ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

20 جنوری، 2014

حضرت سعد الاسودؓ کی شادی


حضرت سعد الاسودؓ کا اصل نام تو سعد تھا لیکن ان کی غیر معمولی سیاہ رنگت کی وجہ سے لوگ ان کو ’’سعد الاسود‘‘ یا ’’اسود‘‘ کہا کرتے تھے۔ حضرت سعد الاسودؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن کوئی شخص میری بدصورتی کے سبب مجھ کو رشتہ دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ میں نے بہت سے لوگوں کو پیام دیے لیکن سب نے رد کر دیے۔ ان میں سے کچھ یہاں موجود ہیں اور کچھ غیر حاضر ہیں۔‘‘ رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اس سیاہ فام شخص کو اللہ تعالیٰ نے نورانی جبلت عطا کی ہے اور جوشِ ایمان اور اخلاص فی الدین کے اعتبار سے اس کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت تھے، بیکسوں اور حاجت مندوں کے ملجا و ماویٰ تھے۔ اپنے ایک جاں نثار کی بیکسانہ درخواست سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رحیمی نے گوارا نہ کیا کہ لوگ اس کو محض اس وجہ سے ٹھکرائیں کہ وہ ظاہری حسن و جمال سے محروم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سعد گھبرائو نہیں، میں خود تمہاری شادی کا بندوبست کرتا ہوں، تم اسی وقت عمروؓ بن وہب ثقفی کے گھر جائو اور سلام کے بعد ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی بیٹی کا رشتہ میرے ساتھ کر دیا ہے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن کر حضرت سعد الاسودؓ شاداں و فرحاں حضرت عمروؓ بن وہب کے گھر کی طرف چل دیئے۔ 

حضرت عمروؓ بن وہب ثقفی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ابھی ان کے مزاج میں زمانۂ جاہلیت کی درشتی موجود تھی۔ حضرت سعدؓ نے ان کے گھر پہنچ کر انہیں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مطلع کیا تو ان کو بڑی حیرت ہوئی کہ میری ماہ پیکر ذہین و فطین لڑکی کی شادی ایسے کریہہ منظر شخص سے کیسے ہو سکتی ہے! انہوں نے سوچے سمجھے بغیر حضرت سعدؓ کا پیام رد کر دیا اور بڑی سختی کے ساتھ انہیں واپس جانے کے لیے کہا۔
سعادت مند لڑکی نے حضرت سعدؓ اور اپنے باپ کی گفتگو سن لی تھی، جونہی حضرت سعدؓ واپس جانے کے لیے مڑے وہ لپک کر دروازے پر آئی اور آواز دی: ’’اللہ کے بندے واپس آئو، اگر واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں بھیجا ہے تو میں بخوشی تمہارے ساتھ شادی کے لیے تیار ہوں، جس بات سے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہیں میں بھی اس پر راضی ہوں۔‘‘

اس اثناء میں حضرت سعدؓ آگے بڑھ چکے تھے، معلوم نہیں انہوں نے لڑکی کی بات سنی یا نہیں، بہرصورت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کر دیا۔ اُدھر ان کے جانے کے بعد نیک بخت لڑکی نے اپنے والد سے کہا:
’’
ابا قبل اس کے کہ اللہ آپ کو رسوا کرے آپ اپنی نجات کی کوشش کیجیے۔ آپ نے بڑا غضب کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پروا نہ کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ کے ساتھ درشت سلوک کیا۔‘‘

عمروؓ بن وہب نے لڑکی کی بات سنی تو اپنے انکار پر سخت پشیمان ہوئے اور ڈرتے ہوئے بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ’’تم ہی نے میرے بھیجے ہوئے آدمی کو لوٹایا تھا۔‘‘

عمروؓ بن وہب نے عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک میں نے اس آدمی کو لوٹایا تھا لیکن یہ غلطی لاعلمی میں سرزد ہوئی۔ میں اس شخص سے واقف نہ تھا، اس لیے اس کی بات کا اعتبار نہ کیا اور اس کا پیام نامنظور کر دیا، خدا کے لیے مجھے معاف فرما دیجیے۔ مجھے اپنی لڑکی کی شادی اس شخص سے بسرو چشم منظور ہے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمروؓ بن وہب کا عذر قبول فرمایا اور حضرت سعد الاسودؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’سعد میں نے تمہارا عقد بنت ِ عمرو بن وہب سے کر دیا۔ اب تم اپنی بیوی کے پاس جائو۔‘‘

رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن کر حضرت سعدؓ کو بے حد مسرت ہوئی، بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اٹھ کر سیدھے بازار گئے اور ارادہ کیا کہ نوبیاہتا بیوی کے لیے کچھ تحائف خریدیں۔ ابھی کوئی چیز نہیں خریدی تھی کہ ان کے کانوں میں ایک منادی کی آواز پڑی جو پکار رہا تھا: ’’اے اللہ کے شہسوارو، جہاد کے لیے سوار ہو جائو اور جنت کی بشارت لو۔‘‘ سعدؓ نوجوان تھے۔ نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ دل میں ہزار امنگیں اور ارمان تھے۔ بار ہا مایوس ہونے کے بعد شادی کا مژدہ فردوس گوش ہوا تھا، لیکن منادی کی آواز سن کر تمام جذبات پر جوشِ ایمانی غالب آگیا اور نوعروس کے لیے تحائف خریدنے کا خیال دل سے یکسر کافور ہوگیا، جو رقم اس مقصد کے لیے ساتھ لائے تھے، اس سے گھوڑا، تلوار اور نیزہ خریدا اور سر پر عمامہ باندھ کر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں غزوہ پر جانے والے مجاہدین میں جا شامل ہوئے۔ اس سے پہلے نہ ان کے پاس گھوڑا تھا، نہ نیزہ و تلوار، اور نہ انہوں نے کبھی عمامہ اس طرح باندھا تھا، اس لیے کسی کو معلوم نہ ہوا کہ یہ سعدالاسودؓ ہیں۔ میدان جہاد میں پہنچ کر سعدؓ ایسے جوش و شجاعت کے ساتھ لڑے کہ بڑے بڑے بہادروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایک موقع پر گھوڑا اَڑ گیا تو اس کی پشت پر سے کود پڑے اور آستینیں چڑھاکر پیادہ پا ہی لڑنا شروع کردیا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھوں کی سیاہی دیکھ کر شناخت کرلیا اور آواز دی ’’سعد‘‘۔ لیکن سعدؓ اُس وقت دنیا و مافیہا سے بے خبر اس جوش و وارفتگی کے ساتھ لڑرہے تھے کہ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کی بھی خبر نہ ہوئی۔ اسی طرح دادِ شجاعت دیتے ہوئے جُرعۂ شہادت نوش کیا اور عروسِ نو کے بجائے حورانِ جنت کی آغوش میں پہنچ گئے۔ 

رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعدالاسودؓ کی شہادت کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی لاش کے پاس تشریف لائے، ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر دعائے مغفرت کی اور پھر فرمایا:
’’
میں نے سعدؓ کا عقد عمرو بن وہب کی لڑکی سے کر دیا تھا، اس لیے اس کے متروکہ سامان کی مالک وہی لڑکی ہے۔ سعدؓ کے ہتھیار اور گھوڑا اسی کے پاس پہنچا دو اور اس کے ماں باپ سے جا کر کہہ دوکہ اب خدا نے تمہاری لڑکی سے بہتر لڑکی سعد کو عطا کر دی، اور اس کی شادی جنت میں ہو گئی۔‘‘

قبول اسلام کے بعد حضرت سعد الاسودؓ نے اس دنیائے فانی میں بہت کم عرصہ قیام کیا، لیکن اس مختصر مدت میں انہوں نے اپنے جوشِ ایمان اور اخلاصِ عمل کے جو نقوش صفحۂ تاریخ پر ثبت کیے وہ امت ِ مسلمہ کے لیے تاابد مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔

ابن الاثیر(اسد الغابہ:1/668)
أَخرجه أَبوموسى.(2/418)







Subscribe to Get new Posts in Email

1 comments: