ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

11 جولائی، 2014

دس روپے کا سوال ہے بابا


 " دس روپے کا سوال ہے با با "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اپنی بیٹی کی تھام کر انگلی
چیز لینے میں گھر سے نکلا تھا
ایک بچی نے راستہ روکا
وہ جو بچی تھی پانچ سالوں کی
کھوئی سرخی تھی اس کے گالوں کی
کالا چہرہ تو بال بکھرے تھے
اس کے چہرے پہ سال بکھرے تھے
سوکھی سوکھی کلائی پر اس نے
ایک چوڑی کہیں سے چھوٹی سی
جانے کیسے پھنسا کے پہنی تھی
پاؤں ننگے قمیص میلی تھی
لٹکی گردن سے ایک تھیلی تھی
خالی خولی خلا سی آنکھیں تھیں
جیسے کالی بلا سی آنکھیں تھیں
جیسے چابی بھرا کھلونا ہو
جیسے بوڑھا سا کوئی بونا ہو
اس نے کھولا ادا سے مٹھی کو
ننھی منی سی اس ہتھیلی کو
میں نے دیکھا بڑی حقارت سے
ننھے ہونٹوں کی تھر تھراہٹ پہ
اک مشینی صدا کے جھٹکے تھے
"" دس روپے کا سوال ہے بابا""
میں نے نفرت سے دیکھ کر اس کو
ہاتھ جھٹکا کہ جان چھوڑے وہ
وہ ہتھیلی وہیں پہ اٹکی تھی
وہ صدا بھی تھمی نہ اک پل کو
میری عادت ہے پیشے والوں کو
اک روپیہ کبھی نہیں دیتا
میں بھی ضدی تھا وہ بھی ضدی تھی
میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پہ
مرتے پچپن کی ہلکی لالی تھی
اس کے جملے کے سارے لفظوں میں
لفظ "بابا" ذرا سا بھاری تھا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ "بابا " پہ ہلکی اٹکن تھی
"دس روپے کا سوال ہے بابا "
اس کے بابا نے اس کو سکھلایا
اس کی اماں نے اس کو رٹوایا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ "بابا " پہ کیسی اٹکن تھی
خالی خولی خلا سی آنکھوں نے
میرے چہرے کو غور سے دیکھا
اس کے قاتل سپاٹ چہرے پہ
ایک قاتل سی مسکراہٹ تھی
اس کے ہاتھوں کی انگلیاں مڑ کر
پھر سے مٹھی کی شکل میں آئیں
میں نے دیکھا تو اس کے ماتھے پہ
اک ""عبارت "" رواں سی لکھی تھی
"دس روپے کو سنبھال تُو بابا "
ساری قبروں پہ دستکیں دینا
کام رب نے مرا لگایا ہے
رب نے چھوٹی سی عمر میں مجھ کو
دیکھ کتنا بڑا بنایا ہے
ان شریفوں سے اور خانوں سے
میرے جیسے ہزاروں بچوں کا
ایک لشکر سوال کرتا ہے
"یہ جو بچپن کا ایک موسم ہے "
"سارے بچوں پہ کیوں نہیں آتا "
میری مانو تو مان لو اتنا
ان مساجد میں اور تھانوں میں
ساری سڑکوں پہ سب مکانوں میں
خانقاہوں میں آستانوں میں
گلتے سڑتے غلیظ لاشے ہیں
روز قبروں پہ دستکیں دے کر
میرے جیسے ہزار ہا بچے
روز "" بابا "" تلاش کرتے ہیں
تم جو کہتے ہو پیشہ ور بچے
اپنے بچپن کی آڑ میں عابی
مال و زر کو تلاش کرتے ہیں
آج سن لو کہ بات اتنی ہے
صدیوں پہلے کہیں پہ کھویا تھا
اپنے "بابا" عمر رضی اللہ عنہ کو ہم سب نے
ایسے " بابا " کہ جن کے سائے میں
میرے جیسی کسی بھی بچی کا
کوئی بچپن نہیں مرا گھٹ کر
"دس روپے کا سوال ہے بابا "
یہ صدا تو فقط بہانہ ہے
ہم کو "بابا" کے پاس جانا ہے
دس روپے کو سنبھال تُو بابا
ہم کو "بابا" کے پاس جانا ہے
:::::::::عابی مکھنوی ::::::::: 

 

25 مارچ، 2014

ایک تھکا دینے والا امتحان

 
 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔

ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بُڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟
بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟

بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔

حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، تو نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔


روضۃ المُحبین و نزھۃ المشتاقین-ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ
 

13 مارچ، 2014

روز محشر بھی میرا بوجھ اٹھاؤ گے


رات کی تاریکی میں چاروں طرف سناٹا چھا چکا تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں چلتا چلتا تین میل دور نکل آیا تھا۔ اچانک اسے ایک طرف آگ جلتی نظر آئی تو وہ اسی طرف ہو لیا۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک عورت چولہے پر ہنڈیا رکھے کچھ پکا رہی ہے اور قریب دو تین بچے رو رہے ہیں۔ عورت سے صورت حال دریافت کرنے پر اسے علم ہوا کہ یہ اس عورت کے بچے ہیں جو اشیا خوردو نوش کی عدم دستیابی کے باعث کئی پہر سے بھوکے ہیں اور وہ محض ان کو بہلا کر سلانے کے لیے ہنڈیا میں صرف پانی ڈال کر ہی ابالے جا رہی ہے۔ یہ سنتے ہی اس طویل قامت شخص کے بارعب چہرے پر تفکرات کے آثار امڈ آئے۔ وہ یک دم واپس مڑا اور پیدل ہی چلتا ہوا اپنے ٹھکانہ پر پہنچا۔ کچھ سامان خورد و نوش نکال کر اپنے خادم سے کہا سامان کی گٹھڑی میری پیٹھ پر لاد دو خادم نے جوابا کہا کہ میں اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتا ہوں مگر طویل قامت اور بارعب شخصیت نے کہا روز محشر بھی میرا بوجھ اٹھاو گے، مجھے اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہے۔ المختصر یہ کہ اس نے اپنی پشت پر سامان لادا اور پیدل ہی تین میل کا فاصلہ طے کر کے اس ضرورت مند عورت اور اس کے بھوک سے بے تاب بچوں کو وہ سامان دیا۔ جب تک بچوں نے کھانا کھا نہیں لیا تب تک وہیں بیٹھا رہا۔ پھر بچوں کو کھاتا دیکھ کر رات کی تاریکی ہی میں خوشی سے واپس آ گیا۔ طویل قامت اور بارعب شخصیت کو امت مسلمہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے جو عموما رات کو رعایا کے احوال سے آگاہی کے لیے گشت کیا کرتے تھے۔

آپ کا اسم گرامی عمر، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب مبارک نویں پشت پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔ آپ کی ولادت عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی اور آپ ستائیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ چوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے لیے بہت دعا فرمایا کرتے تھے اس لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اپنی جگہ سے چند قدم آگے چل کر آپ کو گلے لگایا اور آپ کے سینہ مبارک پر دست نبوت پھیر کر دعا دی کہ اللہ ان کے سینہ سے کینہ و عداوت کو نکال کر ایمان سے بھر دے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام پر مبارک باد دینے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے اسلام کی شوکت و سطوت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور مسلمانوں نے بیت اللہ شریف میں اعلانیہ نماز ادا کرنا شروع کر دی۔ آپ وہ واحد صحابی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اعلانیہ اسلام قبول کیا اور اعلانیہ ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے موقع پر طواف کعبہ کیا اور کفار مکہ کو للکار کر کہا کہ میں ہجرت کرنے لگا ہوں یہ مت سوچنا کہ عمر چھپ کر بھاگ گیا ہے، جسے اپنے بچے یتیم اور بیوی بیوہ کرانی ہو وہ آکر مجھے روک لے۔ مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کے آپ کے مقابل آتا۔

ہجرت کے بعد سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رہے۔ غزو بدر میں اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ غزو احد میں انتشار کے باوجود اپنا مورچہ نہیں چھوڑا۔ غزو خندق میں خندق کے ایک طرف کی حفاظت آپ کے سپرد تھی بعد ازاں بطور یادگار یہاں آپ کے نام پر ایک مسجد تعمیر کی گئی۔ غزو بنی مصطلق میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک کافر جاسوس کو گرفتار کر کے دشمن کے تمام حالات دریافت کر کے اسے قتل کر دیا تھا اس وجہ سے کفار پر دہشت طاری ہوگئی۔ غزو حدیبیہ میں آپ مغلوبانہ صلح پر راضی نہ ہوتے تھے مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے سرِ تسلیم خم کیا۔ اور جب سور فتح نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ سورت سنائی کیوں کہ اس میں بڑی خوش خبری اور فضیلت آپ رضی اللہ عنہ ہی کے لیے تھی۔ غزوہ خیبر میں رات پہرے کے دوران ایک یہودی کو گرفتار کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ اس سے حاصل شدہ معلومات فتح خیبر کا ایک اہم سبب ثابت ہوئیں۔ غزو حنین میں مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم کی سرداری حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مرحمت کی گئی۔ فتح مکہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کعبہ میں عمرہ یا طواف کی اجازت طلب کی تو نبی علیہ السلام نے اجازت کے ساتھ فرمایا اے میرے بھائی!اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک جملہ کے عوض اگر مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو میں خوش نہ ہوں گا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کفر و نفاق کے مقابلہ میں بہت جلال والے تھے اور کفار و منافقین سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی و منافق کے مابین حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا مگر منافق نہ مانا اور آپ رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کے لیے کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو جب علم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بعد یہ آپ سے فیصلہ کروانے آیا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر کے فرمایا جو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں مانتا میرے لیے اس کا یہی فیصلہ ہے۔ کئی مواقع پر جو رائے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ظاہر فرمائی قرآن کریم کی آیات مبارکہ اس کی تائید میں نازل ہوئیں۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے پردہ، قیدیانِ بدر، مقامِ ابراہیم پر نماز، حرمتِ شراب، کسی کے گھر میں داخلہ سے پہلے اجازت، تطہیرِ سیدہ عائشہ رضی اللہ جیسے اہم معاملات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے، مشورہ اور سوچ کے موافق قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں۔ علما و فقہا کے مطابق تقریبا 25 آیات قرآنیہ ایسی ہیں جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تائید میں نازل ہوئیں۔

جب آپ تخت خلافت اسلامیہ پر متمکن ہوئے تو اعلان فرما دیا کہ میری جو بات قابل اعتراض ہو مجھے اس پر برسرِعام ٹوک دیا جائے۔ امیرالمومنین کا لفظ سب سے پہلے آپ ہی کے لیے استعمال ہوا۔ اپنی خلافت میں رات کو رعایا کے حالات سے آگاہی کے لیے گشت کیا کرتے تھے۔ اپنے دورِ خلافت میں اپنے بیٹے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کا وظیفہ 3 ہزار مقرر کیا جب کہ حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا 5،5 ہزار اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا 4 ہزار وظیفہ مقرر کیا۔ آپ نے 17 ہجری میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور 40 ہزار درہم مہر ادا فرمایا۔

آپ نے اپنے حکام کو باریک کپڑا پہننے، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھانے اور دروازے پر دربان رکھنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔ مختلف اوقات میں اپنے مقرر کردہ حکام کی جانچ پڑتال بھی کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ملک شام تشریف لے گئے اس وقت حاکم شام سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے عمدہ لباس پہنا ہوا تھا اور دروازہ پر دربان بھی مقرر کیا ہوا تھا۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ چونکہ یہ سرحدی علاقہ ہے اور یہاں دشمن کے جاسوس بہت ہوتے ہیں اس لیے میں نے ایسا کیا ہوا ہے تا کہ دشمنوں پر رعب و دبدبہ رہے۔ یہ معقول جواب سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مطمئن ہو گئے۔

اپنے دور خلافت میں مصر، ایران، روم اور شام جیسے بڑے ملک فتح کیے۔ 1 ہزار 36 شہر مع ان کے مضافات فتح کیے۔ مفتوحہ جگہ پر فورا مسجد تعمیر کی جاتی۔ آپ کے زمانہ میں 4 ہزار مساجد عام نمازوں اور 9 سو مساجد نماز جمعہ کے لیے بنیں۔ قبل اول بیت المقدس بھی دور فاروقی میں بغیر لڑائی کے فتح ہوا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فاروقی حکم سے جب بیت المقدس پہنچے تو وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا کہ ہماری کتابوں کے مطابق فاتح بیت المقدس کا حلیہ آپ جیسا نہیں لہذا آپ اسے فتح نہیں کر سکتے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط میں صورت حال لکھ بھیجی اور پھر جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیت المقدس آمد پر چابیاں آپ کے حوالہ کی گئیں کیوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ کا حلیہ مبارک اپنی کتابوں کے مطابق پا لیا تھا۔ انہی سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فتح مصر کے بعد ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بذریعہ خط اطلاع دی کہ دریائے نیل ہر سال خشک ہو جاتا ہے اور لوگ ہر سال ایک خوب رو دوشیزہ کی بھینٹ چڑھاتے ہیں تو دریا میں پانی اتر آتا ہے۔ تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جوابا ایک خط تحریر فرماکر روانہ کیا کہ یہ خط دریا کی ریت میں دبا دیا جائے۔ جیسے ہی خط دبایا گیا تو دریائے نیل میں پانی چڑھ آیا بلکہ پہلے سے چھ گنا زیادہ پانی ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خط کا مضمون یہ تھا کہ اے دریا! اگر تو اپنی مرضی سے بہتا ہے تو ہمیں تیری کوئی حاجت نہیں اور اگر تو اللہ کی مرضی سے بہتا ہے تو بہتا رہ۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا "اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔" جامع ترمذی، ج 2 ، ص 563
ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔"صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880
مزید ایک موقع پر فرمایا " اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کر دیا ہے۔

کئی قرآنی وعدے اور نبوی خوش خبریاں آپ رضی اللہ عنہ ہی کے دور خلافت میں پوری ہوئیں۔ فاروقی دورخلافت میں اسلامی سلطنت 22 لاکھ مربع میل کے وسیع رقبہ پر محیط تھی۔ پولیس کا محکمہ بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی نے قائم فرمایا تھا۔ کئی علاقوں میں قرآن اور دینی مسائل کی تعلیمات کے لیے حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابی ابن کعب، حضرت ابوالدردا، حضرت سعد اور حضرت ابو موسی اشعری وغیرہ جیسے اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مقرر فرمایا۔ آپ کا دور خلافت بہت مبارک اور اشاعت و اظہار اسلام کا باعث تھا۔ 27 ذی الحجہ بروز بدھ ایرانی مجوسی ابو لل فیروز نے نماز فجر کی ادائیگی کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خنجر مار کر شدید زخمی کر دیا۔ اور یکم محرم الحرام بروز اتوار اسلام کا یہ بطلِ جلیل، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاوں کا ثمر، اسلامی خلافت کا تاج دار 63 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ روضہ نبوی میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیف بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبروں کے ساتھ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک بنائی گئی۔

6 مارچ، 2014

امیر المومنین کی چوکیداری کے دوران پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے خلافت کے زمانہ میں بسا اوقات رات کو چوکیدار کے طور پر شہر کی حفاظت بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی حالت میں ایک میدان میں گذر ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ ایک خیمہ لگا ہوا ہے جو پہلے وہاں نہیں دیکھا تھا۔ اس کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک صاحب وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور خیمہ سے کچھ کراہنے کی آواز آرہی ہے۔ آپ سلام کر کے ان صاحب کے پاس بیٹھ گئے اور دریافت کیا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا ایک مسافر ہوں جنگل کا رہنے والا ہوں۔ امیر المومنین کے سامنے کچھ اپنی ضرروت پیش کر کے مدد چاہنے کے واسطے آیا ہوں۔

آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ خیمہ میں سے آواز کیسی آرہی ہے۔ ان صاحب نے کہا میاں جائو اپنا کام کرو۔ آپ نے اصرار فرمایا کہ نہیں بتادو کچھ تکلیف کی آواز ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ میری بیوی ہے اور بچے کی ولادت کا وقت قریب ہے، آپ نے دریافت فرمایا کہ کوئی دوسری عورت بھی پاس ہے۔ اس نے کہا کوئی نہیں۔ آپ وہاں سے اٹھے، اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی بیوی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ایک بڑے ثواب کی چیز مقدر سے تمہارے لئے آئی ہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا ہے آپ نے سارا واقعہ بتایا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا ہاں ہاں تمہاری صلاح ہو تو میں تیار ہوں۔

حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ ولادت کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہو لے لو اور ایک ہانڈی اور کچھ گھی اور دانے وغیرہ بھی ساتھ لے لو، وہ لے کر چلیں۔ حضرت عمر رضی الله عنہ خود پیچھے پیچھے ہو لیے وہاں پہنچ کر حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا تو خیمہ میں چلی گئیں اور آپ نے آگ جلا کر اس ہانڈی میں دانے ابالے، گھی ڈالا اتنے میں ولادت سے فراغت ہوگئی۔ اندر سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے آواز دے کر عرض کیا۔ امیر المومنین! اپنے دوست کو لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دیجئے۔

امیر المومنین کا لفظ جب ان صاحب کے کان میں پڑا تو وہ بڑے گھبرائے۔ آپ رضی الله عنہ نے فرمایا گھبرانے کی بات نہیں۔ وہ ہانڈی خیمہ کے پاس رکھ دی اور اپنی بیوی سے کہا کہ اس عورت کو بھی کچھ کھلا دیں۔ انہوں نے تھوڑی دیر بعد بانڈی باہر دے دی۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے اس بدو سے کہا کہ لو تم بھی کھائو۔ رات بھر تمہاری جاگنے میں گذر گئی۔ اس کے بعد اہلیہ کو ساتھ لے کر گھر تشریف لے آئے اور ان صاحب سے فرما دیا کہ کل تمہارے لئے انتظام کر دیا جائے گا۔

(حیات الصحابہ)




7 نومبر، 2013

ترستی ہے یہ دنیا یا خدا کوئی عمر دے دے



اٹھا لے زر کی رنگینی فقیری کا ہنر دے دے
عطا کر جان  لفظوں کو دعائوں میں اثر دے دے
ملائک ہم نے کیا کرنے ہمیں کوئی بشر دے دے
ترستی ہے یہ دنیا یا خدا کوئی عمر (رض) دے دے




یکم محرم الحرام یوم شہادت، حضرت عمر فاروق
first muharaam, youm shahadat hazrat umer farooq r.z.
urdu poetry, aabi makhanvi,
tarasti hai yeh dunia, yaa khuda koi umer de day






عمر (رض) اب کیوں نہیں آتا




عمر)رضی اللہ عنہ(اب کیوں نہیں آتا
شاعر: عابی مکھنوی

بیاد سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آنکھیں جو ذرا کھولوں
کلیجہ منہ کو آتا ہے
سڑک پر سرد راتوں میں
پڑے ہیں برف سے بچے
دسمبر لوٹ آیا ہے
عمر (رض)اب بھی نہیں آیا
کسی کی بے رِدا بیٹی
لہو میں ڈوب کر بولی
کوئی پہرہ نہیں دیتا
مِری تاریک گلیوں میں
میں سب کچھ ہار بیٹھی ہوں
درندوں کی حکومت میں
عمر (رض) اب بھی نہیں آیا
ذرا آگے کوئی ماں تھی
مُخاطب یُوں خُدا سے وہ
مِرے آنگن میں برسوں سے
فقط فاقہ ہی پلتا ہے
کوئی آہیں نہیں سُنتا
مِرے بے تاب بچوں کی
میں دروازے پہ دَستک کو
زمانے سے ترستی ہوں
عمر (رض) اب کیوں نہیں آتا
عمر (رض) اب کیوں نہیں آتا
میں آنکھیں جو ذرا کھولوں
کلیجہ منہ کو آتا ہے

::::::::::::عابی مکھنوی :::::::::::::





دس روپے کا سوال ہے بابا


بیاد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

دس روپے کا سوال ہے بابا
شاعر: عابی مکھنوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بیٹی کی تھام کر انگلی
چیز لینے میں گھر سے نکلا تھا
ایک بچی نے راستہ روکا
وہ جو بچی تھی پانچ سالوں کی
کھوئی سرخی تھی اس کے گالوں کی
کالا چہرہ تو بال بکھرے تھے
اس کے چہرے پہ سال بکھرے تھے
سوکھی سوکھی کلائی پر اس نے
ایک چوڑی کہیں سے چھوٹی سی
جانے کیسے پھنسا کے پہنی تھی
پاؤں ننگے قمیص میلی تھی
لٹکی گردن سے ایک تھیلی تھی
خالی خولی خلا سی آنکھیں تھیں
جیسے کالی بلا سی آنکھیں تھیں
جیسے چابی بھرا کھلونا ہو
جیسے بوڑھا سا کوئی بونا ہو
اس نے کھولا ادا سے مٹھی کو
ننھی منی سی اس ہتھیلی کو
میں نے دیکھا بڑی حقارت سے
ننھے ہونٹوں کی تھر تھراہٹ پہ
اک مشینی صدا کے جھٹکے تھے
دس روپے کا سوال ہے بابا
میں نے نفرت سے دیکھ کر اس کو
ہاتھ جھٹکا کہ جان چھوڑے وہ
وہ ہتھیلی وہیں پہ اٹکی تھی
وہ صدا بھی تھمی نہ اک پل کو
میری عادت ہے پیشے والوں کو
اک روپیہ کبھی نہیں دیتا
میں بھی ضدی تھا وہ بھی ضدی تھی
میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پہ
مرتے پچپن کی ہلکی لالی تھی
اس کے جملے کے سارے لفظوں میں
لفظ بابا ذرا سا بھاری تھا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ بابا پہ ہلکی اٹکن تھی
دس روپے کا سوال ہے بابا
اس کے بابا نے اس کو سکھلایا
اس کی اماں نے اس کو رٹوایا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ بابا پہ کیسی اٹکن تھی
خالی خولی خلا سی آنکھوں نے
میرے چہرے کو غور سے دیکھا
اس کے قاتل سپاٹ چہرے پہ
ایک قاتل سی مسکراہٹ تھی
اس کے ہاتھوں کی انگلیاں مڑ کر
پھر سے مٹھی کی شکل میں آئیں
میں نے دیکھا تو اس کے ماتھے پہ
اکعبارترواں سی لکھی تھی
دس روپے کو سنبھال تُو بابا
ساری قبروں پہ دستکیں دینا
کام رب نے مرا لگایا ہے
رب نے چھوٹی سی عمر میں مجھ کو
دیکھ کتنا بڑا بنایا ہے
ان شریفوں سے اور خانوں سے
میرے جیسے ہزاروں بچوں کا
ایک لشکر سوال کرتا ہے
یہ جو بچپن کا ایک موسم ہے
سارے بچوں پہ کیوں نہیں آتا
میری مانو تو مان لو اتنا
ان مساجد میں اور تھانوں میں
ساری سڑکوں پہ سب مکانوں میں
خانقاہوں میں آستانوں میں
گلتے سڑتے غلیظ لاشے ہیں
روز قبروں پہ دستکیں دے کر
میرے جیسے ہزار ہا بچے
روزبابا تلاش کرتے ہیں
تم جو کہتے ہو پیشہ ور بچے
اپنے بچپن کی آڑ میں عابی
مال و زر کو تلاش کرتے ہیں
آج سن لو کہ بات اتنی ہے
صدیوں پہلے کہیں پہ کھویا تھا
اپنےبابا عمر رضی اللہ عنہ کو ہم سب نے
ایسےبابا کہ جن کے سائے میں
میرے جیسی کسی بھی بچی کا
کوئی بچپن نہیں مرا گھٹ کر
دس روپے کا سوال ہے بابا
یہ صدا تو فقط بہانہ ہے
ہم کوباباکے پاس جانا ہے
دس روپے کو سنبھال تُو بابا
ہم کوبابا کے پاس جانا ہے

:::::::::عابی مکھنوی ::::::::::