگا رکھی ہے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
پاکستان : شمالی وزیرستان میں روزعید امریکی ڈرون حملوں میں سات معصوم پاکستانی بے خطا مارے گئے۔ اگلے دن مزید دو حملوں میں گیارہ افراد ہلاک۔ ان پر نہ تو کوئی مقدمہ چلا، نہ ان کے جرم کے کوئی ثبوت کسی کو دکھائے گئے۔ یہ کسی بااثر ہستی کے مقرب نہیں تھے ۔ عام انسان تھے۔ اس لیے ان کا قتل درجنوں میں ہوتا ہے اور عید کے روز ہوتا ہے۔ ان کےنام کیا تھے؟یہ کون تھے؟ کیا کرتے تھے؟ کوئی نہیں جانتا ، امریکا بیان جاری کرتا ہے کہ یہ فلاں گروپ سے تھے اور ہم دنیا کی اس جھوٹی ترین، بے شرم ترین قوم کی بات مان لیتے ہیں جس نے عراق میںWMDs کا سفیدجھوٹ بولا تھا ؟؟؟ پاکستانی میڈیا پر کوئی ان کے لیے نہیں روتا۔ جن کے لیے اپنے نہ روئیں ان کے لیےکون روتا ہے؟
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
جرمنی : عید کے روز جرمن مسلم مساجد کے باہر اسلام مخالف جرمن انتہا پسند تنظیم نے عدالت کی اجازت سے پولیس کی حفاظت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گستاخانہ خاکوں والے پلے کارڈ اٹھا کر مظاہرہ کیا۔ ’’ جرمنی میں اسلام کی کوئی جگہ نہیں‘‘ نعرے لگائے۔ جرمن عدالت نے آخری عشرے میں مسلمانوں کی درخواست کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے’’فن کی آزادی ‘‘کے نام پر ان خاکوں کی اشاعت کی اجازت دی تھی جو ۲۰۰۵ میں ڈنمارک کے ملعون کارٹونسٹ نے بنائے تھے۔


پیام عيش و عشرت ہمیں سناتا ہے
ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے


یہ پونے دو ارب آبادی کی حامل امت مسلمہ کی حالت زار کی ایک ہلکی سی جھلک ہے ۔ کیا اس امت کے بیٹے بیٹیوں کو یہ زیبا ہے کہ ان کی عید لغو کھیل تماشوں میں گزرے ؟
••••••••••••••••••••••••••••••••••••• 

 

18 اگست، 2012

عید مبارک



امید کرتا ہوں کہ آپ سب ٹھیک ٹھاک ، ایمان کی بہترین حالت میں‌ اس پیغام کو پڑھ رہے ہونگے۔ میری طرف سے آپ سب کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں اور اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ آپ ہمیشہ خوشیوں سے بھرپور عیدیں منائیں ۔آمین

میری سب قارئیں سے التماس ہے کہ خوشی کے اس موقع پر اپنے مصیبت زدہ بہنوں اور بھائیوں کو مت بھولیں ۔ جو غربت کی سطح سے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں اور ان کے لئے گھر میں‌ایک وقت کی ہانڈی روٹی کرنا بھی محال ہے۔ اور وہ لوگ بھی جب شام کو گھروں کو لوٹتے ہیں تو ان کے بچے ان کی طرف حسرت بھری اور پُر امید نظروں سے دیکھتے ہیں کہ شاید ان کا باپ یا بھائی ان کے لیے کوئی عید گفٹ لایا ہو لیکن وہاں کچھ نہ پاکر ان کے معصوم چہروں پہ مایوسی پھیل جاتی ہے ان کے معصوم ذہنوں پہ اس وقت کیا گزرتی ہے اس کیفیت کے بارے میں‌ یا تو اللہ پاک بہتر جانتا ہے یا وہ لوگ جو اس کیفیت سے گزرتے ہیں۔ میری اللہ پاک سے التجا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے۔ ہم سب کو چاہئیے کہ ہم ان لوگوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں کیونکہ ہماری طرح ان کا بھی ان خوشیوں کو منانے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ہمارا ہے۔ بھلے ابھی ان کےلئے حالات سازگار نہیں ہیں لیکن ان شا اللہ یہ وقت بھی بدل جائے گا۔ لیکن آج کی آپ کی ان کے ساتھ کی گئی نیکی، مسکراہٹ کے ساتھ بڑھایا گیا ہاتھ یہ وہ لمحے ہیں جن کو وہ کبھی بھی بھلا نہیں‌ پائیں گے۔ اور ان کے دلوں سے آپ کے لئے سچی دعائیں نکلیں گی۔

عید کے موقع پر اپنے ان مسلمان بھائی بہنوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جنھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

اللہ ہم سب کو نیکی کرنے کی توفیق دے۔ آمین

ایک بار پھر آپ سب کو میری طرف سے بہت بہت عید مبارک ہو۔

تَقَبَّلَ اللَّہ ُ مِنَّا و مِنکُم