ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

مئی 23, 2012

یونیفارم والی شرٹ




یونیفارم والی شرٹ



جیسے ہی میں نے بینک کے سامنے گاڑی کھڑی کی ایک آٹھ نو سال کا بچہ ہاتھ میں کپڑا لیے کہیں سے نمودار ہوگیا۔

صاحب گاڑی صاف کردوں !
نہیں مجھے جلدی ہے۔

بس جیسے ہی آپ بینک سے باہر آئیں گے گاڑی صاف ملے گی !

اچھا کردو۔۔۔۔لیکن تم نے تو سکول کی یونیفارم پہنی ہوئی ہے ۔۔۔تمہیں تو اس وقت کلاس میں ہونا چاہییے، یہ تم یہاں سڑک پر کیا کررہے ہو۔

جی میں سکول میں نہیں پڑھتا، یہ یونیفارم تو ایک میڈم نے دی ہے۔ان کا بچہ پہنتا تھا۔اب پرانی ہوگئی ہے نا !

تمہیں میڈم نے اور شرٹ کیوں نہیں دی ؟
نہیں جی ان کے پاس تو دو تین پرانی شرٹیں تھیں۔انہوں نے کہا اس میں سے ایک لے لو باقی دو میں دوسرے بچوں کو دوں گی۔ تو میں نے یونیفارم والی شرٹ لے لی !

لیکن کیا فائدہ ۔۔۔تم تو سکول میں نہیں پڑھتے ، دوسری شرٹ لے لیتے۔

نہیں جی۔۔۔ یہ مجھے اچھی لگتی ہے۔اسے پہن کر لگتا ہے جیسے میں بھی سکول جارہا ہوں ۔


 tags:
uniform wali shirt, 
sahib ghari saaf kar doun, 
urdu short story, school

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں