ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

1 اکتوبر، 2014

مولوی کی سیلفی کرکٹ

 مولوی کے استاد ہونے میں کیا شبہ۔ پیر کی شام دھرنے سے باہرآیا اور کرکٹ کھیلی۔ یہ سولو کرکٹ تھی۔ جیسے ادب میں مونو لاگ ہوتا ہے‘ ویسے ہی مولوی نے سولو کرکٹ متعارف کرا دی ہے‘ اسے سیلفی کرکٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ خود ہی باؤلنگ کی‘ خود ہی بیٹنگ کی اورچھوٹتے ہی چھکے لگائے۔ پہلی بال میں آؤٹ ہوگیا لیکن امپائر بھی خود ہی تھا اس لئے انگلی کھڑی نہیں کی بلکہ خود کو ناٹ آؤٹ قرار دے کر پھر سے باؤلنگ اور بیٹنگ شروع کر دی ۔ پتہ نہیں‘ ’’سیلفی‘‘ میں مزہ نہیں آیا ورنہ سنچری کرنا کیا مشکل تھا۔ ہو سکتا ہے‘ کنٹینر سے باہر کی ’’خوشبو دار فضا‘‘ نے مولوی کی ناک کھٹی کر دی ہو (محاورہ دانت کا ہے لیکن ناک حسب حال بلکہ حسب موقع ہے )اور مزید چھکّے لگانے کا دم نہ رہا ہو۔

سیلفی کرکٹ اچھا شغل ہے‘ بعض لوگ توقع کر رہے ہیں کہ دھرنوں کی شاندار ناکامی کے بعد مولوی کا یہی شغل ہمہ وقتی ہو جائے گا ۔یہ مولوی بھی خدا نے کیا شے بنائی ہے‘ سبحان اس کی قدرت ۔ کتابیں اس کے شاگرد لکھتے ہیں‘ انہیں پیسے دے کر اپنے نام سے چھپوا لیتا ہے لیکن کرکٹ میں دوسروں پر انحصار نہیں کرتا۔بطور باؤلر کسی دوسرے کو بیٹسمین اور بطور بیٹسمین کسی دوسرے کو باؤلر نہیں مانتا۔ دونوں کی ڈیوٹی اکیلا دیتا ہے۔ پتہ نہیں‘ دھرنوں کے نتیجے کے لئے کسی اور امپائر پر انحصار کیوں تھا۔ اس امپائر کے انتظار میں ڈیڑھ مہینہ گنوا دیا اور سبق یہ سیکھا کہ باؤلر بھی خود‘ بیٹسمین بھی خود‘ امپائر بھی خود ہونا چاہئے۔ یہ سبق پہلے ہی سیکھ لیا ہوتا تو شاید دھرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔


امپائر کا انتظار رنگیلے نیازی کو بھی تھا۔ انتظار کیا‘ دونوں کو یقین تھا کہ امپائرپاس ہی کہیں دھرنوں کی اوٹ میں کھڑا ہے اسی لئے تو رنگیلا نیازی ہر رات یہ اعلان کرتا تھا کہ انگلی کل کھڑی ہوگی اور مولوی ہر دوسرے دن انقلاب کی نئی حتمی تاریخ دیتا تھا۔ ایک بار تو ’’رانگ سگنل‘‘ ملنے کے بعد پارلیمنٹ پر ہلّہ بول دیا اور فیصلہ سنا دیا کہ اب کوئی اس کے اندر جا سکتا ہے نہ باہر آسکتا ہے۔ پھر صحیح سگنل ملنے پر حکم بدل دیااور ارکان پارلیمنٹ کو آنے جانے کی اجازت دیدی۔ جو لوگ کہتے ہیں پارلیمنٹ طاقتور ہے‘ انہیں ماننا چاہئے کہ پارلیمنٹ کی طاقت مولوی کی محتاج ہے۔ خود انصاف کیجئے‘ مولوی پارلیمنٹ میں آنے جانے کی اجازت نہ دیتا تو پارلیمنٹ اب تک سیلفی کرکٹ کا گراؤنڈ نہ بن چکی ہوتی۔ 


عبداللہ طارق سہیل  

24 ستمبر، 2014

لمحہ فکریہ


 پہلے قرآن سامنے ٹیبل پر رکھا ہوتا تھا، کوئی نہ کوئی پڑھ لیتا تھا ۔
پھر ایسا ہوا کہ ٹیبل کے پاس ٹی وی رکھ دیا ۔۔۔۔
سب ڈرامے فلمیں دیکھنے لگے تو قران پاک کی بے حرمتی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایسا کیا کہ قران پاک کو بہت اونچا سٹینڈ لگا کر وہاں رکھ دیا ۔۔۔۔
اور سرکار !! پتا ہے اب قران بہت اونچی جگہ پر ہے، کسی کا ہاتھ بھی نہیں جاتا وہاں تک ۔۔۔۔۔
خیر سے ہم نے بےحرمتی سے بچا لیا




16 ستمبر، 2014

تقدیر کو تدبیر کے شاطر نے کیا مات


 اس فقرے کی گونج موجودہ تاریخ میں بار بار سنائی دی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ علامہ اقبال نے بغیر کسی تجربے یا چوٹ کھائے ہوئے اپنے وجدان اور قرآنی علم کی روشنی میں اس دور کی جمہوریت کے کریہہ چہرے سے نقاب الٹا‘ اس آزادی کی نیلم پری کو دیو استبداد کہا جب کہ دنیا نئی نئی اس کے سحر میں گرفتار ہوئی تھی۔
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
اقبال کی عظیم اور معرکۃ الٓاراء نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں ابلیس اور اس کے مشیروں کی گفتگو میں اس نظام کے غلیظ چہرے کو بے نقاب کیا گیا ہے وہ مغربی جمہوریت ہے جسے انسانی حقوق‘ آزادی اظہار اور عوام کی حکمرانی جیسے خوبصورت تصورات کا لبادہ اوڑھایا گیا ہے۔
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
اقبال کی ایک اور نظم ’’ابلیس کی عرضداشت‘‘ میں ابلیس اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ اب دنیا میں انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے میری ضرورت باقی نہیں رہی‘ اس لیے کہ
جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک
گمراہی کا جو پرچم ازل سے ابلیس نے اٹھا رکھا تھا‘ اقبال کے نزدیک اب اس کے پرچم بردار جمہوری نظام کے سیاست دان ہیں۔ یہاں تک کہ اقبال اپنی طنزیہ شاعری میں بھی جمہوری نظام کا تمسخر اس طرح اڑاتا ہے۔
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
الیکشن ممبری‘ کونسل‘ صدارت
بنائے خوب آزادی نے پھندے
لیکن جس شعر نے اس مغربی طرز جمہوری کی اساس پر کاری ضرب لگائی اور اقبال کی روحانی پارلیمنٹ کا تصور دیا وہ دنیا کی کسی بھی جمہوری پارلیمنٹ پر صادق آتا ہے۔
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کار شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی
اس کا ترجمہ یوں ہے کہ طرز جمہوری سے پناہ مانگ اور کسی پختہ کار یعنی صاحب علم و کمال و تجربہ کا غلام بن جا۔ اس لیے کہ دو سو گدھوں کے دماغ سے انسانی فکر برآمد نہیں ہو سکتی۔ یہ اس فرد کے خیالات ہیں جسے مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ جس کے خوابوں کی تعبیر یہ مملکت ہے جسے اس وعدے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اس مالک کائنات کا فرمان نافذ ہو گا۔ ورنہ جمہوری طور پر تو ایک ہندوستان میں بھی زندہ رہا جا سکتا تھا۔
مسلم لیگ کی پچاس ساٹھ سیٹیں بھی ہوتیں پارلیمنٹ میں‘ جماعت اسلامی بھی چند نشستوں پر کھڑے ہو کر ’’حق گوئی‘‘ کا فریضہ ادا کرتی‘ پیپلز پارٹی اور دیگر سیکولر جماعتیں بھی سیکولر کانگریس یا بی جے پی کے ساتھ اتحاد بنا کر برسراقتدار آجاتیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے لوگ اپنے یو پی میں ہوتے اور بابری مسجد کے تحفظ کی تحریکیں چلاتے اور اس پارٹی کو ووٹ دیتے جو انھیں زیادہ مراعات دیتی۔ جمہوریت بھی مستحکم ہوتی اور اس کے ادارے بھی۔ ایک تسلسل بھی قائم رہتا۔ یہ ملک اسی لیے جمہوریت کے عالمی اصولوں کے منافی بنایا گیا تھا کہ ہمیں جمہوریت وارا نہیں کھاتی تھی۔
ہمارے لیے یہ جمہوریت ’’اکثریت کی آمریت‘‘ Tyranny of Majority بن جاتی جو آج بنی ہوئی ہے اور وہاں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان بستے ہیں لیکن سچر رپورٹ کے مطابق شودروں اور دلتوں سے بھی بدتر‘ محروم اور پسماندہ ہیں۔ یہ ہے اس جمہوریت کا پھل جو انھیں میسر ہے‘ وہاں تو تسلسل بھی ہے‘ الیکشن بھی شفاف ہوتے ہیں‘ فوج بھی تختہ نہیں الٹتی۔ سب کچھ بہترین‘ لیکن بیس کروڑ مسلمان جنھیں ’’پریشر گروپ‘‘ کہا جاتا ہے وہ آج بھی محکوم اور اکثریت کی آمریت کے ظلم کا شکار ہے۔
یہ سب مل کر اگر پچاس کروڑ بھی ہو جاتے تو ایک ارب ہندوئوں کی اکثریت کے سامنے ان کی کیا اوقات اور حیثیت ہوتی۔ اکثریت بھی وہ جو کارپوریٹ سرمائے کی جمہوریت پر استوار ہو‘ جسے متل‘ امبانی‘ ٹاٹا اور برلا کے سرمائے نے پالا ہو۔ کارپوریٹ سرمایہ جو سات ارب ڈالر اوباما‘ 14 ارب ڈالر سرکوزئی اور تین ارب ڈالر گورڈن برائون کی پارٹیوں کو ملتا ہے اور انھیں غلام بنا لیتا ہے۔ انھی سرمایہ داروں نے تیس ہزار ارب ڈالر امریکی ٹیکس حکام سے چوری کرنے کے لیے کیمن جزیرے میں رکھاہے لیکن کانگریس میں ایک آواز نہیں اٹھتی۔ کیوں؟ جمہوری تسلسل کے لیے پارٹی فنڈ ضروری ہیں‘ سرمائے سے چلنے والے میڈیا کی مدد چاہیے۔ یہ دونوں جو کوئی فراہم کریگا‘ جمہوری ارباب سیاست پتلیوں کی طرح اس کے اشاروں پر ناچیں گے۔
پچاس کروڑ مسلمان اگر اس سیکولر بھارتی جمہوریت میں ہوتے تو دنیا ان کی پسماندگی اور افلاس کی مثالیں دیتی۔ سیلاب میں ڈوبے بنگالی‘ ہندو مہاجن کے قرض میں جکڑے پنجابی اور سندھی‘ پسماندہ بلوچ جن کی ریاست قلات میں چند میل پکی سڑک تھی اور کوئٹہ سے کراچی تک صرف دو جگہ پانی میسر تھا۔ انھیں اس اکثریت کی آمریت میں صرف ایک ہی بات یاد آتی۔ ہم پر اس لیے ظلم کیا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں‘ جس طرح آج کے بھارت کے مسلمان نہ خود کو پنجابی کہتے نہ گجراتی اور نہ بنگالی‘ اس لیے کہ سب پر جمہوریت کی اکثریت کا ان پر بحیثیت مسلمان ظلم یکساں ہے۔
اس فقرے کی گونج 1970ء کے الیکشن میں بدترین شکست کے بعد مولانا مودودی کے منہ سے سنائی دی تھی۔ میں اس عصر کی محفل میں موجود تھا جب انھوں نے کہا تھا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جمہوریت کے علاوہ اور بھی بہت راستے ہیں اور پھر انھوں نے راستے گنوانا شروع کر دیے۔ آج 44 سال بعد عوامی جرگے کے ناکام و نامراد لوٹنے کے بعد سراج الحق صاحب نے فرمایا۔ ’’اس طرز جمہوریت کو ایک نہیں تین طلاقیں‘‘۔ وجہ بتائی کہ سیاستدان کروڑوں لگا کر اربوں کماتے ہیں۔ طلاق کا اصول یہ ہے کہ اگر وہ کسی وجہ کے ساتھ منسوب کر دی جائے اور وہ وجہ قائم رہے تو شرعاً طلاق ہو جاتی ہے۔
معلوم نہیں کہ یہ طلاق قائم رہتی ہے یا حلالہ کی نوبت آ جاتی ہے۔ رضائے الٰہی کا حصول ہو یا اسلامی شریعت کا نفاذ‘ مغربی جمہوری نظام کا راستہ ہی اس سے مختلف ہے۔ کیا سید الانبیاء کی دعوت یہ تھی کہ اسلام قبول کر لو تمہیں تعلیم‘ صحت‘ روز گار اور بہتر زندگی کی سہولیات ملیں گی۔ سیکولر اور مذہبی جماعتوں کے منشور اٹھائیں‘ اوپر کے ورق پھاڑیں‘ سب کے اہداف ایک جیسے ہیں‘ صرف دینی جماعتوں نے ان میں قرآن کی آیات تحریر کر رکھی ہیں۔ یہ سب اس سرمایہ دارانہ‘ سودی نظام کے تحفظ کے راستے پر گامزن ہیں۔ جہاں یہ تصور کر لیا جائے کہ اللہ کی حاکمیت اسی وقت اس ملک پر قائم رہ سکے گی اگر اسے آئین کے چند صفحات تحفظ دیں تو اس سے بڑا شرک اور کیا ہو سکتا ہے۔ پھر اس شرک کے تسلسل کو پاکستان کے مستقبل سے وابستہ کیا جاتا ہے۔
یاد رکھو اگر اللہ چاہے گا تو یہ ملک سلامت رہے گا‘ خواہ آئین اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں کیوں نہ پھینک دیا جائے اور اگر اللہ نے ہمارے اعمال کی سزا کے طور پر اسے ختم کرنے کا فیصلہ کر دیا تو سارے کا سارا دستور اسلامی بنا دو اور اس کی ایک شق پر بھی عمل نہ کرو تو یہ پاکستان نہیں بچ سکے گا۔ لیکن اس پاکستان نے رہنا ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی غیرت و حمیت اور سید الانبیاء کی بشارتوں کی علامت ہے۔ اگر اللہ کی غیرت و حمیت اور حاکمیت اعلیٰ پر کامل ایمان ہو تو پھر سسٹم کے تسلسل پر نہیں اللہ کی تقدیر پر یقین ضروری ہوتا ہے۔
تدبیر کے بندوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ حالات کے غلام ہوتے ہیں۔ لیکن حالات اب تاریخ کا رخ موڑنا چاہتے ہیں۔ یہ تو ابھی اسلام آباد پر بادل نمودار ہوئے ہیں‘ یہ کالی گھٹا بنیں گے‘ سیلاب جو بڑی بڑی عمارتوں کے مکینوں کو بہا کر لے جائے گا۔ قیامت کا سماں ہے۔ سورہ التکویر کی اس آیت کے مصداق کہ جب وحشی جانور اپنی وحشت بھول کر اکٹھے ہو جائیں گے۔ وہ باتیں‘ وہ نعرے‘ وہ مطالبے جو دھرنے میں کیے جا رہے ہیں اگر یہ ساری جماعتیں پارلیمنٹ کے ایوان میں کرتیں‘ ایک سال یہ ہنگامہ اس ایوان میں برپا رہتا تو کیا دھرنے کا کو جواز باقی رہتا۔ لیکن یہ تو صرف اور صرف تسلسل چاہتے ہیں۔
ایک فرعون کا اقتدار چار سو فرعون میں تقسیم کر کے اسے جمہوری تسلسل کا نام دینا چاہتے ہیں۔ سراج الحق صاحب‘ تین طلاق دے دیں کہ جسے آپ آزادی کی نیلم پری سمجھ کر بچانا چاہتے ہیں‘ وہ دیو استبداد ہے۔ اس اللہ سے امید استوار کریں جو نہ کسی تسلسل کا محتاج ہے اور نہ کسی نظام کا تابع۔ گھٹا چھانے والی ہے‘ سیلاب کی آمد ہے جو بڑے بڑے پُر غرور سروں کو ڈوبتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور کر دیتا ہے ’’میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لایا‘‘۔ 


 

18 اگست، 2014

کھلا چیلنج


دنیا کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھیں اس کے مقدمے میں صاحب کتاب نے قارئین سے کتاب میں ممکنہ غلطیوں کوتاہیوں اور سہو پر پیشگی معافی مانگی ہے سوائے ایک کتاب کے جس کے شروع میں ہی اس کے مصنف کا فرمان ہے کہ:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں"

اور پھر کتاب میں بار بار چیلنج ہے کہ اگر غلطی ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈ کر دکھاؤ، اور اس چیلنج کو دیے چودہ صدیوں سے زائد کاعرصہ بیت چکا ہے۔
 

 أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے

سورة النساء 82

14 اگست، 2014

خدارا کوئی تو قادری صاحب کو جا کر کہہ دے !


 خدارا کوئی تو قادری صاحب کو جا کر کہہ دے !
قاری حنیف ڈار 

 اورنگ زیب بادشاہ بہت نیک انسان تھا ، شنید ھے کہ اس کی تکبیرِ اولی کبھی فوت نہیں ھوئی تھی ، اس کے دربار میں ایک مسخرہ کوئی بہروپ بھر کے آیا ، بادشاہ نے اسے پہچان لیا ،، اور کہا کہ ھم تمہیں ھر بہروپ میں پہچان لیتے ھیں، اس پہ اس نے اورنگ زیب کو چیلینج دیا کہ اگر وہ بادشاہ کو دھوکا دینے میں کامیاب ھو گیا تو پانچ سو ٹکہ انعام میں لے گا ،، اس وقت ایک ٹکہ برطانیہ کے 80 پاونڈ کے برابر ھوتا تھا !

بادشاہ مرھٹوں کے خلاف جہاد کے لئے نکل کھڑا ھوا ، 22 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے مرھٹوں کا زور توڑ کر رکھ دیا ، ان 22 سالوں میں وہ پلٹ کر اپنے دارلخلافے بھی واپس نہ آ سکا ،، اور وھیں جان، جانِ آفریں کے سپرد کر کے اورنگ آباد میں دفن ھوا !

اورنگ زیب صوفی منش مگر توحید پسند انسان تھا ، اس کی صوفیت کو شرک کا تڑکا نہیں لگا تھا ! دورانِ معرکہ مشکل پیش آ رھی تھی اور قلعہ فتح نہیں ھو رھا تھا ،، اس علاقے کے لوگوں نے اورنگ زیب کو بتایا کہ اس علاقے کی ایک غار میں ، ایک اللہ والا کئ سال سے بیٹھا ھے ، اور مستجاب الدعا ھے ،جسے دعا دیتا ھے ضرور قبول ھوتی ھے ، اس سے دعا کرانا چاھئے ،، بادشاہ اس فقیر کی خدمت میں پیش ھوا اور دعا کی درخواست کی، فقیر نے بے نیازی سے گردن ھاں میں ھلا دی !
اللہ کا کرنا ایسا تھا کہ اگلے چند دن میں وہ قلعہ فتح ھو گیا اور مرھٹوں نے ہتھیار ڈال کر قلعہ اورنگ زیب کو سونپ دیا ،، بادشاہ اگلے دن اس فقیر کی گپھا پہ حاضر ھوا ، اور اسے وہ قلعہ بمع پانچ سو دیہات کے لکھ کر دے دیا ،،مگر اس فقیر نے وہ دستاویز پکڑ کر پھاڑ دی اور بادشاہ کو اشارے سے نکل جانے کے لئے کہا !

اگلے دن اورنگ زیب وھاں سے کوچ کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ اسے بتایا گیا کہ گپھا والا فقیر اس سے ملاقات کرنا چاھتا ھے ،، بادشاہ بے حد خوش بھی ھوا اور حیران بھی ،، فقیر کو دربار میں بلوایا گیا ،، فقیر نے سلام دعا کے بعد بادشاہ سے کہا کہ نکالو میرا 500 ٹکہ ،، جو تم نے انعام میں دینے کا وعدہ کیا تھا کیونکہ میں آپ کو دھوکا دینے میں کامیاب ھو گیا ھوں !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

اورنگ زیب نے حسبِ وعدہ اسے 500 ٹکہ دیا ،، مگر سوال کیا کہ کل میں تمہیں قلعہ بمع 500 دیہات انعام میں دے رھا تھا تو تم نے اسے حقارت سے ٹھکرا دیا اور آج 500 ٹکہ لینے آ گئے ھو ؟ اس نے جواب دیا ، بادشاہ سلامت میں نے جو بہروپ بھرا تھا ،، اس بہروپ کا تقاضہ یہی تھا کہ اسے قبول نہ کروں ،، میں اس مقام کو لوگوں کی نظروں سے گرنے نہیں دینا چاھتا تھا ، وہ بہروپ تھا مگر ایک مقدس امانت تھی ، میں اس میں خیانت نہیں کر سکتا تھا ،، جبکہ یہ ٹکہ میرا حق ھے ،،

نیز یہ میرا آخری سوانگ تھا ،، میں واپس اپنی گپھا میں جا رھا ھوں ،مگر اب اپنی حقیقت کے ساتھ - جس اللہ نے میرے بہروپ کی عزت رکھی ھے وہ میری حقیقت کا کتنا بڑا قدردان ھو گا !

کوئی قادری صاحب سے کہہ دے کہ اگرچہ یہ سوانگ بھی ھو ،، شکل دین داروں والی بنائی ھے تو خدارا اس مقام کا تو خیال کریں ! جھوٹ در جھوٹ اور کہہ مکرنیاں ؟


video
 

13 اگست، 2014

جب طاہر القادری میرے کلاسفیلو تھے


 جب طاہر القادری میرے کلاس فیلو تھے!
عطاء الحق قاسمی

مجھے مفتی نعیم صاحب کی اس بات سے اختلاف ہے کہ طاہر القادری صاحب کو ٹی وی چینلز’’علامہ‘‘ نہ کہیں کیونکہ وہ ایک بے علم آدمی ہیں اور خدائی احکام کے برعکس زمین پر فساد برپا کررہے ہیں، قبلہ مفتی صاحب کو شاید علم نہیں کہ پاکستان میں قادری صاحب نے قرآن پر حلف اٹھا کر کہا تھا کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے 19برس عالم رویا)خواب(میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد انڈیا میں اسی طرح قرآن پر حلف اٹھاتے ہوئے انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کی شاگردی میں چار سال تخفیف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ ؒکے سامنے عالم رویا میں15 سال تک زانوئے تلمذ تہہ کیا تو جس شخص نے علم دین براہ راست امام ابوحنیفہؒ سے حاصل کیا ہو، مفتی نعیم صاحب ان کے علامہ ہونے پر کیسے اعتراض کرسکتے ہیں، میں نے یہ بات آج تک چھپا کر رکھی تھی تاہم آج انکشاف کررہا ہوں اور قادری صاحب کو شاید یاد ہو کہ امام ابوحنیفہؒ سے حصول تعلیم کے دوران میں ان کا کلاس فیلو تھا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اکثر بھری کلاس میں قادری صاحب کو مرغا بنا کر ان کی کمر پر علامہ طاہر اشرفی کو لاد دیا کرتے تھے جس پر ان کی چیخیںنکل جاتی تھیں۔ دراصل یہ جھوٹ بہت بولتے تھے اور کئی دفعہ بلاوجہ بھی بولتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے ا مام ؒصاحب سے کہا کہ آپ کو علم ہے میں امام حسینؓ کی معیت میں یزیدی لشکر کے خلاف لڑا تھا اور شہادت کا درجہ پایا تھا۔ اس بار قادری صاحب کی یہ بات سن کر امام ابوحنیفہؒ غصے میں نہیں آئے بلکہ انہوں نے مسکرا کر کہا ’’شہادت کا درجہ پانے کے بعد پھر تم زندہ کیسے ہوئے‘‘ جس کا ترت جواب قادری صاحب نے یہ دیا’’آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی توقیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گے‘‘ اس پر امامؒ نے ایک بار پھر قادری صاحب کو مرغا بننے کو کہا اور علامہ طاہر اشرفی کو ان کی کمر پر بٹھادیا۔

مگر اس کے باوجود قادری صاحب بزرگان دین سے اپنی بے تکلیفوںکا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیںاور ان کے سادہ لوح مرید ان کی خرافات پر سر دھنتے نظر آتے ہیں۔ ایک دفعہ ان حضرت نے فرمایا کہ’’حضورنبی کریمؐخواب میں تشریف لائے اور یہ نوید سنائی کہ ’’طاہرالقادری تمہاری عمر63 برس ہوگی‘‘ جس کے جواب میں قادری صاحب نے کہا’’حضورؐ میں عمر میں بھی آپ سے برابری نہیں کرسکتا،لہٰذا میری عمر گھٹا دی جائے‘‘حضور اکرمؐ نے فرمایا’’ٹھیک ہے طاہر القادری تمہاری عمر میں سے ایک سال گھٹا دیتا ہوں، تم 63 نہیں 62 برس کی عمر میں وفات پائوگے‘‘ کوئی ہے جو پتہ کرے بلکہ کوئی اور کیوں برادرم جبار مرزا تحقیق کرکے بتائیں کہ ان کے 6 2 برس ہونے میں کتنے دن باقی ہیں یا کہیں انہوں نے عمر کے حوالے سے بھی نعوذ باللہ ،حضوراکرمؐ سے برابری یا برتری تو حاصل نہیں کرلی؟ ویسے نواز شریف کے ایک گزشتہ دور میں قادری صاحب نے خود پر قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچایا تھا اور اپنے گھر کی دیواروں پر بکرے کے خون کے چھینٹے بکھیر دئیے تھے، نواز شریف نے اس’’سانحہ‘‘ پر عدالتی تحقیقات کا حکم دیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران جج نے ’’علامہ صاحب سے پوچھا’’کیا حضورؐ کی بشارت کے مطابق آپ کی عمر 62 برس ہوگی؟‘‘ علامہ صاحب نے پورے یقین سے کہا ’’جی بالکل حضورؐ کی بات کیسے غلط ہوسکتی ہے؟‘‘ اس پر جج نے کہا’’تو پھر آپ اپنے ساتھ گن مین کیوں لئے پھرتے ہیں، کیا آپ کو نعوذ باللہ حضورﷺ کی بات پر یقین نہیں؟‘‘ اس پر علامہ صاحب خاموش ہوگئے۔ بہرحال ’’سانحہ‘‘ کی مکمل تحقیقات اور اصل صورتحال پوری طرح سامنے آنے کے بعد عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں کہا’’طاہرالقادری ایک جھوٹا اور فریبی شخص ہے’’اللہ کرے اس جج کے جسم میں کیڑے پڑیں جس نے شیخ السلام قائد انقلاب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری وغیرہ صاحب کے حوالے سے یہ گستاخانہ کلمات تحریر کئے تاہم کوئی پتہ نہیں کہ اس جج کو بھی بشارت ملی ہو کہ اس شخص کے بارے میں یہ کلمات درج کرو،تاہم میں اس سلسلے میں واللہ اعلم بالصواب کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا۔
 

مفتی نعیم صاحب سے معذرت کے ساتھ’’علامہ‘‘ طاہر القادری نے آج تک جتنے دعوے کئے ہیں ،کیا وجہ ہے کہ میرے جیسا حسن ظن رکھنے والا شخص بھی ان دعوئوں کے حوالے سے بدگمانی کا شکار ہوجاتا ہے، میرے خیال میں اللہ قادری صاحب کا امتحان لیتا ہے کہ اپنے دعوئوں پر یہ شخص کب تک قائم رہتا ہے۔قادری صاحب تو اپنے دعوئوں میں اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے حضورﷺکی پاکستان آمد کے لئے پی آئی اے کے ٹکٹ ، کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام اور 22کورسزوالے کھانوں کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے اپنے مریدوں سے کروڑوں روپے اینٹھے تھے تاہم اس سے قطع نظر ان کے کچھ دعوے بالکل ’’بے لوث‘‘ بھی ہیں، مثلاً یہ کہ ان کے والد بہت بڑے ڈاکٹر تھے اور ایک سعودی بادشاہ کے کامیاب علاج پر بادشاہ سلامت نے انہیں ایک مسند اور خلعت عطا کی تھی اور یہ دونوں چیزیں کہیں گم ہوگئیں ، ان کے والد بہت بڑے شاعر تھے، ان کے بیسیوں مجموعے ہائے کلام شائع ہوچکے ہیں مگر افسوس ان میں سے ایک مجموعہ بھی دستیاب نہیں۔ تیسرے یہ کہ ان کے والد بہت بڑے صوفی بزرگ تھے اور ان کا مرتبہ خواجہ معین الدین چشتیؒ کے برابر تھا ،مگر اللہ نے ان کا یہ مرتبہ خلق خدا سے پوشیدہ رکھا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ قادری صاحب لکھ چکے ہیں ظاہر ہےایسے دعوئوں سے قادری صاحب کے مرحوم والد کو کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا، بے لوثی اسی کو تو کہتے ہیں۔
 

میں نے یہ سارا کالم ،سچی بات پوچھیں تو قادری صاحب کے مریدوں اور ان کے ملازموں کو دلاسا دینے کے لئے لکھا ہے، دراصل گزشتہ روز انہوں نے اپنی تقریر میں اپنے ادارے کے ملازموں اور سادہ لوح مریدوں کو یہ’’تڑی‘‘ لگائی کہ اگر تم میں سے انقلاب آنے سے پہلے اسلام آباد سے اٹھ کر چلا آئے تو اسے قتل کردیا جائے۔ قادری صاحب گزشتہ برس خود اسلام آباد کے دھرنے سے بھاگ آئے تھے اور انہوں نے اس کی پاداش میں خود کو قتل نہیں کیا تھا لہٰذا ملازمین اور مریدین بے دھڑک اسلام آباد جائیں ،وہاں جو کام کرنے ہیں یا دامن کوہ وغیرہ کی سیر کرنی ہے اس سے فراغت پاکر واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں کیونکہ علامہ صاحب اپنے اس بیان سے مکر چکے ہیں اور کہا ہے کہ انہوں نے مذاق سے یہ بات کہی تھی اور ان کا اشارہ کارکنوں کی طرف نہیں بلکہ اپنے اور عمران خان کی طرف تھا۔ یوم شہداء پر ہنسی مذاق کی باتیں؟ یہ کام قادری صاحب ہی کرسکتے ہیں، دوسری یہ کہ ان کا عذربدتر از عذرکے زمرے میں آتا ہے، یعنی انہوں نے اپنے پیروکاروں کے قتل کا نہیں، عمران خان کو قتل کا حکم دیا ہے ،جیو قادری صاحب۔
 

اور قادری صاحب کی ایک اور ادا!قادری صاحب نے اپنے جلسے میں خود کو امام حسینؓ اور اپنے پیروکاروں کو حسینی لشکر تصور کرتے ہوئے کہا کہ شب عاشورہ کو امام عالی مقام نے دیا بجھا دیا تھا اور اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ تم میں سے جو جانا چاہے اور شرمندگی کی وجہ سے نہ جارہا ہو، وہ اس اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نکل جائے۔ اس کے بعد قادری صاحب نے فرمایا’’یہ لیں، میں آنکھیں بند کررہا ہوں جس نے جانا ہو وہ چلا جائے‘‘ اور پھر حضرت نے چند لمحوں کے لئے آنکھیں بند بھی کرلیں۔اللہ کرے طاہر القادری صاحب کی ،اگر پہلے نہیں تو اب آنکھیں کھل جائیں کہ عوام ان کی کہہ مکرنیوں سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں۔ میں انہیں یہ مشورہ ان کے ایک پرانے ’’کلاس فیلو‘‘کے طور پر دے رہا ہوںامید ہے وہ قبول فرمائیں گے، ورنہ میں ان کی جھنگ میں قیام کے دوران وقوع پذیر ہونے والے کچھ سچے واقعات سے بھی پردہ اٹھانے کا سوچ رہا ہوں۔ 
 

5 اگست، 2014

دنیا کے دو خیموں میں بٹنے کا وقت



 جو لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری ایک اچانک عمل ہے اور یہ چند دنوں تک جاری رہے گا اور پھر عالمی طاقتیں بیچ بچائو کروا دیں گی۔ اس دوران غزہ کے مسلمانوں کو کافی سبق سکھایا جا چکا ہو گا۔ ایسے افراد کو ایک دفعہ گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران یہودی دانشوروں‘ سیاستدانوں اور خصوصاً صیہونی لٹریچر کا مطالعہ کر لینا چاہیے جو ان سالوں میں ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے شایع ہوتا رہا ہے۔ جن ’’عظیم‘‘ دانشوروں کو یہ غلط فہمی ہے کہ اسرائیل دنیا میں موجود قومی ریاستوں کی طرح کی ایک ریاست ہے جس کی متعین حدود ہیں‘ اقتدار اعلیٰ ہے‘ جمہوری حکومت ہے تو انھیں بھی اس خوش فہمی کو دل سے نکال دینا چاہیے۔

یہودی دنیا بھر کے ممالک میں اگرچہ مطعون تھے‘ دو ہزار سال سے در بدر تھے‘ انھیں شدید نفرت کا سامنا تھا‘ اس کے باوجود وہ دنیا کے کاروبار‘ بینکاری اور میڈیا پر انیسویں صدی کے آخر تک چھا چکے تھے۔ اسپین میں ازابیلا اور فرڈنینڈ کی حکومت آنے پر یہودیوں کو خلافت عثمانیہ کے علاقوں میں امان بھی مل چکی تھی اور یورپ سے امریکا ہجرت کرنے والوں میں جہاں ہر ملک کے بدنام زمانہ لوگ شامل تھے وہیں کثیر تعداد میں یہودی تھے جنہوں نے جنگ عظیم اول سے پہلے ہی امریکی اقتدار کو اپنے شکنجے میں لے لیا تھا۔


1896ء میں جب صیہونیت کی داغ بیل ڈالتے ہوئے مشہور زمانہ پروٹوکولز لکھے گئے تو وہ تاج برطانیہ جو یہودی سودی سرمائے کا مقروض تھا اس نے انھیں ایک قوم تصور کرتے ہوئے بالفور ڈیکلریشن 1916ء میں جاری کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہودیوں کو پوری دنیا میں کوئی جائے پناہ میسر نہ تھی۔ تمام اتحادی ممالک اور امریکا کے دروازے ان کے لیے کھلے تھے۔ پھر وہ حیفہ اور تل ابیب جیسے بے آب و گیاہ علاقے میں کیونکر آباد ہوئے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد تو یورپ میں بھی ان کا غلبہ ہو چکا تھا۔ ان کے خلاف گفتگو کرنا بھی قابل سزا جرم بن چکا تھا۔ پھر وہ یورپ کے ’’جنت نظیر‘‘ اور پر امن ممالک کو چھوڑ کر ایک ایسے ملک میں کیوں آباد ہو گئے جہاں انھیں چاروں جانب سے دشمنوں کا سامنا تھا۔ انھیں اپنے دفاع کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑیں، حفاظت کے لیے اونچی اونچی دیواریں بنانا پڑیں، پوری قوم کو لازمی فوجی تربیت دینا پڑے۔


قومی ریاست کے تصور کے علمبردار اور سیکولر نظریے کے داعی اس سوال کا جواب نہیں دیتے۔ اس لیے کہ اس کا جواب صرف ایک ہی ہے کہ یہودی ایک آخری عالمی جنگ کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ایسی جنگ کے نتیجے میں ان کے مذہبی ربیئوں کے نزدیک فتح نصیب ہوگی اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی طرح کی عالمی حکمران حکومت قائم ہونی ہے جسے وہ Ruling state of the world کہتے ہیں۔


پوری دنیا کے یہودی اس جنگ کے لیے وسائل مہیا کرتے ہیں اور متحد ہیں۔ ان کے نزدیک ان کی یہ جنگ مسلمانوں سے ہونا ہے۔ گزشتہ پندرہ سال سے یہودی مفکرین‘ مذہبی رہنما‘ یہاں تک کہ ان کے اہل تصوف بھی بار بار یہ تحریر کر رہے تھے کہ 2014ء اور 2015ء میں لگنے والے چار مکمل چاند گرہن اس وقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دنیا کا ہیڈ کوارٹر اب امریکا سے اسرائیل منتقل ہونا ہے۔ ان پندرہ سالوں میں انھوں نے ایک مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ امریکا اور اس کے حواریوں سے اپنے لیے راہ ہموار کروائی۔
 

عراق کی طاقت کا خاتمہ‘ عرب بہار کے نتیجے میں مسلم امہ میں انتشار جس کا نتیجہ یہ کہ مصر میں اخوان حکومتی تشدد کا شکار‘ حزب اللہ شام اور عراق میں اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف لڑتی ہوئی‘ ایران جو آواز اٹھاتا تھا وہ سعودی عرب سے کشمکش اور داعش کے خطرے کی وجہ سے عراق میں الجھا ہوا‘ سعودی عرب اور عرب ریاستیں اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے امریکا کی دست نگر‘ ایسے میں یہودیوں کے مذہبی رہنماؤں نے اپنی پیش گوئیوں اور منصوبہ بندی کے مطابق جنگ کا آغاز کر دیا۔ اب کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ جنگ انجام سے پہلے ختم کردی جائے گی۔
 

لیکن کیا مسلم امہ نے کبھی غور کیا کہ یہی وقت ہے جس کی بشارت سیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کر لیں۔ اس لڑائی میں مسلمان یہودیوں کو قتل کردیں گے‘ یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائیں گے تو پتھر اور درخت یوں کہے گا۔ ’’اے مسلمان اللہ کے بندے ادھر آ میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہے اس کو مار ڈال۔ مگر غرقد نہیں کہے گا کیوں کہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ (مسلم)۔ اسے دنیا بھر میں JEW TREE کہا جاتا ہے اور اسرائیل میں اس کی سب سے زیادہ شجرکاری کی گئی ہے۔

دنیا بھر سے یہودی اسرائیل کی سرزمین پر پکنک منانے یا کسی معاشی فائدے کے لیے جمع نہیں ہوئے بلکہ اس جنگ کے لیے جمع ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے بقول ایک ایسی حکومت قائم ہونی ہے جو عالمی سپر پاور کی حیثیت رکھتی ہو۔ وہ اپنی کتاب ایزاخیل کی اس پیش گوئی پر یقین رکھتے ہیں۔ ’’اے صہیون کی بیٹی خوشی سے چلاو‘ اے یروشلم کی بیٹی مسرت سے چیخو‘ دیکھو تمہارا بادشاہ آ رہا ہے۔ وہ عادل ہے اور گدھے پر سوار ہے۔ خچر یا گدھی کے بچے پر۔ میں یو فریم سے گاڑی کو اور یروشلم سے گھوڑے کو علیحدہ کر دونگا۔ جنگ کے پر توڑ دیے جائیں گے۔ اس کی حکمرانی سمندر اور دریا سے زمین تک ہوگی۔ (زکریا9:9-10) اسی کتاب میں لکھا ہے’’اس طرح اسرائیل کی ساری قوموں کو ساری دنیا سے جمع کرونگا‘ چاہے وہ جہاں کہیں بھی جا بسے ہوں اور انھیں ان کی اپنی سرزمین میں جمع کرونگا، میں انھیں اس سرزمین میں ایک ہی قوم کی شکل دے دونگا‘ اسرائیل کی پہاڑی پر جہاں ایک ہی بادشاہ ان پر حکومت کرے گا۔ (ایزاخیل‘ 37:21-22)


انہی بشارتوں کے مکمل ہونے کے لیے وہ اس سرزمین پر جمع ہوئے ہیں۔ لیکن ان کا حال بھی ویسا ہے جیسا آج ہمارے مسلمانوں کا ہے۔ اپنی مرضی کی آیت اٹھا کر اسے مکمل سمجھ لیتے ہیں۔ اسی کتاب ایزاخیل میں اس آخری جنگ کا وہی انجام درج ہے جو سید الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ایزاخیل کے 22 ویں باب میں لکھا ہے ’’پھر ایلی کہتا ہے کہ کیونکہ تم لوگ میرے نزدیک کھوٹے سکے ثابت ہوئے ہو۔ اس لیے تمہیں یروشلم میں جمع کرونگا جیسے سونا‘ چاندی‘ ٹن‘ لوہا اور کانسی کو آگ میں ڈالنے کے لیے جمع کرتے ہیں، اس طرح میں بھی تمہیں غصے اور غضب کے درمیان جمع کرونگا اور پھر تمہیں پگھلا دوں گا۔ میں تم پر اپنے غضب کی آگ بھڑکا دونگا اور تم پگھل جاؤ گے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے رب نے تمہارے اوپر اپنا غضب نازل کیا ہے۔ (22:19-22)
لیکن ان کی کتاب جرمیاہ (Jeramiah) میں تو اس آخری معرکے کے اختتام کا منظر ہولناک ہے۔ ’’ان کی تباہی اور سزا کے اعلان کے بعد جس کے بعد ان کی لاشیں کھلے آسمان تلے ڈال دی جائیں گی‘ جہاں گدھ اور کیڑے مکوڑے ان کو کھالیں گے حتی کہ ان کے بادشاہوں اور لیڈروں کی ہڈیاں بھی گل جائیں گی اور زمین میں کوڑے کرکٹ کی طرح پھیل جائیں گی‘‘۔ (8:3) لیکن کیا مسلم امہ اور خصوصاً عرب دنیا کو اس کا اندازہ ہے۔
اسرائیل جس جنگ کے لیے سات دہائیاں قبل قائم کیا گیا‘ جس کی تیاری پوری یہودی قوم 1896ء سے کر رہی ہے ہمیں اس کا احساس نہیں۔ ہم خصوصاً عرب اقوام ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہیں جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ایک ایسا فتنہ ظاہر ہوگا جو سب عربوں کو لپیٹ میں لے لے گا۔ اس فتنے میں قتل ہونے والے جہنم میں جائیں گے۔ اس فتنے میں زبان کی کاٹ تلوار سے زیادہ ہوگی۔‘‘ (مسند احمد‘ ابی داؤد‘ ترمذی‘ ابن ماجہ) کیا اس لمحے جب اسرائیل نے اپنی جنگ کا آغاز کردیا ہے‘ وہ سب لوگ جو مسالک کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو زبان کی کاٹ سے حکومتوں کی گدیوں پر بیٹھے یا منبروں پر براجمان امت کے گروہوں کو لڑنے پر اکسا رہے ہیں کیا ان کے سامنے سید الانبیاءﷺ کی جہنم کی وعید موجود نہیں۔


یہی وہ زمانہ ہے جس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا ’’عرب کی تباہی‘‘۔ ابھی تو شامت اعمال کے دن ہیں کہ اس اندرونی فتنے سے جو بچ نکلے گا وہی ہو گا جس کے ہاتھ میں اللہ کی نصرت کا پرچم ہو گا۔ یہ بڑی جنگ جس کے آخر میں دجال کا ظہور ہو گا اس سے پہلے دنیا دو خیموں میں بٹ جائے گی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے‘ ایک اہل ایمان کا خیمہ جس میں بالکل نفاق نہیں ہو گا دوسرا منافقین کا خیمہ جن میں بالکل ایمان نہیں ہو گا۔ جب ایسا ہو تو دجال کا انتظار کرو کہ آج آئے یا کل‘‘۔ (ابوداؤد‘ مستدرک) ابتلا کا دور ہے‘ شامت اعمال ہے‘ صفائی کا موسم ہے‘ دنیا دو خیموں میں بٹنے کے نزدیک ہے۔ 


اوریا مقبول جان 





 

4 اگست، 2014

غزہ کی صورت حال پر طاہر القادری سے ایک صحافی کی گفتگو


صحافی: مولوی صاحب، اسرائیل نے سیکٹروں بچوں سمیت دو ہزارکے قریب لوگ شہیدکر دیئے ہیں سب لوگوں نے اس کی مذمت کی ہے لیکن آپ کی طرف سے ایک لفظ تک نہیں کہا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟
مولوی صاحب: اسرائیل خود مختار ملک ہے، اس کے اندرونی مسئلے پر مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔
صحافی:لیکن وہاں مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔
مولوی صاحب: اچھا؟ مجھے تو کسی نے بتایا تھا وہ کوئی فلسطینی وغیرہ ہیں۔
صحافی: فلسطینی مسلمان ہیں، آپ سب جانتے ہیں۔
مولوی صاحب: یہ بات ٹھیک ہے، میں ہی تو ہوں جوسب جانتا ہوں اور سب سے زیادہ جانتا ہوں۔
صحافی:پھر آپ نے بیان کیوں نہیں دیا۔
مولوی صاحب:آپ اخبار ٹی وی نہیں دیکھتے، میں تو دن میں چھ بار بیان دیتا ہوں کہ یہ حکومت نہیں رہے گی۔
صحافی: یاہو کی حکومت؟
مولوی صاحب:نہیں نواز شریف حکومت، اب اسے جانا ہوگا، پھر انقلاب آئے گا اور یا ہو نہیں میں گوگل استعمال کرتا ہوں۔
صحافی: لیکن فلسطین۔۔۔
مولوی صاحب:میں نے اپنا مؤقف دے تو دیا۔
صحافی: لیکن مذمت تو نہیں کی۔
مولوی صاحب:میں ہر روز چھ بار مذمت کرتا ہوں۔
صحافی: اسرائیل کی ؟
مولوی صاحب:نہیں نواز شریف کی۔
صحافی: لیکن آپ اسرائیل کی مذمت کیوں نہیں کرتے۔
مولوی صاحب:دہشت گردوں کے بارے میں میرا موقف میرے فتوے میں آچکا ہے۔ جو میں نے کینیڈا کی بابرکت، الہامی اور روحانی فضاؤں میں لکھا تھا، آپ وہ پڑھ لیں۔ منہاج کے دفتر سے خرید لیں یا امریکی سفارتخانے جا کر مفت پڑھ لیں۔
صحافی: لیکن مذمّت ؟
مولوی صاحب:میں نواز شریف کی شدید مذمت کرتا ہوں، میں شہباز شریف کی شدید مذمت کرتا ہوں، سن لیا، اب جاؤ۔ میرا موبائل بج رہا ہے، ’’تازہ الہام‘‘ آرہا ہے۔ آپ فوراً جاؤ،’’الہام‘‘ صرف خلوت میں سنا جاتا ہے۔

عبداللہ طارق سہیل

1 اگست، 2014

علمائے امت اور غزہ کے مسلمان

 کسی بھی تجزیہ نگار‘ دانشور‘ سیاست دان یہاں تک کہ اس امت کے علماء تک کی گفتگو‘ تحریر یا تقریر ملاحظہ کریں جو ان دنوں فلسطین کے مسلمانوں پر اسرائیلی ظلم و تشدد اور بربریت کے جواب میں کی یا لکھی گئی ہو تو اس میں آپ کو ایک نکتہ مشترک ملے گا۔ ’’ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں‘‘۔ چوراہوں‘ سڑکوں‘ پریس کلبوں اور عالمی دفاتر کے سامنے پلے کارڈ اٹھائے‘ نعرے لگاتے اور موم بتیاں جلاتے لوگ نظر آئیں گے۔ یہ سب اس بات پر کسقدر مطمئن ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ ہم نے اپنا حصہ ڈال دیا۔

اب ہم دن بھر شاپنگ کریں‘ عیش و عشرت میں گم رہیں اور پھر رات کو مزے کی نیند سو جائیں‘ ہم مطمئن ہیں۔ یہ عالمی ضمیر ہے کیا چیز۔ کیا گزشتہ پندرہ سالوں میں ہر بڑے چھوٹے‘ بوڑھے جوان نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا؟ گیارہ ستمبر کے بعد اسی عالمی ضمیر نے نیویارک میں اکٹھے ہو کر چالیس سے زیادہ ممالک کو یہ اختیار دیا تھا کہ ایک ایسے ملک پر ٹوٹ پڑیں جو وسائل کے اعتبار سے دنیا بھر میں سب سے کمزور ہے۔ اس کے پاس نہ رسد و رسائل کے ذرایع تھے اور نہ ٹیکنالوجی۔ لیکن اس کے باوجود بھی پہاڑوں‘ جنگلوں اور بیابانوںمیں آباد ان چرواہوں اور کسانوں کو انسانیت کا سب سے خطرناک دشمن قرار دیا گیا۔


دنیا کے یہ اڑتالیس غنڈے اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ اس عالمی ضمیر کا نمایندہ پاکستانی وفد جب ملا محمد عمر کے پاس گیا تو اس نے اور بہت سی باتوں کے علاوہ ایک بات ایسی کی جو اب سچ ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے کہا تھا ’’دیکھو یہ باری کی بات ہے‘ ہماری باری پہلے آ گئی ہے‘ کل تمہاری بھی آ جائے گی۔ ہمیں خاک ہونے کا ڈر نہیں کہ ہم مٹی کے گھر میں رہتے ہیں‘ مٹی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ ہم نے مٹی میں چلے جانا ہے۔ ان لوگوں کا کیا ہو گا جنہوں نے آسمان سے چھوتی عمارتیں تعمیر کر لی ہیں۔ آسائش کی زندگی اور تعیش کا سامان جمع کر لیا ہے۔ اللہ کا واسطہ باریاں مت لگاؤ‘‘۔ لیکن ہم سب نے اسی عالمی ضمیر کا ساتھ دیا۔
 

وہ سب جو آج غزہ کے ظلم پر چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ کوئی پڑوسی ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔ انھوں نے اس عالمی ضمیر کا ساتھ دینے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے دی۔ میرے ملک سے امریکی طیارے ستاون ہزار دفعہ اڑے اور انھوں نے اسی طرح افغان مسلمانوں کے جسموں کے پرخچے اڑائے جس طرح آج غزہ میں اسرائیل کر رہا ہے۔ ایران نے نہ صرف بدترین خاموشی دکھائی بلکہ اس کے پاسداران کے سربراہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر امریکی حملے کے دوران ہمارے جوان شمالی اتحاد کے ساتھ شانہ بشانہ نہ لڑ رہے ہوتے تو یہ فتح ممکن نہ تھی۔
 

تاجکستان نے کابل کی طرف پیش قدمی کا راستہ دیا۔ عالمی ضمیر مطمئن ہوگیا۔ دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ افغانستان فتح کر لیا گیا۔ کیا اس کے بعد کسی اور کی باری نہیں آئی۔ شاید ہم بھول گئے۔ اس کے بعد عراق تھا۔ اس کے لیے تو کسی نے نیویارک میں موجود عالمی ضمیر کی علامت اقوام متحدہ سے اجازت لینے کی ضرورت تک محسوس نہ کی۔ امریکا اور اس کے اتحادی اپنی فوجی قوت اور میڈیا کے پراپیگنڈے کے زور پر عراق میں داخل ہوئے۔ کونسا پڑوسی تھا جس نے اس ظلم پر احتجاج کیا۔ سب نے اس عالمی ضمیر کے سامنے سر جھکائے بلکہ سجدہ ہائے تعظیمی کیے۔
 

شام‘ اردن‘ کویت‘ قطر‘ سعودی عرب اور ایران سب کے سب کئی سال عراق کے نہتے اور مظلوم انسانوں کے قتل عام کا تماشہ دیکھتے رہے۔ معاملہ یہاں تک رہتا تو بات سمجھ میں آتی تھی کہ ان کا ضمیر اس عالمی ضمیر نے خرید لیا ہے لیکن پھر ان دونوں ملکوں میں جب ان عالمی غنڈوں نے اپنی مرضی کے آئین تحریر کیے، اپنی نگرانی میں الیکشن کروائے اور اپنی کاسہ لیس حکومتیں قائم کیں تو ان تمام ممالک نے ان دونوں حکومتوں کو نہ صرف جائز تسلیم کیا بلکہ ان کے ہر ظلم پر بدترین خاموشی اختیار کی۔
 

یہ حکومتیں شہروں کے شہر اجاڑتی رہیں، لوگوں کو دہشت گرد، القاعدہ اور باغی کہہ کر قتل کرتی رہیں اور ان کے حکمرانوں کا تمام پڑوسی ملک اپنے ایوانوں میں استقبال کرتے رہے۔ وہ جن کے ہاتھ معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگین تھے، وہ ریاض، تہران، اسلام آباد اور دمشق جیسے شہروں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے۔ اس سب کو میڈیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کامیابی قرار دیا۔ جان پلیجر Jon Plijer کی وہ مشہور ڈاکومنٹری ”war you have not seen” (جنگ جو آپ نے دیکھی نہیں) ایسے تمام چہروں کو بے نقاب کرتی ہے جو اس عالمی ضمیر اور عالمی پراپیگنڈے کے سامنے سربسجود تھے۔
 

مسلمانوں نے اپنے گزشتہ دس سالوں میں اس عالمی ضمیر کو ایک نکتہ سمجھا دیا کہ ہم بے حس ہیں، بے ضمیر ہیں اور تم جس کو بھی دہشت گرد اور انسانیت کے لیے خطرہ تصور کر کے ان کے گھر بار، خاندان اور آبادی سب کو تباہ کر دو، ہم خاموش رہیں گے۔ یہی وہ الفاظ ہیں جو آج اسرائیل اور اس کے حواری بول رہے ہیں۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ریلیاں نکالتے ہیں، پلے کارڈ اٹھاتے ہیں، یوم القدس مناتے ہیں، دنیا بھر کے ہر فرقے کے علماء اس عالمی ضمیر سے فیصلہ کروانے سڑکوں پر نکلتے تھے۔
 

کیا انھوں نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی ’’اے پیغمبر! کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کلام پر بھی ایمان لائے جو تم پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا، لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ اپنا معاملہ فیصلے کے لیے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس کا کھل کر انکار کریں‘‘ (النسا 60)۔ تجزیہ نگار، دانشور، سیاست دان یہاں تک وہ علمائے کرام جنہوں نے اس آیت کو بار بار پڑھا ہوگا، اللہ کے اس حکم کو لوگوں کو سنایا ہو گا وہ بھی اپنا معاملہ اور اپنا فیصلہ طاغوت سے کروانا چاہتے ہیں اور کس قدر بھولے ہیں کہ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا۔
 

کیا یہ سب نہیں جانتے کہ یہ دور فتن ہے۔ کیا ان سب نے احادیث کی کتب میں فتن کے ابواب اور ان میں درج احادیث نہیں دیکھیں۔ لیکن کسقدر بدقسمتی ہے کہ اس امت کے حکمران اور ان کے مسلکی علماء عراق اور شام میں ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے تلواریں نکالتے ہیں، جیش تیار کرتے ہیں، کوئی ایک حکومت کو بچانے کے لیے فتویٰ دیتا ہے تو دوسرا اس کو گرانے کے لیے۔ کسی کو اینٹوں اور سنگ مر مر کے مزارات کے تحفظ کے لیے جان دینی عزیز ہے تو دوسرے کو ان مزارات کو گرا کر اپنے جہاد کا جھنڈا بلند کرنا ہے۔ لیکن کیا ان ستاون اسلامی ممالک میں کسی ایک کے علماء میں یکسوئی نہیں کہ وہ اعلان کریں کہ نہتے فلسطینیوں کے ساتھ مل کر لڑنا فرض عین ہے۔
 

اس امت کی پچاس لاکھ سے زیادہ افواج ہیں، جو کیل کانٹے اور ایٹم بم سے لیس ہیں، کیا یہ ساری طاقت جو انھیں اللہ نے عطا کی ہے وہ قیامت کے دن ان سے حساب نہیں لے گا کہ تم نے اس امت کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات کے لیے صرف کی یا نہیں کی۔ جو جتنے بڑے منصب پر ہو گا اس کی اتنی ہی بڑی جواب دہی ہو گی۔ لیکن سب جانب خاموشی ہے، سکوت ہے، پلے کارڈ ہیں، بینرز ہیں، تبصرے ہیں، شاید یہی وہ زمانہ تھا جس کے بارے میں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ ’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب ان میں پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا دور نہیں ہے۔ لہٰذا ایسا دور جن کو ملے وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہو گا۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کوئی مسلمان ایسا کہہ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! جن پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی (السنن الواردۃ فی الفتن)
 

کیا ستاون اسلامی ممالک میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا ہے کہ جو اسلامی ممالک کو دعوت دے کہ آؤ اپنے فیصلے طاغوت سے نہیں خود کریں، خود اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔ کیا ہمارے تمام مسالک کے علمائے امت سب کو اس ایک نکتے پر جمع کر سکتے ہیں اس کا علاج ریلیاں نہیں جہاد ہے لیکن اس ایک لفظ جہاد کو منہ سے نکالنے پر ہمیں جس قدر شرمندگی ہوتی ہے، شاید اس سے کئی گناہ زیادہ ہمیں روز قیامت شرمندگی ہو گی۔ 

 tags:
oria maqbool jan, ullama e ummat our ghaza kay musalman,
urdu article, israil, america, pakistan, muslim ummah, 
اوریا مقبول جان  
 

30 جولائی، 2014

باؤلا

 ’’زیورخ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہیے تھا مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے‘‘ یہ الفاظ ایک معروف کالم نگار کے ہیں جو اپنی زیورخ یاترا کے بعد علم کی ایک نئی دنیا سے آگاہ ہو کر آئے ہیں۔ اگر لفظ ’’سودی ‘‘استعمال نہ ہوتا تو پھر بھی میرے لیے گنجائش تھی کہ میں حسن ظن سے کام لیتا کہ شاید موصوف کو بینکاری کے خون چوسنے والے نظام سے عشق ہے۔ لیکن سود کا دفاع اور اس قدر واضح اور کھل کر… اس امت کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ایسی موجود ہو۔

موصوف کی یہ سطور پڑھ رہا تھا تو مجھے سود کی حمایت کرنے والوں کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ نے جو کیفیات بتائی ہیں‘ یاد آ رہی تھیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں‘ ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر بائولا (پاگل) کر دیا ہو‘ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’تجارت بھی تو آخر سود جیسی چیز ہے‘‘۔ کس قدر سچا ہے میرا رب جو ایسے دانشوروں کی ذہنی کیفیت اور دلوں میں چھپے اسلام کے نظام کے ساتھ بغض و عناد کو جانتا ہے۔ کتنی صادق آتی ہے یہ آیت ان سطور پر جو موصوف نے اپنے کالم میں تحریر کی ہیں۔


چلیں چھوڑیں اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کو کہ ان میں حکمت وہ لوگ تلاش کرتے ہیں جن کی آنکھیں مغرب کی روشنی سے چندھیا نہ گئی ہوں۔ ان کے آئیڈیل اور قابل تعریف سوئزر لینڈ اور زیورچ کے سودی بینکاری نظام کی اصل بنیاد کیا ہے۔ وہ کونسی لوٹ مار ہے جس پر اس کی عمارت تعمیر ہے اور آج بھی اس نے دنیا بھر کے مظلوم‘ مقہور اور مجبور انسانوں کی دولت کو لوٹنے والوںکو اپنا محسن قرار دیا ہے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک شہر آباد کیا ہے۔ ایک ایسا شہر جو دنیا بھر کے ظالموں‘ چوروں‘ اچکوں‘ اٹھائی گیروں اور کرپٹ انسانوں کی دولت پر پلتا ہے۔


اس شہر کے لوگ ان بینکوں میں ان لٹیروں کی دولت کا حساب رکھتے ہیں‘ تحفظ کرتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں‘ عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ زیورچ اور سوئس بینکوں کی یہ روایت تین سو سال پرانی ہے۔ فرانس کے بادشاہوں کو اپنے عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کی ضرورت تھی اس لیے 1713ء میں The Great Council of Geneva نے رازداری کا قانون ’’Code of Seerecy‘‘ متعارف کرایا جس کے تحت بینکار کھاتے کی رقم صرف کھاتے دار کو بتاتا ہے کسی دوسرے کو اس کی اطلاع نہیں دیتا۔
اس کے بعد انقلاب فرانس آیا تو وہ سب سیاستدان‘ وڈیرے‘ نواب جنھوں نے عوام کا سرمایہ لوٹا تھا بھاگ کر یہاں آ گئے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے ان بینکوں کے کاروبار کا آغاز ہوا۔ یہ لوگ اسقدر ظالم ہیں کہ جس وقت 1930ء کا عالمی معاشی بحران آیا‘ دنیا کی حکومتیں اپنے لوٹے ہوئے پیسے کے بارے میں معلومات چاہتی تھیں تا کہ جوپیسہ عوام سے لوٹا گیا ہے ان کو واپس لوٹایا جا سکے تو سوئزر لینڈ نے 1934 Banking Actمنظور کیا اور دنیا کے غریبوں کو ان چوروں‘ لٹیروں‘ اور ڈاکوئوں کے نام اور ان کا سرمایہ بتانے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جب جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوا تو اس وقت تک سوئزر لینڈ ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک ’’محفوظ جنت‘‘ سمجھی جانے لگی تھی جو اپنے ملکوں کا سرمایہ لوٹ کر وہاں لے جائیں۔ اسے اس زمانے میں ’’Repository of capital for unstable countries‘‘(غیر مستحکم ملکوں کے سرمایے کی جنت )کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں یہودیوں پر ظلم و ستم کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہولوکاسٹ تھا‘ ان کا قتل عام ہو رہا تھا۔ یہودیوں نے اپنی حکومتوں کے خوف سے اپنا سرمایہ اور سونا ان سوئس بینکوں میں جمع کروانا شروع کیا۔
سونا ان رقوم میں صرف چار ارب ڈالر کا تھا۔ان ظالم بینکاروں نے مرنے والے یا قید ہونے والے یہودیوں کے کاغذات کو آہستہ آہستہ جلانا شروع کر دیا۔ دوسری جانب سوئزر لینڈ وہ واحد ملک تھا جس نے نازی ظلم سے بھاگنے والے یہودیوں پر اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ جرمن یہودیوں کے پاسپورٹوں پر ’’J‘‘ کا لفظ لکھتے تھے اور اس پاسپورٹ کو دیکھ کر سوئزر لینڈ کی سرحد سے انھیں واپس دھکیل دیا جاتا تھاتاکہ یہ دولت واپس نہ مانگ لیں۔
جرمن آرکائیوز کے مطابق 1944 میں جرمن وزیر داخلہ ہیزرچ ہملرHeinrich Himler نے سونے اور زیورات سے لدی ہوئی ایک ٹرین سوئزر لینڈ کے بینکوں کو بھجوائی تاکہ ناگہانی کیفیت میں جنگ میں اسلحہ کی خریداری کے لیے کام آ سکے۔ جنگ ختم ہوئی اور 1946 میں پیرس معاہدہ Paris Agreement وجود میں آیا جس کی وجہ سے اس سونے پر ان بینکوں اور عالمی اتحادی طاقتوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ ان بینکوں کو ملا۔ یہودی اپنی طاقت اور بالادستی کے باوجود ان سود خور بینکوں سے اپنی دولت نہ لے سکے۔ بددیانتی کے اس کاروبار نے سوئزر لینڈ اور موصوف کالم نگار کی جنت زیورچ کو سرمایہ فراہم کیا۔
آج بھی سوئزر لینڈ کے بینکوں میں 80 فیصد رقوم تین ذرایع سے آتی ہیں۔ -1 دوسرے ملک سے ٹیکس چوری کا پیسہ جن میں یورپ اور امریکا جیسے ممالک بھی شامل ہیں‘-2 غیر ترقی یافتہ ممالک کے آمروں اور حکمرانوں کا کرپشن اور لوٹ مار کا سرمایہ اور -3دنیا کے بڑے بڑے مافیاز کے جرائم سے حاصل کردہ سرمایہ۔ یہ ہیں وہ تین بنیادی ذرایع جو اس ’’جنت نظیر‘‘ علاقے کی آمدن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ یہ ہے سوئزر لینڈ کا بزنس ماڈل۔ چند سال پہلے تک ٹیکس چوری سوئزر لینڈ میں جرم نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب جرمن محکمہ Deutsche post کے سربراہ Klaus Zumwinkle کے بارے میں جرمن حکام نے کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کیا تو سوئزر لینڈ نے کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا۔ان بینکوں کا سوئزر لینڈ کی سیاست پر اسقدر اثر ہے کہ اس ملک کے سیاست دان بینکاری کے غلیظ دھندے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں ۔اسی لیے وہ یورپی یونین کا حصہ بننے سے انکار کرتے رہے۔ دنیا کا ہر چور‘ بددیانت‘ قاتل‘ ڈاکو‘ ظالم حکمران اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے ان بینکوں کو پناہ گاہ سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ فرانس کے سوشلسٹ وزیر خزانہ Jerome cahuzac کا بھی یہاں ایک خفیہ اکائونٹ ہے۔
فلپائن کا مارکوس‘ چلی کا آلندے‘ ایران کا رضا شاہ‘ پاکستان کا زرداری اور افریقہ کے آمروں کی لوٹی ہوئی رقوم ان بینکوں کے کاروبار کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس سارے سرمائے کا بدترین اور انسانیت دشمن استعمال یہ ہے کہ یہ سب کے سب بینک اس وقت دنیا بھر میں خوراک کی تجارت اور ذخیرہ اندوزی پر سرمایہ لگاتے ہیں۔ ملکوں سے خوراک خریدتے ہیں اور پھر ان کا ذخیرہ کر کے مہنگے داموں پر لوگوں کو بیچتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں اس وقت دنیا میں ایک ارب مرد‘ عورتیں اور بچے قحط اور بھوک کا شکار ہیں۔
یہ قاتل اور انسانیت دشمن بینک اپنے سرمائے سے کھاتے داروں کو سود ادا کرتے ہیں اور سوئزر لینڈ کے عوام کو شاندار سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ ڈاکوئوں‘ چوروں‘ آمروں‘ ڈکٹیٹروں اور انسانیت دشمن افراد کا ملازم ہے۔ ان کی فی کس آمدنی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کیوں نہ ہو ڈاکوئوں‘ چوروں اور پیشہ ور قاتلوں کے کارندے سرمائے میں نہاتے ہیں۔
یہ ہے وہ جنت جس کی تعریف مذکورہ کالم نگار نے کی ہے۔ لیکن میرے اللہ نے ایسے افراد کی کیفیت کے بارے میں کیا خوب ارشاد فرمایا تھا جو ان شہروں میں چند دن گزار کر متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’دنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوشحالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہر گز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین جائے قرار ہے (آل عمران 197)۔ کون ہے جو شہروں کی چہل پہل سے متاثر ہو کر بدترین جائے قرار کو منتخب کرلے۔ 


oria maqbool jjan article on sood
swiss bank ,money

کس منہ سے کہیں تم سے، تمہیں عید مبارک


 کئی عیدوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ تقریباًہر عید الفطر پر ہمارے اہلِ وطن اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ آج ہم عید منائیں یا اپنے پختون بھائیوں کو منائیں؟خیر یہ قصہ اور یہ قضیہ تو شاید ہمیشہ ہی چلتارہے گا۔ ابھی ابھی کسی نے (ہمارے کان پر) یہ نعرہ بھی مارا ہے کہ ۔۔۔جب تک صوبہ ’خیبر پختون خوا‘ رہے گا تب تک دو،دو چاند رہیں گے۔۔۔ (اور دو،دو عیدیں)۔۔۔ اگر مختلف ’قومیتوں‘ کے مطالبات پرملک میں کچھ زیادہ صوبے بن گئے تو کیا عجب کہ وطن عزیز پاکستان میں۔۔۔ہر روز، روزِ عید ہو، ہر شب، شبِ برات۔
سنتے آئے ہیں کہ عید کی سچی خوشی اُنھی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنھوں نے رمضان بھر روزے رکھے، تراویح کی تمام نمازیں ادا کیں اورنمازِ عید سے پہلے پہلے اپنے اوپر واجب الادا صدقۂ فطر ادا کردیا۔ جو یہ سب کچھ نہ کرے کیا خاک اُس کی عید ہے؟ مسلمانوں کی زندگی کے غم ہوں یا خوشیاں سب کے سب کسی نہ کسی انداز میں’ عبادت‘ سے عبارت ہیں۔سو، رمضان کی عبادات کی کامیابی سے تکمیل کی خوشی منانے کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ فرزندانِ توحید مارے خوشی کے عیدکے دن دو رکعت نماز زیادہ پڑھ آئے، ساتھ زائد چھہ تکبیروں کے۔
 

یہ تو ہوئیں عید کی حقیقی خوشیاں منانے والوں کی باتیں۔ مگر ہمارے یہاں عید کی مصنوعی خوشیاں منانے والے بھی بہت ہیں۔ عید کے دن ایسی بہت سی ’مصنوعات‘ کی آپ کو ہمارے ٹی وی چینلوں پر بھرمار نظر آئے گی۔عیدکے نام پر از سحر تابہ سحر مسلسل نشر ہونے والے اِن مصنوعی پروگراموں میں نہ رمضان کا ذکر آئے گا نہ روزے کا۔ سحری کی بات ہوگی نہ افطاری کی۔ تراویح کا تذکرہ ملے گا نہ جشنِ نزولِ قرآن کا۔ روزے کی مشق سے پیدا ہونے والے صبر اور ضبطِ نفس کی صفات کا جائزہ لیا جائے گا نہ خیراور خیرات میں سبقت لے جانے کا۔ ان سے کون پوچھے کہ تمھاری عید ہے کس بات کی عید؟ رمضان گزر جانے کی عید؟ کہ جس پر’جشن عید‘ مناتے ہوئے ٹھمکے پرٹھمکا لگا لگا کر اِس عزم کا اظہاراوراعلان کیا جائے گا کہ:
ایسی چال میں چلوں کلیجا ہِل جائے گا
کسی کی جان جائے گی، کسی کا دِل جائے گا
 

عید کی سب سے زیادہ خوشیاں مناتے ہوئے اور ناچتے گاتے ہوئے آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے ، جنھیں کچھ رمضان سے سروکار تھا نہ روزے سے۔مگر ناچنے دیجیے اُنھیں۔ کیوں کہ اگر آپ انھیں عید کی خوشی میں ناچنے نہیں دیں گے تو یہ مارے غصے کے اور ناچنے لگیں گے کہ اِس ملک میں ہمیں ناچنے بھی نہیں دیا جاتا وھاٹ اے کنٹری؟ کسی کو ناچنے نہ دینا اُس کی ’ آزادئ اظہار‘ سلب کرلینے کے مترادف ہے۔
’کنٹری‘ کا ذکر آیاتواِس پر ہمیں یاد آیاکہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔’عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے‘۔۔۔مگر ہم نے دوست بھی امریکا جیسے’بے دید‘ پالے ہوئے ہیں۔کہ جس کی دوستی کے طفیل ہمارا ’کنٹری‘ نہ صرف مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں رہتا ہے بلکہ ہماری قوم اور ہماری قوم کے سجیلے جوانوں کو بھی دہشت گردوں کے حملوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن سپوتوں کو اس قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اس لیے پالاتھا کہ وہ اﷲ، اُس کے رسولؐ اور ملکِ خداداد کے دشمنوں پر اﷲ کا قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے، اگر اُن میں جہاد کی جگہ جمود اور سکتہ و سکوت پیدا ہوجائے، وہ اﷲ اور اُس کے رسولؐ کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان بھائیوں پر اﷲکے دشمن یہودیو ں کو ظلم ڈھاتے ہوئے دیکھیں اور نہ صرف ٹکر ٹکر دیکھیں بلکہ اُن کے ’صفِ اول کے اتحادی‘ بھی بن جائیں تو اﷲ اُن کی ہوا اِسی طرح اُکھاڑ دیتا ہے کہ اُن کو اپنی، اپنے دفتروں کی اور اپنی چھاؤنیوں کی بھی حفاظت کی فکرپڑ جائے۔ وہ دوسروں کی جان تو کیا بچائیں گے؟ اپنی جان بچانے کے لیے دیواریں بنائیں گے۔ رُکاوٹیں کھڑی اور سڑکیں بند کریں گے۔سن 2012ء کی وہ عید الفطر یہ قوم کیسے بھول سکتی ہے جب باقی پاکستان کی عید سے فقط دو دِن قبل شمالی وزیرستان میں عید منائی جارہی تھی تو امریکا نے ڈرون حملے کرکے بروزِ عید 12پاکستانی سپاہی شہید کردیے تھے۔یہ تھا ہمارے اتحادی اور ہمارے دوست امریکا کا’تحفۂ عید‘۔امریکی صدر اوباما صاحب ایک طرف تو امریکی عوام کی طرف سے ہمیں اور ہمارے وزیر اعظم کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں، دوسری طرف عید کے دن کے لیے، پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان کے مسلمان شہریوں اور ہمارے نوجوان سپاہیوں کی کم عمر بیواؤں اوراُن کے ننھے منے بچوں کو آہوں، آنسوؤں اور دِل پاش پاش کردینے والے غموں کے تحفے بھی مسلسل مل رہے ہیں۔ہر عید پر ہماری سوگوار قوم اور اِن سانحات سے سوگوار ہوجانے والے خاندانوں پر اقبالؔ کا یہ شعرصادق آتاہے کہ:
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
 

ہماری عیدیں تواب ’شکوہِ ملک و دیں‘ بننے کی بجائے صرف ’ہجومِ مومنیں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ایسے میں ہم قوم کو عید کی مبارک باد کیسے دیں؟
  عید کے دِن نمازِ عید کے جو پُر ہجوم اجتماعات ہوں گے، اُن کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔خطیب حضرات یومِ عید کے فضائل و مناقب گِنوا گِنوا کر اسلام کی شان بیان کریں گے اور بڑے جوش وخروش سے بیان کریں گے۔ اُنھیں اِس ملک میں بس ’بیان‘ کرنے ہی کی اجازت ہے،اسلام کی شان بیان کرنے کی۔اسلام کی شان دکھانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ پھر بھی:
ملا کو جو ہے ’عید کے‘ سجدے کی اجازت
’لیڈر‘ یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزاد
 

اسلام تو اسلام، ہمیں تویہ آزادی بھی نصیب نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اپنی زبان میں تعلیم دے سکیں۔اپنی قومی زبان کواپنے ملک کی سرکاری زبان بنا سکیں یا کم ازکم اس کی عملی کوشش ہی کرسکیں۔یاصدیوں سے اپنے دین کی تعلیم و تعلم میں مصروف دینی مدارس کو امریکا کے قرار دینے پر ’دہشت گردی‘ کے مراکز مان کر اُن پرنفرین بھیجنے کی بجائے دُنیا سے اُن کا تقدس اور اُن کی اہمیت تسلیم کرواسکیں ۔ یہ مثالی تعلیمی ادارے ملک کے مفلوک الحال بچوں میں نہ صرف خیر کثیر عطا کرنے والے علم کی دولت مفت تقسیم کرتے ہیں، بلکہ اُنھیں مفت رہائش اور مفت خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران ایسا کریں تو کیسے کریں؟یہ حکام نہیں ’محکوم‘ ہیں، اور محکوم بھی طاغوت کے۔ اُنھیں اِن کاموں کی آزادی نصیب نہیں۔غنیمت ہے کہ اِس قدر محکوم قوم کو ابھی تک پُر ہجوم نمازِ عید ادا کرنے کی آزادی میسر ہے۔ مگر اقبالؔ ؒ نے کچھ غلط تو نہیں کہاتھا کہ:
عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
 

عید کے موقع پر۔۔۔ہرسال آپ پڑھتے ہی ہیں کہ۔۔۔ ہماری قوم کے (محکوم) حکمران بھی (اپنے ہی) دانت نکال نکال کر امریکی صدر کی طرح خود بھی قوم کو عیدکی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور خود بھی عید کی مبارک باد کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پرقوم کو کمرتوڑ مہنگائی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ بے پناہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور اِس کے نتیجہ میں ٹھپ ہوجانے والے صنعتی اداروں کے مزدوروں کو بے روزگاری کا ’تحفۂ عید‘ پیش کرتے ہیں۔ پھر ان تحفوں پر مستزاد بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا ’تحفۂ عیدبھی پیش کردیا جاتاہے۔ جب کہ اِن’ تحفوں‘ پر بندھے ہوئے ربن کے طورپر منہ زبانی ’عیدمبارک‘ کا ’تحفۂ عید‘ قوم کوپہلے ہی موصول ہو چکا ہوتا ہے۔اے صاحبو! کس منہ سے کہیں تم سے، تمھیں عید مبارک! 

ابو نثر  

ایک پردیسی کی عید

ایک پردیسی کی چاند رات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی روزوں کے بیچ سیتی تھیں
کس محبت سے عید کے کپڑے
دل دھڑکتا تھا آخری روزے
جب بچھڑتی تھی ہم سے افطاری
چھت پہ مسجد کی بعد از مغرب
بادلوں کی اندھیر نگری میں
چاند مل کے تلاش کرتے تھے
شب گزرتی تھی جاگتے سوتے
صبح ہوتی تھی کس قدر روشن
چہرے کھلتے گلاب ہوں جیسے
گلیاں رنگوں کی کہکشاں جیسی
جذبے ایسے کہ شہد سے خالص
ملنا اپنے پرائے لوگوں سے
سر پہ ماں کا شفیق سایہ بھی
ماں کے ہاتھوں کو چوم کر عابی
اُس کے ہاتھوں کا وہ بنا میٹھا
جس سے ممتا کا رس ٹپکتا تھا
کس محبت سے ہم وہ کھاتے تھے
قد میں ابو سے گو میں اونچا تھا
پھر بھی عیدی مجھے وہ دیتے تھے
اپنی عیدی کے ٹکڑے کرکے میں
بہنوں بھائیوں میں بانٹ دیتا تھا
یار لوگوں کی ٹولیاں اپنی
جن سے سجتا تھا عید کا میلہ
ُتو کھلائے تو میں کھلاؤں گا
ایسے کھاتے تھے ہم بھی سوغاتیں
وقت پنچھی بلا کا ظالم ہے
پر لگا کے اُڑا وہ لمحوں میں
دانہ اپنے نصیب کا عابی
ایسا رب نے بکھیر کر پھینکا
جس کو چنتے پرائے دیسوں میں
برف اُتری ہے آج بالوں میں
دور گاؤں میں چاند اُترا ہے
لوگ کہتے ہیں عید آئی ہے
باسی کھانا میں کھا کے لیٹا ہوں
میلے تکیے پہ سر ٹکائے ہوں
نیند آنکھوں سے دور بیٹھی ہے
کل کے برتن بھی میں نے دھونے ہیں
ایک جوڑا خرید لایا تھا
پہن لوں گا سویرے گر جاگا
ماں کے میٹھے کی آج بھی خوشبو
میرے کمرے میں چار سو پھیلی
مجھ سے کہتی ہے لوٹ آ پگلے
چھوڑ دے یہ نصیب کے جھگڑے
دانہ بندے کا پیچھا کرتا ہے
تیری گلیاں تجھے بلاتی ہیں
تیری عیدی سنبھال رکھی ہے
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
......................
عابی مکھنوی 


tags: aik pardesi ki eid ,chand raat, ,urdu shairi, poetry, aabi makhavi , eidi, 

27 جولائی، 2014

علامہ پروفیسر طاہر القادری کا توہین رسالت پر موقف

video

 علامہ پروفیسر طاہر القادری کا توہین رسالت پر موقف
پاکستان اور ڈنمارک میں دیے گئے دو متضاد بیانات ، سنیں علامہ پروفیسر پاکستان میں کیا کہتے ہیں اور اپنے انگریز آقاؤں کے پاس جا کر کیا کہتے ہیں.
یہ ویڈیو متعدد بار فیس بک اور یوٹیوب سے ڈیلیٹ ہو چکی ہے، ،کئی قارئین کے اسرار پراس بار پھر ہم نے بلاگ پر پوسٹ کی ہے، دیکھتے ہیں کہ کتنے دن چلتی ہے.

جب ڈیلیٹ ہو گئی تو ہم پھر کر دیں دے :)



Allama professor tahir ul qadri statements regarding blasphemy law
it is applicable on non muslims?

24 جولائی، 2014

’ایویں رولا پاندا اے‘

 ’ایویں رولا پاندا اے‘ 
ابو نثر

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ:
’’کوئی طاقت انقلاب کو نہیں روک سکتی‘‘۔
علامہ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ ایسی ناطاقتی صرف زمینی طاقتوں کے حصے میں آئے گی یا جوشِ انقلاب میں اُنھوں نے تمام آسمانی طاقتوں کو بھی کھلا چیلنج دے مارا ہے۔ویسے انقلاب کے آنے کی نوید تو ہم جنوری 2013ء سے سن رہے ہیں جب علامہ صاحب اسلام آباد کے ’ڈی چوک‘ پر سخت سردی کے موسم میں گرما گرم کنٹینر کے اندر کافی پی پی کر انقلاب لانے پر تلے ہوئے تھے۔مگر اب تک جو انقلاب نہ آسکا تو آخر اِس کی کیا وجہ ہے؟کیا اس کی وجہ انقلاب کی اپنی ناطاقتی ہے؟ یا واقعی کوئی طاقت انقلاب کو آنے سے روکے کھڑی ہے؟ ابھی پچھلے ماہ یعنی جون 2014ء میں بھی علامہ صاحب ’انقلاب بذریعہ ہوائی جہاز‘ لے کر آرہے تھے۔ مگریہ بھی اﷲ ہی جانے کہ اُس انقلاب کی آمد کی راہ میں کون سی طاقت آڑے آگئی؟ سو،انقلاب کو آنا تھا نہ آیا۔ بلکہ انقلاب کی جگہ ماہِ صیام آگیا اور ’اﷲ کا مہینہ‘ یعنی ’رمضانِ کریم‘ انقلاب کا رستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ ابھی تک کھڑا ہے۔ اب علامہ صاحب بھی کھڑے انتظار کر رہے ہیں کہ ماہِ صیام کسی طرح رُخصت ہو تو اُن کا انقلاب بھی کسی طرح آئے۔ (ارے بھئی رمضان میں قید کر دیا جانے والا، اُن کا ’محرکِ انقلاب‘ ، اُن کا گڈو بٹ، رہائی پائے گا تو انقلا ب آئے گا نا!)
صاحبو! علامہ صاحب کا انقلاب، انقلاب نہ ہوا، ایک پرانی کہانی کے چرواہے کا شیر ہوگیا، جس کے متعلق چرواہا ہر روز صدا لگاتا تھا کہ۔۔۔’شیر آیا، شیر آیا دوڑنا‘۔۔۔صدا سن کر گاؤں کے لوگ کلھاڑے لے لے کر دوڑے چلے آیا کرتے۔ مگر اُنھیں کہیں شیر نظر آتا نہ شیر کی دُم۔ بالآخر ایک روزشیر آہی گیا۔ اُس روز بھی چرواہے نے بڑی آوازیں لگائیں۔ مگر گاؤں والوں نے کہا: ’’ایویں رولا پاندا اے‘‘۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ شیر چرواہے کو چیر پھاڑ کر کھا گیا۔ ہم بھی سوچتے ہیں کہ علامہ کے صدا لگاتے لگاتے اگر کسی روز سچ مچ انقلاب آگیا تو ہم کنیڈا والوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟
علامہ صاحب نے یہ بھی فرمایاہے کہ:’’کرپٹ پولیس اہلکار انقلاب کے رستے میں نہ آئیں‘‘۔
اس سے ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ شاید کرپٹ پولیس اہلکار ہی انقلاب کے رستے میںآکر کھڑے ہوگئے تھے۔انقلاب پولیس سے ڈر گیا اور مارے ڈر کے نہ آسکا۔ اب علامہ صاحب نے جو پولیس کو للکارا ہے تو اس پر ہمیں آغاحشر کاشمیری کی للکار یاد آگئی کہ:
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لیے
بادلو، ہٹ جاؤ! دے دو راہ جانے کے لیے
اس سے ہمیں پتا چلا کہ کرپٹ پولیس اہلکاروں کی طرح، فلک پر گشت یا مٹر گشت کرتے ہوئے بادل بھی آغا صاحب کی ’آہ‘ کا رستہ روکے کھڑے تھے۔ وہ تو آغا صاحب مرحوم نے اُنھیں للکار، للکار کر ہٹایا تو ’آہ‘ کو فلک پر جانے کا رستہ ملا۔ تاہم، آغا صاحب کی ’آہ‘ فلک سے رحم لانے میں کامیاب ہوئی یا نہیں؟ اس باب میں اُردو زبان کے شیکسپیئر کے ڈراموں کی تاریخ خاموش ہے۔ مگر علامہ صاحب خاموش نہیں ہیں۔ اب تک نہ آنے والے انقلاب کے رستے کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کرپٹ پولیس والوں کو للکارے چلے جارہے ہیں کہ:
انقلاب آتا ہے تم پر قہر ڈھانے کے لیے
پُلسیو، ہٹ جاؤ! دے دو راہ آنے کے لیے
اُردو محاورے کی ’رادھا‘ اپنے ناچنے کے لیے ’نومن تیل‘ فراہم کرنے کی شرط عائد کیا کرتی تھی، اس اطمینان کے ساتھ کہ۔۔۔ ’نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی‘ ۔۔۔ مگر علامہ کو اپنے انقلاب کے لیے ’دس لاکھ تعلیم یافتہ افراد‘ کا لشکر اقتدار بنانے کی حاجت ہے۔ آپ نے فرمایا :
’’ان کی فہرست ابھی سے تیار کرنا شروع کردی جائے گی‘‘۔
دس لاکھ افراد کی فہرست بنانے میں کم از کم، کم ازکم بھی سو، دوسو، دن تو لگ ہی جائیں گے۔پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ڈھائی کروڑ تعلیم یافتہ افراد تو بیروزگار پھر ہی رہے ہوں گے۔علامہ نے تعلیم یافتہ افراد سے درخواستیں طلب فرما لی ہیں۔ درخواستیں جمع کروانے اور پھر ان کی اسکروٹنی کرکے اُن میں سے دس لاکھ افراد کی فہرست بنانے کا کام ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے کام سے بھی زیادہ دقت طلب کام ہے۔اب دیکھیے اس میں کتنا وقت لگتا ہے اور ہمارے اِس ٹیڑھے آنگن میں ناچنے کے لیے انقلاب کو دس لاکھ تعلیم یافتہ افرادکی فہرست کب تک میسر آتی ہے۔
رانا ثناء اﷲ صاحب کا کام اور اُن کا مقام آج کل رانا مشہود صاحب نے سنبھال رکھا ہے۔ سو اُنھوں نے بھی اُسی ۔۔۔ ’طرزِ بیدلؔ میں ریختہ کہنا‘ ۔۔۔ شروع کردیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’کنٹینر والے بابا کنیڈا برانڈ انقلاب لے کر جلد اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔مولانا مسلسل بیان بازی کرکے عوام کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔وہ رمضان المبارک میں اسلامی تعلیمات کی بجائے خود نُمائی کی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اُن کی شعبدہ بازی اور مسلسل جھوٹ سے عوام زچ ہو چکے ہیں۔وہ لاشوں کی سیاست کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔
ہمیں رانا مشہود صاحب کے اِن خیالات سے قطعاً اتفاق نہیں ہے۔یہ غلط ہے کہ مولانا عوام کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔وقت وہ صرف اپنا ضائع کر رہے ہیں۔عوام کو تو اُن کے بیانات سے لطف اندوز ہو ہو کر اپنا وقت مزے سے گزارنے کا موقع مل رہا ہے۔ عوام کا سارا وقت علامہ صاحب کے بیانات سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر اپنا ’روزہ بہلانے‘ میں صرف ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ داروں کی اس سے بڑھ کر دینی خدمت بھلا ہمارے علامہ صاحب اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ یہ بھی درست نہیں ہے کہ اُن کی شعبدہ بازی وغیرہ سے عوام زچ ہو چکے ہیں۔عوام زچ نہیں ہوئے۔وہ آج بھی علامہ کے بیانات سے اتنے ہی لطف اندوز ہو رہے ہیں جتنا پہلے ہوتے تھے۔رہی یہ بات کہ وہ لاشوں کی سیاست کرنے میں کبھی کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ تو رانا مشہود صاحب ’خدا کے خوف سے ڈریں‘۔ لاشوں کی سیاست کی یہ کامیابی کم ہے کہ اب رانا ثناء اﷲ صاحب کی جگہ رانا مشہود صاحب آگئے ہیں۔ہمیں یقین ہے رانا مشہود صاحب بیان بازی میں رانا ثناء اﷲصاحب کے مقام تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، ہاں اُن کے انجام تک ضرور پہنچائے جاسکتے ہیں۔
اب آخر میں ایک بار پھر وہی بات۔ یعنی علامہ کی کہی ہوئی جس بات سے ہم نے آج کے کالم کا آغاز کیا ہے کہ ’’کوئی طاقت انقلاب کو نہیں روک سکتی‘‘۔ تو یااولی لابصار! یہ تو بڑے تکبر کی بات ہے۔ جس ذات نے علامہ کو طلاقتِ لسانی کی طاقت بخشی ہے،اُس ذات کی عزت و جلال کی قَسم، وہ انھیں ضرور دکھا کر رہے گی کہ کوئی طاقت اُن کے تکبر بھرے انقلاب کو روک سکتی ہے یا نہیں؟

14 جولائی، 2014

جرم ضعیفی کی میٹھی گولیاں


 مسلم امہ کے کسی سیاسی رہنما‘ دانشور یا مغربی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی چوکھٹ پر سجدہ ریز شخص کو اگر دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد اور معصوم عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتائو تو وہ اقبال کے شعر کا ایک مصرعہ دہرانے لگتا ہے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘۔ کس قدر بے حس ہیں یہ لوگ۔ ان کے اپنے گھر پر اگر بم گرے‘ ان کے بچے تڑپتے ہوئے جان دیں‘ ان کی عورتوں کو سپاہی اٹھا کر لے جائیں تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ کوئی کتنا بھی کمزور ہو‘ انتقام کی آگ میں کھولنے لگتا ہے۔

ممکن ہو تو حفاظت خود اختیاری کا سہارا لے کر جو بھی اسلحہ گھر میں موجود ہو لے کر بدلہ لینے نکل پڑتا ہے۔ نہتا ہو تو گھر کا سامان بیچ کر انتقام کے لیے اسلحہ خریدتا ہے‘ کرائے کے قاتلوں سے رابطہ کرتا ہے‘ بدلہ لینے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو شور ضرور مچاتا ہے‘ واویلا ضرور کرتا ہے‘ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ یہ سب نہ بھی کر سکے تو اتنا ضرور کرتا ہے کہ جو لوگ یہ ظلم اور بربریت کرتے ہیں‘ ان کو اور ان کے پشت پناہوں کو دشمن سمجھتا ہے‘ ان سے شدید نفرت کرتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اسے اقبال کا جرم ضعیفی والا شعر سنا کر چپ رہنے کو کہے تو اس کا گریبان تھام کر کہنا ہے‘ تم پر بیتی نہیں اس لیے تم یہ باتیں کر رہے ہو۔ تمہارا گھر ایسے اجڑتا تو میں تم سے پوچھتا۔

لیکن وہ امت جس کی سید الانبیاء ﷺ نے یہ علامت بتائی تھی کہ یہ ایک جسد واحد ہے۔ ایک جسم جس کے کسی بھی حصے کو تکلیف پہنچے‘ باقی تمام عضو مضطرب ہو جاتے ہیں۔ اس امت میں کبھی بوسنیا‘ چیچنیا‘ افغانستان‘ عراق اور اب فلسطین میں معصوم اور نہتے لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور ہم یا تو قاتلوں کے دوست اور اتحادی ہیں یا پھر قاتلوں کے پشت پناہوں سے بھیک اور امداد مانگ کر گزارا کرنے والے ہیں۔ غیرت و ناموس بیچ کھائی ہو تو جرم ضعیفی جیسے الفاظ کس قدر تسلی بخش ہوتے ہیں۔
کاش کوئی ویت نام میں لڑنے والے نہتوں کو بھی یہ الفاظ سکھاتا۔ ہمارے ایک دانشور ہیں جنھیں مغرب کے ہر ظلم میں حسن نظر آتا ہے‘ وہ کہتے ہیں ہم اسپرین تک بنا نہیں سکتے اور امریکا سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کاش وہ یہ بتا دیں کہ ویت نام میں کس نے اسپرین ایجاد کی تھی جو انھوں نے امریکا کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ افغانستان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جس کے غیور لوگوں نے ایک سو سال میں تین عالمی طاقتوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔

یہ سب اس امت کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ اسے یہ درس بھلا دیا گیا ہے کہ نصرت اور فتح ٹیکنالوجی سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ جس رسولﷺ کے عشق کے یہ دعوے کرتے ہیں‘ اس کی سنت پر عمل کرنے کا درس دیتے ہیں‘ انھوں نے اس ہادی برحق کو بدر کے میدان میں نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ تین سو تیرہ جانثار‘ دو گھوڑے‘ چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں… یہ تھی کل کائنات اور مقابلے میں تین گنا بڑا لشکر اور تمام سامان حرب۔ کوئی ایک غزوہ بھی ایسا ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کیا شام‘ مصر‘ ترکی اور ایران فتح کرنے والے اپنے مقابل لشکروں سے تعداد‘ اسلحہ اور سامان حرب میں زیادہ تھے۔ ہر گز نہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے دور کی عالمی طاقتوں سے ٹکڑا گئے تھے۔ اس لیے کہ وہ جرم ضعیفی کی لوریوں میں نہیں پلے تھے بلکہ اللہ کی طاقت کے بھروسے پر زندگی گزارنے والے تھے۔

اللہ پر بھروسے کی طاقت کو اس امت سے چھیننے اور اسے ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز کروانے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ اس میں جنگ عظیم اول کے بعد خلافت کی مرکزیت کا خاتمہ اور موجودہ سیکولر قومی ریاستوں کے مغرب کی دہلیز پر سجدہ ریز حکمرانوں کا بھی حصہ ہے اور اس امت کے ان دانشوروں کا بھی جو روز اس امت کو کم مائیگی‘ کمزوری اور بے حوصلگی کا درس دیتے ہیں۔ یہ ہیں وہ اہل مدرسہ جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ’’گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا‘‘۔ اسی نوجوان کے بارے میں اقبال نے کہا تھا
کون کہتا ہے کہ مکتب کا جواں زندہ ہے
مردہ ہے مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس

لیکن اس تن مردہ میں جاں پیدا کرنے کی آوازیں اور تحریکیں بھی ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ جرم ضعیفی پر خاموش رہنے اور غیرت و حمیت بیچ کھانے والوں کے مقابل میں نعرہ مستانہ لگانے والوں کی بھی کمی نہیں رہی۔ تاریخ کا یہ بدترین باب ہے کہ وہ جنھوں نے مسلمانوں کو جرم ضعیفی کی سزا تجویز کی اور انھیں ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر بہتر مستقبل کی نوید دی وہ سب کے سب ان قومی سیکولر ریاستوں کے حکمران ہی تھے۔ گزشتہ سو سالہ تاریخ میں سوڈان سے لے کر ملائشیا تک ہر کسی نے مسلمانوں کو ان ریاستوں کے خول میں جکڑ کر بے حس اور مردہ دل بنایا اور آج یہ عالم ہے کہ کسی شہر کے ایک حصے میں اگر آفت اور مصیبت آئے تو دوسرے حصے کے لوگ اپنی روز مرہ زندگی جاری رکھتے ہیں۔

نہ کوئی ان کی مدد کو بے چین ہوتا ہے اور نہ ان کی مصیبت میں غمگین۔ یہی بے حسی آج غزہ میں مرنے والے معصوم بچوں کے لیے نظر آئی ہے۔یہ بے حسی کیسے پیدا ہوئی۔ ہم نے ایسے ہی مناظر افغانستان اور عراق میں کس قدر خاموشی سے دیکھے۔ ہمیں کہا گیا یہ دہشت گرد ہیں‘ ان سے دنیا کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ ہم سب امن کے خواہاں بن کر ایسا ہی تماشا دیکھتے رہے۔ پھر ہم نے مسلمان ریاستوں کو بھی ظلم کرنے کا ویسا ہی اختیار دے دیا اور بے حسی سے تماشا دیکھتے رہے۔ ہم نے بشار الاسد کو ایسے ہی معصوم بچوں اور عورتوں کو دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر قتل کا لائسنس دیا۔ ہم نے نوری المالکی کو عراق میں خاندانوں کے خاندان قتل کرنے کی اجازت دی تا کہ دنیا سے شدت پسندوں کو پاک کیا جائے۔ ہم تماش بین تھے اور ہمارے سامنے موت کا تماشہ تھا۔

کیا کسی کی آنکھ سے آنسو بہے جب اس سے چند میل کے فاصلے پر ڈرون حملوں سے معصوم بچوں کے جسموں کے پرخچے اڑے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لال مسجد کا سانحہ اور معصوم بچوں کی موت کو کس قدر سکون کے ساتھ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر دیکھا اور چین کی نیند سوئے اور سوچا کہ اب ہم نے امن کی طرف قدم اٹھا لیا۔ دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے تمام جملے اسرائیل کے میڈیا نے چرا لیے ہیں۔ ان کے حکمران بھی وہی زبان بول رہے ہیں جو ہم دہشت گردی کے خلاف بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں فلسطین کے لوگ امن کے دشمن ہیں‘ یہ دہشت گردی کی پناہ گاہ ہیں‘ ان کی وجہ سے پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ اور پھر ان کی اس منطق کو امریکا اور مغربی دنیا اپنے میڈیا پراور سیاسی سطح پر حمایت فراہم کرتا ہے۔

کہا جاتا ہے اسرائیل ان کے علاقے پر قابض ہے۔ آزادی ان کا پیدائشی حق ہے تو کیا امریکا اور اس کے حواریوں نے افغانستان اور عراق پٹے پر خریدا ہوا تھا‘ ان کی ملکیت میں شامل تھا۔ کیا پاکستان کے قبائلی علاقے امریکا کی باون نمبر کی ریاست تھی جس کے معصوم لوگوں کو وہ دہشت گرد کہہ کر ڈرون حملوں سے ہلاک کرتا تھا۔ دنیا میں دو منطقیں نہیں چلا کرتیں۔ جس ظلم نے حماس کو جنم دیا ہے اسی ظلم نے دنیا کے تمام ممالک میں جہادی سوچ کو پیدا کیا ہے۔ ریاستوں کا چہرہ ایک جیسا ہے‘ ظالم اور سفاک۔ یہی غزہ کا علاقہ پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد 24 جنوری 1949ء میں اسرائیل مصر معاہدے کے تحت ایک نیم خود مختار متنازعہ علاقہ کہلایا۔

کسی نے اسے حق آزادی نہ دیا۔ لیکن جب 26 جولائی 1956ء کو جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا اعلان کیا تو جنگ چھڑی اور اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت فلسطینی ایک علیحدہ عرب قوم تصور ہوتی تھی لیکن 1958ء میں مصر‘ شام اور فلسطین کو ایک اتحاد جمہوریہ عربیہ متحدہ کے تحت منظم کیا اور 1959ء سے 1967ء تک غزہ پر مصر کا کنٹرول ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی دفعہ غزہ کی ناکہ بندی کی گئی اور اس ظلم کا موجد جمال عبدالناصر تھا اور اس کی بھی وہی دلیل تھی کہ اگر غزہ کے رہنے والوں کو کھلا چھوڑا گیا تو امن تباہ و برباد ہو جائے گا۔

غزہ کی داستان پوری امت مسلمہ کی داستان ہے۔ یہ بے حسی اور بے ضمیری کا نوحہ ہے۔ یہ خاموشی ہم نے بڑی محنتوں سے اس قوم اور ملت کو سکھائی ہے۔ ہم نے ان کے ضمیر مردہ کیے ہیں جن قوموں کو سالوں یہ کہا گیا ہو کہ یہ جو لوگ ہم قتل کر رہے ہیں یہ تمہارے کچھ نہیں لگتے۔ یہ انسان نہیں کسی دوسرے ملک‘ علاقے‘ شہر یا محلے کے شہری ہیں۔ ان کے قتل پر چپ رہو‘ یہ امن کے دشمن ہیں‘ شدت پسند‘ دہشت گردہیں تو پھر اس بات پر حیران کیوں ہوتے ہو کہ غزہ پر موت کے سائے چھائے تو ایک آنسو بھی نکلا‘ ایک احتجاج تک نہ ہوا۔ 


اوریا مقبول جان