ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

جولائی 19, 2011

کیا میں چور ہوں؟

کیا میں چور ہوں؟




ایک سوڈانی ڈاکٹر کہتا ہے کہ وہ میڈیکل کی ایک سپیشلائزیشن کے پہلے پارٹ کے امتحان کے سلسلہ میں ڈبلن گیا۔۔ اس امتحان کیلئے فیس ۳۰۹ پاؤنڈ تھی۔ مناسب کھلے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اُس نے متعلقہ ادارے میں ۳۱۰ پاؤنڈ ادا کیئے، بھاگ دوڑ اور رش کے باعث باقی کے پیسے لینا یاد نہ رہے، امتحان دے کر واپس اپنے ملک چلا گیا۔ واپسی کے کُچھ عرصے بعد اُسے سوڈان میں ایک خط موصول ہوا، خط کے ساتھ ایک پاؤنڈ کا چیک منسلک تھا اور ساتھ ہی وضاحت بھی کی گئی تھی کہ اُسے ایک پاؤنڈ کا یہ چیک کس سلسلے میں بھیجا گیا تھا۔۔

سچی بات تو یہ ہے کہ اس قصے نے مُجھے اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ یاد دلا دیا ہے۔۔ سن ۱۹۶۸ کا ذکر ہے جب میں نے انگلینڈ بیڈفورڈ کمپنی کے خرطوم میں ایجنٹ سے ایک لاری مبلغ ۲۴۰۰ سوڈانی پاؤنڈ میں خریدی۔ اب میں جو کُچھ آپ کو بتانے جا جا رہا ہوں اُس پر زیادہ حیران نہ ہوں، یہ اُن اچھے دنوں کا واقعہ ہے جب انسانی اقدار مادیت پر حاوی ہوا کرتی تھیں،،، لاری خریدنے کے کوئی چار یا چھ مہینے کے بعد مُجھے اُس ایجنٹ سے ایک لیٹر موصول ہوا جس میں درج تھا کہ انگلینڈ بیڈفورڈ کمپنی نہایت ہی شرمندگی کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ لاری کی پیداواری لاگت اور بیچنے کی قیمت میں حسابی غلطی ہو گئی تھی۔ اصولا ہمیں ۲۳۷۰ پاؤنڈ لینا چاہیئے تھے مگر ہم نے ۲۴۰۰ پاؤنڈ وصول کر لیئے ہیں۔ ساتھ ہی مُجھے کہا گیا تھا کہ میں اُن سے رابطہ کروں تاکہ وہ مُجھے ۳۰ پاؤنڈ لوٹا سکیں۔
ان ۳۰ پاؤنڈ کے ملنے پر مُجھے اس قدر خوشی ہو رہی تھی جو اس بناء پر نہیں تھی کہ مُجھےغیر متوقع طور پر ۳۰ پاؤنڈ کی آمدنی ہونے جا رہی تھی۔ اور نہ ہی ۳۰ پاؤنڈ میرے لئے کوئی ایسی بڑی رقم تھی جس سے میرے دن پھرنے جا رہے تھے۔ مُجھے خوشی اس عالی القدر اخلاق، ا مانت کی اس نادر مثال اور انسانی اقدار کی اس عظیم حفاظت پر ہو رہی تھی جس سے برطانوی قوم بہرہ ور تھی۔
 

جبکہ میں اپنے ہی آس پاس، اپنے ہم مذہب اور ہم جنس کاروباری لوگوں، تاجروں، دُکانداروں اور حتیٰ کہ جن پیشوں سے مُنسلک لوگوں کو عملی اخلاق و کردار اور اعلیٰ معاملات کے نمونہ ہونا چاہیئں اُنکی خیانت، بد دیانتی، غلط ترین معاملہ، بد اخلاقی اور کم ظرفی کو دیکھتا ہوں تو غم اور غصہ کے مارے رو پڑتا ہوں۔ سخت رو، درشت اور احساس سے عاری لوگ جو اپنے ہی ہموطنوں سے امانت و صداقت سے دور رہ کر برتاؤ کرتے ہیں۔ دوسروں کے حقوق غصب کر لینا یا قومی سرمایہ کو باطل طریقوں سے لوٹنا تو بعد کی بعد ہے، عوام الناس کو کس طرح لوٹا جائے کے طریقوں پر اس طرح سوچا اور غور کیا جاتا ہے جس طرح کہ گویا یہی انکی عاقبت کو سنوارنے والا معاملہ ہو۔ مذہب کی تعلیمات کی تو کُچھ پرواہ ہی نہیں رہی، دونوں ہاتھوں سے پیسہ لوٹنے کو نصب العین بنا لیا گیا ہے۔
 
معاف کیجیئے میں موضوع سے ہٹ کر غصہ کی رو میں بہہ گیا ہوں کیوں کہ اب جو بات مُجھے غصہ دلا رہی ہے وہ مُجھے ۱۹۷۸ کا وہ یاد آنے والا واقعہ ہے جب میں پہلی بار سیر و تفریح کیلئے لندن گیا۔ اُس وقت لندن جانے کا تصور میرے لئے بہت ہی فرحت بخش اور میرا مقصد وہاں کی ہر تفریح اور سیر و سیاحت والی جگہ سے لطف اندوز ہونا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اس سفر کو اپنے لئے یادگار بنانے کیلئے گیا تھا۔
 
میں نے لندن میں بادنگٹن کے علاقے میں رہائش رکھی ہوئی تھی۔ آمدورفت کیلئے روزانہ زیر زمین ٹرین استعمال کرتا تھا۔ میں جس اسٹیشن سے سوار ہوتا تھا وہاں پر ایک عمر رسیدہ عورت کے سٹال سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ اُسکے سٹال پر ٹھہر کر اُس سے چند باتیں کرنا میرا معمول تھا اور ساتھ ہی میں روزانہ اُس سے ایک چاکلیٹ بھی خرید کر کھایا کرتا تھا جس کی قیمت ۱۸ پنس ہوا کرتی تھی۔ چاکلیٹ کے یہ بار قیمت کی آویزاں تختی کے ساتھ ایک شیلف پر ترتیب سے رکھے ہوا کرتے تھا۔ گاہک قیمت دیکھ کر اپنی پسند کا خود فیصلہ کر کے خرید لیتے تھے۔
حسب معمول ایک دن وہاں سے گُزرتے ہوئے میں اس عورت کے سٹال پر ٹھہرا اور اپنا پسندیدہ چاکلیٹ بار لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آج وہ چاکلیٹ دو مختلف شیلف میں رکھے ہوئے تھے۔ ایک شیلف میں رکھے ہوئے کی قیمت حسبِ معمول ۱۸ پنس ہی تھی مگر دوسرے شیلف میں رکھے ہوئے کی قیمت ۲۰ پنس لکھی ہوئی تھی۔
 
میں نے حیرت کے ساتھ اُس عورت سے پوچھا؛ کیا یہ چاکلیٹ مختلف اقسام کی ہیں؟ تو اُس نے مختصرا کہا نہیں بالکل وہی ہیں۔ اچھا تو دونوں کے وزن میں اختلاف ہو گا؟ نہیں دونوں کے وزن ایک بھی جیسے ہیں۔ تو پھر یقینایہ دونوں مختلف فیکٹریوں کے بنے ہوئے ہونگے؟ نہیں دونوں ایک ہی فیکٹری کے بنے ہوئے ہیں۔
میری حیرت دیدنی تھی اور میں حقیقت جاننا چاہتا تھ، اسلیئے میں نے اس بار تفصیل سے سوال کر ڈالا؛ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک شیلف میں رکھے ہوئے چاکلیٹ کی قیمت ۱۸ پنس ہے جبکہ دوسرے شیلف میں رکھے ہوؤں کی قیمت ۲۰ پنس! ایسا کیوں ہے؟
 
اس بار اُس عورت نے بھی مُجھے پوری صورتحال بتانے کی غرض سے تفصیلی جواب دیتے ہوئے ہوئے کہا کہ آجکل نائجیریا میں جہاں سے کاکاؤ آتا ہے کُچھ مسائل چل رہے ہیں جس سے وجہ سے چاکلیٹ کی قیمتوں میں ناگہانی طور پر اضافہ ہو گیا ہے۔
میں نے یہاں عورت کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ مادام، آپ سے بیس پنس کی چاکلیٹ کون خریدے گا جبکہ وہی اٹھارہ پنس کی بھی موجود ہے؟ عورت نے کہا؛ میں جانتی ہوں ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا۔ مگر جیسے ہی پُرانی قیمت والے چاکلیٹ ختم ہوں گے لوگ خود بخود نئی قیمتوں والے خریدنے لگیں گے۔
اپنی فطرت اور ماحول پروردہ خوبیوں کے ساتھ، روانی میں کہیئے یا اپنی عادتوں سے مجبور، میں نے کہا؛ مادام، آپ دونوں چاکلیٹ ایک ہی خانے میں رکھ کر بیس پنس والی نئی قیمت پر کیوں نہیں بیچ لیتیں؟
میری بات سُننا تھی کہ عورت کے تیور بدلے، چہرے پر موت جیسی پیلاہٹ مگر آنکھوں میں خوف اور غصے کی ملی جُلی کیفیت کے ساتھ لرزتی ہوئی آواز میں مُجھ سے بولی؛ کیا تو چور ہے؟

اب آپ خود ہی سوچ کر بتائیے کیا میں چور ہوں؟ یا وہ عورت جاہل اور پاگل تھی؟ اور شاید عقل و سمجھ سے نا بلد، گھاس چرنے والی حیوان عورت!
اچھا میں مان لیتا ہوں کہ میں چور ہوں تو یہ سب کون ہیں جو غلہ اور اجناس خریدتے ہی اس وجہ سے ہیں کہ کل مہنگی ہونے پر بیچیں گے۔
کس جہنم میں ڈالنے کیلئے پیاز خرید کر رکھے جاتے ہیں جو مہنگے ہونے پر پھر نکال کر بیچتے ہیں۔
اُن لوگوں کیلئے تو میں کوئی ایک حرف بھی نہیں لکھنا چاہتا جن کی چینی گوداموں میں پڑے پڑے ہی مہنگی ہوجاتی ہے۔ نہ ہی مُجھے اُن لوگوں پر کوئی غصہ ہے جو قیمت بڑھاتے وقت تو نہیں دیکھتے کہ پہلی قیمت والا کتنا سٹاک پڑا ہے مگر قیمتیں کم ہونے پر ضرور سوچتے ہیں کہ پہلے مہنگے والا تو ختم کر لیں پھر سستا کریں گے۔

کیا ہمارے تجار نہیں جانتے کہ مخلوق خدا کو غلہ و اجناس کی ضرورت ہو اور وہ خرید کر اس نیت سے اپنے پاس روک رکھیں کہ جب او ر زیادہ گرانی ہو گی تو اسے بیچیں گے یہ احتکار کہلاتا ہے۔ روزِ محشر شفاعت کے طلبگار شافعیِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کاغلہ کے احتکار اور ذخیرہ اندوزی پر کیا فرمان اور کیا وعید ہے کو تو نہیں سُننا چاہتے کیونکہ وہ فی الحال اپنی توندوں اور تجوریوں کو جہنم کی آگ سے بھرنے میں جو لگے ہوئے ہیں۔


مُجھے کسی پر غصہ اور کسی سے کوئی ناراضگی نہیں، میں تو اُس جاہل عورت پر ناراض ہوں جس نے محض میرے مشورے پر مُجھے چور کا خطاب دیدیا۔ اچھا ہے جو وہ برطانیہ میں رہتی تھی، ادھر آتی تو حیرت سے دیکھتی اور سوچتی کہ وہ کس کس کو  چور کہے! اور اُسے کیا پتہ کہ وہ جسے بھی چور کہنا چاہے گی وہ چور نہیں بلکہ ہمارے سید، پیر، مخدوم، شیخ، حکام اور ہمارے راہنما ہیں۔
جاہل کہیں کی!


مزید حفاظت کے لئے ایک عدد سیکیورٹی گارڈ کی ضرورت ھے، جو 25 گھنٹے چاق و چو بند ڈیوٹی انجام دے سکے ۔ پرکشش تنخوہ کے علاوہ مراعات بھی۔ انرجی سیور کی فل پروف سیکیورٹی کے لئے آج ھی رابطہ کریں۔

 
 
Special Thanks to Muhammad Saleem Shanto for translating this


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں