ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

22 ستمبر، 2012

سنو للکارنے والو ! کسے للکارتے ہوتم ؟





سنو للکارنے والو !
کسے للکارتے ہوتم ؟!
یہ کس پہ وار کرتے ہو!!
کہ ہاہاکار کرتے ہو
مگر یہ بھول جاتے ہو
یہ کس سے جنگ چھیڑی ہے۔۔۔
کسے تسخیر کرنے کی ادھوری کوششوں میں تم مگر مصروف رہتے ہو
چمن پہ قہر ڈھاتے ہو ، گُلوں کو روند دیتے ہو
ستم کی فصل بوتے ہو!
امام الانبیاءؐ کے تم کبھی خاکے بناتے ہو
کبھی افکار کو انؐ کے ، نشانے پر سجاتے ہو
مگر یہ جانتے ہو کیا!؟

سگ ِآ وارگاں کی جب بری آوازگونجے تو
مسلماں جاگ جاتے ہیں!
فصیلیں ٹوٹ جاتی ہیں!
قلعے تسخیر ہوتے ہیں!
ستم کی فصل بوتے وقت ہمیشہ سوچ لینا تم
مری تاریخ کہتی ہے
کہ جب یہ فصل اگتی ہے نہایت تلخ ہوتی ہے
یہ اپنے ہاریوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے!
سنو للکارنے والو! نہایت غور سے سن لو !
میرے آقاؐ کے بارے میں زبانیں زہر جب اگلیں
تو انؐ کے چاہنے والے سروں کو کاٹ دیتے ہیں

شاعر: عدیل احمد عدیل

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں