ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

9 مارچ، 2012

آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں



آسکر ایوارڈ برائے تذلیل مسلماں 

پچھلے دو ہفتوں سے ہر طرف ایک  ہی شور سن رہے ہیں کہ ایک  پاکستانی عورت نے آسکر ایوارڈ جیت  کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا ہے، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آسکر ایوارڈ جیتنے پر شرمین عبید چنائے کو اس کارنامے کی وجہ سے سو ل ایوارڈ دینے کا کہا ہے، سارا میڈیا رٹے لگا رہا ہے  کہ یہ اعزاز ہمارے ملک و قوم کے لئے  ایک بہت ہی فخر کی بات ہے ،  اخبارات میں رنگین سپلیمنٹس شائع ہورہے ہیں ، میگزین اس کی تصویریں اپنے  فرنٹ پیج پر لگارہے کہ  اس عورت نے اپنی محنت سے پاکستان  کو ایک بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے.۔
ہم  انگشت بدنداں ہیں کہ یاالہی اس عورت نے  آخر ایسا کیا ہمالیائی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے جسکی اتنی تعریف کی جارہی ہے ؟ کیا  دنیا میں دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب  گرانے سے  بڑا ظلم عورتوں کے ساتھ کہیں نہیں ہوا  اورکیا  اس ظلم پر کوئی ڈاکومینڑی موجود نہیں۔۔؟ کیا اس موضوع پر  شرمین سے بڑا  کارنامہ کوئی  اور فلمساز آج تک نہیں سرانجام دے سکا؟
  ہمارے ناقص علم کے مطابق صرف امریکہ محکمہ انصا ف کی رپورٹ  ہے کہ  امریکہ میں ہر پانچ منٹ میں  ایک عورت کے ساتھ ریپ کی واردات ہوتی ہے، یورپ میں ہزاروں لڑکیاں ریپ کے بعد قتل کردی جاتیں ہیں، یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ  فلسطین میں اسرائیلی ، کشمیر میں انڈین ، عراق  اور  افغانستان  نیٹو فوجوں نے  عورتوں کے ساتھ کیا  سلوک کیا اور کررہے ہیں؟  امریکی حکومت نے پندرہ لاکھ سے ذیادہ عراقی اور افغانی معصوم شہریوں کے خون میں ہاتھ رنگے ،   افغانستان اور عراق  کی  ہزاروں  جوان لڑکیاں انہی یورپ ، امریکہ کے بازار حسن میں بک گئیں ،   بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے ان کی بہنوں کے ساتھ ریپ کیے گئے، بمباری سے   لاکھوں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم اور معذور   ہوگئے اور ہورہے ہیں، خود  اسی پاکستان میں ہزاروں بچے، عورتیں ،بوڑھے ڈرون حملوں میں جل کر راکھ ہوگئے ہیں ،  'انسانوں کا غم رکھنے والے ان منافقوں نے یہود  کے ایک ہولوکاسٹ کے واقعے پر کئی سو ڈاکو منٹریاں  تو بنا لیں  ان  پر کوئی فلم کیوں نہیں بنائی،  ویت نام پر امریکہ  نے  تاریخی مظالم  کیے  تھے اس پر کوئی ڈاکو مینٹری نہیں بنی۔ اس آسکرایوارڈ دینے والی تنظیم کی منافقت اور  تعصب سے خود انکے اپنے لوگ آگاہ ہیں   ۔یہی وجہ تھی کہ فلم دی گاڈ فادر  کے ہیرو مارلن برانڈو نے  اپنا آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا وہ جانتا تھا کہ یورپ اور امریکہ کے لوگوں نے  یہاں کے اصلی باشندوں ریڈ اندین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں    اور  ہالی وڈ کی فلمیں  الٹا انہی مظلوموں کو ظالم شو کررہی  ہیں۔ 
 ادارکار جارج سکاٹ  نے اپنی فلم پر یہ کہہ کر آسکر ایوارڈ لینے سے انکار کردیا کہ یہ انتہائی بدیانت تنظیم ہے۔دنیا کے کئی اہم موضوعات اور مظالم پر  کئی  حساس دل لوگوں نے  دستاویزی فلمیں بنائیں ہیں   ان کو آسکر ایوارڈ دینا تو دور کی بات ان کو فلموں کی لسٹ میں ہی نہیں رکھا جاتا۔خود شرمین کی فلموں پر نظرڈالیں تو  کئی فلمیں ایسی ہیں جن میں  انسانی کرائسز دو عورتوں کے چہرے پر تیزاب گرائے جانے کے واقعہ سے بھی ذیادہ شدید ہیں ۔  اسکی ایک فلم ‘ عراق دی لاسٹ جنریشن  ہے  جس  میں انہی  آسکر ایوارڈ دینے والوں کے ملک اور انکی   اتحادی فوجوں کے   محض عراق کے ذخائر  پر قبضہ کے لیے کئے گئے حملوں سے عراق میں آنے والے تباہی  اور ساری عوام خصوصا مہاجرین کی  افسوسناک حالت کو دکھایا گیا ہے  , شرمین نے تو اس  مغربی دہشت گردی پر ایک لفظ نہیں بولا بلکہ الٹا دفاع کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ فسادا ت کانتیجہ قرار دیا ۔ یہ چیز  دیکھنے والا اپنے طور پر  محسوس کرسکتا ہے کہ مغربی  اتحادی  فوجوں نے اس قدر درندگی کا مظاہر ہ کیا ہے  کہ نہتی عوام کو بھی نہیں بخشا ۔  ایک اور فلم جس کا نام ہائی وے آف ٹئیررز ہے۔ اس میں کینڈا  میں گمشدہ ہونے والی درجنوں عورتوں اور انکے گھرانوں کا تذکرہ ہے۔ آسکر ایوارڈ والوں کو دوپاکستانی مسلم عورتوں کے چہروں پر گرائےگئے   تیزاب  پر بننے والی ڈاکومینڑی اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے آسکر ایوارڈ کا حق دار سمجھ لیا،      انہیں  اسی ڈائریکٹر کی عراق میں بننے والی فلم نظر کیوں نہیں آرہی جس میں  انہی کی فوجوں کی بمباری سے بچوں  ، عورتوں،  بوڑھوں  کے صرف چہرے نہیں پورے پورے جسم  جلے  ،  مسخ  اور معذور  ہوئے دکھائی دیتے  ہیں    اور وہ  مہاجر کیمپوں میں سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہےجہاں سیونگ فیس کا نہیں سیونگ لائف کا مسئلہ ہے۔  ؟ اگر ان لوگوں کو دنیا کی عورتوں کا اتنا ہی احساس ہے تو یہ   کینیڈا میں  اغوا ہونے والی درجنوں عورتوں پر بننے والی ڈاکومینڑی کو کیوں اگنور کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ؟  دنیا میں مختلف انتہائی اہم ٹاپک پر ہزاروں فلمیں بن چکیں ہیں  ، آخر وہ فلمیں آسکر ایوارڈ کی حق دار کیوں نہیں ٹھہرتیں ۔ ۔ ؟ شرمین کی  اس سیونگ فیس  فلم سے پہلے 2002میں اس  کی فلم ٹیررز چلڈرن پر اسے  کئی بین الاقوامی ایوارڈ دیے گئے۔۔ 2003 میں اس کی دستاویزی فلم   ری انوینٹنگ  دی طالبان کو  چار مختلف بین الاقوامی ایوارڈز ملے ۔  2010  میں پاکستانی طالبان/ جنریشن  چلڈرن آف دی طالبان پر  اسے  ایمی ایوارڈ  دیا گیا ۔ ان تین فلموں  میں کیا دکھایا گیا ہوگا وہ ان کے نام سے ہی ظاہر  ہورہا ہے ۔ ۔ ۔؟ 
 آخر کیا وجہ ہے کہ ایوار ڈ کے لیے ہمیشہ  مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ فلمز  اور  مسلم معاشرے کے منفی پہلو کو اجاگر کرنے والی ڈاکومینڑی  ہی منتخب ہوتیں ہیں۔ ۔ ؟اسکا جواب یہی ہے  کہ یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کے کیے گئے  ان انسانیت کش کارناموں پر  بننے والی فلموں پر ایوارڈ   دے کر دنیا کے سامنے اپنے لوگوں کو ذلیل کیوں کروائیں  ۔ ۔ ؟ ان  فلسطین ، عراق، افغانستان میں  پر بننے والی فلموں  میں تو ان  مسیحاؤں کی اپنی فوجیں یہ  سب  کارنامے کررہی ہیں ۔ ۔۔ ؟  اس  سے تو  خود ان   انسانی حقوق کے عالمی چیمپئنوں کے چہروں سےخوشنما نقاب اتر جائیں گے ۔ ۔ ۔  ان منافقوں کی اپنی  حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ ۔ ۔  اس ایوارڈ کی ذیادہ حقدار تو  وہ فلمیں ہیں جن میں ظالم مسلمانوں کو شو کیا گیا ہے ۔  ۔ ۔ یہ   ایوارڈ تو  انہوں نے  مسلمانوں کے معاشرے کے منفی پہلو اجاگر کرنے والے اپنے پسندید ہ فلمسازوں کو دینا ہے   ، جیسے انہوں نے شرمین کی چند عورتوں کے تیزاب سے جلنے والی فلم پر ایوارڈ دیا، تاکہ دنیا کو پتا چلے کہ  انہیں مسلمان عورتوں کی کتنی  فکر ہے۔ ۔ ۔ ? وہ ظالموں کے خلاف اور  ان مظلوم عورتوں کے ساتھ ہیں۔ ۔ ۔  اس سے ان کے  چہرے پر شرمندگی بھی نہیں ہوگی  اور انہیں دنیا میں انسانوں کا خیر خواہ بھی کہا جائے گا۔ 
آسکر ایوار ڈ والوں کی  طرح کی یہی منافقت مغرب کے ہر شعبہ میں نظر آتی ہے۔   انکا میڈیا  اپنے  مسلمان ملکوں پر حملہ آور ظالم فوجیوں کو  مظلوم اور شہید ہونے والے معصوم مسلمانوں کو دہشت گرد اور ظالم بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ۔ ۔ انکے نيشنل چينل پر نشر ہونے والي  اسلام اور مسلمانوں كے متعلق ۸۵ فيصد خبريں مسلمانوں كے خلاف اور منفي ہوتي ہيں۔فلسطين و عراق ميں ناجائز قبضہ ، وحشيانہ حملوں اور مسلمانوں كے اپني سر زمين كے حق دفاع سے چشم پوشي كرتے ہوئے ، حملہ آور  دشمنوں كے مقابلہ میں مسلمانوں كي طرف سے ہونے والي مزاحمت كے مناظر كو دہشت گردی كے عنوان سے نشر كيا جاتا ہے
 غیر وں سے متعلق تو ہماری مذہبی کتابوں نے بھی پہلے سے  گواہی دے رکھی تھی  کہ یہ یہود ونصاری مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، ہماری  انسانی حقوق کی ملکی تنظیموں کا کردار بھی ان یہودیوں سے مختلف نہیں ہے، ہماری اس  نام نہاد معمار پاکستان، دخترپاکستان ، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ  عورت  شرمین  نے  تین  سے زائد فلمیں  طالبان کے حملوں اور انکے بچوں پر  تو بنا دیں ، جن  میں  دکھایا گیا ہے کہ اس نے  وہاں کےمہاجر کیمپوں  کے  دورے کیے ، وہاں کے بچوں سے انٹرویو لیے اور  ایک پلاننگ کے تحت مدارس کو خود کش حملہ آوروں کی ٹریننگ کے مراکز شو کیا  اور  طالبان کے حملوں سے چند تباہ شدہ سکولوں کی ویڈیو دکھائیں( ملکی اخبارات میں شایع شدہ رپورٹس کے مطابق کئی جگہوں پر ٹھیکیداروں نے خود سکول تباہ کروائے تاکہ بعد میں انہیں تعمیرات کیلئے ٹینڈر مل سکیں) ۔  اسکو  انہی علاقوں میں ڈرون اٹیک سے زخمی ہونے والے بچوں ، عورتوں کا انٹرویو کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا،  ڈرون حملوں سے تباہ شدہ گھروں کی ویڈیو بنانے سے اسے کس نے روکا۔ ہماری نظر میں ایک  مستند رپورٹ کے مطابق ان  ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والوں کی تعداد 2711 ہے۔ ہلاک شدگان میں سیکڑوں عورتیں ہیں اور 178 معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ ان  جل کر راکھ ہونے والے ان ہزاروں بچوں، عورتوں کے متعلق   اس عورت نے یا کسی اور نے کوئی فلم کیوں نہیں بنائی ۔ ?? یہاں ان  معماروں ، پاکستان کا درد رکھنے والوں کی زبانیں، قلم ، کیمرے کیوں رک جاتے ہیں ؟
جنگ کے معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب مغرب اور انکے پسند یدہ لوگوں  کی اسی مخصوص مکروہ ذہنیت اور کام کے طریقہ کار  کے  متعلق تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں  لکھتے ہیں۔
ایک تاثر تو یہ ہے کہ آسکر ہو یا کوئی اور عالمی اعزاز صرف اسی صورت میں کسی پاکستانی شخصیت، ادارے، تنظیم یا این جی او کا مقدر بنتا ہے جب زیر نظر فلم، تخلیق، کارنامے یا ادب پارے میں پاکستانی معاشرے کی کوئی گھناؤنی، متعفن اور نفرت انگیز تصویر پیش کی گئی ہو۔ یوں پاکستان کی کسی شخصیت ادارے، تنظیم یا این جی او کے سینے پر ایک تمغہ سجا کر بظاہر پاکستان کو شاباش دی جاتی ہے لیکن درحقیقت پاکستان کا تیزاب زدہ مسخ چہرہ ساری دنیا کو دکھا کر ، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان، درندوں کی کمین گاہ ہے جہاں اس نوع کے بھیانک جرائم معمولات حیات کا درجہ رکھتے ہیں۔ عزتیں بانٹنے والے یہ بڑے بڑے ادارے، کسی تخلیق کو جانچنے کی اپنی کسوٹی رکھتے ہیں۔ ان کے کچھ من پسند موضوعات اور پرکشش نعرے بھی ہیں۔ لازم ہے کہ تخلیق کا نفس مضمون ان موضوعات اور ان نعروں سے ہم آہنگ ہو اور اُن وسیع تر مقاصد کی آبیاری کرتا ہو جو اعزازت کے عالمی تقسیم کاروں کے پیش نظر ہوتے ہیں۔



انوکھا مقدمہ



سعودی عرب کے شہر قصیم کی شرعی عدالت نے اپنی تاریخ میں ایسا عجیب و غریب مقدمہ دیکھا جو کہ قصیم بلکہ پوری مملکت سعودی عرب میں نا ہی پہلے کبھی دیکھا یا سنا گیا تھا۔۔۔
ہم آئے دن خاندانی اختلافات، قطع رحمی اور عناد کی بھینٹ چڑھنے والے افسوس ناک واقعات اور دلوں کو لرزا دینے واقعات کی تفاصیل تو پڑھتے، سنتے اور دیکھتے ہی رہتے ہیں مگر صلہ رحمی کی بنیاد پر بننے والے اس مقدمہ کی تفاصیل سنیئے اور اس واقعہ کو کسوٹی بنا کر اپنے آپ کو یا اپنے گردو نواح میں وقوع پذیر حالات و واقعات کو پرکھیئے۔۔۔

اس شخص کا نام حیزان الفہیدی الحربی ہے۔ یہ بریدہ سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں (اسیاح) کا رہنے والا ہے۔ قصیم کی شرعی عدالت میں فیصلہ جیسے ہی اس کے خلاف گیا تو اس نے خود تو رو رو کر اپنی داڑھی کو آنسوؤں سے تر بتر کیا ہی، مگر اس کو دیکھنے والے والے لوگ بھی رو پڑے۔
آخر کس بات پر یہ زاروقطار رونا اور غش پڑ پڑ جانا؟ اولاد کی بے رخی؟ خاندانی زمین سے بے دخلی؟ حیزان کی بیوی نے اُس پرخلع کا دعویٰ کیا؟ نہیں، ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا تو پھر آخر کس بات کا رونا!! یہ قصہ تصوراتی نہیں بلکہ سچا اور حقیقت پر مبنی ہے جس کی تفاصیل سعودی عرب کے ایک بڑے اخبار (الریاض) کے سرورق پر چھپیں، مملکت کی کئی بڑی مساجد کے منابر سے آئمہ کرام نے اپنے خطابات میں اس واقعے کا ذکر کیا، سینکڑوں عربی ویب سائٹس اور فورمز پر لوگوں کی آنکھیں کھولنے والے اس واقعہ کی تلخیص آپ کیلے حاضر ہے۔

حیزان اپنی ماں کی بڑا بیٹا ہے، اکیلا ہونے کی وجہ سے سارا وقت اپنی ماں کی خدمت اور نگہداشت پر صرف کرتا تھا۔ حیزان کی ماں ایک بوڑھی اور لاچار عورت جس کی کل ملکیت پیتل کی ایک انگوٹھی، جسے بیچا جائے تو کوئی سو روپے بھی دینے پر نا آمادہ ہو۔
سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کہ ایک دن دوسرے شہر سے حیزان کے چھوٹے بھائی نے آکر مطالبہ کر ڈالا کہ میں ماں کو ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ شہر میں میرے خاندان کے ساتھ رہ سکے۔ حیزان کو اپنے چھوٹے بھائی کا اس طرح آکر ماں کو شہر لے جانے کا ارادہ بالکل پسند نا آیا، اس نے اپنے بھائی کو سختی سے منع کیا کہ وہ ایسا نہیں کرنے دے گا، ابھی بھی اس کے اندر اتنی ہمت ، سکت اور استطاعت ہے کہ وہ ماں کی مکمل دیکھ بھال اور خدمت کر سکتا ہے۔

دونوں بھائیوں کے درمیان تو تکار زیادہ بڑھی تو انہوں نے معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا گیا، مگر معاملہ عدالت میں جا کر بھی جوں کا توں ہی رہا، دونوں بھائی اپنے موقف سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے اور عدالت پیشیوں پر پیشیاں دیتی رہی تاکہ وہ دونوں کس حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ مگر یہ سب کچھ بے سود رہا۔

مقدمے کی طوالت سے تنگ آ کر قاضی نےآئندہ پیشی پر دونوں کو اپنی ماں کو ساتھ لے کر آنے کیلئے کہا تاکہ وہ اُن کی ماں سے ہی رائے لے سکے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا زیادہ پسند کرے گی؟
اگلی پیشی پر یہ دونوں بھائی اپنی ماں کو ساتھ لے کر آئے، اُنکی ماں کیا تھی محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ، بڑھیا کا وزن بیس کلو بھی نہیں بنتا تھا۔

قاضی نے بڑھیا سے پوچھا کہ کیا وہ جانتی ہے کہ اُس کے دونوں بیٹوں کے درمیان اُسکی خدمت اور نگہداشت کیلئے تنازع چل رہا ہے؟ دونوں چاہتے ہیں کہ وہ اُسے اپنے پاس رکھیں! ایسی صورتحال میں وہ کس کے پاس جا کر رہنا زیادہ پسند کرے گی؟

بڑھیا نے کہا، ہاں میں جانتی ہوں مگر میرے لیئے کسی ایک کے ساتھ جا کر رہنے کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر حیزان میری ایک آنکھ کی مانند ہے تو اسکا چھوٹا بھائی میری دوسری آنکھ ہے۔

قاضی صاحب نے معاملے کو ختم کرنے کی خاطر حیزان کے چھوٹے بھائ کی مادی اور مالی حالت کو نظر میں رکھتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ اُس کے حق میں کر دیا۔

جی ہاں، تو یہ وجہ تھی حیزان کے اس طرح ڈھاڑیں مار مار کر رونے کی۔ کتنے قیمتی تھے حیزان کے یہ آنسو! حسرت کے آنسو ، کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کرنے پر قادر کیوں نہیں مانا گیا؟ اتنا عمر رسیدہ ہونے کے باوجود بھی ماں کی خدمت کرنے کو سعادت حاصل کرنے کیلئے یہ جدوجہد؟ شاید بات حیزان کی نہیں، بات تو اُن والدین کی ہے جنہوں نے حیزان جیسے لوگوں کی تربیت کی اور اُنہیں برالوالدین کی اہمیت اور عظمت کا درس دیا۔

محمد سلیم




اور صلیب ٹوٹ گئی





عنوان: اور صلیب ٹوٹ گئی
زبان: اردو

مختصر بیان: اور صلیب ٹوٹ گئی:ریاس پٹیر سے عبداللہ بن کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے مرد مجاہد کی داستان حیات ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنے اسلام قبول کرنے کا پس منظر بیان کیا ہے اور اپنے تین سالہ تحقیقی دور کے حالات بھی بیان کیے ہیں۔ خاص طور پر اسلام کو سمجھنے کے لیے انہوں نے مختلف اسکالرز سے ملاقاتوں اورمختلف اسلامی ریسرچ سینٹرز کے دوروں پر مبنی جو رپورٹ تحریر کی ہے وہ بڑی سبق آموز بھی ہے اور دل آزار بھی جسے پڑھ کر ایک مسلمان کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے کہ مسلمان کس طرح طرح مختلف گروہوں میں بٹ چکے ہیں ہر ایک کا اپنا اسلام ہے جو دوسرے کے اسلام سے برعکس ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں بڑے اچھے اور مدلل انداز میں عیسائیت اور عیسائی مشنری کا پرد ہ بھی چاک کیا ہے کہ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے خود کس طرح مذہب کے نام پر عورت کا استحصال کر رہے ہیں۔ نہایت ہی مفید کتاب ہے ضرور مطالعہ کریں.
 






مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ مکمل جھوٹ





 29 جون 2002ءسے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بننے والے مقدمے کا فیصلہ بالآخر سپریم کورٹ نے بھی سنا دیا جس میں مقدمے کی مرکزی کردار مختاراں مائی کے تمام دعوﺅں کو جھوٹا قرار دے دیا گیا ہے اور ایک کے سوا تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ اس کیس کی حقیقت کیا ہے؟ مختاراں مائی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا اہل علاقہ کیا کہتے ہیں اور جائے وقوعہ کیا ہے؟ 
یہ تمام حالات جاننے کے لئے راقم الحروف نے مظفر گڑھ کے موضع میر والا کا خصوصی دورہ کیا اور ملزمان کے اہل خانہ، اہل علاقہ سے بات چیت کی اور مختاراں مائی کے مراکز کا دورہ کیا۔ دورے میں یہ بات بالکل کھل کر سامنے آ گئی کہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے فیصلے بالکل صحیح ہیں سوائے عبدالخالق کی عمر قید کے اور یہ کہ مختاراں مائی کے تمام دعوے مکمل جھوٹے ہیں۔ مختاراں مائی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور نہ ہی سرے سے کوئی پنچایت بیٹھی تھی۔ ساری جھوٹی کہانی میں مرکزی کردار عبدالرزاق نامی اس مولوی کا ہے جس نے مختاراں مائی کا نکاح پہلے عبدالخالق نامی اس نوجوان سے پڑھایا تھا جس کی بہن سلمہ کے ساتھ مختاراں کے بھائی عبدالشکور عرف شکورے نے زیادتی کی۔ اسے وہاں کے لوگوں جن میں عبدالخالق بھی شامل تھا نے پکڑ لیا تھا۔ اس کے بعد عبدالخالق کا خاندان تھانے پہنچا اور مختاراں کے بھائی گرفتار ہو گئے جس کے بعد صلح اور راضی نامے کیلئے مختاراں کا نکاح باہمی مشاورت سے عبدالخالق سے کیا گیا۔ اس فیصلے میں دونوں خاندانوں کے سرکردہ لوگ شامل تھے۔ 10 ہزار روپے کی ادائیگی اور پھر راضی نامے کے بعد مختاراں کے بھائی رہا ہو گئے تو ان کی نیت خراب ہو گئی اور پھر معاملہ ختم کرنے کیلئے کوششیں شروع ہو گئیں۔ اسی دوران 22 جون کو معمولی جھگڑا ہوا اور پھر مولوی عبدالرزاق نے جو مختاراں مائی کا قریبی رشتہ دار بھی ہے ،ایک ہفتہ بعد 29 جون کو خطبہ جمعہ کے دوران لوگوں کو کہا کہ عبدالخالق نے اپنے ماموں کے ساتھ مل کر مختاراں سے جبراً زیادتی کی ہے کیونکہ دونوں کے گھر پاس پاس ہیں۔ اس کے بعد مولوی عبدالرزاق نے مقامی صحافی مرید عباس کو لایا اور پھر اس معاملے کو آگے لے جانے کے لئے مختاراں کے باپ اور خاندان کو راضی کر کے خبر چلا دی اور انہیں ساتھ لے کر تھانے پہنچ گیا۔ خبر چھپتے ہی معاملہ مقامی سطح سے نکل کر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچ گیا اور ساری صورتحال بدل گئی اور پھر پاکستان اور اسلام دشمن این جی اوز کو خوب ہتھیار ہاتھ آ گیا اور پھر دنیا بھر میں ہلچل مچ گئی۔ سارے ڈرامے کو آگے بڑھانے کے لئے مختاراں نے کپڑے بھی پھاڑے۔ زیادتی کے الزام کے 9 دن بعد مختاراں کے جسم کے میڈیکل ٹیسٹ اور کپڑوں کے میڈیکل معائنے کے بعد جو رپورٹ تیار ہوئی اس میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ اس سے ایک شخص نے زیادتی کی ہے اور ممکن ہے کہ وہ عبدالخالق ہو کیونکہ زیادتی کا سارا ڈرامہ اسی کے گھر میں رچایا گیا تھا اور اسی بناءپر وہی مجرم بنا اور عمر قید سزا بھی دی گئی۔ 10 سال کے عرصے کے بعد بالآخر مختاراں جھوٹی اور ملزمان سچے ثابت ہو گئے جس سے پاکستان دشمن این جی اوز اور حلقے اب شدید پریشانی اور مشکلات سے دوچار ہیں اور اب اس مسئلے کو آگے لے جانے کے لئے بے تاب بھی ہیں۔ 


مستوئی خاندان کے ”وڈیرے اور جاگیردار“ بھوکے، ننگے نکلے  
مختاراں مائی سمیت اس کے تمام کرتا دھرتا اور ملکی و بین الاقوامی میڈیا جس مستوئی قبیلے کو انتہائی طاقتور، بااثر اور ظالم و جابر شہرت دیئے بیٹھا ہے، کی حالت زار یہ ہے کہ اس قبیلے کے تقریباً سبھی خصوصاً گرفتار شدگان کے خاندان مٹی کے گھروندوں پر رہتے ہیں۔ ان کے گھروں کے باہر دروازے تک نہیں۔ ہر چیز مٹی سے بنی ہوئی ہے۔ گھروں میں کھانے پینے کا سامان دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ان کے بچے سارا دن گندے کپڑے پہنے آوارہ مٹی اور دھول میں کھیلتے رہتے ہیں کیونکہ یہ بچوں کو سکول پڑھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ بچے تھوڑے بڑے ہو جائیں تو وہ محنت مزدوری میں لگ جاتے ہیں ان لوگوں کے پاس اپنی زمینیں بھی نہیں سوائے فیض احمد جتنے سرپنچ کہا جاتا ہے کوئی بھی خاندان 3 کنال سے زیادہ زمین کا مالک نہیں۔

  

”ایسے لوگوں کو نہ آنے دیا کرو“،مختاراں کے سیکرٹری کی پولیس کو ہدایت 
 پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام کی ٹیم جب میروالا کے سارے علاقے کا دورہ کرتی ہوئی آخر میں مختاراں مائی کے کمپلیکس پہنچی اور مختاراں سے ملاقات کیلئے خواہش ظاہر کی توپولیس نے اندراج کے بعد اندر بھیج دیا۔ دفتر میں مختاراں سے پہلے اس کا سیکرٹری نعیم ملک آیا تو وہ مکمل داڑھی اور مکمل باشرع لوگوں کو پہلی مرتبہ اپنے پاس دیکھ کر ٹھٹھک گیا اور فوراً سمجھ گیا کہ یہ لوگ ان کے مطلب کے نہیں ہیں جس کے بعد اس نے 4 دن کے بعد ملاقات کا ”وقت“ دے دیا اور پھر جونہی ٹیم باہر آئی تو آہستہ آواز سے پولیس کو کہنے لگا کہ ایسے لوگوں کو نہ آنے دیا کرو۔ اس کے بعد جب تک پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام کی ٹیم وہاں سے نکل نہیں گئی وہاں کا ماحول سناٹے کا شکار رہا۔ 


میڈیا سے ڈرے اور سہمے مستوئی 
مختار مائی کیس کے بعد یہاں میڈیا کی ملکی اور بین الاقوامی ٹیموں نے 10 سال سے یلغار کررکھی ہے لیکن مستوئی خاندان ان ٹیموں سے شدید خوفزدہ ہے کیونکہ سبھی لوگ ان کے خلاف بیان دیتے اور رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ”پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام “ کی ٹیم کے سامنے بھی مستوئی یہی شکایت کرتے نظر آئے کہ یہ لوگ ہم سے کچھ پوچھ کر جاتے ہیں اور ہر بات ہمارے خلاف چھاپتے چلاتے ہیں۔ 

پاکستان بدنام کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے: قومی رہنما 
مختاارں مائی کیس میں این جی اوز نے انتہائی شرمناک کردار ادا کیا۔ عدالتی فیصلوں میں امریکہ کی مداخلت سے ملک کی بدنامی ہو رہی۔ انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں شخصیات پاکستان کے اسلامی تشخص کو برباد کرنے کے لئے امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے نامور مذہبی، سیاسی و عدلیہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے کیا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ مختاراں مائی کے مسئلہ پر این جی اوز کا واویلا معنی خیز ہے ان لوگوں کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عدلیہ نے تمام شواہد اور شہادتوں کے بعد فیصلہ سنایا ہے تو وہ اب کیوں اعتراض کر رہی ہیں۔ جمعیت علماءاسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ مختاراں مائی کیس من گھڑت ہے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے انسانیت کی تذلیل کی انہوں نے کہا کہ جہاں انسانی حقوق کی پنچایتیں ہوتی ہیں وہاں ان این جی اوز کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے اہل سنت و الجماعت کے رہنما مولانا احمد لدھیانوی نے کہا کہ پورا کیس ایک فراڈ ہے۔ جرم کے مطابق سزا مختاراں مائی کو ملنی چاہئے۔ یہ این جی اوز امریکہ کی گود میں بیٹھ کر ملک پاکستان اور عدالتوں کے خلاف پراپیگنڈا کر رہی ہیں امریکی مداخلت کے نقصان پہلے ہی قوم بھگت رہی ہے۔ جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما حافظ سیف اللہ منصور نے کہا کہ طویل مقدمے کے بعد ثابت ہو گیا ہے کہ یہ سارا ڈرامہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے رچایا گیا تھا اب فوری طور پرحکومت اور عدلیہ ان لوگوں کے خلاف سخت نوٹس لے۔ پاکستان کی عزت اچھالنے اور ملک کو بدنام کرنے والے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر ایڈووکیٹ لطیف سرا نے ہا کہ مختاراں مائی کا کیس پوری دنیا کے سامنے ہے۔ 10 سال بعد بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مظاہرے صرف پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے بدنام کرنے کی سازش ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے اور مغربی آقاﺅں کو خوش کرنے کیلئے ہے۔ انہوں نے کہ کہ نام نہاد انسانی حقوق اور دیگر این جی اوز امریکہ کوخوش کرنے اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے کے لئے اس کیس کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔


مختاراں ٹی وی پروگرام میں سچ سامنے آتے ہی بھاگ کھڑی ہوئی 
مختاراں مائی کے 21اپریل کو سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تو اسی شام معروف صحافی مبشر لقمان نے دنیا ٹی وی پر پروگرام میں اس کو موضوعِ بحث بنایا۔ اس پروگرام میں میاں غفار نامی صحافی نے جب مختاراں مائی کے جھوٹے واقعہ کا پول کھولنا شروع کیا تو مختاراں نے چند جملوں کے بعد ہی پروگرام چھوڑ دیا اور فوری طور پر مائیک کھول دیئے اور پروگرام سے بھاگ نکلی۔ یہ پروگرام انٹرنیٹ پر اب بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ 


ایک محض نام کی غلطی سے پکڑا گیا، ایک جان بچانے بھاگا اور ڈوب کرمر گیا 
 مختاراں مائی کیس میں جو لوگ جیلوں میں بند ہیں ان میں سے ایک قیدی فیاض احمد ولد کریم بخش بھی ہے جو بیٹ رامپور کا رہنے والا ہے۔ اس کی گرفتاری میر والا کے رہائشی اس نام اور اس ولدیت کے ایک اور شخص کے بدلے ہوئی وہ شخص آج تک گرفتار نہیں ہوا جبکہ اس کی جگہ دوسرا بے گناہ 10 سال سے جیل میں ہے۔ گرفتاریوں کے ابتدائی ایام میں جب پولیس نے اندھے چھاپے مارے تھے تو لوگ جانیں بچانے کے لئے بھاگے اس دوران ایک نوجوان شفیق ولد حضور بخش دریائے سندھ میں جان بچانے کے لئے کود گیا تھا جو وہیں ڈوب کر مر گیا تھا۔ 

مختاراں مائی کیس کے بعد علاقے کی 2 مساجد کھنڈر بن گئیں 
میر والا، مظفر گڑھ (نامہ نگارخصوصی) مظفر گڑھ کے موضع میر والا میں مختاراں مائی کیس کے بعد علاقے کی 2 مساجد کھنڈر بن چکی ہیں کیونکہ ان کے امام اور متولی اجتماعی زیادتی کے الزام میں 10سال سے جیلوں میں ہیں جس کے بعد اب ان مساجد میں نہ تو اذان ہوتی ہے اور نہ کوئی نماز۔ ان مساجد کا تمام تر نظام تلپٹ ہو چکا ہے اور اب یہ مساجد مکمل طور پر انہدام کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ 

مختاراں کا اخلاقی کردار واقعہ سے پہلے اوربعد میں بھی مشکوک رہا 
پاکستان کو دنیا بھر میں رسوا اور بدنام کروانے والی خاتون مختاراں مائی کا کردار اور اخلاقی مقام اجتماعی زیادتی کے نام نہاد واقعہ سے بہت پہلے ہی خراب تھا اور علاقے میں اسے اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اسے پہلے شوہر سے بھی طلاق ملی تھی اور وہ اب اپنے ماں باپ کے گھر میں رہ رہی تھی۔ اس کے پہلے شوہر کو بھی اس کے کردار پر ہی شک تھا اور بالآخر اس سے تنگ آ کر اس نے اسے طلاق دے دی تھی اس کے بعد اس کا نکاح اس کے بھائی کے جرم کے بعد صلح کیلئے پڑوسی نوجوان عبدالخالق سے پڑھایا گیا لیکن وہیں سے ایک نیا ڈرامہ شروع ہو گیا اس کے کردار کے حوالے سے شکوک و شبہات کو اس بات سے بہت زیادہ تقویت ملتی ہے کہ جب 2002ءمیں اس نے یہ اجتماعی زیادتی کا ڈھونگ رچا کر عالمی شہرت حاصل کی تو اس کی سکیورٹی پر پولیس اہلکار تعینات ہوئے تو اس نے انہی میں سے ایک پولیس اہلکار ناصر عباس قبولہ آف ملتان سے خفیہ تعلقات قائم کر لئے جو تقریباً 2 برس چلتے رہے۔ اس کا اعتراف اس نے خود بھی میڈیا پر کیا ہے اور پھر 15 مارچ 2009ءکو اس نے اس کانسٹیبل سے جو پہلے ہی شادی شدہ اور 5 بچوں کا باپ تھا سے بیاہ رچا لیا۔ علاقے میں مشہور ہے کہ یہ شادی بھی ”مجبوراً“ کی گئی۔ 

ایک خاتون جس کے 5بھائی اور بیٹا جیل میں ہیں
میر والا میں مستوئی خاندان کی خاتون جو مرکزی ملزم عبدالخالق کی والدہ ہیں سب سے بدقسمت خاتون ہیں اس خاتون کے 5سگے بھائی اور بیٹا 10 سال سے جیل میں ہیں ان سب پر اجتماعی زیادتی کا الزام ہے کہ ان سب نے مل کر بدکاری کی تھی۔ 


جون 2009ءکی خبر، مختاراں مائی بجلی چور نکلی، شرابی بھائی کا واپڈا ٹیم پر تشدد 
جون 2009ءکو پاکستان کے ایک قومی روزنامہ ایکسپریس نے خبر شائع کی کہ انسانی حقوق کی علمبردار مختاراں مائی کی بجلی چوری پکڑی گئی۔ واپڈا کی چھاپہ مار ٹیم پر مختاراں مائی کے بھائی اور اس کے ساتھیوں نے تشدد کیا اور میٹر و تار چھین لئے۔ تفصیلات کے مطابق واپڈا سب ڈویژن جتوئی کی ٹیم نے لائن سپرنٹنڈنٹ مہر مسعود ایاز کی سربراہی میں میر والا میں مختاراں مائی کے گھر پر چھاپہ مارا تو مختاراں مائی ویمن ویلفیئر آرگنائزیشن کے دفتر، ڈیری فارم، گرلز سکول اور رہائش گاہ پر مین لائن سے ڈائریکٹ تار لگا کر بجلی چوری کی جا رہی تھی۔ ٹیم نے سینکڑوں میٹر تار اور بند میٹر قبضے میں لے لیا اور اس دوران اطلاع پر شراب کے نشے میں دھت مختاراں مائی کا بھائی حضور بخش ساتھیوں کے ہمراہ آ گیا اور واپڈا ٹیم پر تشدد کر کے تار اوربند میٹر چھین لئے اور اہلکاروں کو دھکے دے کر نکال دیا۔ ایس ڈی او اصغر خان لنگاہ اور ایل ایس مسعود احمد نے بتایا کہ کافی عرصے سے بجلی چوری کی جا رہی تھی ایکسین محمد ایوب نے بتایا کہ پولیس تھانہ جتوئی کو اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی مختاراں مائی کا منی گرڈ اسٹیشن پکڑا گیا تھا لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ 


مختاراں مائی امریکہ اور یورپ کی محبوب ترین شخصیت رہی 
مختاراں مائی اول روز سے پاکستان کے لئے بدنامی کا باعث رہی تو دوسری طرف اسے مغربی دنیا اور امریکہ میں بے انتہا پذیرائی حاصل رہی۔ کینیڈا نے شہریت کی پیش کش کی۔ امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار بشمول ہیلری کلنٹن، کانگریس ممبران اسے خوش آمدید کہتے رہے۔وہ فرانس‘ ہالینڈ ‘ کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کی آنکھوں کا تارا رہی۔ اس پر یورپ میں کئی کتابیں لکھی گئیں اور بے تحاشہ پیسہ دیا گیا اور اسے اس پر آمادہ رکھا گیا کہ وہ پاکستان میں رہ کر کام کرے جہاں اسے ہر طرح کا تعاون ومدد حاصل رہے گی امریکہ میں مقیم ایک صحافی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانون سازوں میں مختاراں مائی بے حد مقبول ہیں۔مختاراں مائی اور اسکے ساتھ ہونے والی زیادتی کو امریکہ میں متعارف کروانے والوں میں امریکہ کے کچھ پاکستانی نڑاد ڈاکٹر اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں جن میں ڈاکٹر آمنہ بٹر، ڈاکٹر ظفراقبال اور اعجاز سید آگے آگے تھے۔ ان لوگوں نے’ایشین امریکنز اگسینسٹ ابیوز آف ہیومن رائٹس‘ نام کی تنظیم قائم کی تھی جس کے پلیٹ فارم سے انہوں نے مختاراں مائی کو امریکہ آنے کی دعوت دی تھی۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کے معروف کالم نگار نکولس کرسٹوف تھے جنہوں نے نہ صرف مختاراں مائی کا کیس اپنے اخبار کے ذریعے دنیا بھر میں نیویارک ٹائمز کے پڑھنے والوں کے سامنے بیان کیا بلکہ نیویارک ٹائمز کے لاتعداد پڑھنے والوں نے مختاراں مائی کی حمایت کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کے لیے پر عزم جدوجہد کے لیے رقوم بھی بھیجی تھیں۔ نکولس کرسٹوف نے مختار مائی کے گاوں کا دورہ بھی کیا تھا اور پہلی بار انکے گاوں میں مختار مائی کا انٹرویو بھی دیا تھا۔ مختاراں مائی کے امریکی دوست اور نکلوس کرسٹوف جیسے صحافیوں نے بھی خوب کام دکھایا۔ اسے مغرب دنیا نے بے شمار ایوارڈ بھی دیئے۔ 


فرزانہ باری سمیت کئی این جی اوز میاں غفار کے پیچھے پڑ گئیں 
مختاراں مائی مقدمہ کا پول کھولنے پر فرزانہ باری پاکستان دشمن این جی اوز صحافی میاں غفار کے پیچھے پڑ گئیں۔ فرزانہ باری کافی عرصہ سے میاں غفار کا تعاقب کر رہی تھی اور اب دنیا ٹی وی پر پروگرام نشر ہونے کے بعد اس نے میاں غفار کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ 


مختاراں مائی فیصلہ، محب وطن حلقے اب اپنا کردار ادا کریں، حافظ مسعود
مختاراں مائی مقدمہ کا سپریم کورٹ سے اور ساری داستان جھوٹی ثابت ہونے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہیومن رائٹس فار جسٹس اینڈ پیس کے سربراہ حافظ محمد محمد مسعود نے کہا کہ اب ثابت ہو گیا ہے کہ یہ ہمارا واقعہ مکمل جھوٹا تھا اسے غیر ملکی پاکستان دشمن تنظیموں نے اچھالا اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا۔ ان لوگوں نے ہی مختاراں مائی کو ساری دنیا میں پذیرائی دی ہر جگہ اسے خوش آمدید کہا اور بے تحاشہ پیسہ دیا جس کے بعد اب مظفر گڑھ غیر ملکی این جی اوز کا گڑھ بن گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے یہاں ایک بھی این جی اوز نہیں تھیں اور اب سینکڑوں متحرک ہیں۔ یہ سب لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب محب وطن حلقوں، جماعتوں اور عوام کو آگے آنا ہو گا مظلوم خاندانوں کی مدد کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا بھی پہلا فرض بنتا ہے کہ وہ مختاراں مائی کیس کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے والے تمام لوگوں اور این جی اوز کے خلاف سخت کارروائی کرے اور اس مقدمے کے حوالے سے اصل حقیقت زیادہ سے زیادہ بہتر طور پر ساری دنیا کے سامنے لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے ذریعے بھی مظلوم خاندانوں کی مدد کرنی چاہئے اور پاکستان کے وقار کا دفاع کرنا چاہئے۔


مستوئی خاندان کے بچے مختاراں کے سکول نہیں جا سکتے 
مختاراں مائی نے ملک اور بیرون ملک سے ملنے والے اربوں کے فنڈز کو حلال کرنے کیلئے کئی ادارے کھول رکھے ہیں جن میں 2 سکول بھی ہیں، ان سکولوں میں دور دراز سے تو بچے آ کر پڑھتے ہیں لیکن بدقسمت خاندان مستوئی کے بچے یہاں نہیں پڑھ سکتے کیونکہ وہ سارے ہی مجرم ہیں اور عتاب کا شکار ہیں ان میں سے کسی کو یہاں داخلہ نہیں ملتا۔ 



سرخ مرچ بھگو کر کھانا کھاتے خاندان 
مختاراں مائی کیس میں مرکزی خاندان عبدالخالق کا ہے جو مختاراں کے گاﺅں میروالا کے قریب ترین بستی ہے پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام کی ٹیم جب ان کے گھر پہنچی تو نصف درجن بچے اور دیگر خاتون پھٹی ٹوٹی چارپائی پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے۔ جب ان کا کھانا دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ سبھی لوگ ایک باﺅل میں سرخ مرچیں بھگو اور کوٹ کر روٹی کے ساتھ کھا رہے ہیں۔ 


میروالا میں مختار مائی کیس میں عتاب کا مرکزی شکار بننے والا عبدالخالق کا گھرانہ ہے ان کے گھر میں آج بھی بجلی نہیں۔ ان کی وجہ سے اس کے قریب واقع مزید 2گھروں کو بجلی نہیں مل سکی۔ کنکشن بارے درخواست مختاراں مائی کے کہنے پر درخواست مسترد کر دی جاتی ہے یہ خاندان اس قدر غریب ہے کہ ان کے پاس موبائل فون تک رکھنے کی سکت نہیں ان میں سے کسی کے پاس موبائل فون نہیں ہے۔ 


پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام کی ٹیم جب مختاراں مائی کیس کی حقیقت جاننے مستوئی خاندان کے گھروں میں پہنچی تو تقریباً سبھی گرفتار شدگان کے ورثاءٹیم کو دیکھ کر حالات بتاتے ہوئے روتے دھوتے اور آنسو بہاتے رہے خاص طور پر عبدالخالق کی ماں کے آنسو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔ 


 مختاراں مائی کے علاقہ میر والا مظفر گڑھ کا منظر عجیب ہے جہاں سے مختاراں مائی کا کمپلیکس شروع ہو تاہے وہاں سے آگے دولت کی ریل پیل، اعلیٰ تعمیرات اور جدید ترین گاڑیاں ہیں تو دوسری طرف مستوئی خاندان کے مٹی کے بوسیدہ گھروندے ہیں جہاں ہر طرف گندگی میں لتھڑے، پھٹے پرانے کپڑے پہنے، ننگے پاﺅں چلتے پھرتے معصوم بچے دکھائی دیتے ہیں۔ 


مختاراں مائی مقدمہ کا فیصلہ، پاکستان دشمنوں کیخلاف سخت کارروائی کا تقاضا کرتا ہے
بالآخر21اپریل کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کی تاریخ میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے اور پاکستان کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ بدنامی کا باعث بننے والے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا، جس میں 2005ءکے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے جس میں ایک کے سوا تمام ملزمان کو باعزت رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ مختاراں مائی اور اس کے ملک کے نامور ترین وکلاءکے کئی پینل بھی وہ الزام ثابت نہیں کر سکے جو ملزمان پر لگایا گیا تھا۔ وہ 22جون 2002ءکی رات تھی جب مختاراں مائی کے بقول اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن حیران کن طور پر وہ 29جون کو تھانے پہنچی اور پھر 30جون کو اس کا میڈیکل ٹیسٹ ہوا۔ طبی ماہرین کے مطابق اتنے دن گزرنے کے بعد میڈیکل رپورٹ درست آ ہی نہیں سکتی تھی، لیکن رپورٹ پھر بھی ” مطلوبہ“ حساب سے آ گئی لیکن اس میں یہ ”سقم“ رہ گیا کہ اس میں صرف ایک شخص کی زیادتی پکڑی گئی بلکہ مختاراں کا دعویٰ چار کا تھا۔ مقدمہ شروع ہوا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وہ آٹھ افراد جو مکمل بے گناہ تھے اور ان کا نام ایف آئی آر تک میں نہیں تھا کو رہا کرنے کا حکم دیا لیکن وہ رہا نہ ہو سکے۔ مقدمہ آگے بڑھتا گیا اور ساری دنیا میں خصوصاً پاکستان دشمنوں میں مختارا ں مائی کو خوب پذیرائی ملتی رہی۔ مجبوراً پاکستان نے 2اگست کو فاطمہ جناح گولڈ میڈل دیا اور 5لاکھ روپے کا تعاون پیش کیا۔ 2نومبر کو امریکی گلیمر میگزین نے مختاراں کو ”سال کی خاتون“ کا اعزاز دیا۔ 12جنوری 2006ءکو فرانس میں اس کے متعلق کتاب شائع ہوئی جس کی بے تحاشا تشہیر کی گئی اور کروڑوں ڈالر کمائے گئے۔ اس کا ترجمہ جرمن زبان میں بھی ہوا۔ 16جنوری 2006ءکو مختاراں پیرس پہنچ گئی جہاں اس کا استقبال فرانس کے وزیر خارجہ فلپ دوستے بلینزی نے کیا۔ 2مئی 2006ءکو مختاراں نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز نیویارک میں تقریر کی۔ اگلے رورز اس کا استقبال اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل شاشی تھارو نے کیا اور اس کی خوب تعریف کی۔ 31اکتوبر 2006ءکو امریکہ میں اس سے متعلق ایک اور کتاب شائع ہوئی۔ مارچ 2007ءمیں کونسل آف یورپ سے اس نے 2006ءکا نارتھ ساﺅتھ پرائز”جیتا“۔
اکتوبر 2010ءمیں کینیڈا کی ایک یونیورسٹی نے اسے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دیدی۔ اس سے قبل کینیڈا نے اسے شہریت دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اسے مغربی دنیا کے میڈیا نے دن رات اچھالا، اس دوران مظفر گڑھ پر این جی اوز کی یلغار رہی اور اب یہاں 200سے زائد این جی اوز مصروف عمل ہیں۔ اس ساری داستان کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بتایا جائے کہ مختاراں کو آگے لانے والے کون تھے؟ ان سب کے مقاصد کیا تھے؟ ان لوگوں نے پاکستان میں بھی نام نہاد روشن خیال لوگوں کو ساتھ ملایا اور خوب طوفان بدتمیزی مچایا۔ یہ لوگ کل تک کنگلے تھے آج کروڑوں میں کھیلتے ہیں۔ فرزانہ باری کل تک کچھ نہ تھی آج کروڑوں کے گھر کی مالک اور لیڈر ہے۔ یہی حال ان دوسرے لوگوں کا ہے، ان لوگوں نے پاکستان کی عزت و وقار سے خوب کھیل کھیلا اور دشمنوں کو خوب خوش کیا، اب یہ لوگ ایک بار پھر میدان میں ہیں اور عدلیہ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دباﺅ ڈلوا کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروا لیں، اس سنگین صورتحال میں ہم پاکستان سے محبت کرنے اور پاکستان کو اپنی منزل مراد قرار دینے والے حلقوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اب آگے آئیں اور میدان خالی نہ چھوڑیں۔ ایسی صورتحال میں جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ سارا واقعہ جھوٹ تھا اور پاکستان کو بدنام کرنے کی بہت بڑی سازش تھی تو اب محب وطن حلقوں کے پیچھے رہ جانے کا کیا سوال ہے۔ اب پاکستان، پاکستانی عدلیہ اور مختاراں کے ظلم و دہشت گردی کا شکار ہونے والے غریب اور مظلوم مستوئی خاندان کی عزت و وقار کو بحال کرنے کا وقت اور موقع ہے۔ اس موقع کو کسی طور پر ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ پاکستان کے ہر شہری کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں جہاں جہاں جو جو کردار ادا کر سکتا ہے وہ لازماً ادا کرے۔ جو میڈیا کے ذریعے اس جھوٹ کو دنیا میں نمایاں کروا سکتا ہے وہ اپنا کردار ادا کرے جو عدلیہ یا انتظامیہ کے ذریعے یا عوامی حلقوں کے ذریعے یہ کام کر سکتا ہے وہ اپنا کام کرے۔ اگر چند درجن نام نہاد روشن خیال این جی اوز کے نمائندے پاکستان کو بدنام کرنے اور کفار کی خوشنودی و رضا اور بھاری فنڈ حاصل کرنے کیلئے میدان میں آ سکتے ہیں تو پاکستان اور اسلام سے محبت کرنے والے میدان سے کیوں دور رہیں۔ اب ہر شہری کو اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ ایسے ناسور اور نامراد لوگ آئندہ کبھی ایسی ناپاک سازش میں کامیاب نہ ہو سکیں اور تاکہ پاکستان محفوظ و مامون رہے اور اس کے دشمن ذلیل و خوار رہیں۔



بشکریہ پاک میڈیا اپ ڈیٹس


Tags: Mukhtaran mai rape case, fake, Court decision
reality of Mukhtaran mai, reality of pakistani media, secular liberal, fasadi, 
Pakistan, Islam, 

1 مارچ، 2012

پھر نہ کوئی منہ سلامت رہے گا نہ سر

 



مجھے آج ایک مرثیہ کہنا ہے۔ ایک جیتی جاگتی، سانس لیتی اٹھارہ کروڑ عوام کا مرثیہ جو چند ہزار لوگوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہے، سہمی ہوئی معصوم سی ایک استاد جس کے گال پر رعونت، تکبر اور تفاخر سے آگ الگتی ایک خاتون طمانچے مارتی رہی. ایک عمر رسیدہ عورت کی آنکھ سے بہتے آنسو ہیں جو تھپڑوں اور دھکوں کے بعد اس کی آنکھ سے نکل آئے تھے۔ یہ تھپڑ اور طمانچے پہلی دفعہ قوم نے کیمرے کی آنکھ سے دیکھے ہیں ورنہ اس غلیظ اور بدبودار معاشرے میں یہ روز کا معمول ہے۔ گلیوں، بازاروں، چوکوں اور چوراہوں پر عام آدمی کے ساتھ یہ فرعون صفت افراد یہی رویہ اختیار کیے ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنھیں اپنے شجرہ نسب پر ناز ہے، اپنی وسیع وعریض پھیلی ملکیت زمین پر گھمنڈ ہے، اپنے کارخانوں کی سلطنت پر بھروسہ ہے اور اپنے نسل دار نسل سردار، وڈیرے، جاگیردار، ملک اور چودھری ہونے پر ان کی گردنیں اکڑی ہوئی ہیں۔ اس رویے میں میرے ملک کا کوئی خطہ یا صوبہ مختلف نہی۔ پنجاب کا چودھری، سندھ کا وڈیرہ، بلوچستان کا سردار اور خیبر پختوں خوا کا خان سب ایک جیسے ہیں۔ اور یہ سب اس جمہورت کے تحفے ہیں اور اس کی بقا کے علمبردار بھی۔۔۔

میڈیا نے جو تھپڑ دکھائے یہ صرف ایک علامت ہے ورنہ اگر کبھی یہ خاتون گھر میں، حویلی میں یا کسے کے ڈیرے پر ہوتی تو اس کی چمڑی ادھیڑ دی جاتی ۔ اسے رومن بادشاہوں کی طرح اوباشوں کے حوالے کر دیا جاتا جو اپنے ملک سے خوبصورت اورغلام عورتوں کو اکھٹا کرتے تھے ۔ سالانہ رومن کھیلوں کے دوران ان کو پالتو کتوں کی طرح پلے ہوئے مضبوط جسم لوگوں کے حوالے کردیا جاتا تھا جو ان کے ساتھ لاکھوں لوگوں کے سامنے بدسلوکی کرتے تھے اور پورے کا پورا مجمع ان عورتوں کی چیخ و پکار پر خوش ہو کر تالیاں بجاتا تھا ۔ ان لوگوں کا بس چلے تو اپنے محکوم افراد اور مجبور عورتوں کے ساتھ یہی سلوک کریں. اگرچہ ایسا سلوک ہوتا ضرور ہے مگر اس کو دیکھنے والے اور اس کے ظلم کی شدت سے لطف اندوز ہونے والے اسی گاؤں یا علاقے کے لوگ ہوتے ہیں جو خوف سے زبان نہی کھولتے۔۔


المیہ یہ نہی کہ ایک معصوم استاد کو ایک فرعون صفت خاتوں نے سرعام تھپڑ رسید کیے، المیہ یہ ہے کہ یہ فرعون صفت خاتوں ایک منتخب نمائندہ ہے ۔ عوام کی اجتمائی را ئے ہے جس کے احترام کا ہمیں درس دیا جاتا ہے۔ یہ ہے جمہوریت کا وہ اصل چہرہ جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا


ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب کبھی آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر


یھنی ایک بادشاہ، ایک حکمران یا ایک فرعون کا اختیار چار سو فرعونون میں تقسیم کر دیا ہے. اب یہ چار سو فرعون سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں ۔ کالے شیشے لگا ئے ہو ئے گاڑیاں، بڑی بڑی نمبر پلیٹوں پر اپنے جمہوری عہدے لکھے ہو ئے ، ٹریفک کے سگنل توڑتے ہو ئے ، ناکے پر کھڑے سپاہیوں کو ذلیل و رسوا کرتے، تھانوں کے گیٹ توڑ کر اپنے چہیتے مجرموں کو اپنے ساتھ لے جاتے اور بڑے بڑے افسران کے ساتھ مل کر اپنے مخالفین پر قتل، اغوا، دہشتگردی اور دیگر جرائم کے جھوٹے مقدمے قائم کرواتے، ان کے خلاف جھوٹی گواہیاں پیش کرواتے اور سچے گواہوں کو عدالت جانے سے روکتے، بیواؤں یتیموں، معزوروں اور مسکینوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرتے، قاتلوں، چوروں، ڈاکوؤں اور غنڈوں کو اپنوں ڈیروں پر پناہ دیتے بلکہ اپنے ساتھ ذاتی گارڈوں کی حیثیت سے گھماتے، یہ ہیں وہ کئی سو فرعون جو منتخب ہوتے ہیں. جو جمہوریت کی اساس ہیں. جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ "عوام کی را ئے پارلیمنٹ میں بولتی ہے"

ایسا کیوں ہے؟؟؟

اس لیے ہے کہ یہ جمہوری نظام بنایا ہی اس طرح گیا تھا کہ وہ چند ہزار لوگ جو کبھی ایک بادشاہ کے فرمان سے حکمران بنتے تھے ان کو اس انداز سے حکمران بنا دو کہ لوگ فریاد نہ کر سکیں.. میں حیرت میں گم ہو جاتا ہوں جب ٹی وی پر کوئی کال کرنے والا ان فرعونون کی شکایات کرتا ہے تو اینکر پرسن الٹا اس کو ڈانٹتا ہے کہ تم نے ہی تو ووٹ دے کر بھیجھا تھا اور وہ بیچارہ چپ سادھ کر بیٹھ جاتا ہے.. ہم کس قدر منافق ہیں کہ بیٹی یا بیٹے کا رشتہ کرنے جایئں تو کسی غنڈے، بدمعاش، چور اچکے، بددیانت کو اپنی دہلیز پر قدم نہی رکھنے دیتے. ہمیں صرف یہ پتا چل جا ئے کہ اس کی شہرت بدنام ہے تو ہم اس گلی کا رخ نہی کرتے لیکن پوری قوم کی عزت و عصمت جس کے حوالے کرتے ہیں اس کی شہرت بدنام ترین بھی ہو تو ہمارے منہ پر تھپڑ یوں لگتا ہے، ""تمھارے پاس ثبوت ہیں تو جاؤ عدالت میں اور ثابت کرو""""


یہ ہے وہ معاشرہ جو خوفزدہ ہے، یرغمال ہے. دنیا میں جہاں بھی تبدیلی آئ، حالات بدلے، وہاں سب سے پہلے لوگوں کا ایک جم غفیر اٹھا ، دیوانوں کی طرح.. انہوں نے سب سے پہلے ان دس پندرہ ہزار ظالموں، فرعونوں اور اجارہ داروں کو صفحہ ہستی سے مٹایا اور پھر کہا، اب ہم سب برابر ہیں. آؤ اب ہم اپنے آپ ہی سے حکمران چنتے ہیں... یہ زمین جس پر کتنے سالوں سے ظلم کی آندھیاں چل رہی ہیں، بہت پیاسی ہے.. اس کی پیاس بجھنے کے دن بہت قریب ہیں.. کسی کو اندازہ ہی نہی کہ جب وہ خاتون ٹیچر کو تھپڑ مار رہی تھی اس وقت پچیس کے قریب مفلوک الحال خواتین وہاں موجود تھیں. بس ایک لمحے کی بات ہے، جس دن اس کمزور خاتون نے وہ ہاتھ واپس رعونت سے بھرے منہ پر لوٹا دیا، پھر نہ کوئی منہ سلامت رہے گا نہ سر...

اوریا مقبول جان
☀▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Waheeda shah, ppp, slapped, teacher, orya maqbool jan, article, election,  polling agent,