ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

جنوری 12, 2015

ہوئے تم دوست جس کے - اوریا مقبول جان


 مسلم امہ کی چودہ سو سالہ تاریخ میں دینی مدرسے کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے 1781 میں کلکتہ مدرسہ کھول کر پیدا کیا۔ اس سے قبل بغداد کے دارالحکومت سے شروع ہونے والی مدارس کی تحریک جو 1100 سے 1500 تک طلیطلہ کے تراجم کی انتھک کوششوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا بھر کے علوم کی قائد بنی، اس کے زیر اثر قائم ہونے والے تمام مدارس علم میں کوئی تحصیص نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سید الانبیاء ﷺ کی حدیث کے مصداق علم مومن کا گمشدہ مال تھا۔
اس امت کے تمام مدارس میں قرآن و سنت اور فقہ کے علاوہ جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں علم طب، علم الادویہ، علم ریاضی، علم طبیعات، علم فلکیات، فلکیاتی جدول، امراض عین، علم المناظر، علم کیمیا، علم فلسفہ، علم تاریخ، علم موسیقی اور دیگر کئی علوم شامل تھے۔ اس تصور کو برصغیر کے مسلم مدارس نے بھی انگریز کی آمد تک قائم رکھا ۔ مدرسہ رحیمیہ اور مدرسہ فرنگی محل کے نصاب ان ھی علوم پر مبنی تھے۔ یہی تعلیمی ادارے تھے جس سے علم حاصل کر کے لوگ طبیب بنتے تھے اور گاؤں گاؤں جا کر حکمت اور طب کا پیشہ اختیار کرتے تھے۔
آج بھی ان گھرانوں میں علم طب اور علم الادویہ کی کتابوں کے وہ نسخے مل جائیں گے جو ان مدرسوں میں پڑھائے جاتے تھے۔ ان ہی تعلیمی اداروں سے استاد پیدا ہوتے اور ہر گاؤں میں اتالیق مقرر ہوتے تھے۔ ایک ایسا غیر رسمی تعلیمی نظام پورے برصغیر پر رائج تھا جس کے نتیجے میں اس خطے میں شرح خواندگی 95 فیصد سے زیادہ تھی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل G.W.Leitner جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب Indiginous Education in Punjab اس بات کی گواہی ہے کہ مغلیہ دور میں ہر گاؤں کی سطح تک بنیادی تعلیم کا تصور کس قدر مستحکم تھا۔
شرح خواندگی یہ نہیں تھی کہ اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتا ہو بلکہ ہر پڑھے لکھے شخص کو فارسی پڑھنا، لکھنا آتی تھی، حساب کتاب پر دسترس تھی اور اسے قرآن یا وید پڑھنا آتی تھی۔ یہ سب اساتذہ جو گاؤں گاؤں پھیلے ہوئے تھے ان ھی مدارس سے پڑھ کر نکلے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1906ء کے تمام اضلاع کے گزٹیر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ضلعوں میں عمومی شرح خواندگی 90 فیصد کے لگ بھگ نظر آئے گی۔ یہی حال 1911ء کی مردم شماری کی رپورٹ کا ہے۔ یہ تعلیم اور خواندگی کا جال ان ھی مدارس سے فارغ التحصیل افراد نے پھیلایا تھا۔
پورے برصغیر میں جو سول سروس تھی جس میں مالیہ وصول کرنے والے، زمین کی پیمائش کرنے والے جریب کش، کوتوال، عدالتوں کے قاضی، خزانے کے متولی، عمارتیں تعمیر کرنے والے انجینئر جنھوں نے تاج محل اور شالیمار جیسے شاہکار تخلیق کیے، یہ سب کے سب ان ھی مدارس سے علم حاصل کر کے ان عہدوں تک پہنچتے تھے۔ ایک مربوط تعلیمی نظام کے بغیر یہ لوگ آسمان سے نازل نہیں ہوتے تھے۔ اس دور میں برصغیر میں آنے والے ہر سیاح نے صرف اور صرف ایک چیزکی بے حد تعریف کی ہے اور وہ تھی اس خطے میں عام آدمی کی زندگی میں علم اور ادب کے علاوہ فلسفہ اور سیاسی امور کی اہمیت۔ 1643ء میں جو کتاب یورپ میں چھپ کر عام ہوئی وہ سر تھامس رو کا سفرنامہ تھا۔
اس کا ایک نسخہ پنجاب آرکائیوز میں موجود ہے جس کی ورق گردانی آپ کو بتا دے گی کہ پورے ہندوستان میں ان تعلیمی اداروں کا کیسا جال بچھا ہوا تھا۔ صرف ٹھٹھہ جیسے دور دراز علاقے میں چار سو کالج قائم تھے۔ البتہ فرق ایک تھا اور وہ یہ کہ آج کے دور کی طرح امتحانات کے ذریعے پاس کرنے اور ڈگری دینے کا رواج نہ تھا۔ وہاں استاد اپنے شاگردوں کو روز پرکھتا تھا اور پھر ایک دن اعلان فرما دیتا تھا کہ اب میرا یہ شاگرد علم میں طاق ہو گیا ہے۔ چند بڑے بڑے سوالات یاد کر کے امتحان دے کر ڈگری حاصل نہیں کی جاتی تھی۔
1781 میں کلکتہ مدرسہ قائم کرنے سے پہلے انگریز نے اس علاقے میں 1757سے مسلمانوں کے تمام تعلیمی اداروں پر پابندی لگا دی۔ اب وارن ہیسٹنگز نے اس ،،دینی مدرسے،، کی بنیاد رکھی جسے صرف اور صرف دینی تعلیم کے لیے مختص کیا گیا۔ اس مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ کو اسی طرح کی ذمے داریوں کا درس دیا گیا جیسا یورپ میں تحریک احیائے علوم کے بعد چرچ کے پادریوں کو دیا جاتا ہے یعنی پیدا ہونے پر بپتسمہ دے دو، شادی پر جوڑے کو قانونی حیثیت دے دو، مرنے کے بعد رسومات ادا کر دو اور اتوار کی عبادت کی قیادت کرلو۔
یہ چار ذمے داریاں بالکل اسی نوعیت کے حساب سے برصغیر کے علماء کو سونپ دی گئیں اور مسلمانوں کے قدیم مدارس کی طرز پر عیسائی مشنری اسکول کھولے گئے۔ 1810 میں کلکتہ میں پہلا مشینری اسکول کھلا جس کے نصاب میں بائبل کی اخلاقیات ،،Biblical Ethics،، اور عیسائی تعلیم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا اور تمام سرکاری نوکریوں کے لیے انگریزی لازم قرار دے دی گئی۔ پورے ملک کے تمام تعلیمی اداروں سے قرآن و سنت خارج کر دیا گیا اور اسے اسلامیات کے ایک اختیاری مضمون کی حیثیت دے دی گئی کہ جو کوئی اس کو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔
تعلیم صرف اسکول اور کالج تک محدود ہو گئی اور اس کے بعد کے نوے سالوں میں وہ زوال آیا کہ 1947 میں انگریز جب برصغیر کو چھوڑ کر گیا تو شرح خواندگی 14 فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ اس دور زوال میں مسلمان مدارس نے وہ ذمے داری بخوشی قبول کر لی جو انگریز نے دی تھی اور ایک ایسی کھیپ تیار کرنا شروع کر دی جو کم از کم قرآن و سنت کے علم کو محفوظ رکھیں اور اسے کونے کونے تک پہنچائیں۔ مغربی تعلیم کی یلغار اور انگریز حکومت کے مقابلے میں اپنے دینی علم کا تحفظ ان مدارس کا بنیادی مقصد بن گیا اور جس لگن اور ایمانداری سے انھوں نے یہ فریضہ نبھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
بلوچستان کے قمر دین کاریزیا بسیمہ جیسے دور افتادہ گاؤں ہوں، سندھ میں مٹھی اور ڈیپلو کے ریگستان ہوں، پنجاب میں بھکر، راجن پور یا میانوالی کا بے سرو سامان قصبہ ہو یا سرحد کی بلند چوٹی پر آباد کوئی بستی۔ پانی، بجلی، سیوریج، تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات سے بے نیاز ان مدارس کا پڑھا ہوا ایک شخص صبح منہ اندھیرے مسجد کا دروازہ کھولتا ہے، صفیں درست کرتا ہے، چبوترے پر اذان دیتا ہے اور ان میں پانچ وقت نماز پڑھاتا ہے۔ اکثر جگہ اس کی گزر بسر صرف اور صرف لوگوں کے گھروں سے کھانا یا شادی اور موت کی رسومات پر نذرانے کے سوا کسی اور چیز پر منحصر نہیں ہوتی۔
پورے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ لوگ جو دانستہ یا نادانستہ طور پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام کو زندہ رہنے کی واحد علامت ہیں۔ یہ اگر موجود نہ ہوں تو لوگ اذان دینے اور نماز پڑھانے والے کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ انھوں نے یہ ذمے داری گزشتہ دو سو سال سے اس طرح نبھائی ہے کہ آج تک کسی مسجد کے دروازے پر تالہ نہیں لگا کہ مولوی ہڑتال پر ہے۔ کبھی کوئی نماز لیٹ نہیں ہوئی۔
یہ ہیں وہ لوگ جواس ملک کے کوچے کوچے اور قریے قریے میں موجود ہیں۔ جہاں سرکار کا نام و نشان نہیں وہاں بھی موجود ہیں۔ کسی گاؤں میں چلے جائیں آپ کو سرکار کا اسپتال ویران نظر آئے گا، وہاں کا اسکول بے آباد ہو گا، نہ ڈاکٹر کا کہیں پتہ چلے گا اور نہ ہی استاد کا لیکن وہاں ایک ہی آباد اور روشن مقام ہوگا اور وہ اللہ کا گھر جس کی رکھوالی ایک مفلوک الحال درویش مولوی کر رہا ہوتا ہے۔
اس مولوی سے دشمنی کی اور کوئی وجہ نہیں، بس صرف ایک ہے کہ یہ اللہ کے نام کا دانستہ یا نادانستہ طور پر نمائندہ بن چکا ہے اور اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ لیکن جب بھی میرے ملک کے ،،عظیم،، دانشوروں کو موقع ہاتھ آتا ہے وہ ان مدارس کو سرکاری کنٹرول میں کرنے کا نعرہ بلند کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا ہے اس کے بعد کیا ہو گا۔ وہی جو تمام اداروں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
مولویوں کا تنخواہیں بڑھانے کے لیے اور دیگر مراعات کے لیے احتجاج شروع ہو گا، دھرنے، مساجد پر تالے اور درس و تدریس کا خاتمہ۔ وہی حال جو ہم نے اپنے باقی تمام محکموں کا کیا ہے۔ مجھے اپنے ان عظیم دانشوروں کی یہ منطق اچھی لگتی ہے کہ تمام مدارس کو سائنسی اور جدید علوم پڑھانے چاہئیں تا کہ روحانی اور مادی ترقی ساتھ ساتھ ہو لیکن کیا یہ منطق کالجوں یونیورسٹیوں اور اے لیول وغیرہ پر لاگو نہیں ہوتی کہ انھیں بھی قرآن و حدیث پڑھایا جائے تا کہ معاشرہ میں ایک ہی طرح کا نظام تعلیم اور ایک طرح کے انسان جنم لیں۔
ان اداروں میں تو جو تھوڑا بہت اسلام موجود ہے، یہ لوگ اس کو بھی نکالنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اصل مقصد صرف یہ ہے کہ تعلیم سے اللہ اور اس کے رسول کو دیس نکالا دے دو۔ اسے امن کی شرط کہا جا رہا ہے۔ یورپ نے 1900 تک دین کو تعلیم سے نکال دیا تھا۔ کیا وہاں امن آ گیا؟ اس کے بعد اس نے دو عالمی جنگیں لڑیں اور کروڑوں انسانوں کا خون بہایا۔ شاید تاریخ کسی کو یاد نہیں یا وہ یاد کرنا نہیں چاہتا۔

2 comments: