ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

دسمبر 26, 2012

شیخ الاسلام

عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے میرے آقاؐ جب کہیں جانے کے لیے گھر سے نکلتے توکوئی حفاظتی دستہ ساتھ نہ ہوتاصرف حضرت بلالؓ اپنے ہاتھ میں ایک لمبا ڈنڈا لے کر آپؐ کے آگے آگے چلتے ۔خُلفائے راشدین نے بھی اسی سُنتِ رسولؐ کی ہمیشہ پیروی کی ۔ اگر حضرت عثمانؓ چاہتے تو اپنے گرد دس حفاظتی حصار قائم کر لیتے اور شر پسند کبھی اُن تک پہنچ نہ پاتے لیکن اُنہوں نے شہادت قبول کر لی لیکن پیروئ رسولؐ سے مُنہ نہ موڑا ۔حضرت عمرؓ کی زندگی کا ایک رُخ تو یہ تھا کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں اُن کی ہیبت سے لرزہ براندام تھیں۔ اور دوسری طرف بدن پر موٹے کھدر کا کُرتہ ، پھٹا ہوا عمامہ اور پھٹی جوتیاں پہنے کبھی کاندھے پر مشکیزہ اُٹھائے بیوہ کے گھر پانی پہنچاتے نظر آتے اور کبھی آٹے کی بوری ۔تھک جاتے تو مسجد کے کسی کونے میں خاک کے فرش پر سو جاتے ۔ایک بار قیصرِ روم نے ایلچی بھیجا ۔مدینے پہنچ کر اُس نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا بادشاہ کہاں ہے ؟۔لوگوں نے کہا ہمارا بادشاہ تو کوئی نہیں ایک امیر ہے جو شہر سے کہیں باہر ہے ۔ایلچی ایک صحابیؓ کو ساتھ لے کر تلاش کے لیے نکلا تو دیکھا کہ حضرت عمرؓ ایک درخت کے نیچے سو رہے ہیں ۔ایلچی نے بے ساختہ کہا ’’عمرؓ عدل کرتے ہیں اس لیے بے خوف ہیں ، ہمارا بادشاہ ظلم کرتا ہے اور خوف زدہ رہتا ہے‘‘ ۔
حاکمانِ وقت کا تو ذکرہی کیا کہ تو اقتدار کے نشے نے اُن کی سُدھ بدھ گنوا دی ہے لیکن آج ایک ایسے شخص کو زرق برق لباس اور تیس حفاظتی گاڑیوں کے حصار میں اِس شان سے جلسہ گاہ کی طرف جاتے دیکھا کہ آگے پیچھے ایلیٹ فورس اور درمیان میں تین بُلٹ پروف گاڑیاں جن میں سے کسی ایک میں وہ سوار تھے اور ہمارے تیز ترین الیکٹرانک میڈیا کو بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کس گاڑی میں ہیں ۔یہ تھے ہمارے شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری صاحب جو پاکستان میں ’’خلافتِ راشدہ‘‘ لانے کے دعوے دارہیں ۔اُنہوں نے اپنے استقبال کو لازوال بنانے کی خاطر اشتہاری مہم پر لگ بھگ ایک ارب روپیہ صرف کیا اور کروڑوں جلسے پر ۔ جلسہ گاہ پہنچنے کے بعد مولانا بُلٹ پروف کیبن میں بیٹھ گئے اور وہیں بیٹھے بیٹھے اُنہوں نے سوا دو گھنٹے تک خطاب فرمایا ۔خطاب کے دوران اذانِ عصر ہوئی تو شیخ الا سلام نے فرمایا کہ میں نماز پڑھ چُکا اس لیے خطاب جاری رہے گا ۔شاید اُنہیں احساس ہو کہ ’’وقت کم ہے اور مقابلہ سخت‘‘ اور اسی وقت کی تنگی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اُنہوں نے دھاڑتے ہوئے حاکمانِ وقت کو اپنا قبلہ درست کرنے کے لیے صرف اٹھارہ دن کی مہلت مرحمت فرمائی ۔حیرت ہے کہ مولانا صاحب کو یہ ساری خرابیاں نہ تو ’’مشرفی آمریت ‘‘کے دور میں نظرآئیں اور نہ ہی پیپلز پارٹی کے ساڑھے چار سالہ دور میں ۔شاید کینیڈا میں بے پناہ مصروفیات کی بنا پر اُنہیں وقت ہی نہ ملا ہو ۔اُنہوں نے ایک اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ چھ سو صفحات کے فتویٰ کے علاوہ لگ بھگ ایک ہزار کتابیں لکھ چکے ہیں ۔ یورپ اور امریکہ کے مختلف اداروں میں ذمہ داریوں کی طویل فہرست اور لیکچرز اِس کے علاوہ ہیں ۔شیخ الاسلام لگ بھگ 2900 دن کینیڈا میں مقیم رہے ۔گویا وہ تقریباََ تین دنوں میں ایک ضخیم کتاب لکھ لیا کرتے تھے۔ یہ کارنامہ گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھے جانے کے قابل ہے ۔
اپنے خطاب کی ابتدا میں اُنہوں نے تین حلف اُٹھائے اور پورے خطاب کے دوران اللہ اور قُرآنِ مجید کی بیس مرتبہ قسمیں اُٹھائیں ۔اس سے پہلے ذوالفقار مرزا صاحب ’’قُرآنی پریس کانفرنس‘‘ اور قائدِ تحریک الطاف حسین ’’قُرآنی خطاب‘‘ فرما چکے ہیں جن کی دیکھا دیکھی ملک ریاض نے بھی قُرآن ہاتھ میں اُٹھا کر پریس کانفرنس کر ڈالی ۔اب یہ ایک سال میں چوتھا موقع ہے جب قوم نے شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری صاحب کو بے تحاشا قسمیں اُٹھاتے دیکھا ۔کہتے ہیں کہ ’’زیادہ قسمیں اُٹھانے والا مسلمہ جھوٹا ہوتا ہے ‘‘ پھر بھی ہمارا حسنِ ظن ہے کہ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری صاحب جیسی برگزیدہ ہستی جھوٹ نہیں بول سکتی ۔سوال مگر یہ ہے کہ اُنہوں نے کہا کیا ؟۔ سوا دو گھنٹے تک ہم ہمہ تن گوش رہے لیکن جب عالمِ محویت سے باہر آئے تو ادراک ہوا کہ اُنہوں نے تو کچھ بھی نہیں کہا اور جو انکشافات وہ فرما رہے تھے اُن سے تو ملک کا بچہ بچہ واقف ہے ۔لکھاری اس پر ہزاروں کالم لکھ چکے ہیں اور اینکرز سینکڑوں ٹاک شوز کر چکے ۔اب عالمِ مایوسی میں ہماری آتشِ شوق بحرِ منجمد شمالی میں دفن ہو نے کو ہے اورحالت یہ ہے ۔
نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
جب شیخ الاسلام نے اپنے پیروکاروں کو پچاس لاکھ کے مجمعے کا ٹارگٹ دیا تو میری اہلیہ نے گھبراہٹ کے عالم میں پوچھا کہ اگر واقعی پچاس لاکھ مریدین اکٹھے ہو گئے تو کروڑ سوا کروڑ کی آبادی والے لاہور میں یہ سمائیں گے کہاں؟۔ اور اگر سما گئے تو ’’لاہوریے ‘‘ جائیں گے کہاں ؟۔میرے پاس تو کوئی جواب نہیں تھا لیکن مولانا نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے ٹارگٹ پچاس سے پچیس لاکھ کر دیااور اس مجمعے کو پچیس میل تک پھیلا بھی دیا ۔دراصل اُن کے ایک پیروکار نے اُن کے کان میں کہہ دیا کہ مجمع مرید کے تک پھیلا ہواہے ۔ ظاہر ہے کہ مرید کے کم و بیش مینارِ پاکستان سے پچیس میل دور تو ہے۔ انہوں نے تو ابتدا ء میں داتا دربار تک ہی اکتفا ء کر لیا تھا لیکن مریدین نے اسے مرید کے تک پہنچا دیا ۔پولیس اور خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق مجمع ستّر ہزار سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان تھا ۔ بہرحال جتنا بھی تھا انتہائی متاثر کُن تھا اوراگر مریدکے تک تھا تو پھر دو ، چار ملین سے بھی کہیں زیادہ ہو گا۔شاید اسی لیے ایک دفعہ مولانا نے ’’سینکڑوں ملین‘‘ کا مجمع بھی کہا ۔مولانا کے ہم جیسے پیروکار تو خوش ہیں کہ اب تحریکِ انصاف والے کم از کم یہ تو نہیں کہہ سکیں گے کہ ’’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘‘ ۔ویسے یہ عجیب اتفاق ہے کہ تحریکِ انصاف ہو ، تحریکِ استقلال یاعوامی تحریک جلسے سبھی کے بہت کامیاب اور رہنما بھی بہت مقبول لیکن انتخابات میں پتہ نہیں لوگوں کو کیا ہو جاتا ہے کہ انہیں خالی ہاتھ لوٹا دیتے ہیں ۔ماضی میں محترم اصغر خاں کے ہاتھ کچھ آیا نہ محترم عمران خاں اور شیخ الاسلام کے ۔البتہ شیخ الاسلام صاحب کو کینیڈا کی باغ و بہار فضاؤں نے یہ سمجھا دیا کہ پاکستان کی فضول سیاست میں اُن کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا اس لیے بہتر ہے کہ قسمت آزمائی کے لیے کوئی اور روزن تلاش کیا جائے ۔شاید اسی لیے مولانا عین اُس وقت پر پاکستان تشریف لے آئے جب تمام سیاسی جماعتیں انتخابی بخار میں مبتلا ہو چکی ہیں ۔ مولانا صاحب بھی فرماتے ہیں کہ وہ انتخابات کے خلاف نہیں لیکن جتنی کڑی شرائط اُنہوں نے عائد کر دی ہیں اُس کے بعد تو مزید دو تین عشرے انتظار کرنا ہو گا ۔یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آیا ۔ایک مولانا صاحب اپنے وعظ میں حسبِ عادت مسلمانوں کو ڈرانے کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے ۔اچانک ایک دیہاتی اٹھا اور مسجد سے باہر کی طرف چل دیا ۔مولانا نے ڈانٹ کر پوچھا ’’کہاں جا رہے ہو‘‘؟۔دیہاتی نے پلٹ کر جواب دیا ’’آپ کی شرطیں سُن کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں خواہ کچھ بھی کر لوں مجھے جنت نہیں ملنے والی اس لیے میں یہاں بیٹھ کر اپنا وقت ضائع کیوں کروں ۔شیخ الاسلام نے بھی جو شرائط عائد کی ہیں اُنہیں سُن کر تو ہمیں بھی یقین ہو چلا ہے کہ کوئی خواہ کچھ بھی کر لیں الیکشن نہیں ہونے والے۔ مولانا صاحب کے شاندار ماضی پر پھر کبھی ۔۔۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں