ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

دسمبر 29, 2012

سیکولر ذہن کی سطح

سیکولر ذہن کی سطح (شاہنواز فاروقی)


پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقات نے تمام مذہبی لوگوں کو ”طالبان“ بنادیا ہے، اور طالبان بھی اپنی پسند کا۔ سیکولر اور لبرل عناصر کے طالبان انتہا پسند ہیں۔ دہشت گرد ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ہر وقت اسلحہ ہوتا ہے۔ وہ دستی بموں اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس سے لیس ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں سے ہر وقت وحشت اور درندگی ٹپکتی رہتی ہے۔ وہ دائمی طور پر خون کے پیاسے ہیں۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کو قتل کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ خود کو ”طالبان“ کہتے ہیں مگر پڑھنے لکھنے سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ علم، تعلیم، شعور، آگہی اور کتاب اور قلم کے دشمن ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی عورتوں کو گھروں میں قید کیا ہوا ہے۔ وہ انہیں دنیا کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے۔ پاکستان کے مذہبی لوگوں کی یہ تصویر سیکولر لوگوں نے بڑی محنت سے بنائی ہے اور وہ اس تصویر میں مسلسل رنگ بھرتے رہتے ہیں۔

ان لوگوں میں ایک نام ندیم فاروق پراچہ کا بھی ہے۔ ندیم فاروق پراچہ روزنامہ ڈان میں ہفتہ وار کالم تحریر کرتے ہیں۔ ان کی خاص بات صرف یہ نہیں ہے کہ وہ سیکولر اور لبرل ہیں، بلکہ ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انہیں حقیقی معنوں میں مذہبی لوگوں، مذہبی جماعتوں اور مذہبی خیالات سے نفرت ہے۔ ان کی نفرت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کے اکثر کالموں میں یہ نفرت شدت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ندیم فاروق پراچہ نفرت کے مسلسل اظہار سے نہ اکتاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں۔ لیکن 16 دسمبر 2012ءکے کالم میں انہوں نے مذہبی لوگوں اور مذہبی خیالات سے نفرت کی ایورسٹ کو سر کیا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ندیم فاروق پراچہ نے کراچی میں ہونے والے تین روزہ عالمی میلہ کتب کا دورہ کیا تو انہیں یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ کتابوں کے عالمی میلے میں کتابوں کے اکثر اسٹالز پر مذہبی کتب فروخت ہورہی تھیں۔ یہاں تک کہ جن اسٹالز پر عام ادب اور موسیقی سے متعلق کتب فروخت کے لیے رکھی گئی تھیں ان پر بھی ایک حصہ مذہبی لٹریچر کے لیے مخصوص تھا۔ ندیم فاروق پراچہ نے لکھا ہے کہ کتب میلے کا ایک پہلو یہ تھا کہ اس میں ”ڈاڑھی والوں کی“ اکثریت تھی۔ یہ لوگ اپنی برقع پوش خواتین اور بچوں کے ہمراہ کتب میلے میں آئے ہوئے تھے اور دھڑادھڑ کتابیں خرید رہے تھے۔ مذہبی لوگوں کے بارے میں سیکولر لوگوں کے قائم کیے ہوئے ”امیج“ کو دیکھا جائے تو ندیم فاروق پراچہ کو کتب میلے کے مناظر سے خوش ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے کہ کتب میلے میں مذہبی لوگ اسلحہ نہیں کتابیں خریدنے آئے تھے، اور وہ کتاب میلے سے ”اسلحہ بردار“ نہیں بلکہ ”کتاب بردار“ بن کر نکل رہے تھے۔

 
 بظاہر سیکولر اور لبرل لوگ یہی تو چاہتے ہیں کہ مذہبی لوگ بھی ان کی طرح ”لکھنے پڑھنے والے“ بن جائیں۔ مگر ندیم فاروق پراچہ کو اس پر خوشی نہیں ہوئی بلکہ وہ یہ دیکھ کر دکھ کے سمندر میں ڈوب گئے کہ کتاب میلہ اور وہ بھی بین الاقوامی کتاب میلہ مذہبی لٹریچر اور مذہبی لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ”مذہبی مرد“ اکیلے نہیں آئے ہوئے تھے، بلکہ ”روشن خیالی“ کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی کتاب میلے میں لے آئے تھے۔ اصولی اعتبار سے ندیم فاروق پراچہ کو مذہبی لوگوں کی اس ”کشادہ نظری“ پر خوش ہونا چاہیے تھا اور کہنا چاہیے تھا کہ چلیے دیر سے سہی مگر مذہبی لوگوں نے بھی عورتوں کو کتاب میلے میں لانے کے قابل تو سمجھا۔ مگر ندیم فاروق پراچہ یہ منظر دیکھ کر اذیت میں مبتلا ہوگئے۔ کتابیں علم اور تخلیقی صلاحیت کا حاصل ہوتی ہیں، اور یہ چیزیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ضد ہیں، چنانچہ کتاب میلے میں مذہبی ادب کی فراوانی سے صاف ظاہر ہے کہ مذہبی ذہن سیکولر اور لبرل ذہن سے کہیں زیادہ خلاّق ہوگیا ہے اور اپنی مذہبی کائنات کی تخلیق کے لیے وجود کی ساری توانائی صرف کررہا ہے۔

سیکولر اور لبرل خود کو علم دوست اور تخلیقی رجحانات کا پاسبان کہتے ہیں، چنانچہ ندیم فاروق پراچہ کو یہ دیکھ کر دلی مسرت ہونی چاہیے تھی کہ مذہبی لوگ علم اور تخلیق کے عاشق بن گئے ہیں اور انہوں نے ٹنوں کے حساب سے لٹریچر تخلیق کرڈالا ہے۔ لیکن ندیم فاروق پراچہ اس بات پر خوش ہونے کے بجائے سینہ کوبی کرتے ہوئے پائے گئے۔ ندیم فاروق پراچہ کتاب میلے میں ترکی کے اسٹال پر گئے مگر یہاں بھی ان کے لیے اذیت کا سامان مہیا تھا، کیونکہ ترکی کے اسٹال پر ترکی کے مذہبی اسکالر فتح اللہ گولن صاحب کی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ مذہبی لوگوں سے ندیم فاروق پراچہ کی نفرت کا اشتہار ان کا یہ بیان ہے کہ میلے میں آئے ہوئے مذہبی لوگ لمبی لمبی ”ڈاڑھی والے “ تھے، عورتیں باپردہ تھیں اور ان کے ساتھ آئے ہوئے بچے پرشور یا ندیم فاروق پراچہ کے اپنے الفاظ میں “
Very Noisy” تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے سیکولر اور لبرل لوگوں کے بچے بہت ”خاموش طبع“ ہوتے ہیں۔ دنیا میں تہذیب کا جو بھی معیار متعین کیا جائے گا اس کے تحت بچوں کے شور شرابے کو کوئی بھی برا نہ کہے گا۔ اس لیے کہ بچے ہوتے ہی ایسے ہیں۔ مگر ندیم فاروق پراچہ صاحب کی مذہبی لوگوں سے نفرت نے بچوں تک کو ”معاف“ نہیں کیا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کالم میں اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں بخشا۔

انہوں نے لکھا ہے کہ کتب میلے کے ایک ہال میں ایک صاحب مائک پر پوچھ رہے تھے ”پاکستان کا مطلب کیا؟“ اور بچے پوری قوت کے ساتھ اس کا جواب دے رہے تھے ”لا الہ الا اللہ“۔ تجزیہ کیا جائے تو ندیم فاروق پراچہ کو مذکورہ سوال ہی سے نہیں بلکہ مذکورہ سوال کے جواب سے بھی تکلیف ہوئی۔ وہ اس سلسلے میں اپنی شخصی، اجتماعی اور فکری تہذیب کو اس سطح تک لے گئے کہ انہوں نے یہ لکھنا ضروری سمجھا کہ جو بچے ”پاکستان کا مطلب کیا“ کا جواب ”لا الہ الا اللہ“ کہہ کر دے رہے تھے ان کے ہاتھ میں پاپ کارن، لالی پاپ اور جوسز کے ڈبے تھے، اور یہ بچے لا الہ الا اللہ تو کہہ رہے تھے مگر پاپ کارن، لالی پاپ اور جوس کے ڈبے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے۔ یہ بات ندیم فاروق پراچہ نے اس طرح لکھی ہے جیسے ”لا الہ الا اللہ“ بچوں کو پاپ کارن، لالی پاپ اور جوس پینے سے روکتا ہے۔ غالباً ندیم فاروق پراچہ کے ذہن میں یہ بات ہوگی کہ پاپ کارن، لالی پاپ اور جوس ”جدیدیت“ کی علامت ہیں اور لا الہ الا اللہ ”قدامت“ کی علامت ہے، اور ان دونوں میں ایک تضاد ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں سیکولر اور لبرل لوگوں کی فکری سطح کتنی بلند ہے اور وہ جدیدیت اور قدامت کی کشمکش کو کتنی ”گہرائی“ میں اتر کر دیکھ اور بیان کررہی ہے۔

کتاب میلے ”ذہین“ اور”
Smart لوگوں کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ندیم فاروق پراچہ کے کالم کے ساتھ ڈان کے ابڑو صاحب کی بنائی ہوئی جو Illustration شائع ہوئی ہے اس میں مذہبی عورتیں برقع میں چھپی ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ کرتے، پاجامے اور ٹوپی میں دکھائے گئے ہیں۔ بیچاروں کی ڈاڑھیاں ہی نہیں پیٹ بھی بڑھے ہوئے ہیں، بلکہ عوامی زبان میں ان کی توندیں نکلی ہوئی ہیں۔ مطلب یہ کہ مذہبی لوگ کیا سمجھتے ہیں وہ کتاب میلے میں جائیں گے تو دنیا ان کو علم دوست، مہذب، ذہین اور Smart سمجھے گی؟ یہ ان کی بھول ہے۔ پاکستان کے سیکولر عناصر ان کو یہ ”امیج“ کبھی” Enjoy“نہیں کرنے دیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ندیم فاروق پراچہ کے کالم میں سب کچھ نفرت میں ڈوبا ہوا ہے۔ کالم کے آخری دو فقرے بہت اچھے ہیں۔ ان کا لطف انگریزی ہی میںہے۔ چنانچہ انہیں انگریزی ہی میں ملاحظہ کیجیے۔ ندیم فاروق پراچہ نے لکھا ہے:

Also never underestimate the myth of subliminal messaging. Guess which book i did end up buying at the fair: Islam in South East Asia.

مطلب یہ کہ میلے کی فضا کا مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میں نے بھی میلے کے دورے کے اختتام پر اسلام سے متعلق کتاب خریدلی۔

2 comments:

  1. nadeem paracha magrib zda zehen rakhta ha isjesy log deen k to kia khud apny sath bhi mukhlis nahi hoty han ager hoty to zra QURAN utha k parh lety k us ma kia likha ha.

    جواب دیںحذف کریں
  2. Let the narrow minded secularist and Liberals enjoy the friendship of US. We know what they have done in Egypt. They (like Al-Biradi - the US installed puppet) are responsible for inviting the military coup that lead to martyrdom of 6,000 innocent and peaceful Egyptians.

    جواب دیںحذف کریں