ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

اپریل 5, 2013

عافیہ کی دلدوز چیخیں اور بہرے لوگ




 





عافیہ کی دلدوز چیخیں اور بہرے لوگ


الیکشن کمیشن کے جانب سے دو دن کے توسیع کے بعد انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا مرحلہ تو مکمل ہو چکا ہے۔اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے نامزدگی کے فارم میں تبدیلیاں کیں جن کے تحت امیدواروں کو نئے اور تفصیلی فارم بھرنا پڑے۔فارم میں تبدیلیوں کا مقصد آئین کے آرٹیکلز باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق صادق اور امین نمائندوں کے انتخاب کو یقینی بنانا ہے۔ گویاسارے ملک میں اب انتخابات کی تیاریاں عروج پرہیں اور امیدواروں کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں پرویزمشرف کانام بھی شامل ہے جونہ صرف امین وصادق ہونے کابھرپوردعویٰ کرتے ہیں بلکہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے ایک مرتبہ پھر’’ملک بچانے‘‘ کانعرہ لگاکرپاکستان لوٹے ہیں۔ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے اپنے تمام مقدمات میں قبل ازگرفتاری ضمانت حاصل کرلی ہے لیکن صد حیف لال مسجداورسینکڑوں مسلمانوں کواغیارکے حوالے کرنے کاکوئی مقدمہ سرے سے موجودہی نہیں۔
لیکن مجھے آج کیوں پھر بگرام ائیر بیس سے ۰۵۶ نمبر قیدی خاتون کی دلدوزچیخیں بے چین کررہی ہیں جوان دنوں قصر فرعون کی قیدمیں ہے ۔جس کواب ہمارے عالی مرتبت حکمران اورمنبرومحراب کے وارث شائد بھول چکے ہیں۔سوچتاہوں مفتیان کرام کہاں ہیں؟الرشید ٹرسٹ کے محافظین کہاں ہیں؟جامعہ بنوریہ کے علمائے کرام کو کیا ہوا؟ مظلو موں کی آہ و بکا پر پہنچنے والے جما عتہ الد عوہ کے مخلصین کہاں چلے گئے ہیں؟پنجاب حکومت کے پرانے وظیفہ خور کہاں ہیں؟ کیا انبیاء کے وارث کہلا نے والے علمائے کرام کے کانوں میں اب سماعت کی طاقت نہیں رہی؟ان کو چھوڑئیے ذرا مذہبی سیاسی جماعتوں کو آواز د یجئے۔کہاں ہیں سارے مذہبی رہنما…؟؟کیا حکمرانوں کی آنکھوں میں کبھی نمی اترتی ہے؟کیا بختاور اور آصفہ کے باپ کو کسی اور بیٹی کی یہ چیخیں سنائی دیتی ہیں؟کیا حکمرانوں کو نیند آگئی ہے؟سیاست دان غافل سورہے ہیں؟کیا دانشوری سورج مکھی کا پھول ہو گئی؟کیا اس قوم کے سارے بیٹے کھیت ہوئے؟کیا ہم واقعی ہی قوم ہیں جس کے بارے میں امریکی اٹارنی جنرل نے کہا تھاکہ پا کستانی چند ٹکوں کی خاطر اپنی ما ؤں کو فروخت کر دیتے ہیں!
بگرام ائیر بیس کی قیدی نمبر ۰۵۶ صرف اپنے تین بچوں کی ما ں ہی نہیں بلکہ اس قوم کی ماں ‘بہن اور بیٹی بھی توتھی۔میں اس کانام یادلادوں کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جودس سال قبل کراچی سے ا چا نک ا چک لی گئی ۔پانچ سال تک کوئی نہیں جا نتا تھا کہ اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ پھرا طلاع آئی کہ وہ اپنے بچوں سے محروم کر دی گئی ہے۔اس کی گود میں پلنے والا چند ماہ کا بچہ ما ر دیا گیا اور اسے نا معلوم عقوبت خانوں ‘قید خانوں‘تہہ خانوں اور بوچڑ خانوں سے گزار کر اس حال میں بگرام جیل پہنچا دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو نہیں پہنچانتی تھی، اس کے حواس خمسہ اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے اور وہ زمانے کی نظروں میں ایک پاگل وجود قرارپائی۔وہ روتی نہیں صرف چیختی تھی، اس کی چیخیں سننے والے قیامت کی آہٹ سنتے اور سو نہیں پاتے تھے۔لیکن سوال یہ ا ٹھتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو فراموش کر گئی، اپنے آپ سے منہا ہو گئی ،اپنے حواس کھو بیٹھی، اپنے وجود میں آپ تحلیل ہو گئی تو پھر وہ چیختی کیوں تھی؟اس کی آواز میں بلا کا کرب کیوں تھا؟ بگرام جیل کے درودیوار پر یہ لکھی ہوئی ندامت کیسی تھی؟ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دردناک چیخیں تمام عافیت خانوں کو دہلا کیوں دیتی تھی؟شاید اس لئے کہ پاگل عورت بھی اپنے بچوں کو بھلا نہیں پا تی۔شاعر نے کس کرب سے کہا ہے کہ
خدا نے یہ صفت دنیا کی ہر عورت کو بخشی ہے
کہ وہ پاگل بھی ہو جائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں
شائدآج تک کوئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کرب کا اندازہ نہیں کر سکا ۔اقوام متحدہ خاموش ہے اور خواتین پر تشدد کے خلاف قائم تمام بین الاقوامی تنظیمیں گویا موت کی آغوش میں چلی گئیں ہیں کہ ان کو بھیجی جا نے والی ایک بھی یادداشت پر ان تنظیموں نے کوئی بیداری کی انگڑائی لی اور نہ دکھ سے کوئی جھر جھری لی۔ابتدائی رپورٹ میں یہ تسلیم کیاگیا کہ وہ بگرام جیل کی واحد خاتون قیدی تھی جہاں بے پناہ تشدد سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی ا پنا ذہنی توازن کھوبیٹھیں،ستم با لائے ستم یہ کہ ا نہیں نہانے اور دیگر ضروریات کیلئے مردانہ غسل خانہ استعمال کر نا پڑتا جہاں پردے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔رپورٹ کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ جیل عملے کی طرف سے اسے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایاگیا جس کے باعث اس کا کرب انگاروں سے زیادہ تیز اور شدید ہوگیا‘‘ ۔اب تواس کی آبرو تھکی ہوئی اذانوں سے بوجھل اور گردوپیش کی تما شائی تنہائیوں سے زخمی کرچی کرچی ہوچکی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بگرام جیل میں سب سے پہلے دریافت کرنے والی ایک با ضمیر بر طانوی صحافی ایوان رڈلے نے میرے پوچھنے پربرملاکہا تھاکہ’’ وہ ایک بھوت کی مانند لگتی ہے جس کی شناخت دھندلا چکی ہے اور اس کی چیخیں لوگوں کا تعاقب کرتی رہتی ہیں‘‘۔بگرام جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے شب و روز ایک ایسے ظلم کا روز نشانہ بنے جیسے دیہاتی گنے کی پور وں سے رس چوستے ہیں یا بے درد ،بے حس اور شقی القلب حکمران اپنی رعیت کی بیٹیوں کا لہو چاٹتے ہیں۔اب توڈاکٹر عافیہ صدیقی کی آنکھوں کا کا جل ہمارے قلب کی سیاہی اور اس کی دردناک چیخیں ہماری بے ضمیری کی پیداوار بن چکی ہیں۔اس کی پیٹھ پر لگے گھاؤ ہمارے گناہوں کی دستاویز بن چکے ہیں،اس کے شب و روز ….روز آخرت کیلئے ہما را نامہ عمال ہے اوراس کا وجود تا قیامت انسا نیت کیلئے ایک سوال بنا رہے گا۔اس کے گرد گونجنے والی تکبیریں،بکھر نے والے سجدے اور بلند ہونے والی اذانیں اپنی حقیقت کھو بیٹھی ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تحلیل ہو تا ہوا وجود ہم سے سوال کرتا ہے کہ وہ اب پاکستانی اخبارات اور جرائد کا موضوع کیوں نہیں‘وہ ٹیلیویژن کی جگمگاتی ہوئی اسکرینوں پر مسکراتے چہروں کے ساتھ نمودار ہونے والے میز با نوں کیلئے سوال اٹھانے کا سبب کیوں نہیں؟ کیوں اخبارات و جرائد خاموش اور ٹیلیویژن کی اسکر ینیں گونگی اور بہری ہو گئیں ہیں؟کیا پاکستان میں ایک بھی ایسا فرد نہیں جس کو کانوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دردناک چیخیں اور دلدوز نالے پہنچیں؟وہ حوا کی بیٹی ہے ،اگر آپ اس مقدمے پر اپنی ر وشن خیال اعتدال پسندی کو قربان نہیں کرنا چاہتے تو یشودھا کی ہم جنس اور رادھا کی بیٹی خیال کیجئے۔اس کیلئے آواز بلند کیجئے ۔ اہل قلم نہیں جا نتے کہ اگرفکر کی صالحیت سو جائے تو اظہار کی جا معیت کجلا جا تی ہے۔پھر حرف مستحق ہوتے ہیں کہ بے حرمت ہوں ،دھتکارے جائیں اور پا مال ہوں ۔فقرے آوارہ قہقہے بن جا تے ہیں اور یوں ہر روز پیلے صفحات پر کالی سیاہی سے چھپنے والے سفیدجھوٹ سے دل اوبھنے لگتاہے۔
مگر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے اس قوم سے کیا شکوہ کروں جس نے اپنے محسنوں کے کفن کے تار بیچے ہیں۔جس نے ام کلثوم کے منہ پر طمانچے مارے ہیں‘جس نے حیدر کرار کے خیموں کی طنا بیں کاٹ ڈالیں ،حضرت مجدد الف ثانی کو گوالیار کے قلعے میں قید کیا،شاہ ولی اللہ کے ساتھ ہما را سلوک تا ریخ کے صفحات پر آج تک شرمندگی کی فصل اگاتا ہے۔شاہ عبدالعزیز کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا؟حضرت سید احمد شہید اور شاہ اسمٰعیل شہید با لا کوٹ میں مسلما نوں کی غداری سے شہید ہوئے۔تا ریخ پاکستان کا تذکرہ مولا نا محمد علی جوہر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا مگر جب وہ بیمار ہوئے تو کوئی مسلمان نواب یا رئیس نہیں،ان کی مدد کو ریاست الور کا ہندو مہا راجہ آیا تھا۔ہندو ستان میں برطا نوی غلا می کے خلاف قربانی و ایثار کی روح پھونکنے والے مولا نا ظفر علی خان بیماریوں میں اس طرح جئے کہ ادویات کیلئے پیسے نہیں تھے اور جب ان کا انتقال ہوا تو چھٹا آدمی نہیں تھا۔بگرام جیل میں چیخنے والی اوراب امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی اگر ہماری تاریخ کی فر یا د سن سکے تو اسے کچھ قرار آجائے۔ہم مسلمان تاریخی طور پر کچھ ایسے ہی واقع ہوئے ہیں ۔خدا فراموش ،خود فراموش اور اب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فروخت کر نے والا تا زہ بے ضمیرانتخابات میں حصہ لینے کیلئے پھرسے میدان میں کودپڑاہے۔
مسلمان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ جو مرضی سلوک کریں مگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا وجود شہنشاہ عالم قصر سفید میں مقیم فرعون کے آستانہ جبروت پر ایک مقدمہ بن کر ہمیشہ موجود رہے گا۔کیا یہ مقدمہ شہنشاہ عالم قصر سفید میں مقیم فرعون کی فرمانروائی کو جھکا دے گا؟کیا یہ مغربی طاقتوں اور امریکہ کی لونڈی اقوام متحدہ کے ماتھے پر کلنک کا سوالیہ نشان ثبت کرے گا؟کیا یہ عالم انسانیت میں کوئی بیداری پیدا کرے گا؟کیاپاکستانی قوم اس آمرکوعبرت کانشان بناکراپنے دامن کے تمام سیاہ دھبوں کودھونے کی سعی کرے گی ؟؟؟
منصفوں کی نظر دیکھتی رہ گئی
زندگی! تیرے قاتل بری ہو گئے




0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں