ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

12 مئی، 2015

جس جگہ زَر ہو خُدا


اُس ترازو سے مجھے خون کی بُو آتی ہے
یک زباں ہو کے مرے پیارے وطن کے باسی
جِس کے جھکتے ہوئے پلڑے کو خُدا کہتے ہیں
ساری تعزیریں یتیموں پہ لگانے والی
تختہ دار پہ مہروں کو چڑھانے والی
سارے شیطانوں کو مسند پہ بٹھانے والی
تُم کہو شوق سے اُس جا کو عدالت لوگو
کالے کرتوتوں کو تُم کہہ دو وکالت لوگو
میں اُسے کہتا ہوں زرداروں کی گندی منڈی
جس جگہ چلتے ہوں منصف بھی رکھیلوں کی طرح
جس جگہ اندھے گواہوں کی فراوانی ہو
اُس جگہ عدل کا سایہ بھی نہیں مِلتا کبھی
جس جگہ زَر ہو خُدا زَر کی ثناخوانی ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی

30 اپریل، 2015

ربڑ ------- از --------گل نوخیز اختر

یہ1978 ء کی گرمیوں کی بات ہے جب پہلی بار مجھے ایک بیش قیمت خواب آیا۔ میں ملتان کے ایم سی پرائمری سکول میں دوسری کلاس میں پڑھتا تھا جسے اُس دور میں ’’پکی جماعت‘‘ کہا جاتاتھا۔یہ وہ دور تھا جب صبح صبح گلیوں میں ’’ماشکی‘‘ بڑی سی مشک اُٹھائے چھڑکاؤ کیا کرتے تھے۔میرا سکول میرے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔میری ماں جی نے لنڈے سے ایک ڈبیوں والی پرانی پینٹ خرید کر مجھے اس کا بستا بنا کر دیا ہوا تھا‘ اِس بستے کی خوبی یہ تھی کہ اس میں دو جیبیں تھی اورجیبوں والا یہ بستہ مجھے بہت پسند تھا۔اُس دور میں وہی ’’سیٹھ کا بچہ‘‘ شمار ہوتا تھا جس کے بستے کی جیبیں زیادہ ہوتی تھیں۔ ہر بچے کو حکم تھا کہ وہ اپنے بیٹھنے کے لیے ’’چٹائی‘‘ گھر سے لے کر آئے‘ ابا جی چٹائی تو افورڈنہیں کر سکتے تھے تاہم انہوں نے مجھے کہیں سے جگہ جگہ پیوند لگی ایک چادر لا دی تھی جو سکول میں میرے بیٹھنے کے کام بھی آتی تھی اور میں اِس سے سلیٹ بھی صاف کرلیا کرتا تھا۔صبح کے چار بجے تھے جب مجھے محسوس ہوا کہ میرے اردگرد ’’ربڑہی ربڑ‘‘بکھرے پڑے ہیں‘ میں ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا‘ اِدھر اُدھر ہاتھ مارا لیکن ہاتھ خالی تھے‘ میں نے جلدی سے پھر آنکھیں بند کرلیں اور اِسی حسین خواب میں پھر کھو جانا چاہا لیکن ’’ربڑ‘‘ اپنی ایک جھلک دکھلا کر غائب ہوچکے تھے۔میری نیند اُڑ گئی اور دل میں اپنی اوقات سے بڑھ کر ایک خیال اُبھرا کہ کاش میرے پاس بھی ایک ربڑ ہو اور میں بھی کچی پنسل سے کچھ غلط لکھ کر اُسے ربڑ سے مٹاؤں۔

سکول جانے کا وقت ہوا تو ماں جی نے بڑے سے پیالے میں چائے ڈال کر اُس میں پراٹھے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر میرے سامنے رکھ دیے۔یہ میرا پسندیدہ ناشتہ تھا لیکن میرا دماغ تو کسی اور طرف ہی الجھا ہوا تھا۔ابا جی پاس ہی کچی زمین پر بیٹھے اپنی ہوائی چپل کو ایک مزید ٹانکا لگا رہے تھے‘ اس ہوائی چپل پر اتنے ٹانکے لگ چکے تھے کہ اب نیا ٹانکالگانے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں بچی تھی لیکن ابا جی کو شائد اِسی سے عشق تھا لہذا ہر دوسرے روز اس کی ’’بخیہ گری‘‘ میں لگ جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے ان کے پاس ایک خاکی رنگ کے پرانے سے بغیر تسموں کے بوٹ بھی تھے لیکن وہ بہت کم پہنتے تھے‘ لیکن مجھے وہ ہوائی چپل کی نسبت بوٹوں میں زیادہ اچھے لگتے تھے‘ لہذا کئی دفعہ فرمائش کرکے اُن کو زبردستی بوٹ پہنا دیا کرتا تھا‘ وہ کچھ دیر تک میری خواہش کے احترام میں بوٹ پہنے رکھتے‘ پھر یہ کہتے ہوئے اُتار دیتے کہ ’’یار۔۔۔ایہہ مینوں بہت چُبھدے نیں‘‘۔

میں نے کچھ دیراپنے خواب کے بارے میں سوچا ‘ پھر آہستہ سے کہا’’ابا جی! میں نے ربڑ لینا ہے‘‘۔ابا جی نے چونک کر میری طرف دیکھا ‘ پھر مسکراتے ہوئے میرے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور بولے’’تم تو ابھی تختی لکھتے ہو‘ ربڑ تو چوتھی جماعت کے بچے لیتے ہیں۔‘‘ میں نے پیالہ ایک طرف رکھا اور جھٹ سے ابا جی کی گود میں چڑھ گیا’’مجھے نہیں پتا۔۔۔میں نے ربڑ لینا ہے‘‘۔ ابا جی نے کن اکھیوں سے ماں جی کی طرف دیکھا جو رات کے بچی ہوئی روٹی پر تھوڑا سا گھی لگا کر اُسے دوبارہ زندہ کر رہی تھیں‘ ماں جی شائد ابا جی سے نظریں ملانے کی متحمل نہیں ہورہی تھیں اس لیے جلدی سے دھیان چولہے کی طرف لگا لیا۔میں پھر مچلا’’ابا جی میں نے ربڑ لینا ہے۔‘‘ میرا جملہ سن کر وہ زور سے ہنسے ‘ پھر میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولے’’لے دوں گا‘ لیکن پہلے اچھی طرح ناشتہ کر‘‘۔یہ سنتے ہی میرے اندر پھلجڑیاں سی پھوٹ پڑیں‘ مجھے لگا جیسے میری لاٹری نکل آئی ہے‘ میں نے حکم کی تعمیل میں جلدی سے پیالہ ختم کیا اور داد طلب نظروں سے ابا جی کی طرف دیکھا۔ابا جی نے فخریہ انداز سے میرے کندھے تھپتھپائے اور بولے’’شاباش میراببر شیر پُتر‘‘۔یہ خطاب میرے لیے نیا نہیں تھا‘ ابا جی جب بھی مجھ سے خوش ہوتے تھے ایسے ہی کہتے تھے‘ لیکن اُس دن مجھے اِس خطاب کی نہیں‘ ایک ربڑ کی ضرورت تھی لہذا جلدی سے کہا’’ابا جی!اب ربڑ لینے چلیں؟‘‘ میرا جملہ سنتے ہی ابا جی کے چہرے پر ایک رنگ سا آکر گذر گیا لیکن انہوں نے فوری طور پر مسکراہٹ کا ازلی نقاب اوڑھ لیا اورحسبِ معمول میرے گال تھپتھپا کر بولے’’لے دوں گا یار‘ پہلے چوتھی جماعت میں تو آجاؤ ‘‘۔۔۔میری اُمیدوں پر پانی پھر گیا‘ وہ تو کہتے تھے کہ صبح کے وقت آنے والے خواب سچے ہوتے ہیں‘ پھر میرا خواب کیوں سچا ثابت نہیں ہورہا تھا؟ کیا میری صبح سچے خواب والی صبح نہیں تھی؟میں نے بے دلی سے بستہ اُٹھایا‘ تختی اور چادر سنبھالی اورڈھیلے قدموں کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔

سکول پہنچا تو ’’جیرے‘‘ نے بتایا کہ وہ ربڑ لایا ہے‘ مجھے یقین نہ آیا اور میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو‘ اُس نے یہ سنتے ہی جھٹ سے اپنا بستہ کھولا اور ایک استعمال شدہ ربڑ میری آنکھوں کے آگے لہرا دیا۔‘ میں جل بھن گیا‘ جیرا بھی تو پکی جماعت میں تھا‘ پھر اُس کے ابا جی نے کیسے اُسے ربڑ لے دیا؟
میں نے اُس کے ہاتھو ں سے ربڑ لے کر الٹ پلٹ کر دیکھا‘ وہ واقعی ایک ربڑ تھا‘ اصلی ربڑ۔میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے جیرے نے جھٹ سے ایک کاغذ اور کچی پنسل نکالی‘ کاغذ پر کچھ آڑھی ترچھی لکیریں ڈالیں اور بڑے فخر سے ربڑ پکڑ کر اِنہیں مٹانے لگ گیا۔میں حیرت سے گنگ بیٹھاربڑ کو لکیروں پر پھرتے دیکھ رہا تھا‘ جہاں جہاں ربڑ پہنچ رہا تھا‘ لکیریں اپنا وجود کھوتی جارہی تھیں‘ کلاس کے اور لڑکے بھی ہمارے سروں پر جمع ہوچکے تھے اور حسرت بھری نظروں سے جیرے کے ربڑ کو دیکھ رہے تھے‘ جیرا بڑے اطمینان سے سیٹی بجاتے ہوئے ربڑکو لکیروں پر پھیر رہا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارا کاغذ ایسے صاف ہوگیا جیسے کبھی اُس پر کچھ لکھا ہی نہ گیا ہو۔میری آنکھوں میں خون اُتر آیا‘ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ جھٹ سے جیرے کا ربڑ چھینا اور دانتوں تلے دبا کر ریزہ ریزہ کر دیا۔جیرے کی ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی اور کلاس میں جیسے طوفان سا آگیا‘ ربڑکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے فرش پر بکھرے پڑے تھے اور جیرا دھاڑیں مار مار کر ربڑ کی لاش پر ماتم کر رہا تھا۔

میرے دل میں ٹھنڈ سی اُترتی چلی گئی‘ کلاس کی چیخ وپکار سن کر ’’وڈی اُستانی‘‘ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی۔مجھے پتا تھاکہ اب میرے ساتھ کیا ہونا ہے لہذا جلدی سے بستہ ‘ چادر اورتختی اُٹھائی اور پوری قوت سے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔وڈی اُستانی نے چلا کر دوسری اُستانیوں کو خبردار کیا‘ ساری اُستانیاں میرے پیچھے دوڑیں لیکن میں نے چھلانگیں لگائیں اور سکول کے عقب میں واقع سلیکون کے کارخانے میں گھس گیا۔یہ کارخانہ ایک بھول بھلیاں تھا لہذا مجھے اطمینان تھا کہ یہاں مجھے کسی کا باپ بھی نہیں ڈھونڈ سکتا۔سارا دن میں گلیوں میں اِدھر اُدھر گھومتا رہا اور چھٹی کے وقت گھر پہنچ گیا‘ وہاں میری ’’کاروائی‘‘ کی خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی‘لیکن ماں جی نے اپنے مزاج کے عین مطابق ہلکے پھلکے انداز میں ڈانٹ پلائی اور بات آئی گئی ہوگئی۔شام کو میں حسبِ معمول گلی میں ’’لُکن میٹی‘‘ کھیلنے نکلا تو مجھے احساس ہوا جیسے ہاتھوں پیروں سے جان نکلتی جارہی ہے‘ عجیب سی تھکن تھی جو مسلسل مجھے نقاہت میں مبتلا کر رہی تھی‘ میں واپس آگیا‘ چونکہ یہ خلاف توقع تھا اس لیے ابا جی کا ماتھا ٹھنکا‘ انہوں نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور کانپ گئے‘ میں نے سنا‘ وہ ماں جی کو کہہ رہے تھے کہ اِسے توسخت بخار ہے۔ رات تک سرکاری ہسپتال کا ڈاکٹر اعلان کر چکا تھا کہ مجھے خطرناک قسم کا ٹائفائیڈ ہوچکا ہے ۔میں بستر سے لگ گیا اورماں جی دیوانہ وار خدا سے دعائیں کرنے لگیں‘ ابا جی ہر نماز کے بعد مسجد کے نمازیوں سے پھونک مروا کے میرے لیے دم کیا ہوا پانی لاتے اور چند قطرے میرے منہ میں ٹپکا دیتے۔میرے اعصاب مسلسل شل ہوتے جارہے تھے‘ نیم غنودگی کے عالم میں مجھے ہر چیز اپنے قد سے بہت بڑی اور سلوموشن میں چلتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔میرے روٹی کھانے پر پابندی تھی‘ دل نمکین چیز کو ترس گیا تھا‘ ایسے میں ایک دن میں نے ماں جی سے کہا کہ میں نے ’’کڑی ‘‘ کھانی ہے۔ماں جی نے بے بسی سے اِدھر اُدھر دیکھا‘پھر میری پیشانی چومی اور بولیں’’تم ٹھیک ہوجاؤ‘ پھر بنا دوں گی‘‘۔میں سمجھ گیا کہ ’’ہنوزکڑی دور است‘‘۔

یہ اُس روز کا ذکر ہے جب میرے ٹائیفائیڈ کو چھ روز ہوچکے تھے‘ میں بے جان سا ہوکر ابا جی کی گود میں بیٹھا ہوا تھا‘ ابا جی میرے بالوں میں انگلیاں پھیر تے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’’میرے ببر شیر۔۔۔دوائی تو کھا لو‘‘۔میں نے بیزاری سے نفی میں سر ہلادیا۔ابا جی نے پیار سے پوچھا’’چلو پھر بتاؤ کس چیز کو دل کر رہا ہے؟‘‘ میں نے چونک کر بے یقینی سے گردن گھمائی‘ ابا جی کی آنکھوں میں دیکھا اوردھیرے سے کہا ’’مجھے ربڑ لادیں‘‘۔ابا جی پہلے تو بے اختیارہنس پڑے ‘ پھر کسی سوچ میں گم ہوگئے‘ تھوڑی دیر بعد انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور بولے’’ربڑ لادوں تو ٹھیک ہوجاؤ گے؟‘‘ میں یکدم سیدھا ہوگیا’’ہاں ابا جی! اللہ میاں کی قسم‘ میں بالکل ٹھیک ہوجاؤں گا‘‘ میں نے خوشی اوربھرپور اعتماد سے جواب دیا۔‘‘ ابا جی مسکرائے’’تو پھرپکا وعدہ‘ تم ٹھیک ہوکر دکھاؤ‘ میں ربڑ لادوں گا‘‘۔ مجھے اپنی سماعت پر یقین نہ آیا‘ میرا خواب سچ ہونے جارہا تھا‘ ایک لمحے میں میری ساری تھکن اُتر گئی‘ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ ٹائیفائیڈ میرے ربڑ کا دشمن ہے لہذا اِس دشمن کو اب ہرحال میں شکست دینی ہے۔

آٹھویں روز جب میں ہشاش بشا ش ہوکر سکول جارہا تھا تو میرے بستے میں ایک نہیں دو ربڑ تھے ‘ کچھ عجیب سے تھے لیکن میں شرط لگا کر کہہ سکتا تھا کہ اتنے بڑے اور رنگیلے ربڑ اور کسی بچے کے پاس ہوہی نہیں سکتے تھے‘ مجھے ابا جی پر بہت پیار آیا‘ وہ صرف میری خاطر نجانے کہاں سے اتنے مہنگے ربڑ خرید لائے تھے‘ وہ بھی ایک نہیں‘ پورے دو۔۔۔!!!سکول میں جب میں نے ’’جیرے ‘‘ اور دیگر دوستوں کو اپنے ربڑ دکھائے تو حیرت سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں‘ جیرے نے میرا ربڑ دیکھنے کے لیے ہاتھ بڑھائے لیکن میں نے جلدی سے ربڑ پیچھے کر لیا‘ مجھے یقین تھا کہ وہ اپنے ربڑ کا بدلہ ضرور لے گا۔میرے ربڑ بہت اچھے تھے ‘ عام ربڑ کی نسبت سائز میں دوگنے تھے لیکن پتا نہیں کیوں‘ جب میں اِن سے کاغذ پر ڈالی ہوئی کوئی لکیر مٹانے کی کوشش کرتا تو یہ ربڑ لکیر مٹانے کے ساتھ ساتھ کاغذ بھی پھاڑ دیتے۔

برسوں بعد ‘ جب میں خود باپ بن چکا تھا‘ ایک روز بچپن کی بات یاد آئی تو میں نے ابا جی سے پوچھ ہی لیا کہ آخر وہ ربڑ آپ کہاں سے لائے تھے‘ ابا جی نے بات گول کرنے کی کوشش کی‘ لیکن اب ایک باپ کا مقابلہ ایک دوسرے باپ سے تھا جو تعلیم‘ تجربے اور پیسوں کے معاملے میں پہلے باپ سے بہت آگے تھا لہذا بات گول کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا‘ میں نے دوبارہ پوچھا تو ابا جی کی پلکوں کے کنارے بھیگ گئے‘ انہوں نے جلدی سے اپنی قمیض کی آستین سے آنکھیں صاف کیں اور دھیرے سے مسکرا کر بولے’’یار! وہ ہوائی چپل واقعی بہت پرانی ہوگئی تھی‘‘۔۔۔میں اچھل کر کھڑا ہوگیا۔۔۔کسی ربڑ کی طرح۔۔۔!!!

---------------------------------

12 اپریل، 2015

شانِ حضرت ابوبکر صدیقؓ

 

عبداللہ بن محمد، جعفی، وہب بن جریر، جریر، یعلی بن حکیم، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے مرض میں جس مرض میں آپ نے وفات پائی ہے، اپنا سر ایک پٹی سے باندھے ہوئے باہر نکلے اور منبر پر بیٹھ گئے، پھر اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! ابوبکر سے زیادہ اپنی جان اور اپنے مال سے مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا، تو یقینا ابوبکر کو خلیل بناتا، لیکن اسلام کی دوستی افضل ہے، میری طرف سے ہر کھڑکی کو جو اس مسجد میں ہے، بند کردو، سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے۔ 

 صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 458 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 14 متفق علیہ 9
  

6 اپریل، 2015

دھت تیرے کی۔۔۔!!!

  یہ ایک خالصتاً مردانہ محفل تھی، ہم پانچ دوست مختلف ایشوز پر بحث کر رہے تھے ، اچانک ایک زنانہ آواز آئی ’’آئی لو یو جان‘‘۔سب بے اختیار اچھل پڑے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر اُدھر دیکھا لیکن ٹی وی بھی بند تھا اوردور دور تک کوئی خاتون بھی نہیں نظر نہیں آئی۔ اتنے میں یہی آواز پھر ابھری اور عقدہ کھلاکہ یہ ایک دوست کے موبائل فون سے آرہی ہے۔دوست نے موبائل نکالا، کچھ دیر بات کی اور مسکراتے ہوئے فون بند کردیا۔ پتا چلا کہ موصوف نے اپنی بیگم کی آواز کو رِنگ ٹون بنا رکھا ہے۔ان کی بیگم کا جب بھی فون آتا ہے یہی پیار بھری ٹون بجنے لگتی ہے تاہم وہ جب بھی فون اٹینڈ کرتے ہیں دوسری طرف سے دانت پیسنے کی آوازیں چار گز دور بیٹھے بندے کو بھی سنائی دے جاتی ہیں۔پتا نہیں ایسے لوگوں کو کیا بیماری ہے، ایسی ایسی رِنگ ٹون لگاتے ہیں کہ سارا ماحول بدل کے رکھ دیتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک جنازے میں شرکت کا موقع ملا تو وہاں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آگئی، کندھا بدلتے ہوئے ایک صاحب نے کلمہ شہادت کا نعرہ لگایا اور ساتھ ہی ان کے موبائل سے آوا زآئی’’چٹیاں کلائیاں وے‘‘۔
اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مخصوص رِنگ ٹون اس لیے لگاتے ہیں تاکہ پتا چل جائے کہ کس کا فون آرہا ہے، میرے ایک محلے دار کے فون پر اکثر گدھے، بلی، اونٹ اور بھیڑیے کی آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔ایک دفعہ راز پوچھا تو دانت نکال کر بولے ہر سسرالی رشتہ دار کے لیے مختلف رِنگ ٹون سیٹ کی ہوئی ہے۔ ایک دفعہ ان کے موبائل سے خطرے کے سائرن کی آواز آئی، میں نے پوچھا یہ کس کا نمبر ہے؟ اطمینان سے بولے ’’دوکاندار کا۔‘‘
کئی لوگوں کے ایک نام والے کافی سارے لوگ ہوں تو وہ یاد دہانی کے لیے ان کا نمبر محفوظ کرتے وقت اکثر ان کا کریکٹر بھی ساتھ لکھ دیتے ہیں مثلاًاگر شہزاد نام کے ایک سے زیادہ لوگ ہوں تو ان کے نام کچھ یوں درج ہوں گے’’شہزاد ڈنگر، شہزاد چول، شہزاد بونگا، شہزاد منحوس، شہزاد بھوکا ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح جن لوگوں کو ہر نام کے ساتھ رنگ ٹونز لگانے کا شوق ہوتاہے وہ بھی کچھ ایسا ہی کرتے ہیں ، میرے آفس بوائے نے بھی ہر نام کے لیے ڈھونڈڈھونڈ کر گانوں والی رنگ ٹونز لگائی ہوئی ہیں۔ اس کی والدہ کا فون آئے تو گانا بجتا ہے ’’مائے نی میں کنوں آکھاں‘‘۔۔۔والد صاحب کا فون آئے تو آواز آتی ہے’’پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا‘‘۔ بھائی کا فون آئے تو ’’دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے‘‘ چل پڑتاہے۔ایک دفعہ وہ چائے بنا رہا تھا، میں نے اپنا سٹیٹس چیک کرنے کے لیے اسے بیل ماری تو آگے سے گانا چل پڑا’’گھوڑے جیسی چال ہاتھی جیسی دُم‘‘۔۔۔!!!
آپ نے یقیناًوہ لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو رِنگ ٹونز کے شیدائی ہوتے ہیں،ان کااولین شوق موبائل میں نئی نئی رنگ ٹونز بھروانا ہوتاہے ،یہ ہر دو گھنٹے بعد اپنی رِنگ ٹون بدل دیتے ہیں۔فارغ وقت میں ان کا بہترین مشغلہ اپنے ہی موبائل کی مختلف رِنگ ٹونز سننا ہوتاہے۔یہ کہیں بیٹھے ہوں تو اِن کے موبائل کی رنگ ٹون کی آواز ساتویں محلے تک سنائی دیتی ہے تاہم یہ فوراً ہی کال رسیو نہیں کرتے بلکہ تیس چالیس سیکنڈ تک خود بھی ٹون سننے کا مزا لیتے ہیں اور اردگرد بیٹھے ہوؤں کو بھی ذہنی کوفت میں مبتلا کرتے ہیں۔کئی نیک لوگ مذہبی کلمات کو رنگ ٹون بنانا پسند کرتے ہیں ، میرے ایک دوست نے ’’بسم اللہ‘‘ کو اپنی رنگ ٹون بنا رکھا ہے، کئی دفعہ جب اس کی بیگم لڑائی کے دوران اس کے اوپر گرم گرم چائے پھینکنے لگتی ہے تو اتفاق سے کسی نہ کسی کا فون آجاتا ہے اور چائے گرنے سے پہلے آواز آتی ہے’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘۔اسی طرح ایک اور دوست ہیں جنہیں ہر وقت موت یاد رہتی ہے لہذا انہوں نے اپنی رنگ ٹون بھی اسی کے مطابق سیٹ کی ہوئی ہے۔موصوف نے پچھلے دنوں دوسری شادی کرلی، نکاح ہوگیا تو اچانک ان کے موبائل سے آواز آئی’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘۔
اکثر لوگ میسج کی ٹون بھی مختلف رکھنا پسند کرتے ہیں تاہم بعض اوقات یہ اتنی مختلف ہوجاتی ہے کہ ساتھ والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہوا کیا ہے۔ میں ایک دفعہ آفس آنے کے لیے لفٹ میں سوار تھا کہ اچانک کتے کے بھونکنے کی زوردار آواز آئی، لفٹ میں سوار ہر بندے کی ہاف چیخ نکل گئی۔پتا چلا کہ کونے والے صاحب کے موبائل پر میسج آیا ہے۔ اسی طرح آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بھری محفل میں اچانک دروازے پر دستک کی آواز آتی ہے، یہ بھی میسج کی ٹون ہوتی ہے۔میرے دفتر کے ہمسائے میں ایک صاحب نے میسج کی ٹون پر ایک خاتون کی کربناک چیخ لگا رکھی ہے ، سو کئی دفعہ ہوا کہ گاڑی چلاتے ہوئے انہوں نے شیشے کھولے،کوئی میسج آیا اورکسی قریبی راہگیرنے ان کی گاڑی کا نمبر نوٹ کرکے ون فائیو پر فون کر دیا۔تاہم پچھلے کچھ دنوں سے مجھے چیخوں کی آواز نہیں آئی تو پتا چلا کہ انہوں نے یہ رِنگ ٹون بدل دی ہے، میں نے وجہ پوچھی توکھسیانے ہوکر بات بدلنے کی کوشش کی، میں نے زور دیا تو شرمندہ ہوکربولے’’یار بس جمعہ پڑھنے گیاتھااور جلدی میں موبائل کو میوٹ پرکرنا بھول گیا۔۔۔!!!‘‘
موبائل کی ایک ٹون تو وہ ہوتی ہے جو آپ کی کال آنے پر آپ کے موبائل میں بجتی ہے، دوسری وہ ہوتی ہے جسے ’’کالر ٹون‘‘ کہتے ہیں، میں نے ایک دفعہ شوق شوق میں یہ ٹون لگا لی اور اس کے بعد عذاب میں پھنس گیا، دودھ والے کا بھی فون آتا تھا تو اسے میری طرف سے سنائی دیتا تھا’’بہت پیار کرتے ہیں تم کو صنم‘‘۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ اس ٹون سے چھٹکارا حاصل کر سکوں لیکن ناکام رہا، موبائل کمپنی سے رابطہ کیا تو انہوں نے ایک کوڈ بتایا کہ اِسے فلاں نمبر پر ایس ایم ایس کردیں آپ کی کالر ٹون ختم ہوجائے گی۔میں نے فوری طور پر ایسا ہی کیا اور چیک کرنے کے لیے پی ٹی سی ایل سے اپنے نمبر پر فون کیا تو آواز آئی’’گندی بات، گندی گندی گندی بات‘‘ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے، جلدی سے موبائل کمپنی کی ہیلپ لائن پر دوبارہ کال کی، پینتیس منٹ تک تو کمپنی والے مجھے اپنی ریکارڈڈ آفرز سناتے رہے، بالآخر ان کے نمائندے سے بات ہوئی تو میں نے اپنی مصیبت بیان کی۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا کہ آپ کو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے، آپ یہ والا کوڈ ملائیں تو سکھی ہوجائیں گے۔ میں نے تہہ دل سے اس کا شکریہ ادا کیا اور ایک بار پھر نیا کوڈ ایس ایم ایس کرکے دھڑکتے دل سے دوبارہ اپنا نمبر ملایا۔ بہت خوشی ہوئی کہ کوئی گانا نہیں چلا البتہ کمپنی کا جوابی میسج آگیا کہ’’ آپ کی خواہش کے احترام میں آپ کی تمام کالر ٹونز ختم کردی گئی ہیں اور اس کے عوض آپ کے اکاؤنٹ سے مبلغ 30 روپے جھاڑ لیے گئے ہیں اگر آپ دوبارہ یہ عذاب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس میسج کے جواب میں کچھ بھی لکھ کر بھیج دیں، انشاء اللہ ہم آپ کی زندگی اجیرن بنانے میں کوئی دیر نہیں لگائیں گے۔‘‘میں نے فوری طور پر میسج کیا’’پلیز میں ایسا کچھ نہیں چاہتا ،میں پہلے ہی بہت تنگ ہوں آپ کی مہربانی مجھے معاف رکھیں‘ ‘۔ فوراً ہی جواب آیا’’آپ کا بہت شکریہ، آپ کی فرمائش پر آپ کی تمام سابقہ ٹونز بحال کردی گئی ہیں۔۔۔‘‘
--------------
گل نوخیز اختر

27 مارچ، 2015

آل پاکستان نفاذِ اُردو کانفرنس

  مسلمانوں کے برصغیر میں آنے سے قبل پورا خطہ صدیوں سے چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں کا ایک مجموعہ تھا جس پر مختلف راجے حکومت کیا کرتے تھے۔ پٹنہ کے قریب پاٹلی پتر میں موریہ خاندان کی حکومت کی مختصر تاریخ ہے جس میں اِردگرد کی ریاستوں کو فتح کر کے ایک مرکزیت قائم کرنے کا پتہ ملتا ہے۔
پورے جزیرہ نماء ہند پر اسی موریہ خاندان کے اشوک نے کسی حد تک ایک مرکزی حکومت قائم کی۔ یہ مرکزیت بھی کلنگہ کی جنگ کے بعد وجود میں آئی جس میں اس نے دس لاکھ لوگوں کو قتل کیا اور تخت پر قابض ہونے کے لیے اپنے نوے کے قریب بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس تمام ظلم کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، مہینوں چین سے نہ سویا، ہندو مت ترک کیا ، بدھ ہو گیا اور مہاتما بدھ کی تعلیمات پر مبنی ایک منصف معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔
اپنی تمام افواج کو ختم کر دیا۔ شہروں میں مہا میر مقرر کیے، جو انسان ہی نہیں بلکہ جانوروں کے ساتھ زیادتی پر بھی سزائیں دیتے۔ دیکھتے دیکھتے پورا ہندوستان بغیر کسی جنگ لڑے اس کا مطیع ہو گیا۔لیکن وہ کئی لاکھ فوجی جنھیں اس نے بے روزگار کر دیا تھا، ایک دن اس کی قائم کردہ موریہ سلطنت کے خاتمے کا باعث بن گئے۔
اس کے بعد ہندوستان پھر ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد متھرا میں گپتا خاندان کی شمالی ہندوستان میں تھوڑی سی مرکزیت نظر آتی ہے۔پورا ہندوستان نہ اپنی زبان کی وجہ سے ایک تھا اور نہ ہی رسم و رواج کے ناتے۔ البتہ ایک چیز تھی، ہندومت جس نے ان تمام ریاستوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھا۔ امرناتھ یاترا کشمیر میں ہے تو گنگا کا مقدس مقام بنارس میں۔ شیو کے آنسو کٹاس اور پوشکر میں گرتے ہیں تو مہا شیو راتری انھی جگہوں پر منائی جاتی ہے۔
اجنتا اورایلورا کے غار جنوب میں ہیں تو برہما کا سب سے بڑا مندر سومنات کے نزدیک ہے۔ غرض ہندومت کی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کا ایک جال پورے ہندوستان میں بچھا ہوا ہے،جس کی وجہ سے صدیوں ہندوستان ایک اکائی رہا۔ سنسکرت مقدس مذہبی زبان تھی اور اس میں علم کا ایک خزانہ بھی موجود تھا۔ مسلمانوں نے جب دنیا بھر کے علوم کے تراجم شروع کیے تو سب سے پہلے ہند سے کتابیں لا کر ترجمہ کی گئیں۔
لیکن بنگال، دکن، بہار، اڑیسہ،پنجاب، کشمیر اور دیگر علاقوں کے لوگ جب آپس میں ملتے، خواہ وہ تجارت کی غرض سے یا پھر ہردوار اور کنبھ کے مقدس میلوں پر تو آہستہ آہستہ ان کے درمیان ایک زبان نے جنم لینا شروع کر دیا۔ بڑے بڑے پنڈتوں اور علم کی دنیا پر قابض برہمنوں نے اسے سنسکرت کی بگڑی ہوئی شکل کہنا شروع کیا۔لیکن عام آدمی کیا کرتا۔ اس نے تو تجارت کرنا تھی، میل ملاپ رکھنا تھا۔ اس نے شاستر تھوڑا پڑھنے تھے کہ خالص سنسکرت جانتا۔
اس نے خود ہی ایک زبان ایجاد کر لی جو شروع شروع میں پراکرت کہلاتی رہی۔ مسلمان فاتحین آئے تو برصغیر کے ایک وسیع حصے میں مرکزیت آگئی۔ دہلی سلطنت کا صدر مقام بن گیا اور بادشاہوں کی وجہ سے فارسی دفتر اور عدالت کی زبان ہوگئی۔ التمش نے جب آج سے آٹھ سو سال قبل قاضی عدالتیں قائم کیں تو قوانین کی عربی کتاب کا ترجمہ فارسی میں کیا۔
غوری،خلجی، لودھی خاندانوں سے شیر شاہ سوری اور پھر مغلیہ خاندان کے چکا چوند کر دینے والے دورِ حکومت تک دفاتر اور عدالتوں کی زبان فارسی رہی، یہاں تک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پچاس سالہ دور میں بھی دفتری اور عدالتیِ زبان فارسی ہی رہی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمان حکمرانوں نے برصغیر کے ہر گاؤں میں اتالیق مقرر کر رکھے تھے، جو ہر بچے کو فارسی اور حساب پڑھاتے اور مسلمان کو قرآن اور ہندو کو وید کی تعلیم دیتے۔
یوں برصغیر میں انگریز کی آمد تک شرحِ خواندگی نوے فیصد تک تھا۔ مگر اس فارسی کے پہلو بہ پہلو وہ زبان جو کئی سو سال پہلے پراکرتوں کی صورت میں رابطہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی پوری قوت سے پروان چڑھتی گئی۔مسلمانوں کی حکومت کی وجہ سے اس زبان میں عربی، فارسی اور ترکی کے بیش بہا الفاظ شامل ہوگئے۔
وہ تمام اصناف جو ہندوستان کے لیے اجنبی تھیں، یہاں لکھی جانے لگیں، جیسے غزل، نظم، رباعی، مثنوی، مرثیہ، داستان، ناول اور افسانہ۔ غرض ایک ہزار سال پہلے امیر خسرو نے جس زبان میں گیت لکھے تھے اس لیے کہ وہی دراصل اس پورے خطے میں بولی اور سمجھی جاتی ، یہ اُردو اب ایک ایسی زبان بن کر ابھر چکی تھی جس کا دامن میر تقی میر سے لے کر غالب تک جیسے شعراء میر امن اور رجب علی بیگ سرور جیسے نثرنگار، انیس، دبیر جیسے مرثیہ نویس اور دیگر اصناف میں لکھنے والوں سے مالا مال تھا۔ فارسی دفتری زبان تھی۔ لیکن محبت کرنے ، گیت گانے اور کہانی سنانے کی زبان اُردو ہو گئی۔
یہی وجہ ہے کہ جب انگریز برصغیر پر حکمران ہوا تو اس نے دفتری زبان تو انگریزی کر دی لیکن ہر دفتر میں ورنیکلر کے نام پر ایک شعبہ کھولا جس میں اُردو میں دفتری کام کیا جاتا تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کہ جنہوں نے توبۃ النصوح، مراۃ العروس اور بنات النعش جیسے ناول تحریر کیے تھے، انھیں بلایا گیا اور ان سے تمام انگریزی قوانین کا ترجمہ کروایا گیا۔
یوں ضابطہ فوجداری، ضابطۂ دیوانی اور تعزیرات ہند عام آدمی کی سہولت کے لیے وجود میں آگئے۔ عرضی نویسوں، وثیقہ نویسوں اور اہلمدوں کی ایک کھیپ تھی جو اُردو میں عدالتی کام سرانجام دیتی تاکہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ لیکن سرکاری ملازمتیں انگریزی بولنے والوں تک محدود کر دی گئیں۔ انگریز نے مسلمانوں کا اتالیق کا سسٹم ختم کر دیا۔ چند سرکاری اسکول کھولے گئے۔ یوں برصغیر میں شرح خواندگی نوے فیصد سے گر کر پندرہ فیصد تک آگئی۔
تعلیم کے اس دوغلے نظام نے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو انگریزی میں تعلیم یافتہ تھا۔ اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھتا تھا اور وہی اسی کی تہذیبی اساس تھی۔ سول سروس، فوجی اور نواب، خان وڈیرے جنھیں انگریز اپنی سرپرستی میں قائم کالجوں میں تعلیم دلواتا، اس طبقے میں شامل تھے۔ یہ مٹھی بھر لوگ اس برصغیر کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے اور انھوں نے یہ تصور مضبوط کر دیا کہ ترقی صرف اور صرف انگریزی زبان میں علم حاصل کرنے سے ہو سکتی ہے۔
یہ انسانی تاریخ کے پانچ ہزار سالہ تجربے کے برعکس تصور تھا۔ انسان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جس نے کسی دوسرے کی زبان میں علم حاصل کرکے ترقی کی ہو۔ انگریزی دونوں ملکوں کے آزاد ہونے کے بعد بھی دفتری اور قانونی زبان کے ساتھ ساتھ ذریعہ تعلیم بھی بنا دی گئی۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے اقتدار پر وہ لوگ قابض ہوگئے تھے جنھیں انگریز اقتدار اور انگریز تہذیب کی لوریاں دے کر پالا گیا تھا۔
دونوں ملکوں میں انگریزی کو تہذیب وترقی کی علامت بتایا گیا اور اُردو سرکاری اور نجی سرپرستی، دونوں سے محروم ہوگئی۔لیکن اس زبان نے جو لوگوں کے درمیان واحد رابطے اور تعلق کا ذریعہ تھا وہ کمال دکھایا کہ دونوں کا تمام میڈیا اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا۔ پاکستان میں تو دو انگریزی چینل چلے لیکن بری طرح ناکام ہوگئے۔فلم، ریڈیو، اخبار سب جگہ جہاں گفتگو ذریعہ اظہار تھی اُردو پروان چڑھتی رہی۔ چاہے امیتابھ بچن اس میں لاکھ سنسکرت کے الفاظ ڈال کر ہندی بنائے کوئی دوسرا ایسی ہندی بولنے کو تیار نہیں ہوتا۔
لیکن اقتدار پر قابض انگریز صفت مرعوب کالوں نے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے سے دونوں ملکوں کو جہالت کے اندھیروں میں غرق کر دیا۔بھارت میں ہر سال22کروڑ بچے پاٹھ شالا یعنی اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں اور صرف چالیس لاکھ گریجویٹ بنتے ہیں۔ آج ساٹھ سال بعد بھارت کے تعلیمی نظام کے سربراہ سوچ رہے ہیں، کہ اگر انگریزی ان پر تھوپی نہ جاتی تو پورا بھارت خواندہ ہوتا۔
عدالتی نظام میں انگریزی کی وجہ سے ایک کروڑ مقدمات زیر التوا ہیں اس لیے کہ عام آدمی وکیل کے بغیر عدالت تک رسائی ہی نہیں رکھ پاتا ہمارا حال بھارت سے بھی بدتر ہے۔دنیا میں پاکستان کے علاوہ تین اور ملک ایسے ہیں جو انگریزی کے جال میں پھنسے اور آج پچھتاتے ہوئے واپس قومی زبانوں کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ اس لیے کہ انھیں احساس ہو گیا ہے کہ ان کی پوری قوم بحیثیت مجموعی تخلیقی صلاحیت سے محروم ہو کر نقالچی بن گئی ہے۔
ایک سنگاپور، دوسرا بھارت اور تیسرا سری لنکا۔ ہم وہ چوتھا ملک ہیں جو اس جہالت کے راستے پر رواں دواں ہے۔ ہم وہ بدنصیب ہیں جن کا آئین ہمیں قومی زبان میں تعلیم دینے کا پابند کرتا ہے، لیکن ہم پر مسلط سول سروس اور اشرافیہ کا انگریزی دان طبقہ یہ ہونے نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں 28مارچ صبح دس بجے آرٹس کونسل راولپنڈی میں آل پاکستان نفاذ اُردو کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اللہ ہمیں جہالت کے اندھیروں سے بچنے اور اس قوم کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔



اوریا مقبول جان

23 مارچ، 2015

سورج سانجھا ہوتا ہے نا !



 سورج سانجھا ہوتا ہے نا !!!! ؟؟
سورج سب کا ہوتا ہے نا !!!! ؟؟
تیری دُنیا روشن کیسے ؟؟
مُجھ کو کِرنیں ڈستی کیوں ہیں ؟؟
سانسیں سانسیں ہوتی ہیں نا !!! ؟؟
تیری ہوں یا میری ہوں وہ
تیرے کتبے مہنگے کیسے ؟؟
میری لاشیں سستی کیوں ہیں ؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی

سرمايہ ومحنت - علامہ اقبال



 سرمايہ ومحنت
 

بندہ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیامِ کائنات
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِحیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
دستِ دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

علامہ اقبال

6 مارچ، 2015

اے قائد کہاں سے لائیں تجھے

قارئین کرام  یہ نظم ایک نئی شاعرہ  فاطمہ سلیم کی ہے. اس کو نظم کے قوائد سے ہٹ  کر پڑھیے  اور صرف اس درد کو محسوس کیجیے جو شاعرہ نے کیا.

 

''اے قائد کہاں  سے لائیں تجھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔''


 لہو لہو ہیں ارِضِ وطن کی گلیاں
 کہیں سوگ ہے ، کہیں ماتم ہے یہاں
 اُٹھتے ہیں جنازےِ، ہوتی ہے آہ و بکا
 چھا گئے ظلم کے سائے ، سو گئے حکمراں
 کیسے جگائیں تجھے، کیسے اُٹھائیں تجھے
 اے قائد کہاں سے لائیں تجھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 تیر ہے، تلوار ہے، بندوق ہے
 کھو گیا قلم، ہوا دفن جذبہِ ایماں
 نعرہِ تکبیر بھی ہے، نعرہِ شمشیر بھی ہے
 بِک گئے ضمیر، نھیں ہے سکت شکستِ دُشمناں
 کیسے جگائیں تجھے، کیسے اُٹھائیں تجھے
 اے قاٰئد کہاں سے لائیں تجھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 بِکتا ھے عدل و اِنصاف سر بازار یھاں
 چور لٹیرے قاتِل سارے بنے ھیں حافِظ و نِگہبان
 مار ڈالا ہے حرص و ھوس نے جہاں
 کیسے بچائے وہ قوم پاکِستاں
 کیسے جگائیں تجھے، کیسے اُٹھائیں تجھے
 اے قائد کہاں سے لائیں تجھے

 فاطمہ سلیم

16 جنوری، 2015

اُنھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں!

 ہمارے ذرایع ابلاغ بھی ۔۔۔ اے عزیزو! ۔۔۔ عین مَین اُسی طرح سے ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہوگئے ہیں، جس طرح نائن الیون کے ڈرامے کے نتیجے میں دُنیا بھر میں (صرف مسلمانوں سے) لڑی جانے والی ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ بھی اب صرف ’ہماری جنگ‘ ہو کر رہ گئی ہے۔ دونوں کے لیے ’مرچ مسالہ‘ ولایت ہی سے آتا ہے۔بس اِسے استعمال کرنے اور استعمال کرنے کے نتیجے میں خود استعمال ہو جانے والے لوگ ’اپنے‘ ہوتے ہیں۔
جس روز فرانس کے ایک رسالے پر حملے کی خبر آئی تھی اُس روز ایک (نہایت وقیع سمجھے جانے والے) انگریزی اخبار کے اُردو چینل پر ایک دیسی محترمہ اپنے سارے دانت نکال نکال کر بڑے ولایتی انداز میں ایک پاکستانی عالمِ دین پر برس رہی تھیں کہ:
’’کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟ ۔۔۔ کیا یہ مذہبی دہشت گردی نہیں ہے؟‘‘
یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ’نائن الیون‘ کی طرح اِس ’وَن سیون‘ (سات جنوری) کا ملبہ بھی محترمہ وطن عزیز پاکستان ہی پر گرانا چاہتی ہیں۔ ’مذہبی دہشت گردی‘ تو یہ فرانسیسی واقعہ یوں کہلایا کہ اس حملے کومذہبی دہشت گردی‘ پورے عالمِ مغرب نے قرار دیا ہے۔ ’مسلمانوں‘ سے منسوب بھی یوں ہوا کہ اسے پورے عالمِ مغرب نے مسلمانوں سے منسوب کیا ہے۔ مغرب کے نشریاتی اور طباعتی اداروں کے کہے پر بے چون و چرا ’ایمان بالغیب‘ لے آنا ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘کے بنیادی عقیدے کا حصہ ہے۔ خواہ سوات میں عورت کے کوڑے کھانے کی وڈیو ہو یا عراق میں ’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے‘ ہتھیاروں کی موجودگی۔

جو ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ ہیں وہ کائنات کی عظیم ترین ہستی کے کارٹون بنانے کو کبھی بھولے سے بھی ’مذہبی دہشت گردی‘ میں شمار نہیں کر سکتے۔ برسوں سے جاری و ساری اس سلسلے کا زور کچھ کم ہو گیا تھا تو اس کو ’دوبارہ جاری‘ کرنے کے لیے ’زور‘پیدا کیا گیا۔پیرس کے جس کارٹونی ہفت روزے کے دفتر پر حملے نتیجے میں کے ہفت روزے کے مدیر اور کارٹونسٹ سمیت بارہ افراد مارے گئے، اُن کو مارنے والے مسلح نقاب پوشوں کے ’مسلمان‘ ہونے کا اعلان بھی مغربی حکام نے کیا۔ کیسے کیا؟ یہ جاننے کے لیے ذرا پلٹ کر ایک بار پھر نائن الیون کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ نائن الیون سے جہاز ٹکرانے والے ’مسلمان‘ پائلٹ نہ صرف خود راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے بلکہ ٹوئن ٹاورزتو کسی کھلونا بلڈنگ کی طرح ریزہ ریزہ ہوکر یا صابن کے جھاگ کی طرح سے، بیٹھ گئی تھی۔سب کچھ تباہ ہو گیا، مگر اسے معجزہ نہیں تو اور کیا کہیں گے کہ ’مسلمان‘ پائلٹوں کے (مسلمان) پاسپورٹ بالکل صحیح سلامت حالت میں ملبہ سے برآمد ہوگئے تھے، جن سے اُن کی بہ آسانی شناخت ہو گئی۔ اس معجزے کے باعث اس بات پر ’ایمان ‘ پختہ ہوگیا کہ دہشت گرد مسلمان تھے۔اور’دہشت گرد‘ مسلمانوں کے سوا اور ہو بھی کون سکتا ہے؟

پیرس، فرانس کے واقعے میں بھی دہشت گردوں کی شناخت اس وجہ سے ممکن ہوئی کہ وہ حیرت انگیز طور پر اپنے اپنے شناختی کارڈ اپنی (تباہ ہو جانے والی)گاڑی میں چھوڑ گئے تھے تاکہ اُنھیں بھی بہ آسانی شناخت کیا جاسکے۔’نائن الیون‘ کے واقعے سے ایک مماثلت یہ بھی اِس ’مذہبی دہشت گردی‘ کے واقعے میں پائی گئی کہ جس طرح ٹوئن ٹاورز سے جہاز ٹکرانے کی وڈیو بناتے ہوئے کچھ اسرائیلی پکڑے گئے تھے، بالکل اسی طرح اسرائیلی ٹی وی چینل آئی بی اے کے ڈپٹی ایڈیٹر امشائی اسٹین کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ اِس وقوعے کی Live شوٹنگ مسلسل اپنے چینل کو ارسال فرما تے رہے کہ ۔۔۔’ناظرین! ہم سب سے پہلے آپ کو یہ بریکنگ نیوز دے رہے ہیں‘۔۔۔اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کے رونما ہوتے ہی فرانسیسی یہودی پہلے سے چھپے ہوئے پوسٹرز لے کر احتجاجی مظاہرے کے لیے یکایک سڑکوں پر نکل آئے۔ جن کی متحرک اور مطبوعہ تصاویر آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ دیکھیے مغرب میں سائنس نے کتنی ترقی کر لی ہے۔

’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو (ملالہ پر حملے کی طرح) سانحہ پشاور کا بھی اُس وقت تک علم نہ ہوا تھا، جب تک یہ خبر مغربی ذرایع ابلاغ سے نشر نہ ہوگئی۔ہماری ناک کے نیچے پیش آنے والے واقعے کی ’بریکنگ نیوز‘ دینے میں بھی اہلِ مغرب ہی بازی لے گئے۔ اہلِ مغرب نے جن تین’ مسلمان دہشت گردوں‘ کے نام پیرس حملے کے ذمے داروں کے طور پر مشتہر کیے ہیں وہ شریف کواشی، سعید کواشی اور حمید مراد ہیں۔ کواشی برادران کی پرورش شمالی فرانس کے ایک سرکاری یتیم خانے میں ہوئی ہے۔ حمید مراد کے دوستوں نے ٹوئٹر پر اپنے اپنے ٹویٹ ڈالے ہیں کہ جس وقت حملہ ہوا اُس وقت حمید مراد اُن کے ساتھ کلاس روم میں موجود تھا۔حمید مراد کی بیک وقت دو جگہ موجودگی بھی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟اور اگر وہاں موجود نہ تھا تب بھی ’مسلمان‘ تو تھا۔ اُسے دہشت گرد قرار دینے کے لیے اتناہی کافی ہے۔

حملے کی ایک وڈیو میں یہ بھی دکھایاگیا ہے کہ ایک پولیس آفیسر نے حملہ آوروں کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔دو نقاب پوش حملہ آور گاڑی سے باہر آئے اور پہلے تو دور سے گولی مار کر اُس پولیس آفیسر کو زخمی کیا، پھر قریب آکر اُس کے سر میں گولی ماردی۔ دہشت گرد تو یقیناًتربیت یافتہ تھے، مگر وڈیو بنانے والا ایسا اناڑی تھا کہ اُسے اِس زخمی پولیس آفیسر کے جسم پر یا اُس کے آس پاس کہیں خون نظر نہیں آیا جسے وہ دکھا سکتا۔ حملہ آوروں کو روکنے والے پولیس آفیسر کے متعلق جو خبریں آئی ہیں اُن کے مطابق:1۔ وہ ایک پولیس کار سے نکلا تھا۔ 2۔وہ ایک پولیس اسٹیشن سے باہر نکلا تھا (اور دہشت گردوں کی گاڑی دیکھتے ہی پہچان گیاتھا کہ یہ دہشت گردوں کی گاڑی ہے، اِسے روکنا چاہیے)۔3۔وہ ایک سائیکل پر سوار تھا (اور غالباً دہشت گردوں کی گاڑی کے آگے سائیکل کھڑی کرکے گاڑی روکنے کی کوشش کر رہا تھا)۔
وڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پولیس آفیسر کو مارنے کے بعد دونوں دہشت گرد اپنی گاڑی کے پاس آئے اور اُنھوں نے نعرہ لگایا کہ ہم نے ’پیغمبر محمدؐ‘ (Prophet Muhammad) کا انتقام لے لیاہے۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ دہشت گرد ’مسلمان‘ ہی تھے، کیوں کہ مسلمانوں کو جب اپنے نبی کانام لینا ہوتا ہے تو وہ لفظ ’پیغمبر‘(Prophet) ضرور استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ رہے کہ وہ انھیں نبی(Prophet) نہیں مانتے۔

اِس قسم کی بہت سی دلچسپ باتیں ابھی اور بھی باقی ہیں، مگر کالم میں جگہ باقی نہیں رہی۔ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کو چوں کہ سارا مرچ مسالہ مغرب سے ’پیک‘ کیا ہوا مل جاتا ہے، چناں چہ وہ کبھی خود اپنا ’سِل بٹّا‘ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اپنا سِل بٹّا استعمال کرنے کے لیے اپنی ’اوپر کی منزل‘ بھی استعمال کرنی پڑتی ہے، مگر ہمارے یہاں اوپر کی منزل کرائے پر اُٹھادینے کا رواج ہے۔ اگر یہ ذرایع ابلاغ ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ نہ ہوتے تو شاید مغرب کا اُگلا ہوا زمین سے اُٹھا کر خود نگل لینے کی بجائے اِس معاملے کا تحقیقی اور تفتیشی نظروں سے اپنے طور پر بھی کچھ جائزہ لینے کی کوشش کرتے اور اہلِ مغرب سے پوچھتے کہ سرورِ کائناتؐکے گستاخانہ کارٹون دوبارہ سرورق پر چھاپ کر رسالے کی تیس لاکھ کاپیاں شایع کرنے کا ’مہذب اقدام‘ کیا ’دہشت گردی کی روک تھام‘ کرنے ہی کا کام ہے؟ مگر ’ہمارے ذرایع ابلاغ‘ کی نظر میں تو اُن کا ہر کام اُن کا لبرل ازم،اُن کی روشن خیالی اور اُن کا حقِ آزادی اظہار ہے، جب کہ ہماری طرف سے صرف ایسا سوال کر لینا بھی تنگ نظری ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے مترادف۔
---------------------------
ابو نثر

12 جنوری، 2015

ہوئے تم دوست جس کے - اوریا مقبول جان


 مسلم امہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دینی مدرسے کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے 1781 میں کلکتہ مدرسہ کھول کر پیدا کیا۔ اس سے قبل بغداد کے دارالحکومت سے شروع ہونے والی مدارس کی تحریک جو 1100 سے 1500 تک طلیطلہ کے تراجم کی انتھک کوششوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا بھر کے علوم کی قائد بنی، اس کے زیر اثر قائم ہونے والے تمام مدارس علم میں کوئی تحصیص نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سید الانبیاء ﷺ کی حدیث کے مصداق علم مومن کا گمشدہ مال تھا۔
اس امت کے تمام مدارس میں قرآن و سنت اور فقہ کے علاوہ جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں علم طب، علم الادویہ، علم ریاضی، علم طبیعات، علم فلکیات، فلکیاتی جدول، امراض عین، علم المناظر، علم کیمیا، علم فلسفہ، علم تاریخ، علم موسیقی اور دیگر کئی علوم شامل تھے۔ اس تصور کو برصغیر کے مسلم مدارس نے بھی انگریز کی آمد تک قائم رکھا ۔ مدرسہ رحیمیہ اور مدرسہ فرنگی محل کے نصاب ان ھی علوم پر مبنی تھے۔ یہی تعلیمی ادارے تھے جس سے علم حاصل کر کے لوگ طبیب بنتے تھے اور گاؤں گاؤں جا کر حکمت اور طب کا پیشہ اختیار کرتے تھے۔
آج بھی ان گھرانوں میں علم طب اور علم الادویہ کی کتابوں کے وہ نسخے مل جائیں گے جو ان مدرسوں میں پڑھائے جاتے تھے۔ ان ہی تعلیمی اداروں سے استاد پیدا ہوتے اور ہر گاؤں میں اتالیق مقرر ہوتے تھے۔ ایک ایسا غیر رسمی تعلیمی نظام پورے برصغیر پر رائج تھا جس کے نتیجے میں اس خطے میں شرح خواندگی 95 فیصد سے زیادہ تھی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل G.W.Leitner جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب Indiginous Education in Punjab اس بات کی گواہی ہے کہ مغلیہ دور میں ہر گاؤں کی سطح تک بنیادی تعلیم کا تصور کس قدر مستحکم تھا۔
شرح خواندگی یہ نہیں تھی کہ اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتا ہو بلکہ ہر پڑھے لکھے شخص کو فارسی پڑھنا، لکھنا آتی تھی، حساب کتاب پر دسترس تھی اور اسے قرآن یا وید پڑھنا آتی تھی۔ یہ سب اساتذہ جو گاؤں گاؤں پھیلے ہوئے تھے ان ھی مدارس سے پڑھ کر نکلے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1906ء کے تمام اضلاع کے گزٹیر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ضلعوں میں عمومی شرح خواندگی 90 فیصد کے لگ بھگ نظر آئے گی۔ یہی حال 1911ء کی مردم شماری کی رپورٹ کا ہے۔ یہ تعلیم اور خواندگی کا جال ان ھی مدارس سے فارغ التحصیل افراد نے پھیلایا تھا۔
پورے برصغیر میں جو سول سروس تھی جس میں مالیہ وصول کرنے والے، زمین کی پیمائش کرنے والے جریب کش، کوتوال، عدالتوں کے قاضی، خزانے کے متولی، عمارتیں تعمیر کرنے والے انجینئر جنھوں نے تاج محل اور شالیمار جیسے شاہکار تخلیق کیے، یہ سب کے سب ان ھی مدارس سے علم حاصل کر کے ان عہدوں تک پہنچتے تھے۔ ایک مربوط تعلیمی نظام کے بغیر یہ لوگ آسمان سے نازل نہیں ہوتے تھے۔ اس دور میں برصغیر میں آنے والے ہر سیاح نے صرف اور صرف ایک چیزکی بے حد تعریف کی ہے اور وہ تھی اس خطے میں عام آدمی کی زندگی میں علم اور ادب کے علاوہ فلسفہ اور سیاسی امور کی اہمیت۔ 1643ء میں جو کتاب یورپ میں چھپ کر عام ہوئی وہ سر تھامس رو کا سفرنامہ تھا۔
اس کا ایک نسخہ پنجاب آرکائیوز میں موجود ہے جس کی ورق گردانی آپ کو بتا دے گی کہ پورے ہندوستان میں ان تعلیمی اداروں کا کیسا جال بچھا ہوا تھا۔ صرف ٹھٹھہ جیسے دور دراز علاقے میں چار سو کالج قائم تھے۔ البتہ فرق ایک تھا اور وہ یہ کہ آج کے دور کی طرح امتحانات کے ذریعے پاس کرنے اور ڈگری دینے کا رواج نہ تھا۔ وہاں استاد اپنے شاگردوں کو روز پرکھتا تھا اور پھر ایک دن اعلان فرما دیتا تھا کہ اب میرا یہ شاگرد علم میں طاق ہو گیا ہے۔ چند بڑے بڑے سوالات یاد کر کے امتحان دے کر ڈگری حاصل نہیں کی جاتی تھی۔
1781 میں کلکتہ مدرسہ قائم کرنے سے پہلے انگریز نے اس علاقے میں 1757سے مسلمانوں کے تمام تعلیمی اداروں پر پابندی لگا دی۔ اب وارن ہیسٹنگز نے اس ،،دینی مدرسے،، کی بنیاد رکھی جسے صرف اور صرف دینی تعلیم کے لیے مختص کیا گیا۔ اس مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو اسی طرح کی ذمے داریوں کا درس دیا گیا جیسا یورپ میں تحریک احیائے علوم کے بعد چرچ کے پادریوں کو دیا جاتا ہے یعنی پیدا ہونے پر بپتسمہ دے دو، شادی پر جوڑے کو قانونی حیثیت دے دو، مرنے کے بعد رسومات ادا کر دو اور اتوار کی عبادت کی قیادت کرلو۔
یہ چار ذمے داریاں بالکل اسی نوعیت کے حساب سے برصغیر کے علماء کو سونپ دی گئیں اور مسلمانوں کے قدیم مدارس کی طرز پر عیسائی مشنری اسکول کھولے گئے۔ 1810 میں کلکتہ میں پہلا مشینری اسکول کھلا جس کے نصاب میں بائبل کی اخلاقیات ،،Biblical Ethics،، اور عیسائی تعلیم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا اور تمام سرکاری نوکریوں کے لیے انگریزی لازم قرار دے دی گئی۔ پورے ملک کے تمام تعلیمی اداروں سے قرآن و سنت خارج کر دیا گیا اور اسے اسلامیات کے ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دے دی گئی کہ جو کوئی اس کو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔
تعلیم صرف اسکول اور کالج تک محدود ہو گئی اور اس کے بعد کے نوے سالوں میں وہ زوال آیا کہ 1947 میں انگریز جب برصغیر کو چھوڑ کر گیا تو شرح خواندگی 14 فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ اس دور زوال میں مسلمان مدارس نے وہ ذمے داری بخوشی قبول کر لی جو انگریز نے دی تھی اور ایک ایسی کھیپ تیار کرنا شروع کر دی جو کم از کم قرآن و سنت کے علم کو محفوظ رکھیں اور اسے کونے کونے تک پہنچائیں۔ مغربی تعلیم کی یلغار اور انگریز حکومت کے مقابلے میں اپنے دینی علم کا تحفظ ان مدارس کا بنیادی مقصد بن گیا اور جس لگن اور ایمانداری سے انھوں نے یہ فریضہ نبھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
بلوچستان کے قمر دین کاریزیا بسیمہ جیسے دور افتادہ گاؤں ہوں، سندھ میں مٹھی اور ڈیپلو کے ریگستان ہوں، پنجاب میں بھکر، راجن پور یا میانوالی کا بے سرو سامان قصبہ ہو یا سرحد کی بلند چوٹی پر آباد کوئی بستی۔ پانی، بجلی، سیوریج، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات سے بے نیاز ان مدارس کا پڑھا ہوا ایک شخص صبح منہ اندھیرے مسجد کا دروازہ کھولتا ہے، صفیں درست کرتا ہے، چبوترے پر اذان دیتا ہے اور ان میں پانچ وقت نماز پڑھاتا ہے۔ اکثر جگہ اس کی گزر بسر صرف اور صرف لوگوں کے گھروں سے کھانا یا شادی اور موت کی رسومات پر نذرانے کے سوا کسی اور چیز پر منحصر نہیں ہوتی۔
پورے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ لوگ جو دانستہ یا نادانستہ طور پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام کو زندہ رہنے کی واحد علامت ہیں۔ یہ اگر موجود نہ ہوں تو لوگ اذان دینے اور نماز پڑھانے والے کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ انھوں نے یہ ذمے داری گزشتہ دو سو سال سے اس طرح نبھائی ہے کہ آج تک کسی مسجد کے دروازے پر تالہ نہیں لگا کہ مولوی ہڑتال پر ہے۔ کبھی کوئی نماز لیٹ نہیں ہوئی۔
یہ ہیں وہ لوگ جواس ملک کے کوچے کوچے اور قریے قریے میں موجود ہیں۔ جہاں سرکار کا نام و نشان نہیں وہاں بھی موجود ہیں۔ کسی گاؤں میں چلے جائیں آپ کو سرکار کا اسپتال ویران نظر آئے گا، وہاں کا اسکول بے آباد ہو گا، نہ ڈاکٹر کا کہیں پتہ چلے گا اور نہ ہی استاد کا لیکن وہاں ایک ہی آباد اور روشن مقام ہوگا اور وہ اللہ کا گھر جس کی رکھوالی ایک مفلوک الحال درویش مولوی کر رہا ہوتا ہے۔
اس مولوی سے دشمنی کی اور کوئی وجہ نہیں، بس صرف ایک ہے کہ یہ اللہ کے نام کا دانستہ یا نادانستہ طور پر نمائندہ بن چکا ہے اور اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ لیکن جب بھی میرے ملک کے ،،عظیم،، دانشوروں کو موقع ہاتھ آتا ہے وہ ان مدارس کو سرکاری کنٹرول میں کرنے کا نعرہ بلند کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا ہے اس کے بعد کیا ہو گا۔ وہی جو تمام اداروں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
مولویوں کا تنخواہیں بڑھانے کے لیے اور دیگر مراعات کے لیے احتجاج شروع ہو گا، دھرنے، مساجد پر تالے اور درس و تدریس کا خاتمہ۔ وہی حال جو ہم نے اپنے باقی تمام محکموں کا کیا ہے۔ مجھے اپنے ان عظیم دانشوروں کی یہ منطق اچھی لگتی ہے کہ تمام مدارس کو سائنسی اور جدید علوم پڑھانے چاہئیں تا کہ روحانی اور مادی ترقی ساتھ ساتھ ہو لیکن کیا یہ منطق کالجوں یونیورسٹیوں اور اے لیول وغیرہ پر لاگو نہیں ہوتی کہ انھیں بھی قرآن و حدیث پڑھایا جائے تا کہ معاشرہ میں ایک ہی طرح کا نظام تعلیم اور ایک طرح کے انسان جنم لیں۔
ان اداروں میں تو جو تھوڑا بہت اسلام موجود ہے، یہ لوگ اس کو بھی نکالنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اصل مقصد صرف یہ ہے کہ تعلیم سے اللہ اور اس کے رسول کو دیس نکالا دے دو۔ اسے امن کی شرط کہا جا رہا ہے۔ یورپ نے 1900 تک دین کو تعلیم سے نکال دیا تھا۔ کیا وہاں امن آ گیا؟ اس کے بعد اس نے دو عالمی جنگیں لڑیں اور کروڑوں انسانوں کا خون بہایا۔ شاید تاریخ کسی کو یاد نہیں یا وہ یاد کرنا نہیں چاہتا۔

3 جنوری، 2015

ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا …اوریا مقبول جان

پرچم اتار دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فاتح اقوام کے سب سے بڑے اتحاد اور دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوتوں کا پرچم۔ وہ قوتیں جو آج سے تیرہ سال قبل دھاڑتی، چنگھاڑتی ہوئی اس کمزور، وسائل اور ٹیکنالوجی سے محروم ملک، افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔
دنیا بھر کے لیے ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی کہ اگر تم ہمارے ساتھ اس کمزور ملک سے جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر ہمارے دشمن ہو۔ 2001ء کی سردیاں اس ملک کے لیے عذاب کی صورت بنا دی گئیں۔ دنیا بھر میں سے تین ملک ایسے تھے جو اس ملک پر برسرِ اقتدار طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے۔ جن میں سے ایک پڑوسی پاکستان بھی تھا۔ باقی پڑوسی ایران اور تاجکستان تو ویسے ہی ان کے خلاف شمالی اتحاد کو ہر طرح کی مدد دیتے ہوئے جنگ میں شریک تھے۔
لیکن جس پڑوسی نے انھیں ایک قانونی حکومت تسلیم کیا تھا، اسی پڑوسی کی سرزمین ان پر حملے کے لیے استعمال ہوئی۔ دنیا نے اس ملک کو دہشت گردی کا مبنع قرار دیا اور پھر دو سو کے قریب ممالک میں سے اڑتالیس ممالک نے اپنی فوجیں وہاں اتار دیں۔ دشمن پڑوسیوں میں گھرا ہوا یہ ملک، ایک جانب پاکستان جہاں سے57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے اس سرزمین پر بم برسائے، دوسری جانب تاجکستان جس نے قلاب والا زمینی راستہ دیا تا کہ نیٹو افواج شمالی اتحاد کے جلو میں اندر داخل ہو سکیں اور تیسری جانب ایران جس کے پاسداران شمالی اتحاد اور حزبِ وحدت کے ساتھ اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ تیرہ سال قبل اس دنیا میں ٹیکنالوجی کے بت کی پرستش کرنے والے کیسی کیسی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ پہلے چند ماہ تو ایسے تھے کہ ہر کوئی بلند آواز میں پکار رہا تھا، دیکھو ٹیکنالوجی نے آج اُس قوم کو شکست دے دی ہے۔ جس سے کوئی نہ جیت سکا۔ کوئی ان کے بھاگنے کے قصے سناتا اور کوئی کہتا کہ یہ تو چند ہزار لوگ تھے جنھیں کچھ طاقتوں نے اکٹھا کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں تو دیکھو کیسے بھگوڑے ہو گئے ہیں یہ سب کے سب۔ اب افغانستان میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ یہ اب دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ اس کے بعد کے تیرہ سال آگ اور خون کے ساتھ کھیلتے ہوئے سال ہیں۔ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی جو دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کے ساتھ یہاں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ ایسے ٹینک جو اپنے اندر سے ایک ایسے مقناطیسی ردّ عمل کا دائرہ بنا سکتے تھے جن سے میزائل بھی واپس لوٹ جاتا تھا۔

آسمانوں سے پہرہ دیتے جہاز۔ فضا کی بلندیوں پر موجود ایک ایک لمحے کو ریکارڈ کرتے اور معلومات فراہم کرتے سٹلائٹ۔ ان سب کے باوجود کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب نیٹو افواج یا ان کی بنائی ہوئی افغان فوج نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ ہمارا پورے افغانستان پر کنٹرول ہو گیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ سوائے چند شہروں کے چند میل علاقوں کے پورے افغانستان میں امریکی یا نیٹو افواج کو کسی قسم کی کوئی دسترس تک حاصل نہ تھی۔ آخری سال تو شکست کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا۔ یکم جنوری2014ء سے31 دسمبر تک9167 افراد اس جنگ کا شکار ہوئے۔ جن میں3,188 ایسے تھے جو اس بری طرح زخمی ہوئے کہ ناکارہ ہو کر رہ گئے۔

بوکھلاہٹ میں الزامات حقانی نیٹ ورک پر لگائے گئے جس کے خلاف اس دوران شمالی وزیرستان میں آپریشن جاری تھا۔ کون ٹیکنالوجی کی شکست مانتا ہے اور وہ بھی نہتے افغانوں کے ہاتھوں جن کا سارا تکیہ ہی تائید الٰہی پر تھا۔ کیا کبھی امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے سوچا بھی ہو گا کہ اسقدر عظیم فوجی قوت کے باوجود ان کے تین ہزار چار سو اٹھاسی3488 سپاہی مارے جائیں گے۔ یہ وہ گنتی ہے جو وہ خود مانتے ہیں۔ جب سے سی آئی اے بنی ہے اس کے نوے کے قریب اہم ایجنٹ مختلف ممالک میں مارے گئے ہیں، جن میں سے گیارہ اس افغان جنگ میں قتل ہوئے۔ افغانستان ایک ایسا ڈراونا خواب تھا جس کے اختتام کی تقریب 28 دسمبر کو منعقد ہوئی۔ نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان ایف کیمپبل (Joh F. Campbell) نے کہا ’’ہم اپنا طالبان کے خلاف جنگ کا ایجنڈا ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن ہم بھاگ نہیں رہے‘‘۔ کیا خوبصورت فقرہ ہے (“We are not walking away”) یہ تسلی افغان قوم کو نہیں بلکہ اس افغان حکومت کو دی جا رہی جسے امریکیوں نے خود وہاں پر مسلط کیا ہے۔

جمہوری حکومت اور جمہوریت کے قیام کا کیا خوب تصور ہے کہ ایک ملک پر حملہ کرو، وہاں افواج اتارو، لوگوں کو قتل کرو، خود ایک آئین تحریر کرو، اپنی نگرانی میں الیکشن کراؤ اور بولو کہ ایسے زندگی گزار تے ہو تو ٹھیک ورنہ تمہیں دہشت گرد کہہ کر مار دیں گے۔ اسی لیئے اس ’’ٹوڈی‘‘ حکومت کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ہم بھاگ نہیں رہے۔ لیکن اس اتوار کو امریکی صدر اوباما نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک محتاط طریقے سے اس جنگ کا خاتمہ کیا ہے جب کہ افغانستان آج بھی ایک خطرناک علاقہ ہے‘‘۔ اس ملک میں تین لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کی ٹرنینگ کے لیے12 ہزار نیٹو کے فوجی یہاں پر موجود رہیں گے۔ اس تقریب میں افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اعتماد نے کہا کہ آپ ہمیں ایسے وقت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جس وقت ہم انتہائی مشکلات میں ہیں۔ ہمیں کبھی بھی نیٹو افواج کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جس وقت یہ تقریب ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہی تھی تو اس دوران افغان افواج کے افسران کے انٹرویو بھی نشر کیے جا رہے تھے۔ یہ افسران کہتے تھے کہ تیرہ سالوں سے ہم ایک ایسی جنگ کے عادی ہو چکے ہیں جو نیٹو کی تکنیکی اور فوجی مدد کے بغیر لڑی ہی نہیں جا سکتی۔ ہمیں ہوائی جہازوں کی بمباری اور ٹینکوں کی یلغار میں آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ہم ان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل پاتے جب کہ ہمارے دشمن طالبان اس تمام تر ٹیکنالوجی سے بے نیاز جس طرف سے چاہیں ہم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اب جب کہ یہ سپورٹ (مدد) ختم ہو رہی ہے، ہم بہت مشکل میں ہو ں گے۔

جھنڈا اتار دیا گیا۔ وہ فتح کرنے آئے تھے اور اپنے زخم چاٹتے رخصت ہوئے۔ یہ تیسری دفعہ ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتوں کا غرور خاک میں مل رہا ہے۔ یکم جنوری1842ء برطانوی افواج، وہ برطانیہ جس کی علمداری میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس پر کابل میں حملہ ہوا۔ تقریباً سترہ ہزار فوجی تھے جن میں اکثر انڈین اور ایک رجمنٹ ’’44th‘‘برطانوی سپاہیوں پر مشتمل تھی ان سب کو غلزئی قبائل نے قتل کر دیا تھا اور ایک ڈاکٹر ولیم برائڈن کو زندہ چھوڑا تا کہ وہ جا کر اس عالمی طاقت کے کار پردازوں کو بتائے کہ افغان قوم کیا ہے اور آیندہ کابل کی طرف رخ مت کرنا۔ یہ ڈاکٹر گھوڑے پر سوار ہو کر 13جنوری کو جلال آباد پہنچا اور برطانیہ کے چہرے پر عبرت کا نشان تحریر ہو گیا۔

دوسری دفعہ یہ پرچم عظیم کیمونسٹ ریاست سوویت یونین کا تھا جو1988ء میں ایسے اترا کہ خود اپنی ریاست تک متحد نہ رکھ سکا۔ ٹیکنالوجی کے بت ٹوٹتے ہیں لیکن ان کی پوجا کرنے والے نئے بت تراش لیتے ہیں لیکن وہ جنھیں صرف اللہ کی نصرت اور تائید پر بھروسہ ہوتا ہے وہ بار بار ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا میں اصل طاقت کا سرچشمہ تو صرف اللہ کی ذات ہے اقبال نے کہا تھا۔

اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

31 دسمبر، 2014

ان بیان ایبل از گل نوخیز اختر


 ہماری ایک معروف افسانہ نگارکی شادی کی عمر گذرتی جارہی تھی، موصوفہ تقریباًکسی سے بھی شادی کرنے پر راضی تھیں لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی قانونی اقرارکرنے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔ انہوں نے شادی میں کسی کو انوائٹ نہیں کیا، ایک دن ایک تقریب میں مل گئیں تو میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے چپکے سے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔ خوشی سے شرمندہ ہوکر بولیں ’’اصل میں سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کئی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلاسکی‘‘۔ میں نے پوچھا’’ماشاء اللہ دولہا بھائی کرتے کیا ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی اٹھلا کر بولیں’’ان کی روٹیوں کی فیکٹری ہے‘‘ میری آنکھیں پھیل گئیں، بعد میں پتا چلا کہ دولہا بھائی کا ذاتی تنور ہے۔
ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے’’بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے رامیٹریل فراہم کرتے ہیں‘‘۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے ’’میٹریل‘‘ کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔
کچھ لوگ بڑے آرام سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ جب تک تفصیل کا نہ پتا چلے یہ جھوٹ بالکل سچ معلوم ہوتاہے۔ مثلاً میری ایک ’’سگی کلاس فیلو‘‘ کی منگنی ہوئی تو اس کی سادہ اور معصوم سی والدہ نے بتایا کہ لڑکا پہلے سٹیٹ بینک میں لگا تھا ، اب پان سگریٹ کا کھوکھا لگاتاہے۔میں نے اپنے کان کھجائے’’سٹیٹ بینک اور پان سگریٹ کے کھوکھے‘‘ کا تقابلی جائزہ لیااور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کلاس فیلو سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر لڑکے والوں سے پوچھا گیاکہ لڑکا کب سٹیٹ بینک میں لگا تھا۔ جواب ملا’’پچیس اگست 1998ء کو رات پونے ایک بجے‘‘۔ یہ سنتے ہی لڑکی والے بوکھلا گئے کہ رات پونے ایک بجے سٹیٹ بینک میں کون سی جوائننگ ہوتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، لڑکا اصل میں پہلے رکشہ چلا تا تھا، پچیس اگست کو اس کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ سیدھا ’’سٹیٹ بینک میں جالگا‘‘۔

اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتاہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔اپنی مثال اس لیے نہیں دوں گا کیونکہ مجھے کافی بہت پسند ہے بلکہ اب تو مجھے Cappuccino کے سپیلنگ بھی یاد ہوگئے ہیں ، میں جب بھی کافی منگواتا ہوں سب سے پہلے ختم کرتا ہوں، میرے دوستوں کو یقین ہے کہ میں کافی کا دیوانہ ہوں، یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چائے اور کافی میں وہی فرق ہے جو تاش اور شطرنج میں ہے۔ لیکن میراکافی پینے کا اپنا ہی سٹائل ہے۔۔۔میں صرف ایسی جگہ پر کافی پینا پسند کرتا ہوں جہاں واش بیسن قریب ہو۔
 ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔۔۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو السی اور چاول کی پنیاں کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا ’’دابڑا‘‘ کب چکھا تھا؟ بھینس کی ’’بوہلی‘‘ کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ ’’بوہلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔
 پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتاہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتاہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتاہے، البتہ ایک’’وٹنری ڈاکٹر‘‘ ایسا نام ہے جسے بیرونی دنیا میں تو بہت عزت حاصل ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی تک اس کے لیے ’’وہی ‘‘ لفظ استعمال کیا جاتاہے۔۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے ’ ’ان بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
 مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنے کا جنون ہوگیا ہے اور یہی جنون ہم سے اصل زندگی چھینتا چلا جارہا ہے۔کیامونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے ’’پران‘‘ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا کوئی پیزا آلو کے پراٹھوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ کیا چلی ساس، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟گڑ کی ڈلی سے بہتر کس کینڈی کا ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کس فائیو سٹار ہوٹل کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟سرسوں کے تیل سے زیادہ دماغ کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ کیا چاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟؟؟ مکی کی روٹی اور ساگ کے برابر میں جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی فرق معلوم ہوجائے گا۔ لیکن ہمیں یہ چیزیں اس لیے پسند نہیں کیونکہ جن لوگوں میں ہم رہتے ہیں اُنہیں یہ پسند نہیں۔ دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کی دوڑ میں ہمیں ہر وہ چیز بھولتی جارہی ہے جس کے ہم کبھی دیوانے ہوا کرتے تھے۔

اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑرہا ہے۔ہم نے کتنی محنت سے اپنے ذائقے تبدیل کر لیے، اپنے حلئے تبدیل کر لیے، اپنے رویے تبدیل کرلیے ۔۔۔اب ہم معمولی سی بات کو تھوڑا سا گھما کر بیان کرتے ہیں ، نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔۔۔لیکن معاشرے میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔اب بے شک ہماری قمیض کی بغلیں پھٹی ہوئی ہوں، پیروں میں قینچی چپل ہو، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہم ’’رائل فیملی‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے اور امیر رشتے دار ایسے ضرور سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہے تاکہ انہیں اپنے اِن رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جائے۔خود وہ کیاہیں۔۔۔ یہ اُنہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔۔۔!!! 

 

29 دسمبر، 2014

دنیا والو!! کیا کریں؟

  ہم نے کہا اسلام چاہیئے، انہوں نے کہا جمہوریت ہے عوام سے ووٹ مانگو، پارلیمنٹ میں آؤ اور نافذ کرلو، مصر والے مان گئے، اخوان کو ووٹ دیئے، ابھی سال ہی ہوا تھا کہ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا، صدر کو قید کرلیا اور اب فوج اقتدار پر قابض ہے، اخوان نامی تنظیم پر مکمل پابندی ہے ۔۔۔ اور یہ ثابت کردیا کہ چاہے ہم جتنا بھی "اُن" جیسے ہو جائیں اور اپنے جائز حق یعنی اسلام کو لینے کی کوشش کریں جمہوریت میں ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
  ہم نے پھر کہا کہ مانگنا نہیں سیدھا نافذ ہی کرنا ہے، افغانوں کی سمجھ میں بات آئی، طالبان نامی تنظیم بنائی جس نے دو سالوں میں پورے علاقے کو غیر جمہوری طریقے سے اپنے زیرِ اثر کرلیا، اسلامی احکام نافذ کرنے شروع کئے، دنیا نے نتائج دیکھے، پانچ سال لوگوں کے دلوں پر حکومت کی اور امارت قائم رہی لیکن "اُن" کو بلکل بھی نا بھائے، انہوں نے تابڑتوڑ حملے شروع کردئیے، امارت ختم ہوگئی اور مرتب کردہ نظام بھی ۔۔۔ ثابت یہ ہوا کہ اس طریقے سے بھی اسلام نافذ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
  کچھ عرصہ بعد ایک گروہ اٹھا جس نے تمام طریقوں سے اختلاف کیا اور جبر کی راہ اپنائی، بنام دولتہ السلامیہ اس گروہ نے خلافت کے بھی قیام کا اعلان کردیا، اور صرف تین ماہ لگے عالمِ کفر متحد ہوکر آگیا کہ ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا، فضا سے بموں کی بارش کرکے  یہ بھی ختم کردیا ۔۔۔ یعنی ثابت یہ کہ پرتشدد راہ بھی اختیار نہیں کرنے دی جائے گی۔


  ہم پھر وہیں کھڑے ہیں، اسلام چاہتے ہیں، کیا کریں، دنیا والو ۔۔۔ بتاؤ  کیا کوئی طریقہ تمہیں قبول ہے ؟

27 دسمبر، 2014

بھینس کا علاج


 کہتے ہیں کہ کسی شخص کی بھینس بیمار ہوگئی۔ وہ اپنے دوست کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ جب تمھاری بھینس بیمار ہوئی تھی تو تم نے کیا کیا تھا؟ دوست نے کہا کہ میں نے اسے مٹی کا تیل پلایا تھا۔ یہ سُن کر وہ شخص فوراً پلٹا اور اپنے گھر پہنچ کر بھینس کو مٹی کا تیل پلا دیا۔ کچھ ہی دیر میں بھینس مرگئی۔ یہ دیکھ کر وہ بہت طیش میں آیا اور پھر دوست کے گھر جا پہنچا، اسے بتایا کہ میں نے بھینس کو مٹی کا تیل پلایا تو وہ مرگئی۔ دوست نے کہا میری بھینس بھی مر گئی تھی۔ یہ سن کر اس شخص نے کہا’’تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں‘‘ دوست نے جواب دیا’’تم نے پوچھا کب تھا؟‘‘

ہمارے حالات بھی اسی نادان شخص کے مانند ہیں کہ کسی کا عمل دیکھ کر نتیجے کی پروا کیے بغیر ویسا ہی عمل شروع کر ڈالتے ہیں اور کچھ عرصے بعد پچھتا رہے ہوتے ہیں۔ یورپ، امریکا کے عوامل کی اندھا دھند تقلید کے نتیجے میں ہمارے بھینسوں کے باڑے کی بہت سی بھینسیں ہلاک ہوچکی ہیں لیکن حرام ہے جو ہم نے سبق سیکھا ہو۔ ہم باقی ماندہ بھینسوں کو بھی تقلید کا تیل پلا پلا کر ان کے دم نکلنے کے منتظر ہیں۔ پھر ایک روز ہم مغربی دنیا سے گلہ کریں گے، تو ہمیں جواب ملے گا کہ بھائی تم نے ہم سے پوچھا ہی کب تھا؟
اندھا دھند تقلید کا آغاز زمانہ جدید کی چکا چوند سے ہوا جب ہم نے یورپی مصنوعات کا استعمال شروع کیا۔ برصغیر پر قبضے کے بعد یورپی اقوام نے پہلے پہل یورپی اسلحے کا دیسیوں پر استعمال شروع کیا جس کے رعب میں آکر دیسی بھی اپنے ہم نسلوں پر یورپی اسلحے کا استعمال کرنا سیکھ گئے۔ دیسی لباس کی جگہ یورپی لباس اور دیسی زبان کی جگہ یورپی زبان قابل فخر عمل ٹھہری۔
انگریزوں نے بڑے پیمانے پر سب سے پہلے ہمیں چائے کا عادی بنایا جس کی تشہیری مہم میں بر صغیر میں پہلی بار نوجوان خواتین کو استعمال کیا گیا،جو ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو مفت میں

چائے پلا کر چائے کی فروخت میں اضافے کا باعث بنتی تھیں۔ چائے کی فروخت زیادہ ہوئی تو لسی اور دودھ کا استعمال کم ہوتا چلا گیا۔ موٹر سائیکل اور موٹر کار کی برصغیر میں آمد ذریعہ سفر میں ایک نئے دور کا آغاز تھا جس کے ساتھ ہی ریل اور ہوائی جہاز کی آمد نے سفر کو نیا رُخ عطا کیا۔ اب طرز تعمیر اور انداز بودو باش کی باری تھی۔ ہمیں یورپ سے آیا ہوا ہر تعمیری نقشہ قابل اعتبار معلوم ہوا اور ہم اپنی عمارات کی تعمیر بھی یورپی انداز میں کرنے لگے۔ اس تقلید میں ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ تمام انداز سرد ممالک کی ضرورت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں جبکہ ہم شدید گرم علاقے کے باسی ہیں۔ بُرا ہو اندھی تقلید کا، ہم صحن کی نعمت اور کھلی ہوا میں سانس لینے سے بھی محروم ہوگئے۔
جدت اور ترقی ہر زمانے کا لازمی حصہ ہے۔ جدیدیت کوئی حرام شے نہیں جس سے ہر حال میں بچنا ہو۔ تقلید بُری نہیں بلکہ اندھی تقلید ہلاکت خیز ہے۔ کاش طبعی اشیا کی تقلید میں ہم نے اپنے زمان و مکاں کو مد نظر رکھ کر اپنی ضرورت کے مطابق جدت پیدا کرکے اشیا کو استعمال کیا ہوتا تو ہم بھی طبعی اشیا سے بہتر انداز میں فوائد حاصل کر پاتے۔ محض تقلید نے ہمارا مٹی کا مادھو ہونا آشکار کر دیا۔
طبعی اشیا اور ان کا استعمال اس قدر ضرر رساں نہیں۔ اصل ہلاکت خیزی تو اس وقت شروع ہوئی جب ہم نے معاشرتی میدان میں اندھی تقلید کی راہ اختیار کی۔ یورپی معاشرت کو برصغیر کے لوگوں نے حاکموں کی صورت میں تو دیکھ رکھا تھا یا کبھی کبھی انگریزی فلموں میں اس معاشرت سے واقفیت حاصل ہوتی تھی لیکن صورت حال اس وقت تبدیل ہوئی جب برصغیر میں ٹیلی ویژن کی آمد ہوئی۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن اسٹیشن کا قیام پاکستان کو دیے جانے والے پہلے بڑے امریکی پیکج کی لازمی شرط تھی۔ پہلے یورپی معاشرت کا مشاہدہ گھر سے باہر جاکر ہوتا تھا۔ اب یورپی معاشرت ہمارے گھر میں مشہود ہوئی اور ہم شاہد ٹھہرے۔
اس کو مہمیز اس وقت ملی جب ہمارے ہاں ڈش انٹینا اور کیبل نیٹ ورک کی آمد ہوئی۔ رہی سہی کسر انٹر نیٹ اور کمپیوٹرز کی فراہمی نے پوری کردی جو ہمارے بڑوں کے ذریعے بچوں کے ہاتھوں میں آگیا۔ اب ہم ایک نئے دور میں داخل ہوئے جِسے’’میڈیا کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ میڈیا کے حسن و قبح پر بحث اور اس کے حرام و حلال کے فیصلے کا حق بھی میڈیا ہی کے پاس ٹھہرا۔ میڈیا نے خود ہی رنگ برنگ موضوعات پر مباحث کا اہتمام کیا اور خود ہی اپنے حق میں فیصلے دے کر اپنے ہر قدم کے جواز کو سند عطا کی۔
میڈیا (یہ اصطلاح اب صرف الیکٹرانک میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہی ہے) کے مشاہدے کا آغاز صبح کی نشریات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جسے عرف عام میں ’’مارننگ شو‘‘ کہا جاتا ہے۔ مارننگ شو میں پہلے پہل خواتین کے لیے کھانے پکانے اور سینے پرونے کے پروگرام پیش کیے گئے جس کے بعد اب ہر پروگرام کا لازمی حصہ رقص و موسیقی بن گیا۔ بہت سی خواتین و حضرات جنھیں ہم بہت عرصے سے دیکھتے چلے آرہے تھے اور وہ دیگر پروگراموں میں ہمیں خاصے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے نظر آتے تھے۔ مارننگ شوز میں آکر چھچھورے رقاص ثابت

ہوئے۔ ان پروگراموں میں اس چھچھور پن کا آغاز شادی بیاہ کی نام نہاد رسموں سے ہوا جو بڑھ کر اب محض’’مجرے‘‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ ہم نے جوان العمر سے لے کر اچھی خاصی عمر رسیدہ خواتین کو یہ مجرے کرتے دیکھا۔ یقین مانیے کہ سر شرم سے جھک گئے کہ نانی دادی کہلانے والی یہ خواتین کس ثقافت کی نمایندگی کررہی ہیں۔ رقص و موسیقی کے ہماری زندگی میں اس قدر دخیل ہونے کا کمال اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ ق کی ایک انتخابی محفل میں چودھری شجاعت کے سامنے اسی قسم کا مظاہرہ کیا گیا جسے حاضرین نے خوب ڈھٹائی سے برداشت کیا اور داد بھی دی۔
میڈیا (یعنی الیکٹرانک میڈیا) میں ایک بد رسم کا آغاز ہوا ہے جسے بولڈ موضوعات پر گفتگو کا نام دیا گیا ہے۔ بولڈ ہونے کی آڑ میں زیادہ تر ان موضوعات کا انتخاب کیا جارہا ہے جن کا تعلق عائلی و ازدواجی زندگی اور جنسی معاملات سے ہے۔ وہ باتیں جو عقلاً بالغ اور مخصوص افراد کے درمیان ہونی چاہئیں اب کھلے عام کی جارہی ہیں اور کچے ذہنوں کو آلودہ کیا جارہا ہے۔ سکرین کے ایک کونے میں ’’PG‘‘ لکھ دینا یا’’بچے نہ دیکھیں‘‘ لکھ دینا اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ یہ پروگرام کون دیکھ رہا ہے۔ پیمرا نامی ادارہ منہ میں گھنگھنیاں ڈالے یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے کہ میڈیا اس قدر منہ زور، منہ پھٹ اور طاقتور ہوگیا کہ ’’مافیا‘‘ کے انداز میں ایک دوسرے کو سہارا دے رہا ہے… زیارت ریذیڈنسی کے حوالے سے قائم ہونے والا مقدمہ اس کی مثال ہے جب اس ’’مافیا‘‘ نے زور ڈال کر حکومت سے مقدمہ واپس کروا دیا۔
کچھ عرصہ قبل اسی میڈیا پر ایک ایسی بحث پیش کی گئی جس میں فحش ویب سائٹس کے حوالے سے گفتگو پیش کئی گئی۔ حاصل کلام یہ تھا کہ آپ ان کو اب روک نہیں سکتے اور ساری دنیا میں یہ ویب سائٹس عام ہیں اگر ہمارے ہاں بھی ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اپنی تربیت اتنی بہتر کریں کہ نوجوان اس جانب متوجہ نہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔ مغربی تقلید کے حامل شرکا مغرب سے بڑھ کر جواز پیش کررہے تھے۔ چند روز قبل برطانوی وزیر اعظم کا بیان نظر سے گزرا جس میں تجربے اور تجزیے کی بنیاد پر اس نے فحش مواد کے خلاف فیصلے لینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مواد ہمارے بچوں کا بچپن تباہ کررہا ہے۔ جب مغرب اس مواد پر پابندی لگائے گا تو پھر ہمارے نام نہاد مفکرین کیا جواز پیش کریں گے۔
پڑھے لکھے پنجاب کے زمانے میں مغرب سے امداد کے بدلے ہمیں ’’مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ ملا۔ یہ نعرہ ہم نے ہر اسکول کے باہر اور اندر بورڈ پر لکھ کر لگایا۔ اس کے نیچے محکمہ تعلیم کے افسران کے ٹیلی فون نمبر دیے گئے تھے جن کو فون کر کے مار پیٹ کرنے والے ٹیچرز کے خلاف فوراً کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس عمل سے فوائد تو نجانے کیا حاصل ہوئے لیکن ٹیچرز خوف زدہ اور طلبا خود سر ہوگئے۔ تعلیمی نظم و ضبط کمزور پڑگیا اور تعلیمی استعداد تنزلی کا شکار ہوگئی۔
1950ء کی دہائی تک برطانیہ و امریکا کے اسکولوں میں جسمانی سزا برائے اصلاح موجود تھی۔ ایک مشہور مقولہSpare the rod & spoil the child مغرب ہی کی پیش کش ہے۔ اُس زمانے میں بھی تعلیمی معیار تھا، ایجادات بھی ہورہی تھیں اور مغربی ممالک ترقی بھی کررہے تھے۔ ہم ابھی ترقی کی منازل سے فاصلے پر ہیں۔ معیشت بدحال ہے، تعلیم و تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے لیکن معاشرت میں مغرب کی برابری کی کوششیں ہورہی ہیں۔ یاد رکھیے کہ ہر چیز جو صدیوں سے آپ کی ثقافت کا جز ہے، ضروری نہیں کہ غلط ہو۔ معاشرت تبدیل کرنے سے پہلے سو بار

سوچیے کہ زیادہ تر صورتوں میں معاشرت کی تبدیلی ناقابل واپسی ہوتی ہے۔ بچوں کی اصلاحی سزا کے حوالے سے جان لیجیے کہ برطانیہ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اصلاحی سزا کی اجازت دی جائے تاکہ ہماری اگلی نسل کو درست سمت میں تربیت دی جاسکے۔ تشدد کی تائید کوئی ذی عقل نہیں کرتا لیکن یاد رہے کہ سزا و جزا تربیتی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اور ہاں امریکا کی بھی سن لیجیے جہاں مار نہیں پیار کے نتیجے میں اسکولوں میں طلبہ کے بدمعاش گروہ پرورش پارہے ہیں۔ جن کی سرکوبی کے لیے مسلح محافظ تعینات کیے جاتے ہیں۔ امریکا

کے اسکولوں میں طلبا کے ایک دوسرے پر تشدد اور طلبہ کے ہاتھوں اساتذہ کے پٹنے کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ سنجیدہ امریکی طبقہ اس جانب حکومت کی توجہ مبذول کرا رہا ہے تاکہ صورت حال کو قابو میں کیا جاسکے۔ جب کہ ہم اس جانب جا رہے ہیں جہاں سے دوسروں کی واپسی ہورہی ہے۔ ہم اپنی ایک نہیں،کئی بھینسوں کو تیل پلا چکے ہیں۔
ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، اپنی غلطیوں کی اصلاح کیجیے۔ اپنی سمت کو درست کیجیے، اندھی تقلید سے بچیے اور بھینس کا صحیح علاج کیجیے۔اور ہاں! پڑوسی کی تقلید سے پہلے نتیجہ ضرور پوچھ لیجیے۔ 


پروفیسر محمدنعیم خان