ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

22 اپریل، 2014

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا


یعقوب بن جعفر بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ عموریہ کی جنگ میں وہ معتصم کے ساتھ تھے۔ عموریہ کی جنگ کا پس منظر بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ ایک پردہ دار مسلمان خاتوں عموریہ کے بازار میں خریداری کے لیے گئی۔ ایک عیسائی دوکاندار نے اسے بےپردہ کرنے کی کوشش کی اور خاتوں کو ایک تھپڑ رسید کیا۔۔ لونڈی نے بے بسی کے عالم میں پکارا۔۔۔
”وا معتصما !!!! “
ہائے معتصم ! میری مدد کے لیے پہنچو۔ سب دوکاندار ہنسنے لگے، اسکا مزاق اڑانے لگے کہ سینکڑوں میل دور سے معتصم تمہاری آواز کیسے سنے گا؟۔۔۔ ایک مسلمان یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا: میں اس کی آواز کو معتصم تک پہنچاؤں گا، وہ بغیر رکے دن رات سفر کرتا ہوا معتصم تک پہنچ گیا اور اسے یہ ماجرا سنایا۔ یہ سننا تھا کہ معتصم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا ۔ وہ بے چینی سے چکر چلانے لگا اور اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر اونچی آواز میں چلانے لگا: میری بہن میں حاضر ہوں۔ میری بہن میں حاضر ہوں۔

اس نے فورا لشکر تیار کرنے کا حکم دے دیا۔۔ مسلمانوں کی آمد سے خوفزدہ ہو کر رومی قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔ ایک بدبخت رومی ہر روز فصیل پر نمودار ہوتا اور رسول اکرم صلّی الله علیه و آله و سلّم کی شان میں گستاخی کرتا۔ مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ وہ اتنے فاصلے پر تھا کہ مسلمانوں کے تیر وہاں تک نہ پہنچ پاتے۔ مجبورا اسے اس کے انجام سے دوچار کرنے کے لیے قلعہ فتح ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔ جبکہ مسلمانوں کی خواہش تھی کہ اسے ایک لمحے سے پہلے جہنم رسید کر دیا جائے۔

یعقوب بن جعفر کہنے لگے: ان شا اللہ میں اسے واصل جہنم کروں گا ۔ انہوں نے تاک کر ایسا تیر مارا جو سیدھا اس کی شاہ رگ میں گھس گیا۔ وہ تڑپا، گرا اور وصل جہنم ہو گیا۔ مسلمانوں نے بلند آواز سے الله اکبر کہا اور ان میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ معتصم بھی بہت خوش ہوا۔اس نے کہا: تیر مارنے والے کو میرے پاس لایا جائے۔ یعقوب بن جعفر معتصم کے پاس پہنچے تو اس نے کہا:
گستاخ رسول کو جہنم رسید کرنے کے عمل کا ثواب مجھے فروخت کر دیں۔
میں نے کہا: امیرالمومنین ! ثواب بیچا نہیں جاتا۔
وہ کہنے لگا: اگر آپ آمادہ ہوں تو میں ایک لاکھ درہم دینے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے کہا میں ثواب نہیں بیچوں گا۔
وہ مالیت بڑھاتا رہا۔۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے پانچ لاکھ درہم کی پیشکش کر دی۔
میں نے کہا اگر آپ ساری دنیا بھی دے دیں تب بھی میں ثواب فروخت نہیں کروں گا البتہ میں آپ کو اس نصف ثواب تحفے میں دیتا ہوں اور اس بات کی گواہ اللہ پاک کی ذات ہے۔ معتصم کہنے لگا: الله آپ کو اس کا اعلیٰ بدلہ عطا فرمائے میں راضی ہوں۔

ماخوز
دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے اوراق :  عبدالمالک مجاہد  ص 267



1 comments:

  1. assalam o alikum sir man bhi ik blog banaba chahta hoo jis man is tarah he urdu likhi hoe ho thori si tips anayat kar dain

    جواب دیںحذف کریں