ٹیپو سلطان کا سفر آخرت

وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے

مسلمانوں کے ملک میں پرندے بھوک سے نا مر جائیں

زیر نظر تصویر ترکی کی ہے جہاں ایک بہت پرانی اسلامی روایت ابھی تک زندہ ہے کہ جب سردی کا عروج ہو اور پہاڑوں پر برف پڑ جائے تو یہ لوگ چوٹیوں پر چڑھ کر اس وقت تک دانہ پھیلاتے رہتے ہیں جب تک برفباری ہوتی رہے۔ اور یہ اس لیئے ہے کہ پرندے اس موسم میں کہیں بھوک سے نا مر جائیں۔

پاپا نے پادری بنانا چاہا ۔۔۔مگر۔۔۔؟

میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔

داستان ایک متکبر کی

سبحان الله ! یہ تھا اسلام کا انصاف

میں اپنا ثواب نہیں بیچوں گا

عموریہ کی جنگ میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ

7 اکتوبر، 2013

جھوٹ، فراڈ اور دھوکے کا کاروبار




نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ گجرات سے جنم لینے والا انڈسٹریل کوآپریٹیو بینک اپنی پوری آب و تاب سے چل رہا تھا۔ اچانک شہر میں افواہ پھیلی کہ بینک بند ہو رہا ہے۔ صبح سویرے اس بینک کی برانچوں کے باہر لوگوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں جو اپنی رقوم نکالنا  چاہتے تھے۔ چند ایک تو کیش ہوئے پھر بہانے شروع ہو گئے..... کیش منگوایا ہے، ابھی آتا ہی ہو گا، ہیڈ کوارٹر سے وین چل پڑی ہے۔ گیارہ بجے تک ملازمین بینک کو تالا لگا کر بھاگ گئے۔ یہ صرف ایک شہر میں پھیلی ہوئی چھوٹی سی افواہ کا نتیجہ تھا۔ لوگ صرف بینک سے اپنے کاغذ کے نوٹ مانگ رہے تھے لیکن دھوکے باز، جھوٹی اور فراڈ پر مبنی سودی بینکاری کی اوقات یہ تھی کہ صرف دو گھنٹے میں یہ عمارت زمین بوس ہو گئی۔ ابھی تو نوبت کاغذ کے نوٹوں تک پہنچی تھی جس پر یہ عبارت تحریر ہوتی ہے:


"بینک دولت پاکستان ایک سو روپیہ، حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا۔ حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا"۔ 
   
اس عبارت کے نیچے گورنر سٹیٹ بینک کے دستخت ثبت ہوتے ہیں۔ یعنی یہ ایک رسید ہے، ایک وعدہ ہے، ایک حلف نامہ ہے کہ اس کے بدلے میں جب اور جس وقت رسید کا حامل سونا، چاندی، اجناس یا جو چیز طلب کرے حکومت پاکستان اس کو ادا کرے گی۔  اس وقت ملک میں ایک ہزار سات سو ستتر ارب کے نوٹ گردش میں ہیں۔ اگر ایک صبح اٹھارہ کروڑ عوام کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیں کہ ہم ان ردی کے ٹکڑوں کو نہیں جانتے، تم نے اس پر جو تحریر لکھی ہے، جو وعدہ کیا ہے، جو اسٹامپ پیپر ہمیں دیا ہے، اس کے مطابق ہمیں ان کاغذوں کے بدلے سونا، چاندی یا کوئی بھی جنس جو تم بہتر تصور کرتے ہو، دے دو، تو صرف پانچ منٹ میں یہ سود اور کاغذ کے نوٹوں پر کھڑی عمارت دھڑام سے گر جائے گی اور اس کے ملبے کے نیچے جمہوری حکومت ہو یا آمریت سب دفن ہو جائیں گے۔ اس مکار، چالاک، فریبی اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے اصولوں پر مبنی بینکاری کے اس معاشی نظام پر ہم بیش بہا کتابیں لکھتے ہیں۔ اس کے مستحکم اور غیر مستحکم ہونے کے اصول وضع کرتے ہیں۔ معاشیات یعنی اکنامکس کا مضمون یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ پندرہ بیس سالوں کی تعلیمی محنت میں انہوں نے یہ سمجھنے کی مہارت حاصل کی ہوتی ہے کہ یہ کاغذ کے اسٹامپ پیپرز جنھیں کرنسی نوٹ کہا جاتا ہے اور یہ بینکاری نظام کیا ہے؟ کیسے ناپا جائے کہ اس کاغذ کی قیمت اوپر ہو گئی ہے یا نیچے؟ افراط زر کی چڑیا کس گراف کے فراٹے بھرتی ہے؟ کرنسی کے نوٹ جو سٹیٹ بینک چھاپتا ہے ان سے دولت(Money) کیسے جنم لیتی ہے؟ بینک کیسے انہی نوٹوں کو اپنے کھاتوں میں دو گنا اور تین گنا کر لیتا ہے جسے M1 اور M2 کا نام دیا جاتا ہے؟ بینک دیوالیہ ہو جائیں تو اس سودی نظام کو بچانے کے لیے کیسے حکومت عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ انہیں دیتی ہے؟ کس طرح بینکوں کو بچانے کے لیے انہیں انشورنس کمپنیوں کے ذریعے آکسیجن فراہم کی جاتی ہے؟ عام آدمی کے پیسے سے ایک پورا متبادل نظام وضع کیا جاتا ہے کہ بینکوں کا سارا خسارہ ان انشورنس پالیسیوں سے پورا کیا جائے جو بینکوں نے خریدی ہوتی ہیں۔ لیکن اس نظام کے پیچھے ایک کاغذ ہے جس پر ایک چھوٹی اور بےسروپا عبارت تحریر ہے کہ "حامل ھذا کو مطالبے پر ادا کرے گا"۔

دنیا کا کوئی بھی ملک امریکہ ہو یا برطانیہ، فرانس ہو یا جرمنی، بھارت ہو یا چین اپنا یہ لکھا ہوا وعدہ پورا نہیں کر سکتے۔ اس لیے کے اس وعدے کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔ چند ماہ پہلے جب یونان میں معاشی بحران آیا تو لوگ بینکوں کے دروازوں پر نوٹ حاصل کرنے جمع ہو گئے۔ اس ملک کے تین شہر تو ایسے تھے کہ دکانداروں نے گاہکوں سے نوٹ لینے بند کر دیے اور کہا کہ گھر سے کوئی چیز بھی اٹھا لاؤ، ہم اس کے عوض سودا دے دیں گے لیکن اس بیکار، ردی کے ٹکڑے پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ جس پر ایک چھوٹی سی عبارت تحریر ہے۔

یہ ایک خون چوسنے والا اور ظالم نظام ہے۔ اس کے رکھوالوں نے پچاس برس سے یہ طرز عمل اختیار کیا ہے کہ عام آدمی کی بجائے حکومتوں کو قرض دو۔ عام آدمی مر بھی سکتا ہے، دیوالیہ بھی ہو سکتا ہے، وہ کاروبار میں نقصان اٹھانے لگے تو اسے رعایت بھی دینی پڑتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ پتا بھی چلتا رہتا ہے کہ اس نے پانچ لاکھ قرضہ لیا تھا اور اب تک پندرہ لاکھ ادا کر چکا ہے لیکن پھر بھی اس پر قرض باقی ہے۔ لیکن حکومت کو قرض دینا کتنے فائدے کا سودا ہے۔ حکومت ایک تو اربوں میں قرض لیتی ہے اور شرح سود بھی اچھی ملتی ہے۔ عوام نے جو پیسہ یا بچت، بینکوں میں جمع کروائی ہوتی ہے یہ سودی بینکار حکومت کو اگر پندرہ فیصد شرح سود پر دیتے ہیں تو اس میں سے پانچ یا چھ فیصد اپنے پاس رکھ کر آٹھ یا نو فیصد سود لوگوں کو دے دیتے ہیں۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ حکومت یہ سود اور قرض کیسے واپس کرتی ہے؟ کوئی اے جی این قاضی، شعیب، شوکت عزیز، حفیظ پاشا یا اسحٰق ڈار انہی عوام پر ٹیکس لگاتا ہے۔ بجلی، پیٹرول، گیس سب پر ٹیکس لگا کر پیسہ وصول کرتا ہے اور پھر انہی بینکوں کو لوٹا دیتا ہے جو اس سود کے کاروبار سے اس قوم کا خون چوس رہے ہوتے ہیں۔

جھوٹ اور فراڈ کا عالم یہ ہے کہ اس وقت 313 ارب روپے کے سونے کے ذخائر موجود ہیں اور اگر اس میں4.6  ارب روپے کے سونے کے وہ ذخائر بھی شامل کر لیے جائیں جو انگلستان میں بینک آف انڈیا کے پاس پڑے ہیں جو 1947سے آج تک واپس ہی نہیں کیے گئے تو یہ کل 318 ارب روپے کا سونا بنتا ہے۔ اس محدود سونے پر حکومت پاکستان نے جو رسیدیں یعنی کرنسی نوٹ جاری کیے ہیں اور جن پرلکھا ہے کہ "مطالبے پر ادا کرے گا" وہ ایک ہزار سات سو ارب کی مالیت کی ہیں۔ یہ تو سٹیٹ بینک کے نوٹوں کی کہانی ہے، اس کے بعد سود خور بنکوں کا مرحلہ آتا ہے۔ بنکوں کو ایک خاص شرح "ریزرو" نوٹ رکھ کر مصنوعی دولت تخلیق کرنے کا اختیار ہے۔ اکتوبر 2007سے تمام بینک 7فیصد نوٹ اپنے پاس رکھ کر کر باقی سرمایا اپنی خط و کتابت یعنیtransactions سے دولت بنا سکتے تھے۔ لیکن نومبر 2012 میں یہ شرح کم کر کے 3 فیصد کر دی گئی اور یہ آج تک قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنک اصل نوٹوں کے مقابلے میں چالیس گنا زیادہ سرمایہ تخلیق کر سکتے ہیں جسے معیشت کی زبان میںM2 کہتے ہیں۔ اس وقت اس سرمائے کی کل مقدار نو ہزار آٹھ سو اٹھائیس ارب روپے ہے۔ کیا خوبصورت طریقہ ہے بنک کا! یہ کاغذ شوگر مل، کھاد والے، دوائیوں والے، مشینری والے، ملبوسات والے اور غرض مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا گزرتا ہے اور ان میں نا اصل نوٹ گھوم رہے ہوتے ہیں اور نا ہی اس کا کوئی متبادل۔ لوگ اپنی مصنوعات خرید و فروخت کرتے ہیں لیکن بنک کو امیر سے امیر تر بناتے جاتے ہیں؛ یعنی اگر اس وقت اس ملک کے تمام کھاتے دار اپنے چیک لے کر بنکوں کے دروازوں پر کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ ہماری رقم واپس کرو تو چند منٹوں میں یہ پورا نظام زمیں بوس ہو جائے گا۔
  
کوئی اس جھوٹ اور فراڈ کے خلاف ایسی تحریک نہیں چلاتا، کوئی سیاسی پارٹی یہ نہیں کہتی کہ حکومت جو جھوٹ بول کر نوٹ چھاپ رہی ہے، اس رسید کو لینے سے انکار کر دو اور اس کے بدلے میں کوئی جنس طلب کرو جس کا انہوں نے وعدہ کیا ہے۔ اس لیے کہ اس پورے سودی نظام کو تحفظ دینے کے لیے جمہوریت، پارلیمنٹ اور اس طرح کے ادارے قائم کیے گئے جن کا کام ہی اس جھوٹ اور فراڈ کی معیشت کو سہارا دینا ہوتا ہے۔ یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے ہر ملک میں ہے۔ پوری دنیا کے اربوں انسانوں کو اسی دھوکے، فراڈ اور جھوٹی رسیدوں کے ذریعے پاگل بنایا گیا ہے۔ کس قدر بودا کمزور اور بے بنیاد ہے یہ پورا سودی نظام جسے صرف ایک گھنٹے کے اندر زمین بوس کیا جا سکتا ہے۔

 اوریا مقبول جان 


٧ اکتوبر ٢٠١٣


Tags
Jhoot Froud and Dhokay Ka Karoobar Orya Maqbool Jan
urdu article, economic system, paper money, sood, riba, bank banking system, 





12 comments: