ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

3 مارچ، 2014

’بے زبانی ہے زباں میری‘

قومی اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کی گئی ہے کہ قومی زبان اُردو کانفاذ آئندہ 15سال کے لیے مزید مؤخرکر دیا جائے۔ یہ قرارداد      ماروی میمن نے پیش کی ہے اور اس پر متعدد اراکین قومی اسمبلی کے دستخط ہیں۔23؍مارچ2014ء کو ہمارے موجودہ آئین کے نفاذ کو36 برس ہو جائیں گے۔مزید 15برس بعد اس آئین کی عمر51برس ہو جائے گی۔دستور 1973ء کی دفعہ251 کی شِق (1) میں کہا گیا ہے کہ: ’’پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اور یومِ آغاز کے پندرہ برس کے اندر اندر (یعنی 14؍ اگست 1988ء تک) اِس کو سرکاری اور دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کر لیے جائیں گے‘‘۔ دفعہ 251 کی شق (2) میں کہا گیا ہے کہ:’’شق (1) کے مطابق انگریزی زبان اُس وقت تک سرکاری اغراض ومقاصد کے لیے استعمال کی جاسکے گی جب تک کہ اس کے اُردو سے تبدیل کرنے کے لیے انتظامات نہ ہوجائیں‘‘۔

مگر تمام حکومتوں نے اب تک قومی زبان کے نفاذ کے دستوری تقاضوں کی تکمیل کے فرض سے مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ آئین کی دفعہ251کی رُو سے اس ملک کی سرکاری زبان اُردو ہوگی۔ مگر کب ہوگی؟ کیا آئین کی تشکیل کے نصف صدی بعد ہو جائے گی؟ ارے صاحب! ہمارے آئین پر عمل درامد کے ذمہ داران اِسے ہونے دیں گے تو ہوگی نا۔ طالبان تو خیر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے۔ اسی وجہ سے ہمارے ’آئین کو ماننے والے‘ لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن سے ہرگز ہرگز مذاکرات نہ کیے جائیں۔ ’آئین کو ماننے‘ کی کیا علامات ہوتی ہیں؟ یہ کوئی نہیں بتاتا۔ ہمارا آئین ملک کے مسلمان شہریوں کو شراب پینے کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر یہ خبر تقریباً ہر اخبار نے شایع کی ہے کہ ’پارلیمنٹ لاجز میں جمشید دستی کے کمرے کے باہر کوئی شراب کی بوتل چھوڑ گیا‘۔ جب کہ وزیر داخلہ سمیت بہت سے ارکانِ قومی اسمبلی کا اصرار ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں شراب کی بوتل جا ہی نہیں سکتی، ۳۲کیمرے لگے ہوئے ہیں، سخت پہرہ ہوتا ہے، ہر ایک کی چیکنگ کی جاتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔چلیے جمشید دستی کا تو بقول متعدد ارکانِ اسمبلی ’ذہنی توازن خراب ہے‘۔ مگر اُن کے کمرے کے باہر کس ’ذہین‘ شخص نے بوتل دھر دی؟

ہمارے پورے ملک کا نظام ’سودی کاروبار‘ پر استوار ہے۔ ’آئین کو تسلیم کرنے والے‘ دانشوروں میں سے کوئی ایک بھی ہمیں اپنا ہاتھ کھڑا کرکے یہ بتادے کہ ہمارے آئین کی کس دفعہ کے تحت سودی کاروبار آئینی ہے؟ اگر ایسی کوئی دفعہ موجود ہے جو سودی کاروبار کو ’حلال‘ ٹھہراتی ہو تو پھر ایک سوال اُن بزرگوں سے بھی کرنا پڑے گا جو کہتے ہیں کہ ’ہمارا آئین اسلامی ہے‘۔ اور بھی ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات کے نتیجہ میں یہ سوال اُٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے کہ ’آئین کو تسلیم کرنے کی کیا علامات ہوتی ہیں؟‘

آنے والے یومِ آزادی پر ہماری آزادی کو67برس ہوجائیں گے۔مگراب تک ہماری سرکاری زبان بھی ہمارے سابق استعماری آقاؤں کی زبان یعنی انگریزی زبان ہے اور ہمارے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم کی زبان بھی انگریزی زبان ہے۔نتیجہ یہ کہ ہمارے کالم کی زبان بہت سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ہمارے اکثر و بیشتر طالب علموں کو اُردو پڑھائی ہی نہیں جاتی۔یہ الگ بات کہ ہمارے ’تعلیم یافتگان‘ میں انگریزی زبان کی استعداد بھی بڑھتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ لطیفے ہی سنائی دیتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں تک کی انگریزی پر اغیار سے پہلے اپنے ہی ہنس پڑتے ہیں۔ ہمارے نشریاتی اداروں پر جو زبان بولی جاتی ہے، کبھی یہ زبان مزاحیہ خاکوں، ڈراموں اوراُن میں پائے جانے والے مسخرے کرداروں کی زبان ہوتی تھی۔ ہم اپنے بچپن میں اِسکول سے چھٹی لینے کے لیے ایک مضحکہ خیز درخواست اس مسخری زبان میں پڑھ پڑھ کر خوب قہقہے لگایا کرتے تھے کہ:
رَین واز فالنگ چھمّا چھم
لیگ ہمارا پھسلا گر پڑے ہم
ہیڈ اینڈ بیک پہ چوٹ آئی دھم
اِس لیے فدوی کین ناٹ کم
اب اِسی زبان میں قومی مسائل پر ’ٹاک شو‘ ہوتا ہے۔
اب سے پندرہ برس بعد جب ہمارے ملک کی عمر تقریباً82 برس ہوجائے گی تو کیا اُس وقت اچانک ہمارے سرکاری اہل کار اور ہمارے طالب علم فرفر فرفر اُردو بولنے اور روانی کے ساتھ اُردو لکھنے کے قابل ہوجائیں گے؟ابتدائی جماعتوں ہی سے نہیں، ابتدائے بچپن کی عمر سے ہی انگریزی زبان میں تعلیم دینے کے جتنے فوائد بیان کیے جاتے ہیں، اُن میں سے کتنے فوائد ایسے ہیں جو پچھلے چھیاسٹھ، سڑسٹھ برسوں میں من حیث القوم ہم نے حاصل کیے؟ ترقی یافتہ ہی نہیں، ترقی پذیر اقوامِ عالم میں ہم کس زینہ ترقی پر جا کھڑے ہوئے؟ اِس وقت ہمارا شمارکس قسم کی اقوام میں ہوتا ہے؟ کوئی ایک فائدہ پہنچا ہو تو بتا ئیے۔ نیز اُن اقوام کو پہنچنے والے نقصانات کی فہرست بھی گِنوا دیجیے جنھوں نے اپنی زبان نہیں چھوڑی، انگریزی سے نابلد کے نابلد رہے، مثلاً جاپان، مثلاً کوریا، مثلاً چین اور مثلاً اسرائیل وغیرہ وغیرہ۔

ہمارا سب سے پہلا نقصان، جسے شاید آج کی ’بنیا ذہنیت‘ کوئی نقصان سمجھتی ہی نہ ہو، یہ ہوا کہ ہم اپنی ڈیڑھ ہزار برس کی دینی، تہذیبی، اخلاقی، ثقافتی اور تمدنی روایات نیز تاریخی سرمائے سے یکسر کٹ کر رہ گئے۔ہماری اخلاقی حالت وہ ہوگئی جس کی ایک جھلک جمشید دستی نے دستا دست دکھا دی ہے۔دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے بچے سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لی گئی۔ رٹنے کی صلاحیت میں وہ ’ماسٹر‘ ہوگیا۔ تیسرا نقصان یہ ہوا کہ اب ایک پوری نسل ہے، جسے اپنی کوئی چیز اچھی لگتی ہی نہیں۔حتیٰ کہ اپنا وطن بھی اچھا نہیں لگتا۔ ہر بچہ یہ سوچتا ہے کہ ۔۔۔ ’ہو جائیں گے جاکر کہیں پردیس میں نوکر‘۔۔۔ وہ ساری تعلیم ہی غیروں کی خدمت کے لیے حاصل کرتاہے، خواہ اپنے ملک میں حاصل کرے یا غیر ممالک میں۔ ہماری قوم غالباً دنیا کی واحد قوم ہوگی جس کے جوانوں کی اکثریت کسی اور ملک کی شہریت حاصل کرنے کی خواستگار رہتی ہے۔غیر ملکی سفارت خانوں اور ویزا آفسز کے باہر لگی ہوئی طویل قطاریں دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ آخر ملک کیوں خالی کرایا جارہا ہے؟غیر ملکی زبان میں دی جانے والی تعلیم ہماری نسلوں میں خدا کا خوف پیدا کر سکی، نہ قانون کا احترام نہ آخرت کی جواب دہی کا احساس۔اپنی کسی چیز سے اپنائیت بھی پیدا نہ ہوسکی۔قوم کے خزانوں کی لوٹ کھسوٹ ہو یا قومی املاک کی توڑ پھوڑ، پتھراؤ، آگ لگا دینا ،تباہ کردینا، یہ سب کچھ ہماری سڑکوں پر آئے دن ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ۔۔۔
’کسی کو رنجِ دلِ خانماں خراب نہیں
کسی کو خوف و غمِ پُرسش وحساب نہیں‘ 


 یعنی کسی کو ان چیزوں سے اپنائیت کا ذراسا بھی احساس نہیں ہوتا۔تعلیم اپنی ہوتی تو سب کچھ اپنا ہوتا۔ مشکل یہ ہے کہ ایک اُردو محاورے کے مطابق ۔۔۔ ’خدا گنجے کو ناخن نہیں دیتا‘۔۔۔ ناخن تدبیر!۔۔۔جب کہ ۔۔۔’جیسی روح ویسے فرشتے‘ ۔۔۔ کے مصداق خدا ہمیشہ ہمیں گنجے ہی دیتاہے۔ ’گنجے فرشتے‘۔اس قوم کی فلاح اور خوشحالی کے لیے جو تدابیر فطری ہیں وہ کوئی نہیں کرتا۔ کرنے کی سوچتا بھی نہیں۔لوگ تدابیر اور تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں اور شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ اربابِ اختیار اور اربابِ اقتدار کے کانوں پر تو کیا؟ سر پر بھی جوئیں نہیں رینگتیں۔ شاید ان شاکی لوگوں نے حکمرانوں کے سر نہیں دیکھے۔ جوؤں نے البتہ دیکھے ہیں اور وہ یہی عذر کرتی ہیں کہ ۔۔۔ ’لیگ ہمارا پھسلا، گرپڑے ہم‘ ۔۔۔حضور فیض گنجور! کبھی آپ نے سوچا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب غالبؔ کا یہ شعر رو، رو کر پڑھا جائے گا کہ:
 

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟

ابو نثر




0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں