ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

اسلامی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسلامی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

19 جولائی، 2015

پوری امت کے مطلع کا ایک ہی چاند ہے


کیا کبھی کسی نے یہ تصور کیا ہے کہ جو امت صرف چندسکینڈ کے وقفے سے بلکہ بعض اوقات تو براہِ راست عرفات میںدیے جانے والا خطبہ سنے، لندن، سڈنی یا دبئی میں ہونے والا میچ دیکھ لے ، کسی بھی ملک کے کسی شہر میں ہونے والے پولیس مقابلے کو دیکھے اور اس پر یقین بھی کرے، گیارہ ستمبرکو گھنٹوں ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کا منظر ایسے دیکھے جیسے وہ ان کے سامنے برپا ہے، لیکن اگرآپ اس امت کے اربابِ اختیارسے لے کر علمائے کرام سے پوچھیں کہ یہ پوری امت دنیا بھر میں ایک ساتھ چاند کیوں نہیں دیکھ سکتی تو آپ کو بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دینے لگیں گی۔
سب سے پہلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ زمینی حقائق میں قومی ریاست سب سے بڑی حقیقت ہے اور اس قومی ریاست کی حکومت ہی مسلمانوں کا ایک نظمِ اجتماعی ہے اور اس نظم اجتماعی کے تحت ہر ملک کی ایک رویتِ ہلال کمیٹی ہے۔ یعنی 1920 کے آس پاس عالمی طاقتوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جس کمال مہارت کے ساتھ سرحدوں میں تقسیم کیا ہے وہ زمینی حقیقت آسمانی حقیقتوں، الہامی کلام اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات سے بڑی حقیقت ہیں۔ طورخم، تفتان اور خنجراب کی لکیروں کے ایک جانب کھڑے پاکستانی اور دوسری جانب کھڑے افغان، ایرانی اور چینی، جن کے سروں پر ایک ہی وسیع آسمان ہے۔
جس پر چاند اپنا سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اس آسمانی حقیقت کے باوجود، لکیر کے اسطرف موجود لوگ روزے سے ہوتے ہیں اور دوسری طرف والے عید منا رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ افغانستان میں ہرات، ایران میں اردبیل اور چین میں شنگھائی میں کسی نے چاند دیکھ لیا ہو، اور وہ ممالک اپنی حدود تک عید منا رہے ہوں اور ان کی عید یا چاند کی رویت پاکستان کی سرحد پر طورخم، تفتان اور خنجراب پر آکر ختم ہو جائے، اس لیے کہ آسمان پر چمکنے والے چاند پر بھی قومی ریاستوں کے عالمی قانون کا اطلاق لازم ہے اس لیے کہ چاندکے پاس اس ملک کا ویزہ نہیں ہے اور یہ ویزہ ہر ملک کی رویتِ ہلال کمیٹی لگاتی ہے۔
دنیا کے تقریباً ہر مسلمان ملک میں رویتِ ہلال کمیٹیاں موجود ہیں اور وہ علمائے کرام پر مشتمل ہیں جو اپنے خطبوں میں یقینا سید الانبیاء ﷺ کی یہ حدیث ضرور سناتے ہوں گے کہ یہ امت ایک جسدِ واحد کی طرح ہے۔ اس بات کا بھی اعلان زور و شور سے کرتے ہوں گے کہ سرورِ دو عالم ﷺ کو ساری انسانیت کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ علمائے امت جب اپنے مسالک کی عالمی کانفرس منعقد کرتے ہیں تو پوری دنیا سے اپنے مسلک کے علماء کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر لیتے ہیں۔ شیعہ، سنی، دیو بندی، بریلوی، اہلِ حدیث، آپ سب کے عالمی اجتماعات علیحدہ علیحدہ جا کر دیکھ لیں ،امریکا سے لے کر آسٹریلیا تک جہاں بھی ایک مسلک کے چندعلماء آپس میں اکھٹا ہوں گے، آپ کو ان میں ذرا برابربھی اختلاف نظر نہیں آئے گا۔
عالمی اسلامی انقلابی تحریکوں کو ایک ساتھ جمع کرنے والی سیاسی پارٹیاں جن میں پاکستان میں جماعتِ اسلامی او ر مصر میں اخوان المسلمون شامل ہیں، یہ بھی اپنے عالمی اجتماعات زور و شور سے منعقد کرتی ہیں، دھواں دار تقریرں ہوتی ہیں، مسلم امت کے دکھٹرے روئے جاتے ہیں، اتحاد بین المسلمین کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔
یہ تمام علمائے امت اور مذہبی سیاسی رہنما آج تک ایک دن کے لیے بھی اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ اس دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کا ایک ہی چاند ہے جو ایک ہی آسمان پر طلوع ہوتا ہے اور ایک ماہ میں تقریباً 29دن، 12 گھنٹے، 44 منٹ اور 28 سیکنڈ کی گردش مکمل کرتا ہے۔ اس ایک چاند کو اگر ہوائی کے ساحلوں سے لے کر فیجی کے جزیرے تک کہیں بھی دیکھ لیا جائے تو مسلمان بیک وقت روزہ رکھ سکتے اور عید منا سکتے ہیں۔
کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ دنیا میں کہیں بھی دو ملکوں کے درمیان 24 گھنٹوں سے زیادہ کا وقفہ نہیں ۔ فیجی زمین کے مشرقی کونے میں واقع ہے اور وہاںاگر یکم جنوری کو طلوعِ آفتاب 5:33 اور غروبِ آفتاب 6:46 بجے ہے۔ آپ مغرب کی طرف بڑھیں چھ گھنٹے بعد جکارتا، چار گھنٹے بعدمکہّ، ایک گھنٹے بعدقاہرہ، دو گھنٹے بعد لندن اور پانچ گھنٹے بعد نیویارک میں آپ اسی یکم جنوری کی نماز فجر اور نماز مغرب ادا کریں گے۔
لیکن اسی یکم جنوری کے آس پاس اگر چاند دیکھ کر عید کرنے کی بات آجائے تو یہ عید تین جنوری تک چلتی رہے گی جب کہ اس دوران چاند اپنا تین دن کا سفر مکمل کر چکا ہو گا۔ اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ چاند دیکھ کر عید منانا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بنائی ہوئی حدود و قیود کے مطابق نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کھینچی ہوئی حدود و قیود کے مطابق ہے۔ 1971 سے پہلے اگر چٹاگانگ یا ڈھاکا میں چاند نظر آجاتا تھا تو گوادر اور پشاور والے ایک ساتھ عید کرتے تھے لیکن آج اگر رویتِ ہلال کمیٹی کے اراکین سے سوال کریں تو وہ کہیں گے کہ بنگلہ دیش کا مطلع الگ ہے اور ہمارا مطلع الگ۔ روس زمین کے شمال میں واقع ایک وسیع ملک ہے جس میں گیارہ ٹائم زون آتے ہیں۔
روس میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے، بلکہ ایک اندازے کے مطابق روسی فوج میں چالیس فیصد مسلمان ہیں۔ اس روس میں گیارہ ٹائم زون میں رہنے والے مسلمان ایک دن عید کرتے ہیں چونکہ روس ایک عالمی سرحدہے جب کہ 57 اسلامی ممالک بھی گیارہ ٹائم زون میں تقسیم ہیں جو مراکش سے برونائی تک واقع ہیں۔ لیکن یہاں تو اردن اور شام کی سرحدوں پر اور ایران و عراق کی سرحدوں پربھی علیحدہ علیحدہ عیدیں منائی جاتی ہیں اس لیے کہ ان کی 57 عالمی سرحدیں ہیں۔
ہمارے علمائے امت کا کمال یہ ہے کہ یہ اپنے مسلکی اختلاف کو زمینی حقائق کا نام دیتے ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ اس پوری امت میں یہ اختلافات شاید پاکستان میں ہی ہے۔ لیکن 2007 کا رمضان ایران میں گزارنے کا موقع ملا۔ رات گئے تک پوری ایرانی قوم انتظار کر رہی تھی کہ ابھی رویتِ ہلال کمیٹی اعلان کر دے گی۔ فقہ جعفریہ کے مطابق لوگوں نے” یومِ شک ” کا روزہ رکھ لیا جسے چاند کی اطلاع نہ ملنے پر 12 بجے سے پہلے توڑا جا سکتا ہے۔ گیارہ بجے کے قریب میں کا ر میں سفر کر رہا تھا، ریڈیو لگا ہوا تھا، اس پر رویتِ ہلال کمیٹی کاقم سے اعلان ہوا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے۔
میرے ڈرائیور نے ایرانی مزاح کا ثبوت دیتے ہوئے کہا ” ہمراہ آفتاب آمد” یعنی آج چاند اور سورج ساتھ ساتھ آئے ہیں۔ ہمارے علماء سعودی عرب یا ایران یا پھر کسی اور ملک کی رویت اس لیے نہیں مانتے کہ ان کا ملک علیحدہ ہے۔ بلکہ ملک علیحدہ ہونا تو ایک بہانہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ ان کا مسلک علیحدہ ہے۔ یہ وہ اختلاف ہے جس نے قومی ریاستوں اور ان کی حدود کو اللہ کے احکامات اور رسول اللہ کی سنت سے بھی زیادہ محترم اور مقدس بنا دیا ہے۔
گزشتہ چودہ سو سال کی تاریخ اس بات پر شاھد ہے کہ اس امت کے تمام مسالک نے چاند کی رویت میں مطلع کا کبھی اختلاف نہیں کیا۔ فقہہ حنفی کی کتابوں الہدایہ او ر الدر المختار میں کہا گیا، اہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رویت دلیل ہے۔ مالکی فقہہ کی کتاب “ھدایتہ المجتہد” اور ” مواہب الجلیل” بلکہ قاضی ابو اسحاق نے ” ابن الماحبثون” میں یہاں تک کہہ دیا اگر ایک ملک کے لوگوں کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ انھوں نے چاند دیکھاہے تو روزے کی قضا واجب ہے۔ یہی مسلک حنبلیوں کے ہاں ” الاحناف” اور شافیعوں کے ہاںالمغنی میں درج ہے اور کیوں نہ ہو ان تمام آئمہ کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی سنت موجود تھی جو ان احادیث سے واضح ہے۔
ـ” ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا میں نے چاند دیکھا، آپ نے پوچھا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں ۔ اس نے کہا ، ہاں، آپ نے فرمایا، بلال اعلان کر دو کل روزہ رکھیں (ترمذی، سنن ابنِ داؤد)” اس سے زیادہ واضح بات اس حدیث میں ہے۔ ” لوگ عید کے چاند میں اختلاف کرنے لگے کہ دو اعرابی آئے، انھوں نے اللہ کے رسول کے روبرو اللہ کو گواہ بنا کر کہا کہ کل رات انھوں نے چاند دیکھا ہے تونبی اکرمﷺ نے حکم دیا کہ روزہ توڑ دیں (ابو داؤد)”. ان دونوں احادیث میں نہ کہیں فاصلے کا ذکر ہے اور نہ ہی حدود و قیود کا۔ آج اگر مراکش کے ساحل پہ جہاں چاند پہلے طلوع ہوتا ہے۔
چند لوگ جو پارسا اور پرہیزگار بھی ہوں، وہ اگر چاند دیکھ لیں اور صرف چند گھنٹے کی فلائٹ لے کر مفتی منیب الرحمان صاحب کی رویتِ ہلال کمیٹی کے سامنے جو کراچی میں چھت پر کھڑی دوربین لگا کر چاند دیکھ رہی ہوتی ہے، اسے گواہی دے دیں تو کیا یہ رویتِ ہلال کمیٹی والے اعلان کر دیں گے کہ کل روزہ رکھو، یا اگر وہ عید کے روز لیٹ ہو جائیں تو اعلان کریں گے کہ روزہ توڑ دو ۔ شاید نہ کریں اس لیے کہ ہمارے ہاں زمینی حقائق اور قومی ریاستوں کی حدود اللہ کے رسول کی سنت سے زیادہ محترم اور مقدس ہو چکی ہیں۔ ایک چھوٹا سا ٹی وی چینل آسٹریلیا سے امریکا تک ہر چیز براہِ راست دکھانے کا اہتمام کر سکتا ہے۔ اس امت کے 57 اسلامی ممالک صرف چندمقامات پر چاند دیکھنے کے مراکز قائم کر کے پوری امت کو ایک رمضان اور ایک عید کا تحفہ نہیں دے سکتے۔

اوریا مقبول جان


23 دسمبر، 2014

قصاص میں زندگی ہے


وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ البقرہ ۱۷۹
ترجمہ: اور اے اہل عقل! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے کہ تم (قتل وخونریزی سے) بچو ۔

یہ نہایت فصیح و بلیغ جملہ ہے۔ جس پر عرب کے فصحاء عش عش کر اٹھے۔ کیونکہ اس مختصر سے جملہ میں دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی قصاص بظاہر تو موت ہے۔ مگر حقیقت میں پوری زندگی کا راز اسی میں ہے۔ عرب میں جو فصیح محاورہ استعمال ہوتا تھا القتل انفی القتل یعنی قتل قتل ہی سے مٹتا ہے۔ مگر فی القصاص حیاۃ میں بدرجہا زیادہ لطافت، فصاحت، بلاغت ہے اور مضمون بھی بہت زیادہ سما گیا ہے۔


دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور عرب بھر کا امن و سکون تباہ ہو چکا تھا۔ اس کی صرف یہی وجہ تھی۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قصاص کا عادلانہ قانون دے کر دنیا بھر کے لوگوں کو جینے کا حق عطا فرما دیا۔
 

آج بعض ملکوں میں قتل کی سز ا منسوخ کر دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سزا ظالمانہ اور بہیمانہ ہے۔ متقول تو قتل ہو چکا، اب اس کے عوض ایک دوسرے آدمی کو تختہ دارپر لٹکا دنیا بےرحمی نہیں تو کیا ہے۔
آپ خوفناک حقائق کو دلکش عبارتوں سے حسین بنا سکتے ہیں۔ لیکن نہ آپ ان کی حقیقت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ان کے برے نتائج کو رو پذیر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ جس ملک کے قانون کی آنکھیں ظالم قاتل کے گلے میں پھانسی کا پھندا دیکھ کر پرنم ہو جائیں وہاں مظلوم و بےکس کا خدا ہی حافظ، وہ اپنے آغوش میں ایسے مجرموں کو نازو نعم سے پال رہا ہے جو اس کے چمنستان کے شگفتہ پھولوں کو مسل کر رکھ دیں گے۔ وہ دین جو دین فطرت ہے، جو ہر قیمت پر عدل وانصاف کا ترازو برابر رکھنے کا مدعی ہے اس سے ایسی بےجا بلکہ نازیبا ناز برادری کی توقع عبث ہے۔
 

ہمارے ہاں بھی کچھ لنڈے کے انگریز جو خود کو لبرل کہلواتے ہیں اس سزا کے خلاف ہیں۔ نام نہاد "انسانی حقوق " کی تنظیموں اور بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کئی سال سے رکا ہوا تھا ۔ اور اس وقت پاکستانی جیلوں میں دہشتگری کے الزام میں سزا یافتہ 500 افراد سمیت قریباآٹھ ہزار افراد ایسے ہیں جنھیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
 

حالیہ واقعہ کے بعد جب حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا تو سب ایک بار پھر اپنی اپنی ڈفلی لے کر پہنچ چکے ہیں۔ الطاف حسیں کہتے ہیں کہ سزا صرف دہشتگردوں کو دی جائے اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والے دہشتگرد تو ہرگز نہیں، بوری بند لاشیں پیک کرنے والے بھی دہشت گرد نہیں ۔ الطاف بھائی پر خود بھی کئی قاتل اور اقدام قتل کے مقدمات ہیں، وہ بھی دہشتگرد نہیں اس لیے اسے سزا نہ دی جائے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دوسری نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لنڈے کے انگریز بھی میدان میں آ چکے ہیں اس سزا کے خلاف۔
 

عجیب منطق ہے ان "انسانی حقوق" کی تنظیموں کی بھی، ایک مجرم کو سزا دینے سے تو ان کے مطابق انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں جبکہ بغیر کسی کا جرم ثابت کیے اس پر ڈرون اور میزائل مار کر اسے، اسکے گھر والوں کو ،اس کے بچوں کو، اسکے محلے اور پڑوس والوں سب کو مار دینے سے "انسانی حقوق "بالکل محفوظ رہتے ہیں۔کبھی آپ نے کسی "انسانی حقوق" کی لبرل تنظیم کو ڈرون حملوں کے خلاف بولتے نہیں دیکھا ہو گا۔
 

یہ تنظیمیں کسی طاقتور ملک کو بغیر کسی کا جرم ثابت کیے کسی ایک شخص کی "تلاش" میں کسی غریب ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے، اس پر قالینی بمباری کرنے اور لاکھوں افراد کو قتل کرنے ، بچوں عورتوں اور بزرگوں کو وحشیانہ بمباری کر کے ان کے چیتھڑے اڑانے کی تو اجازت دیتی ہے لیکن کسی قاتل کو عدالتی کاروائی کے بعد جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کی اجازت نہیں دیتی۔
 

قرآن کہہ رہا ہے کہ "تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ۔"
 

اے اہل عقل اگر امن چاہتے ہو تو بلا تفریق تمام مجرموں کو سزا دو۔ چاہے وہ دہشتگردی کے جرم میں ہو، ٹارگٹ کلنگ میں یا ذاتی دشمنی کی بنا پر ۔ چاہے وہ ایم کیو ایم کے ہوں چاہے اے این پی کے یا چاہے فوجی۔چاہے الطاف بھائی ہو یا مشرف ۔ تمام مجرموں کو جب تک بلا تفریق سزا نہیں دی جاتی، امن محال ہے کیونکہ قصاص میں زندگی ہے۔

قصاص میں زندگی ہے۔

18 اگست، 2014

کھلا چیلنج


دنیا کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھیں اس کے مقدمے میں صاحب کتاب نے قارئین سے کتاب میں ممکنہ غلطیوں کوتاہیوں اور سہو پر پیشگی معافی مانگی ہے سوائے ایک کتاب کے جس کے شروع میں ہی اس کے مصنف کا فرمان ہے کہ:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں"

اور پھر کتاب میں بار بار چیلنج ہے کہ اگر غلطی ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈ کر دکھاؤ، اور اس چیلنج کو دیے چودہ صدیوں سے زائد کاعرصہ بیت چکا ہے۔
 

 أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے

سورة النساء 82 

 

7 جولائی، 2014

ایسی نازک آزمائش کہ انسانی قوت ادراک میں بھی نہ آسکے



 غزوہ بدر میں حضرت ابو عبیدہ ؓبے وخوف خطر دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ آپ کے اس جرأت مندانہ اقدام سے دشمنوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ آپ میدان جنگ میں اس طرح بپھرے ہوئے چکر لگا رہے تھے جیسے موت کا کوئی ڈر ہی نہ ہو۔ آپ کا یہ انداز دیکھ کر قریش کے شہسوار گھبرا گئے۔ جونہی آپ رضی اللہ تعالیٰ ان کے سامنے آتے تو وہ خوفزدہ ہو جاتے۔ لیکن ان میں صرف ایک شخص ایسا تھا، جو آپ کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوتا تھا، لیکن آپؓ اس سے پہلو تہی اختیارکرتے اوراس کے ساتھ مقابلہ کرنے سے اجتناب کرتے۔ وہ شخص بھی آپؓ سے مقابلہ کرنے کے لیے بار بار آتا رہا لیکن آپؓ نے بھی اس سے پہلو تہی اختیارکرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔
بالآخر اس شخص نے جناب ابوعبیدہ ؓکے لیے تمام راستے بندکردئیے حتی کہ وہ آپؓ کے اور دشمنان اسلام کے مابین حائل ہوگیا لیکن آپؓ نے دیکھا کہ اب اس سے مقابلے سے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا تو اس کے سر پر تلوار کا ایسا زور دار وار کیا جس سے اس کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے ہوگئے اور وہ آپؓ کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا۔

بلاشبہ میدان میں حضرت ابوعبیدہؓ کو پیش آنے والی یہ آزمائش حساب دانوں کے حساب بھی ماوراء تھی اور ایسی نازک کہ انسانی قوت ادراک میں بھی نہ آسکے ۔جب آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ یہ لاش تو جناب ابوعبیدہ ؓ کے والدعبداللہ بن جراح کی تھی تو آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے ۔

دراصل حضرت ابوعبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل نہیں کیا، بلکہ انہوں نے میدان بدرمیں اپنے باپ کے ہیولے کی شکل میں شرک کو نیست و نابود کر دیا۔ آپؓ کا یہ اقدام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ آپکی شان میں درج ذیل آیات نازل کردیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ:
جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان (پتھر پر لکیر کی طرح) تحریر کر دیا ہے اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے۔ اور وہ ان کو بہشتوں میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں جا داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ خدا سے خوش۔ یہی گروہ خدا کا لشکر ہے (اور) سن لکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنیوالا ہے ۔
(المجادلہ:22)

(طبقات ابن سعد)




islami tareekh k sunehray waqiaat
islamic history, urdu, annokha muqabla, khuda ka lashkar, ghawa badar,
hazrat Abu Ubaida Bin jarah (RA),

16 جون، 2014

حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ

 حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میرے پاس، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کی بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:
اے رب ! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھوجائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہاں تک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سوگئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔ یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گرگئی۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سابن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلادیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔
موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے وہی جگہ تم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔

وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسیٰ ہوں۔
انہوں نے پوچھا بنی اسرائیل کا موسیٰ؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں
حضرت خضر نے فرمایا اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔
حضرت خضر نے فرمایا آپ صبر نہیں کرسکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کرسکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
حضرت خضر نے فرمایا اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے
 
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھالیا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ بول پڑھے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ ! کیا میں تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے حضرت موسیٰ نے فرمایا جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤ اخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔
پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔
راوی کہتے ہیں کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔


پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے  تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔
میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔
اور حضرت خضر علیہ السلام حضرت موسیٰ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلما کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے خزانہ تھا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری چاہت تھی کہ موسیٰ علیہ السلام (اللہ ان پر رحمت کرے) کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔
پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنا اس چڑیا نے دریا سے۔

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1921
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1662
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1664
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1094

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 یہ واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے:


ترجمہ:
  اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں
جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا
 
جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے
 
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
 
(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے
 
(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا
 
موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں
 
(خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے
 
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو
 
(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا
 
(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں
 
تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی

(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے
 
(موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی
 
(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے
 
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)

خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں

(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
 
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
 
تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو
 
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

سورة الكهف: آیات:  60-83
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags: surah al Kahf
Hazrat mosa (a.s), Musa, hazrat Khizar , Quran ,hadith, hadees, Sahi Bukhari muslim, Jamih Tiramazi, Prophet, Allah , Islam
waqia, story ,urdu ,traveling , boat, kid ,killed, patience, ,knowledge,