ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

امریکہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
امریکہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

3 جنوری، 2015

ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا …اوریا مقبول جان

پرچم اتار دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فاتح اقوام کے سب سے بڑے اتحاد اور دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوتوں کا پرچم۔ وہ قوتیں جو آج سے تیرہ سال قبل دھاڑتی، چنگھاڑتی ہوئی اس کمزور، وسائل اور ٹیکنالوجی سے محروم ملک، افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔
دنیا بھر کے لیے ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی کہ اگر تم ہمارے ساتھ اس کمزور ملک سے جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر ہمارے دشمن ہو۔ 2001ء کی سردیاں اس ملک کے لیے عذاب کی صورت بنا دی گئیں۔ دنیا بھر میں سے تین ملک ایسے تھے جو اس ملک پر برسرِ اقتدار طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے۔ جن میں سے ایک پڑوسی پاکستان بھی تھا۔ باقی پڑوسی ایران اور تاجکستان تو ویسے ہی ان کے خلاف شمالی اتحاد کو ہر طرح کی مدد دیتے ہوئے جنگ میں شریک تھے۔
لیکن جس پڑوسی نے انھیں ایک قانونی حکومت تسلیم کیا تھا، اسی پڑوسی کی سرزمین ان پر حملے کے لیے استعمال ہوئی۔ دنیا نے اس ملک کو دہشت گردی کا مبنع قرار دیا اور پھر دو سو کے قریب ممالک میں سے اڑتالیس ممالک نے اپنی فوجیں وہاں اتار دیں۔ دشمن پڑوسیوں میں گھرا ہوا یہ ملک، ایک جانب پاکستان جہاں سے57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے اس سرزمین پر بم برسائے، دوسری جانب تاجکستان جس نے قلاب والا زمینی راستہ دیا تا کہ نیٹو افواج شمالی اتحاد کے جلو میں اندر داخل ہو سکیں اور تیسری جانب ایران جس کے پاسداران شمالی اتحاد اور حزبِ وحدت کے ساتھ اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ تیرہ سال قبل اس دنیا میں ٹیکنالوجی کے بت کی پرستش کرنے والے کیسی کیسی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ پہلے چند ماہ تو ایسے تھے کہ ہر کوئی بلند آواز میں پکار رہا تھا، دیکھو ٹیکنالوجی نے آج اُس قوم کو شکست دے دی ہے۔ جس سے کوئی نہ جیت سکا۔ کوئی ان کے بھاگنے کے قصے سناتا اور کوئی کہتا کہ یہ تو چند ہزار لوگ تھے جنھیں کچھ طاقتوں نے اکٹھا کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں تو دیکھو کیسے بھگوڑے ہو گئے ہیں یہ سب کے سب۔ اب افغانستان میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ یہ اب دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ اس کے بعد کے تیرہ سال آگ اور خون کے ساتھ کھیلتے ہوئے سال ہیں۔ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی جو دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کے ساتھ یہاں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ ایسے ٹینک جو اپنے اندر سے ایک ایسے مقناطیسی ردّ عمل کا دائرہ بنا سکتے تھے جن سے میزائل بھی واپس لوٹ جاتا تھا۔

آسمانوں سے پہرہ دیتے جہاز۔ فضا کی بلندیوں پر موجود ایک ایک لمحے کو ریکارڈ کرتے اور معلومات فراہم کرتے سٹلائٹ۔ ان سب کے باوجود کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب نیٹو افواج یا ان کی بنائی ہوئی افغان فوج نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ ہمارا پورے افغانستان پر کنٹرول ہو گیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ سوائے چند شہروں کے چند میل علاقوں کے پورے افغانستان میں امریکی یا نیٹو افواج کو کسی قسم کی کوئی دسترس تک حاصل نہ تھی۔ آخری سال تو شکست کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا۔ یکم جنوری2014ء سے31 دسمبر تک9167 افراد اس جنگ کا شکار ہوئے۔ جن میں3,188 ایسے تھے جو اس بری طرح زخمی ہوئے کہ ناکارہ ہو کر رہ گئے۔

بوکھلاہٹ میں الزامات حقانی نیٹ ورک پر لگائے گئے جس کے خلاف اس دوران شمالی وزیرستان میں آپریشن جاری تھا۔ کون ٹیکنالوجی کی شکست مانتا ہے اور وہ بھی نہتے افغانوں کے ہاتھوں جن کا سارا تکیہ ہی تائید الٰہی پر تھا۔ کیا کبھی امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے سوچا بھی ہو گا کہ اسقدر عظیم فوجی قوت کے باوجود ان کے تین ہزار چار سو اٹھاسی3488 سپاہی مارے جائیں گے۔ یہ وہ گنتی ہے جو وہ خود مانتے ہیں۔ جب سے سی آئی اے بنی ہے اس کے نوے کے قریب اہم ایجنٹ مختلف ممالک میں مارے گئے ہیں، جن میں سے گیارہ اس افغان جنگ میں قتل ہوئے۔ افغانستان ایک ایسا ڈراونا خواب تھا جس کے اختتام کی تقریب 28 دسمبر کو منعقد ہوئی۔ نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان ایف کیمپبل (Joh F. Campbell) نے کہا ’’ہم اپنا طالبان کے خلاف جنگ کا ایجنڈا ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن ہم بھاگ نہیں رہے‘‘۔ کیا خوبصورت فقرہ ہے (“We are not walking away”) یہ تسلی افغان قوم کو نہیں بلکہ اس افغان حکومت کو دی جا رہی جسے امریکیوں نے خود وہاں پر مسلط کیا ہے۔

جمہوری حکومت اور جمہوریت کے قیام کا کیا خوب تصور ہے کہ ایک ملک پر حملہ کرو، وہاں افواج اتارو، لوگوں کو قتل کرو، خود ایک آئین تحریر کرو، اپنی نگرانی میں الیکشن کراؤ اور بولو کہ ایسے زندگی گزار تے ہو تو ٹھیک ورنہ تمہیں دہشت گرد کہہ کر مار دیں گے۔ اسی لیئے اس ’’ٹوڈی‘‘ حکومت کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ہم بھاگ نہیں رہے۔ لیکن اس اتوار کو امریکی صدر اوباما نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک محتاط طریقے سے اس جنگ کا خاتمہ کیا ہے جب کہ افغانستان آج بھی ایک خطرناک علاقہ ہے‘‘۔ اس ملک میں تین لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کی ٹرنینگ کے لیے12 ہزار نیٹو کے فوجی یہاں پر موجود رہیں گے۔ اس تقریب میں افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اعتماد نے کہا کہ آپ ہمیں ایسے وقت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جس وقت ہم انتہائی مشکلات میں ہیں۔ ہمیں کبھی بھی نیٹو افواج کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جس وقت یہ تقریب ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہی تھی تو اس دوران افغان افواج کے افسران کے انٹرویو بھی نشر کیے جا رہے تھے۔ یہ افسران کہتے تھے کہ تیرہ سالوں سے ہم ایک ایسی جنگ کے عادی ہو چکے ہیں جو نیٹو کی تکنیکی اور فوجی مدد کے بغیر لڑی ہی نہیں جا سکتی۔ ہمیں ہوائی جہازوں کی بمباری اور ٹینکوں کی یلغار میں آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ہم ان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل پاتے جب کہ ہمارے دشمن طالبان اس تمام تر ٹیکنالوجی سے بے نیاز جس طرف سے چاہیں ہم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اب جب کہ یہ سپورٹ (مدد) ختم ہو رہی ہے، ہم بہت مشکل میں ہو ں گے۔

جھنڈا اتار دیا گیا۔ وہ فتح کرنے آئے تھے اور اپنے زخم چاٹتے رخصت ہوئے۔ یہ تیسری دفعہ ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتوں کا غرور خاک میں مل رہا ہے۔ یکم جنوری1842ء برطانوی افواج، وہ برطانیہ جس کی علمداری میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس پر کابل میں حملہ ہوا۔ تقریباً سترہ ہزار فوجی تھے جن میں اکثر انڈین اور ایک رجمنٹ ’’44th‘‘برطانوی سپاہیوں پر مشتمل تھی ان سب کو غلزئی قبائل نے قتل کر دیا تھا اور ایک ڈاکٹر ولیم برائڈن کو زندہ چھوڑا تا کہ وہ جا کر اس عالمی طاقت کے کار پردازوں کو بتائے کہ افغان قوم کیا ہے اور آیندہ کابل کی طرف رخ مت کرنا۔ یہ ڈاکٹر گھوڑے پر سوار ہو کر 13جنوری کو جلال آباد پہنچا اور برطانیہ کے چہرے پر عبرت کا نشان تحریر ہو گیا۔

دوسری دفعہ یہ پرچم عظیم کیمونسٹ ریاست سوویت یونین کا تھا جو1988ء میں ایسے اترا کہ خود اپنی ریاست تک متحد نہ رکھ سکا۔ ٹیکنالوجی کے بت ٹوٹتے ہیں لیکن ان کی پوجا کرنے والے نئے بت تراش لیتے ہیں لیکن وہ جنھیں صرف اللہ کی نصرت اور تائید پر بھروسہ ہوتا ہے وہ بار بار ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا میں اصل طاقت کا سرچشمہ تو صرف اللہ کی ذات ہے اقبال نے کہا تھا۔

اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

1 اگست، 2014

علمائے امت اور غزہ کے مسلمان

 کسی بھی تجزیہ نگار‘ دانشور‘ سیاست دان یہاں تک کہ اس امت کے علماء تک کی گفتگو‘ تحریر یا تقریر ملاحظہ کریں جو ان دنوں فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیلی ظلم و تشدد اور بربریت کے جواب میں کی یا لکھی گئی ہو تو اس میں آپ کو ایک نکتہ مشترک ملے گا۔ ’’ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں‘‘۔ چوراہوں‘ سڑکوں‘ پریس کلبوں اور عالمی دفاتر کے سامنے پلے کارڈ اٹھائے‘ نعرے لگاتے اور موم بتیاں جلاتے لوگ نظر آئیں گے۔ یہ سب اس بات پر کسقدر مطمئن ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ ہم نے اپنا حصہ ڈال دیا۔

اب ہم دن بھر شاپنگ کریں‘ عیش و عشرت میں گم رہیں اور پھر رات کو مزے کی نیند سو جائیں‘ ہم مطمئن ہیں۔ یہ عالمی ضمیر ہے کیا چیز۔ کیا گزشتہ پندرہ سالوں میں ہر بڑے چھوٹے‘ بوڑھے جوان نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا؟ گیارہ ستمبر کے بعد اسی عالمی ضمیر نے نیویارک میں اکٹھے ہو کر چالیس سے زیادہ ممالک کو یہ اختیار دیا تھا کہ ایک ایسے ملک پر ٹوٹ پڑیں جو وسائل کے اعتبار سے دنیا بھر میں سب سے کمزور ہے۔ اس کے پاس نہ رسد و رسائل کے ذرایع تھے اور نہ ٹیکنالوجی۔ لیکن اس کے باوجود بھی پہاڑوں‘ جنگلوں اور بیابانوںمیں آباد ان چرواہوں اور کسانوں کو انسانیت کا سب سے خطرناک دشمن قرار دیا گیا۔


دنیا کے یہ اڑتالیس غنڈے اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ اس عالمی ضمیر کا نمایندہ پاکستانی وفد جب ملا محمد عمر کے پاس گیا تو اس نے اور بہت سی باتوں کے علاوہ ایک بات ایسی کی جو اب سچ ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے کہا تھا ’’دیکھو یہ باری کی بات ہے‘ ہماری باری پہلے آ گئی ہے‘ کل تمہاری بھی آ جائے گی۔ ہمیں خاک ہونے کا ڈر نہیں کہ ہم مٹی کے گھر میں رہتے ہیں‘ مٹی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ ہم نے مٹی میں چلے جانا ہے۔ ان لوگوں کا کیا ہو گا جنہوں نے آسمان سے چھوتی عمارتیں تعمیر کر لی ہیں۔ آسائش کی زندگی اور تعیش کا سامان جمع کر لیا ہے۔ اللہ کا واسطہ باریاں مت لگاؤ‘‘۔ لیکن ہم سب نے اسی عالمی ضمیر کا ساتھ دیا۔
 

وہ سب جو آج غزہ کے ظلم پر چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ کوئی پڑوسی ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔ انھوں نے اس عالمی ضمیر کا ساتھ دینے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے دی۔ میرے ملک سے امریکی طیارے ستاون ہزار دفعہ اڑے اور انھوں نے اسی طرح افغان مسلمانوں کے جسموں کے پرخچے اڑائے جس طرح آج غزہ میں اسرائیل کر رہا ہے۔ ایران نے نہ صرف بدترین خاموشی دکھائی بلکہ اس کے پاسداران کے سربراہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر امریکی حملے کے دوران ہمارے جوان شمالی اتحاد کے ساتھ شانہ بشانہ نہ لڑ رہے ہوتے تو یہ فتح ممکن نہ تھی۔
 

تاجکستان نے کابل کی طرف پیش قدمی کا راستہ دیا۔ عالمی ضمیر مطمئن ہوگیا۔ دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ افغانستان فتح کر لیا گیا۔ کیا اس کے بعد کسی اور کی باری نہیں آئی۔ شاید ہم بھول گئے۔ اس کے بعد عراق تھا۔ اس کے لیے تو کسی نے نیویارک میں موجود عالمی ضمیر کی علامت اقوام متحدہ سے اجازت لینے کی ضرورت تک محسوس نہ کی۔ امریکا اور اس کے اتحادی اپنی فوجی قوت اور میڈیا کے پراپیگنڈے کے زور پر عراق میں داخل ہوئے۔ کونسا پڑوسی تھا جس نے اس ظلم پر احتجاج کیا۔ سب نے اس عالمی ضمیر کے سامنے سر جھکائے بلکہ سجدہ ہائے تعظیمی کیے۔
 

شام‘ اردن‘ کویت‘ قطر‘ سعودی عرب اور ایران سب کے سب کئی سال عراق کے نہتے اور مظلوم انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتے رہے۔ معاملہ یہاں تک رہتا تو بات سمجھ میں آتی تھی کہ ان کا ضمیر اس عالمی ضمیر نے خرید لیا ہے لیکن پھر ان دونوں ملکوں میں جب ان عالمی غنڈوں نے اپنی مرضی کے آئین تحریر کیے، اپنی نگرانی میں الیکشن کروائے اور اپنی کاسہ لیس حکومتیں قائم کیں تو ان تمام ممالک نے ان دونوں حکومتوں کو نہ صرف جائز تسلیم کیا بلکہ ان کے ہر ظلم پر بدترین خاموشی اختیار کی۔
 

یہ حکومتیں شہروں کے شہر اجاڑتی رہیں، لوگوں کو دہشت گرد، القاعدہ اور باغی کہہ کر قتل کرتی رہیں اور ان کے حکمرانوں کا تمام پڑوسی ملک اپنے ایوانوں میں استقبال کرتے رہے۔ وہ جن کے ہاتھ معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگین تھے، وہ ریاض، تہران، اسلام آباد اور دمشق جیسے شہروں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے۔ اس سب کو میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کامیابی قرار دیا۔ جان پلیجر Jon Plijer کی وہ مشہور ڈاکومنٹری ”war you have not seen” (جنگ جو آپ نے دیکھی نہیں) ایسے تمام چہروں کو بے نقاب کرتی ہے جو اس عالمی ضمیر اور عالمی پراپیگنڈے کے سامنے سربسجود تھے۔
 

مسلمانوں نے اپنے گزشتہ دس سالوں میں اس عالمی ضمیر کو ایک نکتہ سمجھا دیا کہ ہم بے حس ہیں، بے ضمیر ہیں اور تم جس کو بھی دہشت گرد اور انسانیت کے لیے خطرہ تصور کر کے ان کے گھر بار، خاندان اور آبادی سب کو تباہ کر دو، ہم خاموش رہیں گے۔ یہی وہ الفاظ ہیں جو آج اسرائیل اور اس کے حواری بول رہے ہیں۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ریلیاں نکالتے ہیں، پلے کارڈ اٹھاتے ہیں، یوم القدس مناتے ہیں، دنیا بھر کے ہر فرقے کے علماء اس عالمی ضمیر سے فیصلہ کروانے سڑکوں پر نکلتے تھے۔
 

کیا انھوں نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی ’’اے پیغمبر! کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کلام پر بھی ایمان لائے جو تم پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا، لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ اپنا معاملہ فیصلے کے لیے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس کا کھل کر انکار کریں‘‘ (النسا 60)۔ تجزیہ نگار، دانشور، سیاست دان یہاں تک وہ علمائے کرام جنہوں نے اس آیت کو بار بار پڑھا ہوگا، اللہ کے اس حکم کو لوگوں کو سنایا ہو گا وہ بھی اپنا معاملہ اور اپنا فیصلہ طاغوت سے کروانا چاہتے ہیں اور کس قدر بھولے ہیں کہ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا۔
 

کیا یہ سب نہیں جانتے کہ یہ دور فتن ہے۔ کیا ان سب نے احادیث کی کتب میں فتن کے ابواب اور ان میں درج احادیث نہیں دیکھیں۔ لیکن کسقدر بدقسمتی ہے کہ اس امت کے حکمران اور ان کے مسلکی علماء عراق اور شام میں ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے تلواریں نکالتے ہیں، جیش تیار کرتے ہیں، کوئی ایک حکومت کو بچانے کے لیے فتویٰ دیتا ہے تو دوسرا اس کو گرانے کے لیے۔ کسی کو اینٹوں اور سنگ مر مر کے مزارات کے تحفظ کے لیے جان دینی عزیز ہے تو دوسرے کو ان مزارات کو گرا کر اپنے جہاد کا جھنڈا بلند کرنا ہے۔ لیکن کیا ان ستاون اسلامی ممالک میں کسی ایک کے علماء میں یکسوئی نہیں کہ وہ اعلان کریں کہ نہتے فلسطینیوں کے ساتھ مل کر لڑنا فرض عین ہے۔
 

اس امت کی پچاس لاکھ سے زیادہ افواج ہیں، جو کیل کانٹے اور ایٹم بم سے لیس ہیں، کیا یہ ساری طاقت جو انھیں اللہ نے عطا کی ہے وہ قیامت کے دن ان سے حساب نہیں لے گا کہ تم نے اس امت کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات کے لیے صرف کی یا نہیں کی۔ جو جتنے بڑے منصب پر ہو گا اس کی اتنی ہی بڑی جواب دہی ہو گی۔ لیکن سب جانب خاموشی ہے، سکوت ہے، پلے کارڈ ہیں، بینرز ہیں، تبصرے ہیں، شاید یہی وہ زمانہ تھا جس کے بارے میں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ ’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب ان میں پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا دور نہیں ہے۔ لہٰذا ایسا دور جن کو ملے وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہو گا۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کوئی مسلمان ایسا کہہ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! جن پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی (السنن الواردۃ فی الفتن)
 

کیا ستاون اسلامی ممالک میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا ہے کہ جو اسلامی ممالک کو دعوت دے کہ آؤ اپنے فیصلے طاغوت سے نہیں خود کریں، خود اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔ کیا ہمارے تمام مسالک کے علمائے امت سب کو اس ایک نکتے پر جمع کر سکتے ہیں اس کا علاج ریلیاں نہیں جہاد ہے لیکن اس ایک لفظ جہاد کو منہ سے نکالنے پر ہمیں جس قدر شرمندگی ہوتی ہے، شاید اس سے کئی گناہ زیادہ ہمیں روز قیامت شرمندگی ہو گی۔ 

 tags:
oria maqbool jan, ullama e ummat our ghaza kay musalman,
urdu article, israil, america, pakistan, muslim ummah, 
اوریا مقبول جان  
 

21 دسمبر، 2013

Disposable America soldiers


 

 “قابل تلف”("Disposable")امریکن فوجی!
 مریم عزیز
 
بات کچھ تفصیل طلب ہے مگر ہم تلخیص کیے دیتے ہیں۔ڈسپوزبل کا لفظ دراصل ٹشو پیپر جیسی چیزوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔مغرب میں کئی چیزیں اسی مقصد کیلئے بنائی جاتی ہیں کہ ایک بار استعمال کے بعد ردی کردی جائے تاکہ ’maintenance‘ یعنی دیکھ بھال کے ’اخراجات‘ میں کمی لائی جاسکے۔پنٹاگون کے بتائے گئے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق امریکی فوجیوں میں ذہنی امراض میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ہر دس میں سے ایک امریکی فوجی دماغی امراض کیلئے ہسپتال میں داخل ہے۔امریکی سیکریٹری آف ڈیفنس رابرٹ گیٹس کے الفاظ میں امریکی فوجیوں کے نفسیاتی مسائل کے علاج معالجے پرآنے والے اخراجات ”دفاعی محکمے کو سالم نگل رہے ہیں“!۔امریکی فوج نے حال ہی میں ایسے فوجیوں کے علاج پر”تین ہزار ڈالر روزانہ“کے خرچے کا رونا رویا۔ 
قارئین کرام، بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی بات یہاں سے شروع ہوتی ہے ان طریقوں کی جن کو استعمال کرکے امریکی دفاعی محکمہ ’خرچے کم‘کرنے کی کوشش کررہا ہے۔جیویش ٹائمز نامی اخبار میں مصنفہ جوائس ایس اینڈرسن ؛دی نیشن نامی میگزین میں جوشوا کورزکے چھپنے والے مضامین کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کی وجہ سے شور تو بہت اٹھا تھا مگرمعاملے کودبا دیا گیا۔مضامین کا عنوان تھا“Disposable Soldiers!” ۔جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2001ء سے اب تک ساڑھے بائیس ہزار امریکی فوجیوں کو یہ کہہ کر فوج سے بے دخل کردیا گیا ہے کہ وہ ’پہلے سے‘ذہنی مریض تھے اور فوج کیلئے بے کار ہیں۔ حقیقت تو یہ تھی کہ یہ فوجی داخلے کے وقت صحتمند قرار دیے گئے تھے مگر جب جنگ کے دوران کھائی جانے والی مرئی و غیر مرئی چوٹوں(جیسے تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سر کا یاجسم کاشدید درد، کانوں میں سماعت کے مسائل،بینائی کے مسائل وغیرہ)کیلئے علاج کیلئے درخوست گزار ہوئے تو ان کو خبطی ،پہلے سے دماغی امراض کا شکاراور ڈرامہ باز قرار دے کر فوج سے رخصت کردیا گیا۔
 ایسی رخصت کے نتیجے میں پھر نہ صر ف ان کو علاج کی سہولت سے محروم کردیا گیا بلکہ دیے گئے بونس میں سے موٹی رقم کی واپسی بھی اس میں شامل ہے۔چنانچہ قابل تلف معمولی استعمال کی اشیاءکی طرح ان امریکی فوجیوں کودیکھ بھال کے اخراجات میں کمی کیلئے ’ردی ‘کردیا گیاہے۔ایک دو تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنیں مگر انہوں نے بھی مہینوں بعد فیصلہ سنایا کہ فوج کے ڈاکٹروں کی تشخیص صحیح تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ تحقیق کے لئے ان میں سے کسی فوجی سے براہ راست کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق اب بھی اس نظام میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے اوراسی طرح کئی ہزارامریکی فوجی عضو معطل کی طرح کاٹ پھینکے جاتے ہیں! اپنی طرز حکومت اور ویلفیر سوسائٹی کے ماڈل کو بزور قوت دنیا میں نشر کرنی والی سپر پاور کا جو حشر ہو رہا ہے وہ دنیا کے لئے ایک تازیانہ ہے۔خوش حالی میں حقوق انسانی کا راگ الاپنا اور غریب ممالک کو انسانیت کا سبق سکھانا بہت آسان ہے۔ لیکن کسی کے ظرف کو ناپنے کا پیمانہ برے وقت میں اس کا طرز عمل ہوتا ہے۔