ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

30 جولائی، 2014

باؤلا

 ’’زیورخ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہیے تھا مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے‘‘ یہ الفاظ ایک معروف کالم نگار کے ہیں جو اپنی زیورخ یاترا کے بعد علم کی ایک نئی دنیا سے آگاہ ہو کر آئے ہیں۔ اگر لفظ ’’سودی ‘‘استعمال نہ ہوتا تو پھر بھی میرے لیے گنجائش تھی کہ میں حسن ظن سے کام لیتا کہ شاید موصوف کو بینکاری کے خون چوسنے والے نظام سے عشق ہے۔ لیکن سود کا دفاع اور اس قدر واضح اور کھل کر… اس امت کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ایسی موجود ہو۔

موصوف کی یہ سطور پڑھ رہا تھا تو مجھے سود کی حمایت کرنے والوں کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ نے جو کیفیات بتائی ہیں‘ یاد آ رہی تھیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں‘ ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر بائولا (پاگل) کر دیا ہو‘ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’تجارت بھی تو آخر سود جیسی چیز ہے‘‘۔ کس قدر سچا ہے میرا رب جو ایسے دانشوروں کی ذہنی کیفیت اور دلوں میں چھپے اسلام کے نظام کے ساتھ بغض و عناد کو جانتا ہے۔ کتنی صادق آتی ہے یہ آیت ان سطور پر جو موصوف نے اپنے کالم میں تحریر کی ہیں۔


چلیں چھوڑیں اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کو کہ ان میں حکمت وہ لوگ تلاش کرتے ہیں جن کی آنکھیں مغرب کی روشنی سے چندھیا نہ گئی ہوں۔ ان کے آئیڈیل اور قابل تعریف سوئزر لینڈ اور زیورچ کے سودی بینکاری نظام کی اصل بنیاد کیا ہے۔ وہ کونسی لوٹ مار ہے جس پر اس کی عمارت تعمیر ہے اور آج بھی اس نے دنیا بھر کے مظلوم‘ مقہور اور مجبور انسانوں کی دولت کو لوٹنے والوںکو اپنا محسن قرار دیا ہے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک شہر آباد کیا ہے۔ ایک ایسا شہر جو دنیا بھر کے ظالموں‘ چوروں‘ اچکوں‘ اٹھائی گیروں اور کرپٹ انسانوں کی دولت پر پلتا ہے۔


اس شہر کے لوگ ان بینکوں میں ان لٹیروں کی دولت کا حساب رکھتے ہیں‘ تحفظ کرتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں‘ عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ زیورچ اور سوئس بینکوں کی یہ روایت تین سو سال پرانی ہے۔ فرانس کے بادشاہوں کو اپنے عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کی ضرورت تھی اس لیے 1713ء میں The Great Council of Geneva نے رازداری کا قانون ’’Code of Seerecy‘‘ متعارف کرایا جس کے تحت بینکار کھاتے کی رقم صرف کھاتے دار کو بتاتا ہے کسی دوسرے کو اس کی اطلاع نہیں دیتا۔
اس کے بعد انقلاب فرانس آیا تو وہ سب سیاستدان‘ وڈیرے‘ نواب جنھوں نے عوام کا سرمایہ لوٹا تھا بھاگ کر یہاں آ گئے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے ان بینکوں کے کاروبار کا آغاز ہوا۔ یہ لوگ اسقدر ظالم ہیں کہ جس وقت 1930ء کا عالمی معاشی بحران آیا‘ دنیا کی حکومتیں اپنے لوٹے ہوئے پیسے کے بارے میں معلومات چاہتی تھیں تا کہ جوپیسہ عوام سے لوٹا گیا ہے ان کو واپس لوٹایا جا سکے تو سوئزر لینڈ نے 1934 Banking Actمنظور کیا اور دنیا کے غریبوں کو ان چوروں‘ لٹیروں‘ اور ڈاکوئوں کے نام اور ان کا سرمایہ بتانے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جب جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوا تو اس وقت تک سوئزر لینڈ ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک ’’محفوظ جنت‘‘ سمجھی جانے لگی تھی جو اپنے ملکوں کا سرمایہ لوٹ کر وہاں لے جائیں۔ اسے اس زمانے میں ’’Repository of capital for unstable countries‘‘(غیر مستحکم ملکوں کے سرمایے کی جنت )کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں یہودیوں پر ظلم و ستم کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہولوکاسٹ تھا‘ ان کا قتل عام ہو رہا تھا۔ یہودیوں نے اپنی حکومتوں کے خوف سے اپنا سرمایہ اور سونا ان سوئس بینکوں میں جمع کروانا شروع کیا۔
سونا ان رقوم میں صرف چار ارب ڈالر کا تھا۔ان ظالم بینکاروں نے مرنے والے یا قید ہونے والے یہودیوں کے کاغذات کو آہستہ آہستہ جلانا شروع کر دیا۔ دوسری جانب سوئزر لینڈ وہ واحد ملک تھا جس نے نازی ظلم سے بھاگنے والے یہودیوں پر اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ جرمن یہودیوں کے پاسپورٹوں پر ’’J‘‘ کا لفظ لکھتے تھے اور اس پاسپورٹ کو دیکھ کر سوئزر لینڈ کی سرحد سے انھیں واپس دھکیل دیا جاتا تھاتاکہ یہ دولت واپس نہ مانگ لیں۔
جرمن آرکائیوز کے مطابق 1944 میں جرمن وزیر داخلہ ہیزرچ ہملرHeinrich Himler نے سونے اور زیورات سے لدی ہوئی ایک ٹرین سوئزر لینڈ کے بینکوں کو بھجوائی تاکہ ناگہانی کیفیت میں جنگ میں اسلحہ کی خریداری کے لیے کام آ سکے۔ جنگ ختم ہوئی اور 1946 میں پیرس معاہدہ Paris Agreement وجود میں آیا جس کی وجہ سے اس سونے پر ان بینکوں اور عالمی اتحادی طاقتوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ ان بینکوں کو ملا۔ یہودی اپنی طاقت اور بالادستی کے باوجود ان سود خور بینکوں سے اپنی دولت نہ لے سکے۔ بددیانتی کے اس کاروبار نے سوئزر لینڈ اور موصوف کالم نگار کی جنت زیورچ کو سرمایہ فراہم کیا۔
آج بھی سوئزر لینڈ کے بینکوں میں 80 فیصد رقوم تین ذرایع سے آتی ہیں۔ -1 دوسرے ملک سے ٹیکس چوری کا پیسہ جن میں یورپ اور امریکا جیسے ممالک بھی شامل ہیں‘-2 غیر ترقی یافتہ ممالک کے آمروں اور حکمرانوں کا کرپشن اور لوٹ مار کا سرمایہ اور -3دنیا کے بڑے بڑے مافیاز کے جرائم سے حاصل کردہ سرمایہ۔ یہ ہیں وہ تین بنیادی ذرایع جو اس ’’جنت نظیر‘‘ علاقے کی آمدن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ یہ ہے سوئزر لینڈ کا بزنس ماڈل۔ چند سال پہلے تک ٹیکس چوری سوئزر لینڈ میں جرم نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب جرمن محکمہ Deutsche post کے سربراہ Klaus Zumwinkle کے بارے میں جرمن حکام نے کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کیا تو سوئزر لینڈ نے کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا۔ان بینکوں کا سوئزر لینڈ کی سیاست پر اسقدر اثر ہے کہ اس ملک کے سیاست دان بینکاری کے غلیظ دھندے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں ۔اسی لیے وہ یورپی یونین کا حصہ بننے سے انکار کرتے رہے۔ دنیا کا ہر چور‘ بددیانت‘ قاتل‘ ڈاکو‘ ظالم حکمران اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے ان بینکوں کو پناہ گاہ سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ فرانس کے سوشلسٹ وزیر خزانہ Jerome cahuzac کا بھی یہاں ایک خفیہ اکائونٹ ہے۔
فلپائن کا مارکوس‘ چلی کا آلندے‘ ایران کا رضا شاہ‘ پاکستان کا زرداری اور افریقہ کے آمروں کی لوٹی ہوئی رقوم ان بینکوں کے کاروبار کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس سارے سرمائے کا بدترین اور انسانیت دشمن استعمال یہ ہے کہ یہ سب کے سب بینک اس وقت دنیا بھر میں خوراک کی تجارت اور ذخیرہ اندوزی پر سرمایہ لگاتے ہیں۔ ملکوں سے خوراک خریدتے ہیں اور پھر ان کا ذخیرہ کر کے مہنگے داموں پر لوگوں کو بیچتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں اس وقت دنیا میں ایک ارب مرد‘ عورتیں اور بچے قحط اور بھوک کا شکار ہیں۔
یہ قاتل اور انسانیت دشمن بینک اپنے سرمائے سے کھاتے داروں کو سود ادا کرتے ہیں اور سوئزر لینڈ کے عوام کو شاندار سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ ڈاکوئوں‘ چوروں‘ آمروں‘ ڈکٹیٹروں اور انسانیت دشمن افراد کا ملازم ہے۔ ان کی فی کس آمدنی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کیوں نہ ہو ڈاکوئوں‘ چوروں اور پیشہ ور قاتلوں کے کارندے سرمائے میں نہاتے ہیں۔
یہ ہے وہ جنت جس کی تعریف مذکورہ کالم نگار نے کی ہے۔ لیکن میرے اللہ نے ایسے افراد کی کیفیت کے بارے میں کیا خوب ارشاد فرمایا تھا جو ان شہروں میں چند دن گزار کر متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’دنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوشحالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہر گز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین جائے قرار ہے (آل عمران 197)۔ کون ہے جو شہروں کی چہل پہل سے متاثر ہو کر بدترین جائے قرار کو منتخب کرلے۔ 


oria maqbool jjan article on sood
swiss bank ,money

کس منہ سے کہیں تم سے، تمہیں عید مبارک


 کئی عیدوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ تقریباًہر عید الفطر پر ہمارے اہلِ وطن اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ آج ہم عید منائیں یا اپنے پختون بھائیوں کو منائیں؟خیر یہ قصہ اور یہ قضیہ تو شاید ہمیشہ ہی چلتارہے گا۔ ابھی ابھی کسی نے (ہمارے کان پر) یہ نعرہ بھی مارا ہے کہ ۔۔۔جب تک صوبہ ’خیبر پختون خوا‘ رہے گا تب تک دو،دو چاند رہیں گے۔۔۔ (اور دو،دو عیدیں)۔۔۔ اگر مختلف ’قومیتوں‘ کے مطالبات پرملک میں کچھ زیادہ صوبے بن گئے تو کیا عجب کہ وطن عزیز پاکستان میں۔۔۔ہر روز، روزِ عید ہو، ہر شب، شبِ برات۔
سنتے آئے ہیں کہ عید کی سچی خوشی اُنھی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنھوں نے رمضان بھر روزے رکھے، تراویح کی تمام نمازیں ادا کیں اورنمازِ عید سے پہلے پہلے اپنے اوپر واجب الادا صدقۂ فطر ادا کردیا۔ جو یہ سب کچھ نہ کرے کیا خاک اُس کی عید ہے؟ مسلمانوں کی زندگی کے غم ہوں یا خوشیاں سب کے سب کسی نہ کسی انداز میں’ عبادت‘ سے عبارت ہیں۔سو، رمضان کی عبادات کی کامیابی سے تکمیل کی خوشی منانے کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ فرزندانِ توحید مارے خوشی کے عیدکے دن دو رکعت نماز زیادہ پڑھ آئے، ساتھ زائد چھہ تکبیروں کے۔
 

یہ تو ہوئیں عید کی حقیقی خوشیاں منانے والوں کی باتیں۔ مگر ہمارے یہاں عید کی مصنوعی خوشیاں منانے والے بھی بہت ہیں۔ عید کے دن ایسی بہت سی ’مصنوعات‘ کی آپ کو ہمارے ٹی وی چینلوں پر بھرمار نظر آئے گی۔عیدکے نام پر از سحر تابہ سحر مسلسل نشر ہونے والے اِن مصنوعی پروگراموں میں نہ رمضان کا ذکر آئے گا نہ روزے کا۔ سحری کی بات ہوگی نہ افطاری کی۔ تراویح کا تذکرہ ملے گا نہ جشنِ نزولِ قرآن کا۔ روزے کی مشق سے پیدا ہونے والے صبر اور ضبطِ نفس کی صفات کا جائزہ لیا جائے گا نہ خیراور خیرات میں سبقت لے جانے کا۔ ان سے کون پوچھے کہ تمھاری عید ہے کس بات کی عید؟ رمضان گزر جانے کی عید؟ کہ جس پر’جشن عید‘ مناتے ہوئے ٹھمکے پرٹھمکا لگا لگا کر اِس عزم کا اظہاراوراعلان کیا جائے گا کہ:
ایسی چال میں چلوں کلیجا ہِل جائے گا
کسی کی جان جائے گی، کسی کا دِل جائے گا
 

عید کی سب سے زیادہ خوشیاں مناتے ہوئے اور ناچتے گاتے ہوئے آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے ، جنھیں کچھ رمضان سے سروکار تھا نہ روزے سے۔مگر ناچنے دیجیے اُنھیں۔ کیوں کہ اگر آپ انھیں عید کی خوشی میں ناچنے نہیں دیں گے تو یہ مارے غصے کے اور ناچنے لگیں گے کہ اِس ملک میں ہمیں ناچنے بھی نہیں دیا جاتا وھاٹ اے کنٹری؟ کسی کو ناچنے نہ دینا اُس کی ’ آزادئ اظہار‘ سلب کرلینے کے مترادف ہے۔
’کنٹری‘ کا ذکر آیاتواِس پر ہمیں یاد آیاکہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔’عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے‘۔۔۔مگر ہم نے دوست بھی امریکا جیسے’بے دید‘ پالے ہوئے ہیں۔کہ جس کی دوستی کے طفیل ہمارا ’کنٹری‘ نہ صرف مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں رہتا ہے بلکہ ہماری قوم اور ہماری قوم کے سجیلے جوانوں کو بھی دہشت گردوں کے حملوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن سپوتوں کو اس قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اس لیے پالاتھا کہ وہ اﷲ، اُس کے رسولؐ اور ملکِ خداداد کے دشمنوں پر اﷲ کا قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے، اگر اُن میں جہاد کی جگہ جمود اور سکتہ و سکوت پیدا ہوجائے، وہ اﷲ اور اُس کے رسولؐ کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان بھائیوں پر اﷲکے دشمن یہودیو ں کو ظلم ڈھاتے ہوئے دیکھیں اور نہ صرف ٹکر ٹکر دیکھیں بلکہ اُن کے ’صفِ اول کے اتحادی‘ بھی بن جائیں تو اﷲ اُن کی ہوا اِسی طرح اُکھاڑ دیتا ہے کہ اُن کو اپنی، اپنے دفتروں کی اور اپنی چھاؤنیوں کی بھی حفاظت کی فکرپڑ جائے۔ وہ دوسروں کی جان تو کیا بچائیں گے؟ اپنی جان بچانے کے لیے دیواریں بنائیں گے۔ رُکاوٹیں کھڑی اور سڑکیں بند کریں گے۔سن 2012ء کی وہ عید الفطر یہ قوم کیسے بھول سکتی ہے جب باقی پاکستان کی عید سے فقط دو دِن قبل شمالی وزیرستان میں عید منائی جارہی تھی تو امریکا نے ڈرون حملے کرکے بروزِ عید 12پاکستانی سپاہی شہید کردیے تھے۔یہ تھا ہمارے اتحادی اور ہمارے دوست امریکا کا’تحفۂ عید‘۔امریکی صدر اوباما صاحب ایک طرف تو امریکی عوام کی طرف سے ہمیں اور ہمارے وزیر اعظم کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں، دوسری طرف عید کے دن کے لیے، پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان کے مسلمان شہریوں اور ہمارے نوجوان سپاہیوں کی کم عمر بیواؤں اوراُن کے ننھے منے بچوں کو آہوں، آنسوؤں اور دِل پاش پاش کردینے والے غموں کے تحفے بھی مسلسل مل رہے ہیں۔ہر عید پر ہماری سوگوار قوم اور اِن سانحات سے سوگوار ہوجانے والے خاندانوں پر اقبالؔ کا یہ شعرصادق آتاہے کہ:
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
 

ہماری عیدیں تواب ’شکوہِ ملک و دیں‘ بننے کی بجائے صرف ’ہجومِ مومنیں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ایسے میں ہم قوم کو عید کی مبارک باد کیسے دیں؟
  عید کے دِن نمازِ عید کے جو پُر ہجوم اجتماعات ہوں گے، اُن کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔خطیب حضرات یومِ عید کے فضائل و مناقب گِنوا گِنوا کر اسلام کی شان بیان کریں گے اور بڑے جوش وخروش سے بیان کریں گے۔ اُنھیں اِس ملک میں بس ’بیان‘ کرنے ہی کی اجازت ہے،اسلام کی شان بیان کرنے کی۔اسلام کی شان دکھانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ پھر بھی:
ملا کو جو ہے ’عید کے‘ سجدے کی اجازت
’لیڈر‘ یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزاد
 

اسلام تو اسلام، ہمیں تویہ آزادی بھی نصیب نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اپنی زبان میں تعلیم دے سکیں۔اپنی قومی زبان کواپنے ملک کی سرکاری زبان بنا سکیں یا کم ازکم اس کی عملی کوشش ہی کرسکیں۔یاصدیوں سے اپنے دین کی تعلیم و تعلم میں مصروف دینی مدارس کو امریکا کے قرار دینے پر ’دہشت گردی‘ کے مراکز مان کر اُن پرنفرین بھیجنے کی بجائے دُنیا سے اُن کا تقدس اور اُن کی اہمیت تسلیم کرواسکیں ۔ یہ مثالی تعلیمی ادارے ملک کے مفلوک الحال بچوں میں نہ صرف خیر کثیر عطا کرنے والے علم کی دولت مفت تقسیم کرتے ہیں، بلکہ اُنھیں مفت رہائش اور مفت خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران ایسا کریں تو کیسے کریں؟یہ حکام نہیں ’محکوم‘ ہیں، اور محکوم بھی طاغوت کے۔ اُنھیں اِن کاموں کی آزادی نصیب نہیں۔غنیمت ہے کہ اِس قدر محکوم قوم کو ابھی تک پُر ہجوم نمازِ عید ادا کرنے کی آزادی میسر ہے۔ مگر اقبالؔ ؒ نے کچھ غلط تو نہیں کہاتھا کہ:
عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
 

عید کے موقع پر۔۔۔ہرسال آپ پڑھتے ہی ہیں کہ۔۔۔ ہماری قوم کے (محکوم) حکمران بھی (اپنے ہی) دانت نکال نکال کر امریکی صدر کی طرح خود بھی قوم کو عیدکی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور خود بھی عید کی مبارک باد کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پرقوم کو کمرتوڑ مہنگائی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ بے پناہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور اِس کے نتیجہ میں ٹھپ ہوجانے والے صنعتی اداروں کے مزدوروں کو بے روزگاری کا ’تحفۂ عید‘ پیش کرتے ہیں۔ پھر ان تحفوں پر مستزاد بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا ’تحفۂ عیدبھی پیش کردیا جاتاہے۔ جب کہ اِن’ تحفوں‘ پر بندھے ہوئے ربن کے طورپر منہ زبانی ’عیدمبارک‘ کا ’تحفۂ عید‘ قوم کوپہلے ہی موصول ہو چکا ہوتا ہے۔اے صاحبو! کس منہ سے کہیں تم سے، تمھیں عید مبارک! 

ابو نثر  

ایک پردیسی کی عید

ایک پردیسی کی چاند رات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی روزوں کے بیچ سیتی تھیں
کس محبت سے عید کے کپڑے
دل دھڑکتا تھا آخری روزے
جب بچھڑتی تھی ہم سے افطاری
چھت پہ مسجد کی بعد از مغرب
بادلوں کی اندھیر نگری میں
چاند مل کے تلاش کرتے تھے
شب گزرتی تھی جاگتے سوتے
صبح ہوتی تھی کس قدر روشن
چہرے کھلتے گلاب ہوں جیسے
گلیاں رنگوں کی کہکشاں جیسی
جذبے ایسے کہ شہد سے خالص
ملنا اپنے پرائے لوگوں سے
سر پہ ماں کا شفیق سایہ بھی
ماں کے ہاتھوں کو چوم کر عابی
اُس کے ہاتھوں کا وہ بنا میٹھا
جس سے ممتا کا رس ٹپکتا تھا
کس محبت سے ہم وہ کھاتے تھے
قد میں ابو سے گو میں اونچا تھا
پھر بھی عیدی مجھے وہ دیتے تھے
اپنی عیدی کے ٹکڑے کرکے میں
بہنوں بھائیوں میں بانٹ دیتا تھا
یار لوگوں کی ٹولیاں اپنی
جن سے سجتا تھا عید کا میلہ
ُتو کھلائے تو میں کھلاؤں گا
ایسے کھاتے تھے ہم بھی سوغاتیں
وقت پنچھی بلا کا ظالم ہے
پر لگا کے اُڑا وہ لمحوں میں
دانہ اپنے نصیب کا عابی
ایسا رب نے بکھیر کر پھینکا
جس کو چنتے پرائے دیسوں میں
برف اُتری ہے آج بالوں میں
دور گاؤں میں چاند اُترا ہے
لوگ کہتے ہیں عید آئی ہے
باسی کھانا میں کھا کے لیٹا ہوں
میلے تکیے پہ سر ٹکائے ہوں
نیند آنکھوں سے دور بیٹھی ہے
کل کے برتن بھی میں نے دھونے ہیں
ایک جوڑا خرید لایا تھا
پہن لوں گا سویرے گر جاگا
ماں کے میٹھے کی آج بھی خوشبو
میرے کمرے میں چار سو پھیلی
مجھ سے کہتی ہے لوٹ آ پگلے
چھوڑ دے یہ نصیب کے جھگڑے
دانہ بندے کا پیچھا کرتا ہے
تیری گلیاں تجھے بلاتی ہیں
تیری عیدی سنبھال رکھی ہے
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
......................
عابی مکھنوی 


tags: aik pardesi ki eid ,chand raat, ,urdu shairi, poetry, aabi makhavi , eidi, 

27 جولائی، 2014

علامہ پروفیسر طاہر القادری کا توہین رسالت پر موقف

video

 علامہ پروفیسر طاہر القادری کا توہین رسالت پر موقف
پاکستان اور ڈنمارک میں دیے گئے دو متضاد بیانات ، سنیں علامہ پروفیسر پاکستان میں کیا کہتے ہیں اور اپنے انگریز آقاؤں کے پاس جا کر کیا کہتے ہیں.
یہ ویڈیو متعدد بار فیس بک اور یوٹیوب سے ڈیلیٹ ہو چکی ہے، ،کئی قارئین کے اسرار پراس بار پھر ہم نے بلاگ پر پوسٹ کی ہے، دیکھتے ہیں کہ کتنے دن چلتی ہے.

جب ڈیلیٹ ہو گئی تو ہم پھر کر دیں دے :)



Allama professor tahir ul qadri statements regarding blasphemy law
it is applicable on non muslims?

24 جولائی، 2014

’ایویں رولا پاندا اے‘

 ’ایویں رولا پاندا اے‘ 
ابو نثر

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ:
’’کوئی طاقت انقلاب کو نہیں روک سکتی‘‘۔
علامہ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ ایسی ناطاقتی صرف زمینی طاقتوں کے حصے میں آئے گی یا جوشِ انقلاب میں اُنھوں نے تمام آسمانی طاقتوں کو بھی کھلا چیلنج دے مارا ہے۔ویسے انقلاب کے آنے کی نوید تو ہم جنوری 2013ء سے سن رہے ہیں جب علامہ صاحب اسلام آباد کے ’ڈی چوک‘ پر سخت سردی کے موسم میں گرما گرم کنٹینر کے اندر کافی پی پی کر انقلاب لانے پر تلے ہوئے تھے۔مگر اب تک جو انقلاب نہ آسکا تو آخر اِس کی کیا وجہ ہے؟کیا اس کی وجہ انقلاب کی اپنی ناطاقتی ہے؟ یا واقعی کوئی طاقت انقلاب کو آنے سے روکے کھڑی ہے؟ ابھی پچھلے ماہ یعنی جون 2014ء میں بھی علامہ صاحب ’انقلاب بذریعہ ہوائی جہاز‘ لے کر آرہے تھے۔ مگریہ بھی اﷲ ہی جانے کہ اُس انقلاب کی آمد کی راہ میں کون سی طاقت آڑے آگئی؟ سو،انقلاب کو آنا تھا نہ آیا۔ بلکہ انقلاب کی جگہ ماہِ صیام آگیا اور ’اﷲ کا مہینہ‘ یعنی ’رمضانِ کریم‘ انقلاب کا رستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ ابھی تک کھڑا ہے۔ اب علامہ صاحب بھی کھڑے انتظار کر رہے ہیں کہ ماہِ صیام کسی طرح رُخصت ہو تو اُن کا انقلاب بھی کسی طرح آئے۔ (ارے بھئی رمضان میں قید کر دیا جانے والا، اُن کا ’محرکِ انقلاب‘ ، اُن کا گڈو بٹ، رہائی پائے گا تو انقلا ب آئے گا نا!)
صاحبو! علامہ صاحب کا انقلاب، انقلاب نہ ہوا، ایک پرانی کہانی کے چرواہے کا شیر ہوگیا، جس کے متعلق چرواہا ہر روز صدا لگاتا تھا کہ۔۔۔’شیر آیا، شیر آیا دوڑنا‘۔۔۔صدا سن کر گاؤں کے لوگ کلھاڑے لے لے کر دوڑے چلے آیا کرتے۔ مگر اُنھیں کہیں شیر نظر آتا نہ شیر کی دُم۔ بالآخر ایک روزشیر آہی گیا۔ اُس روز بھی چرواہے نے بڑی آوازیں لگائیں۔ مگر گاؤں والوں نے کہا: ’’ایویں رولا پاندا اے‘‘۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ شیر چرواہے کو چیر پھاڑ کر کھا گیا۔ ہم بھی سوچتے ہیں کہ علامہ کے صدا لگاتے لگاتے اگر کسی روز سچ مچ انقلاب آگیا تو ہم کنیڈا والوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟
علامہ صاحب نے یہ بھی فرمایاہے کہ:’’کرپٹ پولیس اہلکار انقلاب کے رستے میں نہ آئیں‘‘۔
اس سے ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ شاید کرپٹ پولیس اہلکار ہی انقلاب کے رستے میںآکر کھڑے ہوگئے تھے۔انقلاب پولیس سے ڈر گیا اور مارے ڈر کے نہ آسکا۔ اب علامہ صاحب نے جو پولیس کو للکارا ہے تو اس پر ہمیں آغاحشر کاشمیری کی للکار یاد آگئی کہ:
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو، ہٹ جاؤ! دے دو راہ جانے کے لیے
اس سے ہمیں پتا چلا کہ کرپٹ پولیس اہلکاروں کی طرح، فلک پر گشت یا مٹر گشت کرتے ہوئے بادل بھی آغا صاحب کی ’آہ‘ کا رستہ روکے کھڑے تھے۔ وہ تو آغا صاحب مرحوم نے اُنھیں للکار، للکار کر ہٹایا تو ’آہ‘ کو فلک پر جانے کا رستہ ملا۔ تاہم، آغا صاحب کی ’آہ‘ فلک سے رحم لانے میں کامیاب ہوئی یا نہیں؟ اس باب میں اُردو زبان کے شیکسپیئر کے ڈراموں کی تاریخ خاموش ہے۔ مگر علامہ صاحب خاموش نہیں ہیں۔ اب تک نہ آنے والے انقلاب کے رستے کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کرپٹ پولیس والوں کو للکارے چلے جارہے ہیں کہ:
انقلاب آتا ہے تم پر قہر ڈھانے کے لیے
پُلسیو، ہٹ جاؤ! دے دو راہ آنے کے لیے
اُردو محاورے کی ’رادھا‘ اپنے ناچنے کے لیے ’نومن تیل‘ فراہم کرنے کی شرط عائد کیا کرتی تھی، اس اطمینان کے ساتھ کہ۔۔۔ ’نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی‘ ۔۔۔ مگر علامہ کو اپنے انقلاب کے لیے ’دس لاکھ تعلیم یافتہ افراد‘ کا لشکر اقتدار بنانے کی حاجت ہے۔ آپ نے فرمایا :
’’ان کی فہرست ابھی سے تیار کرنا شروع کردی جائے گی‘‘۔
دس لاکھ افراد کی فہرست بنانے میں کم از کم، کم ازکم بھی سو، دوسو، دن تو لگ ہی جائیں گے۔پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ڈھائی کروڑ تعلیم یافتہ افراد تو بیروزگار پھر ہی رہے ہوں گے۔علامہ نے تعلیم یافتہ افراد سے درخواستیں طلب فرما لی ہیں۔ درخواستیں جمع کروانے اور پھر ان کی اسکروٹنی کرکے اُن میں سے دس لاکھ افراد کی فہرست بنانے کا کام ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے کام سے بھی زیادہ دقت طلب کام ہے۔اب دیکھیے اس میں کتنا وقت لگتا ہے اور ہمارے اِس ٹیڑھے آنگن میں ناچنے کے لیے انقلاب کو دس لاکھ تعلیم یافتہ افرادکی فہرست کب تک میسر آتی ہے۔
رانا ثناء اﷲ صاحب کا کام اور اُن کا مقام آج کل رانا مشہود صاحب نے سنبھال رکھا ہے۔ سو اُنھوں نے بھی اُسی ۔۔۔ ’طرزِ بیدلؔ میں ریختہ کہنا‘ ۔۔۔ شروع کردیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’کنٹینر والے بابا کنیڈا برانڈ انقلاب لے کر جلد اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔مولانا مسلسل بیان بازی کرکے عوام کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔وہ رمضان المبارک میں اسلامی تعلیمات کی بجائے خود نُمائی کی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اُن کی شعبدہ بازی اور مسلسل جھوٹ سے عوام زچ ہو چکے ہیں۔وہ لاشوں کی سیاست کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔
ہمیں رانا مشہود صاحب کے اِن خیالات سے قطعاً اتفاق نہیں ہے۔یہ غلط ہے کہ مولانا عوام کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔وقت وہ صرف اپنا ضائع کر رہے ہیں۔عوام کو تو اُن کے بیانات سے لطف اندوز ہو ہو کر اپنا وقت مزے سے گزارنے کا موقع مل رہا ہے۔ عوام کا سارا وقت علامہ صاحب کے بیانات سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر اپنا ’روزہ بہلانے‘ میں صرف ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ داروں کی اس سے بڑھ کر دینی خدمت بھلا ہمارے علامہ صاحب اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ یہ بھی درست نہیں ہے کہ اُن کی شعبدہ بازی وغیرہ سے عوام زچ ہو چکے ہیں۔عوام زچ نہیں ہوئے۔وہ آج بھی علامہ کے بیانات سے اتنے ہی لطف اندوز ہو رہے ہیں جتنا پہلے ہوتے تھے۔رہی یہ بات کہ وہ لاشوں کی سیاست کرنے میں کبھی کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ تو رانا مشہود صاحب ’خدا کے خوف سے ڈریں‘۔ لاشوں کی سیاست کی یہ کامیابی کم ہے کہ اب رانا ثناء اﷲ صاحب کی جگہ رانا مشہود صاحب آگئے ہیں۔ہمیں یقین ہے رانا مشہود صاحب بیان بازی میں رانا ثناء اﷲصاحب کے مقام تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، ہاں اُن کے انجام تک ضرور پہنچائے جاسکتے ہیں۔
اب آخر میں ایک بار پھر وہی بات۔ یعنی علامہ کی کہی ہوئی جس بات سے ہم نے آج کے کالم کا آغاز کیا ہے کہ ’’کوئی طاقت انقلاب کو نہیں روک سکتی‘‘۔ تو یااولی لابصار! یہ تو بڑے تکبر کی بات ہے۔ جس ذات نے علامہ کو طلاقتِ لسانی کی طاقت بخشی ہے،اُس ذات کی عزت و جلال کی قَسم، وہ انھیں ضرور دکھا کر رہے گی کہ کوئی طاقت اُن کے تکبر بھرے انقلاب کو روک سکتی ہے یا نہیں؟

14 جولائی، 2014

جرم ضعیفی کی میٹھی گولیاں


 مسلم امہ کے کسی سیاسی رہنما‘ دانشور یا مغربی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی چوکھٹ پر سجدہ ریز شخص کو اگر دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد اور معصوم عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتائو تو وہ اقبال کے شعر کا ایک مصرعہ دہرانے لگتا ہے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘۔ کس قدر بے حس ہیں یہ لوگ۔ ان کے اپنے گھر پر اگر بم گرے‘ ان کے بچے تڑپتے ہوئے جان دیں‘ ان کی عورتوں کو سپاہی اٹھا کر لے جائیں تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ کوئی کتنا بھی کمزور ہو‘ انتقام کی آگ میں کھولنے لگتا ہے۔

ممکن ہو تو حفاظت خود اختیاری کا سہارا لے کر جو بھی اسلحہ گھر میں موجود ہو لے کر بدلہ لینے نکل پڑتا ہے۔ نہتا ہو تو گھر کا سامان بیچ کر انتقام کے لیے اسلحہ خریدتا ہے‘ کرائے کے قاتلوں سے رابطہ کرتا ہے‘ بدلہ لینے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو شور ضرور مچاتا ہے‘ واویلا ضرور کرتا ہے‘ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ یہ سب نہ بھی کر سکے تو اتنا ضرور کرتا ہے کہ جو لوگ یہ ظلم اور بربریت کرتے ہیں‘ ان کو اور ان کے پشت پناہوں کو دشمن سمجھتا ہے‘ ان سے شدید نفرت کرتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اسے اقبال کا جرم ضعیفی والا شعر سنا کر چپ رہنے کو کہے تو اس کا گریبان تھام کر کہنا ہے‘ تم پر بیتی نہیں اس لیے تم یہ باتیں کر رہے ہو۔ تمہارا گھر ایسے اجڑتا تو میں تم سے پوچھتا۔

لیکن وہ امت جس کی سید الانبیاء ﷺ نے یہ علامت بتائی تھی کہ یہ ایک جسد واحد ہے۔ ایک جسم جس کے کسی بھی حصے کو تکلیف پہنچے‘ باقی تمام عضو مضطرب ہو جاتے ہیں۔ اس امت میں کبھی بوسنیا‘ چیچنیا‘ افغانستان‘ عراق اور اب فلسطین میں معصوم اور نہتے لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور ہم یا تو قاتلوں کے دوست اور اتحادی ہیں یا پھر قاتلوں کے پشت پناہوں سے بھیک اور امداد مانگ کر گزارا کرنے والے ہیں۔ غیرت و ناموس بیچ کھائی ہو تو جرم ضعیفی جیسے الفاظ کس قدر تسلی بخش ہوتے ہیں۔
کاش کوئی ویت نام میں لڑنے والے نہتوں کو بھی یہ الفاظ سکھاتا۔ ہمارے ایک دانشور ہیں جنھیں مغرب کے ہر ظلم میں حسن نظر آتا ہے‘ وہ کہتے ہیں ہم اسپرین تک بنا نہیں سکتے اور امریکا سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کاش وہ یہ بتا دیں کہ ویت نام میں کس نے اسپرین ایجاد کی تھی جو انھوں نے امریکا کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ افغانستان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جس کے غیور لوگوں نے ایک سو سال میں تین عالمی طاقتوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔

یہ سب اس امت کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ اسے یہ درس بھلا دیا گیا ہے کہ نصرت اور فتح ٹیکنالوجی سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ جس رسولﷺ کے عشق کے یہ دعوے کرتے ہیں‘ اس کی سنت پر عمل کرنے کا درس دیتے ہیں‘ انھوں نے اس ہادی برحق کو بدر کے میدان میں نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ تین سو تیرہ جانثار‘ دو گھوڑے‘ چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں… یہ تھی کل کائنات اور مقابلے میں تین گنا بڑا لشکر اور تمام سامان حرب۔ کوئی ایک غزوہ بھی ایسا ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کیا شام‘ مصر‘ ترکی اور ایران فتح کرنے والے اپنے مقابل لشکروں سے تعداد‘ اسلحہ اور سامان حرب میں زیادہ تھے۔ ہر گز نہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے دور کی عالمی طاقتوں سے ٹکڑا گئے تھے۔ اس لیے کہ وہ جرم ضعیفی کی لوریوں میں نہیں پلے تھے بلکہ اللہ کی طاقت کے بھروسے پر زندگی گزارنے والے تھے۔

اللہ پر بھروسے کی طاقت کو اس امت سے چھیننے اور اسے ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز کروانے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ اس میں جنگ عظیم اول کے بعد خلافت کی مرکزیت کا خاتمہ اور موجودہ سیکولر قومی ریاستوں کے مغرب کی دہلیز پر سجدہ ریز حکمرانوں کا بھی حصہ ہے اور اس امت کے ان دانشوروں کا بھی جو روز اس امت کو کم مائیگی‘ کمزوری اور بے حوصلگی کا درس دیتے ہیں۔ یہ ہیں وہ اہل مدرسہ جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ’’گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا‘‘۔ اسی نوجوان کے بارے میں اقبال نے کہا تھا
کون کہتا ہے کہ مکتب کا جواں زندہ ہے
مردہ ہے مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس

لیکن اس تن مردہ میں جاں پیدا کرنے کی آوازیں اور تحریکیں بھی ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ جرم ضعیفی پر خاموش رہنے اور غیرت و حمیت بیچ کھانے والوں کے مقابل میں نعرہ مستانہ لگانے والوں کی بھی کمی نہیں رہی۔ تاریخ کا یہ بدترین باب ہے کہ وہ جنھوں نے مسلمانوں کو جرم ضعیفی کی سزا تجویز کی اور انھیں ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر بہتر مستقبل کی نوید دی وہ سب کے سب ان قومی سیکولر ریاستوں کے حکمران ہی تھے۔ گزشتہ سو سالہ تاریخ میں سوڈان سے لے کر ملائشیا تک ہر کسی نے مسلمانوں کو ان ریاستوں کے خول میں جکڑ کر بے حس اور مردہ دل بنایا اور آج یہ عالم ہے کہ کسی شہر کے ایک حصے میں اگر آفت اور مصیبت آئے تو دوسرے حصے کے لوگ اپنی روز مرہ زندگی جاری رکھتے ہیں۔

نہ کوئی ان کی مدد کو بے چین ہوتا ہے اور نہ ان کی مصیبت میں غمگین۔ یہی بے حسی آج غزہ میں مرنے والے معصوم بچوں کے لیے نظر آئی ہے۔یہ بے حسی کیسے پیدا ہوئی۔ ہم نے ایسے ہی مناظر افغانستان اور عراق میں کس قدر خاموشی سے دیکھے۔ ہمیں کہا گیا یہ دہشت گرد ہیں‘ ان سے دنیا کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ ہم سب امن کے خواہاں بن کر ایسا ہی تماشا دیکھتے رہے۔ پھر ہم نے مسلمان ریاستوں کو بھی ظلم کرنے کا ویسا ہی اختیار دے دیا اور بے حسی سے تماشا دیکھتے رہے۔ ہم نے بشار الاسد کو ایسے ہی معصوم بچوں اور عورتوں کو دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر قتل کا لائسنس دیا۔ ہم نے نوری المالکی کو عراق میں خاندانوں کے خاندان قتل کرنے کی اجازت دی تا کہ دنیا سے شدت پسندوں کو پاک کیا جائے۔ ہم تماش بین تھے اور ہمارے سامنے موت کا تماشہ تھا۔

کیا کسی کی آنکھ سے آنسو بہے جب اس سے چند میل کے فاصلے پر ڈرون حملوں سے معصوم بچوں کے جسموں کے پرخچے اڑے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لال مسجد کا سانحہ اور معصوم بچوں کی موت کو کس قدر سکون کے ساتھ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر دیکھا اور چین کی نیند سوئے اور سوچا کہ اب ہم نے امن کی طرف قدم اٹھا لیا۔ دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے تمام جملے اسرائیل کے میڈیا نے چرا لیے ہیں۔ ان کے حکمران بھی وہی زبان بول رہے ہیں جو ہم دہشت گردی کے خلاف بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں فلسطین کے لوگ امن کے دشمن ہیں‘ یہ دہشت گردی کی پناہ گاہ ہیں‘ ان کی وجہ سے پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ اور پھر ان کی اس منطق کو امریکا اور مغربی دنیا اپنے میڈیا پراور سیاسی سطح پر حمایت فراہم کرتا ہے۔

کہا جاتا ہے اسرائیل ان کے علاقے پر قابض ہے۔ آزادی ان کا پیدائشی حق ہے تو کیا امریکا اور اس کے حواریوں نے افغانستان اور عراق پٹے پر خریدا ہوا تھا‘ ان کی ملکیت میں شامل تھا۔ کیا پاکستان کے قبائلی علاقے امریکا کی باون نمبر کی ریاست تھی جس کے معصوم لوگوں کو وہ دہشت گرد کہہ کر ڈرون حملوں سے ہلاک کرتا تھا۔ دنیا میں دو منطقیں نہیں چلا کرتیں۔ جس ظلم نے حماس کو جنم دیا ہے اسی ظلم نے دنیا کے تمام ممالک میں جہادی سوچ کو پیدا کیا ہے۔ ریاستوں کا چہرہ ایک جیسا ہے‘ ظالم اور سفاک۔ یہی غزہ کا علاقہ پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد 24 جنوری 1949ء میں اسرائیل مصر معاہدے کے تحت ایک نیم خود مختار متنازعہ علاقہ کہلایا۔

کسی نے اسے حق آزادی نہ دیا۔ لیکن جب 26 جولائی 1956ء کو جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا اعلان کیا تو جنگ چھڑی اور اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت فلسطینی ایک علیحدہ عرب قوم تصور ہوتی تھی لیکن 1958ء میں مصر‘ شام اور فلسطین کو ایک اتحاد جمہوریہ عربیہ متحدہ کے تحت منظم کیا اور 1959ء سے 1967ء تک غزہ پر مصر کا کنٹرول ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی دفعہ غزہ کی ناکہ بندی کی گئی اور اس ظلم کا موجد جمال عبدالناصر تھا اور اس کی بھی وہی دلیل تھی کہ اگر غزہ کے رہنے والوں کو کھلا چھوڑا گیا تو امن تباہ و برباد ہو جائے گا۔

غزہ کی داستان پوری امت مسلمہ کی داستان ہے۔ یہ بے حسی اور بے ضمیری کا نوحہ ہے۔ یہ خاموشی ہم نے بڑی محنتوں سے اس قوم اور ملت کو سکھائی ہے۔ ہم نے ان کے ضمیر مردہ کیے ہیں جن قوموں کو سالوں یہ کہا گیا ہو کہ یہ جو لوگ ہم قتل کر رہے ہیں یہ تمہارے کچھ نہیں لگتے۔ یہ انسان نہیں کسی دوسرے ملک‘ علاقے‘ شہر یا محلے کے شہری ہیں۔ ان کے قتل پر چپ رہو‘ یہ امن کے دشمن ہیں‘ شدت پسند‘ دہشت گردہیں تو پھر اس بات پر حیران کیوں ہوتے ہو کہ غزہ پر موت کے سائے چھائے تو ایک آنسو بھی نکلا‘ ایک احتجاج تک نہ ہوا۔ 


اوریا مقبول جان  

11 جولائی، 2014

دس روپے کا سوال ہے بابا


 " دس روپے کا سوال ہے با با "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اپنی بیٹی کی تھام کر انگلی
چیز لینے میں گھر سے نکلا تھا
ایک بچی نے راستہ روکا
وہ جو بچی تھی پانچ سالوں کی
کھوئی سرخی تھی اس کے گالوں کی
کالا چہرہ تو بال بکھرے تھے
اس کے چہرے پہ سال بکھرے تھے
سوکھی سوکھی کلائی پر اس نے
ایک چوڑی کہیں سے چھوٹی سی
جانے کیسے پھنسا کے پہنی تھی
پاؤں ننگے قمیص میلی تھی
لٹکی گردن سے ایک تھیلی تھی
خالی خولی خلا سی آنکھیں تھیں
جیسے کالی بلا سی آنکھیں تھیں
جیسے چابی بھرا کھلونا ہو
جیسے بوڑھا سا کوئی بونا ہو
اس نے کھولا ادا سے مٹھی کو
ننھی منی سی اس ہتھیلی کو
میں نے دیکھا بڑی حقارت سے
ننھے ہونٹوں کی تھر تھراہٹ پہ
اک مشینی صدا کے جھٹکے تھے
"" دس روپے کا سوال ہے بابا""
میں نے نفرت سے دیکھ کر اس کو
ہاتھ جھٹکا کہ جان چھوڑے وہ
وہ ہتھیلی وہیں پہ اٹکی تھی
وہ صدا بھی تھمی نہ اک پل کو
میری عادت ہے پیشے والوں کو
اک روپیہ کبھی نہیں دیتا
میں بھی ضدی تھا وہ بھی ضدی تھی
میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پہ
مرتے پچپن کی ہلکی لالی تھی
اس کے جملے کے سارے لفظوں میں
لفظ "بابا" ذرا سا بھاری تھا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ "بابا " پہ ہلکی اٹکن تھی
"دس روپے کا سوال ہے بابا "
اس کے بابا نے اس کو سکھلایا
اس کی اماں نے اس کو رٹوایا
دس روپے تو وہ تیز کہتی تھی
لفظ "بابا " پہ کیسی اٹکن تھی
خالی خولی خلا سی آنکھوں نے
میرے چہرے کو غور سے دیکھا
اس کے قاتل سپاٹ چہرے پہ
ایک قاتل سی مسکراہٹ تھی
اس کے ہاتھوں کی انگلیاں مڑ کر
پھر سے مٹھی کی شکل میں آئیں
میں نے دیکھا تو اس کے ماتھے پہ
اک ""عبارت "" رواں سی لکھی تھی
"دس روپے کو سنبھال تُو بابا "
ساری قبروں پہ دستکیں دینا
کام رب نے مرا لگایا ہے
رب نے چھوٹی سی عمر میں مجھ کو
دیکھ کتنا بڑا بنایا ہے
ان شریفوں سے اور خانوں سے
میرے جیسے ہزاروں بچوں کا
ایک لشکر سوال کرتا ہے
"یہ جو بچپن کا ایک موسم ہے "
"سارے بچوں پہ کیوں نہیں آتا "
میری مانو تو مان لو اتنا
ان مساجد میں اور تھانوں میں
ساری سڑکوں پہ سب مکانوں میں
خانقاہوں میں آستانوں میں
گلتے سڑتے غلیظ لاشے ہیں
روز قبروں پہ دستکیں دے کر
میرے جیسے ہزار ہا بچے
روز "" بابا "" تلاش کرتے ہیں
تم جو کہتے ہو پیشہ ور بچے
اپنے بچپن کی آڑ میں عابی
مال و زر کو تلاش کرتے ہیں
آج سن لو کہ بات اتنی ہے
صدیوں پہلے کہیں پہ کھویا تھا
اپنے "بابا" عمر رضی اللہ عنہ کو ہم سب نے
ایسے " بابا " کہ جن کے سائے میں
میرے جیسی کسی بھی بچی کا
کوئی بچپن نہیں مرا گھٹ کر
"دس روپے کا سوال ہے بابا "
یہ صدا تو فقط بہانہ ہے
ہم کو "بابا" کے پاس جانا ہے
دس روپے کو سنبھال تُو بابا
ہم کو "بابا" کے پاس جانا ہے
:::::::::عابی مکھنوی ::::::::: 

 

7 جولائی، 2014

ایسی نازک آزمائش کہ انسانی قوت ادراک میں بھی نہ آسکے



 غزوہ بدر میں حضرت ابو عبیدہ ؓبے وخوف خطر دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ آپ کے اس جرأت مندانہ اقدام سے دشمنوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ آپ میدان جنگ میں اس طرح بپھرے ہوئے چکر لگا رہے تھے جیسے موت کا کوئی ڈر ہی نہ ہو۔ آپ کا یہ انداز دیکھ کر قریش کے شہسوار گھبرا گئے۔ جونہی آپ رضی اللہ تعالیٰ ان کے سامنے آتے تو وہ خوفزدہ ہو جاتے۔ لیکن ان میں صرف ایک شخص ایسا تھا، جو آپ کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوتا تھا، لیکن آپؓ اس سے پہلو تہی اختیارکرتے اوراس کے ساتھ مقابلہ کرنے سے اجتناب کرتے۔ وہ شخص بھی آپؓ سے مقابلہ کرنے کے لیے بار بار آتا رہا لیکن آپؓ نے بھی اس سے پہلو تہی اختیارکرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔
بالآخر اس شخص نے جناب ابوعبیدہ ؓکے لیے تمام راستے بندکردئیے حتی کہ وہ آپؓ کے اور دشمنان اسلام کے مابین حائل ہوگیا لیکن آپؓ نے دیکھا کہ اب اس سے مقابلے سے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا تو اس کے سر پر تلوار کا ایسا زور دار وار کیا جس سے اس کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے ہوگئے اور وہ آپؓ کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا۔

بلاشبہ میدان میں حضرت ابوعبیدہؓ کو پیش آنے والی یہ آزمائش حساب دانوں کے حساب بھی ماوراء تھی اور ایسی نازک کہ انسانی قوت ادراک میں بھی نہ آسکے ۔جب آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ یہ لاش تو جناب ابوعبیدہ ؓ کے والدعبداللہ بن جراح کی تھی تو آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے ۔

دراصل حضرت ابوعبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل نہیں کیا، بلکہ انہوں نے میدان بدرمیں اپنے باپ کے ہیولے کی شکل میں شرک کو نیست و نابود کر دیا۔ آپؓ کا یہ اقدام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ آپکی شان میں درج ذیل آیات نازل کردیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ:
جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کر دیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے ۔
(المجادلہ:22)

(طبقات ابن سعد)




islami tareekh k sunehray waqiaat
islamic history, urdu, annokha muqabla, khuda ka lashkar, ghawa badar,
hazrat Abu Ubaida Bin jarah (RA),

1 جولائی، 2014

خواتین کی ڈرائیونگ

 ایک عورت نے اپنے شوہر کو آفس فون کیا اور پوچھا کہ آپ مصروف تو نہیں‘ شوہر نے دانت پیس کر کہا ’’میں اس وقت میٹنگ میں ہوں کیوں فون کیا ہے؟ ‘‘جواب آیا’’آپ کو ایک اچھی اور ایک بُری خبر سنانی تھی‘‘۔شوہر گرجا’’خبردار جو کوئی بری خبر سنائی‘ بتاؤ اچھی خبر کیا ہے؟؟؟‘‘ بیوی چہک کر بولی’’وہ جو ہم نے نئی گاڑی لی تھی ناں‘ اُس کے ائیر بیگز بالکل ٹھیک کام کر رہے ہیں‘‘۔
اگر آپ کسی تنگ پارکنگ میں کھڑے ہوں اور اچانک کوئی گاڑی نمودار ہو کر چھوٹی سی جگہ میں بھی کسی گاڑی کو نقصان پہنچائے بغیر بہترین طریقے سے پارک ہوجائے تو فوراً یقین کرلیجئے گا کہ اِسے کوئی مرد چلا رہا ہے۔لیکن اگر گاڑی دو تین دفعہ آگے پیچھے ہوکر پارکنگ میں جگہ بنائے تو پھر بھی یقیناًاسے کوئی مرد ہی چلا رہا ہوگا۔۔۔تاہم اگرآنے والی گاڑی آپ کی گاڑی کے پیچھے پارک ہوجائے توالحمدللہ پھر بھی اسے کوئی مرد ہی چلا رہا ہوگا۔خاتون کا شائبہ تو اُس وقت ہونا چاہیے جب پارکنگ کی ڈھیر ساری جگہ ہو لیکن آنے والی گاڑی سیدھی آپ کی گاڑی میں جاگھسے۔خواتین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ گاڑی چلا رہی ہوں تو ساری ٹریفک وفات پا جائے‘ یہ ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط رخ پر بھی گاڑی چلا رہی ہوں تو سامنے سے آنے والوں کو کوسنے دیے جاتی ہیں کہ کم بخت سب کے سب غلط آرہے ہیں۔مردکو جب تک گاڑی ریورس نہ کرنی آجائے وہ سمجھتا ہے کہ اسے ابھی گاڑی نہیں چلانی آتی‘ لیکن خواتین صرف دروازہ کھولنا ہی سیکھ جائیں تو انہیں کامل یقین ہوجاتاہے کہ اب وہ ڈرائیونگ سیکھ گئی ہیں۔


جن خواتین کو ڈرائیونگ نہیں آتی وہ بھی چلتی گاڑی میں حتی المقدوراپنا احساس دلاتی رہتی ہیں۔بعض اوقات تو شوہر گاڑی ریورس کر رہا ہو تو ساتھ بیٹھی بیگم اچانک بیک مرر کا رخ اپنی طرف کر کے لپ اسٹک ٹھیک کرنے لگ جاتی ہے اور چیخ تب مارتی ہے جب آدھی گاڑی گندے نالے میں جاگرتی ہے۔کئی خواتین تو گھر سے گاڑی لے کے نکلیں تو گھر والے باقی شہر کی سلامتی کی دعا کرنے لگتے ہیں۔شادی شدہ خواتین کی ڈرائیونگ سب سے خطرناک ہوتی ہے ‘ یہ ٹریفک کے اشارے پر رک بھی جائیں توہینڈ بریک لگانے کی بجائے بیک گیئر لگا کے اطمینان سے ببل گم چباتی رہتی ہیں‘ نتیجتاً اشارہ کھلتے ہی فل ریس دیتی ہیں اور پیچھے کھڑا بیچارہ سکوٹر والا رگڑا جاتاہے‘سارا قصور اِن کا اپنا ہوتاہے لیکن اپنے پروں پہ پانی نہیں پڑنے دیتیں‘ الٹا غریب سکوٹر والے پر چڑھ دوڑتی ہیں’’بدتمیز‘ کمینے‘ شرم نہیں آتی خاتون کی گاڑی کے پیچھے سکوٹرلگاتے ہوئے‘‘۔ہماری ایک کولیگ بھی ایسے ہی گاڑی ڈرائیور کرتی تھیں اور ان کے گھر والے بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ ہماری بیٹی کئی دفعہ گاڑی صحیح سلامت بھی واپس لاچکی ہے‘ اس کے گھر والوں نے اس کے لیے خصوصی طور پر ایک ڈرائیور رکھا ہوا ہے جسے گاڑی تو نہیں چلانی آتی تاہم وہ بی بی جی کے ساتھ ضرور بیٹھتاہے تاکہ ہر وقوعے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرسکے۔

میں کئی ایسی خواتین کو جانتا ہوں جو ڈیڑھ سو میٹر کا سفر ہینڈ بریک کھینچے ہی طے کرجاتی ہیں اور واپسی پر اپنے مکینک کو فون کر کے پوچھ رہی ہوتی ہیں کہ ’’ابھی تو کل ٹیوننگ کروائی تھی پھر گاڑی اتنی بھاری کیوں ہوگئی ہے؟‘‘۔ایسی خواتین کو ہینڈ بریک نیچے کرنا اُس وقت یاد آتاہے جب ہینڈ بریک کھینچنے کی ضرورت پڑتی ہے۔مرد اگر گاڑی کا انجن آئل چینج کرائے تو تاریخ لکھ کر پاس رکھ لیتا ہے اور ہر وقت میٹر پر نظریں جمائے رکھتا ہے کہ دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ نہ ہونے پائے ۔اس کے برعکس گاڑی اگر خاتون کے زیر استعمال ہو تو انجن آئل ختم ہونے کا پتا اُس وقت چلتا ہے جب خاتون بڑے جوش و خروش سے اپنے شوہر کو بتاتی ہے کہ ’’نعیم! وہ جو گاڑی کے میٹر پر ایک لائٹ کبھی نہیں جلتی تھی ناں اب وہ بھی دو تین ماہ سے بالکل ٹھیک جل رہی ہے۔‘‘ 
آپ نے بہت کم کسی خاتون کو اپنی گاڑی کاانجن آئل چینج کراتے دیکھا ہوگا‘ وجہ صرف یہ ہے کہ ایسا جب جب ہوا‘ گاڑی کرین کی مدد سے نکالنی پڑی۔خواتین کی گاڑی پنکچر ہوجائے تو یہ بھی قابل دید منظر ہوتاہے‘ یہ سانحہ اگر سڑک کے عین بیچ میں پیش آجائے تویہ اطمینان سے گاڑی وہیں کھڑی کرکے گھر فون کر دیتی ہیں کہ ’’شہباز گاڑی پنکچر ہوگئی ہے ذرا فارغ ہوکے آجاؤ‘‘۔اس دوران خواہ بدترین ٹریفک جام ہوجائے یہ اطمینان سے گاڑی کے اندر بیٹھی مختلف بٹنوں کو چھیڑتی رہتی ہیں کہ شائد کوئی بٹن دبانے سے خودبخودپنکچر لگ جائے۔گاڑی کا ٹائر بدلنا بھی خواتین پر ختم ہے‘ اول تو یہ خود ٹائر بدلنے کی بجائے راہ چلتے کسی بندے سے فرمائش کرتی ہیں لیکن اگر اپنے زوربازو پر ’’جیک اور پانا‘‘ نکال بھی لیں تو پہلے ٹائر کے نٹ ڈھیلے کرنے کی بجائے جیک لگا کر گاڑی کو اوپر اٹھاتی ہیں اور پھر ٹائر کھولنے کی کوشش کرتی ہیں‘ نتیجتاً اکثر ٹائر کھولنے کے دوران خود بھی گھوم جاتی ہیں۔ یہ منظر بھی اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ خواتین ٹائر پنکچر ہونے پر ڈگی کی بجائے بونٹ کھول کر بیٹھی ہوتی ہیں۔ لڑکیاں عموماً آٹو گیئرگاڑی چلانا پسند کرتی ہیں اور پوری کوشش کرتی ہیں کہ سائڈ اور بیک مرر میں دیکھنے سے حتی الامکان پرہیز کریں۔کوئی لڑکی اگر گاڑی چلاتے ہوئے دائیں طرف کا انڈیکیٹر دے تو سمجھ جائیں کہ وہ بائیں طرف مڑنا چاہ رہی ہے۔انہیں دن کے وقت اوورٹیک کرتے ہوئے ’’ڈمر‘‘ دینا پڑ جائے توگاڑی کی پوری ہیڈ لائٹ آن کرلیتی ہیں‘ راستے میں اگرکوئی گاڑی کی ہیڈ لائٹس بندکرنے کا اشارہ کرے تو اُسے بیہودہ انسان تصور کرتے ہوئے گھور کر بڑبڑانے لگتی ہیں۔

میں نے ایک دفعہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنی تھی جس کی مالکہ ایک خاتون تھی اور اس نے اشتہار میں لکھا تھا کہ اس کی گاڑی میں ’’پاور سٹیرنگ‘‘ ہے۔میں نے ٹرائی لینے کے لیے گاڑی سٹارٹ کی تو سٹیئرنگ کو دائیں طرف گھمانے کی کوشش میں میرا کندھا اتر گیا‘ میں نے بے بسی سے پوچھا کہ ’’محترمہ آپ نے تو کہا تھا کہ پاورسٹیئرنگ ہے‘‘۔۔۔اٹھلا کر بولیں’’ہاں تو کیا سٹیرنگ گھماتے ہوئے پاور نہیں لگ رہی؟؟؟‘‘

مرد کی گاڑی کے نیچے اگر کوئی آجائے تو وہ فوراً بریک لگا لیتا ہے جبکہ خواتین یہ سوچ کر پوری گاڑی اوپر سے گذاردیتی ہیں کہ کم بخت نیچے تو آہی گیا ہے اب بریک لگانے کا کیا فائدہ؟؟ایسی خواتین کی گاڑی کی ٹینکی پٹرول سے آدھی بھری بھی ہوئی ہو تو یہ اپنی دو انگلیوں سے میٹر پراس کا درمیانی فاصلہ ماپ کر پٹرول پمپ والے سے لڑنے لگتی ہیں کہ تین ہزار کا اتنا سا پٹرول کیوں ڈالا ہے؟ ان میں سے اکثر کے پاس لائسنس نہیں ہوتا‘ اور جن کے پاس ہوتا ہے ان کے پاس بھی نہیں ہوتا بلکہ گھر پڑا ہوتاہے۔خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اگر گھر چلاسکتی ہیں تو گاڑی کیوں نہیں؟صحیح کہتی ہیں‘ اگرانہیں گھر میں بندے کا بیڑا غرق کرنے کا حق حاصل ہے تو سڑکوں پر کیوں نہیں۔خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پوری توجہ سے گاڑی چلائیں اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے اِدھر اُدھر مت دیکھیں‘ اسی لیے ہر موڑ پر گاڑی پوری ذمہ داری سے کہیں نہ کہیں ٹھوک دیتی ہیں۔ اس کے باوجودخواتین کی ڈرائیونگ کے دو پہلو قابل تعریف ہیں۔ ایک یہ کہ مرد حضرات گرمی میں بغیر اے سی کی گاڑی چلا رہے ہوں تو ان کے ہاتھ مسلسل کچھ نہ کچھ کھجانے میں مصروف رہتے ہیں تاہم خواتین پورے تحمل سے روبوٹ بنی بیٹھی رہتی ہیں۔دوسرے یہ کہ خواتین کبھی تیز رفتاری کا مظاہرہ نہیں کرتیں‘ خود ہی سوچئے پہلے گیئر میں گاڑی زیادہ سے زیادہ کتنی تیز چل سکتی ہے؟؟؟ 

 

28 جون، 2014

پارٹ سیکولرازم / پارٹ ٹائم اسلام

 کس قدر سادہ لوح ہیں وہ لوگ جو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اس مملکتِ خدا داد پاکستان کے حکمران، دانشور، اہلٍ سیاست، مذہبی رہنما اور میڈیا عالمی طاقتوں کے اس کھیل سے آزاد ہے جو مسلم امہ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی مجبوریاں ان کے اقتدار کی طوالت سے وابستہ ہیں، دانشوروں کا علم ان کی سوچ متعین کرتا ہے اور یہ علم مغربی تجزیہ نگاروں کی رپورٹوں، مقالوں اور کتابوں سے روشنی حاصل کرتا ہے۔
 

اہلِ سیاست نے یہ تصور کرلیا ہے کہ انھیں اقتدار کی مسند پر بٹھانے اور ان کے مخالفین کی حکومتیں الٹنے والی طاقتیں اگر ان سے خوش ہیں تو وہ کامیاب، مذہبی رہنمائوں کے قطبِ نما کی سوئیوں کا رخ اپنے اپنے مسالک کے ملکوں کی سیاست میں الجھا ہوا ہے اور میڈیا تو چلتا ہی اس سرمائے سے ہے جو کارپوریٹ انڈسٹری مہیا کرتی ہے تا کہ پوری دنیا میں ایک جیسا طرزِ زندگی یا لائف اسٹائل متعارف ہو، جس کے نتیجے میں ان کا مال بِک سکے۔ یہ سب کے سب اس عالمی ایجنڈے کے مہرے ہیں اور انھیں کب ، کیسے اور کہاں استعمال کرنا ہے وہ طاقتیں خوب جانتی ہیں۔
 

اس کھیل میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مہروں کی واضح اکثریت کو اس کا علم تک نہیں ہوتا کہ وہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ تو انتہائی اخلاص کے ساتھ ایک سمت رواں دواں رہتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی جنگ جیتنا چاہتا ہے۔ کوئی ریاست بچانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے تو کوئی اپنے مسلک کی برتری چاہتا ہے، کسی کو انقلاب کی جلدی ہے تو کوئی ترقی کے خوابوں کو تعبیر دینا چاہتا ہے۔ کوئی سیکولر، لبرل اور جمہوری اقدار کا تسلط چاہتا ہے تو کسی کو اسلام کے عادلانہ نظام کی بالادستی کے لیے ہتھیار اٹھانا اچھا لگتا ہے۔ یہ سب کے سب کیوں اس قدر مختلف ہیں اور کیا یہ ایسے ہی ایک دوسرے سے دست وِ گریبان رہیں گے۔ شاید ابھی کچھ دیر اور لیکن زیادہ دیر نہیں۔
 

ہم جس دور میں زندہ ہیں اس کے بارے میں سیدالانبیاء ﷺکی ایک حدیث صادق آتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اسلام کی ابتدا اجنبیت سے ہوئی تھی اور یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا‘‘۔ یہ اجنبیت کیا ہے۔ آج اسلام بالکل ویسے ہی اجنبی ہے جیسے مکہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی دعوت کے آغاز میں تھا۔ ثقافت، طرز ِمعاشرت، معاشی نظام اور سیاسی زندگی کے مقابلے میں اسلام کی پیش کردہ دعوت اجنبی اور انوکھی لگتی تھی۔ آج بھی بالکل وہی کیفیت ہے جو چودہ سو سال پہلے تھی۔ اسلام موجودہ عالمی معاشی نظام، عالمی لائف اسٹائل، عالمی طرزِ سیاست اور عالمی طرزِ معاشرت میں بالکل انوکھا اور اجنبی ہو چکا ہے۔
 

پوری دنیا اس وقت لائف اسٹائل کی جنگ کا شکار ہے۔ ایک مدت ایک عالمی معاشی، سیاسی ، معاشرتی اور خاندانی نظام کو نصابِ تعلیم، میڈیا اور زیرِ اثر حکومتوں کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔ جہاں ذرا شک ہوا کہ یہ لوگ اس عالمی لائف اسٹائل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہاں بدترین آمریتوں کے ذریعے اس سیکولر عالمی لائف اسٹائل کا نفاذ کیا گیا۔ تیونس سے لے کر پاکستان اور بنگلہ دیش سے ملائشیاء تک ہر کسی کو کبھی ڈکٹیٹروں اور کبھی من پسند جمہوری حکمرانوں کے ذریعے ایسے عالمی لائف اسٹائل کا طابع کیا گیا، جس میں سودی بینکاری سے لے کر حقوقِ نسواں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر فحاشی و عریانی تک سب زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔
 

اس لائف اسٹائل اور طرزِ زندگی کے مخالف جو بھی آواز اٹھی اسے سب سے پہلے میڈیا میں ایک مہم کے ذریعے بدنام کیا گیا اور اگر ممکن ہو سکا تو ایسے ملک جہاں اسلام کا یہ اجنبی اور انوکھا لائف اسٹائل جڑیں پکڑ رہا تھا وہاں فوجیں تک اتار دی گئیں۔ افغانستان اس کی بدترین مثال ہے اور مصر میں اسی حکومت کی برطرفی اس کا دوسرا طریقۂ اظہار۔ ایک بات کا فیصلہ کر لیا گیا کہ اس دنیا کے نقشے پر کوئی ایسی حکومت قائم نہیں ہونے دیں گے، جو اس عالمی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی لائف اسٹائل سے مختلف ہو۔ لیکن ہر کسی کو ’’ پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کی اجازت ہے، اذان کے وقت دوپٹہ سر پر لینا اور مہندی کے ڈانس کے وقت اتار دینا۔ سود کے پیسوں سے مسجدیں اور مدرسے بھی بنانا اور اس کے خلاف تحقیقی کام بھی کرنا۔
 

نماز، روزہ، حج، زکواۃ سب پر ایمان رکھنا لیکن جہاد سے نفرت کرنا۔ ایک ایسا اسلام تو موجود عالمی لائف اسٹائل میں اجنبی نہ لگے۔ ریاستیں تو اس ’’ پارٹ ٹائم اسلام‘‘ کی قائل ہو گئیں کہ ان کے حکمرانوں کے مفادات تھے مگر افراد نے دنیا بھر میں اس سے بغاوت کر دی۔ یہ لوگ امریکا کے ساحلوں سے آسٹریلیا کے پہاڑوں تک ہر جگہ موجود تھے۔ گیارہ ستمبر نے اس لائف اسٹائل کی جنگ کو واضح کیا تو آج 12 سال کے بعد خوف کے سائے اسلامی دنیا سے مغربی دنیا تک جا پہنچے۔ برطانیہ کا شہر برمنگھم جہاں ہر پانچواں شخص مسلمان ہے، وہاں پچھلے دنوں پارک ویو اسکول میں حکومت کے تین انسپکٹر داخل ہوئے، یہ دیکھنے کے لیے کہ کتنی لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں اور کتنے مردوں نے داڑھیاں رکھی ہیں۔
یہ مسلمانوں کے علاقے کا اسکول ہے جو اپنے دس طلبہ میں سے آٹھ طلبہ کو یونیورسٹیوں میں بھیجتا ہے۔ یہ کامیابی بہت کم اسکولوں کو میسر ہے۔ لیکن یہ سب کے سب اس لائف اسٹائل سے مختلف ہوتے ہیں جو عالمی طرزِ زندگی ہے، اسی لیے انسپکٹروں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں سے پوچھا کہ تم کو حجاب پہننے پر کوئی زبردستی تو نہیں کرتا، اتنے زیادہ کپڑوں میں تمہیں گرمی تو نہیں لگتی۔ تمہیں ماہواری کے بارے میں کسی نے کبھی بتایا ہے۔ اس کے بعد برطانیہ کے اخباروں میں خبریں لگیں کہ مسلمانوں نے اپنے علاقے کے اسکولوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں ایسا طرزِ زندگی اور طریقۂ تعلیم رائج ہے جس سے بچے برطانیہ کی زندگی کے لیے ’’ اجنبی‘‘ اور ’’انوکھے‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔
 

ایک رپورٹ مرتب کی گئی کہ اگر ایسا ہوا تو شدت پسندی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کے بعد ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام کو کچھ خوبصورت الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں یہ الفاظ گونجے ’’Reconcile Islam and Britishism‘‘ (اسلام اور برطانویت میں مفاہمت) لیکن پورا ماحول غصے اور خوف میں ہے چند دن پہلے لندن کے علاقے کول چسٹر کے ایک پارک میں ایک مسلمان عورت کو اس لیے قتل کیا گیا کہ اس نے مکمل حجاب پہنا تھا۔ ’’پارٹ ٹائم‘‘ اسلام میں ایسا لباس صرف نماز پڑھتے ہوئے پہننا چاہیے۔ اس پارٹ ٹائم اسلام یعنی مغرب اور اسلام کی مفاہمت کی بہترین علامت چند دن پہلے ایمسٹرڈیم میں نظر آئی ۔ ایمسٹر ڈیم کو یورپ کو جنسی ہیڈ کوارٹر Sex Capital کہا جاتا ہے۔
 

وہاں کے ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں دنیا بھر سے عورتیں لا کر بٹھائی گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں وہاں ایک اشتہار بانٹا جا رہا تھا کہ ہمارے پاس’’ حلال طوائفیں‘‘ میسر ہیں۔ یعنی جو شراب نہیں پیتیں، سؤر نہیں کھاتیں، اور دیگر معاملات میں بھی پارٹ ٹائم اسلام کی قائل ہیں۔ ایک ایسا اسلام جو عالمی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور خاندانی نظام کے اندر ضم ہو جائے۔ اسی طرح کے اسلام کو نافذ کرنے کے لیے ملکوں میں فوجیں اتاری جاتی ہیں، آئین تحریر کیے جاتے ہیں، اپنی مرضی سے الیکشن کروا کر کرزئی اور مالکی کو جمہوری طور پر منتخب کروایا جاتا ہے، مشرف سے لے کر سیسی تک لوگوں کو اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے۔
 

لیکن خوف کی خلیج واضح ہوتی جا رہی ہے۔ پارٹ ٹائم اسلام اور اس اسلام جس کے بارے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ایک بار پھر اجنبی ہو جائے گا، ان دونوں میں جنگ تیز ہو گئی ہے۔ امریکا سے لے کر آسٹریلیا اور یورپ کے 23 ممالک سے وہ لوگ جو اس عالمی لائف اسٹائل کے مخالف تھے، ہتھیار بند ہو کر شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں، افغانستان اور یمن میں موجود ہیں۔ دوسری جانب تمام مسلم ریاستوں کا یہ عالم ہے کہ وہاں کی حکومتیں اس عالمی لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے متحد ہیں دوسری جانب اسلام کے اصل روپ کے پروانے بڑھتے جا رہے ہیں۔
 

صرف پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں حجاب اور داڑھی میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے اس نے کاروباری کمپنیوں کو حجاب کا شیمپو تک مارکیٹ میں لانے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن دوسری جانب خوف بہت زیادہ ہے پورا عالمی لائف اسٹائل بینکوں کے جعلی سرمائے اور سود سے چلتا ہے، یہیں سے میڈیا ہائوسز پروان چڑھتے ہیں اور پارٹی فنڈ سے جمہوریت کی گاڑی۔ یہ تو سب دھڑام سے گر جائے گا اگر اس لائف اسٹائل کے مخالف طاقت میں آ گئے۔
ایک جنگ ہے اس میں ایک جانب ریاستیں ہیں جو اس عالمی طرز زندگی کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اور دوسری جانب وہ لوگ’’ پارٹ ٹائم ‘‘ قابل قبول اسلام نہیں بلکہ اس لائف اسٹائل کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں جو آج اجنبی ہو چکا ہے۔ ریاستوں کی کوئی سرحد باقی ہے اور نہ ان لوگوں کی۔ سیّدالانبیاء نے فرمایا دّجال کی آمد سے پہلے دنیا دو خیموں میں تقسیم ہو جائے گی، ایک طرف مکمل کفر ہو گا اور دوسری طرف مکمل ایمان۔ اب نہ پارٹ ٹائم سیکولرزم رہے گا اور نہ ہی پارٹ ٹائم اسلام۔ 





 oria maqbool jaan
urdu article, parr time islam,, secularism,
اوریا مقبول جان

26 جون، 2014

میرے مرشد پاک

 

میرے مرشد پاک

گل نوخیز اختر

میرے مرشد پاک’’ شیخ الاسلام آباد‘‘ کے بارے میں جو لوگ نازیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے ان کا تمسخر اڑانے کی کوشش کر رہے ہیں میں ان سب کو تنبیہہ کرنا چاہتا ہوں کہ باز آجائیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ کسی دن سو کر اٹھیں تو شکلیں ہی بدلی ہوئی ہوں۔گذشتہ دنوں میرے مرشد پاک ایمریٹس کی پرواز سے پاکستان تشریف لائے تو حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے‘ مرشد کو چونکہ بشارت ہوچکی تھی لہذا انہوں نے پانچ گھنٹے طیارے میں ہی قیام کا فیصلہ کیا اور انقلابِ عظیم کی خاطر عصر اور مغرب کی نمازیں بھی موخر کردیں۔مرشد چاہتے تو انہیں طیارے میں آنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی‘ وہ چند کلمات پڑھ کر طیارے سے بھی زیادہ تیز سپیڈ سے پرواز کرتے ہوئے پاکستان میں آسکتے تھے لیکن انہوں نے قانونی راستہ اختیار کیا ۔کئی بدخواہ اور گنہگار یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ میرے مرشد ‘اعلیٰ اداروں کو فون ملاتے رہے لیکن ’’اُدھر‘‘ سے Not responding کی آواز آتی رہی ‘ یہ بھی جھوٹ ہے‘ اصل میں مرشد کینڈا سے پرواز کرنے سے قبل اپنے موبائل میں ایزی لوڈ کرانا بھول گئے تھے لہذا بیلنس کی کمی آڑے آگئی۔اتنی سی بات تھی۔۔۔!!!
میں اپنے مرشد کی کیا کیا خوبیاں بیان کروں‘ انہوں نے تو میری زندگی ہی بدل دی‘مجھے یاد ہے آج سے دس سال پہلے میں ایک بہت برا انسان تھا‘ پینٹ شرٹ پہنتا تھا‘ گانے سنتا تھا‘ بالوں میں جیل لگاتا تھا‘ گاڑی چلاتے ہوئے گنگنایا کرتا تھا۔۔۔اور تو اور کئی دفعہ انڈیا کی کوئی فلم بھی دیکھ لیا کرتا تھا۔ لیکن پھر میری مرشد پاک سے ملاقات ہوئی اور مجھ میں انقلاب آگیا۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے کسی کا مرید ہونا بہت ضروری ہے‘ میں نے ان کی بات پر فوراً عمل کیا اور ’’رن مرید‘‘ ہوگیا۔ اِس پر مرشد پاک نے انتہائی ملائم لہجے میں مجھے سمجھایا کہ ’’ڈنگر انسان! رن مرید ی کے آگے جہاں اور بھی ہیں۔۔۔‘‘ تب میں نے پہلی مریدی سے استعفیٰ دے کر مرشد پاک کی مریدی اختیار کی اوران کی نگاہِ روشن سے وہ اعلیٰ و ارفع مقام پایا کہ آج میں جدھر سے بھی گزرتاہوں انگلیاں سرو اٹھاتے ہیں کہ وہ آتے ہیں۔
میرے مرشد پاک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ خواب میں مجھے نبی پاکﷺ کا دیدار ہوا اور انہوں نے مجھے میزبانی کا شرف بخشتے ہوئے فرمایا کہ ’’طاہر میں اس شرط پر پاکستان رکوں گا کہ میرے کھانے پینے اور ٹکٹ کے اخراجات تم افورڈ کرو‘‘۔سبحان اللہ! ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ میں نے 15سال ایک مقدس ہستی سے خواب میں تعلیم حاصل کی‘ اسی خواب کا ذکر ایک اور محفل میں کرتے ہوئے مرشد پاک نے 6 سال کم کردیے اور ربِ کعبہ کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ ’’میں نے 9 سال تک اُس مقدس ہستی سے خواب میں تعلیم حاصل کی ہے۔‘‘ حریفوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی خواب کا بیان کرتے ہوئے 6 سالوں کا یہ فرق کیوں؟؟؟ کوئی اِن جاہلوں کو بتائے کہ مرشد پاک اِس تعلیمی سلسلے کے دوران ہفتہ اتوار کی چھٹی بھی تو کرتے رہے ہیں‘ چھوٹی بڑی عید‘ شب برات‘ 23 مارچ ‘ 14 اگست اور 25 دسمبر سمیت گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں اس کے علاوہ تھیں‘ وہ سب نکال کے باقی 9 سال ہی تو بچتے ہیں۔اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ عام طور پر ہم یہی کہتے ہیں کہ ایک طالبعلم نے دس سال سکول میں تعلیم حاصل کرکے میٹرک کیا‘ لیکن جب تفصیل میں جائیں گے تو دس سال کی چھٹیاں منہا کر دی جائیں گی۔یہی کچھ میرے مرشد نے بھی کہا۔۔۔کچھ غلط کہا؟؟؟
بحکمِ خدا۔۔۔میرے مرشد پاک انقلاب لانے کے لیے تشریف لاچکے ہیں‘ دو سال پہلے بھی وہ اسی سلسلے میں تشریف لائے تھے لیکن انقلابی زیادہ تھے اور ہیٹر ایک۔۔۔لہذا مرشد نے طے کیا کہ ہزاروں ہیٹر لگانے کی بجائے کیوں نہ انقلاب کا سیزن ہی بدل دیا جائے لہذا اب کی بار وہ گرمیوں میں تشریف لائے ہیں۔ سرکار نے ان کی آمد سے خوفزدہ ہوکر جہاز کا رخ اسلام آباد کی بجائے لاہور کی طرف موڑ دیا لیکن مرشد بھی دھن کے پکے تھے‘جہازہی میں نیت باندھ لی کہ وہ کسی حکومتی بندے کے ساتھ جہاز سے نہیں اتریں گے بلکہ صرف کسی فوجی جوان کے ساتھ ہی باہر تشریف لائیں گے لیکن سندھ کے گورنر نے جب انہیں فون پر یہ بتایا کہ غیر ملکی ائیر لائن والے ان پر تاحیات پابندی کا سوچ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پندرہ منٹ بعد وہ جہاز کا انجن آف کرکے اے سی وغیرہ بند کردیں گے تو مرشد پاک کو یہ سنتے ہی حالت مراقبہ میں چلے گئے اور ’’کرامت‘‘ یہ ہوئی کہ مرشد کے دوست گورنر پنجاب (جو یقیناًحکومت کا حصہ نہیں)نے فون کر دیا ورنہ مرشد آنے والی گرمی کے تصور سے ہی حواس باختہ ہورہے تھے‘ ۔اصل میں میرے مرشد کی پرابلم ہے کہ گرمی میں ان کا ذہنی توازن پونے تین سینٹی گریڈ نیچے آجاتاہے‘ ایک دفعہ سخت گرمی کے عالم میں مرشد کو نماز جنازہ پڑھانا پڑ گئی تھی‘ نماز ختم ہوئی تو مرشد لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کر بھول گئے کہ وہ کہاں ہیں لہذا پوری قوت سے چلائے۔۔۔’’مبارک ہو۔۔۔مبارک ہو۔۔۔مبارک ہو‘‘
الحمدللہ !آج میرے مرشد واپس آچکے ہیں اور انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ اگلا الیکشن وہ خود کرائیں گے۔یقیناًاگلا الیکشن کرانے کا اختیار اب کسی حکومت‘ عدالت یا الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ میرے مرشد کا ہوگا اوروہ جسے چاہیں گے مسندِ اقتدار پر بٹھائیں گے کیونکہ اٹھارہ کروڑ عوام نہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ ہے‘ نہ کسی مذہبی جماعت کے ساتھ بلکہ سو فیصد میرے مرشد کے ساتھ ہے۔ اس کے باوجود مرشد پاک ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے کو حرام سمجھتے ہیں۔انہیں یقین ہے کہ کم ازکم ان کا اقتدار ووٹ کا محتاج نہیں۔۔میں چونکہ اپنے مرشد کا چہیتا ہوں لہذا مجھے امید ہے میرے مرشد پاک مجھے چیئرمین واپڈا یا وفاقی وزیر ضرور بنائیں گے۔مرشد پاک چاہتے ہیں کہ اس ملک میں سب کو یکساں حقوق ملیں‘ کوئی گرم کنٹینر میں بیٹھ کر سرد عوام سے خطاب نہ کرے‘ ہر ایک کے پاس اپنی اپنی بلٹ پروف گاڑی ہو‘ ہر بندہ چارٹر طیارے کے پیسے افورڈ کر سکے‘ ہر پاکستانی شہری کو کینیڈا کی نیشنیلٹی دلائی جائے۔ میرے مرشد تو برابری کے اس حد تک قائل ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے ہر مرید کو سکول کالج جانے کی بجائے خواب میں مقدس ہستیوں سے تعلیم دلائی جائے‘ اس مقصد کے لیے مرشد ’’کے سی ٹی‘‘(خواب کالج آف ٹیکنالوجی) کے منصوبے پر بھی غور فرما رہے ہیں ‘ انہوں نے اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں میرا نام بھی شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔میں اپنے مرشد کا نہایت شکر گذار ہوں کہ ان کی نظر کرم سے میری بگڑی مسلسل سنورتی جارہی ہے‘ جب سے میں نے مرشد کے نام کا ورد شروع کیا ہے میری گاڑی کا پٹرول چھ کلومیٹر زیادہ ایوریج دینے لگا ہے‘ اے سی ٹرپ ہونا بند ہوگیا ہے‘ گھر کے یو پی ایس کی بیٹری بھی اچانک سے ڈیڑھ گھنٹہ نکالنے لگ گئی ہے‘ شاور کے جن سوراخوں میں سے پانی آنا بند ہوگیا تھا وہ بھی’’ موسلادھار‘‘پرفارمنس دینے لگے ہیں۔۔۔اور تو اور میں کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں کہ میں جتنے مرضی سگریٹ پیتا جاؤں‘ میری ڈبی ختم نہیں ہوتی۔آئیے سب مل کر مرشد پاک کے انقلاب کی دعا کریں تاکہ ملک سے منحوس جمہوریت کا تصور تو ختم ہو۔

16 جون، 2014

حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ

 حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میرے پاس، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کی بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:
اے رب ! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھوجائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہاں تک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سوگئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔ یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گرگئی۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سابن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلادیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔
موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے وہی جگہ تم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔

وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسیٰ ہوں۔
انہوں نے پوچھا بنی اسرائیل کا موسیٰ؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں
حضرت خضر نے فرمایا اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔
حضرت خضر نے فرمایا آپ صبر نہیں کرسکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کرسکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
حضرت خضر نے فرمایا اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے
 
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھالیا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ بول پڑھے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ ! کیا میں تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے حضرت موسیٰ نے فرمایا جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤ اخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔
پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔
راوی کہتے ہیں کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔


پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے  تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔
میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔
اور حضرت خضر علیہ السلام حضرت موسیٰ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلما کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے خزانہ تھا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری چاہت تھی کہ موسیٰ علیہ السلام (اللہ ان پر رحمت کرے) کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔
پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنا اس چڑیا نے دریا سے۔

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1921
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1662
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1664
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1094

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 یہ واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے:


ترجمہ:
  اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں
جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا
 
جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے
 
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
 
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
 
(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا
 
موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں
 
(خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے
 
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو
 
(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا
 
(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں
 
تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی

(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے
 
(موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی
 
(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے
 
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)

خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں

(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
 
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
 
تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو
 
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

سورة الكهف: آیات:  60-83
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags: surah al Kahf
Hazrat mosa (a.s), Musa, hazrat Khizar , Quran ,hadith, hadees, Sahi Bukhari muslim, Jamih Tiramazi, Prophet, Allah , Islam
waqia, story ,urdu ,traveling , boat, kid ,killed, patience, ,knowledge,