ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

16 جنوری، 2015

اُنھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں!

 ہمارے ذرایع ابلاغ بھی ۔۔۔ اے عزیزو! ۔۔۔ عین مَین اُسی طرح سے ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہوگئے ہیں، جس طرح نائن الیون کے ڈرامے کے نتیجے میں دُنیا بھر میں (صرف مسلمانوں سے) لڑی جانے والی ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ بھی اب صرف ’ہماری جنگ‘ ہو کر رہ گئی ہے۔ دونوں کے لیے ’مرچ مسالہ‘ ولایت ہی سے آتا ہے۔بس اِسے استعمال کرنے اور استعمال کرنے کے نتیجے میں خود استعمال ہو جانے والے لوگ ’اپنے‘ ہوتے ہیں۔
جس روز فرانس کے ایک رسالے پر حملے کی خبر آئی تھی اُس روز ایک (نہایت وقیع سمجھے جانے والے) انگریزی اخبار کے اُردو چینل پر ایک دیسی محترمہ اپنے سارے دانت نکال نکال کر بڑے ولایتی انداز میں ایک پاکستانی عالمِ دین پر برس رہی تھیں کہ:
’’کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟ ۔۔۔ کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟‘‘
یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ’نائن الیون‘ کی طرح اِس ’وَن سیون‘ (سات جنوری) کا ملبہ بھی محترمہ وطن عزیز پاکستان ہی پر گرانا چاہتی ہیں۔ ’مذہبی دہشت گردی‘ تو یہ فرانسیسی واقعہ یوں کہلایا کہ اس حملے کومذہبی دہشت گردی‘ پورے عالمِ مغرب نے قرار دیا ہے۔ ’مسلمانوں‘ سے منسوب بھی یوں ہوا کہ اسے پورے عالمِ مغرب نے مسلمانوں سے منسوب کیا ہے۔ مغرب کے نشریاتی اور طباعتی اداروں کے کہے پر بے چون و چرا ’ایمان بالغیب‘ لے آنا ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘کے بنیادی عقیدے کا حصہ ہے۔ خواہ سوات میں عورت کے کوڑے کھانے کی وڈیو ہو یا عراق میں ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے‘ ہتھیاروں کی موجودگی۔

جو ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہیں وہ کائنات کی عظیم ترین ہستی کے کارٹون بنانے کو کبھی بھولے سے بھی ’مذہبی دہشت گردی‘ میں شمار نہیں کر سکتے۔ برسوں سے جاری و ساری اس سلسلے کا زور کچھ کم ہو گیا تھا تو اس کو ’دوبارہ جاری‘ کرنے کے لیے ’زور‘پیدا کیا گیا۔پیرس کے جس کارٹونی ہفت روزے کے دفتر پر حملے نتیجے میں کے ہفت روزے کے مدیر اور کارٹونسٹ سمیت بارہ افراد مارے گئے، اُن کو مارنے والے مسلح نقاب پوشوں کے ’مسلمان‘ ہونے کا اعلان بھی مغربی حکام نے کیا۔ کیسے کیا؟ یہ جاننے کے لیے ذرا پلٹ کر ایک بار پھر نائن الیون کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ نائن الیون سے جہاز ٹکرانے والے ’مسلمان‘ پائلٹ نہ صرف خود راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے بلکہ ٹوئن ٹاورزتو کسی کھلونا بلڈنگ کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر یا صابن کے جھاگ کی طرح سے، بیٹھ گئی تھی۔سب کچھ تباہ ہو گیا، مگر اسے معجزہ نہیں تو اور کیا کہیں گے کہ ’مسلمان‘ پائلٹوں کے (مسلمان) پاسپورٹ بالکل صحیح سلامت حالت میں ملبہ سے برآمد ہوگئے تھے، جن سے اُن کی بہ آسانی شناخت ہو گئی۔ اس معجزے کے باعث اس بات پر ’ایمان ‘ پختہ ہوگیا کہ دہشت گرد مسلمان تھے۔اور’دہشت گرد‘ مسلمانوں کے سوا اور ہو بھی کون سکتا ہے؟

پیرس، فرانس کے واقعے میں بھی دہشت گردوں کی شناخت اس وجہ سے ممکن ہوئی کہ وہ حیرت انگیز طور پر اپنے اپنے شناختی کارڈ اپنی (تباہ ہو جانے والی)گاڑی میں چھوڑ گئے تھے تاکہ اُنھیں بھی بہ آسانی شناخت کیا جاسکے۔’نائن الیون‘ کے واقعے سے ایک مماثلت یہ بھی اِس ’مذہبی دہشت گردی‘ کے واقعے میں پائی گئی کہ جس طرح ٹوئن ٹاورز سے جہاز ٹکرانے کی وڈیو بناتے ہوئے کچھ اسرائیلی پکڑے گئے تھے، بالکل اسی طرح اسرائیلی ٹی وی چینل آئی بی اے کے ڈپٹی ایڈیٹر امشائی اسٹین کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ اِس وقوعے کی Live شوٹنگ مسلسل اپنے چینل کو ارسال فرما تے رہے کہ ۔۔۔’ناظرین! ہم سب سے پہلے آپ کو یہ بریکنگ نیوز دے رہے ہیں‘۔۔۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کے رونما ہوتے ہی فرانسیسی یہودی پہلے سے چھپے ہوئے پوسٹرز لے کر احتجاجی مظاہرے کے لیے یکایک سڑکوں پر نکل آئے۔ جن کی متحرک اور مطبوعہ تصاویر آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ دیکھیے مغرب میں سائنس نے کتنی ترقی کر لی ہے۔

’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو (ملالہ پر حملے کی طرح) سانحہ پشاور کا بھی اُس وقت تک علم نہ ہوا تھا، جب تک یہ خبر مغربی ذرایع ابلاغ سے نشر نہ ہوگئی۔ہماری ناک کے نیچے پیش آنے والے واقعے کی ’بریکنگ نیوز‘ دینے میں بھی اہلِ مغرب ہی بازی لے گئے۔ اہلِ مغرب نے جن تین’ مسلمان دہشت گردوں‘ کے نام پیرس حملے کے ذمے داروں کے طور پر مشتہر کیے ہیں وہ شریف کواشی، سعید کواشی اور حمید مراد ہیں۔ کواشی برادران کی پرورش شمالی فرانس کے ایک سرکاری یتیم خانے میں ہوئی ہے۔ حمید مراد کے دوستوں نے ٹوئٹر پر اپنے اپنے ٹویٹ ڈالے ہیں کہ جس وقت حملہ ہوا اُس وقت حمید مراد اُن کے ساتھ کلاس روم میں موجود تھا۔حمید مراد کی بیک وقت دو جگہ موجودگی بھی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟اور اگر وہاں موجود نہ تھا تب بھی ’مسلمان‘ تو تھا۔ اُسے دہشت گرد قرار دینے کے لیے اتناہی کافی ہے۔

حملے کی ایک وڈیو میں یہ بھی دکھایاگیا ہے کہ ایک پولیس آفیسر نے حملہ آوروں کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔دو نقاب پوش حملہ آور گاڑی سے باہر آئے اور پہلے تو دور سے گولی مار کر اُس پولیس آفیسر کو زخمی کیا، پھر قریب آکر اُس کے سر میں گولی ماردی۔ دہشت گرد تو یقیناًتربیت یافتہ تھے، مگر وڈیو بنانے والا ایسا اناڑی تھا کہ اُسے اِس زخمی پولیس آفیسر کے جسم پر یا اُس کے آس پاس کہیں خون نظر نہیں آیا جسے وہ دکھا سکتا۔ حملہ آوروں کو روکنے والے پولیس آفیسر کے متعلق جو خبریں آئی ہیں اُن کے مطابق:1۔ وہ ایک پولیس کار سے نکلا تھا۔ 2۔وہ ایک پولیس اسٹیشن سے باہر نکلا تھا (اور دہشت گردوں کی گاڑی دیکھتے ہی پہچان گیاتھا کہ یہ دہشت گردوں کی گاڑی ہے، اِسے روکنا چاہیے)۔3۔وہ ایک سائیکل پر سوار تھا (اور غالباً دہشت گردوں کی گاڑی کے آگے سائیکل کھڑی کرکے گاڑی روکنے کی کوشش کر رہا تھا)۔
وڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پولیس آفیسر کو مارنے کے بعد دونوں دہشت گرد اپنی گاڑی کے پاس آئے اور اُنھوں نے نعرہ لگایا کہ ہم نے ’پیغمبر محمدؐ‘ (Prophet Muhammad) کا انتقام لے لیاہے۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ دہشت گرد ’مسلمان‘ ہی تھے، کیوں کہ مسلمانوں کو جب اپنے نبی کانام لینا ہوتا ہے تو وہ لفظ ’پیغمبر‘(Prophet) ضرور استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ رہے کہ وہ انھیں نبی(Prophet) نہیں مانتے۔

اِس قسم کی بہت سی دلچسپ باتیں ابھی اور بھی باقی ہیں، مگر کالم میں جگہ باقی نہیں رہی۔ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو چوں کہ سارا مرچ مسالہ مغرب سے ’پیک‘ کیا ہوا مل جاتا ہے، چناں چہ وہ کبھی خود اپنا ’سِل بٹّا‘ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اپنا سِل بٹّا استعمال کرنے کے لیے اپنی ’اوپر کی منزل‘ بھی استعمال کرنی پڑتی ہے، مگر ہمارے یہاں اوپر کی منزل کرائے پر اُٹھادینے کا رواج ہے۔ اگر یہ ذرایع ابلاغ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ نہ ہوتے تو شاید مغرب کا اُگلا ہوا زمین سے اُٹھا کر خود نگل لینے کی بجائے اِس معاملے کا تحقیقی اور تفتیشی نظروں سے اپنے طور پر بھی کچھ جائزہ لینے کی کوشش کرتے اور اہلِ مغرب سے پوچھتے کہ سرورِ کائناتؐکے گستاخانہ کارٹون دوبارہ سرورق پر چھاپ کر رسالے کی تیس لاکھ کاپیاں شایع کرنے کا ’مہذب اقدام‘ کیا ’دہشت گردی کی روک تھام‘ کرنے ہی کا کام ہے؟ مگر ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کی نظر میں تو اُن کا ہر کام اُن کا لبرل ازم،اُن کی روشن خیالی اور اُن کا حقِ آزادی اظہار ہے، جب کہ ہماری طرف سے صرف ایسا سوال کر لینا بھی تنگ نظری ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے مترادف۔
---------------------------
ابو نثر

12 جنوری، 2015

ہوئے تم دوست جس کے - اوریا مقبول جان


 مسلم امہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دینی مدرسے کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے 1781 میں کلکتہ مدرسہ کھول کر پیدا کیا۔ اس سے قبل بغداد کے دارالحکومت سے شروع ہونے والی مدارس کی تحریک جو 1100 سے 1500 تک طلیطلہ کے تراجم کی انتھک کوششوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا بھر کے علوم کی قائد بنی، اس کے زیر اثر قائم ہونے والے تمام مدارس علم میں کوئی تحصیص نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سید الانبیاء ﷺ کی حدیث کے مصداق علم مومن کا گمشدہ مال تھا۔
اس امت کے تمام مدارس میں قرآن و سنت اور فقہ کے علاوہ جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں علم طب، علم الادویہ، علم ریاضی، علم طبیعات، علم فلکیات، فلکیاتی جدول، امراض عین، علم المناظر، علم کیمیا، علم فلسفہ، علم تاریخ، علم موسیقی اور دیگر کئی علوم شامل تھے۔ اس تصور کو برصغیر کے مسلم مدارس نے بھی انگریز کی آمد تک قائم رکھا ۔ مدرسہ رحیمیہ اور مدرسہ فرنگی محل کے نصاب ان ھی علوم پر مبنی تھے۔ یہی تعلیمی ادارے تھے جس سے علم حاصل کر کے لوگ طبیب بنتے تھے اور گاؤں گاؤں جا کر حکمت اور طب کا پیشہ اختیار کرتے تھے۔
آج بھی ان گھرانوں میں علم طب اور علم الادویہ کی کتابوں کے وہ نسخے مل جائیں گے جو ان مدرسوں میں پڑھائے جاتے تھے۔ ان ہی تعلیمی اداروں سے استاد پیدا ہوتے اور ہر گاؤں میں اتالیق مقرر ہوتے تھے۔ ایک ایسا غیر رسمی تعلیمی نظام پورے برصغیر پر رائج تھا جس کے نتیجے میں اس خطے میں شرح خواندگی 95 فیصد سے زیادہ تھی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل G.W.Leitner جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب Indiginous Education in Punjab اس بات کی گواہی ہے کہ مغلیہ دور میں ہر گاؤں کی سطح تک بنیادی تعلیم کا تصور کس قدر مستحکم تھا۔
شرح خواندگی یہ نہیں تھی کہ اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتا ہو بلکہ ہر پڑھے لکھے شخص کو فارسی پڑھنا، لکھنا آتی تھی، حساب کتاب پر دسترس تھی اور اسے قرآن یا وید پڑھنا آتی تھی۔ یہ سب اساتذہ جو گاؤں گاؤں پھیلے ہوئے تھے ان ھی مدارس سے پڑھ کر نکلے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1906ء کے تمام اضلاع کے گزٹیر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ضلعوں میں عمومی شرح خواندگی 90 فیصد کے لگ بھگ نظر آئے گی۔ یہی حال 1911ء کی مردم شماری کی رپورٹ کا ہے۔ یہ تعلیم اور خواندگی کا جال ان ھی مدارس سے فارغ التحصیل افراد نے پھیلایا تھا۔
پورے برصغیر میں جو سول سروس تھی جس میں مالیہ وصول کرنے والے، زمین کی پیمائش کرنے والے جریب کش، کوتوال، عدالتوں کے قاضی، خزانے کے متولی، عمارتیں تعمیر کرنے والے انجینئر جنھوں نے تاج محل اور شالیمار جیسے شاہکار تخلیق کیے، یہ سب کے سب ان ھی مدارس سے علم حاصل کر کے ان عہدوں تک پہنچتے تھے۔ ایک مربوط تعلیمی نظام کے بغیر یہ لوگ آسمان سے نازل نہیں ہوتے تھے۔ اس دور میں برصغیر میں آنے والے ہر سیاح نے صرف اور صرف ایک چیزکی بے حد تعریف کی ہے اور وہ تھی اس خطے میں عام آدمی کی زندگی میں علم اور ادب کے علاوہ فلسفہ اور سیاسی امور کی اہمیت۔ 1643ء میں جو کتاب یورپ میں چھپ کر عام ہوئی وہ سر تھامس رو کا سفرنامہ تھا۔
اس کا ایک نسخہ پنجاب آرکائیوز میں موجود ہے جس کی ورق گردانی آپ کو بتا دے گی کہ پورے ہندوستان میں ان تعلیمی اداروں کا کیسا جال بچھا ہوا تھا۔ صرف ٹھٹھہ جیسے دور دراز علاقے میں چار سو کالج قائم تھے۔ البتہ فرق ایک تھا اور وہ یہ کہ آج کے دور کی طرح امتحانات کے ذریعے پاس کرنے اور ڈگری دینے کا رواج نہ تھا۔ وہاں استاد اپنے شاگردوں کو روز پرکھتا تھا اور پھر ایک دن اعلان فرما دیتا تھا کہ اب میرا یہ شاگرد علم میں طاق ہو گیا ہے۔ چند بڑے بڑے سوالات یاد کر کے امتحان دے کر ڈگری حاصل نہیں کی جاتی تھی۔
1781 میں کلکتہ مدرسہ قائم کرنے سے پہلے انگریز نے اس علاقے میں 1757سے مسلمانوں کے تمام تعلیمی اداروں پر پابندی لگا دی۔ اب وارن ہیسٹنگز نے اس ،،دینی مدرسے،، کی بنیاد رکھی جسے صرف اور صرف دینی تعلیم کے لیے مختص کیا گیا۔ اس مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو اسی طرح کی ذمے داریوں کا درس دیا گیا جیسا یورپ میں تحریک احیائے علوم کے بعد چرچ کے پادریوں کو دیا جاتا ہے یعنی پیدا ہونے پر بپتسمہ دے دو، شادی پر جوڑے کو قانونی حیثیت دے دو، مرنے کے بعد رسومات ادا کر دو اور اتوار کی عبادت کی قیادت کرلو۔
یہ چار ذمے داریاں بالکل اسی نوعیت کے حساب سے برصغیر کے علماء کو سونپ دی گئیں اور مسلمانوں کے قدیم مدارس کی طرز پر عیسائی مشنری اسکول کھولے گئے۔ 1810 میں کلکتہ میں پہلا مشینری اسکول کھلا جس کے نصاب میں بائبل کی اخلاقیات ،،Biblical Ethics،، اور عیسائی تعلیم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا اور تمام سرکاری نوکریوں کے لیے انگریزی لازم قرار دے دی گئی۔ پورے ملک کے تمام تعلیمی اداروں سے قرآن و سنت خارج کر دیا گیا اور اسے اسلامیات کے ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دے دی گئی کہ جو کوئی اس کو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔
تعلیم صرف اسکول اور کالج تک محدود ہو گئی اور اس کے بعد کے نوے سالوں میں وہ زوال آیا کہ 1947 میں انگریز جب برصغیر کو چھوڑ کر گیا تو شرح خواندگی 14 فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ اس دور زوال میں مسلمان مدارس نے وہ ذمے داری بخوشی قبول کر لی جو انگریز نے دی تھی اور ایک ایسی کھیپ تیار کرنا شروع کر دی جو کم از کم قرآن و سنت کے علم کو محفوظ رکھیں اور اسے کونے کونے تک پہنچائیں۔ مغربی تعلیم کی یلغار اور انگریز حکومت کے مقابلے میں اپنے دینی علم کا تحفظ ان مدارس کا بنیادی مقصد بن گیا اور جس لگن اور ایمانداری سے انھوں نے یہ فریضہ نبھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
بلوچستان کے قمر دین کاریزیا بسیمہ جیسے دور افتادہ گاؤں ہوں، سندھ میں مٹھی اور ڈیپلو کے ریگستان ہوں، پنجاب میں بھکر، راجن پور یا میانوالی کا بے سرو سامان قصبہ ہو یا سرحد کی بلند چوٹی پر آباد کوئی بستی۔ پانی، بجلی، سیوریج، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات سے بے نیاز ان مدارس کا پڑھا ہوا ایک شخص صبح منہ اندھیرے مسجد کا دروازہ کھولتا ہے، صفیں درست کرتا ہے، چبوترے پر اذان دیتا ہے اور ان میں پانچ وقت نماز پڑھاتا ہے۔ اکثر جگہ اس کی گزر بسر صرف اور صرف لوگوں کے گھروں سے کھانا یا شادی اور موت کی رسومات پر نذرانے کے سوا کسی اور چیز پر منحصر نہیں ہوتی۔
پورے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ لوگ جو دانستہ یا نادانستہ طور پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام کو زندہ رہنے کی واحد علامت ہیں۔ یہ اگر موجود نہ ہوں تو لوگ اذان دینے اور نماز پڑھانے والے کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ انھوں نے یہ ذمے داری گزشتہ دو سو سال سے اس طرح نبھائی ہے کہ آج تک کسی مسجد کے دروازے پر تالہ نہیں لگا کہ مولوی ہڑتال پر ہے۔ کبھی کوئی نماز لیٹ نہیں ہوئی۔
یہ ہیں وہ لوگ جواس ملک کے کوچے کوچے اور قریے قریے میں موجود ہیں۔ جہاں سرکار کا نام و نشان نہیں وہاں بھی موجود ہیں۔ کسی گاؤں میں چلے جائیں آپ کو سرکار کا اسپتال ویران نظر آئے گا، وہاں کا اسکول بے آباد ہو گا، نہ ڈاکٹر کا کہیں پتہ چلے گا اور نہ ہی استاد کا لیکن وہاں ایک ہی آباد اور روشن مقام ہوگا اور وہ اللہ کا گھر جس کی رکھوالی ایک مفلوک الحال درویش مولوی کر رہا ہوتا ہے۔
اس مولوی سے دشمنی کی اور کوئی وجہ نہیں، بس صرف ایک ہے کہ یہ اللہ کے نام کا دانستہ یا نادانستہ طور پر نمائندہ بن چکا ہے اور اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ لیکن جب بھی میرے ملک کے ،،عظیم،، دانشوروں کو موقع ہاتھ آتا ہے وہ ان مدارس کو سرکاری کنٹرول میں کرنے کا نعرہ بلند کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا ہے اس کے بعد کیا ہو گا۔ وہی جو تمام اداروں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
مولویوں کا تنخواہیں بڑھانے کے لیے اور دیگر مراعات کے لیے احتجاج شروع ہو گا، دھرنے، مساجد پر تالے اور درس و تدریس کا خاتمہ۔ وہی حال جو ہم نے اپنے باقی تمام محکموں کا کیا ہے۔ مجھے اپنے ان عظیم دانشوروں کی یہ منطق اچھی لگتی ہے کہ تمام مدارس کو سائنسی اور جدید علوم پڑھانے چاہئیں تا کہ روحانی اور مادی ترقی ساتھ ساتھ ہو لیکن کیا یہ منطق کالجوں یونیورسٹیوں اور اے لیول وغیرہ پر لاگو نہیں ہوتی کہ انھیں بھی قرآن و حدیث پڑھایا جائے تا کہ معاشرہ میں ایک ہی طرح کا نظام تعلیم اور ایک طرح کے انسان جنم لیں۔
ان اداروں میں تو جو تھوڑا بہت اسلام موجود ہے، یہ لوگ اس کو بھی نکالنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اصل مقصد صرف یہ ہے کہ تعلیم سے اللہ اور اس کے رسول کو دیس نکالا دے دو۔ اسے امن کی شرط کہا جا رہا ہے۔ یورپ نے 1900 تک دین کو تعلیم سے نکال دیا تھا۔ کیا وہاں امن آ گیا؟ اس کے بعد اس نے دو عالمی جنگیں لڑیں اور کروڑوں انسانوں کا خون بہایا۔ شاید تاریخ کسی کو یاد نہیں یا وہ یاد کرنا نہیں چاہتا۔

3 جنوری، 2015

ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا …اوریا مقبول جان

پرچم اتار دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فاتح اقوام کے سب سے بڑے اتحاد اور دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوتوں کا پرچم۔ وہ قوتیں جو آج سے تیرہ سال قبل دھاڑتی، چنگھاڑتی ہوئی اس کمزور، وسائل اور ٹیکنالوجی سے محروم ملک، افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔
دنیا بھر کے لیے ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی کہ اگر تم ہمارے ساتھ اس کمزور ملک سے جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر ہمارے دشمن ہو۔ 2001ء کی سردیاں اس ملک کے لیے عذاب کی صورت بنا دی گئیں۔ دنیا بھر میں سے تین ملک ایسے تھے جو اس ملک پر برسرِ اقتدار طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے۔ جن میں سے ایک پڑوسی پاکستان بھی تھا۔ باقی پڑوسی ایران اور تاجکستان تو ویسے ہی ان کے خلاف شمالی اتحاد کو ہر طرح کی مدد دیتے ہوئے جنگ میں شریک تھے۔
لیکن جس پڑوسی نے انھیں ایک قانونی حکومت تسلیم کیا تھا، اسی پڑوسی کی سرزمین ان پر حملے کے لیے استعمال ہوئی۔ دنیا نے اس ملک کو دہشت گردی کا مبنع قرار دیا اور پھر دو سو کے قریب ممالک میں سے اڑتالیس ممالک نے اپنی فوجیں وہاں اتار دیں۔ دشمن پڑوسیوں میں گھرا ہوا یہ ملک، ایک جانب پاکستان جہاں سے57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے اس سرزمین پر بم برسائے، دوسری جانب تاجکستان جس نے قلاب والا زمینی راستہ دیا تا کہ نیٹو افواج شمالی اتحاد کے جلو میں اندر داخل ہو سکیں اور تیسری جانب ایران جس کے پاسداران شمالی اتحاد اور حزبِ وحدت کے ساتھ اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ تیرہ سال قبل اس دنیا میں ٹیکنالوجی کے بت کی پرستش کرنے والے کیسی کیسی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ پہلے چند ماہ تو ایسے تھے کہ ہر کوئی بلند آواز میں پکار رہا تھا، دیکھو ٹیکنالوجی نے آج اُس قوم کو شکست دے دی ہے۔ جس سے کوئی نہ جیت سکا۔ کوئی ان کے بھاگنے کے قصے سناتا اور کوئی کہتا کہ یہ تو چند ہزار لوگ تھے جنھیں کچھ طاقتوں نے اکٹھا کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں تو دیکھو کیسے بھگوڑے ہو گئے ہیں یہ سب کے سب۔ اب افغانستان میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ یہ اب دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ اس کے بعد کے تیرہ سال آگ اور خون کے ساتھ کھیلتے ہوئے سال ہیں۔ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی جو دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کے ساتھ یہاں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ ایسے ٹینک جو اپنے اندر سے ایک ایسے مقناطیسی ردّ عمل کا دائرہ بنا سکتے تھے جن سے میزائل بھی واپس لوٹ جاتا تھا۔

آسمانوں سے پہرہ دیتے جہاز۔ فضا کی بلندیوں پر موجود ایک ایک لمحے کو ریکارڈ کرتے اور معلومات فراہم کرتے سٹلائٹ۔ ان سب کے باوجود کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب نیٹو افواج یا ان کی بنائی ہوئی افغان فوج نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ ہمارا پورے افغانستان پر کنٹرول ہو گیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ سوائے چند شہروں کے چند میل علاقوں کے پورے افغانستان میں امریکی یا نیٹو افواج کو کسی قسم کی کوئی دسترس تک حاصل نہ تھی۔ آخری سال تو شکست کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا۔ یکم جنوری2014ء سے31 دسمبر تک9167 افراد اس جنگ کا شکار ہوئے۔ جن میں3,188 ایسے تھے جو اس بری طرح زخمی ہوئے کہ ناکارہ ہو کر رہ گئے۔

بوکھلاہٹ میں الزامات حقانی نیٹ ورک پر لگائے گئے جس کے خلاف اس دوران شمالی وزیرستان میں آپریشن جاری تھا۔ کون ٹیکنالوجی کی شکست مانتا ہے اور وہ بھی نہتے افغانوں کے ہاتھوں جن کا سارا تکیہ ہی تائید الٰہی پر تھا۔ کیا کبھی امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے سوچا بھی ہو گا کہ اسقدر عظیم فوجی قوت کے باوجود ان کے تین ہزار چار سو اٹھاسی3488 سپاہی مارے جائیں گے۔ یہ وہ گنتی ہے جو وہ خود مانتے ہیں۔ جب سے سی آئی اے بنی ہے اس کے نوے کے قریب اہم ایجنٹ مختلف ممالک میں مارے گئے ہیں، جن میں سے گیارہ اس افغان جنگ میں قتل ہوئے۔ افغانستان ایک ایسا ڈراونا خواب تھا جس کے اختتام کی تقریب 28 دسمبر کو منعقد ہوئی۔ نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان ایف کیمپبل (Joh F. Campbell) نے کہا ’’ہم اپنا طالبان کے خلاف جنگ کا ایجنڈا ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن ہم بھاگ نہیں رہے‘‘۔ کیا خوبصورت فقرہ ہے (“We are not walking away”) یہ تسلی افغان قوم کو نہیں بلکہ اس افغان حکومت کو دی جا رہی جسے امریکیوں نے خود وہاں پر مسلط کیا ہے۔

جمہوری حکومت اور جمہوریت کے قیام کا کیا خوب تصور ہے کہ ایک ملک پر حملہ کرو، وہاں افواج اتارو، لوگوں کو قتل کرو، خود ایک آئین تحریر کرو، اپنی نگرانی میں الیکشن کراؤ اور بولو کہ ایسے زندگی گزار تے ہو تو ٹھیک ورنہ تمہیں دہشت گرد کہہ کر مار دیں گے۔ اسی لیئے اس ’’ٹوڈی‘‘ حکومت کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ہم بھاگ نہیں رہے۔ لیکن اس اتوار کو امریکی صدر اوباما نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک محتاط طریقے سے اس جنگ کا خاتمہ کیا ہے جب کہ افغانستان آج بھی ایک خطرناک علاقہ ہے‘‘۔ اس ملک میں تین لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کی ٹرنینگ کے لیے12 ہزار نیٹو کے فوجی یہاں پر موجود رہیں گے۔ اس تقریب میں افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اعتماد نے کہا کہ آپ ہمیں ایسے وقت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جس وقت ہم انتہائی مشکلات میں ہیں۔ ہمیں کبھی بھی نیٹو افواج کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جس وقت یہ تقریب ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہی تھی تو اس دوران افغان افواج کے افسران کے انٹرویو بھی نشر کیے جا رہے تھے۔ یہ افسران کہتے تھے کہ تیرہ سالوں سے ہم ایک ایسی جنگ کے عادی ہو چکے ہیں جو نیٹو کی تکنیکی اور فوجی مدد کے بغیر لڑی ہی نہیں جا سکتی۔ ہمیں ہوائی جہازوں کی بمباری اور ٹینکوں کی یلغار میں آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ہم ان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل پاتے جب کہ ہمارے دشمن طالبان اس تمام تر ٹیکنالوجی سے بے نیاز جس طرف سے چاہیں ہم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اب جب کہ یہ سپورٹ (مدد) ختم ہو رہی ہے، ہم بہت مشکل میں ہو ں گے۔

جھنڈا اتار دیا گیا۔ وہ فتح کرنے آئے تھے اور اپنے زخم چاٹتے رخصت ہوئے۔ یہ تیسری دفعہ ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتوں کا غرور خاک میں مل رہا ہے۔ یکم جنوری1842ء برطانوی افواج، وہ برطانیہ جس کی علمداری میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس پر کابل میں حملہ ہوا۔ تقریباً سترہ ہزار فوجی تھے جن میں اکثر انڈین اور ایک رجمنٹ ’’44th‘‘برطانوی سپاہیوں پر مشتمل تھی ان سب کو غلزئی قبائل نے قتل کر دیا تھا اور ایک ڈاکٹر ولیم برائڈن کو زندہ چھوڑا تا کہ وہ جا کر اس عالمی طاقت کے کار پردازوں کو بتائے کہ افغان قوم کیا ہے اور آیندہ کابل کی طرف رخ مت کرنا۔ یہ ڈاکٹر گھوڑے پر سوار ہو کر 13جنوری کو جلال آباد پہنچا اور برطانیہ کے چہرے پر عبرت کا نشان تحریر ہو گیا۔

دوسری دفعہ یہ پرچم عظیم کیمونسٹ ریاست سوویت یونین کا تھا جو1988ء میں ایسے اترا کہ خود اپنی ریاست تک متحد نہ رکھ سکا۔ ٹیکنالوجی کے بت ٹوٹتے ہیں لیکن ان کی پوجا کرنے والے نئے بت تراش لیتے ہیں لیکن وہ جنھیں صرف اللہ کی نصرت اور تائید پر بھروسہ ہوتا ہے وہ بار بار ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا میں اصل طاقت کا سرچشمہ تو صرف اللہ کی ذات ہے اقبال نے کہا تھا۔

اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

31 دسمبر، 2014

ان بیان ایبل از گل نوخیز اختر


 ہماری ایک معروف افسانہ نگارکی شادی کی عمر گذرتی جارہی تھی، موصوفہ تقریباًکسی سے بھی شادی کرنے پر راضی تھیں لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی قانونی اقرارکرنے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔ انہوں نے شادی میں کسی کو انوائٹ نہیں کیا، ایک دن ایک تقریب میں مل گئیں تو میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے چپکے سے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔ خوشی سے شرمندہ ہوکر بولیں ’’اصل میں سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کئی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلاسکی‘‘۔ میں نے پوچھا’’ماشاء اللہ دولہا بھائی کرتے کیا ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی اٹھلا کر بولیں’’ان کی روٹیوں کی فیکٹری ہے‘‘ میری آنکھیں پھیل گئیں، بعد میں پتا چلا کہ دولہا بھائی کا ذاتی تنور ہے۔
ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے’’بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے رامیٹریل فراہم کرتے ہیں‘‘۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے ’’میٹریل‘‘ کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔
کچھ لوگ بڑے آرام سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ جب تک تفصیل کا نہ پتا چلے یہ جھوٹ بالکل سچ معلوم ہوتاہے۔ مثلاً میری ایک ’’سگی کلاس فیلو‘‘ کی منگنی ہوئی تو اس کی سادہ اور معصوم سی والدہ نے بتایا کہ لڑکا پہلے سٹیٹ بینک میں لگا تھا ، اب پان سگریٹ کا کھوکھا لگاتاہے۔میں نے اپنے کان کھجائے’’سٹیٹ بینک اور پان سگریٹ کے کھوکھے‘‘ کا تقابلی جائزہ لیااور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کلاس فیلو سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر لڑکے والوں سے پوچھا گیاکہ لڑکا کب سٹیٹ بینک میں لگا تھا۔ جواب ملا’’پچیس اگست 1998ء کو رات پونے ایک بجے‘‘۔ یہ سنتے ہی لڑکی والے بوکھلا گئے کہ رات پونے ایک بجے سٹیٹ بینک میں کون سی جوائننگ ہوتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، لڑکا اصل میں پہلے رکشہ چلا تا تھا، پچیس اگست کو اس کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ سیدھا ’’سٹیٹ بینک میں جالگا‘‘۔

اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتاہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔اپنی مثال اس لیے نہیں دوں گا کیونکہ مجھے کافی بہت پسند ہے بلکہ اب تو مجھے Cappuccino کے سپیلنگ بھی یاد ہوگئے ہیں ، میں جب بھی کافی منگواتا ہوں سب سے پہلے ختم کرتا ہوں، میرے دوستوں کو یقین ہے کہ میں کافی کا دیوانہ ہوں، یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چائے اور کافی میں وہی فرق ہے جو تاش اور شطرنج میں ہے۔ لیکن میراکافی پینے کا اپنا ہی سٹائل ہے۔۔۔میں صرف ایسی جگہ پر کافی پینا پسند کرتا ہوں جہاں واش بیسن قریب ہو۔
 ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔۔۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو السی اور چاول کی پنیاں کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا ’’دابڑا‘‘ کب چکھا تھا؟ بھینس کی ’’بوہلی‘‘ کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ ’’بوہلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔
 پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتاہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتاہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتاہے، البتہ ایک’’وٹنری ڈاکٹر‘‘ ایسا نام ہے جسے بیرونی دنیا میں تو بہت عزت حاصل ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی تک اس کے لیے ’’وہی ‘‘ لفظ استعمال کیا جاتاہے۔۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے ’ ’ان بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
 مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنے کا جنون ہوگیا ہے اور یہی جنون ہم سے اصل زندگی چھینتا چلا جارہا ہے۔کیامونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے ’’پران‘‘ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا کوئی پیزا آلو کے پراٹھوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ کیا چلی ساس، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟گڑ کی ڈلی سے بہتر کس کینڈی کا ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کس فائیو سٹار ہوٹل کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟سرسوں کے تیل سے زیادہ دماغ کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ کیا چاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟؟؟ مکی کی روٹی اور ساگ کے برابر میں جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی فرق معلوم ہوجائے گا۔ لیکن ہمیں یہ چیزیں اس لیے پسند نہیں کیونکہ جن لوگوں میں ہم رہتے ہیں اُنہیں یہ پسند نہیں۔ دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کی دوڑ میں ہمیں ہر وہ چیز بھولتی جارہی ہے جس کے ہم کبھی دیوانے ہوا کرتے تھے۔

اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑرہا ہے۔ہم نے کتنی محنت سے اپنے ذائقے تبدیل کر لیے، اپنے حلئے تبدیل کر لیے، اپنے رویے تبدیل کرلیے ۔۔۔اب ہم معمولی سی بات کو تھوڑا سا گھما کر بیان کرتے ہیں ، نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔۔۔لیکن معاشرے میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔اب بے شک ہماری قمیض کی بغلیں پھٹی ہوئی ہوں، پیروں میں قینچی چپل ہو، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہم ’’رائل فیملی‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے اور امیر رشتے دار ایسے ضرور سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہے تاکہ انہیں اپنے اِن رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جائے۔خود وہ کیاہیں۔۔۔ یہ اُنہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔۔۔!!! 

 

29 دسمبر، 2014

دنیا والو!! کیا کریں؟

  ہم نے کہا اسلام چاہیئے، انہوں نے کہا جمہوریت ہے عوام سے ووٹ مانگو، پارلیمنٹ میں آؤ اور نافذ کرلو، مصر والے مان گئے، اخوان کو ووٹ دیئے، ابھی سال ہی ہوا تھا کہ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، صدر کو قید کرلیا اور اب فوج اقتدار پر قابض ہے، اخوان نامی تنظیم پر مکمل پابندی ہے ۔۔۔ اور یہ ثابت کردیا کہ چاہے ہم جتنا بھی "اُن" جیسے ہو جائیں اور اپنے جائز حق یعنی اسلام کو لینے کی کوشش کریں جمہوریت میں ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
  ہم نے پھر کہا کہ مانگنا نہیں سیدھا نافذ ہی کرنا ہے، افغانوں کی سمجھ میں بات آئی، طالبان نامی تنظیم بنائی جس نے دو سالوں میں پورے علاقے کو غیر جمہوری طریقے سے اپنے زیرِ اثر کرلیا، اسلامی احکام نافذ کرنے شروع کئے، دنیا نے نتائج دیکھے، پانچ سال لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور امارت قائم رہی لیکن "اُن" کو بلکل بھی نا بھائے، انہوں نے تابڑتوڑ حملے شروع کردئیے، امارت ختم ہوگئی اور مرتب کردہ نظام بھی ۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ اس طریقے سے بھی اسلام نافذ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
  کچھ عرصہ بعد ایک گروہ اٹھا جس نے تمام طریقوں سے اختلاف کیا اور جبر کی راہ اپنائی، بنام دولتہ السلامیہ اس گروہ نے خلافت کے بھی قیام کا اعلان کردیا، اور صرف تین ماہ لگے عالمِ کفر متحد ہوکر آگیا کہ ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا، فضا سے بموں کی بارش کرکے  یہ بھی ختم کردیا ۔۔۔ یعنی ثابت یہ کہ پرتشدد راہ بھی اختیار نہیں کرنے دی جائے گی۔


  ہم پھر وہیں کھڑے ہیں، اسلام چاہتے ہیں، کیا کریں، دنیا والو ۔۔۔ بتاؤ  کیا کوئی طریقہ تمہیں قبول ہے ؟

27 دسمبر، 2014

بھینس کا علاج


 کہتے ہیں کہ کسی شخص کی بھینس بیمار ہوگئی۔ وہ اپنے دوست کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ جب تمھاری بھینس بیمار ہوئی تھی تو تم نے کیا کیا تھا؟ دوست نے کہا کہ میں نے اسے مٹی کا تیل پلایا تھا۔ یہ سُن کر وہ شخص فوراً پلٹا اور اپنے گھر پہنچ کر بھینس کو مٹی کا تیل پلا دیا۔ کچھ ہی دیر میں بھینس مرگئی۔ یہ دیکھ کر وہ بہت طیش میں آیا اور پھر دوست کے گھر جا پہنچا، اسے بتایا کہ میں نے بھینس کو مٹی کا تیل پلایا تو وہ مرگئی۔ دوست نے کہا میری بھینس بھی مر گئی تھی۔ یہ سن کر اس شخص نے کہا’’تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں‘‘ دوست نے جواب دیا’’تم نے پوچھا کب تھا؟‘‘

ہمارے حالات بھی اسی نادان شخص کے مانند ہیں کہ کسی کا عمل دیکھ کر نتیجے کی پروا کیے بغیر ویسا ہی عمل شروع کر ڈالتے ہیں اور کچھ عرصے بعد پچھتا رہے ہوتے ہیں۔ یورپ، امریکا کے عوامل کی اندھا دھند تقلید کے نتیجے میں ہمارے بھینسوں کے باڑے کی بہت سی بھینسیں ہلاک ہوچکی ہیں لیکن حرام ہے جو ہم نے سبق سیکھا ہو۔ ہم باقی ماندہ بھینسوں کو بھی تقلید کا تیل پلا پلا کر ان کے دم نکلنے کے منتظر ہیں۔ پھر ایک روز ہم مغربی دنیا سے گلہ کریں گے، تو ہمیں جواب ملے گا کہ بھائی تم نے ہم سے پوچھا ہی کب تھا؟
اندھا دھند تقلید کا آغاز زمانہ جدید کی چکا چوند سے ہوا جب ہم نے یورپی مصنوعات کا استعمال شروع کیا۔ برصغیر پر قبضے کے بعد یورپی اقوام نے پہلے پہل یورپی اسلحے کا دیسیوں پر استعمال شروع کیا جس کے رعب میں آکر دیسی بھی اپنے ہم نسلوں پر یورپی اسلحے کا استعمال کرنا سیکھ گئے۔ دیسی لباس کی جگہ یورپی لباس اور دیسی زبان کی جگہ یورپی زبان قابل فخر عمل ٹھہری۔
انگریزوں نے بڑے پیمانے پر سب سے پہلے ہمیں چائے کا عادی بنایا جس کی تشہیری مہم میں بر صغیر میں پہلی بار نوجوان خواتین کو استعمال کیا گیا،جو ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو مفت میں

چائے پلا کر چائے کی فروخت میں اضافے کا باعث بنتی تھیں۔ چائے کی فروخت زیادہ ہوئی تو لسی اور دودھ کا استعمال کم ہوتا چلا گیا۔ موٹر سائیکل اور موٹر کار کی برصغیر میں آمد ذریعہ سفر میں ایک نئے دور کا آغاز تھا جس کے ساتھ ہی ریل اور ہوائی جہاز کی آمد نے سفر کو نیا رُخ عطا کیا۔ اب طرز تعمیر اور انداز بودو باش کی باری تھی۔ ہمیں یورپ سے آیا ہوا ہر تعمیری نقشہ قابل اعتبار معلوم ہوا اور ہم اپنی عمارات کی تعمیر بھی یورپی انداز میں کرنے لگے۔ اس تقلید میں ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ تمام انداز سرد ممالک کی ضرورت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں جبکہ ہم شدید گرم علاقے کے باسی ہیں۔ بُرا ہو اندھی تقلید کا، ہم صحن کی نعمت اور کھلی ہوا میں سانس لینے سے بھی محروم ہوگئے۔
جدت اور ترقی ہر زمانے کا لازمی حصہ ہے۔ جدیدیت کوئی حرام شے نہیں جس سے ہر حال میں بچنا ہو۔ تقلید بُری نہیں بلکہ اندھی تقلید ہلاکت خیز ہے۔ کاش طبعی اشیا کی تقلید میں ہم نے اپنے زمان و مکاں کو مد نظر رکھ کر اپنی ضرورت کے مطابق جدت پیدا کرکے اشیا کو استعمال کیا ہوتا تو ہم بھی طبعی اشیا سے بہتر انداز میں فوائد حاصل کر پاتے۔ محض تقلید نے ہمارا مٹی کا مادھو ہونا آشکار کر دیا۔
طبعی اشیا اور ان کا استعمال اس قدر ضرر رساں نہیں۔ اصل ہلاکت خیزی تو اس وقت شروع ہوئی جب ہم نے معاشرتی میدان میں اندھی تقلید کی راہ اختیار کی۔ یورپی معاشرت کو برصغیر کے لوگوں نے حاکموں کی صورت میں تو دیکھ رکھا تھا یا کبھی کبھی انگریزی فلموں میں اس معاشرت سے واقفیت حاصل ہوتی تھی لیکن صورت حال اس وقت تبدیل ہوئی جب برصغیر میں ٹیلی ویژن کی آمد ہوئی۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن اسٹیشن کا قیام پاکستان کو دیے جانے والے پہلے بڑے امریکی پیکج کی لازمی شرط تھی۔ پہلے یورپی معاشرت کا مشاہدہ گھر سے باہر جاکر ہوتا تھا۔ اب یورپی معاشرت ہمارے گھر میں مشہود ہوئی اور ہم شاہد ٹھہرے۔
اس کو مہمیز اس وقت ملی جب ہمارے ہاں ڈش انٹینا اور کیبل نیٹ ورک کی آمد ہوئی۔ رہی سہی کسر انٹر نیٹ اور کمپیوٹرز کی فراہمی نے پوری کردی جو ہمارے بڑوں کے ذریعے بچوں کے ہاتھوں میں آگیا۔ اب ہم ایک نئے دور میں داخل ہوئے جِسے’’میڈیا کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ میڈیا کے حسن و قبح پر بحث اور اس کے حرام و حلال کے فیصلے کا حق بھی میڈیا ہی کے پاس ٹھہرا۔ میڈیا نے خود ہی رنگ برنگ موضوعات پر مباحث کا اہتمام کیا اور خود ہی اپنے حق میں فیصلے دے کر اپنے ہر قدم کے جواز کو سند عطا کی۔
میڈیا (یہ اصطلاح اب صرف الیکٹرانک میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہی ہے) کے مشاہدے کا آغاز صبح کی نشریات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جسے عرف عام میں ’’مارننگ شو‘‘ کہا جاتا ہے۔ مارننگ شو میں پہلے پہل خواتین کے لیے کھانے پکانے اور سینے پرونے کے پروگرام پیش کیے گئے جس کے بعد اب ہر پروگرام کا لازمی حصہ رقص و موسیقی بن گیا۔ بہت سی خواتین و حضرات جنھیں ہم بہت عرصے سے دیکھتے چلے آرہے تھے اور وہ دیگر پروگراموں میں ہمیں خاصے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے نظر آتے تھے۔ مارننگ شوز میں آکر چھچھورے رقاص ثابت

ہوئے۔ ان پروگراموں میں اس چھچھور پن کا آغاز شادی بیاہ کی نام نہاد رسموں سے ہوا جو بڑھ کر اب محض’’مجرے‘‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ ہم نے جوان العمر سے لے کر اچھی خاصی عمر رسیدہ خواتین کو یہ مجرے کرتے دیکھا۔ یقین مانیے کہ سر شرم سے جھک گئے کہ نانی دادی کہلانے والی یہ خواتین کس ثقافت کی نمایندگی کررہی ہیں۔ رقص و موسیقی کے ہماری زندگی میں اس قدر دخیل ہونے کا کمال اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ ق کی ایک انتخابی محفل میں چودھری شجاعت کے سامنے اسی قسم کا مظاہرہ کیا گیا جسے حاضرین نے خوب ڈھٹائی سے برداشت کیا اور داد بھی دی۔
میڈیا (یعنی الیکٹرانک میڈیا) میں ایک بد رسم کا آغاز ہوا ہے جسے بولڈ موضوعات پر گفتگو کا نام دیا گیا ہے۔ بولڈ ہونے کی آڑ میں زیادہ تر ان موضوعات کا انتخاب کیا جارہا ہے جن کا تعلق عائلی و ازدواجی زندگی اور جنسی معاملات سے ہے۔ وہ باتیں جو عقلاً بالغ اور مخصوص افراد کے درمیان ہونی چاہئیں اب کھلے عام کی جارہی ہیں اور کچے ذہنوں کو آلودہ کیا جارہا ہے۔ سکرین کے ایک کونے میں ’’PG‘‘ لکھ دینا یا’’بچے نہ دیکھیں‘‘ لکھ دینا اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ یہ پروگرام کون دیکھ رہا ہے۔ پیمرا نامی ادارہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے کہ میڈیا اس قدر منہ زور، منہ پھٹ اور طاقتور ہوگیا کہ ’’مافیا‘‘ کے انداز میں ایک دوسرے کو سہارا دے رہا ہے… زیارت ریذیڈنسی کے حوالے سے قائم ہونے والا مقدمہ اس کی مثال ہے جب اس ’’مافیا‘‘ نے زور ڈال کر حکومت سے مقدمہ واپس کروا دیا۔
کچھ عرصہ قبل اسی میڈیا پر ایک ایسی بحث پیش کی گئی جس میں فحش ویب سائٹس کے حوالے سے گفتگو پیش کئی گئی۔ حاصل کلام یہ تھا کہ آپ ان کو اب روک نہیں سکتے اور ساری دنیا میں یہ ویب سائٹس عام ہیں اگر ہمارے ہاں بھی ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اپنی تربیت اتنی بہتر کریں کہ نوجوان اس جانب متوجہ نہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ مغربی تقلید کے حامل شرکا مغرب سے بڑھ کر جواز پیش کررہے تھے۔ چند روز قبل برطانوی وزیر اعظم کا بیان نظر سے گزرا جس میں تجربے اور تجزیے کی بنیاد پر اس نے فحش مواد کے خلاف فیصلے لینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مواد ہمارے بچوں کا بچپن تباہ کررہا ہے۔ جب مغرب اس مواد پر پابندی لگائے گا تو پھر ہمارے نام نہاد مفکرین کیا جواز پیش کریں گے۔
پڑھے لکھے پنجاب کے زمانے میں مغرب سے امداد کے بدلے ہمیں ’’مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ ملا۔ یہ نعرہ ہم نے ہر اسکول کے باہر اور اندر بورڈ پر لکھ کر لگایا۔ اس کے نیچے محکمہ تعلیم کے افسران کے ٹیلی فون نمبر دیے گئے تھے جن کو فون کر کے مار پیٹ کرنے والے ٹیچرز کے خلاف فوراً کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس عمل سے فوائد تو نجانے کیا حاصل ہوئے لیکن ٹیچرز خوف زدہ اور طلبا خود سر ہوگئے۔ تعلیمی نظم و ضبط کمزور پڑگیا اور تعلیمی استعداد تنزلی کا شکار ہوگئی۔
1950ء کی دہائی تک برطانیہ و امریکا کے اسکولوں میں جسمانی سزا برائے اصلاح موجود تھی۔ ایک مشہور مقولہSpare the rod & spoil the child مغرب ہی کی پیش کش ہے۔ اُس زمانے میں بھی تعلیمی معیار تھا، ایجادات بھی ہورہی تھیں اور مغربی ممالک ترقی بھی کررہے تھے۔ ہم ابھی ترقی کی منازل سے فاصلے پر ہیں۔ معیشت بدحال ہے، تعلیم و تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے لیکن معاشرت میں مغرب کی برابری کی کوششیں ہورہی ہیں۔ یاد رکھیے کہ ہر چیز جو صدیوں سے آپ کی ثقافت کا جز ہے، ضروری نہیں کہ غلط ہو۔ معاشرت تبدیل کرنے سے پہلے سو بار

سوچیے کہ زیادہ تر صورتوں میں معاشرت کی تبدیلی ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ بچوں کی اصلاحی سزا کے حوالے سے جان لیجیے کہ برطانیہ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اصلاحی سزا کی اجازت دی جائے تاکہ ہماری اگلی نسل کو درست سمت میں تربیت دی جاسکے۔ تشدد کی تائید کوئی ذی عقل نہیں کرتا لیکن یاد رہے کہ سزا و جزا تربیتی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اور ہاں امریکا کی بھی سن لیجیے جہاں مار نہیں پیار کے نتیجے میں اسکولوں میں طلبہ کے بدمعاش گروہ پرورش پارہے ہیں۔ جن کی سرکوبی کے لیے مسلح محافظ تعینات کیے جاتے ہیں۔ امریکا

کے اسکولوں میں طلبا کے ایک دوسرے پر تشدد اور طلبہ کے ہاتھوں اساتذہ کے پٹنے کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ سنجیدہ امریکی طبقہ اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرا رہا ہے تاکہ صورت حال کو قابو میں کیا جاسکے۔ جب کہ ہم اس جانب جا رہے ہیں جہاں سے دوسروں کی واپسی ہورہی ہے۔ ہم اپنی ایک نہیں،کئی بھینسوں کو تیل پلا چکے ہیں۔
ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، اپنی غلطیوں کی اصلاح کیجیے۔ اپنی سمت کو درست کیجیے، اندھی تقلید سے بچیے اور بھینس کا صحیح علاج کیجیے۔اور ہاں! پڑوسی کی تقلید سے پہلے نتیجہ ضرور پوچھ لیجیے۔ 


پروفیسر محمدنعیم خان 

23 دسمبر، 2014

قصاص میں زندگی ہے


وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ البقرہ ۱۷۹
ترجمہ: اور اے اہل عقل! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے کہ تم (قتل وخونریزی سے) بچو ۔

یہ نہایت فصیح و بلیغ جملہ ہے۔ جس پر عرب کے فصحاء عش عش کر اٹھے۔ کیونکہ اس مختصر سے جملہ میں دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی قصاص بظاہر تو موت ہے۔ مگر حقیقت میں پوری زندگی کا راز اسی میں ہے۔ عرب میں جو فصیح محاورہ استعمال ہوتا تھا القتل انفی القتل یعنی قتل قتل ہی سے مٹتا ہے۔ مگر فی القصاص حیاۃ میں بدرجہا زیادہ لطافت، فصاحت، بلاغت ہے اور مضمون بھی بہت زیادہ سما گیا ہے۔


دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور عرب بھر کا امن و سکون تباہ ہو چکا تھا۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا عادلانہ قانون دے کر دنیا بھر کے لوگوں کو جینے کا حق عطا فرما دیا۔
 

آج بعض ملکوں میں قتل کی سز ا منسوخ کر دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سزا ظالمانہ اور بہیمانہ ہے۔ متقول تو قتل ہو چکا، اب اس کے عوض ایک دوسرے آدمی کو تختہ دارپر لٹکا دنیا بےرحمی نہیں تو کیا ہے۔
آپ خوفناک حقائق کو دلکش عبارتوں سے حسین بنا سکتے ہیں۔ لیکن نہ آپ ان کی حقیقت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ان کے برے نتائج کو رو پذیر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ جس ملک کے قانون کی آنکھیں ظالم قاتل کے گلے میں پھانسی کا پھندا دیکھ کر پرنم ہو جائیں وہاں مظلوم و بےکس کا خدا ہی حافظ، وہ اپنے آغوش میں ایسے مجرموں کو نازو نعم سے پال رہا ہے جو اس کے چمنستان کے شگفتہ پھولوں کو مسل کر رکھ دیں گے۔ وہ دین جو دین فطرت ہے، جو ہر قیمت پر عدل وانصاف کا ترازو برابر رکھنے کا مدعی ہے اس سے ایسی بےجا بلکہ نازیبا ناز برادری کی توقع عبث ہے۔
 

ہمارے ہاں بھی کچھ لنڈے کے انگریز جو خود کو لبرل کہلواتے ہیں اس سزا کے خلاف ہیں۔ نام نہاد "انسانی حقوق " کی تنظیموں اور بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کئی سال سے رکا ہوا تھا ۔ اور اس وقت پاکستانی جیلوں میں دہشتگری کے الزام میں سزا یافتہ 500 افراد سمیت قریباآٹھ ہزار افراد ایسے ہیں جنھیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
 

حالیہ واقعہ کے بعد جب حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا تو سب ایک بار پھر اپنی اپنی ڈفلی لے کر پہنچ چکے ہیں۔ الطاف حسیں کہتے ہیں کہ سزا صرف دہشتگردوں کو دی جائے اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والے دہشتگرد تو ہرگز نہیں، بوری بند لاشیں پیک کرنے والے بھی دہشت گرد نہیں ۔ الطاف بھائی پر خود بھی کئی قاتل اور اقدام قتل کے مقدمات ہیں، وہ بھی دہشتگرد نہیں اس لیے اسے سزا نہ دی جائے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دوسری نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لنڈے کے انگریز بھی میدان میں آ چکے ہیں اس سزا کے خلاف۔
 

عجیب منطق ہے ان "انسانی حقوق" کی تنظیموں کی بھی، ایک مجرم کو سزا دینے سے تو ان کے مطابق انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں جبکہ بغیر کسی کا جرم ثابت کیے اس پر ڈرون اور میزائل مار کر اسے، اسکے گھر والوں کو ،اس کے بچوں کو، اسکے محلے اور پڑوس والوں سب کو مار دینے سے "انسانی حقوق "بالکل محفوظ رہتے ہیں۔کبھی آپ نے کسی "انسانی حقوق" کی لبرل تنظیم کو ڈرون حملوں کے خلاف بولتے نہیں دیکھا ہو گا۔
 

یہ تنظیمیں کسی طاقتور ملک کو بغیر کسی کا جرم ثابت کیے کسی ایک شخص کی "تلاش" میں کسی غریب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے، اس پر قالینی بمباری کرنے اور لاکھوں افراد کو قتل کرنے ، بچوں عورتوں اور بزرگوں کو وحشیانہ بمباری کر کے ان کے چیتھڑے اڑانے کی تو اجازت دیتی ہے لیکن کسی قاتل کو عدالتی کاروائی کے بعد جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی اجازت نہیں دیتی۔
 

قرآن کہہ رہا ہے کہ "تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ۔"
 

اے اہل عقل اگر امن چاہتے ہو تو بلا تفریق تمام مجرموں کو سزا دو۔ چاہے وہ دہشتگردی کے جرم میں ہو، ٹارگٹ کلنگ میں یا ذاتی دشمنی کی بنا پر ۔ چاہے وہ ایم کیو ایم کے ہوں چاہے اے این پی کے یا چاہے فوجی۔چاہے الطاف بھائی ہو یا مشرف ۔ تمام مجرموں کو جب تک بلا تفریق سزا نہیں دی جاتی، امن محال ہے کیونکہ قصاص میں زندگی ہے۔

قصاص میں زندگی ہے۔

16 دسمبر، 2014

قبرِ اقبال سے آرہی تھی صدا


یہ تحریر دسمبرکے آخری دنوں میں لکھ رہاہوں وہ دسمبر جس کے آتے ہی زخم ہرے ہوجاتے ہیں ۔ انڈیاکی ننگی جارحیت نے مادرِ وطن کے دو ٹکڑے کردئیے۔ ایک بازو کاٹ کر رکھ دیا۔جسد ِملّت پرلگا ہوازخم اتنا گہراہے کہ قیامت تک نہ بھرسکے گا۔میں ٹین ایجر تھا جب میں نے اس سانحے پر بڑے معتبر اور باوقار لوگوں کو دیوانہ وار دیواروں سے ٹکریں مارتے دیکھا ۔ کیسے بھول جاوٴں کہ میں نے پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والے اپنے والد محترم کو دھاڑیں مار کرروتے دیکھا۔ محترمہ بشریٰ رحمن نے چند روز پہلے اپنے کالم میں اس دسمبر کاذکرکرتے ہوئے لکھا تھا ”یہ 16دسمبر1971ء کی شام تھی میں بچوں کو سینے سے لگاکر رو رہی تھی کیونکہ میرے بابا کی نگری لٹ گئی تھی، اتحاد کی نیّاڈوب گئی یقینِ محکم کی رسّی ٹوٹ گئی تھی۔۔۔کون تھا جو نہیں رویا۔۔۔بابائے قوم کی سسکیاں میں نے خودسنیں آشیانے کے تنکے بکھر جانے پر پوری قوم تڑپ اٹھی تھی۔۔۔۔“

کیایہ تاریخ نہیں ہے۔۔۔۔تاریخ درست کرنے کے شوقین بتائیں کہ وہ تاریخ کے ان اوراق کو نئی نسل سے کیوں چھپانا چاہتے ہیں۔کیا وہ چاہتے ہیں کہ قائد کے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے والے مجر موں کی شناخت نہ ہو۔ان کے چہرے ڈھانپ دئیے جائیں، ان کے قصیدے پڑھے جائیں اور اُن کی پیروی کیاجائے۔کیا یہ تاریخ کاانمٹ نقش نہیں ہے کیا زندہ قومیں ایسے نقوش نئی نسل سے چھپاتی ہیں؟

جب سیاستدانوں کی مفادپرستی ‘ جرنیلوں کی ہوسِ اقتدار اور دشمن کی فوجوں نے مل کر ارضِ پاکستان کا مشرقی بازوکاٹ دیا تواس کے چند مہینے بعد اس زخم خوردہ ملّت کے مفکّرِ اعظم اقبال کا یوم ولادت تھا۔ حسب ِروایت لاہور کی سب سے بڑی تقریب یونیورسٹی ہال میں منعقد ہوئی۔ ہال لاہور کی اشرافیہ، پروفیسرز، ڈاکٹرز،وکلاء ،علماء اورطلباء سے کھچا کھچ بھراہوا تھا۔ مجلسِ اقبال کے سیکرٹری آغا شورش کاشمیری نے معروف شاعر مشیر کاظمی کو نظم پڑھنے کی دعوت دی جنہوں نے مائیک پرآتے ہی بتایا کہ میں آج صبح علامہ اقبال کے مزارپرپھول چڑھانے گیا تھا وہیں سے آرہا ہوں۔نظم کے پہلے دو شعروں پرہی سامعین تڑپ اٹھے اوردھاڑیں مارکررونے لگے نظم کے چند شعرسن لیجئے :۔



پھول لے کر گیا، آیا روتا ہوا
بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبرِ اقبال سے آرہی تھی صدا
یہ وطن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
شہرِ ماتم تھا اقبال کا مقبرہ
تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی
رُوح ِقائد بھی سر کو جھکائے ہوئے
چاند تارے کے پر چم میں لپٹے ہوئے
چاند تارے کے لاشے بھی موجود تھے
سرنگوں تھا قبر پہ مینارِ وطن
کہہ رہاتھا کہ اے تاجدارِ وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر
کیسے قائم ہوا تھا حصارِ وطن

پوری نظم نہ شاعر سنا سکانہ سامعین سن سکے شاعر کی آواز آہوں اورسسکیوں میں دب کر رہ گئی اورتقریب ختم ہوگئی ۔۔۔۔۔۔
مگرملّت کے زخموں پرصرف آنسوؤں سے مرہم نہیں رکھا جاسکتا ،زندہ رہنے کا عزم اورولولہ رکھنے والی قومیں اپنے آنسوؤں کو خاک میں گُم نہیں ہونے دیتیں اور آنکھوں سے نکلنے والے موتیوں کی چمک میں اپنی منزل اور سمت تلاش کرلیتی ہیں۔ترآنکھیں تو ہوجاتی ہیں پرکیا لذّت اس رونے میں، جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا۔

نئے سال کی دعا: اے قادرِ مطلق! وہ افراد یا گروہ جن کی ڈوریاں بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں انہیں اہل ِوطن کے سامنے پوری طرح بے نقاب کردے اور پاکستان کے ریاستی امور میں ان کا ہرقسم کا کردار ختم کردے۔

تحریر: ذوالفقار احمد چیمہ 


video
 

8 دسمبر، 2014

بول


"بول"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
"بول" سے تو اچھا تھا
"بولی" نام رکھتے تُم
بولیاں لگاتے ہو
میڈیا کی منڈی میں
کھنکھناتے سِکوں پر
جھوٹ رقص کرتا ہے
کھوٹ کی تجارت ہے
زر زمیں کے بُھوکے سب
دو ٹکوں کی لالچ میں
نظریے بدلتے ہیں
اِس لیے گزارش ہے
"بول" نام رکھنے سے 
جھوٹ کے اماموں کو 
سُولیوں کے موسم میں
بولنا نہیں آتا
سونے کے ترازو میں
زر خرید لوگوں کو 
عدل کے اُصولوں پر
تولنا نہیں آتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12 نومبر، 2014

اقبال کی اسلام سے والہانہ عقیدت


اقبال کی اسلام سے والہانہ عقیدت
........................................................
سب جانتے ہیں کہ اقبال نے وہی مغربی تعلیم حاصل کی تھی جو ہمارے نوجوان انگریزی یونیورسٹیوں میں حاصل کرتے ہیں۔ یہی تاریخ، یہی ادب، یہی اقتصادیات، یہی سیاسیات، یہی قانون اور یہی فلسفہ انہوں نے بھی پڑھا تھا اور ان فنون میں بھی وہ مبتدی نہ تھے بلکہ منتہی فارغ التحصیل تھے۔ خصوصا فلسفہ میں تو ان کو امامت کا مرتبہ حاصل تھا جس کا اعتراف موجودہ دور کے اکابر فلاسفہ تک کرچکے ہیں۔ جس شراب کے دو چار گھونٹ پی کر بہت سے لوگ بہکنے لگتے ہیں، یہ مرحوم اس کے سمندر پیے بیٹھا تھا۔ پھر مغرب اور اس کی تہذیب کو بھی اس نے محض ساحل پر سے نہیں دیکھا تھا جس طرح ہمارے ننانوے فیصد نوجوان دیکھتے ہیں بلکہ وہ اس دریا میں غوطہ لگا کر تہہ تک اتر چکا تھا اور ان سب مرحلوں سے گزرا تھا جن میں پہنچ کر ہماری قوم کے ہزاروں لوگ اپنے دین و ایمان، اپنے اصول، تہذیب و تمدن اور اپنے قومی اخلاق کے مبادی تک سے برگشتہ ہوجاتے ہیں حتٰی کہ اپنی قومی زبان تک بولنے کے قابل نہیں رہتے۔

لیکن اس کے باوجود اس شخص کا حال کیا تھا؟ مغربی تعلیم و تہذیب کے سمندر میں قدم رکھتے وقت وہ جتنا مسلمان تھا، اس کے منجدھار میں پہنچ کر اس سے زیادہ مسلمان پایا گیا۔ اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا اتنا ہی زیادہ مسلمان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ میں جب پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ قرآن میں گم ہوچکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیں رہا۔ جو کچھ سوچتا تھا، قرآن کے دماغ سے سوچتا تھا۔ جوکچھ دیکھتا تھا، قرآن کی نظر سے دیکھتا تھا حقیقت اور قرآن اس کے نزدیک شے واحد تھے، اس شے واحد میں وہ اس طرح فنا ہوگیا تھا کہ اس دور کے علمائے دین میں بھی مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو فنائیت فی القرآن میں اس امامِ فلسفہ اور اس ایم، اے، پی ایچ ڈی بار ایٹ لاء سے لگا کھاتا ہو۔

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ آخری دور میں اقبال نے تمام کتابوں کو الگ کردیا تھا اور سوائے قرآن کے اور کوئی کتاب وہ اپنے سامنے نہ رکھتے تھے۔ سالہا سال تک علوم و فنون کے دفتروں میں غرق رہنے کے بعد جس نتیجہ میں پہنچے تھے ، وہ یہ تھا کہ اصلی علم قرآن ہے، اور یہ جس کے ہاتھ آجائے وہ دنیا کی تمام کتابوں سے بے نیاز ہے۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے ان کے پاس فلسفہ کے چند اہم سوالات بھیجے اور ان کا جواب مانگا۔ ان کے قریب رہنے والے لوگ متوقع تھے کہ اب علامہ اپنی لائبریری کی الماری کھلوائیں گے اور بڑی بڑی کتابیں نکلواکر ان مسائل کا حل تلاش کریں گے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لائبریری کی الماریاں مقفل کی مقفل رہیں، اور وہ صرف قرآن ہاتھ میں لے کر جواب لکھوانے بیٹھ گئے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے ساتھ ان کی عقیدت کا حال اکثر لوگوں کو معلوم ہے مگر یہ شاید کسی کو نہیں معلوم کہ انہوں نے اپنے سارے تفلسف اور اپنی عقلیت کو رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں ایک متاعِ حقیر کی طرح نذر کرکے رکھ دیا تھا۔ حدیث کی جن باتوں پر نئے تعلیم یافتہ نہیں پرانے مولوی تک کان کھڑے کرتے ہیں اور پہلو بدل بدل کر تاویلیں کرنے لگتے ہیں، یہ ڈاکٹر آف فلاسفی ان کے ٹھیٹھ لفظی مفہوم پر ایمان رکھتا تھا اور ایسی کوئی حدیث سُن کر ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے دل میں شک کا گزر نہ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک صاحب نے ان کے سامنے بڑے اچنبھے کے انداز میں اس حدیث کا ذکر کیا جس میں بیان ہوا ہے کہ “رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصحابِ ثلاثہ کے ساتھ کوہِ احد پر تشریف رکھتے تھے۔ اتنے میں احد لرزنے لگا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی (ص) ایک صدیق (رض) اور دو شہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس پر پہاڑ ساکن ہوگیا۔“ اقبال نے حدیث سنتے ہی کہا کہ اس میں اچنبھے کی کونسی بات ہے؟ میں اس کو استعارہ مجاز نہیں بالکل ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس کے لیے کسی تاویل کی حاجت نہیں۔ اگر تم آگاہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ ایک نبی کے نیچے آکر مادے کے بڑے سے بڑے تودے بھی لرز اٹھتے ہیں۔ مجازی طور پر نہیں بلکہ واقعی لرز اٹھتے ہیں۔

اسلامی شریعت کے جن احکام کو بہت سے روشن خیال حضرات فرسودہ اور بوسیدہ قوانین سمجھتے ہیں اور جن پر اعتقاد رکھنا ان کے نزدیک ایسی تاریک خیالی ہے کہ مہذب سوسائٹی میں اس کی تائید کرنا ایک تعلیم یافتہ آدمی کے لیے ڈوب مرنے سے زیادہ بدتر ہے۔ اقبال نہ صرف ان کو مانتا اور ان پر عمل کرتا تھا بلکہ برملا ان کی حمایت کرتا تھا، اور اس کو کسی کے سامنے ان کی تائید کرنے میں باک نہ تھا۔ اس کی ایک معمولی مثال سن لیجئے۔ ایک مرتبہ حکومتِ ہند نے ان کو جنوبی افریقہ میں اپنا ایجنٹ بنا کر بھیجنا چاہا اور یہ عہدہ ان کے سامنے باقاعدہ پیش کیا مگر شرط یہ تھی کہ وہ اپنی بیوی کو پردہ نہ کرائیں گے اور سرکاری تقریبات میں لیڈی اقبال کو ساتھ لیکر شریک ہوا کریں گے۔ اقبال نے اس شرط کے ساتھ یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور خود لارڈ ولنگڈن سے کہا کہ میں بے شک ایک گنہگار آدمی ہوں، احکام اسلام کی پابندی میں بہت کوتاہیاں مجھ سے ہوتی ہیں۔ مگر اتنی ذلت اختیار نہیں کرسکتا کہ محض آپ کا ایک عہدہ حاصل کرنے کے لیے شریعت کے ایک حکم کو توڑدوں۔

قرآن مجید کی تلاوت سے ان کو خاصا شغف تھا اور صبح کے وقت بڑی خوش الحانی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے مگر آخیر زمانہ میں طبیعت کی رقت کا یہ حال ہوگیا تھا کہ تلاوت کے دوران میں روتے روتے ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور مسلسل پڑھ ہی نہ سکتے تھے۔ نماز بھی بڑے خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے مگر چھپ کر۔ ظاہر میں یہی اعلان تھا کہ نرا گفتار کا غازی ہوں۔

ان کی سادہ زندگی اور فقیرانہ طبیعت کے حالات ان کی وفات ہی کے بعد لوگوں میں شائع ہوئے۔ ورنہ عام خیال یہی تھا کہ جیسے اور“سر صاحبان“ ہوتے ہیں، ویسے ہی وہ بھی ہوں گے، اور اسی بنا پر بہت سے لوگوں نے یہاں تک بلا تحقیق لکھ ڈالا تھا کہ ان کی بارگاہِ عالی تک رسائی کہاں ہوتی ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص حقیقت میں اس سے بھی زیادہ فقیر منش تھا جتنا اس کی وفات کے بعد لوگوں نے اخبارات میں بیان کیا ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ سن لیجئے، جس سے اس بیرسٹر کی طبیعت کا آپ اندازہ کرسکیں گے۔ پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورہ کیلئے اقبال اور سر فضل حسین مرحوم اور ایک دو اور مشہور قانون دان اصحاب کو اپنے ہاں بلایا اور اپنی شاندار کوٹھی میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔ رات کو جس وقت اقبال اپنے کمرے میں آرام کرنے کیلئے گئے تو ہر طرف عیش و تنعم کے سامان دیکھ کر اور اپنے نیچے نہایت نرم اور قیمتی بستر پاکر معا ان کے دل میں خیال آیا کہ جس رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے نصیب ہوئے ہیں انہوں نے بورئیے پر سو سو کر زندگی گزاری تھی۔ یہ خیال آنا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی۔ اس بستر پر لیٹنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔ اٹھے اور برابر غسل خانے میں جاکر ایک کرسی پر بیٹھ گئے اور مسلسل رونا شروع کردیا۔ جب ذرا دل کو قرار آیا تو اپنے ملازم کو بلا کر اپنا بستر کھلوایا اور ایک چارپائی اس غسل خانہ میں بچھوائی اور جب تک وہاں مقیم رہے، غسل خانہ ہی میں سوتے رہے۔ یہ وفات سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے، جب باہر کی دنیا ان کو سوٹ بوٹ میں دیکھا کرتی تھی۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ اس سوٹ کے اندر جو شخص چھپا ہوا ہے اس کی اصلی شخصیت کیا ہے؟ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھا جو سیاسی اغراض کے لیے سادگی و فقر کا اشتہار دیتے ہیں اور سوشلسٹ بن کر غریبوں کی ہمدردی کا دم بھرتے ہیں مگر پبلک کی نگاہوں سے ہٹ کر ان کی تمام زندگی رئیسانہ اور عیش پسندانہ ہے۔  (سید ابوالاعلیٰ مودودی)

28 اکتوبر، 2014

افسوس!! یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے

جنگل کے بادشاہ اور رعایا کی ایک کہانی
 

tags
 یہ گدھے کبھی نہ سمجھیں گے
شیر اور گدھوں کی کہانی 
story of lion and donkeys, pakistan, urdu,

22 اکتوبر، 2014

21 اکتوبر، 2014

دریوزۂ خلافت (خلافت کی بھیک)


 "دریوزۂ خلافت"

اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی

نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی

خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی

"مرا از شکستن چناں عار ناید
کہ از دیگراں خواستن مومیائی"

کلام بانگ -- علامہ محمد اقبال
----------------------------

مشکل الفاظ کے معانی
 

دریوزۂ خلافت -- خلافت کی بھیک
خلافت-- مسلمانوں کا طرز حکومت، جس کا سربراہ خلیفہ کہلاتا ہے
احکام حق-- الله کے احکام
آگہی -- واقفیت ، باخبری
گدائی-- بھیک مانگنا
لہو سے خریدنا- - یعنی باقاعدہ جہاد کر کے حاصل کرنا
ننگ- - ذلت کا باعث ، رسوائی
پادشائی -- بادشاہت، حکمرانی، حکومت


** آخری شعر فارسی میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ

"مجھے ہڈی ٹوٹنے پر اتنی شرم نہیں آتی (اتنی تکلیف نہیں ہوتی) جتنی دوسروں(یا گھٹیا لوگوں) سے مومیائی مانگنے پر آتی ہے"

(مومیائی پہاڑ سے نکلی ہوئی ایک سیاہ رنگ دواکو کہتے ہیں جو اکثر سخت چوٹ یا ہڈی چٹخ جانے کے موقع پر پلائی جاتی ہے)


20 اکتوبر، 2014

دو میدانِ جنگ

اوریا مقبول جان
  تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے خاتمے سے پہلے ایک انتہائی خونریز جنگ برپا ہو گی اور اس کے بعد اللہ ایک ایسی حکومت قائم کر دے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گی۔ تینوں اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں فتح کا سہرا کسی مسیحا کے ماتھے پر سجے گا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کے لوٹ آنے پر ذرا مختلف انداز میں یقین رکھتے ہیں جب کہ مسلمانوں کے ہاں ایک امیر، خلیفہ یا رہنما یا امام کی صورت میں مہدی کا ظہور ہے جو مسیحِ دّجال سے جنگ کرے گا۔ دّجال کا مطلب جھوٹا ہوتا ہے اور مسلمان احادیث کی روشنی میں یہ تصور بھی رکھتے ہیں کہ اس جھوٹے مسیح یعنی دّجال سے آخری جنگ کے لیے اللہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ دنیا میں نازل فرمائے گا۔

جب کہ یہودیوں کے مسیحا کا تصور ان کی روایات کے مطابق ایک ایسے شخص کا ہے جسے اللہ دوبارہ اس دنیا میں یہودی عالمی سلطنت کے قیام کے لیے بھیجے گا۔ تینوں مذاہب ایک خوفناک جنگ کی تیاریوں میں مدتوں سے مصروف ہیں۔ لیکن ان میں دو مذاہب عیسایت اور یہودیت کے نزدیک میدانِ جنگ، بیت المقدس، یروشلم یا بیت اللحم اور اس کے گرد و نواح کے علاقے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک میدانِ جنگ دو ہیں۔ ایک یروشلم کے اردگرد شام، لبنان، اردن اور عراق جب کہ دوسرا میدانِ جنگ ہندوستان ہے۔ یہ دونوں ایک ہی وقت میں ظہور پذیر ہو گے۔ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا ’’تم میں سے ایک لشکر ضرور ہند پر حملہ کرے گا۔

جس کو اللہ فتح دے گا۔ یہ لشکر ہند کے حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائے گا۔ اللہ اس لشکر کے گناہ معاف کر دے گا۔ پھر جب یہ لوگ واپس لوٹیں گے تو شام میں عیسیٰ ابنِ مریم کو پائیں گے۔ (الفتن۔ نعیم بن حماد)۔ یہ حدیث دونوں جنگوں کا ایک ہی زمانے اور وقت میں ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ ان دونوں جنگوں کے میدان میں لڑنے والوں کے لیے بشارتیں بھی کتبِ احادیث میں پائی جاتی ہیں۔ ’’حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت کی دو جماعتوں کو اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ فرمایا ہے‘‘ ایک وہ جماعت جو ہندوستان سے جنگ کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ ابنِ مریم کے ساتھ ہو گی۔ (نسائی۔ کتاب الجہاد، مسندِ احمد)۔

اس مقدس جنگ کا سب سے پہلے آغاز پوپ اربن دوم نے25 نومبر1095ء کو کونسل آف کلیر مونٹ میں اپنی تقریر سے کیا۔ اس نے انتہائی جو شیلے انداز میں اعلان کیا کہ مسلمان ایک وحشی قوم ہے اور ان کو قتل کرنا ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے۔ یروشلم کو کافروں سے آزاد کرانا اور ایشائے کوچک کو اس ’’گند‘‘ سے صاف کرنا ہم پر فرض ہے۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ یسوع کا مزار مسلمانوں کے قبضے میں ہے‘‘۔ اس کے صرف چھ ماہ بعد1096ء کے موسمِ بہار میں ساٹھ ہزار فوجیوں کے پانچ لشکر مسلمانوں سے جنگ کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایسے لگتا تھا پورا یورپ مسلمانوں سے جنگ کے لیے نکل کھڑا ہوا ہے۔

اس کے بعد کی کئی صدیاں کشت و خون کی صدیاں ہیں۔ لیکن پوپ اربن کی تقریر کا ایک اور حصہ بہت عجیب ہے۔ اس نے یورپ کے تمام عیسائیوں کو پکارتے ہوئے کہا کہ ’’اگر باہر کا کوئی شخص تمہارے کسی رشتے دار کو قتل کر دے تو کیا تم اس کا انتقام نہیں لو گے۔ کیا تم اپنے خداوند، اپنے مصلوب یسوع کا انتقام نہیں لو گے‘‘۔ اس کی نیت یہودیوں پر حملہ کرنے کی نہیں تھی، لیکن اس سے پہلے کہ یورپ کے مسلمانوں کے لیے لشکر ترتیب دیتے وہ اپنے اندر بسنے والے یہودیوں پر ٹوٹ پڑے۔ صلیبی جنگجوؤں نے یہودیوں کا قتلِ عام کیا، سینا گو گوں کو مسمار کیا، تورات کے نسخوں کو جلایا اور انھیں ڈرایا کہ یا تو عیسایت قبول کر لو،، یا پھر موت قبول کر لو۔ ایسے میں پوپ کے کہنے پر بیشتر بشپوں نے یہودیوں کو گرجا گھروں میں پناہ دی۔ لیکن یہ حربے کچھ دیر تک ہی کامیاب رہے، پھر صلیبی جنگوں کے خاتمے پر پوپ نے سولہویں صدی میں یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کی حمایت کر دی۔

اس کے بعد کی تین چار صدیاں ایسی گزریں کہ یہودی کبھی ایک شہر سے نکالے جاتے اور کبھی دوسرے سے۔ ہر عیسائی اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسپین میں ازابیلا اور فرڈینیڈ کی جنگ کا حوالہ دیتا۔ وہ اس معرکے کو عیسائی غلبے کی علامت سمجھتے، جس کے نتیجے میں اسپین کو مسلمانوں اور یہودیوں، دونوں سے پاک کر دیا گیا تھا۔ لیکن یورپ میں چرچ کے اقتدار نے جو مظالم عام آدمی پر ڈھائے، اور جس کے طرح ان کے مذہبی رہنماؤں نے اپنے ہی لوگوں کو کافر کہہ کر زندہ آگ میں جلایا، اس سے ایک ایسی نفرت پھوٹی جس نے مسیحی چرچ کے اقتدار کو زمین بوس کر دیا۔ انقلاب فرانس کے بعد ان کا اقتدار گرجا گھروں تک محدود ہو گیا۔ ایسے میں یہودی اپنی اس مقدس جنگ کو یاد کرنے لگے جو انھیں ارضِ مقدسہ واپس دلائے گی اور وہاں ان کی حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسی عالمی حکومت قائم ہو گی۔ صہیونیت ایک نظریہ بن کر ابھری اور اس نے جلد ہی پوری یہودی قوم کو جذباتی طور پر اپنا ہمنوا بنا لیا۔

باقی اقوام کو یہودی دانشوروں اور مفکروں نے سیکولر نظریات کی بنیاد پر رنگ، نسل، زبان اور علاقے میں ایسا الجھایا کہ وہ جو کبھی مسلمانوں اور یہودیوں کو قتل کر کے ان سے اس دنیا کو پاک صاف کرنے کا دعویٰ لے کر اٹھے تھے آپس میں اس طرح لڑے کہ جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوم میں کروڑوں لوگوں کا خون بہا کر تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ اس دوران معیشت اور میڈیا پر قابض یہودیوں کو ارض مقدس کی جنگ یاد آئی اور وہ آہستہ آہستہ وہاں جا کر آباد ہونے لگے: ان کا یورپ کے مسیحیوں سے ایسا گٹھ جوڑ ہوا کہ سب نے مل کر انھیں ایک ریاست تحفے میں دے دی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر ایسی لکیریں بھی کھنچیں کہ وہ 51 ریاستوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ ان ریاستوں کی سرحدوں کو محترم اور مقدس بنا دیا گیا تا کہ یہ کبھی ایک ملت کی صورت اکٹھے نہ ہو سکیں۔

تینوں مذاہب آج بھی اس آخری جنگ کا انتظار کر رہے ہیں اور تیاری بھی۔ تقریباً 919 سال قبل جس آخری جنگ کی طرف پیش قدمی کا اعلان پوپ اربن نے کیا تھا اور 118 سال قبل جس عالمی ریاست کے قیام کے لیے ہزال نے دنیا بھر کے یہودیوں کو اکٹھا کر کے مشہور عالم پروٹوکولز تحریر کیے تھے، اب یوں لگتا ہے اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دوران مسلمانوں کے مرکز کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جنگ عظیم میں مسلمانوں کا خیمہ شام کے شہروں میں سب سے اچھے شہر دمشق کے قریب ’’الغوطہ‘‘ کے مقام پر ہو گا (سننن ابوداؤد، مستدرک)۔ اس ہیڈ کوارٹر پر فاتح مسلمان خراسان سے آئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب کالے جھنڈے مشرق سے نکلیں گے تو ان کو کوئی چیز نہیں روک سکے گی حتیٰ کہ وہ ایلیا (بیت المقدس میں نصب کر دیے جائے گے (مسند احمد)۔ یہ جنگ تو برپا ہو چکی، اور اس کے لیے دنیا بھر سے لوگ وہاں پہنچ رہے ہیں۔

لیکن سب حیران ہیں کہ ایسے وقت میں جب افغانستان اور پاکستان کے وہ علاقے جو خراسان کہلاتے ہیں، وہاں سے لوگ اس آخری جنگ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ادھر پورا یورپ اور امریکا ان کے خلاف متحد ہو رہا ہے اور بقول بارک اوباما، اس جنگ میں فتح بہت مشکل ہے، ہو سکتا ہے ہمیں تیس سال لگ جائیں۔ ایسے ماحول میں بھارت پاکستان کی سرحدوں پر حملہ آور کیوں ہے۔ یہ ہے وہ دوسرا میدانِ جنگ جس کی ہادی برحق صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی ہے۔ نریندر مودی کی اٹھان بالکل ویسی ہی ہے جیسے جرمنی میں ہٹلر کی ہوئی تھی۔ جمہوری طور پر منتخب، نسلی تعصب کا علمبردار اور پڑوسی اقوام کو ختم کرنے کا عزم لیے ہوئے۔ ہٹلر کے اس جنون کی قیمت جرمنی کو بھگتنا پڑی تھی اور نریندر مودی کے جنون کی قیمت بھارت بھگتے گا۔ اس لیے کہ میرا ایمان ہے اور میرے ایمان کی وجہ ہے کہ اس جنگ میں فتح کی بشارت میرے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے۔ مجھے حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کی تمام اقوام ان سے لڑنے کے لیے پر تول رہی ہیں، ان پر حملہ آور بھی ہیں، اور یہ سب وہ اپنی الہامی کتابوں کی رواتیوں پر یقین کر کے ایک ہزار سال سے کر رہی ہیں۔ ایسے میں ہم عزت کی زندگی نہیں ذلت کی موت چاہتے ہیں۔ 


 

1 اکتوبر، 2014

مولوی کی سیلفی کرکٹ

 مولوی کے استاد ہونے میں کیا شبہ۔ پیر کی شام دھرنے سے باہرآیا اور کرکٹ کھیلی۔ یہ سولو کرکٹ تھی۔ جیسے ادب میں مونو لاگ ہوتا ہے‘ ویسے ہی مولوی نے سولو کرکٹ متعارف کرا دی ہے‘ اسے سیلفی کرکٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ خود ہی باؤلنگ کی‘ خود ہی بیٹنگ کی اورچھوٹتے ہی چھکے لگائے۔ پہلی بال میں آؤٹ ہوگیا لیکن امپائر بھی خود ہی تھا اس لئے انگلی کھڑی نہیں کی بلکہ خود کو ناٹ آؤٹ قرار دے کر پھر سے باؤلنگ اور بیٹنگ شروع کر دی ۔ پتہ نہیں‘ ’’سیلفی‘‘ میں مزہ نہیں آیا ورنہ سنچری کرنا کیا مشکل تھا۔ ہو سکتا ہے‘ کنٹینر سے باہر کی ’’خوشبو دار فضا‘‘ نے مولوی کی ناک کھٹی کر دی ہو (محاورہ دانت کا ہے لیکن ناک حسب حال بلکہ حسب موقع ہے )اور مزید چھکّے لگانے کا دم نہ رہا ہو۔

سیلفی کرکٹ اچھا شغل ہے‘ بعض لوگ توقع کر رہے ہیں کہ دھرنوں کی شاندار ناکامی کے بعد مولوی کا یہی شغل ہمہ وقتی ہو جائے گا ۔یہ مولوی بھی خدا نے کیا شے بنائی ہے‘ سبحان اس کی قدرت ۔ کتابیں اس کے شاگرد لکھتے ہیں‘ انہیں پیسے دے کر اپنے نام سے چھپوا لیتا ہے لیکن کرکٹ میں دوسروں پر انحصار نہیں کرتا۔بطور باؤلر کسی دوسرے کو بیٹسمین اور بطور بیٹسمین کسی دوسرے کو باؤلر نہیں مانتا۔ دونوں کی ڈیوٹی اکیلا دیتا ہے۔ پتہ نہیں‘ دھرنوں کے نتیجے کے لئے کسی اور امپائر پر انحصار کیوں تھا۔ اس امپائر کے انتظار میں ڈیڑھ مہینہ گنوا دیا اور سبق یہ سیکھا کہ باؤلر بھی خود‘ بیٹسمین بھی خود‘ امپائر بھی خود ہونا چاہئے۔ یہ سبق پہلے ہی سیکھ لیا ہوتا تو شاید دھرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔


امپائر کا انتظار رنگیلے نیازی کو بھی تھا۔ انتظار کیا‘ دونوں کو یقین تھا کہ امپائرپاس ہی کہیں دھرنوں کی اوٹ میں کھڑا ہے اسی لئے تو رنگیلا نیازی ہر رات یہ اعلان کرتا تھا کہ انگلی کل کھڑی ہوگی اور مولوی ہر دوسرے دن انقلاب کی نئی حتمی تاریخ دیتا تھا۔ ایک بار تو ’’رانگ سگنل‘‘ ملنے کے بعد پارلیمنٹ پر ہلّہ بول دیا اور فیصلہ سنا دیا کہ اب کوئی اس کے اندر جا سکتا ہے نہ باہر آسکتا ہے۔ پھر صحیح سگنل ملنے پر حکم بدل دیااور ارکان پارلیمنٹ کو آنے جانے کی اجازت دیدی۔ جو لوگ کہتے ہیں پارلیمنٹ طاقتور ہے‘ انہیں ماننا چاہئے کہ پارلیمنٹ کی طاقت مولوی کی محتاج ہے۔ خود انصاف کیجئے‘ مولوی پارلیمنٹ میں آنے جانے کی اجازت نہ دیتا تو پارلیمنٹ اب تک سیلفی کرکٹ کا گراؤنڈ نہ بن چکی ہوتی۔ 


عبداللہ طارق سہیل