ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

جنوری 6, 2012

sopore massacre




سوپور کے قتل عام کی 19 ویں برسی

سرینگر سے 48کلومیٹر کے فاصلے پر سوپور میں 6 جنوری 1993ء کے دن بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ لوگوں کے قتل عام اور ان کے مکانات اور دکانوں کو جلا کر خاکستر کرنے کی برسی منائی گئی۔ اس دن بھارتی فوجیوں کی گولیوں سے کم ازکم ساٹھ بے گناہ کشمیری شہید ہوئے جبکہ سینکڑوں مکانات، دکانیں اور کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادوں کو جلا کر خاک کر دیا گیا۔ فوجیوں نے یہ کارروائی اپنے ایک ساتھی کے زخمی ہونے اور اسکی رائفل چھن جانے کیخلاف انتقام لینے کیلئے کی۔

اس خونی واقعہ کے 19 سال گزرنے کے بعد بھی لوگ 6 جنوری 1993ء کو پیش آنیوالے قتل عام اور تباہ کاریوں کو نہیں بھول سکے۔ اس دن سوپور کی مارکیٹوں کو نوے منٹ کے اندر جلا کر زمین بوس کر دیا گیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی مدت میں ہزاروں دکانوں اور مکانات کو آگ لگا کر تباہ کرنے کے علاوہ کم ازکم ساٹھ افراد جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے شہید کر دیئے گئے جن میں سے کئی بھارتی فوجیوں نے زندہ جلا دیئے۔ اس واقعے کے ایک عینی شاہد محمد رمضان نے بتایا کہ لوگ جو جلتے ہوئے مکانوں اور دکانوں میں پھنسے ہوئے تھے مدد کیلئے چیخ وپکار کر رہے تھے لیکن کوئی بھی ان کی مدد کیلئے نہیں پہنچ رہا تھااور نہ ہی سول حکام اور پولیس نے انہیں بچانے کی کوشش کی۔ بھارتی فوجیوں نے یہ قتل عام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا۔ جب فوجیوں نے چاروں طرف سے فائرنگ شروع کر دی تو لوگ پناہ لینے کیلئے دکانوں میں گھس گئے لیکن فوجیوں نے دکانوں کو آگ لگا دی جس سے کئی افراد زندہ جل گئے۔ ایک خاتون نے اپنے بچے کیساتھ ایک دکان میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن فوجیوں نے اسکا بچہ اس سے چھین کر آگ میں پھینک دیا اور بعد ازاں اسے بھی گولی مار کر شہید کر دیا۔ ایک اور عینی شاہد غلام رسول نے بتایا کہ فوجیوں نے ایک مسافر بس کو روک کر اس میں سوار تمام مسافروں کو ہلاک کر دیا۔ علاقے کے لوگ تین دن تک جلے ہوئے مکانات اور دکانوں کے ملبے سے لاشیں نکالتے رہے۔ اس واقعے کیخلاف کئی دن تک زبردست مظاہرے کئے گئے لیکن مجرموں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کئی گئی۔


January 6, : In occupied Kashmir, massacre in Sopore town 19 years back, when the apple town witnessed the worst incident of arson at the hands of troopers of Border Security Forces leading to death of at least 57 people, a dozen of them roasted alive, besides reducing 350 shops and residential houses to rubble and ashes on 6 January, 1993.

The ‘Time’ magazine had titled the news report (on January 18, 1993) “Blood tide rising: Indian forces carry out one of the worst massacres in Kashmir’s history.” The publication described the massacre, and the protests that ensued thus: “Perhaps there is a special corner in hell reserved for troopers who fire their weapons indiscriminately into a crowd of unarmed civilians. That, at least, must have been the hope of every resident who defied an army-enforced curfew in the Kashmiri town of Sopore to protest a massacre that left 55 people dead and scores injured.”

The memories of the bloodiest of the massacres carried against the civilian population in Valley remains fresh in hearts and minds of the people particularly denizens of the apple town even after eighteen years.

The local residents regard the incident as one of the worst massacres in the history of Kashmir.

“I cannot forget that horrendous incident till I am alive; the troops were on rampage; I lost two relatives in the incident,” said Ali Muhammad, an eyewitness and survivor of the carnage. “I wonder can doomsday be worse,” he says.



(¯`v´¯) 
 `•.¸.•´`•.¸.¸¸.•*¨¨*•.¸¸❤`•.¸.¸¸.•*❤ ❤`•.¸.¸¸.•*❤ 
♥♥.....Join Us on facebook............. *• ♥♥♥♥♥♥ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں