مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

بیٹیوں کی سوداگری

ڈاکٹرعافیہ سے لے کر معصوم آمنہ تک بیٹیوں کی سوداگری

اماں بھائی کب مرے گا؟

عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔

16 اپریل، 2014

سچی محبت



روزینہ کو منفرد شرارت سوجی تھی۔ اس نے سعدیہ کے نام سے بھی ایک آئی ڈی بنائی اور وہ بیک وقت دونوں کے ذریعے  فیس بک پر انور سے مخاطب تھی۔
انور کی نظریں سکرین پر جمی ہوئی تھیں، اس کی انگلیاں تیزی سے کی بورڈ پر چل رہی تھیں۔ اور دماغ اس سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے سوچ رہا تھا۔ اسکے بے ساختہ محبت بھرے پیارے جملے روزینہ کو روزانہ کی طرح محظوظ کر رہے تھے۔ فیس بک پر ان کی ملاقات کو زیادہ وقت نہیں ہوا تھا، لیکن انہیں لگتا تھاکہ جیسے وہ صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ مختلف موضوعات پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی گفتگو نے انہیں بے تکلف کر دیا تھا، اور اب انہیں احساس ہونے لگا تھا کے جیسے وہ ایک دوسرے کے بنا نہیں رہ سکیں گے۔

آج روزینہ تقریبا' دو ہفتوں بعد آن لائن آئی تھی۔ اس کے آتے ہی انور نے اس کی غیر حاضری سے متعلق اپنی بے تحاشا پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوالات کرنا شروع کردیے۔
روزینہ نے جواب دینے کے بجائے انور سے ایک سوال پوچھا اور انور اس اچانک سوال سے سٹپٹا سا گیا۔ انور نے سوال کو ایک بار پھر پڑھا۔

” سچی محبت کیا ہوتی ہے۔؟؟؟؟“

انور کا ادیبانہ ذہن پوری رفتار سے چل پڑا۔ اور اسکی انگلیاں کی بورڈ پر رقص کرنے لگیں۔”سچی محبت وہ ہوتی ہے جو کچھ کھونے کے ڈرسے آزاد ہو۔ دولت، شہرت سب اسکے سامنے ہیچ ہو۔ حتٰی کہ آپ اپنا وجود اور زندگی اسکے لیے داؤ پر لگا سکیں۔ محبت صرف اور صرف کچھ پانے کا نام نہیں۔ “
اس سے پہلے کے انور اپنی بات پوری کرتا، روزینہ نے اسے روک دیا اور دوسرا سوال پوچھا: اچھا تم نے جو میری تصویر دیکھی ہے، اگر اب میں ویسے نہ رہی ہوں تو بھی کیا تم مجھ سے محبت کرو گے؟؟؟

انور نے سوال کو بغور پڑھا اور اسے روزینہ کی شرارت سمجھ کر اسکی حسین ڈی پی تصویر کو غور سے دیکھتے ہوئے جواب دیا:

”سچی محبت کبھی جسم سے نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ روح سے ہوتی ہے۔ میں تمھاری روح سے محبت کرتا ہوں۔ میری محبت تمھارے جسم کو پانے کی گندی خواہش کی کثافت سے پاک ہے۔ “
روزینہ نے انور کا جواب پاکر بڑی محنت سے فوٹو شاپ سے تیار کردہ اپنی جلی ہوئی تصویر اسے سینڈ کی جس میں اسکا آدھا چہرہ بری طرح جلا ہوا تھا، اور ساتھ میں لکھا:”میں پچھلے کچھ دنوں سے اس لیے غائب تھی کہ گھر پر ایک حادثے میں بری طرح جل گئی تھی۔ کیا اس تصویر کو دیکھنے کے بعد بھی تم مجھ سے اپنی محبت کے دعویٰ پر قائم رہوگے اور مجھے اپنا جیون ساتھی بنا کر ہماری دوستی کو ایک قابل عزت رشتے کا نام دوگے ؟؟؟؟؟؟“

انور نے بغور تصویر کو دیکھا، جلے ہوئے حسین چہرے کی بھیانک آگ میں اسکی سچی محبت دھواں بن کر اڑگئی۔ اس نے کوئی جواب دینے کے بجائے خاموشی سے روزینہ کو انفرینڈ کردیا۔ ...

اسی وقت اسے سعدیہ نامی لڑکی کا انباکس میں میسج آیا۔ وہ کہہ رہی تھی میں آپ کی تحریروں سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کے خیال میں سچی محبت کیا ہوتی ہے۔

انور نے سوال کو غور سے دیکھا اور ایک ہی دن میں ایک جیسے سوال کے اتفاق پر مسکرادیا۔ اور اس کی انگلیاں کی بورڈ پر رقص کرنے لگیں۔”سچی محبت وہ ہوتی ہے جو کچھ کھونے کے ڈر سے آزاد ہو“

تحریر :سکندر حیات بابا

8 اپریل، 2014

ہماری نئی تاریخ


پچھلے کچھ سالوں سے ایک عجیب ہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔اچانک کچھ لوگوں کو خیال آیا ہے کہ ہم اپنے جن اسلاف کے کارناموں پہ فخر کرتے ہیں، جن کے اچھے کردار کی پیروی کرنا باعثِ سکون و نجات سمجھتے ہیں وہ سب تو جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ہمارے بزرگوں نے تو کوئی بھی اچھا کام نہیں کیا۔ محمد بن قاسم سے لے کر سلطان محمود غزنوی اور قائدِ اعظم سے لے کر علامہ اقبال تک کسی کو نہیں بخشا گیا۔ حقائق کو توڑ مڑوڑ کر یا صرف وہ باتیں جن سے ان کے کردار پہ سوالیہ نشان لگے وہی بتائی جاتی ہیں وہ ہی بتائی جاتی ہیں باقی حذف کر دی جاتی ہیں۔

مثلاْ سلطان محمود غزنوی کے بارے میں اچانک سے لوگوں کو خواب آ گئے ہیں کہ وہ لٹیرا تھا۔ اور اس کے لیے ان کے پاس توجیہ بھی ہے کہ اس نے بتوں کو توڑا کیوں کہ اس میں سونا چاندی تھا۔ اس نے صرف لوٹ مار کے لیے حملے کیے۔ اب ۱۰۰۰ سال بعد ان پہ یہ الزام لگایا جا رہا ہے اور اس کے لیے آدھے حقائق بیان کیے جا رہے ہیں۔ کوئی ایسا سو کالڈ (so called) تاریخ دان آپ کو نہیں بتاتا کہ سلطان کے ہندوستان پر حملے سے پہلے غزنی پہ ہندوستان سے کئی حملے ہو چکے تھے اور ایک بار تو حملہ آور راجہ کو گرفتاری کے بعد زندہ بھی چھوڑ دیا گیا تھا اس وعدے پر کہ وہ آئندہ حملہ نہیں کرے گا۔ کوئی یہ نہیں  بتاتا کہ سلطان کی فوج اتنی تھی یا نہیں کہ وہ پورے کیا آدھے ہندوستان پہ بھی قبضہ برقرار رکھ پاتا۔ کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ اس لٹیرے کے مقابلے میں لاکھوں کی فوج اکٹھی ہوتی تھی لڑنے کو۔ کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ وہ اگر ہندوستان میں بیٹھ جاتا تو غزنی ہاتھ سے چلا جاتا۔ کیونکہ یہ سب حقائق تو سلطان کو لٹیرا ثابت نہیں کرتے۔

پھر ایک اور نئی چیز یہ کہ سائنسی بنیادوں پہ ہزاروں سالوں پہلے ہونے والے واقعات کو دیکھنے کی حس پیدا ہو گئی ہے ہمارے نئے تاریخ دانوں میں۔ ان کے پاس کوئی ایسی دوربین آ گئی ہے جو نہ صرف ماضی کے واقعات دیکھ لیتی ہے بلکہ ہزاروں  سال پہلے گزرنے والے لوگون کی ایسی نیتیں بھی جان لیتی ہے جس کا کسی مورخ نے ان کے گزرنے کے آٹھ ، نو سو سال بعد بھی ذکر نہیں کیا تھا۔ یہ بھی سادہ لوح لوگوں کو بیوقوف بنانے کی چال کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ سائنس پتھروں اور ہڈیوں کی جانچ کر کے یہ بتانے کے علاوہ کہ کتنی پرانی ہے یا شاید کس طرح مرے تھے اور کچھ نہیں بتا سکتی۔ ویسے بھی سائنس کی مانیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے اپنے دین کو جھٹلا کے اپنے آبا کو بندر تسلیم کرنا پڑے گا ۔ ویسے میرا مشورہ ہے کہ سائنس پہ اس قدر یقین رکھنے والے پہلے اپنے آبا کو چڑیا گھر سے نکال کے اپنے گھر منتقل کریں۔

پھر ان تاریخی شعبدہ بازوں کا اسرار ہے کہ مذہب کو الگ کر کے تاریخ کو دیکھا جائے۔ عقیدے کے بغیر صرف سچ نظر آتا ہے۔ پچھلے دنوں اسی بنیاد پہ ایک مشہور کالم نگار نے حکم صادر کر دیا کہ راجا داہر تو مجاہد تھا اور محمد بن قاسم ظالم جس نے اس کے دیس پہ حملہ کر دیا تھا۔ہم مسلمان ہیں۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ ہمارا دین ایک مکمل دین ہمارا عقیدہ سچا عقیدہ ہے۔ جہاد کا حکم، دین کو پھیلانے کا حکم اور اللہ کی زمین میں اللہ کا نظام رائج کرنے کا حکم اللہ تعالٰی کا ہی ہے۔ اگر ہم عقیدے کو کسی بھی چیز سے الگ کر کے دیکھیں گے تو پھر تو نعوذ باللہ صحابہ کرام بھی غلط ہو گئے جنہوں نے بیت المقدس غیز مسلموں سے چھین لیا۔ پھر تو نعوذ باللہ اللہ کے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم بھی ظالم ہو گئے کہ مکہ پر زبر دستی قبضہ کیا۔

عقیدے کو زندگی کے کسی بھی شعبے سے الگ کرنے کا وہی انجام ہوتا ہے جو مغرب کا ہوا جہاں آدھے لوگوں کو ساری زندگی یہی پتہ نہیں چلتا کہ ان کا باپ کون تھا ۔ جہاں انسان اپنی خواہشات کے پیچھے چانوروں سے بھی گر گیا ہے۔ جہاں زندگی کا مقصد سوائے اپنی حیوانی خواہشات پوری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا۔ جہاں اپنی مرضی سے باپ بیٹی بھی ناجائز تعلق رکھ لیں تو کوئی جرم نہیں ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے اس نئی تاریخ کا ہمیں فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا ہے۔فائدہ تو خیر یہ تاریخ لکھنے والے بھی کوئی نہیں بتا سکے ہاں پر نقصانات بے شمار ہیں۔اس تاریخ کو تسلیم کر لیں تو ہمارے پاس شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔ اپنے بچوں کی تربیت کے لیے ہمارے پاس کوئی مثال نہیں بچتی۔ ہمیں تعلیم کی طرح تربیت کے لیے بھی مغرب کی طرف دیکھنا ہو گا۔ اور پھر اس کا انجام مغرب سے اچھا تو ہو نہیں سکتا کہ جہاں ماں کو اپنے بچے سے پانچ منٹ کی ملاقات کے لیے بھی عدالت جانا پڑتا ہے اور بدقسمتی سے جہاں جا کر بھی وہ کیس ہار جاتی ہے۔

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توصیف احمد کشافؔ

2 اپریل، 2014

ملزم صحت جرم اور صحت جسم دونوں سے انکاری ہے

پہلے تو ہمیں یہ خبر ملی کہ سنگین غداری کیس میں ملزم پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔ ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کردیا۔پھر یہ خبر ملی کہ ملزم نے بیرونِ ملک جانے کی اجازت چاہی، عدالت نے اجازت نہ دی۔ اس پر ملزم نے اپنی صحتِ جسم سے بھی انکار کردیا۔ دو بارہ آئی سی یو میں گھس گیا۔ جبکہ شنید یہ تھی کہ کم از کم اسپتال سے تو آج رہائی مل جائے گی۔یوں آئی سی یو میں گھس بیٹھنے پر ہمارے ایک دوست کہنے لگے: 
’’بڑا اڑیل ملزم ہے۔جرم کی صحت اور اپنی صحت دونوں سے انکاری ہے۔ جب کہ جرم بھی خاصا ’صحت مند‘ تھا اور خود بھی‘‘۔ 

ملزم کو اسپتال میں داخلہ لیے ہوئے لگ بھگ 90دن ہوگئے ہیں۔ہمارے کالم نگار دوست سلیم فاروقی کو مریض سے زیادہ معالجوں کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ بلکہ معالجوں سے بھی زیادہ علاج گاہ کی بابت متفکر ہیں۔کہتے ہیں کہ اسپتال کی بڑی بدنامی ہو رہی ہے کہ ایک بیمار اُن سے تین ماہ میں بھی ٹھیک نہ ہوسکا۔ مگرہمیں فاروقی صاحب کی تشویش سے اتفاق نہیں ہے۔ بدنامی اسپتال کی نہیں ہو رہی ہے۔بدنامی تو مریض کی ہو رہی ہے۔ کیوں کہ جس مریض کو فوجی اسپتال بھی ٹھیک نہ کر سکے تو ۔۔۔’نا اُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے‘ ۔۔۔ طب کی اصطلاح میں ایسے مریض کو ’لا علاج مریض‘ کہتے ہیں۔ خود مریض کے نئے وکیل (بیرسٹر فروغ نسیم) نے بھی عدالت کے رُوبرو ایک درخواست پیش کرتے ہوئے اس امرکا اعتراف کیا ہے کہ اس مریض (کے دل) کا علاج صرف امریکا میں ہو سکتا ہے۔یہ بات ہمارے دل کو بھی لگی۔بقول شاعر:
 آپ ہی نے دردِ دل بخشا ہمیں 
آپ ہی اس کا مداوا کیجیے
 ہم نے مانا کہ ’مسلح افواج کا ادارۂ امراضِ قلب‘ (AFIC) ’مایوس مریضوں کی آخری آرام گاہ‘ نہیں ہے۔مگر مایوس ملزم کو وہاں کمرے کا کرایہ، ڈاکٹروں کی فیس، لیبارٹری ٹسٹ کے اخراجات اور ادویات کی قیمت وغیرہ کچھ بھی ادا کرنے کا بوجھ نہیں اُٹھانا پڑتا۔اُسے وہاں علاج کا استحقاق حاصل ہے۔ پنشن یافتہ ہو جانے کے بعد بھی اس قسم کا استحقاق ’ملازم مریضوں‘ کو حاصل رہتا ہے۔ ہمیں تو علم نہیں، مگر کیا عجب کہ فوجی ملازمت کے قواعد و ضوابط کی رُو سے ملازم مریضوں کے مقابلے میں ’ملزم مریضوں‘ کو وہاں (روپوش) رہنے کا زیادہ (عرصے تک) مستحق سمجھا جاتاہو۔
 
 یہ بات تو طے ہے کہ ادارے کی بدنامی بالکل نہیں ہورہی ہے۔ پھر بھی ایک اخبار کے نمائندے نے مریض سے چُھپ کر مذکورہ اسپتال کے معالجوں سے دریافت کیا کہ کیا واقعی اسپتال میں سی ٹی انجیو گرافی اور مستقل نگہداشت کی سہولت نہیں ہے کہ مریض کو علاج کے لیے امریکا جانا پڑے؟ اس پر ماہرین امراضِ قلب نے جواب دیا کہ دونوں سسٹم ہمارے پاس موجود ہیں اور روزانہ اوسطاً 50مریض ان سے استفادہ کرتے ہیں۔البتہ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ کسی مریض کے اتنے لمبے عرصہ تک اسپتال میں رہنے سے ڈیپریشن سمیت متعدد نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔اگر آپ بہت زیادہ بیمار ہیں اور لمبا عرصہ اسپتال میں رہنا پڑے تو مجبوری ہے۔لیکن اگر اسپتال میں رہنے میں آپ کی اپنی مرضی شامل ہوتو نفسیاتی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔جو مریض اپنی مرضی سے لمبا پڑا رہے اُس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ICUکے بعض بیماروں کو پروفیسر عنایت علی خان نے \’I See You\’ کے بیمار قرار دیاہے۔بلکہ ان میں ڈاکٹروں کو بھی شمار کیا ہے۔ کہتے ہیں: 
ڈاکٹر پہلے دیکھیں گے سسٹرز کو
 آئی سی یو کے بیمار اپنی جگہ

 کچھ مریض \’I will see you\’ کے (تکیۂ کلام والے) مریض بھی ہوتے ہیں۔ایسے مریضوں کا انجام یہی ہوتا ہے جو ہو رہاہے۔ 
لمبے عرصہ تک پڑے رہنے پر ایک کہانی یاد آگئی جو لڑکپن میں پڑھی تھی۔ایک بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے لیے ایک شاندار شفا خانہ تعمیر کروایا۔ ہرقسم کی سہولتیں، انواع و اقسام کی نعمتیں اور ادویات کے ساتھ ساتھ مقویات کی لذتیں بھی وہاں فراہم کردی گئیں۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد ’مستقل مریض‘ ہوگئی۔ یہ مریض کبھی مانتے ہی نہ تھے کہ وہ ٹھیک ہو گئے ہیں۔ معالج بھی کہتے تھے کہ کسی مریض کو ایسی حالت میں بھلا کیسے شفاخانے سے رخصت کردیں جب وہ تکلیف کی شکایت کر رہا ہو۔ بادشاہ کے لیے یہ صورتِ حال خاصی تشویشناک ہوگئی تھی۔ مگر وہ بھی اطبا کی اجازت کے بغیر ان مفت خوروں کو ’آئی سی یو‘ سے نکال نہیں سکتا تھا۔ آخر اُس نے شاہی طبیبوں کو چھوڑ کر (جو اُس کے خیال میں شاہی مریضوں سے ملے ہوئے تھے) ایک غیر شاہی طبیب سے رابطہ کیا۔ طبیب نے کہا: 
’’بادشاہ سلامت! یہ کون سا مشکل کام ہے؟ بس مجھے کچھ چیزوں کی ضرورت ہوگی‘‘۔
 بادشاہ نے کہا:’’تم جو مانگو گے دیا جائے گا۔اور اگر شاہی شفا خانہ ان مفت خوروں سے خالی کرا لیا تو منہ مانگا انعام بھی دیا جائے گا‘‘۔
 طبیب نے کہا:’’مجھے فقط نو من تیل، دو من لکڑیاں، ایک کڑھاؤ اور کچھ ہٹے کٹے مشٹنڈے کارکنان درکار ہوں گے‘‘۔ 
بادشاہ نے مطلوبہ اشیا فراہم کردیں۔ اسپتال میں اعلان ہوا کہ ایک طبیب ایسا دریافت ہوا ہے جو پُرانے سے پُرانے اور پیچیدہ سے پیچیدہ امراض کا چٹکی بجاتے علاج کر دیتا ہے۔لہٰذا جتنے پرانے مریض ہیں وہ نئے طبیب کے حضور پیش ہوں۔ 

نئے طبیب صاحب نے شفا خانے کے احاطے میں ایک دور دراز گوشہ ڈھونڈ کروہاں اپنا خیمہ لگایا۔وہیں لکڑیاں جلوائیں، اُن پر کڑھاؤ چڑھایا۔ کڑھاؤ میں تیل ڈلوایا اور اُسے خوب کھولایا۔جب تیل اچھی طرح کھول گیااور اُس میں سے بلبلے اُٹھنے لگے توپہلے مریض کو بُلوایا۔مریض بے چارا چار پائی (اسٹریچر) پر لاد کر لایا گیا۔حکیم صاحب نے نبض دیکھی۔پوچھا:’’کیا تکلیف ہے؟‘‘ 
مریض کراہتے ہوئے بولا: ’’آئے ہائے ہائے ہائے ہائے حکیم جی! یہ تکلیف ہے، وہ تکلیف ہے، یہاں تکلیف ہے، وہاں تکلیف ہے‘‘۔ 
حکیم صاحب نے پوچھا: ’’کب سے تکلیف ہے؟‘‘ مریض بولا:’’اجی 90دن سے علاج کرا رہا ہوں۔ بیماری ہے ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیتی‘‘۔ 
یہ سنا تو حکیم صاحب اپنے مشٹنڈوں سے مخاطب ہوئے:’’ کم بختو!یہ تین ماہ میں ٹھیک نہ ہوسکا۔ دیکھتے کیا ہو؟ یہ تو لاعلاج مریض ہے۔ اُٹھاؤ اسے اور کڑھاؤ میں پھینک دو‘‘۔
 مریض نے جب یہ سنا تو اُس میں ہڑبڑا کریکایک ایسی پھرتی، چستی، مستعدی اور چاقی و چوبندی سب پیدا ہوگئی کہ وہ چھلانگ مار کر چارپائی (اسٹریچر) سے کودا اور حکیم جی سے کہنے لگا: ’’حکیم جی!میں ٹھیک ہوگیا ہوں۔ میں ٹھیک ہوگیا ہوں حکیم جی!‘‘ 

حکیم جی نے کہا: ’’ٹھیک ہے۔ تمھیں اسپتال سے رُخصت کیا جاتاہے۔ مگرباہر جانے سے پہلے سب سے یہ کہتے ہوئے جاؤ کہ میں ٹھیک ہوگیا ہوں‘‘۔دیکھتے ہی دیکھتے پوار شفاخانہ ’لا علاج مریضوں‘ سے خالی ہوگیا۔ اب سناہے کہ طیارہ آگیا ہے۔ پنچھی اُڑجائے گا اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا! - 

ابو نثر  
 

26 مارچ، 2014

لنڈے کے انگریزوں کا سوال


  ہمارے لنڈے کے انگریزوں یعنی دیسی لبرلز جیسا کہ یہ پیج "روشنی" جو اصل میں تاریکی ہے، کا مسئلہ یہ ہے کہ نہ انھیں یہ پتا ہے کہ اسلام کیا ہے اور نا وہ شریعت سے واقف ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ دوکان سے ایک قرآن خرید کر جزدان میں لپیٹ کر رکھ دینا اسلام ہے اور اس سے ساری کی ساری ترقی ہو جائے گی، جبکہ ایسا ہے نہیں۔ اسلام نے ایسا کچھ نہیں سکھایا۔
جب اسلام اور شریعت کے جاننے والے یہ کہتے ہیں کہ ترقی نہ کرنے کی وجہ دین سے دوری ہے تو اس میں حقیقت ہے، جہاں تک اس لنڈے کے انگریز "روشنی" کے سوال کا تعلق ہے کہ امریکہ یورپ ور جاپان نے کونسے دین پر عمل پیرا ہو کر ترقی کی ہے تو میں چند ایک بتا دیتا ہوں۔

پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ دین دو طرح کی کامیابیاں دکھاتا ہے، جیسا کہ ہم نماز میں دعا بھی کرتے ہیں۔

ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار
اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا
سورة البقرة 201

دو طرح کی کامیابی
١) دنیا کی
٢) آخرت کی

اب قرآن دونوں کامیابیوں کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی بتاتا ہے،  جہاں تک آخرت کی کامیابی کی بات ہے تو قرآن اس پر واضح بتاتا ہے کہ اس کے لیے ایمان پہلی شرط، اور دوسری عمل صالحات ہیں.... جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کامیابی امریکہ،   یورپ اور جاپان نے حاصل نہیں کی۔ تو آتے ہیں دوسری یعنی دنیاوی کامیابی کی طرف جو امریکہ و یورپ حاصل کر چکا ہے۔

اسلام کی تعلیمات ہیں کہ

وأن ليس للإنسان إلا ما سعى
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
سورة النجم 39

یہاں مسلمان کا ذکر نہیں، بلکہ ہر انسان کے لیے دین یہ سکھا رہا ہے کہ جو کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو، اس کے لیے کوشش کرو، گھر بیٹھ کر باتیں بنانے سے نہیں ملے گی۔ اس کارگاہ دنیا میں انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی سعی و کوشش اور محنت و مشقت پر ہے۔

امریکہ، یورپ اور جاپان نے دین کے اس حکم پر جانے انجانے میں عمل کیا اور کامیابی حاصل کر لی جبکہ ہم نے عمل نہیں کیا تو کامیابی بھی نہیں ملی۔
دین نے کہیں بھی یہ نہیں کہ کہا جو مسلمان نہیں وہ دنیاوی ترقی نہیں کرے گا۔ ہاں آخرت کی کامیابی کے لیے مسلمان ہونے کی شرط رکھی ہے۔ دین یہ بتاتا ہے کہ کافر کا رزق صرف اس کے کافر ہونے کی وجہ سے بند نہیں کیا جائے گا۔

اسی طرح دین ہمیں علم حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے، امریکہ و یورپ نے دین کے اس حکم پر عمل کیا (چاہے دین سمجھ کر نا کیا ہو) تو کامیاب ہوئے، ہم نے نہیں کیا تو نقصان اٹھایا۔

اسی طرح جھوٹ ، فریب، دھوکہ بازی، حرص و طمع، حسد و بے ایمانی، بغض و کینہ، فخر و غرور ، خود بینی و خود نمائی اور خود رائی وغیرہ بہت سے اندرونی امراض ہیں، جن کا تعلق انسان کے دل و دماغ سے ہے، جن کا قرآن نے خصوصیت سے تذکرہ کیا ہے اوران کی اصلاح پر زور دیا ہے۔ ہم نے عمل نہیں کیا اور دین و شریعت کے اس احکامات کو امریکہ ، جاپان نے اپنایا تو ترقی کی۔

ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بأنفسھم وإذا أراد الله بقوم سواءً ا فلا مرد لہ ومالھم من دونہ من وال
بے شک الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب الله کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور الله کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہو سکتا
سورة رعد:11

دین کے اسی پیغام کو اقبال نے یوں بیان کیا ہے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

باتیں تو اور بہت سی ہیں پر کمنٹ لمبا ہو رہا ہے اس لیے ختم کرتا ہوں،
میں نے چند ایک شرعی احکام بتائے ہیں جو دنیاوی ترقی کے لیے ضروری ہیں، اور جن پر امریکہ یورپ اور جاپان نے عمل کر کے کامیابی حاصل کی۔ یاد رکھیے کہ یہ کامیابی کا صرف ایک حصہ ہے، دین انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کی بیک وقت کامیابی کا طریقہ بتاتا ہے۔ یہ دنیاوی کامیابی بدلتی رہتی ہے، دنیا نے قدیم مصری تہذیب سے لے کر روم اور ایران جیسی عظیم سلطنتیں دیکھی اور پھر ریزہ ریزہ ہوتے دیکھی ہیں۔ تاریخ نے وہ ایام بھی دیکھے ہیں جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور مسلمان دنیا کو علم اور ٹیکنالوجی سے منور کر رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب یورپ سائنس کے لفظ بھی آگاہ نہ تھا اور پورے کا پورا یورپ کیچڑ کا ڈپو تھا۔ اس وقت نہ ان کے یہاں روڈ تھے اور نا تعلیمی ادارے اگر رات کے وقت کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا تو اپنی ہی غلاظت میں ڈوبا جاتا۔یہ وہ وقت تھا جب اسلامی ممالک میں علم کی ضیاء بکھر رہی تھی۔

اس لیے اس کامیابی کو ہمیشہ کی مت جانیے، قوموں کی زندگی میں عروج اور زوال آتے رہتے ہیں، کل ہم آگے تھے، آج وہ آگے ہیں، کل دوبارہ ہم آگے ہوں گے ان شا الله، کار دنیا اسی طرح چل رہا ہے۔

ایک اور بات کہ آپ کا سوال حماقت کے ساتھ ساتھ جہالت بھی ہے،آپ نے اپنی پوسٹ میں ہماری امریکہ و یورپ کے مقابلے میں پسماندگی پر چوٹ کی ہے
۔   اگر آج ہم نے ترقی نہیں  کی تو  اس کی سب سے بڑی وجہ آپ جیسےلنڈے کے انگریز یعنی  سیکولر حکمران ہی ہیں، جب سے پاکستان بنا ہےاس پر سیکولر حکمران ہی مسلط ہیں، جو  ہماری پسماندگی  کی سب سے بڑی  وجہ ہیں۔ جب یہاں اسلام اور شریعت نافذ ہے ہی نہیں تو آپ ہماری پسماندگی کو اسلام سے کیسے جوڑ سکتے ہیں، یہ ناکامی اسلام کی نہیں بلکہ سیکولر حکمرانوں کی ہے۔


امید ہے کہ اس جہل کے علمبردار کے سوال سے جو شکوک دین کے خلاف پیدا ہوئے ہیں وہ رفع ہو گئے ہوں گے، اگر کوئی سوال باقی ہو تو پوچھ سکتے ہیں۔

25 مارچ، 2014

شہزادوں کی عید


عید الفطر کی چاندنی رات تھی، ہر سو خوشیاں بکھر رہی تھیں ، گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں ، ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا،  روزہ دار خدا کا شکر ادا کررہے تھے، کہ انہیں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی ، بچے صبح عید کا انتظا رکر رہے تھے، ان کے چہرے خوشی وشادمانی سے دمک رہے تھے، ابھی سے صبح عید کے لیے نئے نئے کپڑوں کو ترتیب دیا جارہا تھا، محلہ میں خوشی ومسرت کا ایک شور تھا، شہر دمشق روشنیوں سے جگ مگا رہا تھا، ہر دکان ومکان مسرت وشادمانی کا گہوارہ بنا ہوا تھا، کہ ایسے میں امیر المومنین اور مسلمانوں کے بادشاہ کا معصوم وخوب صورت بچہ دوڑتا ہوا حرم سرا میں آیا اور اپنی ماں سے لپٹ کر، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

ماں اس خوشی کے موقع پر اپنے لخت جگر کو اس طرح روتا دیکھ کر تڑپ اٹھی ، گھبرائے ہوئے اپنے آنچل سے بیٹے کے آنسو پونچھے اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے گویا ہوئیں”میرے پیارے بیٹے، میری آنکھوں کے نور! کیوں روتے جارہے ہو ؟“

لیکن بچہ مسلسل روتا جاتا ہے ، ماں پوچھتی ہے ” کیا کوئی تکلیف ہے؟“

شہزادہ روتے ہوئے کہتا ہے ”نہیں“ ۔

کسی نے مارا ہے؟

”نہیں“

”تو پھر کیوں روتے ہو؟“ ماں پیار سے بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اور تسلی دیتے ہوئے کہتی ہے ” دیکھو! آج تو خوشی کا دن ہے کل عید المبارک ہے، تم اپنے ابا امیر المومنین کے ساتھ عید گاہ جاؤ گے ، اپنے ہم عمر دوستوں سے ملو گے۔“

ماں کا یہ جملہ سن کر بچہ او رپھوٹ پھوٹ کر روتا ہے، لیکن اس بار روتے ہوئے وہ کہتا ہے” امی جان! میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ کل عید کا دن ہے ، سب بچے اچھے اچھے اور نئے نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، لیکن آپ نے کہا ہے کہ ہمیں عید کے لیے یہی پرانے کپڑے دھلوا دیں گی۔ کیا ہم یہی پرانے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے ، نہیں امی جان! ہمیں بڑی شرم آئے گی ، ہم ابا کے ساتھ عید پڑھنے نہیں جائیں گے۔ “ اپنا دکھڑا بیان کرکے شہزادہ اور بلک بلک کر رونے لگا۔

اپنے نورِ نظر اور لخت جگر کویوں بلکتا دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں موتی چھلک آئے ، بیٹے کو اپنے گلے سے چمٹا لیا او ربڑے ضبط کے ساتھ کہا ”میرے لال یہ کون سی رونے کی بات ہے ؟ تم اپنے کو اس طرح ہلکان مت کرو، امیر المومنین کو گھر آنے دو، میں ان سے کہہ کر تمہارے لیے آج رات ہی نئے او راچھے کپڑے بنوا دوں گی ، تم انہیں پہن کراپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے کھیلنا ، اماں کی تسلی بھری خوش خبری سن کر شہزادے کی آنکھیں خوشی سے دمکنے لگیں اور وہ کھلکھلا کر ہنستے ہوئے میری اچھی وپیاری امی کہہ کر اپنی ماں یعنی ملکہ عالیہ سے لپٹ گیا۔

تھوڑی دیر بعد امیر المومنین جب اُمور سلطنت سے فارغ ہو کر گھر تشریف لائے تو رفقیہ حیات اور ملکہ سلطنت بیٹے کی آرزو اور رونے کا ماجرا سناتے ہوئے بیٹے کی ترجمانی کے انداز میں گویا ہوئیں ” سب بچے کل عید کے دن نئے کپڑے پہنیں گے ۔ لیکن خلیفہ وقت کے فرزند پرانے کپڑے پہنیں گے ، کیا انہیں شرم نہیں آئے گی ان کی خوشی اداسی میں تبدیل نہیں ہو گی؟“

شہزادہ کی آواز اور ملکہ کی گفتگو سن کر امیر المومنین نے جواب دیا، فاطمہ! تمہیں تو معلوم ہے کہ میں دو درہم روزانہ کا مزدور ہوں ، اس قلیل رقم میں کھانے پینے کا گزارہ کرنا ہی مشکل ود شوار ہے ، چہ جائیکہ دیگر اخراجات“!

فاطمہ بولیں” لیکن بچے تو نہیں مانتے، وہ تو ضد کرتے ہیں کہ نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، ورنہ نہیں ۔“

امیر المومنین نے کہا کہ ” اچھا ایسا کرو، اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہو تو اسے فروخت کرکے بچوں کی ضد اور آرزو پوری کردو“ امیر المومنین کا جواب سن کر ملکہ وقت کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، بولیں ”یا امیر المومنین جس دن آپ تخت خلافت پر بیٹھے تھے، میرا تو ایک ایک زیور علیحدہ کرکے آپ نے بیت المال میں جمع کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ زیور غریب اور مسکین لوگوں کا حق ہے،
بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا ، بھلا اس کے بعد میرے پاس کیا جمع ہے اور آپ تو خود جانتے ہیں  کہ اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“


بادشاہ وقت اپنی بیوی کی باتیں سن کر خاموش ہو گئے اور سر جھکا کر سوچتے رہے، پھر سر اٹھایا، چہرے پر ہلکی سی شادابی آئی ، خادم کے ذریعہ بیت المال کے نگران، یعنی وزیر خزانہ کو ایک حکم نام بھجوایا کہ ” ہمارا ایک ماہ کا حق خلافت ( تنخواہ) پیشگی بھیج دو“۔

تھوڑی دیر بعد خادم واپس آیا مگر اس کے ہاتھ میں رقم کے بجائے وزیر خزانہ کا جوابی خط تھا، خط کیا تھا؟ امیر المومنین کی نظریں تحریر میں گڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں، لکھا تھا ”امیر المومنین! آپ کا غلام آپ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے حاضر ہے، لیکن امیر المومنین آپ کو یہ کیوں کر یقین ہوا کہ آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں اور جب یہ یقین نہیں کیا جاسکتا تو پھر غریبوں کے مال کا حق کیوں پیشگی اپنی گردن پر رکھتے ہیں؟!“

خط پڑھ کر امیر المومنین پر لرزہ طاری ہو گیا، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کپکپاتی ہوئی آواز میں گویا ہوئے ” فاطمہ ! والله بیت المال کے وزیر خزانہ نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔“

دوسرے دن دمشق کے بازار رنگ ونور میں ڈوبے ہوئے عید کا حسین منظر پیش کر رہے تھے ، بوڑھے جوان اور بچے سب عمدہ لباس زیب تن کیے دو گانہ عید ادا کرنے عید گاہ کی طرف رواں دواں تھے، امیر المؤمنین، خلیفة المسلمین، حاکم وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ پیادہ ہی عید گاہ تشریف لے جارہے تھے، گو کہ آپ کے بچوں نے نئے کپڑے نہیں پہنے ہوئے تھے، تاہم وہ خوش تھے ، ان کے چہرے روحانی مسرت اور صبر وشکر کی روشنی سے منور تھے، ان کی پیشانی ایمانی نور سے دمک رہی تھی۔

اس لیے کہ رات کو باپ نے انہیں سمجھایا تھا کہ جو بچے دنیا میں صبر وشکر کے ساتھ پرانے کپڑے پہن لیتے ہیں تو الله تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں نئے واعلیٰ کپڑے پہنائے گا، جو کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور وہ خوشی عطا کرے گا جو دائمی ہو گی، جسے نہ تو کوئی چھین سکے گا اور نہ ہی وہ غم میں تبدیل ہو گی ۔

  حالانکہ یہی عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر متمکن ہونے سے قبل انتہائی تنعم وراحت کی زندگی بسر کرتے تھے ، جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کا موقع نہیں ملتا تھا، وہ جس راستے سے گزرتے خوشبوؤں سے معطر ہو جاتا، لیکن خلافت کابارِ گراں اٹھانے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو ابوہریرہ کے قالب میں ڈھال کر آنے والے تمام مسلم حکمرانوں کے لیے ایک زندہ وجاوید مثال قائم کر دی ، جب حکمران اتنا سادہ وخدا ترس ہو تو اس کی اولاد اور ماتحت کیوں نہ متقی وپرہیز گار بنے گی؟ یہ اصول ہے کہ ہر بلند چیز کا سایہ اس کے نیچے پڑتا ہے ، اگر حکمران مخلص، ایمان دار ، خدا ترس ، قانون کے پابند اور حقیقی خدا کے نائب بن جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے ماتحت بھی ایمانی وقرآنی صفات سے بھرپور نہ ہوں۔

مگر آج عالم یہ ہے ، خصوصاً اسلامی مملکت پاکستان کی صورت حال تو ہم سب پر آشکارا ہے کہ آج طویل مدت گذرنے کے بعدبھی اسلام کے نام پر حاصل کرنے والے ملک میں اسلام کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا جاتارہا ہے ،انتہا تو یہ کہ ہر آنے والے حکمران نے اپنے اقتدار کے طول او رکرسی کی حفاظت کے لیے اسلام ہی کو بازیچہ اطفال بنایا، اپنی ہر من مانی کو اسلام کا نام دے کر مسلمانوں اور یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی اسلام سے خوف زدہ کیا گیا ہے۔

یہ اسلام پر چلنے ہی کی برکت تھی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ کے دو رمیں شیر وبکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگے تھے، مگر آج ایک ہی پلیٹ میں دو مسلمان ایک ساتھ کھانا کھانا گوارا نہیں کرتے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ اور ان جیسے دیگر مسلم حکمرانوں نے شاید ہی اپنی پوری زندگی اور دورِ حکومت میں اپنے اور اپنے خاندان پر اتنا خرچ کیا ہو گا، جتنا آج مسلم حکمران خصوصاً پاکستانی حکمران صرف اپنی ذات پر، عیش وعشرت کے کام پرایک دن  میں دولت خرچ کرتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ پہلے بیت المال کو عوام الناس کا حق سمجھا جاتا تھا، آج حکمران اسے اپنا ذاتی خزانہ سمجھتے ہیں۔


ایک تھکا دینے والا امتحان

 
 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔

ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بُڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟
بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟

بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔

حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، تو نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔


روضۃ المُحبین و نزھۃ المشتاقین-ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ
 

22 مارچ، 2014

جیب اور جیب کترے


آپ نے اکثر عوامی ہوٹلوں میں یہ فقرہ لکھا ہوا دیکھا ہوگا کہ ’’اپنی جیب کی حفاظت کیجیے‘‘۔زیادہ محتاط لوگ یہ فقرہ دیکھتے ہی اس نصیحت پر شکر گزار ہوکر ہوٹل سے پلٹ آتے ہیں۔جو نہیں پلٹتے اور کچھ کھاپی بیٹھتے ہیں تو انھیں بل ادا کرتے وقت اس فقرے کی معنویت کا احساس ہوتا ہے۔ مگر۔۔۔ اب پچھتائے کا ہوت جب خود ہی چُگ گئے جیب۔جن ہوٹلوں کے پروپرائٹر صاحبان محتاط گاہکوں کی نفسیات سے واقف ہوتے ہیں، وہ اسی فقرے کو یوں لکھتے ہیں کہ ’جیب کتروں سے ہوشیار رہیں‘۔سو گاہک بڑی ہوشیاری سے چوکنا بیٹھا اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا کھاتا پیتا رہتا ہے۔مگر جیب اُس کی بھی کاؤنٹر پر کتر لی جاتی ہے اور وہ دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ جاتاہے۔ سارا چوکنا پن وہاں پہنچ کر ہوا ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی جیب خالی اور چوکنا پن ختم کرکے کسی لدھڑ کی طرح بھاری بھاری قدم گھسیٹتا ہوا باہر نکلتاہے۔

جیب شاید ایجاد ہی اس لیے کی گئی ہے کہ وہ کتری جائے۔ صبح ہزار روپئے جیب میں ڈال کر نکلیے۔ شام کو واپس آئیں گے تو شاید اُس ہزار روپئے کی کچھ کترنیں ہی جیب میں بچی ہوں گی۔ دن بھر میں اچھی خاصی جیب کتری جاچکی ہوگی۔
 یہ روپیہ پیسہ بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ جب تک آپ کے پاس رہے گا، آپ ایک ایک چیز کو ترستے رہیں گے۔جب آپ کے پاس سے دفع ہو گا تو آپ کو کچھ ملے گا۔ پھر بھی لوگ جیب کی حفاظت جان سے زیادہ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک محافظِ جیب کو راستے میں لٹیروں نے آلیا۔بندوق دکھاکر بولے کہ: ’’بولو! جان دوگے یا پیسا؟‘‘
 انھوں نے گھگھیا کرکہا: 
’’بھائی میرے! جان لے لو۔پیسا تو آڑے وقتوں کے لیے بچا کر رکھا ہے‘‘۔ 
لٹیروں نے دیکھا کہ اُن کا داؤ خالی جا رہا ہے، کیوں کہ بندوق کی جیب بھی خالی ہے۔۔۔’گولی وولی کوئی نہیں اس میں‘۔۔۔تو ایک لٹیرے نے آگے بڑھ کر سمجھایا:
 ’’میاں! جان پر نہ کھیلو۔ جیب میں جتنے پیسے ہیں، نکال دو۔ بھلا اِس سے زیادہ آڑا وقت اور کب آئے گا؟‘‘ 

جان پر کھیلنے کا ایک سچا واقعہ بھی سن لیجیے۔ نیویارک کے اُس علاقے میں جو نیگرو لٹیروں کا گڑھ تھا، ہمارے صوبہ خیبر پختون خوا کے ایک مردِ کہستانی جانکلے۔ اُن گلیوں میں جانے والوں کو تجربہ کار لوگ یہ نصیحت کرکے بھیجا کرتے تھے کہ: 
’’ جیب میں ایک آدھ ڈالر ضرور ڈال لینا۔ اگر جیب سے کچھ نہ نکلے تو طیش میں آکر یہ کالے مار پیٹ پر اُتر آتے ہیں‘‘۔

پر ہمارے خان صاحب سے جب اُن کالوں نے جیب خالی کرنے کا مطالبہ کیا تو یہ خود طیش میں آکر مار پیٹ پر اُتر آئے۔ بلکہ کراچی والوں کی اصطلاح میں ۔۔۔ ’دے مار ساڑھے چار‘ ۔۔۔ مچا دی۔ پورے گینگ کو’ ہٹ ہٹ کے مارنا‘ شروع کردیا۔بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا۔ مگر کب تک کرتے؟ یہ اکیلے تھے وہ چار پانچ۔ بالآخر پٹ پٹا کر ہانپتے ہوئے کالوں نے کسی طرح ان پر قابوپا کرزمین پر لٹالیا۔جیب کی تلاشی لی تو فقط پچاس سینٹ برامد ہوئے۔مگر جتنی پٹائی ہوچکی تھی اُس کی ’معاشی قدر‘ یقیناًپچاس سینٹ سے ہزار گُنا زیادہ ہوگی۔ 
خیر، خان صاحب کی بہادری کی قدر کرتے ہوئے اُنھیں مع اُن کے پچاس سینٹ کے چھوڑ دیاگیا۔ مگر لٹیروں نے اپنے گینگ کے ممبروں کے نام ایک ’منہ زبانی‘ سرکلر جاری کردیا کہ: ’’آئندہ ان شلوار قمیض پہننے والے پاکستانیوں سے بالکل پنگا نہ لیا جائے۔یہ لوگ پچاس سینٹ کی خاطر بھی جان پر کھیل جاتے ہیں‘‘۔ لیکن اُنھیں کیا معلوم کہ یہ پچاس سینٹ کی بات نہ تھی۔ بات یہ تھی کہ ۔۔۔ ’غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں‘ ۔۔۔تاہم خان صاحب کی بدولت خاصے عرصے تک پاکستانیوں کو یہ ’استثنیٰ‘ حاصل رہا۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی بھائی ایک دوسرے کو یوں نصیحت کیا کرتے تھے:
 ’ ’اُس علاقے میں جاؤ تو شلوار قمیض پہن کر جاؤ‘‘۔ 
جیب کے معاملے میں ہر انسان بڑا حساس ہوتاہے۔اگر کوئی آپ کی جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے تو جیب میں کچھ نہ ہونے کے باوجود آپ گھبرا کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیں گے۔ہاسٹل کے زمانے کی بات ہے۔ایک تبلیغی دوست تمام ساتھیوں کو فجر کی نماز کے لیے جگانے آتے تھے۔ اُن کے آتے ہی، جو ساتھی جاگ رہے ہوتے تھے وہ بھی سوتے بن جاتے تھے۔ مگر یہ سب کی جیبوں میں ہاتھ ڈال ڈال کر گہری نیند سونے والوں کو بھی ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ حالاں کہ سوتے وقت بھلا جیب میں ہوتاہی کیا ہے؟ 
یوں تو آپ کی جیب آپ کے جانتے بوجھتے بھی کتر لی جاتی ہے، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بل آپ کی جیب میں ڈال کر۔ مگر جیب کتروں کی معروف قسم وہ ہوتی ہے جو بھیڑ بھاڑ میں آپ کی جیب اتنی مہارت سے کتر کر چل دیتے ہیں کہ آپ کو پتا ہی نہیں چلتا۔ایسے ہی ایک جیب کترے کی ’جیب کتری‘ کا نہایت دلچسپ قصہ ریاض (سعودی عرب) سے ابوالخطاب محمد طاہر صدیقی نے بھیجا ہے، گیان پرکاش ویویک کے ایک مختصر افسانے کی صورت میں۔گیان پرکاش کا یہ افسانہ آپ بھی پڑھ لیجیے۔ لکھتے ہیں:

 بس سے اتر کر جیب میں ہاتھ ڈالا۔ میں چونک پڑا۔جیب کٹ چکی تھی۔ جیب میں تھا بھی کیا؟ کل نو روپئے اور ایک خط جو میں نے ماں کو لکھا تھا: 
’’میری نوکری چھوٹ گئی ہے، ابھی پیسے نہیں بھیج پاؤں گا‘‘۔
 تین دنوں سے وہ پوسٹ کارڈ جیب میں پڑا تھا، پوسٹ کرنے کی طبیعت نہیں ہو رہی تھی۔نو روپئے جاچکے تھے۔یوں نو روپئے کوئی بڑی رقم نہیں تھی۔۔۔ لیکن جس کی نوکری چھوٹ گئی ہواُس کے لیے نو سو سے کم بھی تو نہیں ہوتی ہے۔ 
کچھ دن گزرے ۔۔۔ ماں کا خط ملا۔پڑھنے سے پہلے میں سہم گیا۔ضرور پیسے بھیجنے کو لکھا ہوگا۔لیکن خط پڑھ کر میں حیران رہ گیا!ماں نے لکھا تھا: 
’’بیٹا! تیرا بھیجا پچاس روپئے کا منی آرڈر ملا۔تو کتنا اچھا ہے رے ۔۔۔ پیسے بھیجنے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتا‘‘۔ 
میں کافی دنوں تک اس اُدھیڑ بُن میں رہا کہ آخر ماں کو پیسے کس نے بھیجے؟ کچھ دن بعد ایک اور خط ملا۔ آڑی ترچھی لکھاوٹ۔بڑی مشکل سے پڑھ سکا:
 ’’بھائی نو روپئے تمھارے، اور اکتالیس روپئے اپنے ملا کر میں نے تمھاری ماں کو منی آرڈر بھیج دیا ہے۔فکر نہ کرنا، ماں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے نا! وہ کیوں بھوکی رہے؟ ۔۔۔ تمھارا جیب کترا‘‘۔ 

ابو نثر  

19 مارچ، 2014

وہ کہ جس نے قرآن کو چیلنج کیا

1977میں جناب گیری میلر (Gary Miller) جو ٹورنٹو یونیورسٹی میں ماہر علمِ ریاضی اور منطق کے لیکچرار ہیں ، اور کینڈا کے ایک سرگرم مبلغ ہیں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عیسائیت کی عظیم خدمت کرنے کے لئے قرآن ِمجید کی سائنسی اور تاریخی غلطیوں کو دنیا کے سامنے لائیں گے ، جو اس کےمبلغ پیرو کاروں کی مدد کرے تاکہ مسلمانوں کو عیسایئت کی طرف لایا جا سکے ۔

تاہم نتیجہ اس کے بالکل برعکس تھا میلر کی دستاویز جائز تھیں اور تشریح اور ملاحظات مثبت تھے ۔ مسلمانوں سے بھی اچھے جو وہ قرآنِ مجید کے متعلق دے سکتے تھے ۔ اس نے قرآنِ مجید کو بالکل ایسا ہی لیا جیسا ہونا چاہیئے تھا ،اور ان کا نتیجہ یہ تھا کہ:

یہ قرآنِ مجید کسی انسان کا کام نہیں۔

پروفیسر گیری میلر کے لئے بڑا مسئلہ قرآنِ مجید کی بہت سی آیات کی بناوٹ تھی جو اسے چیلنج کر رہی تھیں للکار رہی تھیں مثلاً:


أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا
بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے۔

سورۃ نمبر:4، النسآء، آیت نمبر82


وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو۔

سورۃ نمبر:2 ،البقرۃ،آیت نمبر:23


اگر چہ پروفیسر میلر شروع شروع میں للکار رہا تھا اور چیلنج کر رہا تھا ،مگر بعد میں اس کا یہ رویہ حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو گیا اور پھر اس نے بیان کیا کہ اس کو قرآن سے کیا ملا؟

مندرجہ ذیل کچھ نکات ہیں جو پروفیسر میلر کے لیکچر”حیرت انگیز قرآن“میں بیان کئے ہیں:

یہاں کوئی مصنف (لکھنے والا) ایسا نہیں ملے گا جو ایک کتاب لکھے اور پھر سب کو للکارے اور چیلنج کرے کہ یہ کتاب غلطیوں (اغلاط)سے پاک ہے۔قرآن کا معاملہ کچھ دوسرا ہے۔ یہ پڑھنے والے کو کہتا ہے کہ اس میں غلطیاں نہیں ہیں۔اور پھر تمام لوگوں کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر تم کہتے ہو کہ اس میں غلطیاں ہیں اور تم اپنی اس بات پر سچے ہو تو ان غلطیاں تلاش کرکے دکھا دو۔یا تم سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کا کلام ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھا دو۔

قرآن مقدس ،نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ(ذاتی زندگی) کے سخت لمحات کا ذکر نہیں کرتا جیسا کہ آپ ﷺ کی رفیق حیات اور محبوب بیوی حضرت خدیجہ ؓاور آپﷺ کے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی موت۔

نہایت ہی عجیب طرح سے اور عجیب طور پر وہ آیات مبارکہ جو کچھ ناکامیوں پر بطور رائے(تبصرہ) نازل کی گئیں وہ بھی کامیابی کا اعلان کرتی ہیں اور وہ آیات جو کامیابی ،فتح اور کامرانی کے وقت نازل ہوئیں ان میں بھی غرور و تکبر کے خلاف تنبیہ کی گئی ہیں۔

جب کوئی اپنی ذاتی زندگی (سوانح حیات/آپ بیتی) لکھتا ہے تو اپنی کامیابیوں (فتوحات) کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور اپنی ناکامیوں اور شکست کے متعلق دلائل دینے کی کوشش کرتا ہے ، جبکہ قرآن مجید نے اس کے برعکس کیا جو یکساں اور منطقی ہے۔ یہ ایک خاص اور مقررہ وقت کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ ایک تحریر ہے جو اللہ(معبود) اور اللہ کے ماننے والوں ،عبادت کرنے والوں کے درمیان عام قسم کے قوانین اور تعلق کو پیدا کرتی ہے،وضع کرتی ہے۔

میلر نے ایک دوسری خاص آیت کے متعلق بھی بات کی :

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ ۖ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو جنون نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں۔

سورۃ نمبر: 34 ،سبآ، آیت نمبر:46

اس نے ان تجربات کی طرف اشارہ کیا جو ایک محقیق “اجتماعی بحث و مباحثہ کے اثرات ” پر ٹورنٹو یونیورسٹی میں کر چکا تھا ۔

محقق نے مختلف مقررین (تقریر اور بحث کرنے والوں) کو مختلف بحث و مباحثہ میں اکھٹا کیا اور ان کے نتائج میں موازنہ کیا ، اس نے یہ دریافت کیا کہ بحث و مباحثہ کی زیادہ تر طاقت اور کامیابی تب ملی جب مقرر تعداد میں 2 تھے ،جبکہ طاقت اور کامیابی کم تھی جب مقررین کی تعداد کم تھی۔

قرآن مجید میں ایک سورۃ حضرت مریم علیہ السلام کے نام پر بھی ہے۔اس سورۃ میں جس طرح ان کی تعریف اور مدح کی گئی ہے اس طرح تو انجیل مقدس میں بھی نہیں کی گئی،بلکہ کوئی بھی سورۃ حضرت عائشہ ؓیا حضرت فاطمہ ؓکے نام سے موجود نہیں۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کا اسم کرامی قرآنِ مجید میں 25 مرتبہ ،جبکہ محمد ﷺ کا اسم مبارک صرف 5 مرتبہ دہرایا گیا ہے۔

کچھ تنقید کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں (نعوذ باللہ)کہ جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ سب آسیب ، بھوت اور شیطان نبی اکرمﷺکو سکھاتے تھے، ہدایات دیاکرتے تھے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ قرآن مجید میں کچھ آیات ایسی بھی ہیں جیسے:

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ
اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے۔
سورۃ نمبر:26، الشعرآء، آیت نمبر:210

فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو۔


سورۃ نمبر:16، النحل، آیت نمبر:98

اگر آپ ان حالات کا سامنا کرتے جب آپﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ غارِ حرا کے اندر ،مشرکوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے اور وہ انہیں دیکھ سکتے تھے ،اگر وہ نیچے دیکھتے ،انسانی ردِ عمل یہ ہو گا کہ پیچے سے خروج کا راستہ تلاش کیا جائے یا باہر جانے کا کوئی دوسرا متبادل راستہ یا خاموش رہا جائے تاکہ کوئی ان کی آواز نہ سن سکے ، تاہم نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر صدیقؓ سےفرمایا :

غمزدہ نہ ہو، فکر مت کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔


إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو اللہ اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔ اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

سورۃ نمبر:9، التوبہ، آیت نمبر:40

یہ کسی دھوکہ باز یا دغا باز کی ذہنیت نہیں ایک نبی ﷺ کی سوچ ہے ۔جن کو پتہ ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ سبحان و تعالٰی ، ان کی حفاظت فرمائیں گے۔


سورۃ المسد(سورۃ تبت)ابو لہب کی موت سے دس سال پہلے نازل کی گئی ، ابو لہب نبی کریمﷺکا چچا تھا ۔ابو لہب نے دس سال اس بیان میں گذارے کہ قرآن مجید غلط ہے۔ وہ ایمان نہیں لایا اور نہ ہی ایسا کرنے پر تیار تھا ۔نبی اکرم ﷺ کیسے اتنے زیادہ پر اعتماد ہو سکتے تھے جب تک ان کو یقین نہ ہوتا کہ قرآن مجید اللہ سبحان و تعالٰی کی طرف ہی سے ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کو ملاحظہ کیجئے:

تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ
یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

سورۃ نمبر:11، ھود ، آیت نمبر:49

میلر لکھتا ہے کہ کسی بھی مقدس کتاب نے اس قسم کا انداز نہیں اپنایا کہ جس میں پڑھنے والے کو ایک خبر دی جار رہی ہو اور پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نئی خبر(اطلاع) ہے ۔ یہ ایک بے نظیر (بےمثال ) چیلنج (للکار) ہے ۔ کیا اگر مکہ کے لوگ مکر و فریب سے یہ کہہ دیتے کہ وہ تو یہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتے تھے؟ کیا اگر کوئی اسکالر (عالم) یہ دریافت کرتا کہ یہ اطلاع(خبر) پہلے ہی سے جانی پہچانی تھی(افشا تھی) تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔


پروفیسر میلر کیتھولک انسائیکلو پیڈیا کے موجودہ عہد (زمانہ)کا ذکر کرتا ہے جو قرآن کے متعلق ہے۔ یہ واضع کرتا ہے کہ باوجود اتنے زیادہ مطالعہ ،نظریات اور قرآنی نزول کی صداقت پر حملوں کی کوشش اور بہت سے بہانے اور حجتیں جن کو منطقی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ گرجا گھر (چرچ) کو اپنے آپ میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ ان نظریات کو اپنا سکے اور ابھی تک اس نے مسلمانوں کے نظریہ کی سچائی اور حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ قرآن مجید میں کوئی شک نہیں اور یہ آخری آسمانی کتاب ہے۔

حقیقت میں پروفیسر میلر اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے اور اور صحیح راستہ چننے میں کافی حد تک صاف کو اور ایماندار تھا ۔اللہ اسے اور اس جیسے ان تمام لوگوں کو (جنہوں نے حق کو تلا ش کیا اور اپنے تعصب کو اجازت نہیں دی کہ انہیں حق تک پہنچنے سے دور رکھے)مزید ہدایت نصیب فرمائے اور حق کی روشن شاہراہ پر چل کر اپنی عاقبت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

حتمی رائے

1977میں پروفیسر میلر نے مسلمان اسکالر جناب احمد دیداتؒ سے ایک بہت مشہور مکالمہ،بحث و مباحثہ کیا اس کی منطق صاف تھی اور اس کا عذر (تائید) ایسے دکھائی دیتی تھی کہ جیسے وہ سچائی تک بغیر کسی تعصب کے پہنچنا چاہتا تھا بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائے۔

1978 میں پروفیسر میلر نے اسلام قبول کرہی لیا اور اپنے آپ کو عبد الاحد کے نام سے پکارا ۔ اس نے کچھ عرصہ سعودی عرب تیل اور معدنیات کی یورنیورسٹی میں کام کیا اور اپنی زندگی کو دعویٰ بذریعہ ٹیلی ویژین اور لیکچرز کے لئے وقف کر دیا۔

ڈاکٹر گیری میلر (Gary Miller)
ڈاکٹر گیری میلر کے اسلام پر لیکچر

18 مارچ، 2014

از خوابِ گِراں خیز



 اے غنچۂ خوابیدہ چو نرگس نِگَراں خیز
کاشانۂ ما، رفت بتَاراجِ غماں، خیز
از نالۂ مرغِ چمن، از بانگِ اذاں خیز
از گرمیِ ہنگامۂ آتش نفَساں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

اے سوئے ہوئے غنچے، نرگس کی طرف دیکھتے ہوئے اٹھ، ہمارا گھر غموں اور مصیبتوں نے برباد کر دیا، اٹھ، چمن کے پرندے کی فریاد سے اٹھ، اذان کی آواز سے اٹھ، آگ بھرے سانس رکھنے والوں کی گرمی کے ہنگامہ سے اٹھ، (غفلت کی) گہری نیند، گہری نیند، (بہت) گہری نیند سے اٹھ۔

خورشید کہ پیرایہ بسیمائے سحر بست
آویزہ بگوشِ سحر از خونِ جگر بست
از دشت و جبَل قافلہ ہا، رختِ سفر بست
اے چشمِ جہاں بیں بہ تماشائے جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

سورج جس نے صبح کے زیور سے ماتھے کو سجھایا، اس نے صبح کے کانوں میں خونِ جگر سے بندہ لٹکایا، یعنی صبح ہو گئی، بیابانوں اور پہاڑوں سے قافلوں نے سفر کیلیے سامان باندھ لیا ہے، اے جہان کو دیکھنے والے آنکھ، تُو بھی جہان کے تماشا کیلیے اٹھ، یعنی تو بھی اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔

خاور ہمہ مانندِ غبارِ سرِ راہے است
یک نالۂ خاموش و اثر باختہ آہے است
ہر ذرّۂ ایں خاک گرہ خوردہ نگاہے است
از ہند و سمر قند و عراق و ہَمَداں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

مشرق (خاور) سب کا سب راستے کے غبار کی مانند ہے، وہ ایک ایسی فریاد ہے جو کہ خاموش ہے اور ایک ایسی آہ ہے جو بے اثر ہے، اور اس خاک کا ہر ذرہ ایک ایسی نگاہ ہے جس پر گرہ باندھ دی گئی ہے (نابینا ہے)، (اے مشرقیو) ہندوستان و سمرقند (وسطی ایشیا) و عراق (عرب) اور ہمدان(ایران، عجم) سے اٹھو، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند سے اٹھو۔

دریائے تو دریاست کہ آسودہ چو صحرا ست
دریائے تو دریاست کہ افزوں نہ شُد و کاست
بیگانۂ آشوب و نہنگ است، چہ دریاست؟
از سینۂ چاکش صِفَتِ موجِ رواں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو صحرا کی طرح پرسکون (بے آب) ہے، تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو بڑھا تو نہیں البتہ کم ضرور ہو گیا ہے، یہ تیرا دریا کیسا دریا ہے کہ وہ طوفانوں اور مگر مچھوں (کشمکشِ زندگی) سے بیگانہ ہے، اس دریا کے پھٹے ہوئے سینے سے تند اور رواں موجوں کی طرح اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔

ایں نکتہ کشائندۂ اسرارِ نہاں است
ملک است تنِ خاکی و دیں روحِ رواں است
تن زندہ و جاں زندہ ز ربطِ تن و جاں است
با خرقہ و سجّادہ و شمشیر و سناں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

یہ بات چھپے ہوئے بھیدوں کو کھولنے والی ہے (غور سے سن)، تیرا خاکی جسم اگر ملک ہے تو دین اسکی جان اور روحِ رواں اور اس پر حکمراں ہے، جسم اور جان اگر زندہ ہیں تو وہ جسم اور جان کے ربط ہی سے زندہ ہیں، لہذا خرقہ و سجادہ و شمشیر و تلوار کے ساتھ (یعنی صوفی، زاہد اور سپاہی) اٹھ، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند میں ڈوبے ہوئے اٹھ۔

ناموسِ ازَل را تو امینی، تو امینی
دارائے جہاں را تو یَساری تو یَمینی
اے بندۂ خاکی تو زمانی تو زمینی
صہبائے یقیں در کش و از دیرِ گماں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

ازل کی ناموس کا تو ہی امانت دار ہے، جہان کے رکھوالے کا تو ہی دایاں اور بایاں (خلیفہ) ہے، اے مٹی کے انسان تو ہی زمان ہے اور تو ہی مکان ہے (یعنی انکا حکمران ہے) تو یقین کے پیمانے سے شراب پی اور وہم و گمان و بے یقینی کے بتکدے سے اٹھ کھڑا ہو، گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔

فریاد ز افرنگ و دل آویزیِ افرنگ
فریاد ز شیرینی و پرویزیِ افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیِ افرنگ
معمارِ حرم، باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

فریاد ہے افرنگ سے اور اسکی دل آویزی سے، اسکی شیریں (حسن) اور پرویزی (مکاری) سے، کہ تمام عالم افرنگ کی چنگیزیت سے ویران اور تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ اے حرم کو تعمیر کرنے والے (مسلمان) تو ایک بار پھراس (تباہ و برباد) جہان کو تعمیر کرنے کیلیے اٹھ کھڑا ہو، (لیکن تُو تو خوابِ غفلت میں پڑا ہوا ہے) اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔





17 مارچ، 2014

جدید مسلمان! سیکولرزم کے داعیوں کی الجھن

ہمارے معاشرے کا مولوی...!
یعنی ایسا شخص جو حقوق العباد کو نظر اندازکر کے حقوق اللہ پر زیادہ زور دیتا ہے!
جس کا کل مطمح نظر مذہبی مظاہر اور رسومات ہیں!
جو دین کے معاملے میں ذرا بھی اختلاف رائے برداشت نہیں کرتا۔ دین پر عمل کرنے کے معاملے میں رخصت کی اجازت نہیں دیتا۔!
جو صرف اپنے مسلک کو ہی حق سمجھتا ہے!
انتہائی غصہ ور!
جو مسئلے کا حل دینے کے بجائے صرف فتوے دیتا ہے!
جو دین کے نظریاتی اور انٹلکچول پہلو سے نابلد ہے اور صرف فقہی پہلو سے واقف ہے۔
بہت بڑی داڑھی والا!
عالمی حالات اور عالم اسلام سے ناوقف۔ وقت کے تقاضوں سے آزاد!
دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے والا۔بے عمل مبلغ!
وغیرہ وغیر...!!!
صحیح یا غلط طور پر ہمارے معاشرے میں یہی مولوی کی تصویر بنادی گئی ہے۔اس تصویر نے دیسی سیکولروں کی بہت ساری مشکلیں آسان کردی ہیں۔ مولوی دین کی کچھ بھی بات کر لے چاہے وہ بات کتنی ہی معقول ہوصرف ایک "مولوی" کا طعنہ دے کر پورے محفل لوٹی جاسکتی ہے۔
لیکن سیکولر اور ملحد طبقے کا ایک بہت بڑا مسئلہ وہ پڑھے لکھے دین دار نوجوان ہیں جو پورے شعور کے ساتھ، نہ صرف دین کو بلکہ دین کے خلاف تمام مقدمات کو سمجھتے ہوئے بڑے ہی ناموافق حالات میں اسلام پر ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ الحاد و سیکولرزم کے خلاف نظریاتی محاذ بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ اسلام کا نظریاتی اور فکری مقدمہ مضبوط ہی ہورہا ہے۔اس کی بنیادی وجہ ایک طرف ہمارے کچھ علماء ومحققین کی تحقیق ہے تو دوسری اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی نظریات کی منطقی بنیاد انتہائی بودی ہے۔ مغرب نے ایک غلط عقیدہ یعنی مسیحیت کا مقابلہ کر کے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا تھا کہ اس نے تمام مذاہب کو شکست دی ہے۔ لیکن ایسے مسلمان جو مغربی فکر سے مرعوب نہیں ہیں جب انہیں مغربی نظریات کو معروضی انداز میں پرکھتے ہیں تو اندر سے لغو قسم کے دعوے ہی نکلتے ہیں۔دوسری طرف دیسی سیکولر ان مغربی نظریات کی خالص علمی نمائندگی کرنے کےبجائے صرف اس علمی مرعوبیت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی علمیت سے وہ قطعی نابلد ہیں۔ ان دیسی سیکولروں کا پورا مقدمہ اور فکر در اصل اس مولویت کے خلاف ہوتی جس کے صفات پیچھے بیان کی گئیں۔
ان کی منافقت کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ جیسے ہی کسی باشعور مسلمان سے ان کو پالا پڑتا ہے تو اس شعور کا فکری مقابلہ کرنے کے بجائے فوراً مولویت کی دہائی دینا شروع کردیتے ہیں۔
اول تو مولوی کی جو صفات مانی یا منوائی جاتی ہیں وہ غلط پروپیگنڈا ہے۔ لیکن اس مولویت کے سانچے کے باہر جیسے ہی انہیں دین نظر آتا ہے، اس کو سمجھنے، قبول کرنے، یا مقابلہ کرنے کے بجائے فوراً مولویت کی طعنہ دے کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہوں نے اسلام کو نظریاتی شکست دے دی۔
انہیں اندھا ایمان اس لئے پسند ہے کیونکہ وہ سیکولرزم پر اپنے اندھے ایمان سے مسلمانوں کے اندھے ایمان کا مقابلہ کرنے میں ایک گونہ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ ہاں کسی باشعور مسلمان کو دیکھتے ہی ان کی سٹی گم ہوجاتی ہے، کیوں کہ سیکولرزم پر ان کا ایمان کسی شعور کے بجائے مرعوبیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب انہیں کون سمجھائے کہ اسلام انکی اپنی مزعومہ مولویت سے بہت آگے جاچکا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مولویت کے ساتھ غلط یا صحیح طریقے سے جو جمود اور فرسودگی منسوب کی جاتی ہے اس کے شکار وہ خود سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔اندھی تقلید جو کہ مولویت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے وہ انہیں دیسی سیکولروں کا خاصہ ہے۔ان کے نزدیک مغرب کے چند عقائد مکمل طور پر ثابت شدہ ہیں اور جیسے ہی ان کو چیلنج کیا جاتا ہے وہ مولویت کی دہائی دے کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ ان کا یہ انداز ایسے ہی بے شعور دیندا ر کا سا کہ جب دین کے کسی معاملے میں سوال اُٹھایا جاتا ہے تو وہ اس کا منطقی جواب دینے کے بجائے الحاد کا فتوی داغ دیتا ہے۔


 
ابوزید
 

13 مارچ، 2014

روز محشر بھی میرا بوجھ اٹھاؤ گے


رات کی تاریکی میں چاروں طرف سناٹا چھا چکا تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں چلتا چلتا تین میل دور نکل آیا تھا۔ اچانک اسے ایک طرف آگ جلتی نظر آئی تو وہ اسی طرف ہو لیا۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک عورت چولہے پر ہنڈیا رکھے کچھ پکا رہی ہے اور قریب دو تین بچے رو رہے ہیں۔ عورت سے صورت حال دریافت کرنے پر اسے علم ہوا کہ یہ اس عورت کے بچے ہیں جو اشیا خوردو نوش کی عدم دستیابی کے باعث کئی پہر سے بھوکے ہیں اور وہ محض ان کو بہلا کر سلانے کے لیے ہنڈیا میں صرف پانی ڈال کر ہی ابالے جا رہی ہے۔ یہ سنتے ہی اس طویل قامت شخص کے بارعب چہرے پر تفکرات کے آثار امڈ آئے۔ وہ یک دم واپس مڑا اور پیدل ہی چلتا ہوا اپنے ٹھکانہ پر پہنچا۔ کچھ سامان خورد و نوش نکال کر اپنے خادم سے کہا سامان کی گٹھڑی میری پیٹھ پر لاد دو خادم نے جوابا کہا کہ میں اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتا ہوں مگر طویل قامت اور بارعب شخصیت نے کہا روز محشر بھی میرا بوجھ اٹھاو گے، مجھے اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہے۔ المختصر یہ کہ اس نے اپنی پشت پر سامان لادا اور پیدل ہی تین میل کا فاصلہ طے کر کے اس ضرورت مند عورت اور اس کے بھوک سے بے تاب بچوں کو وہ سامان دیا۔ جب تک بچوں نے کھانا کھا نہیں لیا تب تک وہیں بیٹھا رہا۔ پھر بچوں کو کھاتا دیکھ کر رات کی تاریکی ہی میں خوشی سے واپس آ گیا۔ طویل قامت اور بارعب شخصیت کو امت مسلمہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے جو عموما رات کو رعایا کے احوال سے آگاہی کے لیے گشت کیا کرتے تھے۔

آپ کا اسم گرامی عمر، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نسب مبارک نویں پشت پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔ آپ کی ولادت عام الفیل کے تیرہ سال بعد ہوئی اور آپ ستائیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ چوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے لیے بہت دعا فرمایا کرتے تھے اس لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اپنی جگہ سے چند قدم آگے چل کر آپ کو گلے لگایا اور آپ کے سینہ مبارک پر دست نبوت پھیر کر دعا دی کہ اللہ ان کے سینہ سے کینہ و عداوت کو نکال کر ایمان سے بھر دے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام پر مبارک باد دینے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے اسلام کی شوکت و سطوت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور مسلمانوں نے بیت اللہ شریف میں اعلانیہ نماز ادا کرنا شروع کر دی۔ آپ وہ واحد صحابی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اعلانیہ اسلام قبول کیا اور اعلانیہ ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے موقع پر طواف کعبہ کیا اور کفار مکہ کو للکار کر کہا کہ میں ہجرت کرنے لگا ہوں یہ مت سوچنا کہ عمر چھپ کر بھاگ گیا ہے، جسے اپنے بچے یتیم اور بیوی بیوہ کرانی ہو وہ آکر مجھے روک لے۔ مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کے آپ کے مقابل آتا۔

ہجرت کے بعد سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رہے۔ غزو بدر میں اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ غزو احد میں انتشار کے باوجود اپنا مورچہ نہیں چھوڑا۔ غزو خندق میں خندق کے ایک طرف کی حفاظت آپ کے سپرد تھی بعد ازاں بطور یادگار یہاں آپ کے نام پر ایک مسجد تعمیر کی گئی۔ غزو بنی مصطلق میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک کافر جاسوس کو گرفتار کر کے دشمن کے تمام حالات دریافت کر کے اسے قتل کر دیا تھا اس وجہ سے کفار پر دہشت طاری ہوگئی۔ غزو حدیبیہ میں آپ مغلوبانہ صلح پر راضی نہ ہوتے تھے مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے سرِ تسلیم خم کیا۔ اور جب سور فتح نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ سورت سنائی کیوں کہ اس میں بڑی خوش خبری اور فضیلت آپ رضی اللہ عنہ ہی کے لیے تھی۔ غزوہ خیبر میں رات پہرے کے دوران ایک یہودی کو گرفتار کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ اس سے حاصل شدہ معلومات فتح خیبر کا ایک اہم سبب ثابت ہوئیں۔ غزو حنین میں مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم کی سرداری حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مرحمت کی گئی۔ فتح مکہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کعبہ میں عمرہ یا طواف کی اجازت طلب کی تو نبی علیہ السلام نے اجازت کے ساتھ فرمایا اے میرے بھائی!اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا اور ہمیں بھول نہ جانا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک جملہ کے عوض اگر مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو میں خوش نہ ہوں گا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کفر و نفاق کے مقابلہ میں بہت جلال والے تھے اور کفار و منافقین سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی و منافق کے مابین حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا مگر منافق نہ مانا اور آپ رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کے لیے کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو جب علم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بعد یہ آپ سے فیصلہ کروانے آیا ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر کے فرمایا جو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں مانتا میرے لیے اس کا یہی فیصلہ ہے۔ کئی مواقع پر جو رائے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ظاہر فرمائی قرآن کریم کی آیات مبارکہ اس کی تائید میں نازل ہوئیں۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے پردہ، قیدیانِ بدر، مقامِ ابراہیم پر نماز، حرمتِ شراب، کسی کے گھر میں داخلہ سے پہلے اجازت، تطہیرِ سیدہ عائشہ رضی اللہ جیسے اہم معاملات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے، مشورہ اور سوچ کے موافق قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں۔ علما و فقہا کے مطابق تقریبا 25 آیات قرآنیہ ایسی ہیں جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تائید میں نازل ہوئیں۔

جب آپ تخت خلافت اسلامیہ پر متمکن ہوئے تو اعلان فرما دیا کہ میری جو بات قابل اعتراض ہو مجھے اس پر برسرِعام ٹوک دیا جائے۔ امیرالمومنین کا لفظ سب سے پہلے آپ ہی کے لیے استعمال ہوا۔ اپنی خلافت میں رات کو رعایا کے حالات سے آگاہی کے لیے گشت کیا کرتے تھے۔ اپنے دورِ خلافت میں اپنے بیٹے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کا وظیفہ 3 ہزار مقرر کیا جب کہ حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا 5،5 ہزار اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا 4 ہزار وظیفہ مقرر کیا۔ آپ نے 17 ہجری میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور 40 ہزار درہم مہر ادا فرمایا۔

آپ نے اپنے حکام کو باریک کپڑا پہننے، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھانے اور دروازے پر دربان رکھنے سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔ مختلف اوقات میں اپنے مقرر کردہ حکام کی جانچ پڑتال بھی کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ملک شام تشریف لے گئے اس وقت حاکم شام سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے عمدہ لباس پہنا ہوا تھا اور دروازہ پر دربان بھی مقرر کیا ہوا تھا۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ چونکہ یہ سرحدی علاقہ ہے اور یہاں دشمن کے جاسوس بہت ہوتے ہیں اس لیے میں نے ایسا کیا ہوا ہے تا کہ دشمنوں پر رعب و دبدبہ رہے۔ یہ معقول جواب سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مطمئن ہو گئے۔

اپنے دور خلافت میں مصر، ایران، روم اور شام جیسے بڑے ملک فتح کیے۔ 1 ہزار 36 شہر مع ان کے مضافات فتح کیے۔ مفتوحہ جگہ پر فورا مسجد تعمیر کی جاتی۔ آپ کے زمانہ میں 4 ہزار مساجد عام نمازوں اور 9 سو مساجد نماز جمعہ کے لیے بنیں۔ قبل اول بیت المقدس بھی دور فاروقی میں بغیر لڑائی کے فتح ہوا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فاروقی حکم سے جب بیت المقدس پہنچے تو وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا کہ ہماری کتابوں کے مطابق فاتح بیت المقدس کا حلیہ آپ جیسا نہیں لہذا آپ اسے فتح نہیں کر سکتے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط میں صورت حال لکھ بھیجی اور پھر جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیت المقدس آمد پر چابیاں آپ کے حوالہ کی گئیں کیوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ کا حلیہ مبارک اپنی کتابوں کے مطابق پا لیا تھا۔ انہی سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فتح مصر کے بعد ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بذریعہ خط اطلاع دی کہ دریائے نیل ہر سال خشک ہو جاتا ہے اور لوگ ہر سال ایک خوب رو دوشیزہ کی بھینٹ چڑھاتے ہیں تو دریا میں پانی اتر آتا ہے۔ تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جوابا ایک خط تحریر فرماکر روانہ کیا کہ یہ خط دریا کی ریت میں دبا دیا جائے۔ جیسے ہی خط دبایا گیا تو دریائے نیل میں پانی چڑھ آیا بلکہ پہلے سے چھ گنا زیادہ پانی ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خط کا مضمون یہ تھا کہ اے دریا! اگر تو اپنی مرضی سے بہتا ہے تو ہمیں تیری کوئی حاجت نہیں اور اگر تو اللہ کی مرضی سے بہتا ہے تو بہتا رہ۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا "اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔" جامع ترمذی، ج 2 ، ص 563
ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔"صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880
مزید ایک موقع پر فرمایا " اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کر دیا ہے۔

کئی قرآنی وعدے اور نبوی خوش خبریاں آپ رضی اللہ عنہ ہی کے دور خلافت میں پوری ہوئیں۔ فاروقی دورخلافت میں اسلامی سلطنت 22 لاکھ مربع میل کے وسیع رقبہ پر محیط تھی۔ پولیس کا محکمہ بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی نے قائم فرمایا تھا۔ کئی علاقوں میں قرآن اور دینی مسائل کی تعلیمات کے لیے حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابی ابن کعب، حضرت ابوالدردا، حضرت سعد اور حضرت ابو موسی اشعری وغیرہ جیسے اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مقرر فرمایا۔ آپ کا دور خلافت بہت مبارک اور اشاعت و اظہار اسلام کا باعث تھا۔ 27 ذی الحجہ بروز بدھ ایرانی مجوسی ابو لل فیروز نے نماز فجر کی ادائیگی کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خنجر مار کر شدید زخمی کر دیا۔ اور یکم محرم الحرام بروز اتوار اسلام کا یہ بطلِ جلیل، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاوں کا ثمر، اسلامی خلافت کا تاج دار 63 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ روضہ نبوی میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیف بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبروں کے ساتھ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک بنائی گئی۔

12 مارچ، 2014

سائیں اور سائیں کا سائیں


پرانے وقتوں کی بات ہے، مگر بات تو ہے کہ لالچ، حرص، طمع، تساہل پسندی، مال و زر، نمود و نمائش، طاقت و اقتدار کی کشش تب بھی آج ہی کی طرح تھی۔ صرف انسان کا رہن سہن ہی جدا تھا۔ لینڈ کروزر، ہمر اور مرسیڈیز گاڑیاں نہ سہی، برق رفتار عربی گھوڑے، سرخ اونٹنیاں تو اس وقت بھی سٹیٹس کی علامت تھیں۔ کلف لگے لباس، واسکٹیں، بیش قیمت تھری پیس سوٹ نہ سہی، مگر کندھوں پر پڑی یمنی چادریں تب بھی امارت کی نشانی ہوا کرتی تھیں۔ پیرس کے پرفیومز نہ سہی، مگر عود و عنبر کی خوشبو دولت و ثروت کے اظہار کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ نوجوان ہلکا پھلکا لباس پہن کر خوشبو لگائے اترائے اترائے پھرنا پسند کرتے تھے، اس وقت بھی وزیر، مشیر، وزیر اعلیٰ اور گورنر ہوا کرتے تھے۔ ان کے ٹاٹھ باٹھ بھی اس وقت کے حساب سے خوب تھے۔ تنومند بدو حبشی محافظوں کے جلو میں کمربند سے تیز دھار تلوار لٹکائے پھرنے کی خواہش تب بھی ایسی ہی زوروں پر تھی، جسے آج کے حکمران پروٹوکول لیے لیے پھرتے ہیں۔ صرف کلینڈر کے اوراق پر ہندسے تبدیل سمجھیں۔ تب بھی انسانی جبلت عادات خواہشات کا دریا آج ہی کی رفتار سے بہہ رہا تھا۔ اسی زمانے کی بات ہے کہ اس شخص کو ایک نامانوس چہرہ دکھائی دیا، سوچا کہ مسافر ہوگا، جانے کہاں سے سفر کرتا ہوا آیا ہے۔ کچھ کھایا بھی  ہو گا کہ نہیں۔ اس وقت سفر کرنا واقعتا جان جوکھم کا کام ہوتا تھا۔ اس شخص سے اسے اپنے پاس بلایا۔ مسکرا کر سلام کیا اور اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی۔ مسافر نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد دعوت قبول کر لی۔ کھانا سامنے آیا تو دسترخوان پر گھی کا پیالہ دیکھ کر مسافر کی آنکھیں چمک سی گئیں۔ وہ ہاتھ نہ روک سکا اور بے صبری کے ساتھ روٹی کے لقمے گھی میں ڈبو ڈبو کر کھانے لگا۔ میزبان یہ بے صبری دیکھ کر مسکرا دیا اور کہا: لگتا ہے تمھیں گھی بہت پسند ہے۔

جواب میں مہمان نے کہا: ”میرے علاقے میں قحط پڑ رہا ہے، ایک عرصے کے بعد یہ نعمت سامنے دیکھی، تو ہاتھ نہ روک سکا.... “

مہمان تو یہ کہہ کر کھانے میں مصروف ہو گیا۔ لیکن میزبان کا ہاتھ رک گیا۔ اس کی پیشانی پر فکر و تردد کے بل پڑ گئے اور پھر میزبان نے اس وقت تک خود پر گھی کو حرام کر لیا، جب تک اس علاقے کے لوگوں کے دسترخوان پر گھی سے بھرے پیالے نہ پہنچ گئے۔ مہمان کے بارے میں تاریخ خاموش ہے، البتہ میزبان کا ذکر خلیفتہ المسلمین سیدنا عمر فاروقؓ کے نام سے آتا ہے۔

جانے دیجیے وہ تو بڑے آدمی تھے، مراد رسولؐ تھے ناں، ان کو تو ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ اسی دور میں پھر چلتے ہیں۔ حمص ایک شہر کا نام ہے، یہاں کے لوگوں کا وفد اپنے گورنر کی شکایت لے کر پہنچا، شکایات کیا تھیں۔

جب تک دن چڑھ نہیں جاتا گورنر صاحب گھر سے باہر نہیں نکلتے۔
رات کو کوئی آواز دیتا ہے تو گورنر صاحب کے گھر سے کوئی جواب نہیں آتا۔
اور مہینے میں ایک دن تو گھر سے باہر آنا پسند ہی نہیں کرتے، سارا دن گھر پر رہتے ہیں، باہر نہیں نکلتے۔
میڈیکلی ان فٹ بھی ہیں، ان پر جنون کے دورے پڑتے ہیں۔

ان شکایات کا خلیفہ وقت نے نوٹس لے لیا۔ یہ نوٹس آج کے وزراء کے نوٹسوں کی طرح محض نیوز چینلز کی اسکرین اور اخبارات کی خبروں کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ واقعتا نوٹس ہوتا تھا۔ گورنر کو دارالحکومت طلب کر لیا گیا۔ اب گورنر پریشان کہ جانے مجھ سے کیا غلطی سرزد ہو گئی۔ میں نے ایسا کیا کر دیا کہ خلیفہ نے بلا لیا۔ حاضر تو ہونا تھا، سو حاضر ہو گئے اور اس حال میں حاضر ہوئے کہ لباس پر پیوند لگے ہوئے تھے۔ ایک ہاتھ میں لاٹھی اور دوسرے میں کھانا کھانے کا پیالہ تھا۔ خلیفہ نے گورنر کا سر سے پائوں تک جائزہ لیا اور پوچھا:
” بس تمھارے پاس نہیں سامان ہے؟ “
”اس سے زیادہ کی مجھے ضرورت نہیں “۔ گورنر نے جواب دیا۔
گورنر کے اس جواب پر خلیفہ کے چہرے پر اطمینان کے آثار دکھائی دینے لگے۔ لوگوں کی شکایات سامنے رکھیں اور کہا: ”ان شکایت کا کیا جواب ہے؟“۔
گورنر نے سر جھکا لیا۔ جیسے سوچ رہا ہو کہ کیا کہوں اور کیا کروں۔ آخر کار حمص کا گورنر بولا:
” امیر المومنین! الله کی قسم میں ان باتوں کا ذکر کرنا پسند نہیں کرتا۔ لیکن اب آپ نے پوچھا ہے تو عرض کرتا ہوں کہ میں صبح سویرے اس لیے گھر سے باہر نہیں نکلتا کہ مرے پاس کوئی ملازم نہیں۔ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر گھر کے کام کرتا ہوں۔ اس کے بعد روٹی پکاتا ہوں اور پھر لوگوں کی خدمات کے لیے باہر نکلتا ہوں“۔
گورنر یہ کہہ کر لحظہ بھر کے لیے چپ ہوا اور پھر انہوں نے دوسرا الزام بھی قبول کر لیا اور کہا میں سارا دن الله کی مخلوق کی خدمت کرتا ہوں۔ اسی میں دن گزر جاتا ہے۔ اپنے رب کے حضور اطمینان سے کھڑے ہونے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اس لیے میں نے رات الله کی عبادت کے لیے مخصوص کر رکھی ہے۔
اس کے بعد گورنر نے تیسرا الزام بھی قبول کر لیا اور کہا کہ میرے شہر کے لوگوں کا یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ میں مہینے میں ایک دن گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ دراصل میرے پاس کپڑوں کا ایک ہی جوڑا ہے، جب یہ میلا ہو جاتا ہے تو اسے دھو کر سکھانے میں دن کا بیشتر وقت نکل جاتا ہے اور میں لوگوں سے مل نہیں پاتا۔
گورنر نے اپنے میڈیکلی ان فٹ ہونے کی بھی وجہ بیان کی۔ کہا کہ میرے ساتھ خبیب بن عدیؓ کو مشرکین نے میرے سامنے پھانسی دی تھی۔ جب مجھے یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میں بے چین ہو جاتا ہوں اور بعض دفعہ بیہوش ہو جاتا ہوں۔

تاریخ ہمیں خلیفہ کا نام حضرت عمر فاروقؓ اور طلب کیے جانے والے کو حمص کا گورنر سعید بن عامرؓ بتاتی ہے۔


سیلانی کو یہ منظر تھر کی خشک سالی نے یاد دلا دیے۔ جب میڈیا نے تھر میں خشک سالی اور قحط کا بھانڈا پھوڑا، تو آصف علی زرداری کے معتمد خاص جناب سید قائم علی شاہ جیلانی صاحب نے وزیر اعلیٰ ہائوس میں نیوز کانفرنس رکھی۔ جمعہ کے بابرکت روز بارہ بجے کے قریب رپورٹروں کو سی ایم ہائوس طلب کیا اور کہا کہ صورتحال ایسی ہی ہے، قحط ہے اور گندم کی ترسیل بھی ٹھیک سے نہیں ہوئی..... زیادہ بچے بھوک سے تو نہیں، بیماریوں سے مر رہے ہیں۔ علاج میں بھی شکایات تھیں۔ نوٹس لیا گیا ہے اور متعلقہ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تھر کے بھوک سے بلکتے بچوں اور باشندوں کے لیے کی جانے والی اس نیوز کانفرنس میں، تھریوں کی بھوک محسوس کرنے کے لیے سی ایم ہائوس میں گرما گرم بریانی اور منرل واٹر کی بوتلیں رکھی گئیں.... سندھ حکومت کی کارکردگی پر سیلانی کی طبیعت ایسی مکدر رہی ہے کہ اس کا ذکر کرنے سے عجیب سی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ تف ہے ان حکمرانوں پر کہ موئن جودڑو میں ایک گلوکارہ کے بوسے سے شروع کرنے والے کلچر کے نام پر لچر فیسٹیول کے لیے تو دنوں میں ڈھائی سو کروڑ روپے پھونک دیں اور جہاں بات بھوک سے بلکتے شیر خوار بچوں کی مائوں کی سوکھی چھاتیوں پر منہ مارنے کی ہو، وہاں سندھ کے خزانے سے صرف دس کروڑ نکل سکے۔ ”خیر پور “کے پاس بھوکے پیاسے تھر کے لیے اتنی ہی خیر تھی......
سیلانی اس بےحسی کا رونا رو رہا تھا کہ اس کے سیل فون پر اس کے ایک صحافی دوست کا فون آیا۔ وقاص باقر صاحب نوجوان صحافی اور ایک ٹی وی چینل سے منسلک ہیں، کہنے لگے: ” سر! میں مٹھی میں ہوں“۔
”اوہ کیا صورتحال ہے وہاں کی۔ کیا ویسا ہی ہے جیسا میڈیا بتا رہا ہے“ سیلانی نے بیتابی سے پوچھا۔
”ابھی ایک بج رہا ہے اور مٹھی کے سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی میں بائیس سو مریض دیکھے جا چکے ہیں “۔
”اوہ، آج تو وزیر اعلیٰ کا دورہ بھی تو متوقع ہے ناں؟ “سیلانی نے پوچھا۔

”جی، جی اسپتال میں جھاڑو لگ گی ہے، وبا کے روم اسپرے ہو رہے ہیں ۔ پورا اسپتال مہک رہا ہے، یہاں حالت یہ تھی کہ ایک ایک بستر پر تین تین مریض تھے، اب ہسپتال والے پلنگ چار پائیوں کے لیے بھاگتے پھر رہے ہیں کہ بڑے وزیر کے آنے سے پہلے مریضوں کو بیڈ دیے جائیں ۔ “
” چلو یہ تو اچھی بات ہوئی ناں“۔
”اگر پہلے ہی چیک اینڈ بیلنس ہوتا تو یہ سب نوبت ہی نہ آتی۔ یہاں انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے کہ فروری میں بارشیں نہ ہوں تو تو اس علاقے کو آفت زدہ قرار دے کر گندم وغیرہ فراہم کرتے تھے۔ اس بار حکومت کو پتا نہیں کیا ہوا.... “۔
”ہونا کیا تھا، بینڈ باجوں میں معصوم بچوں کی ہچکیاں کون سنتا ہے۔ امپورٹڈ لیزر لائٹس کے فیشن شوز میں کس کا خیال مائی بھاگی کے تھر کی طرف جاتا ہے “۔ سیلانی نے تلخی سے کہا
وقاص نے لطیفہ سنایا کہ وزیر اعلیٰ نے جس وارد کا دورہ کرنا ہے۔ اسے اچھی طرح صاف کر کے اسپرے کر کے سیل کر دیا گیا ہے۔ اب وہاں کسی مریض کے لواحقین تو کیا، ڈاکٹروں کو بھی جانے نہیں دیا جا رہا اور نہ ہی کسی مریضہ کو نکلنے دیا جا رہا ہے۔

” بھئی یہ جو حاکم حکمران ہوتے ہیں ناں، ان کی جانیں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔ یہ نایاب ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہم عوام سے ہٹ کر مختلف طریقوں سے دنیا میں آتے ہیں اور مختلف طرح سے ان کی واپسی ہوتی ہے۔ اس لیے سیکورٹی والے ان نایاب لوگوں کی خاص حفاظت کرتے ہیں... “۔ سیلانی کے طنز پر وقاص باقر ہنس پڑا اور اجازت بھی چاہی کہ وزیر اعلیٰ کے آنے کا شور و غوغا ہو رہا تھا۔


وقاص کے فون کے بعد سیلانی کرسی پر نیم دراز سا ہو گیا۔ طبیعت مزید بوجھل ہو گئی۔ اس نے ٹیلیویژن پر کمزور ہڈیوں کے ڈھانچہ بنے بچوں کو دیکھا ہے، جن میں رونے کی سکت بھی نہیں تھی۔ ان میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ ماں کی خشک چھاتیوں سے دودھ نہ ملنے پر احتجاج کر سکیں۔ ”شرم کی بات اور ڈوب مرنے کا مقام “ جیسے طعنے تو اب متروک ہو چکے۔ حکمرانوں کے لیے اب کچھ نیا ہوں چاہئیے۔ وہ چاہیں تو پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے آثار بھی رنگین کرنے پہنچ جاتے ہیں، کلفٹن میں ماڈلز کے جسم پر اجرک دیکھنے تین تین گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں، اپنے اتالیق کے مشوروں سے ٹویٹر پر مخالفین پر گرجنا برسنا نہیں بھولتے۔ لیکن جس مٹی سے ان کا خمیر اٹھا ہے، اس مٹی کی بو بھی انھیں پسند نہیں۔ سندھ فیسٹیول کا سپرمین سائیں کہاں ہے اور سائیں کا سائیں کہاں ہے؟ سیلانی یہ سوچتے ہوئے چشم تصور سے بھوک اور پیاس سے بلکتے بچوں کو مائوں کی گود میں تڑپتے ہوئے بے بسی سے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

سیلانی کے قلم سے


10 مارچ، 2014

ایک جنگل کا قصہ اور ہماری حالت زار-- طلعت حسین



یہ قصہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے مگر یہاں حالات کچھ ایسے بن گئے ہیں کہ ہر مرتبہ دہرانے کے باوجود بھی یہ نیا محسوس ہوتا ہے- پیغام بڑاواضح ہےمگرپھربھی سمجھ ناآئے توتحریری کمزوری پرذمہ داری ڈال دیجیےگا. اپنی کوتاہی ہرگز نہ سمجھیےگا، ہماری حسین روایت یہی ہے کہ غلطی ہمیشہ دوسروں کی ہوتی ہے-

6 مارچ، 2014

امیر المومنین کی چوکیداری کے دوران پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے خلافت کے زمانہ میں بسا اوقات رات کو چوکیدار کے طور پر شہر کی حفاظت بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی حالت میں ایک میدان میں گذر ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ ایک خیمہ لگا ہوا ہے جو پہلے وہاں نہیں دیکھا تھا۔ اس کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک صاحب وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور خیمہ سے کچھ کراہنے کی آواز آرہی ہے۔ آپ سلام کر کے ان صاحب کے پاس بیٹھ گئے اور دریافت کیا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا ایک مسافر ہوں جنگل کا رہنے والا ہوں۔ امیر المومنین کے سامنے کچھ اپنی ضرروت پیش کر کے مدد چاہنے کے واسطے آیا ہوں۔

آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ خیمہ میں سے آواز کیسی آرہی ہے۔ ان صاحب نے کہا میاں جائو اپنا کام کرو۔ آپ نے اصرار فرمایا کہ نہیں بتادو کچھ تکلیف کی آواز ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ میری بیوی ہے اور بچے کی ولادت کا وقت قریب ہے، آپ نے دریافت فرمایا کہ کوئی دوسری عورت بھی پاس ہے۔ اس نے کہا کوئی نہیں۔ آپ وہاں سے اٹھے، اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی بیوی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ایک بڑے ثواب کی چیز مقدر سے تمہارے لئے آئی ہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا ہے آپ نے سارا واقعہ بتایا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا ہاں ہاں تمہاری صلاح ہو تو میں تیار ہوں۔

حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ ولادت کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہو لے لو اور ایک ہانڈی اور کچھ گھی اور دانے وغیرہ بھی ساتھ لے لو، وہ لے کر چلیں۔ حضرت عمر رضی الله عنہ خود پیچھے پیچھے ہو لیے وہاں پہنچ کر حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا تو خیمہ میں چلی گئیں اور آپ نے آگ جلا کر اس ہانڈی میں دانے ابالے، گھی ڈالا اتنے میں ولادت سے فراغت ہوگئی۔ اندر سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے آواز دے کر عرض کیا۔ امیر المومنین! اپنے دوست کو لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دیجئے۔

امیر المومنین کا لفظ جب ان صاحب کے کان میں پڑا تو وہ بڑے گھبرائے۔ آپ رضی الله عنہ نے فرمایا گھبرانے کی بات نہیں۔ وہ ہانڈی خیمہ کے پاس رکھ دی اور اپنی بیوی سے کہا کہ اس عورت کو بھی کچھ کھلا دیں۔ انہوں نے تھوڑی دیر بعد بانڈی باہر دے دی۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے اس بدو سے کہا کہ لو تم بھی کھائو۔ رات بھر تمہاری جاگنے میں گذر گئی۔ اس کے بعد اہلیہ کو ساتھ لے کر گھر تشریف لے آئے اور ان صاحب سے فرما دیا کہ کل تمہارے لئے انتظام کر دیا جائے گا۔

(حیات الصحابہ)




5 مارچ، 2014

کبھی نہ بھولنے والی کامیابی

رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ہر طرف اپنے سائے پھیلائے ہوئے تھے۔ ایسے میں ایک شخص قلعے کی دیوار سے رسا لٹکائے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جس قدر اپنی منزل کے قریب آرہا تھا، اسی قدر طرح طرح کے اندیشے اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔
"کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعے والے مجھے دیکھ لیں اور تیر مار کر راستے ہی میں میرا قصہ تمام کر دیں۔۔۔۔ کہیں نیچے اترتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میرے خون سے رنگین نہ ہو جائیں۔"

یہ تھے وہ خدشات جو اس کے دل و دماغ میں شدت سے گونج رہے تھے۔ پھر جوں ہی اس نے زمین پر قدم رکھا مجاہدین نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کا یہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا کہ مسلمان مجاہد رات کے اندھیرے میں قلعے سے بے خبر ہوں گے۔ اترنے والے نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اسے لشکر کے سپہ سالار کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وہ سپہ سالار کون تھے؟ وہ اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مجاہدین کی مٹھی بھر فوج کے ساتھ ملک شام کے دارالسلطنت دمشق کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ دن پر دن گزرتے جا رہے تھے مگر قلعہ تھا کہ کسی طور فتح ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ مجاہدین کو ایک دو دن کے آرام کا وقفہ دے کر وہ یا تو قلعے کے دروازے توڑنے کی کوشش کریں گے یا اس کی مضبوط دیواروں میں سرنگ لگانے کی ترکیب آزمائیں گے۔ انھیں یہ بھی یقین تھا کہ اللہ کی غیبی مدد ضرور آئے گی۔

اب یہ غیبی مدد آ پہنچی تھی! دمشق کے قلعے سے نیچے اترنے والے نوجوان نے مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی یہ خواہش فوراً پوری کر دی گئی۔ اس نے دعوی کیا کہ وہ مجاہدین کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہے۔ اس کے مطابق کل رات رومیوں پر حملے کا بہترین موقع ہے۔ ان کے مذہبی رہنما "بطریق" کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور پورا دمشق جشن منا رہا ہے۔ اس جشن میں فوج سمیت سب شراب پئیں گے اور یہی ان پر فیصلہ کن وار کرنے کا موقع ہو گا۔ اگلی رات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے۔ انھوں نے نہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور دوسرے ماتحت سالاروں کو اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا تھا اور نہ ہی وہ کوئی زیادہ فوج اپنے ہمراہ لے جا رہے تھے۔ وہ یہ کام انتہائی رازداری سے کرنا چاہتے تھے۔ صرف ایک سو مجاہد جنگجوؤں کو قلعے پر شب خون مارنے کے لیے منتخب کیا گیا۔

سب سے پہلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، پھرمسلمان ہونے والا عیسائی نوجوان یونس بن مرقس، پھر قعقاع اور آخر میں سو مجاہد کمندوں کے ذریعے سے مشرقی دروازے کی طرف سے قلعے کے اندر داخل ہوگئے۔ انتہائی خطرے کا مرحلہ قریب آ چکا تھا۔ جوں ہی وہ دیوار سے اترے انھیں رومی فوجیوں کی باتیں سنائی دیں۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے کہنے پر یونس بن مرقس نے رومی زبان میں بارعب لہجے کے ساتھ ان رومی فوجیوں کو کہا:
"آگے چلو!" رومی پہرے دار سمجھے کہ یہ حکم ان کے کسی افسر نے دیا ہے۔ وہ دروازے پر اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھتے گئے۔ اتنے میں مجاہد تیار ہو چکے تھے۔ انھوں نے پہرے داروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور آناً فاناً ان کا قصہ تمام کر دیا۔ راہ میں آنے والے ہر رومی پہرے دار سے یہی سلوک کیا گیا اور آخر کار بہت سی زنجیروں اور بھاری بھرکم تالوں سے بند دروازہ کھول دیا گیا۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا اپنا دستہ اس کے لیے پہلے سے تیار کھڑا تھا۔ وہ قلعے میں داخل ہوگیا اور رومی فوج کے دستوں کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بہادری کے بے مثال جوہر دکھاتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ رومی دستے بھی اسلامی سپاہیوں کے آگے ڈٹ گئے مگر خالد رضی اللہ عنہ کا دستہ ان پر آہستہ آہستہ غالب آتا جا رہا تھا۔ غروب آفتاب تک مسلمان اس جنگ کو تقریباً جیت چکے تھے۔ مسلمان سپاہی اب آگے بڑھے تو حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ اب ان کے سامنے کوئی رومی سپاہی نہیں آ رہا تھا۔ انھوں نے اسے دشمن کی چال سمجھا اور پھونک پھونک کر قدم بڑھانے لگے۔ جب وہ مرکزی گرجے کے پاس پہنچے تو وہاں سے اس کہانی کے ایک نئے موڑ کا آغاز ہوا۔

خالد رضی اللہ عنہ اپنے دستے کے ساتھ گرجے کی طرف آ نکلے تو سامنے ایک حیرت انگیز منظر تھا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نہایت پر امن انداز میں سامنے سے آرہے تھے۔ ان سب کی تلواریں نیام میں تھیں اور رومی سپہ سالار "توما" اور اس کے خاص آدمی ان کے ساتھ تھے۔

"اے پروردگار! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟" خالد رضی اللہ عنہ کے خیالات اس وقت یقینا" یہی ہوں گے۔ دونوں نامور سپہ سالار خاصی دیر تک ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھتے رہے۔ آخر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سکوت توڑا اور بولے:

"ابوسلیمان! (خالد رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا تم اللہ کا شکر ادا نہیں کرو گے کہ اس کی ذات نے یہ شہر ہمیں بغیر لڑے عنایت کر دیا ہے؟"

خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: "کس صلح کی بات کرتے ہیں، ابو عبیدہ؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ میں نے لڑ کر یہ شہر حاصل کیا ہے۔ اللہ کی قسم! میں خود شہر میں داخل ہوا ہوں۔ میں نے تلوار چلائی ہے اور میرے ساتھیوں پر تلوار چلی ہے، وہ شہید ہوئے ہیں۔ میں رومیوں کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ وہ خیر و عافیت سے شہر سے چلے جائیں۔ ان کا خزانہ اور مال ہمارا مال غنیمت ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ صلح کس نے اور کیوں کی ہے؟"

ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "ابو سلیمان! میں اور میرے دستے پرامن طریقے سے قلعے میں داخل ہوئے ہیں۔ اگر آپ میرے فیصلے کو رد کرنا چاہیں تو کر دیں لیکن میں دشمن سے معافی کا وعدہ کر چکا ہوں۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو رومی کہیں گے کہ مسلمان اپنے وعدوں کی پاس داری نہیں کرتے۔ اس کی زد اسلام ہی پر پڑے گی۔"

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ننگی تلوار سے ابھی بھی خون ٹپک رہا تھا۔ ان کے ساتھیوں کا بھی یہی حال تھا۔ ان میں کئی زخمی بھی تھے۔ انھوں نے پورا دن لڑ کر فتح حاصل کی تھی۔ مگر یہ صلح کیوں اور کیسے؟ اس بات کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔

پھر خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ساری سازش سمجھ گئے۔ وہ یہ کہ خالد رضی اللہ عنہ کے حملے کی خبر رومیوں کو بر وقت ہوگئی اور وہ یہ جان گئے کہ ان کی مدہوش اور شراب کے نشے میں دھت فوج مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اسی لیے انھوں نے فوراً لشکر کے دوسرے سالار ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ چونکہ خالد رضی اللہ عنہ کے شب خون سے ناواقف تھے اور قلعے کے طویل محاصرے سے پریشان بھی تھے، اس لیے انھوں نے صلح کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور رومیوں کو امان دے دی۔

یہ احساس ہوتے ہی چند مجاہد توما اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے لپکے۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہوتے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ لپک کر ان کے بیچ میں آ گئے اور فرمایا:
"خبردار! میں ان کی جان بخشی کا عہد کر چکا ہوں۔"
خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے جاں باز ساتھی غصے سے بپھر رہے تھے۔ وہ کسی طور رومیوں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے اس قلعے کو نہایت خطرناک مراحل سے گزر کر حاصل کیا تھا۔ اب وہ اپنی کامیابی کو یوں سازش کی نظر ہوتا دیکھ کر صبر نہیں کر پا رہے تھے۔

اب ایک طرف عہد کی پاس داری کا معاملہ تھا اور دوسری طرف مجاہدوں کی قربانیاں! ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اگرچہ لشکر کے سالار اعلی نہیں تھے، ان کے عہد کی پابندی خالد رضی اللہ عنہ کے لیے ضروری نہیں تھی مگر وہ مسلمان تو تھے اور وہ بھی نہایت ممتاز!
آخر جوش ہارگیا، غصے کو ناکامی ہوئی، عہد کی پاس داری ہوئی اور شیطان کو شکست!
خالد رضی اللہ عنہ نے بطور سالار اعلی تاریخی فیصلہ کیا۔۔۔۔ یہ فیصلہ تھا عہد کی پاس داری کا! وہ نہیں چاہتے تھے کہ اسلامی تاریخ پر عہد شکنی کا داغ لگے۔

پھر جب رومی اپنا مال و دولت، اپنی جانیں، سب کچھ بچا کے لے جا رہے تھے، تو خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی دل پر پتھر رکھ کر انھیں جاتا دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہی رومی اسی اسلحے اور اسی مال کے ساتھ کسی دوسری جگہ ان کے ساتھ جنگ لڑیں گے۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انھوں نے اسلام کے سچے اور بااصول مجاہدین ہونے کا انمٹ ثبوت دے دیا ہے، عہد کی پاس داری کی اسلامی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اور یہ ان کی نہایت عظیم کامیابی تھی۔۔۔۔ کبھی نہ بھولنے والی کامیابی!