ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

16 دسمبر، 2014

قبرِ اقبال سے آرہی تھی صدا


یہ تحریر دسمبرکے آخری دنوں میں لکھ رہاہوں وہ دسمبر جس کے آتے ہی زخم ہرے ہوجاتے ہیں ۔ انڈیاکی ننگی جارحیت نے مادرِ وطن کے دو ٹکڑے کردئیے۔ ایک بازو کاٹ کر رکھ دیا۔جسد ِملّت پرلگا ہوازخم اتنا گہراہے کہ قیامت تک نہ بھرسکے گا۔میں ٹین ایجر تھا جب میں نے اس سانحے پر بڑے معتبر اور باوقار لوگوں کو دیوانہ وار دیواروں سے ٹکریں مارتے دیکھا ۔ کیسے بھول جاوٴں کہ میں نے پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والے اپنے والد محترم کو دھاڑیں مار کرروتے دیکھا۔ محترمہ بشریٰ رحمن نے چند روز پہلے اپنے کالم میں اس دسمبر کاذکرکرتے ہوئے لکھا تھا ”یہ 16دسمبر1971ء کی شام تھی میں بچوں کو سینے سے لگاکر رو رہی تھی کیونکہ میرے بابا کی نگری لٹ گئی تھی، اتحاد کی نیّاڈوب گئی یقینِ محکم کی رسّی ٹوٹ گئی تھی۔۔۔کون تھا جو نہیں رویا۔۔۔بابائے قوم کی سسکیاں میں نے خودسنیں آشیانے کے تنکے بکھر جانے پر پوری قوم تڑپ اٹھی تھی۔۔۔۔“

کیایہ تاریخ نہیں ہے۔۔۔۔تاریخ درست کرنے کے شوقین بتائیں کہ وہ تاریخ کے ان اوراق کو نئی نسل سے کیوں چھپانا چاہتے ہیں۔کیا وہ چاہتے ہیں کہ قائد کے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے والے مجر موں کی شناخت نہ ہو۔ان کے چہرے ڈھانپ دئیے جائیں، ان کے قصیدے پڑھے جائیں اور اُن کی پیروی کیاجائے۔کیا یہ تاریخ کاانمٹ نقش نہیں ہے کیا زندہ قومیں ایسے نقوش نئی نسل سے چھپاتی ہیں؟

جب سیاستدانوں کی مفادپرستی ‘ جرنیلوں کی ہوسِ اقتدار اور دشمن کی فوجوں نے مل کر ارضِ پاکستان کا مشرقی بازوکاٹ دیا تواس کے چند مہینے بعد اس زخم خوردہ ملّت کے مفکّرِ اعظم اقبال کا یوم ولادت تھا۔ حسب ِروایت لاہور کی سب سے بڑی تقریب یونیورسٹی ہال میں منعقد ہوئی۔ ہال لاہور کی اشرافیہ، پروفیسرز، ڈاکٹرز،وکلاء ،علماء اورطلباء سے کھچا کھچ بھراہوا تھا۔ مجلسِ اقبال کے سیکرٹری آغا شورش کاشمیری نے معروف شاعر مشیر کاظمی کو نظم پڑھنے کی دعوت دی جنہوں نے مائیک پرآتے ہی بتایا کہ میں آج صبح علامہ اقبال کے مزارپرپھول چڑھانے گیا تھا وہیں سے آرہا ہوں۔نظم کے پہلے دو شعروں پرہی سامعین تڑپ اٹھے اوردھاڑیں مارکررونے لگے نظم کے چند شعرسن لیجئے :۔



پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آرہی تھی صدا
یہ وطن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
شہرِ ماتم تھا اقبال کا مقبرہ
تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی
رُوح ِقائد بھی سر کو جھکائے ہوئے
چاند تارے کے پر چم میں لپٹے ہوئے
چاند تارے کے لاشے بھی موجود تھے
سرنگوں تھا قبر پہ مینارِ وطن
کہہ رہاتھا کہ اے تاجدارِ وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر
کیسے قائم ہوا تھا حصارِ وطن

پوری نظم نہ شاعر سنا سکانہ سامعین سن سکے شاعر کی آواز آہوں اورسسکیوں میں دب کر رہ گئی اورتقریب ختم ہوگئی ۔۔۔۔۔۔
مگرملّت کے زخموں پرصرف آنسوؤں سے مرہم نہیں رکھا جاسکتا ،زندہ رہنے کا عزم اورولولہ رکھنے والی قومیں اپنے آنسوؤں کو خاک میں گُم نہیں ہونے دیتیں اور آنکھوں سے نکلنے والے موتیوں کی چمک میں اپنی منزل اور سمت تلاش کرلیتی ہیں۔ترآنکھیں تو ہوجاتی ہیں پرکیا لذّت اس رونے میں، جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا۔

نئے سال کی دعا: اے قادرِ مطلق! وہ افراد یا گروہ جن کی ڈوریاں بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں انہیں اہل ِوطن کے سامنے پوری طرح بے نقاب کردے اور پاکستان کے ریاستی امور میں ان کا ہرقسم کا کردار ختم کردے۔

تحریر: ذوالفقار احمد چیمہ 


video
 

8 دسمبر، 2014

بول


"بول"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
"بول" سے تو اچھا تھا
"بولی" نام رکھتے تُم
بولیاں لگاتے ہو
میڈیا کی منڈی میں
کھنکھناتے سِکوں پر
جھوٹ رقص کرتا ہے
کھوٹ کی تجارت ہے
زر زمیں کے بُھوکے سب
دو ٹکوں کی لالچ میں
نظریے بدلتے ہیں
اِس لیے گزارش ہے
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12 نومبر، 2014

اقبال کی اسلام سے والہانہ عقیدت


اقبال کی اسلام سے والہانہ عقیدت
........................................................
سب جانتے ہیں کہ اقبال نے وہی مغربی تعلیم حاصل کی تھی جو ہمارے نوجوان انگریزی یونیورسٹیوں میں حاصل کرتے ہیں۔ یہی تاریخ، یہی ادب، یہی اقتصادیات، یہی سیاسیات، یہی قانون اور یہی فلسفہ انہوں نے بھی پڑھا تھا اور ان فنون میں بھی وہ مبتدی نہ تھے بلکہ منتہی فارغ التحصیل تھے۔ خصوصا فلسفہ میں تو ان کو امامت کا مرتبہ حاصل تھا جس کا اعتراف موجودہ دور کے اکابر فلاسفہ تک کرچکے ہیں۔ جس شراب کے دو چار گھونٹ پی کر بہت سے لوگ بہکنے لگتے ہیں، یہ مرحوم اس کے سمندر پیے بیٹھا تھا۔ پھر مغرب اور اس کی تہذیب کو بھی اس نے محض ساحل پر سے نہیں دیکھا تھا جس طرح ہمارے ننانوے فیصد نوجوان دیکھتے ہیں بلکہ وہ اس دریا میں غوطہ لگا کر تہہ تک اتر چکا تھا اور ان سب مرحلوں سے گزرا تھا جن میں پہنچ کر ہماری قوم کے ہزاروں لوگ اپنے دین و ایمان، اپنے اصول، تہذیب و تمدن اور اپنے قومی اخلاق کے مبادی تک سے برگشتہ ہوجاتے ہیں حتٰی کہ اپنی قومی زبان تک بولنے کے قابل نہیں رہتے۔

لیکن اس کے باوجود اس شخص کا حال کیا تھا؟ مغربی تعلیم و تہذیب کے سمندر میں قدم رکھتے وقت وہ جتنا مسلمان تھا، اس کے منجدھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ مسلمان پایا گیا۔ اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہوچکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیں رہا۔ جو کچھ سوچتا تھا، قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا۔ جوکچھ دیکھتا تھا، قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا حقیقت اور قرآن اس کے نزدیک شے واحد تھے، اس شے واحد میں وہ اس طرح فنا ہوگیا تھا کہ اس دور کے علمائے دین میں بھی مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو فنائیت فی القرآن میں اس امامِ فلسفہ اور اس ایم، اے، پی ایچ ڈی بار ایٹ لاء سے لگا کھاتا ہو۔

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ آخری دور میں اقبال نے تمام کتابوں کو الگ کردیا تھا اور سوائے قرآن کے اور کوئی کتاب وہ اپنے سامنے نہ رکھتے تھے۔ سالہا سال تک علوم و فنون کے دفتروں میں غرق رہنے کے بعد جس نتیجہ میں پہنچے تھے ، وہ یہ تھا کہ اصلی علم قرآن ہے، اور یہ جس کے ہاتھ آجائے وہ دنیا کی تمام کتابوں سے بے نیاز ہے۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے ان کے پاس فلسفہ کے چند اہم سوالات بھیجے اور ان کا جواب مانگا۔ ان کے قریب رہنے والے لوگ متوقع تھے کہ اب علامہ اپنی لائبریری کی الماری کھلوائیں گے اور بڑی بڑی کتابیں نکلواکر ان مسائل کا حل تلاش کریں گے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لائبریری کی الماریاں مقفل کی مقفل رہیں، اور وہ صرف قرآن ہاتھ میں لے کر جواب لکھوانے بیٹھ گئے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے ساتھ ان کی عقیدت کا حال اکثر لوگوں کو معلوم ہے مگر یہ شاید کسی کو نہیں معلوم کہ انہوں نے اپنے سارے تفلسف اور اپنی عقلیت کو رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں ایک متاعِ حقیر کی طرح نذر کرکے رکھ دیا تھا۔ حدیث کی جن باتوں پر نئے تعلیم یافتہ نہیں پرانے مولوی تک کان کھڑے کرتے ہیں اور پہلو بدل بدل کر تاویلیں کرنے لگتے ہیں، یہ ڈاکٹر آف فلاسفی ان کے ٹھیٹھ لفظی مفہوم پر ایمان رکھتا تھا اور ایسی کوئی حدیث سُن کر ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے دل میں شک کا گزر نہ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک صاحب نے ان کے سامنے بڑے اچنبھے کے انداز میں اس حدیث کا ذکر کیا جس میں بیان ہوا ہے کہ “رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصحابِ ثلاثہ کے ساتھ کوہِ احد پر تشریف رکھتے تھے۔ اتنے میں احد لرزنے لگا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی (ص) ایک صدیق (رض) اور دو شہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس پر پہاڑ ساکن ہوگیا۔“ اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا کہ اس میں اچنبھے کی کونسی بات ہے؟ میں اس کو استعارہ مجاز نہیں بالکل ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس کے لیے کسی تاویل کی حاجت نہیں۔ اگر تم آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے آکر مادے کے بڑے سے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں۔ مجازی طور پر نہیں بلکہ واقعی لرز اٹھتے ہیں۔

اسلامی شریعت کے جن احکام کو بہت سے روشن خیال حضرات فرسودہ اور بوسیدہ قوانین سمجھتے ہیں اور جن پر اعتقاد رکھنا ان کے نزدیک ایسی تاریک خیالی ہے کہ مہذب سوسائٹی میں اس کی تائید کرنا ایک تعلیم یافتہ آدمی کے لیے ڈوب مرنے سے زیادہ بدتر ہے۔ اقبال نہ صرف ان کو مانتا اور ان پر عمل کرتا تھا بلکہ برملا ان کی حمایت کرتا تھا، اور اس کو کسی کے سامنے ان کی تائید کرنے میں باک نہ تھا۔ اس کی ایک معمولی مثال سن لیجئے۔ ایک مرتبہ حکومتِ ہند نے ان کو جنوبی افریقہ میں اپنا ایجنٹ بنا کر بھیجنا چاہا اور یہ عہدہ ان کے سامنے باقاعدہ پیش کیا مگر شرط یہ تھی کہ وہ اپنی بیوی کو پردہ نہ کرائیں گے اور سرکاری تقریبات میں لیڈی اقبال کو ساتھ لیکر شریک ہوا کریں گے۔ اقبال نے اس شرط کے ساتھ یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور خود لارڈ ولنگڈن سے کہا کہ میں بے شک ایک گنہگار آدمی ہوں، احکام اسلام کی پابندی میں بہت کوتاہیاں مجھ سے ہوتی ہیں۔ مگر اتنی ذلت اختیار نہیں کرسکتا کہ محض آپ کا ایک عہدہ حاصل کرنے کے لیے شریعت کے ایک حکم کو توڑدوں۔

قرآن مجید کی تلاوت سے ان کو خاصا شغف تھا اور صبح کے وقت بڑی خوش الحانی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے مگر آخیر زمانہ میں طبیعت کی رقت کا یہ حال ہوگیا تھا کہ تلاوت کے دوران میں روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور مسلسل پڑھ ہی نہ سکتے تھے۔ نماز بھی بڑے خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے مگر چھپ کر۔ ظاہر میں یہی اعلان تھا کہ نرا گفتار کا غازی ہوں۔

ان کی سادہ زندگی اور فقیرانہ طبیعت کے حالات ان کی وفات ہی کے بعد لوگوں میں شائع ہوئے۔ ورنہ عام خیال یہی تھا کہ جیسے اور“سر صاحبان“ ہوتے ہیں، ویسے ہی وہ بھی ہوں گے، اور اسی بنا پر بہت سے لوگوں نے یہاں تک بلا تحقیق لکھ ڈالا تھا کہ ان کی بارگاہِ عالی تک رسائی کہاں ہوتی ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص حقیقت میں اس سے بھی زیادہ فقیر منش تھا جتنا اس کی وفات کے بعد لوگوں نے اخبارات میں بیان کیا ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ سن لیجئے، جس سے اس بیرسٹر کی طبیعت کا آپ اندازہ کرسکیں گے۔ پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورہ کیلئے اقبال اور سر فضل حسین مرحوم اور ایک دو اور مشہور قانون دان اصحاب کو اپنے ہاں بلایا اور اپنی شاندار کوٹھی میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔ رات کو جس وقت اقبال اپنے کمرے میں آرام کرنے کیلئے گئے تو ہر طرف عیش و تنعم کے سامان دیکھ کر اور اپنے نیچے نہایت نرم اور قیمتی بستر پاکر معا ان کے دل میں خیال آیا کہ جس رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے نصیب ہوئے ہیں انہوں نے بورئیے پر سو سو کر زندگی گزاری تھی۔ یہ خیال آنا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی۔ اس بستر پر لیٹنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔ اٹھے اور برابر غسل خانے میں جاکر ایک کرسی پر بیٹھ گئے اور مسلسل رونا شروع کردیا۔ جب ذرا دل کو قرار آیا تو اپنے ملازم کو بلا کر اپنا بستر کھلوایا اور ایک چارپائی اس غسل خانہ میں بچھوائی اور جب تک وہاں مقیم رہے، غسل خانہ ہی میں سوتے رہے۔ یہ وفات سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے، جب باہر کی دنیا ان کو سوٹ بوٹ میں دیکھا کرتی تھی۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس سوٹ کے اندر جو شخص چھپا ہوا ہے اس کی اصلی شخصیت کیا ہے؟ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھا جو سیاسی اغراض کے لیے سادگی و فقر کا اشتہار دیتے ہیں اور سوشلسٹ بن کر غریبوں کی ہمدردی کا دم بھرتے ہیں مگر پبلک کی نگاہوں سے ہٹ کر ان کی تمام زندگی رئیسانہ اور عیش پسندانہ ہے۔  (سید ابوالاعلیٰ مودودی)

28 اکتوبر، 2014

افسوس!! یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے

جنگل کے بادشاہ اور رعایا کی ایک کہانی
 

tags
 یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے
شیر اور گدھوں کی کہانی 
story of lion and donkeys, pakistan, urdu,

22 اکتوبر، 2014

21 اکتوبر، 2014

دریوزۂ خلافت (خلافت کی بھیک)


 "دریوزۂ خلافت"

اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی

نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی

خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی

"مرا از شکستن چناں عار ناید
کہ از دیگراں خواستن مومیائی"

کلام بانگ -- علامہ محمد اقبال
----------------------------

مشکل الفاظ کے معانی
 

دریوزۂ خلافت -- خلافت کی بھیک
خلافت-- مسلمانوں کا طرز حکومت، جس کا سربراہ خلیفہ کہلاتا ہے
احکام حق-- الله کے احکام
آگہی -- واقفیت ، باخبری
گدائی-- بھیک مانگنا
لہو سے خریدنا- - یعنی باقاعدہ جہاد کر کے حاصل کرنا
ننگ- - ذلت کا باعث ، رسوائی
پادشائی -- بادشاہت، حکمرانی، حکومت


** آخری شعر فارسی میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ

"مجھے ہڈی ٹوٹنے پر اتنی شرم نہیں آتی (اتنی تکلیف نہیں ہوتی) جتنی دوسروں(یا گھٹیا لوگوں) سے مومیائی مانگنے پر آتی ہے"

(مومیائی پہاڑ سے نکلی ہوئی ایک سیاہ رنگ دواکو کہتے ہیں جو اکثر سخت چوٹ یا ہڈی چٹخ جانے کے موقع پر پلائی جاتی ہے)


20 اکتوبر، 2014

دو میدانِ جنگ

اوریا مقبول جان
  تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے خاتمے سے پہلے ایک انتہائی خونریز جنگ برپا ہو گی اور اس کے بعد اللہ ایک ایسی حکومت قائم کر دے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گی۔ تینوں اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں فتح کا سہرا کسی مسیحا کے ماتھے پر سجے گا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کے لوٹ آنے پر ذرا مختلف انداز میں یقین رکھتے ہیں جب کہ مسلمانوں کے ہاں ایک امیر، خلیفہ یا رہنما یا امام کی صورت میں مہدی کا ظہور ہے جو مسیحِ دّجال سے جنگ کرے گا۔ دّجال کا مطلب جھوٹا ہوتا ہے اور مسلمان احادیث کی روشنی میں یہ تصور بھی رکھتے ہیں کہ اس جھوٹے مسیح یعنی دّجال سے آخری جنگ کے لیے اللہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ دنیا میں نازل فرمائے گا۔

جب کہ یہودیوں کے مسیحا کا تصور ان کی روایات کے مطابق ایک ایسے شخص کا ہے جسے اللہ دوبارہ اس دنیا میں یہودی عالمی سلطنت کے قیام کے لیے بھیجے گا۔ تینوں مذاہب ایک خوفناک جنگ کی تیاریوں میں مدتوں سے مصروف ہیں۔ لیکن ان میں دو مذاہب عیسایت اور یہودیت کے نزدیک میدانِ جنگ، بیت المقدس، یروشلم یا بیت اللحم اور اس کے گرد و نواح کے علاقے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک میدانِ جنگ دو ہیں۔ ایک یروشلم کے اردگرد شام، لبنان، اردن اور عراق جب کہ دوسرا میدانِ جنگ ہندوستان ہے۔ یہ دونوں ایک ہی وقت میں ظہور پذیر ہو گے۔ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا ’’تم میں سے ایک لشکر ضرور ہند پر حملہ کرے گا۔

جس کو اللہ فتح دے گا۔ یہ لشکر ہند کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائے گا۔ اللہ اس لشکر کے گناہ معاف کر دے گا۔ پھر جب یہ لوگ واپس لوٹیں گے تو شام میں عیسیٰ ابنِ مریم کو پائیں گے۔ (الفتن۔ نعیم بن حماد)۔ یہ حدیث دونوں جنگوں کا ایک ہی زمانے اور وقت میں ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ ان دونوں جنگوں کے میدان میں لڑنے والوں کے لیے بشارتیں بھی کتبِ احادیث میں پائی جاتی ہیں۔ ’’حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت کی دو جماعتوں کو اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ فرمایا ہے‘‘ ایک وہ جماعت جو ہندوستان سے جنگ کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ ابنِ مریم کے ساتھ ہو گی۔ (نسائی۔ کتاب الجہاد، مسندِ احمد)۔

اس مقدس جنگ کا سب سے پہلے آغاز پوپ اربن دوم نے25 نومبر1095ء کو کونسل آف کلیر مونٹ میں اپنی تقریر سے کیا۔ اس نے انتہائی جو شیلے انداز میں اعلان کیا کہ مسلمان ایک وحشی قوم ہے اور ان کو قتل کرنا ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے۔ یروشلم کو کافروں سے آزاد کرانا اور ایشائے کوچک کو اس ’’گند‘‘ سے صاف کرنا ہم پر فرض ہے۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ یسوع کا مزار مسلمانوں کے قبضے میں ہے‘‘۔ اس کے صرف چھ ماہ بعد1096ء کے موسمِ بہار میں ساٹھ ہزار فوجیوں کے پانچ لشکر مسلمانوں سے جنگ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایسے لگتا تھا پورا یورپ مسلمانوں سے جنگ کے لیے نکل کھڑا ہوا ہے۔

اس کے بعد کی کئی صدیاں کشت و خون کی صدیاں ہیں۔ لیکن پوپ اربن کی تقریر کا ایک اور حصہ بہت عجیب ہے۔ اس نے یورپ کے تمام عیسائیوں کو پکارتے ہوئے کہا کہ ’’اگر باہر کا کوئی شخص تمہارے کسی رشتے دار کو قتل کر دے تو کیا تم اس کا انتقام نہیں لو گے۔ کیا تم اپنے خداوند، اپنے مصلوب یسوع کا انتقام نہیں لو گے‘‘۔ اس کی نیت یہودیوں پر حملہ کرنے کی نہیں تھی، لیکن اس سے پہلے کہ یورپ کے مسلمانوں کے لیے لشکر ترتیب دیتے وہ اپنے اندر بسنے والے یہودیوں پر ٹوٹ پڑے۔ صلیبی جنگجوؤں نے یہودیوں کا قتلِ عام کیا، سینا گو گوں کو مسمار کیا، تورات کے نسخوں کو جلایا اور انھیں ڈرایا کہ یا تو عیسایت قبول کر لو،، یا پھر موت قبول کر لو۔ ایسے میں پوپ کے کہنے پر بیشتر بشپوں نے یہودیوں کو گرجا گھروں میں پناہ دی۔ لیکن یہ حربے کچھ دیر تک ہی کامیاب رہے، پھر صلیبی جنگوں کے خاتمے پر پوپ نے سولہویں صدی میں یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کی حمایت کر دی۔

اس کے بعد کی تین چار صدیاں ایسی گزریں کہ یہودی کبھی ایک شہر سے نکالے جاتے اور کبھی دوسرے سے۔ ہر عیسائی اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسپین میں ازابیلا اور فرڈینیڈ کی جنگ کا حوالہ دیتا۔ وہ اس معرکے کو عیسائی غلبے کی علامت سمجھتے، جس کے نتیجے میں اسپین کو مسلمانوں اور یہودیوں، دونوں سے پاک کر دیا گیا تھا۔ لیکن یورپ میں چرچ کے اقتدار نے جو مظالم عام آدمی پر ڈھائے، اور جس کے طرح ان کے مذہبی رہنماؤں نے اپنے ہی لوگوں کو کافر کہہ کر زندہ آگ میں جلایا، اس سے ایک ایسی نفرت پھوٹی جس نے مسیحی چرچ کے اقتدار کو زمین بوس کر دیا۔ انقلاب فرانس کے بعد ان کا اقتدار گرجا گھروں تک محدود ہو گیا۔ ایسے میں یہودی اپنی اس مقدس جنگ کو یاد کرنے لگے جو انھیں ارضِ مقدسہ واپس دلائے گی اور وہاں ان کی حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسی عالمی حکومت قائم ہو گی۔ صہیونیت ایک نظریہ بن کر ابھری اور اس نے جلد ہی پوری یہودی قوم کو جذباتی طور پر اپنا ہمنوا بنا لیا۔

باقی اقوام کو یہودی دانشوروں اور مفکروں نے سیکولر نظریات کی بنیاد پر رنگ، نسل، زبان اور علاقے میں ایسا الجھایا کہ وہ جو کبھی مسلمانوں اور یہودیوں کو قتل کر کے ان سے اس دنیا کو پاک صاف کرنے کا دعویٰ لے کر اٹھے تھے آپس میں اس طرح لڑے کہ جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوم میں کروڑوں لوگوں کا خون بہا کر تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ اس دوران معیشت اور میڈیا پر قابض یہودیوں کو ارض مقدس کی جنگ یاد آئی اور وہ آہستہ آہستہ وہاں جا کر آباد ہونے لگے: ان کا یورپ کے مسیحیوں سے ایسا گٹھ جوڑ ہوا کہ سب نے مل کر انھیں ایک ریاست تحفے میں دے دی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر ایسی لکیریں بھی کھنچیں کہ وہ 51 ریاستوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ ان ریاستوں کی سرحدوں کو محترم اور مقدس بنا دیا گیا تا کہ یہ کبھی ایک ملت کی صورت اکٹھے نہ ہو سکیں۔

تینوں مذاہب آج بھی اس آخری جنگ کا انتظار کر رہے ہیں اور تیاری بھی۔ تقریباً 919 سال قبل جس آخری جنگ کی طرف پیش قدمی کا اعلان پوپ اربن نے کیا تھا اور 118 سال قبل جس عالمی ریاست کے قیام کے لیے ہزال نے دنیا بھر کے یہودیوں کو اکٹھا کر کے مشہور عالم پروٹوکولز تحریر کیے تھے، اب یوں لگتا ہے اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دوران مسلمانوں کے مرکز کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جنگ عظیم میں مسلمانوں کا خیمہ شام کے شہروں میں سب سے اچھے شہر دمشق کے قریب ’’الغوطہ‘‘ کے مقام پر ہو گا (سننن ابوداؤد، مستدرک)۔ اس ہیڈ کوارٹر پر فاتح مسلمان خراسان سے آئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب کالے جھنڈے مشرق سے نکلیں گے تو ان کو کوئی چیز نہیں روک سکے گی حتیٰ کہ وہ ایلیا (بیت المقدس میں نصب کر دیے جائے گے (مسند احمد)۔ یہ جنگ تو برپا ہو چکی، اور اس کے لیے دنیا بھر سے لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں۔

لیکن سب حیران ہیں کہ ایسے وقت میں جب افغانستان اور پاکستان کے وہ علاقے جو خراسان کہلاتے ہیں، وہاں سے لوگ اس آخری جنگ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ادھر پورا یورپ اور امریکا ان کے خلاف متحد ہو رہا ہے اور بقول بارک اوباما، اس جنگ میں فتح بہت مشکل ہے، ہو سکتا ہے ہمیں تیس سال لگ جائیں۔ ایسے ماحول میں بھارت پاکستان کی سرحدوں پر حملہ آور کیوں ہے۔ یہ ہے وہ دوسرا میدانِ جنگ جس کی ہادی برحق صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی ہے۔ نریندر مودی کی اٹھان بالکل ویسی ہی ہے جیسے جرمنی میں ہٹلر کی ہوئی تھی۔ جمہوری طور پر منتخب، نسلی تعصب کا علمبردار اور پڑوسی اقوام کو ختم کرنے کا عزم لیے ہوئے۔ ہٹلر کے اس جنون کی قیمت جرمنی کو بھگتنا پڑی تھی اور نریندر مودی کے جنون کی قیمت بھارت بھگتے گا۔ اس لیے کہ میرا ایمان ہے اور میرے ایمان کی وجہ ہے کہ اس جنگ میں فتح کی بشارت میرے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے۔ مجھے حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کی تمام اقوام ان سے لڑنے کے لیے پر تول رہی ہیں، ان پر حملہ آور بھی ہیں، اور یہ سب وہ اپنی الہامی کتابوں کی رواتیوں پر یقین کر کے ایک ہزار سال سے کر رہی ہیں۔ ایسے میں ہم عزت کی زندگی نہیں ذلت کی موت چاہتے ہیں۔ 


 

1 اکتوبر، 2014

مولوی کی سیلفی کرکٹ

 مولوی کے استاد ہونے میں کیا شبہ۔ پیر کی شام دھرنے سے باہرآیا اور کرکٹ کھیلی۔ یہ سولو کرکٹ تھی۔ جیسے ادب میں مونو لاگ ہوتا ہے‘ ویسے ہی مولوی نے سولو کرکٹ متعارف کرا دی ہے‘ اسے سیلفی کرکٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ خود ہی باؤلنگ کی‘ خود ہی بیٹنگ کی اورچھوٹتے ہی چھکے لگائے۔ پہلی بال میں آؤٹ ہوگیا لیکن امپائر بھی خود ہی تھا اس لئے انگلی کھڑی نہیں کی بلکہ خود کو ناٹ آؤٹ قرار دے کر پھر سے باؤلنگ اور بیٹنگ شروع کر دی ۔ پتہ نہیں‘ ’’سیلفی‘‘ میں مزہ نہیں آیا ورنہ سنچری کرنا کیا مشکل تھا۔ ہو سکتا ہے‘ کنٹینر سے باہر کی ’’خوشبو دار فضا‘‘ نے مولوی کی ناک کھٹی کر دی ہو (محاورہ دانت کا ہے لیکن ناک حسب حال بلکہ حسب موقع ہے )اور مزید چھکّے لگانے کا دم نہ رہا ہو۔

سیلفی کرکٹ اچھا شغل ہے‘ بعض لوگ توقع کر رہے ہیں کہ دھرنوں کی شاندار ناکامی کے بعد مولوی کا یہی شغل ہمہ وقتی ہو جائے گا ۔یہ مولوی بھی خدا نے کیا شے بنائی ہے‘ سبحان اس کی قدرت ۔ کتابیں اس کے شاگرد لکھتے ہیں‘ انہیں پیسے دے کر اپنے نام سے چھپوا لیتا ہے لیکن کرکٹ میں دوسروں پر انحصار نہیں کرتا۔بطور باؤلر کسی دوسرے کو بیٹسمین اور بطور بیٹسمین کسی دوسرے کو باؤلر نہیں مانتا۔ دونوں کی ڈیوٹی اکیلا دیتا ہے۔ پتہ نہیں‘ دھرنوں کے نتیجے کے لئے کسی اور امپائر پر انحصار کیوں تھا۔ اس امپائر کے انتظار میں ڈیڑھ مہینہ گنوا دیا اور سبق یہ سیکھا کہ باؤلر بھی خود‘ بیٹسمین بھی خود‘ امپائر بھی خود ہونا چاہئے۔ یہ سبق پہلے ہی سیکھ لیا ہوتا تو شاید دھرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔


امپائر کا انتظار رنگیلے نیازی کو بھی تھا۔ انتظار کیا‘ دونوں کو یقین تھا کہ امپائرپاس ہی کہیں دھرنوں کی اوٹ میں کھڑا ہے اسی لئے تو رنگیلا نیازی ہر رات یہ اعلان کرتا تھا کہ انگلی کل کھڑی ہوگی اور مولوی ہر دوسرے دن انقلاب کی نئی حتمی تاریخ دیتا تھا۔ ایک بار تو ’’رانگ سگنل‘‘ ملنے کے بعد پارلیمنٹ پر ہلّہ بول دیا اور فیصلہ سنا دیا کہ اب کوئی اس کے اندر جا سکتا ہے نہ باہر آسکتا ہے۔ پھر صحیح سگنل ملنے پر حکم بدل دیااور ارکان پارلیمنٹ کو آنے جانے کی اجازت دیدی۔ جو لوگ کہتے ہیں پارلیمنٹ طاقتور ہے‘ انہیں ماننا چاہئے کہ پارلیمنٹ کی طاقت مولوی کی محتاج ہے۔ خود انصاف کیجئے‘ مولوی پارلیمنٹ میں آنے جانے کی اجازت نہ دیتا تو پارلیمنٹ اب تک سیلفی کرکٹ کا گراؤنڈ نہ بن چکی ہوتی۔ 


عبداللہ طارق سہیل  

24 ستمبر، 2014

لمحہ فکریہ


 پہلے قرآن سامنے ٹیبل پر رکھا ہوتا تھا، کوئی نہ کوئی پڑھ لیتا تھا ۔
پھر ایسا ہوا کہ ٹیبل کے پاس ٹی وی رکھ دیا ۔۔۔۔
سب ڈرامے فلمیں دیکھنے لگے تو قران پاک کی بے حرمتی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایسا کیا کہ قران پاک کو بہت اونچا سٹینڈ لگا کر وہاں رکھ دیا ۔۔۔۔
اور سرکار !! پتا ہے اب قران بہت اونچی جگہ پر ہے، کسی کا ہاتھ بھی نہیں جاتا وہاں تک ۔۔۔۔۔
خیر سے ہم نے بےحرمتی سے بچا لیا




16 ستمبر، 2014

تقدیر کو تدبیر کے شاطر نے کیا مات


 اس فقرے کی گونج موجودہ تاریخ میں بار بار سنائی دی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ علامہ اقبال نے بغیر کسی تجربے یا چوٹ کھائے ہوئے اپنے وجدان اور قرآنی علم کی روشنی میں اس دور کی جمہوریت کے کریہہ چہرے سے نقاب الٹا‘ اس آزادی کی نیلم پری کو دیو استبداد کہا جب کہ دنیا نئی نئی اس کے سحر میں گرفتار ہوئی تھی۔
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
اقبال کی عظیم اور معرکۃ الٓاراء نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں ابلیس اور اس کے مشیروں کی گفتگو میں اس نظام کے غلیظ چہرے کو بے نقاب کیا گیا ہے وہ مغربی جمہوریت ہے جسے انسانی حقوق‘ آزادی اظہار اور عوام کی حکمرانی جیسے خوبصورت تصورات کا لبادہ اوڑھایا گیا ہے۔
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
اقبال کی ایک اور نظم ’’ابلیس کی عرضداشت‘‘ میں ابلیس اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ اب دنیا میں انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے میری ضرورت باقی نہیں رہی‘ اس لیے کہ
جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک
گمراہی کا جو پرچم ازل سے ابلیس نے اٹھا رکھا تھا‘ اقبال کے نزدیک اب اس کے پرچم بردار جمہوری نظام کے سیاست دان ہیں۔ یہاں تک کہ اقبال اپنی طنزیہ شاعری میں بھی جمہوری نظام کا تمسخر اس طرح اڑاتا ہے۔
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
الیکشن ممبری‘ کونسل‘ صدارت
بنائے خوب آزادی نے پھندے
لیکن جس شعر نے اس مغربی طرز جمہوری کی اساس پر کاری ضرب لگائی اور اقبال کی روحانی پارلیمنٹ کا تصور دیا وہ دنیا کی کسی بھی جمہوری پارلیمنٹ پر صادق آتا ہے۔
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کار شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی
اس کا ترجمہ یوں ہے کہ طرز جمہوری سے پناہ مانگ اور کسی پختہ کار یعنی صاحب علم و کمال و تجربہ کا غلام بن جا۔ اس لیے کہ دو سو گدھوں کے دماغ سے انسانی فکر برآمد نہیں ہو سکتی۔ یہ اس فرد کے خیالات ہیں جسے مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ جس کے خوابوں کی تعبیر یہ مملکت ہے جسے اس وعدے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اس مالک کائنات کا فرمان نافذ ہو گا۔ ورنہ جمہوری طور پر تو ایک ہندوستان میں بھی زندہ رہا جا سکتا تھا۔
مسلم لیگ کی پچاس ساٹھ سیٹیں بھی ہوتیں پارلیمنٹ میں‘ جماعت اسلامی بھی چند نشستوں پر کھڑے ہو کر ’’حق گوئی‘‘ کا فریضہ ادا کرتی‘ پیپلز پارٹی اور دیگر سیکولر جماعتیں بھی سیکولر کانگریس یا بی جے پی کے ساتھ اتحاد بنا کر برسراقتدار آجاتیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے لوگ اپنے یو پی میں ہوتے اور بابری مسجد کے تحفظ کی تحریکیں چلاتے اور اس پارٹی کو ووٹ دیتے جو انھیں زیادہ مراعات دیتی۔ جمہوریت بھی مستحکم ہوتی اور اس کے ادارے بھی۔ ایک تسلسل بھی قائم رہتا۔ یہ ملک اسی لیے جمہوریت کے عالمی اصولوں کے منافی بنایا گیا تھا کہ ہمیں جمہوریت وارا نہیں کھاتی تھی۔
ہمارے لیے یہ جمہوریت ’’اکثریت کی آمریت‘‘ Tyranny of Majority بن جاتی جو آج بنی ہوئی ہے اور وہاں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان بستے ہیں لیکن سچر رپورٹ کے مطابق شودروں اور دلتوں سے بھی بدتر‘ محروم اور پسماندہ ہیں۔ یہ ہے اس جمہوریت کا پھل جو انھیں میسر ہے‘ وہاں تو تسلسل بھی ہے‘ الیکشن بھی شفاف ہوتے ہیں‘ فوج بھی تختہ نہیں الٹتی۔ سب کچھ بہترین‘ لیکن بیس کروڑ مسلمان جنھیں ’’پریشر گروپ‘‘ کہا جاتا ہے وہ آج بھی محکوم اور اکثریت کی آمریت کے ظلم کا شکار ہے۔
یہ سب مل کر اگر پچاس کروڑ بھی ہو جاتے تو ایک ارب ہندوئوں کی اکثریت کے سامنے ان کی کیا اوقات اور حیثیت ہوتی۔ اکثریت بھی وہ جو کارپوریٹ سرمائے کی جمہوریت پر استوار ہو‘ جسے متل‘ امبانی‘ ٹاٹا اور برلا کے سرمائے نے پالا ہو۔ کارپوریٹ سرمایہ جو سات ارب ڈالر اوباما‘ 14 ارب ڈالر سرکوزئی اور تین ارب ڈالر گورڈن برائون کی پارٹیوں کو ملتا ہے اور انھیں غلام بنا لیتا ہے۔ انھی سرمایہ داروں نے تیس ہزار ارب ڈالر امریکی ٹیکس حکام سے چوری کرنے کے لیے کیمن جزیرے میں رکھاہے لیکن کانگریس میں ایک آواز نہیں اٹھتی۔ کیوں؟ جمہوری تسلسل کے لیے پارٹی فنڈ ضروری ہیں‘ سرمائے سے چلنے والے میڈیا کی مدد چاہیے۔ یہ دونوں جو کوئی فراہم کریگا‘ جمہوری ارباب سیاست پتلیوں کی طرح اس کے اشاروں پر ناچیں گے۔
پچاس کروڑ مسلمان اگر اس سیکولر بھارتی جمہوریت میں ہوتے تو دنیا ان کی پسماندگی اور افلاس کی مثالیں دیتی۔ سیلاب میں ڈوبے بنگالی‘ ہندو مہاجن کے قرض میں جکڑے پنجابی اور سندھی‘ پسماندہ بلوچ جن کی ریاست قلات میں چند میل پکی سڑک تھی اور کوئٹہ سے کراچی تک صرف دو جگہ پانی میسر تھا۔ انھیں اس اکثریت کی آمریت میں صرف ایک ہی بات یاد آتی۔ ہم پر اس لیے ظلم کیا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں‘ جس طرح آج کے بھارت کے مسلمان نہ خود کو پنجابی کہتے نہ گجراتی اور نہ بنگالی‘ اس لیے کہ سب پر جمہوریت کی اکثریت کا ان پر بحیثیت مسلمان ظلم یکساں ہے۔
اس فقرے کی گونج 1970ء کے الیکشن میں بدترین شکست کے بعد مولانا مودودی کے منہ سے سنائی دی تھی۔ میں اس عصر کی محفل میں موجود تھا جب انھوں نے کہا تھا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جمہوریت کے علاوہ اور بھی بہت راستے ہیں اور پھر انھوں نے راستے گنوانا شروع کر دیے۔ آج 44 سال بعد عوامی جرگے کے ناکام و نامراد لوٹنے کے بعد سراج الحق صاحب نے فرمایا۔ ’’اس طرز جمہوریت کو ایک نہیں تین طلاقیں‘‘۔ وجہ بتائی کہ سیاستدان کروڑوں لگا کر اربوں کماتے ہیں۔ طلاق کا اصول یہ ہے کہ اگر وہ کسی وجہ کے ساتھ منسوب کر دی جائے اور وہ وجہ قائم رہے تو شرعاً طلاق ہو جاتی ہے۔
معلوم نہیں کہ یہ طلاق قائم رہتی ہے یا حلالہ کی نوبت آ جاتی ہے۔ رضائے الٰہی کا حصول ہو یا اسلامی شریعت کا نفاذ‘ مغربی جمہوری نظام کا راستہ ہی اس سے مختلف ہے۔ کیا سید الانبیاء کی دعوت یہ تھی کہ اسلام قبول کر لو تمہیں تعلیم‘ صحت‘ روز گار اور بہتر زندگی کی سہولیات ملیں گی۔ سیکولر اور مذہبی جماعتوں کے منشور اٹھائیں‘ اوپر کے ورق پھاڑیں‘ سب کے اہداف ایک جیسے ہیں‘ صرف دینی جماعتوں نے ان میں قرآن کی آیات تحریر کر رکھی ہیں۔ یہ سب اس سرمایہ دارانہ‘ سودی نظام کے تحفظ کے راستے پر گامزن ہیں۔ جہاں یہ تصور کر لیا جائے کہ اللہ کی حاکمیت اسی وقت اس ملک پر قائم رہ سکے گی اگر اسے آئین کے چند صفحات تحفظ دیں تو اس سے بڑا شرک اور کیا ہو سکتا ہے۔ پھر اس شرک کے تسلسل کو پاکستان کے مستقبل سے وابستہ کیا جاتا ہے۔
یاد رکھو اگر اللہ چاہے گا تو یہ ملک سلامت رہے گا‘ خواہ آئین اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں کیوں نہ پھینک دیا جائے اور اگر اللہ نے ہمارے اعمال کی سزا کے طور پر اسے ختم کرنے کا فیصلہ کر دیا تو سارے کا سارا دستور اسلامی بنا دو اور اس کی ایک شق پر بھی عمل نہ کرو تو یہ پاکستان نہیں بچ سکے گا۔ لیکن اس پاکستان نے رہنا ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی غیرت و حمیت اور سید الانبیاء کی بشارتوں کی علامت ہے۔ اگر اللہ کی غیرت و حمیت اور حاکمیت اعلیٰ پر کامل ایمان ہو تو پھر سسٹم کے تسلسل پر نہیں اللہ کی تقدیر پر یقین ضروری ہوتا ہے۔
تدبیر کے بندوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ حالات کے غلام ہوتے ہیں۔ لیکن حالات اب تاریخ کا رخ موڑنا چاہتے ہیں۔ یہ تو ابھی اسلام آباد پر بادل نمودار ہوئے ہیں‘ یہ کالی گھٹا بنیں گے‘ سیلاب جو بڑی بڑی عمارتوں کے مکینوں کو بہا کر لے جائے گا۔ قیامت کا سماں ہے۔ سورہ التکویر کی اس آیت کے مصداق کہ جب وحشی جانور اپنی وحشت بھول کر اکٹھے ہو جائیں گے۔ وہ باتیں‘ وہ نعرے‘ وہ مطالبے جو دھرنے میں کیے جا رہے ہیں اگر یہ ساری جماعتیں پارلیمنٹ کے ایوان میں کرتیں‘ ایک سال یہ ہنگامہ اس ایوان میں برپا رہتا تو کیا دھرنے کا کو جواز باقی رہتا۔ لیکن یہ تو صرف اور صرف تسلسل چاہتے ہیں۔
ایک فرعون کا اقتدار چار سو فرعون میں تقسیم کر کے اسے جمہوری تسلسل کا نام دینا چاہتے ہیں۔ سراج الحق صاحب‘ تین طلاق دے دیں کہ جسے آپ آزادی کی نیلم پری سمجھ کر بچانا چاہتے ہیں‘ وہ دیو استبداد ہے۔ اس اللہ سے امید استوار کریں جو نہ کسی تسلسل کا محتاج ہے اور نہ کسی نظام کا تابع۔ گھٹا چھانے والی ہے‘ سیلاب کی آمد ہے جو بڑے بڑے پُر غرور سروں کو ڈوبتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور کر دیتا ہے ’’میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لایا‘‘۔ 


 

18 اگست، 2014

کھلا چیلنج


دنیا کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھیں اس کے مقدمے میں صاحب کتاب نے قارئین سے کتاب میں ممکنہ غلطیوں کوتاہیوں اور سہو پر پیشگی معافی مانگی ہے سوائے ایک کتاب کے جس کے شروع میں ہی اس کے مصنف کا فرمان ہے کہ:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں"

اور پھر کتاب میں بار بار چیلنج ہے کہ اگر غلطی ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈ کر دکھاؤ، اور اس چیلنج کو دیے چودہ صدیوں سے زائد کاعرصہ بیت چکا ہے۔
 

 أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے

سورة النساء 82 

 

14 اگست، 2014

خدارا کوئی تو قادری صاحب کو جا کر کہہ دے !


 خدارا کوئی تو قادری صاحب کو جا کر کہہ دے !
قاری حنیف ڈار 

 اورنگ زیب بادشاہ بہت نیک انسان تھا ، شنید ھے کہ اس کی تکبیرِ اولی کبھی فوت نہیں ھوئی تھی ، اس کے دربار میں ایک مسخرہ کوئی بہروپ بھر کے آیا ، بادشاہ نے اسے پہچان لیا ،، اور کہا کہ ھم تمہیں ھر بہروپ میں پہچان لیتے ھیں، اس پہ اس نے اورنگ زیب کو چیلینج دیا کہ اگر وہ بادشاہ کو دھوکا دینے میں کامیاب ھو گیا تو پانچ سو ٹکہ انعام میں لے گا ،، اس وقت ایک ٹکہ برطانیہ کے 80 پاونڈ کے برابر ھوتا تھا !

بادشاہ مرھٹوں کے خلاف جہاد کے لئے نکل کھڑا ھوا ، 22 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے مرھٹوں کا زور توڑ کر رکھ دیا ، ان 22 سالوں میں وہ پلٹ کر اپنے دارلخلافے بھی واپس نہ آ سکا ،، اور وھیں جان، جانِ آفریں کے سپرد کر کے اورنگ آباد میں دفن ھوا !

اورنگ زیب صوفی منش مگر توحید پسند انسان تھا ، اس کی صوفیت کو شرک کا تڑکا نہیں لگا تھا ! دورانِ معرکہ مشکل پیش آ رھی تھی اور قلعہ فتح نہیں ھو رھا تھا ،، اس علاقے کے لوگوں نے اورنگ زیب کو بتایا کہ اس علاقے کی ایک غار میں ، ایک اللہ والا کئ سال سے بیٹھا ھے ، اور مستجاب الدعا ھے ،جسے دعا دیتا ھے ضرور قبول ھوتی ھے ، اس سے دعا کرانا چاھئے ،، بادشاہ اس فقیر کی خدمت میں پیش ھوا اور دعا کی درخواست کی، فقیر نے بے نیازی سے گردن ھاں میں ھلا دی !
اللہ کا کرنا ایسا تھا کہ اگلے چند دن میں وہ قلعہ فتح ھو گیا اور مرھٹوں نے ہتھیار ڈال کر قلعہ اورنگ زیب کو سونپ دیا ،، بادشاہ اگلے دن اس فقیر کی گپھا پہ حاضر ھوا ، اور اسے وہ قلعہ بمع پانچ سو دیہات کے لکھ کر دے دیا ،،مگر اس فقیر نے وہ دستاویز پکڑ کر پھاڑ دی اور بادشاہ کو اشارے سے نکل جانے کے لئے کہا !

اگلے دن اورنگ زیب وھاں سے کوچ کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ اسے بتایا گیا کہ گپھا والا فقیر اس سے ملاقات کرنا چاھتا ھے ،، بادشاہ بے حد خوش بھی ھوا اور حیران بھی ،، فقیر کو دربار میں بلوایا گیا ،، فقیر نے سلام دعا کے بعد بادشاہ سے کہا کہ نکالو میرا 500 ٹکہ ،، جو تم نے انعام میں دینے کا وعدہ کیا تھا کیونکہ میں آپ کو دھوکا دینے میں کامیاب ھو گیا ھوں !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

اورنگ زیب نے حسبِ وعدہ اسے 500 ٹکہ دیا ،، مگر سوال کیا کہ کل میں تمہیں قلعہ بمع 500 دیہات انعام میں دے رھا تھا تو تم نے اسے حقارت سے ٹھکرا دیا اور آج 500 ٹکہ لینے آ گئے ھو ؟ اس نے جواب دیا ، بادشاہ سلامت میں نے جو بہروپ بھرا تھا ،، اس بہروپ کا تقاضہ یہی تھا کہ اسے قبول نہ کروں ،، میں اس مقام کو لوگوں کی نظروں سے گرنے نہیں دینا چاھتا تھا ، وہ بہروپ تھا مگر ایک مقدس امانت تھی ، میں اس میں خیانت نہیں کر سکتا تھا ،، جبکہ یہ ٹکہ میرا حق ھے ،،

نیز یہ میرا آخری سوانگ تھا ،، میں واپس اپنی گپھا میں جا رھا ھوں ،مگر اب اپنی حقیقت کے ساتھ - جس اللہ نے میرے بہروپ کی عزت رکھی ھے وہ میری حقیقت کا کتنا بڑا قدردان ھو گا !

کوئی قادری صاحب سے کہہ دے کہ اگرچہ یہ سوانگ بھی ھو ،، شکل دین داروں والی بنائی ھے تو خدارا اس مقام کا تو خیال کریں ! جھوٹ در جھوٹ اور کہہ مکرنیاں ؟


video
 

13 اگست، 2014

جب طاہر القادری میرے کلاسفیلو تھے


 جب طاہر القادری میرے کلاس فیلو تھے!
عطاء الحق قاسمی

مجھے مفتی نعیم صاحب کی اس بات سے اختلاف ہے کہ طاہر القادری صاحب کو ٹی وی چینلز’’علامہ‘‘ نہ کہیں کیونکہ وہ ایک بے علم آدمی ہیں اور خدائی احکام کے برعکس زمین پر فساد برپا کررہے ہیں، قبلہ مفتی صاحب کو شاید علم نہیں کہ پاکستان میں قادری صاحب نے قرآن پر حلف اٹھا کر کہا تھا کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے 19برس عالم رویا)خواب(میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد انڈیا میں اسی طرح قرآن پر حلف اٹھاتے ہوئے انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کی شاگردی میں چار سال تخفیف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ ؒکے سامنے عالم رویا میں15 سال تک زانوئے تلمذ تہہ کیا تو جس شخص نے علم دین براہ راست امام ابوحنیفہؒ سے حاصل کیا ہو، مفتی نعیم صاحب ان کے علامہ ہونے پر کیسے اعتراض کرسکتے ہیں، میں نے یہ بات آج تک چھپا کر رکھی تھی تاہم آج انکشاف کررہا ہوں اور قادری صاحب کو شاید یاد ہو کہ امام ابوحنیفہؒ سے حصول تعلیم کے دوران میں ان کا کلاس فیلو تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اکثر بھری کلاس میں قادری صاحب کو مرغا بنا کر ان کی کمر پر علامہ طاہر اشرفی کو لاد دیا کرتے تھے جس پر ان کی چیخیںنکل جاتی تھیں۔ دراصل یہ جھوٹ بہت بولتے تھے اور کئی دفعہ بلاوجہ بھی بولتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے ا مام ؒصاحب سے کہا کہ آپ کو علم ہے میں امام حسینؓ کی معیت میں یزیدی لشکر کے خلاف لڑا تھا اور شہادت کا درجہ پایا تھا۔ اس بار قادری صاحب کی یہ بات سن کر امام ابوحنیفہؒ غصے میں نہیں آئے بلکہ انہوں نے مسکرا کر کہا ’’شہادت کا درجہ پانے کے بعد پھر تم زندہ کیسے ہوئے‘‘ جس کا ترت جواب قادری صاحب نے یہ دیا’’آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی توقیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گے‘‘ اس پر امامؒ نے ایک بار پھر قادری صاحب کو مرغا بننے کو کہا اور علامہ طاہر اشرفی کو ان کی کمر پر بٹھادیا۔

مگر اس کے باوجود قادری صاحب بزرگان دین سے اپنی بے تکلیفوںکا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیںاور ان کے سادہ لوح مرید ان کی خرافات پر سر دھنتے نظر آتے ہیں۔ ایک دفعہ ان حضرت نے فرمایا کہ’’حضورنبی کریمؐخواب میں تشریف لائے اور یہ نوید سنائی کہ ’’طاہرالقادری تمہاری عمر63 برس ہوگی‘‘ جس کے جواب میں قادری صاحب نے کہا’’حضورؐ میں عمر میں بھی آپ سے برابری نہیں کرسکتا،لہٰذا میری عمر گھٹا دی جائے‘‘حضور اکرمؐ نے فرمایا’’ٹھیک ہے طاہر القادری تمہاری عمر میں سے ایک سال گھٹا دیتا ہوں، تم 63 نہیں 62 برس کی عمر میں وفات پائوگے‘‘ کوئی ہے جو پتہ کرے بلکہ کوئی اور کیوں برادرم جبار مرزا تحقیق کرکے بتائیں کہ ان کے 6 2 برس ہونے میں کتنے دن باقی ہیں یا کہیں انہوں نے عمر کے حوالے سے بھی نعوذ باللہ ،حضوراکرمؐ سے برابری یا برتری تو حاصل نہیں کرلی؟ ویسے نواز شریف کے ایک گزشتہ دور میں قادری صاحب نے خود پر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچایا تھا اور اپنے گھر کی دیواروں پر بکرے کے خون کے چھینٹے بکھیر دئیے تھے، نواز شریف نے اس’’سانحہ‘‘ پر عدالتی تحقیقات کا حکم دیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران جج نے ’’علامہ صاحب سے پوچھا’’کیا حضورؐ کی بشارت کے مطابق آپ کی عمر 62 برس ہوگی؟‘‘ علامہ صاحب نے پورے یقین سے کہا ’’جی بالکل حضورؐ کی بات کیسے غلط ہوسکتی ہے؟‘‘ اس پر جج نے کہا’’تو پھر آپ اپنے ساتھ گن مین کیوں لئے پھرتے ہیں، کیا آپ کو نعوذ باللہ حضورﷺ کی بات پر یقین نہیں؟‘‘ اس پر علامہ صاحب خاموش ہوگئے۔ بہرحال ’’سانحہ‘‘ کی مکمل تحقیقات اور اصل صورتحال پوری طرح سامنے آنے کے بعد عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں کہا’’طاہرالقادری ایک جھوٹا اور فریبی شخص ہے’’اللہ کرے اس جج کے جسم میں کیڑے پڑیں جس نے شیخ السلام قائد انقلاب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری وغیرہ صاحب کے حوالے سے یہ گستاخانہ کلمات تحریر کئے تاہم کوئی پتہ نہیں کہ اس جج کو بھی بشارت ملی ہو کہ اس شخص کے بارے میں یہ کلمات درج کرو،تاہم میں اس سلسلے میں واللہ اعلم بالصواب کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا۔
 

مفتی نعیم صاحب سے معذرت کے ساتھ’’علامہ‘‘ طاہر القادری نے آج تک جتنے دعوے کئے ہیں ،کیا وجہ ہے کہ میرے جیسا حسن ظن رکھنے والا شخص بھی ان دعوئوں کے حوالے سے بدگمانی کا شکار ہوجاتا ہے، میرے خیال میں اللہ قادری صاحب کا امتحان لیتا ہے کہ اپنے دعوئوں پر یہ شخص کب تک قائم رہتا ہے۔قادری صاحب تو اپنے دعوئوں میں اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے حضورﷺکی پاکستان آمد کے لئے پی آئی اے کے ٹکٹ ، کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام اور 22کورسزوالے کھانوں کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے اپنے مریدوں سے کروڑوں روپے اینٹھے تھے تاہم اس سے قطع نظر ان کے کچھ دعوے بالکل ’’بے لوث‘‘ بھی ہیں، مثلاً یہ کہ ان کے والد بہت بڑے ڈاکٹر تھے اور ایک سعودی بادشاہ کے کامیاب علاج پر بادشاہ سلامت نے انہیں ایک مسند اور خلعت عطا کی تھی اور یہ دونوں چیزیں کہیں گم ہوگئیں ، ان کے والد بہت بڑے شاعر تھے، ان کے بیسیوں مجموعے ہائے کلام شائع ہوچکے ہیں مگر افسوس ان میں سے ایک مجموعہ بھی دستیاب نہیں۔ تیسرے یہ کہ ان کے والد بہت بڑے صوفی بزرگ تھے اور ان کا مرتبہ خواجہ معین الدین چشتیؒ کے برابر تھا ،مگر اللہ نے ان کا یہ مرتبہ خلق خدا سے پوشیدہ رکھا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ قادری صاحب لکھ چکے ہیں ظاہر ہےایسے دعوئوں سے قادری صاحب کے مرحوم والد کو کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا، بے لوثی اسی کو تو کہتے ہیں۔
 

میں نے یہ سارا کالم ،سچی بات پوچھیں تو قادری صاحب کے مریدوں اور ان کے ملازموں کو دلاسا دینے کے لئے لکھا ہے، دراصل گزشتہ روز انہوں نے اپنی تقریر میں اپنے ادارے کے ملازموں اور سادہ لوح مریدوں کو یہ’’تڑی‘‘ لگائی کہ اگر تم میں سے انقلاب آنے سے پہلے اسلام آباد سے اٹھ کر چلا آئے تو اسے قتل کردیا جائے۔ قادری صاحب گزشتہ برس خود اسلام آباد کے دھرنے سے بھاگ آئے تھے اور انہوں نے اس کی پاداش میں خود کو قتل نہیں کیا تھا لہٰذا ملازمین اور مریدین بے دھڑک اسلام آباد جائیں ،وہاں جو کام کرنے ہیں یا دامن کوہ وغیرہ کی سیر کرنی ہے اس سے فراغت پاکر واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں کیونکہ علامہ صاحب اپنے اس بیان سے مکر چکے ہیں اور کہا ہے کہ انہوں نے مذاق سے یہ بات کہی تھی اور ان کا اشارہ کارکنوں کی طرف نہیں بلکہ اپنے اور عمران خان کی طرف تھا۔ یوم شہداء پر ہنسی مذاق کی باتیں؟ یہ کام قادری صاحب ہی کرسکتے ہیں، دوسری یہ کہ ان کا عذربدتر از عذرکے زمرے میں آتا ہے، یعنی انہوں نے اپنے پیروکاروں کے قتل کا نہیں، عمران خان کو قتل کا حکم دیا ہے ،جیو قادری صاحب۔
 

اور قادری صاحب کی ایک اور ادا!قادری صاحب نے اپنے جلسے میں خود کو امام حسینؓ اور اپنے پیروکاروں کو حسینی لشکر تصور کرتے ہوئے کہا کہ شب عاشورہ کو امام عالی مقام نے دیا بجھا دیا تھا اور اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ تم میں سے جو جانا چاہے اور شرمندگی کی وجہ سے نہ جارہا ہو، وہ اس اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نکل جائے۔ اس کے بعد قادری صاحب نے فرمایا’’یہ لیں، میں آنکھیں بند کررہا ہوں جس نے جانا ہو وہ چلا جائے‘‘ اور پھر حضرت نے چند لمحوں کے لئے آنکھیں بند بھی کرلیں۔اللہ کرے طاہر القادری صاحب کی ،اگر پہلے نہیں تو اب آنکھیں کھل جائیں کہ عوام ان کی کہہ مکرنیوں سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں۔ میں انہیں یہ مشورہ ان کے ایک پرانے ’’کلاس فیلو‘‘کے طور پر دے رہا ہوںامید ہے وہ قبول فرمائیں گے، ورنہ میں ان کی جھنگ میں قیام کے دوران وقوع پذیر ہونے والے کچھ سچے واقعات سے بھی پردہ اٹھانے کا سوچ رہا ہوں۔ 
 

5 اگست، 2014

دنیا کے دو خیموں میں بٹنے کا وقت



 جو لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری ایک اچانک عمل ہے اور یہ چند دنوں تک جاری رہے گا اور پھر عالمی طاقتیں بیچ بچائو کروا دیں گی۔ اس دوران غزہ کے مسلمانوں کو کافی سبق سکھایا جا چکا ہو گا۔ ایسے افراد کو ایک دفعہ گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران یہودی دانشوروں‘ سیاستدانوں اور خصوصاً صیہونی لٹریچر کا مطالعہ کر لینا چاہیے جو ان سالوں میں ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے شایع ہوتا رہا ہے۔ جن ’’عظیم‘‘ دانشوروں کو یہ غلط فہمی ہے کہ اسرائیل دنیا میں موجود قومی ریاستوں کی طرح کی ایک ریاست ہے جس کی متعین حدود ہیں‘ اقتدار اعلیٰ ہے‘ جمہوری حکومت ہے تو انھیں بھی اس خوش فہمی کو دل سے نکال دینا چاہیے۔

یہودی دنیا بھر کے ممالک میں اگرچہ مطعون تھے‘ دو ہزار سال سے در بدر تھے‘ انھیں شدید نفرت کا سامنا تھا‘ اس کے باوجود وہ دنیا کے کاروبار‘ بینکاری اور میڈیا پر انیسویں صدی کے آخر تک چھا چکے تھے۔ اسپین میں ازابیلا اور فرڈنینڈ کی حکومت آنے پر یہودیوں کو خلافت عثمانیہ کے علاقوں میں امان بھی مل چکی تھی اور یورپ سے امریکا ہجرت کرنے والوں میں جہاں ہر ملک کے بدنام زمانہ لوگ شامل تھے وہیں کثیر تعداد میں یہودی تھے جنہوں نے جنگ عظیم اول سے پہلے ہی امریکی اقتدار کو اپنے شکنجے میں لے لیا تھا۔


1896ء میں جب صیہونیت کی داغ بیل ڈالتے ہوئے مشہور زمانہ پروٹوکولز لکھے گئے تو وہ تاج برطانیہ جو یہودی سودی سرمائے کا مقروض تھا اس نے انھیں ایک قوم تصور کرتے ہوئے بالفور ڈیکلریشن 1916ء میں جاری کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہودیوں کو پوری دنیا میں کوئی جائے پناہ میسر نہ تھی۔ تمام اتحادی ممالک اور امریکا کے دروازے ان کے لیے کھلے تھے۔ پھر وہ حیفہ اور تل ابیب جیسے بے آب و گیاہ علاقے میں کیونکر آباد ہوئے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد تو یورپ میں بھی ان کا غلبہ ہو چکا تھا۔ ان کے خلاف گفتگو کرنا بھی قابل سزا جرم بن چکا تھا۔ پھر وہ یورپ کے ’’جنت نظیر‘‘ اور پر امن ممالک کو چھوڑ کر ایک ایسے ملک میں کیوں آباد ہو گئے جہاں انھیں چاروں جانب سے دشمنوں کا سامنا تھا۔ انھیں اپنے دفاع کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑیں، حفاظت کے لیے اونچی اونچی دیواریں بنانا پڑیں، پوری قوم کو لازمی فوجی تربیت دینا پڑے۔


قومی ریاست کے تصور کے علمبردار اور سیکولر نظریے کے داعی اس سوال کا جواب نہیں دیتے۔ اس لیے کہ اس کا جواب صرف ایک ہی ہے کہ یہودی ایک آخری عالمی جنگ کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ایسی جنگ کے نتیجے میں ان کے مذہبی ربیئوں کے نزدیک فتح نصیب ہوگی اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی طرح کی عالمی حکمران حکومت قائم ہونی ہے جسے وہ Ruling state of the world کہتے ہیں۔


پوری دنیا کے یہودی اس جنگ کے لیے وسائل مہیا کرتے ہیں اور متحد ہیں۔ ان کے نزدیک ان کی یہ جنگ مسلمانوں سے ہونا ہے۔ گزشتہ پندرہ سال سے یہودی مفکرین‘ مذہبی رہنما‘ یہاں تک کہ ان کے اہل تصوف بھی بار بار یہ تحریر کر رہے تھے کہ 2014ء اور 2015ء میں لگنے والے چار مکمل چاند گرہن اس وقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دنیا کا ہیڈ کوارٹر اب امریکا سے اسرائیل منتقل ہونا ہے۔ ان پندرہ سالوں میں انھوں نے ایک مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ امریکا اور اس کے حواریوں سے اپنے لیے راہ ہموار کروائی۔
 

عراق کی طاقت کا خاتمہ‘ عرب بہار کے نتیجے میں مسلم امہ میں انتشار جس کا نتیجہ یہ کہ مصر میں اخوان حکومتی تشدد کا شکار‘ حزب اللہ شام اور عراق میں اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف لڑتی ہوئی‘ ایران جو آواز اٹھاتا تھا وہ سعودی عرب سے کشمکش اور داعش کے خطرے کی وجہ سے عراق میں الجھا ہوا‘ سعودی عرب اور عرب ریاستیں اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے امریکا کی دست نگر‘ ایسے میں یہودیوں کے مذہبی رہنماؤں نے اپنی پیش گوئیوں اور منصوبہ بندی کے مطابق جنگ کا آغاز کر دیا۔ اب کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ جنگ انجام سے پہلے ختم کردی جائے گی۔
 

لیکن کیا مسلم امہ نے کبھی غور کیا کہ یہی وقت ہے جس کی بشارت سیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کر لیں۔ اس لڑائی میں مسلمان یہودیوں کو قتل کردیں گے‘ یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائیں گے تو پتھر اور درخت یوں کہے گا۔ ’’اے مسلمان اللہ کے بندے ادھر آ میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہے اس کو مار ڈال۔ مگر غرقد نہیں کہے گا کیوں کہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ (مسلم)۔ اسے دنیا بھر میں JEW TREE کہا جاتا ہے اور اسرائیل میں اس کی سب سے زیادہ شجرکاری کی گئی ہے۔

دنیا بھر سے یہودی اسرائیل کی سرزمین پر پکنک منانے یا کسی معاشی فائدے کے لیے جمع نہیں ہوئے بلکہ اس جنگ کے لیے جمع ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے بقول ایک ایسی حکومت قائم ہونی ہے جو عالمی سپر پاور کی حیثیت رکھتی ہو۔ وہ اپنی کتاب ایزاخیل کی اس پیش گوئی پر یقین رکھتے ہیں۔ ’’اے صہیون کی بیٹی خوشی سے چلاو‘ اے یروشلم کی بیٹی مسرت سے چیخو‘ دیکھو تمہارا بادشاہ آ رہا ہے۔ وہ عادل ہے اور گدھے پر سوار ہے۔ خچر یا گدھی کے بچے پر۔ میں یو فریم سے گاڑی کو اور یروشلم سے گھوڑے کو علیحدہ کر دونگا۔ جنگ کے پر توڑ دیے جائیں گے۔ اس کی حکمرانی سمندر اور دریا سے زمین تک ہوگی۔ (زکریا9:9-10) اسی کتاب میں لکھا ہے’’اس طرح اسرائیل کی ساری قوموں کو ساری دنیا سے جمع کرونگا‘ چاہے وہ جہاں کہیں بھی جا بسے ہوں اور انھیں ان کی اپنی سرزمین میں جمع کرونگا، میں انھیں اس سرزمین میں ایک ہی قوم کی شکل دے دونگا‘ اسرائیل کی پہاڑی پر جہاں ایک ہی بادشاہ ان پر حکومت کرے گا۔ (ایزاخیل‘ 37:21-22)


انہی بشارتوں کے مکمل ہونے کے لیے وہ اس سرزمین پر جمع ہوئے ہیں۔ لیکن ان کا حال بھی ویسا ہے جیسا آج ہمارے مسلمانوں کا ہے۔ اپنی مرضی کی آیت اٹھا کر اسے مکمل سمجھ لیتے ہیں۔ اسی کتاب ایزاخیل میں اس آخری جنگ کا وہی انجام درج ہے جو سید الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ایزاخیل کے 22 ویں باب میں لکھا ہے ’’پھر ایلی کہتا ہے کہ کیونکہ تم لوگ میرے نزدیک کھوٹے سکے ثابت ہوئے ہو۔ اس لیے تمہیں یروشلم میں جمع کرونگا جیسے سونا‘ چاندی‘ ٹن‘ لوہا اور کانسی کو آگ میں ڈالنے کے لیے جمع کرتے ہیں، اس طرح میں بھی تمہیں غصے اور غضب کے درمیان جمع کرونگا اور پھر تمہیں پگھلا دوں گا۔ میں تم پر اپنے غضب کی آگ بھڑکا دونگا اور تم پگھل جاؤ گے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے رب نے تمہارے اوپر اپنا غضب نازل کیا ہے۔ (22:19-22)
لیکن ان کی کتاب جرمیاہ (Jeramiah) میں تو اس آخری معرکے کے اختتام کا منظر ہولناک ہے۔ ’’ان کی تباہی اور سزا کے اعلان کے بعد جس کے بعد ان کی لاشیں کھلے آسمان تلے ڈال دی جائیں گی‘ جہاں گدھ اور کیڑے مکوڑے ان کو کھالیں گے حتی کہ ان کے بادشاہوں اور لیڈروں کی ہڈیاں بھی گل جائیں گی اور زمین میں کوڑے کرکٹ کی طرح پھیل جائیں گی‘‘۔ (8:3) لیکن کیا مسلم امہ اور خصوصاً عرب دنیا کو اس کا اندازہ ہے۔
اسرائیل جس جنگ کے لیے سات دہائیاں قبل قائم کیا گیا‘ جس کی تیاری پوری یہودی قوم 1896ء سے کر رہی ہے ہمیں اس کا احساس نہیں۔ ہم خصوصاً عرب اقوام ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہیں جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ایک ایسا فتنہ ظاہر ہوگا جو سب عربوں کو لپیٹ میں لے لے گا۔ اس فتنے میں قتل ہونے والے جہنم میں جائیں گے۔ اس فتنے میں زبان کی کاٹ تلوار سے زیادہ ہوگی۔‘‘ (مسند احمد‘ ابی داؤد‘ ترمذی‘ ابن ماجہ) کیا اس لمحے جب اسرائیل نے اپنی جنگ کا آغاز کردیا ہے‘ وہ سب لوگ جو مسالک کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو زبان کی کاٹ سے حکومتوں کی گدیوں پر بیٹھے یا منبروں پر براجمان امت کے گروہوں کو لڑنے پر اکسا رہے ہیں کیا ان کے سامنے سید الانبیاءﷺ کی جہنم کی وعید موجود نہیں۔


یہی وہ زمانہ ہے جس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا ’’عرب کی تباہی‘‘۔ ابھی تو شامت اعمال کے دن ہیں کہ اس اندرونی فتنے سے جو بچ نکلے گا وہی ہو گا جس کے ہاتھ میں اللہ کی نصرت کا پرچم ہو گا۔ یہ بڑی جنگ جس کے آخر میں دجال کا ظہور ہو گا اس سے پہلے دنیا دو خیموں میں بٹ جائے گی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے‘ ایک اہل ایمان کا خیمہ جس میں بالکل نفاق نہیں ہو گا دوسرا منافقین کا خیمہ جن میں بالکل ایمان نہیں ہو گا۔ جب ایسا ہو تو دجال کا انتظار کرو کہ آج آئے یا کل‘‘۔ (ابوداؤد‘ مستدرک) ابتلا کا دور ہے‘ شامت اعمال ہے‘ صفائی کا موسم ہے‘ دنیا دو خیموں میں بٹنے کے نزدیک ہے۔ 


اوریا مقبول جان 





 

4 اگست، 2014

غزہ کی صورت حال پر طاہر القادری سے ایک صحافی کی گفتگو


صحافی: مولوی صاحب، اسرائیل نے سیکٹروں بچوں سمیت دو ہزارکے قریب لوگ شہیدکر دیئے ہیں سب لوگوں نے اس کی مذمت کی ہے لیکن آپ کی طرف سے ایک لفظ تک نہیں کہا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟
مولوی صاحب: اسرائیل خود مختار ملک ہے، اس کے اندرونی مسئلے پر مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔
صحافی:لیکن وہاں مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔
مولوی صاحب: اچھا؟ مجھے تو کسی نے بتایا تھا وہ کوئی فلسطینی وغیرہ ہیں۔
صحافی: فلسطینی مسلمان ہیں، آپ سب جانتے ہیں۔
مولوی صاحب: یہ بات ٹھیک ہے، میں ہی تو ہوں جوسب جانتا ہوں اور سب سے زیادہ جانتا ہوں۔
صحافی:پھر آپ نے بیان کیوں نہیں دیا۔
مولوی صاحب:آپ اخبار ٹی وی نہیں دیکھتے، میں تو دن میں چھ بار بیان دیتا ہوں کہ یہ حکومت نہیں رہے گی۔
صحافی: یاہو کی حکومت؟
مولوی صاحب:نہیں نواز شریف حکومت، اب اسے جانا ہوگا، پھر انقلاب آئے گا اور یا ہو نہیں میں گوگل استعمال کرتا ہوں۔
صحافی: لیکن فلسطین۔۔۔
مولوی صاحب:میں نے اپنا مؤقف دے تو دیا۔
صحافی: لیکن مذمت تو نہیں کی۔
مولوی صاحب:میں ہر روز چھ بار مذمت کرتا ہوں۔
صحافی: اسرائیل کی ؟
مولوی صاحب:نہیں نواز شریف کی۔
صحافی: لیکن آپ اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں کرتے۔
مولوی صاحب:دہشت گردوں کے بارے میں میرا موقف میرے فتوے میں آچکا ہے۔ جو میں نے کینیڈا کی بابرکت، الہامی اور روحانی فضاؤں میں لکھا تھا، آپ وہ پڑھ لیں۔ منہاج کے دفتر سے خرید لیں یا امریکی سفارتخانے جا کر مفت پڑھ لیں۔
صحافی: لیکن مذمّت ؟
مولوی صاحب:میں نواز شریف کی شدید مذمت کرتا ہوں، میں شہباز شریف کی شدید مذمت کرتا ہوں، سن لیا، اب جاؤ۔ میرا موبائل بج رہا ہے، ’’تازہ الہام‘‘ آرہا ہے۔ آپ فوراً جاؤ،’’الہام‘‘ صرف خلوت میں سنا جاتا ہے۔

عبداللہ طارق سہیل