ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

31 دسمبر، 2014

ان بیان ایبل از گل نوخیز اختر


 ہماری ایک معروف افسانہ نگارکی شادی کی عمر گذرتی جارہی تھی، موصوفہ تقریباًکسی سے بھی شادی کرنے پر راضی تھیں لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی قانونی اقرارکرنے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔ انہوں نے شادی میں کسی کو انوائٹ نہیں کیا، ایک دن ایک تقریب میں مل گئیں تو میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے چپکے سے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔ خوشی سے شرمندہ ہوکر بولیں ’’اصل میں سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کئی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلاسکی‘‘۔ میں نے پوچھا’’ماشاء اللہ دولہا بھائی کرتے کیا ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی اٹھلا کر بولیں’’ان کی روٹیوں کی فیکٹری ہے‘‘ میری آنکھیں پھیل گئیں، بعد میں پتا چلا کہ دولہا بھائی کا ذاتی تنور ہے۔
ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے’’بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے رامیٹریل فراہم کرتے ہیں‘‘۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے ’’میٹریل‘‘ کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔
کچھ لوگ بڑے آرام سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ جب تک تفصیل کا نہ پتا چلے یہ جھوٹ بالکل سچ معلوم ہوتاہے۔ مثلاً میری ایک ’’سگی کلاس فیلو‘‘ کی منگنی ہوئی تو اس کی سادہ اور معصوم سی والدہ نے بتایا کہ لڑکا پہلے سٹیٹ بینک میں لگا تھا ، اب پان سگریٹ کا کھوکھا لگاتاہے۔میں نے اپنے کان کھجائے’’سٹیٹ بینک اور پان سگریٹ کے کھوکھے‘‘ کا تقابلی جائزہ لیااور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کلاس فیلو سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر لڑکے والوں سے پوچھا گیاکہ لڑکا کب سٹیٹ بینک میں لگا تھا۔ جواب ملا’’پچیس اگست 1998ء کو رات پونے ایک بجے‘‘۔ یہ سنتے ہی لڑکی والے بوکھلا گئے کہ رات پونے ایک بجے سٹیٹ بینک میں کون سی جوائننگ ہوتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، لڑکا اصل میں پہلے رکشہ چلا تا تھا، پچیس اگست کو اس کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ سیدھا ’’سٹیٹ بینک میں جالگا‘‘۔

اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتاہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔اپنی مثال اس لیے نہیں دوں گا کیونکہ مجھے کافی بہت پسند ہے بلکہ اب تو مجھے Cappuccino کے سپیلنگ بھی یاد ہوگئے ہیں ، میں جب بھی کافی منگواتا ہوں سب سے پہلے ختم کرتا ہوں، میرے دوستوں کو یقین ہے کہ میں کافی کا دیوانہ ہوں، یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چائے اور کافی میں وہی فرق ہے جو تاش اور شطرنج میں ہے۔ لیکن میراکافی پینے کا اپنا ہی سٹائل ہے۔۔۔میں صرف ایسی جگہ پر کافی پینا پسند کرتا ہوں جہاں واش بیسن قریب ہو۔
 ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔۔۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو السی اور چاول کی پنیاں کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا ’’دابڑا‘‘ کب چکھا تھا؟ بھینس کی ’’بوہلی‘‘ کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ ’’بوہلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔
 پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتاہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتاہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتاہے، البتہ ایک’’وٹنری ڈاکٹر‘‘ ایسا نام ہے جسے بیرونی دنیا میں تو بہت عزت حاصل ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی تک اس کے لیے ’’وہی ‘‘ لفظ استعمال کیا جاتاہے۔۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے ’ ’ان بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
 مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنے کا جنون ہوگیا ہے اور یہی جنون ہم سے اصل زندگی چھینتا چلا جارہا ہے۔کیامونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے ’’پران‘‘ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا کوئی پیزا آلو کے پراٹھوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ کیا چلی ساس، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟گڑ کی ڈلی سے بہتر کس کینڈی کا ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کس فائیو سٹار ہوٹل کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟سرسوں کے تیل سے زیادہ دماغ کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ کیا چاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟؟؟ مکی کی روٹی اور ساگ کے برابر میں جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی فرق معلوم ہوجائے گا۔ لیکن ہمیں یہ چیزیں اس لیے پسند نہیں کیونکہ جن لوگوں میں ہم رہتے ہیں اُنہیں یہ پسند نہیں۔ دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کی دوڑ میں ہمیں ہر وہ چیز بھولتی جارہی ہے جس کے ہم کبھی دیوانے ہوا کرتے تھے۔

اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑرہا ہے۔ہم نے کتنی محنت سے اپنے ذائقے تبدیل کر لیے، اپنے حلئے تبدیل کر لیے، اپنے رویے تبدیل کرلیے ۔۔۔اب ہم معمولی سی بات کو تھوڑا سا گھما کر بیان کرتے ہیں ، نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔۔۔لیکن معاشرے میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔اب بے شک ہماری قمیض کی بغلیں پھٹی ہوئی ہوں، پیروں میں قینچی چپل ہو، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہم ’’رائل فیملی‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے اور امیر رشتے دار ایسے ضرور سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہے تاکہ انہیں اپنے اِن رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جائے۔خود وہ کیاہیں۔۔۔ یہ اُنہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔۔۔!!! 

 

29 دسمبر، 2014

دنیا والو!! کیا کریں؟

  ہم نے کہا اسلام چاہیئے، انہوں نے کہا جمہوریت ہے عوام سے ووٹ مانگو، پارلیمنٹ میں آؤ اور نافذ کرلو، مصر والے مان گئے، اخوان کو ووٹ دیئے، ابھی سال ہی ہوا تھا کہ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، صدر کو قید کرلیا اور اب فوج اقتدار پر قابض ہے، اخوان نامی تنظیم پر مکمل پابندی ہے ۔۔۔ اور یہ ثابت کردیا کہ چاہے ہم جتنا بھی "اُن" جیسے ہو جائیں اور اپنے جائز حق یعنی اسلام کو لینے کی کوشش کریں جمہوریت میں ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
  ہم نے پھر کہا کہ مانگنا نہیں سیدھا نافذ ہی کرنا ہے، افغانوں کی سمجھ میں بات آئی، طالبان نامی تنظیم بنائی جس نے دو سالوں میں پورے علاقے کو غیر جمہوری طریقے سے اپنے زیرِ اثر کرلیا، اسلامی احکام نافذ کرنے شروع کئے، دنیا نے نتائج دیکھے، پانچ سال لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور امارت قائم رہی لیکن "اُن" کو بلکل بھی نا بھائے، انہوں نے تابڑتوڑ حملے شروع کردئیے، امارت ختم ہوگئی اور مرتب کردہ نظام بھی ۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ اس طریقے سے بھی اسلام نافذ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
  کچھ عرصہ بعد ایک گروہ اٹھا جس نے تمام طریقوں سے اختلاف کیا اور جبر کی راہ اپنائی، بنام دولتہ السلامیہ اس گروہ نے خلافت کے بھی قیام کا اعلان کردیا، اور صرف تین ماہ لگے عالمِ کفر متحد ہوکر آگیا کہ ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا، فضا سے بموں کی بارش کرکے  یہ بھی ختم کردیا ۔۔۔ یعنی ثابت یہ کہ پرتشدد راہ بھی اختیار نہیں کرنے دی جائے گی۔


  ہم پھر وہیں کھڑے ہیں، اسلام چاہتے ہیں، کیا کریں، دنیا والو ۔۔۔ بتاؤ  کیا کوئی طریقہ تمہیں قبول ہے ؟

27 دسمبر، 2014

بھینس کا علاج


 کہتے ہیں کہ کسی شخص کی بھینس بیمار ہوگئی۔ وہ اپنے دوست کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ جب تمھاری بھینس بیمار ہوئی تھی تو تم نے کیا کیا تھا؟ دوست نے کہا کہ میں نے اسے مٹی کا تیل پلایا تھا۔ یہ سُن کر وہ شخص فوراً پلٹا اور اپنے گھر پہنچ کر بھینس کو مٹی کا تیل پلا دیا۔ کچھ ہی دیر میں بھینس مرگئی۔ یہ دیکھ کر وہ بہت طیش میں آیا اور پھر دوست کے گھر جا پہنچا، اسے بتایا کہ میں نے بھینس کو مٹی کا تیل پلایا تو وہ مرگئی۔ دوست نے کہا میری بھینس بھی مر گئی تھی۔ یہ سن کر اس شخص نے کہا’’تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں‘‘ دوست نے جواب دیا’’تم نے پوچھا کب تھا؟‘‘

ہمارے حالات بھی اسی نادان شخص کے مانند ہیں کہ کسی کا عمل دیکھ کر نتیجے کی پروا کیے بغیر ویسا ہی عمل شروع کر ڈالتے ہیں اور کچھ عرصے بعد پچھتا رہے ہوتے ہیں۔ یورپ، امریکا کے عوامل کی اندھا دھند تقلید کے نتیجے میں ہمارے بھینسوں کے باڑے کی بہت سی بھینسیں ہلاک ہوچکی ہیں لیکن حرام ہے جو ہم نے سبق سیکھا ہو۔ ہم باقی ماندہ بھینسوں کو بھی تقلید کا تیل پلا پلا کر ان کے دم نکلنے کے منتظر ہیں۔ پھر ایک روز ہم مغربی دنیا سے گلہ کریں گے، تو ہمیں جواب ملے گا کہ بھائی تم نے ہم سے پوچھا ہی کب تھا؟
اندھا دھند تقلید کا آغاز زمانہ جدید کی چکا چوند سے ہوا جب ہم نے یورپی مصنوعات کا استعمال شروع کیا۔ برصغیر پر قبضے کے بعد یورپی اقوام نے پہلے پہل یورپی اسلحے کا دیسیوں پر استعمال شروع کیا جس کے رعب میں آکر دیسی بھی اپنے ہم نسلوں پر یورپی اسلحے کا استعمال کرنا سیکھ گئے۔ دیسی لباس کی جگہ یورپی لباس اور دیسی زبان کی جگہ یورپی زبان قابل فخر عمل ٹھہری۔
انگریزوں نے بڑے پیمانے پر سب سے پہلے ہمیں چائے کا عادی بنایا جس کی تشہیری مہم میں بر صغیر میں پہلی بار نوجوان خواتین کو استعمال کیا گیا،جو ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو مفت میں

چائے پلا کر چائے کی فروخت میں اضافے کا باعث بنتی تھیں۔ چائے کی فروخت زیادہ ہوئی تو لسی اور دودھ کا استعمال کم ہوتا چلا گیا۔ موٹر سائیکل اور موٹر کار کی برصغیر میں آمد ذریعہ سفر میں ایک نئے دور کا آغاز تھا جس کے ساتھ ہی ریل اور ہوائی جہاز کی آمد نے سفر کو نیا رُخ عطا کیا۔ اب طرز تعمیر اور انداز بودو باش کی باری تھی۔ ہمیں یورپ سے آیا ہوا ہر تعمیری نقشہ قابل اعتبار معلوم ہوا اور ہم اپنی عمارات کی تعمیر بھی یورپی انداز میں کرنے لگے۔ اس تقلید میں ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ تمام انداز سرد ممالک کی ضرورت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں جبکہ ہم شدید گرم علاقے کے باسی ہیں۔ بُرا ہو اندھی تقلید کا، ہم صحن کی نعمت اور کھلی ہوا میں سانس لینے سے بھی محروم ہوگئے۔
جدت اور ترقی ہر زمانے کا لازمی حصہ ہے۔ جدیدیت کوئی حرام شے نہیں جس سے ہر حال میں بچنا ہو۔ تقلید بُری نہیں بلکہ اندھی تقلید ہلاکت خیز ہے۔ کاش طبعی اشیا کی تقلید میں ہم نے اپنے زمان و مکاں کو مد نظر رکھ کر اپنی ضرورت کے مطابق جدت پیدا کرکے اشیا کو استعمال کیا ہوتا تو ہم بھی طبعی اشیا سے بہتر انداز میں فوائد حاصل کر پاتے۔ محض تقلید نے ہمارا مٹی کا مادھو ہونا آشکار کر دیا۔
طبعی اشیا اور ان کا استعمال اس قدر ضرر رساں نہیں۔ اصل ہلاکت خیزی تو اس وقت شروع ہوئی جب ہم نے معاشرتی میدان میں اندھی تقلید کی راہ اختیار کی۔ یورپی معاشرت کو برصغیر کے لوگوں نے حاکموں کی صورت میں تو دیکھ رکھا تھا یا کبھی کبھی انگریزی فلموں میں اس معاشرت سے واقفیت حاصل ہوتی تھی لیکن صورت حال اس وقت تبدیل ہوئی جب برصغیر میں ٹیلی ویژن کی آمد ہوئی۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن اسٹیشن کا قیام پاکستان کو دیے جانے والے پہلے بڑے امریکی پیکج کی لازمی شرط تھی۔ پہلے یورپی معاشرت کا مشاہدہ گھر سے باہر جاکر ہوتا تھا۔ اب یورپی معاشرت ہمارے گھر میں مشہود ہوئی اور ہم شاہد ٹھہرے۔
اس کو مہمیز اس وقت ملی جب ہمارے ہاں ڈش انٹینا اور کیبل نیٹ ورک کی آمد ہوئی۔ رہی سہی کسر انٹر نیٹ اور کمپیوٹرز کی فراہمی نے پوری کردی جو ہمارے بڑوں کے ذریعے بچوں کے ہاتھوں میں آگیا۔ اب ہم ایک نئے دور میں داخل ہوئے جِسے’’میڈیا کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ میڈیا کے حسن و قبح پر بحث اور اس کے حرام و حلال کے فیصلے کا حق بھی میڈیا ہی کے پاس ٹھہرا۔ میڈیا نے خود ہی رنگ برنگ موضوعات پر مباحث کا اہتمام کیا اور خود ہی اپنے حق میں فیصلے دے کر اپنے ہر قدم کے جواز کو سند عطا کی۔
میڈیا (یہ اصطلاح اب صرف الیکٹرانک میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہی ہے) کے مشاہدے کا آغاز صبح کی نشریات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جسے عرف عام میں ’’مارننگ شو‘‘ کہا جاتا ہے۔ مارننگ شو میں پہلے پہل خواتین کے لیے کھانے پکانے اور سینے پرونے کے پروگرام پیش کیے گئے جس کے بعد اب ہر پروگرام کا لازمی حصہ رقص و موسیقی بن گیا۔ بہت سی خواتین و حضرات جنھیں ہم بہت عرصے سے دیکھتے چلے آرہے تھے اور وہ دیگر پروگراموں میں ہمیں خاصے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے نظر آتے تھے۔ مارننگ شوز میں آکر چھچھورے رقاص ثابت

ہوئے۔ ان پروگراموں میں اس چھچھور پن کا آغاز شادی بیاہ کی نام نہاد رسموں سے ہوا جو بڑھ کر اب محض’’مجرے‘‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ ہم نے جوان العمر سے لے کر اچھی خاصی عمر رسیدہ خواتین کو یہ مجرے کرتے دیکھا۔ یقین مانیے کہ سر شرم سے جھک گئے کہ نانی دادی کہلانے والی یہ خواتین کس ثقافت کی نمایندگی کررہی ہیں۔ رقص و موسیقی کے ہماری زندگی میں اس قدر دخیل ہونے کا کمال اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ ق کی ایک انتخابی محفل میں چودھری شجاعت کے سامنے اسی قسم کا مظاہرہ کیا گیا جسے حاضرین نے خوب ڈھٹائی سے برداشت کیا اور داد بھی دی۔
میڈیا (یعنی الیکٹرانک میڈیا) میں ایک بد رسم کا آغاز ہوا ہے جسے بولڈ موضوعات پر گفتگو کا نام دیا گیا ہے۔ بولڈ ہونے کی آڑ میں زیادہ تر ان موضوعات کا انتخاب کیا جارہا ہے جن کا تعلق عائلی و ازدواجی زندگی اور جنسی معاملات سے ہے۔ وہ باتیں جو عقلاً بالغ اور مخصوص افراد کے درمیان ہونی چاہئیں اب کھلے عام کی جارہی ہیں اور کچے ذہنوں کو آلودہ کیا جارہا ہے۔ سکرین کے ایک کونے میں ’’PG‘‘ لکھ دینا یا’’بچے نہ دیکھیں‘‘ لکھ دینا اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ یہ پروگرام کون دیکھ رہا ہے۔ پیمرا نامی ادارہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے کہ میڈیا اس قدر منہ زور، منہ پھٹ اور طاقتور ہوگیا کہ ’’مافیا‘‘ کے انداز میں ایک دوسرے کو سہارا دے رہا ہے… زیارت ریذیڈنسی کے حوالے سے قائم ہونے والا مقدمہ اس کی مثال ہے جب اس ’’مافیا‘‘ نے زور ڈال کر حکومت سے مقدمہ واپس کروا دیا۔
کچھ عرصہ قبل اسی میڈیا پر ایک ایسی بحث پیش کی گئی جس میں فحش ویب سائٹس کے حوالے سے گفتگو پیش کئی گئی۔ حاصل کلام یہ تھا کہ آپ ان کو اب روک نہیں سکتے اور ساری دنیا میں یہ ویب سائٹس عام ہیں اگر ہمارے ہاں بھی ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اپنی تربیت اتنی بہتر کریں کہ نوجوان اس جانب متوجہ نہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ مغربی تقلید کے حامل شرکا مغرب سے بڑھ کر جواز پیش کررہے تھے۔ چند روز قبل برطانوی وزیر اعظم کا بیان نظر سے گزرا جس میں تجربے اور تجزیے کی بنیاد پر اس نے فحش مواد کے خلاف فیصلے لینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مواد ہمارے بچوں کا بچپن تباہ کررہا ہے۔ جب مغرب اس مواد پر پابندی لگائے گا تو پھر ہمارے نام نہاد مفکرین کیا جواز پیش کریں گے۔
پڑھے لکھے پنجاب کے زمانے میں مغرب سے امداد کے بدلے ہمیں ’’مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ ملا۔ یہ نعرہ ہم نے ہر اسکول کے باہر اور اندر بورڈ پر لکھ کر لگایا۔ اس کے نیچے محکمہ تعلیم کے افسران کے ٹیلی فون نمبر دیے گئے تھے جن کو فون کر کے مار پیٹ کرنے والے ٹیچرز کے خلاف فوراً کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس عمل سے فوائد تو نجانے کیا حاصل ہوئے لیکن ٹیچرز خوف زدہ اور طلبا خود سر ہوگئے۔ تعلیمی نظم و ضبط کمزور پڑگیا اور تعلیمی استعداد تنزلی کا شکار ہوگئی۔
1950ء کی دہائی تک برطانیہ و امریکا کے اسکولوں میں جسمانی سزا برائے اصلاح موجود تھی۔ ایک مشہور مقولہSpare the rod & spoil the child مغرب ہی کی پیش کش ہے۔ اُس زمانے میں بھی تعلیمی معیار تھا، ایجادات بھی ہورہی تھیں اور مغربی ممالک ترقی بھی کررہے تھے۔ ہم ابھی ترقی کی منازل سے فاصلے پر ہیں۔ معیشت بدحال ہے، تعلیم و تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے لیکن معاشرت میں مغرب کی برابری کی کوششیں ہورہی ہیں۔ یاد رکھیے کہ ہر چیز جو صدیوں سے آپ کی ثقافت کا جز ہے، ضروری نہیں کہ غلط ہو۔ معاشرت تبدیل کرنے سے پہلے سو بار

سوچیے کہ زیادہ تر صورتوں میں معاشرت کی تبدیلی ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ بچوں کی اصلاحی سزا کے حوالے سے جان لیجیے کہ برطانیہ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اصلاحی سزا کی اجازت دی جائے تاکہ ہماری اگلی نسل کو درست سمت میں تربیت دی جاسکے۔ تشدد کی تائید کوئی ذی عقل نہیں کرتا لیکن یاد رہے کہ سزا و جزا تربیتی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اور ہاں امریکا کی بھی سن لیجیے جہاں مار نہیں پیار کے نتیجے میں اسکولوں میں طلبہ کے بدمعاش گروہ پرورش پارہے ہیں۔ جن کی سرکوبی کے لیے مسلح محافظ تعینات کیے جاتے ہیں۔ امریکا

کے اسکولوں میں طلبا کے ایک دوسرے پر تشدد اور طلبہ کے ہاتھوں اساتذہ کے پٹنے کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ سنجیدہ امریکی طبقہ اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرا رہا ہے تاکہ صورت حال کو قابو میں کیا جاسکے۔ جب کہ ہم اس جانب جا رہے ہیں جہاں سے دوسروں کی واپسی ہورہی ہے۔ ہم اپنی ایک نہیں،کئی بھینسوں کو تیل پلا چکے ہیں۔
ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، اپنی غلطیوں کی اصلاح کیجیے۔ اپنی سمت کو درست کیجیے، اندھی تقلید سے بچیے اور بھینس کا صحیح علاج کیجیے۔اور ہاں! پڑوسی کی تقلید سے پہلے نتیجہ ضرور پوچھ لیجیے۔ 


پروفیسر محمدنعیم خان 

23 دسمبر، 2014

قصاص میں زندگی ہے


وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ البقرہ ۱۷۹
ترجمہ: اور اے اہل عقل! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے کہ تم (قتل وخونریزی سے) بچو ۔

یہ نہایت فصیح و بلیغ جملہ ہے۔ جس پر عرب کے فصحاء عش عش کر اٹھے۔ کیونکہ اس مختصر سے جملہ میں دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی قصاص بظاہر تو موت ہے۔ مگر حقیقت میں پوری زندگی کا راز اسی میں ہے۔ عرب میں جو فصیح محاورہ استعمال ہوتا تھا القتل انفی القتل یعنی قتل قتل ہی سے مٹتا ہے۔ مگر فی القصاص حیاۃ میں بدرجہا زیادہ لطافت، فصاحت، بلاغت ہے اور مضمون بھی بہت زیادہ سما گیا ہے۔


دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور عرب بھر کا امن و سکون تباہ ہو چکا تھا۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا عادلانہ قانون دے کر دنیا بھر کے لوگوں کو جینے کا حق عطا فرما دیا۔
 

آج بعض ملکوں میں قتل کی سز ا منسوخ کر دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سزا ظالمانہ اور بہیمانہ ہے۔ متقول تو قتل ہو چکا، اب اس کے عوض ایک دوسرے آدمی کو تختہ دارپر لٹکا دنیا بےرحمی نہیں تو کیا ہے۔
آپ خوفناک حقائق کو دلکش عبارتوں سے حسین بنا سکتے ہیں۔ لیکن نہ آپ ان کی حقیقت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ان کے برے نتائج کو رو پذیر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ جس ملک کے قانون کی آنکھیں ظالم قاتل کے گلے میں پھانسی کا پھندا دیکھ کر پرنم ہو جائیں وہاں مظلوم و بےکس کا خدا ہی حافظ، وہ اپنے آغوش میں ایسے مجرموں کو نازو نعم سے پال رہا ہے جو اس کے چمنستان کے شگفتہ پھولوں کو مسل کر رکھ دیں گے۔ وہ دین جو دین فطرت ہے، جو ہر قیمت پر عدل وانصاف کا ترازو برابر رکھنے کا مدعی ہے اس سے ایسی بےجا بلکہ نازیبا ناز برادری کی توقع عبث ہے۔
 

ہمارے ہاں بھی کچھ لنڈے کے انگریز جو خود کو لبرل کہلواتے ہیں اس سزا کے خلاف ہیں۔ نام نہاد "انسانی حقوق " کی تنظیموں اور بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کئی سال سے رکا ہوا تھا ۔ اور اس وقت پاکستانی جیلوں میں دہشتگری کے الزام میں سزا یافتہ 500 افراد سمیت قریباآٹھ ہزار افراد ایسے ہیں جنھیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
 

حالیہ واقعہ کے بعد جب حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا تو سب ایک بار پھر اپنی اپنی ڈفلی لے کر پہنچ چکے ہیں۔ الطاف حسیں کہتے ہیں کہ سزا صرف دہشتگردوں کو دی جائے اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والے دہشتگرد تو ہرگز نہیں، بوری بند لاشیں پیک کرنے والے بھی دہشت گرد نہیں ۔ الطاف بھائی پر خود بھی کئی قاتل اور اقدام قتل کے مقدمات ہیں، وہ بھی دہشتگرد نہیں اس لیے اسے سزا نہ دی جائے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دوسری نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لنڈے کے انگریز بھی میدان میں آ چکے ہیں اس سزا کے خلاف۔
 

عجیب منطق ہے ان "انسانی حقوق" کی تنظیموں کی بھی، ایک مجرم کو سزا دینے سے تو ان کے مطابق انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں جبکہ بغیر کسی کا جرم ثابت کیے اس پر ڈرون اور میزائل مار کر اسے، اسکے گھر والوں کو ،اس کے بچوں کو، اسکے محلے اور پڑوس والوں سب کو مار دینے سے "انسانی حقوق "بالکل محفوظ رہتے ہیں۔کبھی آپ نے کسی "انسانی حقوق" کی لبرل تنظیم کو ڈرون حملوں کے خلاف بولتے نہیں دیکھا ہو گا۔
 

یہ تنظیمیں کسی طاقتور ملک کو بغیر کسی کا جرم ثابت کیے کسی ایک شخص کی "تلاش" میں کسی غریب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے، اس پر قالینی بمباری کرنے اور لاکھوں افراد کو قتل کرنے ، بچوں عورتوں اور بزرگوں کو وحشیانہ بمباری کر کے ان کے چیتھڑے اڑانے کی تو اجازت دیتی ہے لیکن کسی قاتل کو عدالتی کاروائی کے بعد جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی اجازت نہیں دیتی۔
 

قرآن کہہ رہا ہے کہ "تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ۔"
 

اے اہل عقل اگر امن چاہتے ہو تو بلا تفریق تمام مجرموں کو سزا دو۔ چاہے وہ دہشتگردی کے جرم میں ہو، ٹارگٹ کلنگ میں یا ذاتی دشمنی کی بنا پر ۔ چاہے وہ ایم کیو ایم کے ہوں چاہے اے این پی کے یا چاہے فوجی۔چاہے الطاف بھائی ہو یا مشرف ۔ تمام مجرموں کو جب تک بلا تفریق سزا نہیں دی جاتی، امن محال ہے کیونکہ قصاص میں زندگی ہے۔

قصاص میں زندگی ہے۔

16 دسمبر، 2014

قبرِ اقبال سے آرہی تھی صدا


یہ تحریر دسمبرکے آخری دنوں میں لکھ رہاہوں وہ دسمبر جس کے آتے ہی زخم ہرے ہوجاتے ہیں ۔ انڈیاکی ننگی جارحیت نے مادرِ وطن کے دو ٹکڑے کردئیے۔ ایک بازو کاٹ کر رکھ دیا۔جسد ِملّت پرلگا ہوازخم اتنا گہراہے کہ قیامت تک نہ بھرسکے گا۔میں ٹین ایجر تھا جب میں نے اس سانحے پر بڑے معتبر اور باوقار لوگوں کو دیوانہ وار دیواروں سے ٹکریں مارتے دیکھا ۔ کیسے بھول جاوٴں کہ میں نے پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والے اپنے والد محترم کو دھاڑیں مار کرروتے دیکھا۔ محترمہ بشریٰ رحمن نے چند روز پہلے اپنے کالم میں اس دسمبر کاذکرکرتے ہوئے لکھا تھا ”یہ 16دسمبر1971ء کی شام تھی میں بچوں کو سینے سے لگاکر رو رہی تھی کیونکہ میرے بابا کی نگری لٹ گئی تھی، اتحاد کی نیّاڈوب گئی یقینِ محکم کی رسّی ٹوٹ گئی تھی۔۔۔کون تھا جو نہیں رویا۔۔۔بابائے قوم کی سسکیاں میں نے خودسنیں آشیانے کے تنکے بکھر جانے پر پوری قوم تڑپ اٹھی تھی۔۔۔۔“

کیایہ تاریخ نہیں ہے۔۔۔۔تاریخ درست کرنے کے شوقین بتائیں کہ وہ تاریخ کے ان اوراق کو نئی نسل سے کیوں چھپانا چاہتے ہیں۔کیا وہ چاہتے ہیں کہ قائد کے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے والے مجر موں کی شناخت نہ ہو۔ان کے چہرے ڈھانپ دئیے جائیں، ان کے قصیدے پڑھے جائیں اور اُن کی پیروی کیاجائے۔کیا یہ تاریخ کاانمٹ نقش نہیں ہے کیا زندہ قومیں ایسے نقوش نئی نسل سے چھپاتی ہیں؟

جب سیاستدانوں کی مفادپرستی ‘ جرنیلوں کی ہوسِ اقتدار اور دشمن کی فوجوں نے مل کر ارضِ پاکستان کا مشرقی بازوکاٹ دیا تواس کے چند مہینے بعد اس زخم خوردہ ملّت کے مفکّرِ اعظم اقبال کا یوم ولادت تھا۔ حسب ِروایت لاہور کی سب سے بڑی تقریب یونیورسٹی ہال میں منعقد ہوئی۔ ہال لاہور کی اشرافیہ، پروفیسرز، ڈاکٹرز،وکلاء ،علماء اورطلباء سے کھچا کھچ بھراہوا تھا۔ مجلسِ اقبال کے سیکرٹری آغا شورش کاشمیری نے معروف شاعر مشیر کاظمی کو نظم پڑھنے کی دعوت دی جنہوں نے مائیک پرآتے ہی بتایا کہ میں آج صبح علامہ اقبال کے مزارپرپھول چڑھانے گیا تھا وہیں سے آرہا ہوں۔نظم کے پہلے دو شعروں پرہی سامعین تڑپ اٹھے اوردھاڑیں مارکررونے لگے نظم کے چند شعرسن لیجئے :۔



پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آرہی تھی صدا
یہ وطن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
شہرِ ماتم تھا اقبال کا مقبرہ
تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی
رُوح ِقائد بھی سر کو جھکائے ہوئے
چاند تارے کے پر چم میں لپٹے ہوئے
چاند تارے کے لاشے بھی موجود تھے
سرنگوں تھا قبر پہ مینارِ وطن
کہہ رہاتھا کہ اے تاجدارِ وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر
کیسے قائم ہوا تھا حصارِ وطن

پوری نظم نہ شاعر سنا سکانہ سامعین سن سکے شاعر کی آواز آہوں اورسسکیوں میں دب کر رہ گئی اورتقریب ختم ہوگئی ۔۔۔۔۔۔
مگرملّت کے زخموں پرصرف آنسوؤں سے مرہم نہیں رکھا جاسکتا ،زندہ رہنے کا عزم اورولولہ رکھنے والی قومیں اپنے آنسوؤں کو خاک میں گُم نہیں ہونے دیتیں اور آنکھوں سے نکلنے والے موتیوں کی چمک میں اپنی منزل اور سمت تلاش کرلیتی ہیں۔ترآنکھیں تو ہوجاتی ہیں پرکیا لذّت اس رونے میں، جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا۔

نئے سال کی دعا: اے قادرِ مطلق! وہ افراد یا گروہ جن کی ڈوریاں بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں انہیں اہل ِوطن کے سامنے پوری طرح بے نقاب کردے اور پاکستان کے ریاستی امور میں ان کا ہرقسم کا کردار ختم کردے۔

تحریر: ذوالفقار احمد چیمہ 


video
 

8 دسمبر، 2014

بول


"بول"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
"بول" سے تو اچھا تھا
"بولی" نام رکھتے تُم
بولیاں لگاتے ہو
میڈیا کی منڈی میں
کھنکھناتے سِکوں پر
جھوٹ رقص کرتا ہے
کھوٹ کی تجارت ہے
زر زمیں کے بُھوکے سب
دو ٹکوں کی لالچ میں
نظریے بدلتے ہیں
اِس لیے گزارش ہے
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔