ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

اکتوبر 19, 2012

حاضر جواب لکڑہارہ



ایک دفعہ ایک لکڑہارےکی  کلہاڑی جنگل  میں ایک  دریا میں گر جاتی ہے ۔۔۔  بیچارہ اسے تلاش کر کے تھک جاتا ہے مگر  کلہاڑی اسے مل ہی نہیں پاتی ۔ ۔ ۔ آخر کار پریشان   ہو کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ جاتا ہے کہ اچانک سے ایک جن اس کے سامنے نمودار ہوتا ہے اور پوچھتا ہے کہ تو کیوں پریشان ہے۔۔۔
لکڑہارہ  اپنی پریشانی اس کو بتا دیتا ہے ۔  جن  اس کی داستان سن کر ( امتحان کے طور پر ) اس کے سامنے چاندی کی کلہاڑی پیش کرتا ہے اور  اس سے کہتا ہے کہ کیا یہ تمہاری کلہاڑی ہے ۔ لکڑہارہ  نا میں جواب دیتا ہے  ۔ ۔ ۔ اس  کے بعد جن سونے کی   ۔ ایک سونے کی کلہاڑی پیش کرتا ہے اور  کہتا ہے کہ کیا یہ تمہاری کلہاڑی ہے ۔ لکڑہارہ   پھر نا میں جواب دیتا ہے  ۔ ۔ ۔  جن ' اب کی بار  لکڑہارے کی اصل کلہاڑی  ( لوہے کی) ۔ ۔ پیش کرتا ہے اور   اور لکڑ ہارہ اسے لے لیتا ہے ۔
جن  لکڑہارے کی اس ایمانداری سے متاثر ہوکر  سونے اور چاندی کی دونوں کلہاڑیا ں بھی اس لکڑہارے کو انعام میں دے دیتا ہے ۔ ۔ اور لکڑہارہ  خوشی خوشی  اپنے گھر   واپس آ جاتا ہے ۔

چند دنوں کے بعد  وہی لکڑہارہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس اسی جنگل میں چلا جاتا ہے اور اتفاقا" اس مرتبہ اس کی بیوی دریا میں گر جاتی ہے  اور ڈوب جاتی ہے۔  پھر لکڑہارہ  تھک ہار کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ جاتا ہے اور وہی جن پھر اس کے سامنےحاضر ہو جاتا ہے اور لکڑہارہ اس کو اپنی کہانی سناتا ہے ۔۔۔۔۔
اب کی بار جن اس کے سامنے ایک خوبصورت دوشیزہ  حاضر کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا یہی تمہاری بیوی ہے  ۔
لکڑہارہ  اس خوبصورت دوشیزہ کو دیکھ کر فورا" جواب دیتا ہے کہ ہاں ۔ ۔  یہی میری بیوی ہے ۔ ۔
جن  کو لکڑہارے کی اس بے ایمانی پر بہت غصہ آتا ہے  اور وہ کہتا ہے کہ اس جھوٹ و بے ایمانی کی سزا تم کو ضرور ملنی چاہیے۔۔۔۔
لکڑہارہ ۔۔ جن کو غصے میں دیکھ کر  عرض کرتا ہے کہ پہلے میری بات سنو ۔ ۔ ۔
کہ ہاں میں نے بے ایمانی کی اور میں نے جھوٹ بولا ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اگر میں اس خوبصورت  دوشیزہ کے جواب میں  " نا " کہتا تو تم اور ایک دوشیزہ لے کر آتے ۔ ۔
میں پھر " نا " کہتا ۔ ۔ ۔ تم پھر میں اصل بیوی کو  حاضر کرتے ۔۔۔۔۔ اب کی بار میں " ہاں " میں جواب دیتا اور تم  میری  ایمانداری سے متاثر ہو کر تینوں کو (میری بیوی اور  دونوں لڑکیوں) کو میرے حوالے کرتے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  " مگر میں غریب آدمی ہوں   ۔ ۔ ۔ اس مہنگائی کے زمانے میں میں تین تین بیویوں کو نہیں سنبھال سکتا ۔ ۔ ۔ اس لئے میں نے پہلی بار ہی  "ہاں " کہہ دیا  ۔ ۔ ۔ 

لکڑہارے کا جواب سن کر جن  بھی لاجواب ہو گیا اور اس سے کہا کہ بھائ ۔ ۔ جا تو اسی دوشیزہ کو لے جا  ۔ ۔ ۔ ۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں